(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ  الْبَقَرَۃ (۱۳) - ڈاکٹر اسرار احمد

11 /
سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۱۳)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ
آیت۳۴   { وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط  اَبٰی وَاسْتَکْبَرَز  وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ(۳۴)}’’اور یاد کرو جب ہم نے کہا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدے میں گر پڑے سوائے ابلیس کے۔ اُس نے انکار کیا اور تکبرکیا‘ اور ہوگیا وہ کافروں میں سے۔‘‘  (یا ’’اور تھا وہ کافروں میں سے۔‘‘ )
کَانَ  یہاں ناقصہ بھی ہو سکتا ہے اور  تامہ بھی۔ چنانچہ یہ ترجمہ بھی کیا گیا ہے کہ ’’وہ ہوگیا کافروں میں سے۔‘‘ یعنی اپنے اس فعل کی وجہ سے‘ اپنی اس نافرمانی کی وجہ سے‘ وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’وہ تھا ہی کافروں میں سے۔‘‘ اُس کےاندر جو شیطنت چھپی ہوئی تھی‘ صرف اس آزمائش کے ذریعے اُس کا ظہو ر ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی کسی کے اندر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے تو مخفی نہیں ہوتا‘اُس کے علم میں ہوتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں ارشاد ہوا: {وَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ (۱۱)} ’’اور اللہ ظاہر کرکے رہے گا سچے اہل ایمان کو بھی اور ظاہر کرکے رہے گا منافقین کو بھی۔ ‘‘ {وَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ}  کا ترجمہ ’’اللہ جان کر رہے گا‘‘ نہیں کیا جاتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے تو علم میں سب کچھ ہے‘ البتہ اللہ ظاہر کر دے گا۔ اسی طرح ابلیس کی چھپی ہوئی شیطنت‘ تکبر‘ استکبار‘ گھمنڈ اور اس کا  شر سب ظاہر ہوگیا۔ 
حضرت آدم  علیہ السلام  کو سجدہ کرنے‘ اُن کے سامنے جھک جانے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا۔ ابلیس تو جِنّات میں سے تھا‘ وہ اس حکم کا مخاطب کیوں کر بنا ؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ جِنّات ملائکہ سے کم تر مخلوق ہیں جبکہ ملائکہ ان سے بلند تر مخلوق ہیں۔ جب فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ سب کے سب آدم کو سجدہ کرو تو تابع ہونے کے اعتبار سے جِنّات بھی گویا برسبیل ِتغلیب اس حکم کے مخاطب تھے‘ چنانچہ اس پہلو سے ابلیس بھی اس کا مخاطب تھا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ابلیس اپنے خاص علم‘ زہد اور عبادت گزاری کی وجہ سے ملائکہ کے ساتھ اس درجہ قرب رکھتا تھا کہ گویااُن کےزمرے میں شریک ہوچکا ہو‘اس لیے خاص طور پروہ شخصاً اس حکم کا مخاطب تھا جو حکم فرشتوں کو دیا گیا۔ بہرحال یہ ساری چیزیں  احتمالات کے درجے میں ہیں۔ 
 آدم اور ابلیس کے ناموں کی بنیاد 
آدم کے بارے میں کثرت کےساتھ مقبول رائے یہ ہے کہ چونکہ ان کی پیدائش ادیم الارض (crust of the earth) سے ہوئی‘ ا س لیے مادّئہ تخلیق کی مناسبت سے انہیں آدم کہا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا رنگ سرخی مائل گندمی تھا جس کے لیے عربی میں لفظ ’’ادمۃ‘‘ مستعمل ہے۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ ’’اَدِمَ‘‘ کا مفہوم ہے: دو افراد  کے درمیان الفت واتفاق پیدا کرنا‘ باہم ملنا جلنا‘ چیزوں کا آپس مختلط ہو جانا۔ جیسے انسان کا مادّہ ’’انس‘‘ ہے اور اسے انسان اس لیے کہا جاتا ہےکہ وہ باہم ایک دوسرے سے مانوس ہوجاتے ہیں‘ اسی طرح ’’آدم‘‘ کے لیے بھی ’’ادم‘‘ مادہ میں ایک لفظی بنیاد موجود ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ ایک حدیث میں بھی آیا ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مَیں ایک خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہوں ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: ((انظُرْ إليها فإنه أحرى أن يُؤدَمَ بينكمَا)) [السلسلۃ الصحیحۃ ۱؍۱۹۸] یعنی تم اُسے ایک نظر دیکھ لینا‘اس لیے کہ اس سے زیادہ توقع ہے کہ تمہارے درمیا ن موافقت او رمحبت پیدا ہوجائے اور تم آپس میں زیادہ گھل مل سکو۔چنانچہ  شاید ’’ادم‘‘ کے اس معنی ومفہوم کے اعتبار سے آدم کو آدم کہا گیا۔انگریزی میں انسان کو  gregorius animal‘ مل جل کر رہنے والا‘ متمدن حیوان کہا جاتاہے۔ 
’’ابلیس‘‘ کا اصل نام (اسم عَلم) قرآن مجید میں نہیں آیا۔ بعض روایا ت میں اس کا نام ’’عزازیل‘‘ آیا ہے۔ ابلیس اس کا صفاتی نام ہے‘ اس لیے کہ اَبْلَسَ یُبلِسُ   کا معنی ہے نہایت مایوس ہوجانا۔ چنانچہ ابلیس  وہ شخصیت ہے جو انتہائی مایوس ہوجائے‘ جسے کوئی امید نہ رہے (The frustrated one)۔ اب چونکہ اُس نے اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کا اظہار کیا اور اُس کے حکم سے سرتابی کی تو وہ راندۂ درگاہ ہوا اور اُسے ذلیل ورسوا کرکے وہاں سے نکال دیا گیاتو اب اسے اپنے بارے میں خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ اس کی سرکشی پر اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکارتے ہوئے فرمایا تھا: {اخْرُجْ مِنْہَا مَذْئُ‘وْمًا مَّدْحُوْرًاط} (الاعراف:۱۸) ’’پس نکل جاؤ یہاں سے بُرے حال میں مردود ہوکر۔‘‘ سورۃ الحجر میں الفاظ آئے ہیں: {فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ(۳۴) وَّاِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَۃَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ(۳۵) } ’’بس نکل جائو اس میں سے ‘تم یقیناً مردود ہو چکے ہو۔ اور یقیناً تم پر لعنت رہے گی روزِ جزا تک۔‘‘ سورۂ صٓمیں بھی تقریباً یہی الفاظ آئے ہیں۔
ابلیس کے انکار کا سبب
قرآن حکیم میں چھ مزید مقامات پر یہ واقعہ مذکور ہے۔ یہاں تو صرف ایک آیت میں اس کا لب ِلباب بیان کیا گیا ہےتاکہ یہ حقیقت معلوم ہوجائے کہ ابلیس انسان کا ازلی دشمن ہے۔اس مقام پر  صرف ایک لفظ آیا ہے : {اَبیٰ وَاسْتَکْبَرَ} ’’اُس نے انکار کیا اور استکبار کیا‘‘ لیکن دوسرے مقامات پر یہ الفاظ آئے ہیں: {اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ(۱۲)} (الاعراف:۱۲،صٓ:۷۶) ’’مَیں اِس سے بہتر ہوں (برتر ہوں‘ اعلیٰ ہوں‘  افضل ہوں)  مجھے تُونے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے!‘‘ { ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنً(۶۱)} (الاسراء) ’’کیا مَیں اُس کو سجدہ کروں جس کو تُونے مٹی اورگارے سے بنایا ہے؟‘‘ گویا کہ ایک حقارت آمیز انداز میں حضرت آدم  علیہ السلام  کا تذکرہ کیا۔ تویہ اُ س کا گھمنڈ اور تکبر یا عُجب تھا۔ حدیث ِ مبارکہ میں آتا ہے: ((ثَلاثٌ مُهْلِكاتٌ وَثلاثٌ مُنْجِيَاتٌ))’’تین چیزیں (انسان کو) ہلا ک کرنے والی ہیں اورتین چیزیں نجات دینے والی ہیں۔‘‘((فأمّا الْمھلِكاتُ: فشُحٌّ مُطاعٌ، و هَوًى مُتَّبَعٌ، و إِعجابُ الْمَرْءِ بنفْسِهِ))[صحیح الجامع:۳۰۴۵] ’’پس ہلاک کرنے والی چیزیں تو یہ ہیں: بخل جس کی پیروی کی جائے‘ خواہش نفس جس کے پیچھے چلا جائے‘ اور انسان کے اندر اپنی برتری کا احساس پیدا ہو جائے۔‘‘ انسان میں گھمنڈ پیدا ہوجائے۔ چنانچہ اس آخری چیز کے بارے میں فرمایا : ((وَھِیَ اَشَدُّھُنَّ)) ’’اور یہ تمام مہلکات میںسب سے شدید ہے۔‘‘ انسان کو ہلاک کرنے کے لیے سب سے مؤثر شے‘ اس کی تباہی وبربادی کی سب سے بڑی وجہ یہ اِعجاب (اپنی برتری کا احساس) ہے۔ابلیس میں یہ احساسِ برتری پیدا ہوا اور اسی گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے اُس میں اس درجہ سرکشی پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کی اور حضرت آدم  علیہ السلام   کو سجدہ کرنے سےانکار کردیا۔ 
حکم ِ سجدہ کی علت 
یہ سب واقعات کس طرح اور کس ماحول میں ظہور پذیر ہوئے‘ ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔ یہ چیزیں متشابہات میں سے ہیں‘ اور آیاتِ متشابہات کی تاویل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے: {وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْـلَہٗ اِلَّا اللہُ} ’’حالانکہ ان آیات کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘ چنانچہ ہم یہ تصور تو نہیں کرسکتے کہ کوئی بہت بڑی جگہ ہو جہاں تمام فرشتے جمع ہوں ‘ حضرت آدم  علیہ السلام   بھی وہاں موجود ہوں اور (معاذ اللہ!) اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اس محفل میں صدارت فرمارہے ہوں‘ اور پھر وہاں حکم دیا جارہا   ہوکہ سب آدم کو سجدہ کرو! یہ تو عالم غیب کی باتیں ہیں۔ یہ بھی ہم یقین سےنہیں کہہ سکتے کہ حضرت آدم  علیہ السلام   کو بھی یہ معلوم ہوا یا نہیں کہ مجھے سجدہ کرایا گیا ہے! اس لیے کہ بعد میں اُن سے جو خطا ہوئی اور اس کے بارے میں ابلیس نےجس طریقے سے اُنہیں ورغلایا کہ یہ جو تمہیں درخت کا پھل کھانے سے روکا گیا ہے وہ اس لیے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ  {اَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ} یہ بات منطقی معلوم نہیں ہوتی۔ اگر حضرت آدم  علیہ السلام  کو اس کا شعور اور علم ہوتا کہ مَیں تو فرشتوں سے افضل ہوں ‘ فرشتے تو میرے سامنے سر بسجود ہوئے ہیں تو اس اعتبار سے یہ بات کوئی دلیل اور وسوسہ اندازی کے لیے کوئی بنیاد نہیں بن سکتی تھی کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ! درحقیقت فرشتوں کو جو حکم دیا گیا اور وہ سب کے سب حضرت آدمؑ کے سامنے جھک گئے‘ انہوں نے سجدہ کیا‘ ا س کی اصل تعبیر (connotation) خلافت کے ساتھ متعلق ہے۔ 
اس خلافت کا منطقی نتیجہ تھا کہ تمام فرشتے یا کارکنانِ قضا وقدر‘ جُنُودٌ مُجَنَّدَۃ‘ جن کی تعد اد کسی کو معلوم نہیں {وَمَا يَعْلَمُ جُنُـوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَط} (المدثر:۳۱) ان سب کو حضرت آدم  علیہ السلام   کے سامنے سجدہ ریز کر دیا گیا {فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَo} ۔  ہمارے یہاں آزادی سے پہلے حکومت برطانیہ کی جانب سے جب کسی کو وائسرائے ہند بنا کر بھیجا جاتا تھا تو یہاں کے سارے کارکنانِ حکومت اُس کی اطاعت کے پابند ہوتے تھے۔ اس معنی میں جب حضرت آدم  علیہ السلام  کو خلافت ِ ارضی عطا کی گئی توکائنات کی مخفی حکومت کی تمام سول سروس کو ان کا تابع فرمان کردیا گیا۔ اس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت آدم   علیہ السلام  اور ان کی ذُریت کو خلافت ِ ارضی عطا فرما رہا ہے‘ قوت ِ تسخیر عطا فرما رہا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ کی اس عالمی و تکوینی سلطنت کے تمام کارکن اور ان کی سول سروس اگر حضرت آدم   علیہ السلام   کا حکم نہ مانیں تو وہ یہاں ایک قدم نہیں چل سکتے۔ ہمیں  ارادے کی جو آزادی اور اختیار دیا گیا ہے‘ یہ اُس کا تقاضا ہے۔ مَیں کسی خیر کے کام کی طرف چلنا چاہتا ہوں تو نامعلوم کتنی فورسز آف دی نیچر ہیں جو ا س راستے سے متعلق ہیں اور ان میں سے ہرایک کے اوپر فرشتے مامور ہیں۔ اگر قدم قدم پر فرشتے میرے لیے رکاوٹ بن جائیں اور میرا راستہ روک دیں تو میں اپنے کسی ارادے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت آدم   علیہ السلام   کو جب خلافت دی گئی اور تسخیر کائنات کی صلاحیت ان میں رکھ دی گئی تو بلا ستثناء کُل ملائکہ کو ان کے آگے سر بسجود کر دیا گیا۔ گویا اللہ کے حکم سے تمام فرشتے اس اعتبار سے انسان کے مطیع بنادیے گئے کہ یہ اپنے ارادہ و اختیار سےجس راستے پر بھی بڑھنا چاہے تو راستہ کھلا رکھنا ہے۔ جدھر جانا چاہے‘ جائے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ جب انسان سے حساب لےگا اس کے اچھے بُرے کاموں کا نتیجہ نکلے گا۔ اِس وقت اللہ نے آزادی دی ہے کہ {اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا(۳)}(الدھر) البتہ جب وقت آئے گا تو یہی فرشتے اسے ہتھکڑیاں لگائیں گے‘ بیڑیاں ڈالیں گے۔ یہی ہوں گے جو لوگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر اُوندھے منہ جہنم میں جھونکیں گے۔ اِس وقت حضرت آدمؑ   کو خلافت ِارضی عنایت کیے جانے کے ناطے فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرح کے امور میں اس کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ گویا علامت (symbol) ہےکہ تمام فرشتے آدم کے آگے سجدہ ریز ہیں۔ درحقیقت ضروری نہیں کہ اپنی پیشانی زمین پر ٹکائیں تو اسی کو سجدہ کہا جائے۔کسی کے آگے جھک جانا بھی گویا سجدہ ہے۔ سجدۂ تعظیمی اس سےپہلے جائز رہا ہے مگر شریعت ِمحمدیﷺ میں اسے مطلقاً حرام قرار دے دیا گیا۔سابقہ شریعتوں میں جھک کر کسی کی تعظیم کرنے کی ممانعت نہیں تھی‘ بلکہ تعظیماً جھکا جا سکتا تھا۔ اسی کو آج بھی بعض لوگ دلیل بناتے ہیں کہ سجد ۂ تعظیمی اگر اولیاء اللہ یا ان کی قبروں کو کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے‘ حالانکہ شریعت ِمحمدیﷺ میں سجدہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو مطلقا ً حرام ہے۔ سجدہ کی کوئی بھی صورت عبودیت اور تذلل کی علامت ہے‘ یعنی کسی کا مطیع ہو جانا‘ کسی کے حکم کے آگے سر ِتسلیم خم کر دینا۔ 
حضرت آدم  علیہ السلام   کا مقام اور آدمؑ و ذُریت ِ آدمؑ کی خلافت کی اساس فلسفہ و حکمت ِ دین کا ایک اہم موضوع ہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی ؒنے مولانا اشر ف علی تھانوی ؒ کاایک جملہ نقل کیا ہے کہ ’’خلافت کی بنیاد طاعت و زہد اور عبادت گزاری نہیں بلکہ علم وفہم ہے۔‘‘اس لیے کہ عبادت گزاری تو فرشتے بھی کررہے تھے {نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ}۔ یہ تمام چیزیں فرشتوں میں بتمام و کمال موجود تھیں‘ لیکن جب حضرت آدم  علیہ السلام   کو عطا کیے گئے ’’علم الاسماء‘‘ کا مظاہرہ (demonstration) کرایا گیا توگویا یہ بات ظاہر کر دی گئی کہ خلافت کی بنیاد علم ہے‘ اور میرے نزدیک وہ انسانی علم ہے‘ علم وحی نہیں ۔ 
علم وحی کا ذکر اس رکوع کے آخر میں (آیت ۳۸) آئے گا اور اس سے تعلق امامت کا ہے‘ جبکہ خلافت ِارضی کا تعلق اس علم انسانی سے ہے۔ چنانچہ اس سے یہ مسئلہ بھی حل ہوتا ہے کہ جو اقوام اس علم میں آگے نکل گئیں دنیا میں ترقی انہی نے کی ہے‘ زمین میں غلبہ انہی کا ہوا ہے۔ اگرچہ اُ ن کے پاس ایمان نہیں ہے‘ وہ اگر اللہ کو مانتے بھی ہیں تو سو طرح کے شرک کررہے ہیں‘ حضرت مسیح   علیہ السلام   کو خدا کا بیٹا بنایا ہوا ہے‘ شریعت کو پس پشت ڈالا ہوا ہے‘ شدید گمراہی میں ہیں‘ اخلاقی پستی کے اندر مبتلا ہیں‘ لیکن اُن کے پاس زمین کا اختیار ہے‘ قوت اور اقتدار انہیں سونپ دیا گیا ہے۔ معلوم ہو ا کہ دراصل زمین کی خلافت کاتعلق ہدایت سے نہیں‘ بلکہ اُس ’’علم الاسماء‘‘ سے ہے جو حضرت آدم   علیہ السلام    اور ان کی ذریت نے اپنے ذرائع اور مشاہدے سے تدریجاً حاصل کیا۔ 
آیت۳۵  {وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَاص وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَـکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)}’’اور ہم نے کہا: اے آدم! رہو تم اور تمہاری بیوی جنّت میں‘ اور کھائو اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو‘ مگر اس درخت کے قریب مت جانا‘ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جائو گے۔‘‘
آدمؑ و ذُریت ِ آدم ؑ کے لیے انتباہ
خلافت ِ آدمؑ کے فیصلے کے بعد ایک demonstration تو فرشتوں کے سامنے کرائی گئی کہ حضرت آدم ؑ کو جو ہم نےخلافت عطاکی ہے وہ اُس علم الاسماء کی بنیاد پر ہے جو تمہیں نہیں دیا گیا۔ اب دوسریdemonstration حضرت آدم ؑ کے سامنے کرانا مقصود ہے کہ ابلیس تمہارا ازلی دشمن ہے جس نے تکبرکی بنیاد پر جھکنے سے انکار کیا‘ یہ تمہیں  ورغلائے گا اور تباہ وبرباد کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ قرآن حکیم کے دوسرے مقامات پر وہ الفاظ موجود ہیں جن میں ابلیس نے چیلنج کرتے ہوئے حضرت آدمؑ اور اُن کی ذُریت سے اپنی دشمنی کا کھلم کھلا اعلان کیا۔ جب اُسے کہا گیا کہ جاؤ تمہیں قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی ہے کہ تم انہیں جس طریقے سے چاہو گمراہ کرنےکی کوشش کرلو‘ تو اُس نے دھڑلے سے یہ بات کہی: {فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ(۸۲)} ’’پروردگار! تیری عزت اور اقتدار کی قسم! مَیں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔‘‘ {اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ(۸۳)}(صٓ) ’’سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو خود اپنا بنالے۔‘‘ مُخْلَص یہاں اسم المفعول آیا ہے‘ یعنی جنہیں تُو اپنے لیے خالص کرلے‘ جن پرتیرا خصوصی فضل ہو‘ جن پر تیری خصوصی نگاہ ِ کرم ہو‘ تیری عنایت خصوصی جن کے شاملِ حال ہو جائے‘ ان کا معاملہ مستثنیٰ ہوگا‘ باقی مَیں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ 
سورۃالحجر میں یہی الفاظ مزید اضافے کے ساتھ آئے ہیں: {رَبِّ بِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ(۳۹)  اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰) }  ’’پروردگار! چونکہ تُو نے مجھے گمراہ کیاہے مَیں یقیناً مزین کر دوں گا ان کے لیے زمین میں (دنیا کو) اور مَیں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو‘ سوائے تیرے اُن بندوں کے جن کو تُوان میں سے (اپنے لیے) خالص کر لے۔‘‘ یعنی مجھے تُو نے اتنی کڑی آزمائش میں ڈالا‘ میرا پندار اور میرا کردار مجروح ہوا جس  کے نتیجے میں مَیں یہ غلط حرکت کر بیٹھا کہ تیرے حکم کو ماننے سے انکار کیا‘ تو گویا تُونے ہی مجھے گمراہ کیا۔  تو اَب مَیں ان کے لیے زمین کے اندر مختلف چیزوں اور مختلف مشاغل کو بڑا مزین کر دوں گا‘ اور اسی میں یہ مشغول ہوجائیں گے‘ اسی کی محبت میں گرفتار ہو جائیں گے۔ مال واسبابِ دنیوی ہی ان کا مطلوب ومقصو د بن جائے گا‘ اس کے لیے ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں گے‘ خون بہائیں گے۔ وہی ان کا مطلوب و مقصودہوگا۔ مَیں ان سب کو گمراہ کرکےچھوڑوں گا‘ سوائے اُن بندوں کے جن کو تُو اپنے لیے خالص کرلے۔ 
سورۂ بنی اسرائیل میں بھی اُس کے متکبرانہ الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ جب فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اُس نے یہ کہنے کے بعد کہ ’’کیا میں اِس کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹّی سے پیدا کیا ہے؟‘‘ مزید کہا تھا : {قَالَ اَرَئَ یْتَکَ ہٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًا(۶۲) } ’’ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تُونے مجھ پر فضیلت دی ہے ‘اگر تُو مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک‘ تو مَیں اس کی پوری نسل کو قابو میںکر کے چھوڑوں گا ‘سوائے بہت تھوڑے سے لوگوں کے۔‘‘ پروردگار! یہ آدم جس کا تُونے یہ  اکرام کیا ہے‘ مجھ سے افضل قرار دیا ہے‘ تُو مجھے اسے سجدہ کرنے کا حکم دے رہا ہے؟ اگر تُومجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو مَیں اس کی ساری ذُریت کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا‘ سب کو نکیل ڈال دوں گا اور اِن سب کو غلط راستےپر لے جاؤں گا۔ 
ابلیس کے چیلنج کے سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ الفاظ سورۃ الاعراف میں آئے ہیں: {قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ(۱۶)  ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ  بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِہِمْ ط وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ(۱۷) } ’’اُس نے کہا: (پروردگار!) تُونے جو مجھے (آدم کی وجہ سے) گمراہ کیا ہے تو اَب میں لازماً ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا تیری سیدھی راہ پر۔  پھر مَیں ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے‘ اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے ‘ اور تُو نہیں پائے گا ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا۔‘‘ پروردگار! تُو نے مجھے گمراہ کر دیا‘ مَیں راندۂ درگا ہ ہوگیا‘ تو اب مَیں ان کو بھی چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ ع  ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے!‘‘ تُونے جو مجھے مہلت دی ہے اب مَیں تیرے سیدھے راستے پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا۔ صراط ِمستقیم جو تیری توحید کا راستہ ہے‘ مَیں اُس پر مورچہ لگاؤںگا۔ ان کےلیے اپنی کمین گاہیں بناؤں گا۔ پھر مَیں ہر چہار طرف سے ان پر حملہ آور ہوں گا۔ ان میں سے اکثر کو تُوشکرکرنے والا نہیں پائے گا کہ جو مقام فضیلت تُونے اسے اور اس کی ذُریت کو عطا کیا ہے اُس پر تیرا شکر ادا کرسکیں اور اس کا حق ادا کرسکیں۔ اُ س کے چیلنج کا تو یہ انداز تھا‘ لیکن حضرت آدم   علیہ السلام   کو متنبہ کرنے کے لیے کہ یہ تمہارا ازلی دشمن ہے‘ اس کو تم پہچان لو‘ ایک تجربہ کرایا جارہا ہے۔
{وَ قُلْنَا یٰٓاَدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ} ’’اور ہم نے کہاکہ اے آدم! تم او رتمہاری بیوی اب جنت میں رہو۔‘‘ 
یہ کون سی جنت ہے‘ اس میں اختلاف ہے۔ ایک تو وہ جنت الخلد ہے جس میں داخل ہونے کےبعد پھرکسی کو نکالا نہیں جائے گا۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ یہ وہ جنت نہیں ہے‘ البتہ کوئی آزمائشی جنت ہے۔ کوئی ایسی جگہ جہاں حضرت آدم اوراماں حوا  علیہما السلام    کو عارضی طور پر رکھا گیا۔ بائبل میں یہ تصور دیا گیا ہے کہ یہ جنت زمین پر ہی کسی بلند مقام پر تھی‘ بلکہ بائبل کے ماہرین اپنے اندازے کے مطابق نشان دہی کرتے ہیں کہ کردستان کے پہاڑی علاقہ میں کوئی جگہ تھی جہاں ساری ضرورتیں اور آسائش و آرام مہیا تھا‘ وہاں حضرت آدم ؑ و اماںحوا کو ٹھہرایا گیا تھا۔ تاہم یہ بھی واضح رہے کہ اصل بائبل تو تقریبا ً ساتویں قبل مسیح میں گم ہوگئی تھی‘ بعد میں جو بائبل مرتب کی گئی ہے اس میں اکثر وبیشتر باتیں غیرمستند ہیں۔ بہرحال یہ ایک رائے ہے۔ یہ امکانات اور احتمالات تو ہیں ‘ لیکن تیقن کے ساتھ کچھ کہنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ یہاں سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آزمائشی طور پر ایک demonstration کے لیےکہ حضرت آدم ؑ کو معلوم ہوجائےکہ میرا دشمن ابلیس کس کس طو ر سے مجھے ورغلا سکتا ہے‘ کس کس طرح کے حیلے اور حربے اختیار کرسکتا ہے‘ کیسے کیسے وساوس میرے دل میں ڈال سکتاہے ‘ مجھے توحید اور اطاعت ِالٰہی کے راستے سے منحرف کر سکتا ہے‘ صرف اس کاایک تجربہ کرانا مقصو د تھا۔ اب خواہ یہ تصور ہو کہ تخلیق ِآدم ؑ کے سارے مراحل آسمانوں میں طے پائے ہیں‘ پھر ہبوطِ ارضی ہوا ہے‘ چاہے یہ تصور ہو کہ زمین پر ہی یہ سارے مراحل طے پائے ہیں‘ اس لحاظ سے وہ جنت ِ ارضی کسی جگہ پر کوئی اونچا مقام ہو جسے جنت سے تعبیر کیا گیا ہو۔ 
{وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا} ’’اور تم دونوں اس میں سے جہاں  سے چاہو‘ جو چاہوبفراغت کھاؤ۔‘‘ 
تمام پھل اور میوے تمہارے لیے موجود ہیں‘ جہاں سے چاہو تم استفادہ کرو۔ 
{وَ لَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)} ’’لیکن مت قریب پھٹکنا اِس درخت کے‘ ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔‘‘ 
اگر تم نے اس درخت کا پھل کھایا تو تم ظلم کرنے والے‘ حد سے تجاوز کرنے والے‘  اللہ کے حکم سے انحراف کرنے والے ہو جاؤ گے۔ 
جس طریقے سے حضرت آدم  علیہ السلام    کو جنت میں رکھا گیا اس کی کیفیات قرآن حکیم میں بیان ہوئی ہیں۔ سورۂ طٰہٰ میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں : {اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْہَا وَلَا تَعْرٰی(۱۱۸)} ’’(اے آدم! ہم تمہیں جس جنت میں رکھ رہے ہیں یہاں تمہیں یہ کیفیا ت حاصل رہیں گی کہ) یقیناً اس میں نہ تو تمہیں بھوک لگے گی اور نہ عریانی لاحق ہوگی۔‘‘ {وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیْہَا وَلَا تَضْحٰی(۱۱۹)} ’’اور یہ کہ اس میں نہ تمہیں پیاس ستائے گی نہ ہی دھوپ (کی حدت) محسوس ہوگی۔‘‘ یہ الفاظ ہیں جن میں اُس جنت کی کیفیت کی تعبیر کی گئی ہے جس میں حضرت آدم وحوا  علیہما السلام   کو رکھا گیا۔ 
الشجرۃ سے مراد
باقی رہ گیا یہ سوال کہ وہ درخت کون ساتھا ‘اس کی قرآن مجید نے قطعا ً کوئی وضاحت نہیں کی‘ بلکہ صاف نظر آرہا ہے کہ اس بحث سے قرآن کریم نے گویا کہ اعراض کیا ہے۔ ’’ھٰذِہِ الشَّجَرَۃ‘‘ کہہ کر اشارہ کرکے بتا دیا کہ یہ درخت! کوئی زیادہ وضاحت نہیں کی۔ اس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں (speculations)  کی گئی ہیں۔ چنانچہ بائبل کے مرتبین نے اسےعلم کا درخت (tree of knowledge)  قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کے اعتبار سے تو اس خیال کی نفی ہوجائے گی۔ ظاہر ہے علم ہی تو حضرت آدم   علیہ السلام  کو دیا گیا تھا جو اُن کے لیے وجہ امتیاز بنا۔ اب علم کو اُن کے لیے شجر ممنوعہ قرار دینا قرآن مجید کے ساتھ قطعاً مطابقت نہیں رکھتا۔ البتہ کچھ اور خیالات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ صاحب ِ ’’موضح القرآن‘‘ شاہ عبدالقادر دہلویؒ نے یہ تصور ظاہر کیا ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے سے پہلے تک جنت میں حضرت آدم وحوا  علیہما السلام    کو کوئی حوائج انسانیہ لاحق نہیں تھیں۔ ظاہر ہے بول وبراز کا سارا مسئلہ تو کھانے پینے سے متعلق ہے۔ گویا انہیں وہاں بھوک پیاس کی حاجت نہیں تھی۔ مذکورہ بالا آیت {اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْہَا وَلَا تَعْرٰی(۱۱۸)}  سےایک خاصا قوی استدلال بنتاہے کہ بھوک نہیں لگے گی۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہرشے اتنی آسانی سے دستیاب ہوگی کہ بھوک کا تمہیں کوئی تجربہ نہیں ہوگا۔ 
اگر یہ مانا جائے کہ حضرت آدم  علیہ السلام  زمین ہی پر ارتقا کے مراحل طے کرکے اُس جنت ارضی میں آئے تو ظاہر ہے کہ کھانا پینا‘ بول وبراز تو گویا ابتدا سے ان کے ساتھ تھا۔ ہوسکتا ہے کوئی عارضی دور اُن پر ایسا طاری کیا گیا ہو جس میں یہ تجربہ کرانا مقصود ہو کہ تمہارا یہ دشمن تمہیں اس طور پر گمراہ کرسکتا ہے۔ اس کو ایک طویل خواب کی شکل بھی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں اگر یہ کوئی آسمانی جنت ہے جس میں انہیں رکھا گیا اور حضرت آدم ؑ کی تخلیق اُ س طور سے ہوئی کہ خاک کا پتلا بنا کر اس میں پھونک ماری گئی تو یہ چیز بھی قرآن مجید کے بیان سے مطابقت رکھتی ہے۔ پھر جیسا کہ شاہ عبدالقادر دہلویؒ کہہ رہے ہیں اُس وقت ابتدائی کیفیت ایسی ہو کہ حوائج ضروریہ‘ کھانا پینا اور بول وبراز‘ اسی طرح کوئی شہوت کا جذبہ‘ کوئی جنسی عمل ابھی اُن کے شعور میں نہیں تھا‘ لیکن اُس درخت کا پھل کھانے کا نتیجہ یہ نکلا۔ علامہ اقبال نےبھی اپنے لیکچرز میں کہا ہے کہ استعاراتی انداز میں شاید یہ پہلا sexual act تھا جس کو شجرۂ ممنوعہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ شیطان نے انہیں جو ورغلایا تھا تو یہ بھی کہا تھا کہ تمہیں اس درخت سے اس لیے دور رکھا گیا ہے کہ کہیں تم ہمیشہ رہنے والے نہ بن جاؤ! اور درحقیقت انسان کا سلسلہ ٔ توالد و تناسل ہی اس کے خلود کا ایک سبب بنتا ہے۔ اسی کے ذریعہ سے نسل انسانی کو دوام حاصل ہورہا ہے۔ بہرحال یہ مختلف آرا ء وخیالات ہیں‘ لیکن یہ صرف ایک آزمائش اور ایک تجربہ تھا‘ تاکہ انہیں متنبہ کردیا جائے کہ یہ تمہار ادشمن ہے‘ تمہیں اس سے خبردار رہنا ہے۔ یہ تجربہ کہا ں ہوا‘ اس کی تفصیلات کیا ہیں ‘ اور پھر یہ کہ حضرت آدم وحوا علیہما السلام  کس کیفیت میں تھے‘ اس کےلیے کوئی مرفوع روایات موجو دنہیں ہیں۔ کوئی تفصیلی چیزیں قرآن مجید کے کسی دوسرے مقام سے بھی ہمیں معلوم نہیں ہوتیں ۔ البتہ یہ کہ جنت میں ایک درخت معیّن کردیا گیا تھا کہ سوائے اس درخت کےجہاں سے چاہو‘ جو چاہو‘ کھاؤ پیو۔اگر اِس درخت کا پھل کھاؤ گے تو تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
آیت ۳۶  {فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِص وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَلَـکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ(۳۶)} ’’پھر پھسلا دیا اُن دونوں کو شیطان نے اُس درخت کے بارے‘میں‘ تو نکلوا دیا ان دونوں کو اُس کیفیت میں سے جس میں وہ‘تھے۔ اور ہم نے کہا: تم سب اُترو‘ تم ایک دوسر ے کے دشمن ہو گے۔اور تمہارے لیے اب زمین میں ٹھکانا ہے اور نفع اٹھانا ہے ایک خاص وقت تک۔‘‘
اغوائے شیطانی اور اس کا نتیجہ
{ فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا} ’’پس شیطان نے ان دونوں( حضرت آدم وحوا  علیہما السلام)  کو پھسلادیا۔ زَلََّّ: پھسل جانا‘ اَزَلَّ: (باب افعال) پھسلا دیا۔ {فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ} ’’تو اُن دونوں کو نکلوا دیا اس میں سے جس میںسے وہ تھے۔‘‘ یہ الفاظ بھی بڑے مبہم رکھے گئے ہیں۔ اس سے مراد ابھی وہ جنت نہیں ہے بلکہ اس جنت کی جو کیفیت ہے اس کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے۔ 
قرآن کریم یہ انداز وہاں استعمال کرتاہے جہاں تفاصیل فہم انسانی کی گرفت سے ماوراء ہوں‘ جیسا کہ معراج کے تذکرہ میں فرمایا: {اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی(۱۶)} (النجم) ’’جبکہ ڈھانپے ہوئے تھا بیری کو جو ڈھانپے ہوا تھا۔‘‘ اب وہ کیا تھا‘ وہ تمہارے فہم سے ماورا ء ہے‘ لہٰذا اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں دی جا رہی۔ {مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی (۱۷)} ’’انہوں نے اپنے ربّ کی عظیم ترین آیات کا مشاہدہ کیا۔‘‘ اُس وقت نبی  کریم ﷺ نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظیم ترین آیات کا مشاہدہ کیا۔ یہ انداز یہاں پر بھی ہے: {فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ} پس نکلوادیا اُن دونوں کو اُس کیفیت سے اور اُس حالت میں سے جس میں وہ تھے۔ اس کی تعبیر سورۂ طٰہٰ کے متذکرہ بالا مقام کے حوالے سے کی جائے تو وہ شاہ عبدالقادر صاحبؒ کی رائے سے مربوط ہوجائے گی‘ یعنی انہیں بھوک لگنی شروع ہوئی جو کہ پہلے نہیں تھی‘ یا کوئی مشقت کا مسئلہ تھا جو پہلے نہیں تھا۔ اب دھوپ نے بھی ستایا ہوگا اور یہ کیفیت پہلے نہیں تھی۔ بول وبراز کا معاملہ بھی شروع ہوا جو پہلے نہیں تھا۔ 
اسی طرح جنسی عمل (sexual intercourse) کا معاملہ بھی شروع ہوا جو پہلے نہیں ہوگا۔ قرآن مجید کے دو مقامات پر آتا ہے کہ اس درخت کے پھل کھانےکا نتیجہ یہ نکلا:{فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ} (الاعراف:۲۲، طٰہٰ:۱۲۱) ’’پس ظاہر ہوگئیں ان کے لیے اُن کی شرم گاہیں (جنسی اعضاء) اور وہ لگے گانٹھنے جنّت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے)۔‘‘ اس کی کیا تعبیر ہوگی؟ اس درخت کی وہ کیا تاثیر تھی؟ بائبل کے مرتبین کا خیال یہ ہے کہ وہ پہلے سے برہنہ تھے مگرانہیں اس  کا احسا س نہیں تھا‘ کیونکہ ابھی انہوں نے ’’شجرۂ علم‘‘ سے نہیں کھایا تھا‘ ابھی انہیں شعور حاصل نہیں ہوا تھا۔ گویا ان کے اپنے فلسفہ ارتقاء کی رو سے ابھی آدم وحوا حیوانیت کی سطح سے نکلے ہی تھے‘ ابھی ان میں اپنے ستر اور شرم وحیا کا کوئی احسا س پیدا نہیں ہوا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے وہ شجرۂ ممنوعہ کھایا تو اس سے انہیں اپنی ستر گاہوں کا احساس وشعور پیدا ہوا اور پتوں کو گانٹھ کر اپنے لیے لباس کا بندوبست کرنا شروع کردیا۔ بائبل کے مرتبین نے تو اسےfig treeکہا ہے جس کے پتوں سے انہوں نے لباس تیار کرنے کی کوشش کی۔ جس علاقے میں ان کا خیال ہے کہ وہ آزمائشی جنت تھی جہاں پرکہ حضرت آدم واماںحوا   علیہما السلام  کو رکھا گیا‘ وہاں انجیر کےدرخت بہت زیادہ ہیں۔ ’’جبل تین‘‘ اسی علاقے میں ہے جو حضرت نوح   علیہ السلام  کی قوم کا مسکن تھا اور جہاں پر سیلاب آیا۔ ان کے محققین کے نزدیک اسی علاقہ میں نسل آدم ؑ کا آغاز ہوا ہے۔ یہ اُن کےاپنے نظریات ہیں۔ قرآن کریم میں بس اشارہ فرما دیا گیا: {فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ} ’’تو اُن دونوں کو نکلوا دیا اس میں سے جس میں سے وہ تھے۔‘‘ اصلاحی صاحب نے بڑا لطیف لفظ استعمال کیا ہے اور بڑی عافیت کے ساتھ یہاں سے گزرگئے ہیں کہ کوئی حُلّۂ جنت تھا وہ ان سے سلب کرلیا گیا‘ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔ وہ ایک جنتی لباس تھا اور ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس لباس کی حقیقت کیا تھی ‘وہ لباس کس نوعیت کا تھا جو ان کو عطا ہوا تھا؟ وہ ان سے لے لیا گیا۔ ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور ان کو اپنی عریانی کا احساس ہوا۔ 
{اَزَلَّھُمَا} کی تفہیم کے لیے قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے حوالے نوٹ کیجیے۔ شیطان نے جو حضرت آدم وحوا  علیہما السلام  کو بہلایا‘ پھسلایا یا ورغلایا اس کے لیے سورۂ طٰہٰ میں الفاظ آئے ہیں: {فَوَسْوَسَ اِلَـیْہِ الشَّیْطٰنُ   قَالَ یٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی(۱۲۰) } ’’تو وسوسہ ڈالا اُس کے ذہن میں شیطان نے‘ اُس نے کہا: اے آدم! کیا مَیں بتائوں تجھے ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہی کے بارے میں جو کبھی پرانی نہ ہو؟‘‘ یعنی یہ رُو در رُو مکالمہ نہیں ہورہا ہے بلکہ اس کے لیے لفظ وسوسہ استعمال کیا گیا ہے۔ شیطان نے وسوسہ اندازی کی کہ اے آدم! کیا مَیں تجھے وہ درخت بتاؤںکہ جو خلد اور ہمیشگی کا درخت ہے اور ایسی حکومت اور شہنشاہی عطا کرنے والا درخت ہے کہ جس پر بوسیدگی طاری نہیں ہوگی‘ وہ ہمیشہ تروتازہ رہے گی۔سورۃ الاعراف میں الفاظ آئے ہیں: {وَقَالَ مَا نَھٰىکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ(۲۰)} ’’اور اُس نے کہا (وسوسہ اندازی کی) کہ نہیں روکا ہے آپ دونوں کو آپ کے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ ہو جائیں۔‘‘ کہیں تمہیں خلد اور بقائے دوام حاصل نہ ہوجائے! تو یہ وسوسہ اندازی ہے جو شیطان نے حضرت آدم اور اماں حوا  علیہما السلام   کو کی۔ اس کے بارے میں کہا گیا: {فَدَلّٰىهُمَابِغُرُوْرٍج } (الاعراف:۲۲) ’’پس اُس نے انہیں دھوکا دے کر (اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی پر) آمادہ کر ہی لیا۔‘‘
{وَ قُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ } ’’اور ہم نے کہا (فیصلہ سنادیا) کہ اترجاؤ‘ تم میںسے بعض بعض کے دشمن ہیں۔‘‘ 
{وَلَـکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ(۳۶)} ’’اور اب زمین میں تمہارے لیے جائے قرار ہے اور برتنے کا ساز وسامان ہے ایک خاص وقت تک کےلیے۔‘‘اس زمین میں زندگی کے لیے ناگزیر ضروریات ہم نے فراہم کر دی ہیں ایک خاص مدّت تک کے لیے۔
ھَبَطَ کے معنی ہیں کسی بلندی سےنیچے اترنا‘ تو یہاں جو لفظ ’’اھْبِطُوْا‘‘ آیا ہے اس سے یقیناً اُس نظریے کو بہت تقویت حاصل ہوتی ہے کہ تخلیق ِآدم کا سارا مرحلہ جو اب تک بیان ہوا ہے‘ یہ کسی بلند مقام پر‘کہیں آسمانوں میں ہی ہوا ہے‘ اور اس کے بعد حضرت آدم  علیہ السلام   کو زمین پر اتارا گیا۔ حکم دیا جارہاہے کہ اُترو اب زمین پر۔البتہ ’’ھبوط‘‘ کا ایک دوسرا معنی آباد ہونا (settle down) بھی ہے جس سے دوسرے تصور کا اثبات ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسرا تصور بھی قرآن سے reconcile کرتا ہے۔ یہ بات مَیں یہاں صرف احتمال کے درجے میں رکھ رہا ہوں۔ بہرحال ہبوط کا لفظ کسی بلند مقام سےاترنے کےلیےبھی آتا ہے اور اس معنی میں بھی کہ کہیں آباد ہوجانا۔ جیسا کہ زندگی کا ایک تو nomadicانداز ہوتا ہے‘ خانہ بدوش ہیں‘ اِدھر اُدھر گھوم رہے ہیں۔ کسی چراگاہ کے پاس خیمے لگا دیے ہیں‘ مگر جب وہاں جانوروں کے چرنے کے لیے کچھ نہیں رہا تو اب خیمے اکھاڑے اور کہیں اور چلے گئے۔ ایک ہے کسی جگہ پر مستقل قیام کرلینا یا settle ہوجانا۔ چنانچہ اسی سورۂ مبارکہ میں بنی اسرائیل کے ضمن میں آیا ہے: {اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ} ’’تو اُتر پڑو کسی شہر میں تو تم کو مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔‘‘ بنی اسرائیل جب صحرا ئے سینا میں مسلسل سفر میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس صحرا نوردی کے دوران منّ وسلویٰ کی صورت میں اُن کے لیے غذا کا بھی بندوبست کیا تھا۔ پھر انہوں نے ناشکری کی اور حضرت موسیٰ   علیہ السلام  سے کہا کہ ہم اس ایک غذا پر صبر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اُن چیزوں کا مطالبہ کیا جن کے اُن کو مصر میں اپنی غلامی کےدور میں چسکے پڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تو زمین سے اُگنے والی چٹخارے دار چیزیں چاہئیں۔ترکاریاں اور ککڑیا ں  ہوں‘ پیاز اور لہسن ہو‘ دالیں ہوں۔ اس پر حضرت موسیٰ   علیہ السلام   نے فرمایا : {اِهْبِطُوْا مِصْرًا ...}  تو تم کسی شہر میں آباد ہو جاؤ۔ یہ چیزیں تو کسی جگہ مستقل قیام کرکے کاشت کاری کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ تو وہاں بھی لفظ ’’ھبوط‘‘ آیا ہے۔ 
اولادِ آدم اور شیطان کی باہمی دشمنی
{ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ }  ’’تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔‘‘ ابلیس اور جو بھی اُس کی ذُریت اور جنات میں سے اُس کے پیروکار ہیں‘ اُن کا مادّۂ تخلیق آگ ہے۔ لہٰذا ان میں جوش وخروش اور حرارت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان کی فطرت میں نشوز کا مادّہ زیادہ غالب ہے۔ اُس معیّن ابلیس یعنی عزازیل نے ذُرّیت ِ آدم کو گمراہ کرنے کے لیے قیامت تک کی مہلت مانگی تھی ‘ جواُسے دے دی گئی۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پرآیا ہے کہ تجھے مہلت دی جا رہی ہے‘ تمہاری یہ درخواست قبول کی گئی۔ تم اپنی پوری محنت کرسکتے ہو‘ ذُریت ِآد م ؑ کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرلو‘ تمہیں کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ البتہ ایک بات سورۂ بنی اسرائیل میں اور دوسرے مقامات پر واضح کردی گئی : { اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ   اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ(۴۲)}’’یقیناًمیرے بندوں پر تجھے کچھ اختیار نہیں ہوگا‘ سوائے اُن کے جو خود تیری پیروی کریں گمراہوں میں سے۔‘‘ ٹھیک ہے تم ان کے لیےجو چاہو مزین کرو‘ برائی کوخوشنما انداز سے پیش کرو‘ وسوسہ اندازی کرو‘ جس طرح چاہو انہیں ورغلاؤ‘ لیکن تمہیں ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا‘ سوائے اُن کے جو خود تیری پیروی کریں ۔ خود اُن کے اندر بھی سرکشی ہو‘ شر کا میلان ہو۔ وہ خود معصیت‘ تکبر اور دُنیا پرستی میں مبتلا ہوں اور تیری آواز پرلبیک کہیں۔ ان کو تُو جدھر چاہے لے جا‘ لیکن میرے وہ بندے جو اپنے آپ کو مجھ سے وابستہ کرلیں‘ مجھ پر ایمان رکھتے ہوں‘ مجھ پر توکّل کرتے ہوں‘ اُن پر تیر ا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ چنانچہ ابلیس‘ اُس کی ذُریت اور جِنّات میں سے اُ س کےپیرو کار سب کےسب حضرت آدم  علیہ السلام   اور ذُرّیت ِ آدم کی دشمنی پر کمربستہ ہوگئے۔ 
دراصل یہ عداوت خیر و شر کی ایک کشمکش ہے جو تاریخ انسانی کا ایک مستقل نظریہ ہے۔ خیر کی قوتیں انسان کے اندر بھی ہیں اور خارج میں بھی ہیں۔ انسان کے اندر جو روحِ ملکوتی پھونکی گئی وہ خیر کی طرف بلانے والی ہے۔ خارج میں انبیاء کرام  علیہم السلام  ‘ صلحاء اور اُن کے متبعین ہیں۔ پھر ملائکہ ہیں جو نیکی کے راستے پر انسان کی تقویت کا ذریعہ بنتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔ خارج میں یہ تمام قوتیں خیر کی طرف بلانے والی ہیں ۔ شر کی طرف بلانے والا انسان کااپنا id and libido ہے‘ اس کا نفس امارہ اور اس کے حیوانی تقاضے (animal instincts) ہیں۔ شر کی طرف بلانے والے یہ عناصر اس کے اپنے اندر ہیں ۔   یہ خیر وشر کی کشا کش ہے۔ ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی
تاریخ انسانی درحقیقت انہی قوتوں کی باہمی کشاکش کی داستان ہے۔ 
{وَلَـکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ(۳۶)}’’اور اب زمین میں  تمہارے لیے جائے قرار ہے اور برتنے کا ساز و سامان ہے ایک خاص وقت تک کے لیے۔‘‘اس زمین میں زندگی کے لیے ناگزیر ضروریات ہم نے ودیعت کر دی ہیں   ایک خاص مدّت تک کے لیے۔ یہیں تمہیں ٹھہرنا ہے‘ یہیں آباد ہونا ہے‘ اور اس میں ہم نے زندگی کی ساری ضروریات ایک مدّتِ معینہ کے لیے فراہم کردی ہیں۔
آیت ۳۷  {فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط  اِنَّـہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)}’’پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات‘ تو اللہ نے اُس کی توبہ قبول کر لی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا‘ بہت رحم فرمانے ‘والا۔‘‘
آدم و حوا  علیہما السلام  کی توبہ
یہ مسئلہ بھی سورۃ الاعراف میں تفصیل سے آچکا ہے‘ بایں معنی کہ سورۃ الاعراف ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی جبکہ سورۃ البقرۃ مدنی سورت ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے یہ مضمون وہاں تفصیل سے آچکا ہے۔ اس مقام سے پہلے قرآن مجید کے چھ مقامات پر یہ قصہ ٔآدم وابلیس بیان ہوچکا ہے۔ کہیں اس کا کوئی ایک مضمون زیادہ تفصیل سےبیان ہوا ہے تو کہیں کوئی دوسرا مضمون۔ کہیں ابلیس کا چیلنج زیادہ مفصل آیا ہے تو کہیں ابلیس نے جو تکبر کیا اس کی پوری وضاحت کردی گئی ہے۔ کہیں حضرت آدم  علیہ السلام   کی تخلیق کا تذکرہ بھی ہے اور جنات کی تخلیق کا تذکرہ بھی۔ یہ چھ مقامات مکی سورتوں (سور ۃ الاعراف‘ سورۃ الحجر‘ سورۂ بنی اسرائیل‘ سورۃ الکہف‘ سورہ ٔ طٰہٰ اور سورۂ  صٓ) کے ہیں جہاں پر یہ مضامین آئے ہیں۔  ان کے تقابلی مطالعہ سے یہ سب باتیں منکشف ہوتی ہیں۔ یہاں ان کا خلاصہ دیا جارہا ہے۔ سورۃ الاعراف میں ہے کہ حضرت آدمؑ میں ایک ندامت کا احساس پیدا ہوا کہ ان سے خطا ہوئی ہے ‘ غلطی ہوئی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہوجانا ہے‘ اور یہی احسا سِ ندامت ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت عزیزہے۔ ؎
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے 
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
حضرات آدم وحوا  علیہما السلام   کو جب اپنی غلطی پر ندامت ہوئی تو وہ گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں توبہ واستغفار کے چند کلمات خود تلقین فرما دیے۔ یہاں ارشاد فرمایا: ’’پس آدم نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کرلیے‘‘ اور ان کلمات کے ذریعہ سے جب انہوں نے توبہ کی‘ رجوع کیا‘ استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ  نےمعاف فرمادیا۔ توبہ واستغفار کے وہ کلمات سورۃ الاعراف میں بیان ہوئے ہیں:
{قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳)}
’’ (اس پر) وہ دونوں پکار اُٹھے کہ اے ہمارے ربّ! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر‘ اور اگر تُونے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہونے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
یہ قرآن مجید کا بہت اہم موضوع ہےجس سے تورا ت بالکل خالی ہے۔ اسی وجہ سے عیسائیوں کے ہاں پیدائشی گناہ گار ہونے کا تصور موجود ہے کہ حضرت آدم ؑ سے جو گناہ سرزد ہوا تھا اُس کے اثرات نسل ِآدم ؑ میں چلے آرہے ہیں‘ جب کہ قرآن مجید میں یہ واضح کردیا گیا : {فَتَابَ عَلَیْہِ} ’’تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول فرمائی۔‘‘ اللہ تعالیٰ  اپنی تمام عنایات کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی تمام عنایات‘ رحمتیں اور شفقتیں حضرت آدم ؑ کے شامل حال ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی خطا کا اقرار کیا‘ اعتراف کیا‘ توبہ کی‘ رجوع کیا‘ استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ کو قبول فرمالیا۔ 
آیت۳۸  {قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًاج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)} ’’ہم نے کہا: تم سب کے سب یہاں سے اُتر جائو! تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘
یہاں وہی لفظ ’’اھْبِطُوْا‘‘ دُہرایا گیا ہے۔ یعنی جنت سے‘ خواہ وہ آزمائشی جنت تھی یا جنت خلد یا آسمانی جنت‘ حضرت آدم  علیہ السلام   کا نکالا جانا گناہ کی وجہ سے نہیں تھا۔ گناہ کی وجہ سے تو  اُس کیفیت سے محرومی ہوئی جو اُس جنت میں انہیں حاصل تھی‘ یا جو جنتی لباس انہیں دیا گیا تھا اُس سے محرومی ہوئی عریانی کی صورت میں۔ باقی جنت سے اُن کا نکلنا اور زمین پر آنا تو درحقیقت اس لیے تھا کہ وہ زمین کی خلافت کے لیےہی پید ا کیےگئے تھے۔ اس اعتبار سے انہیں یہاں آکر اپنے منصب کا چارج تو سنبھالنا تھا۔ اسی لیے تو بہ کی قبولیت کے بعد دہرا کر فرمایا جارہا ہے: {قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا} ’’ہم نے کہا: تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ!‘‘ چاہے وہ زمین ہی میں کسی اونچے مقام پر جنت تھی‘ یا آسمانی جنت تھی جہاں سے اُتارا گیا‘ یہ دونوں احتمالات موجود ہیں‘ لیکن یہ کہ سب کے سب اترو۔ اس کے بعد ابلیس بھی اسی زمین پر گھومتا پھرتا ہے‘ لوگوں کو ورغلاتا ہے‘ اُس کی ذریت بھی یہیں ہے اور حضرت آدم ؑ کی نسل بھی یہیں ہے۔
حیاتِ ارضی کا ابدی منشور
{فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)} ’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔‘‘ 
یہ ہے علم ِانسانی کا دوسرا گوشہ ‘ یعنی علم بالوحی  (Revealed Knowledge)۔ اس چوتھے رکوع کا حسن ملاحظہ کیجیے کہ اس کے شروع میں علم بالحواس یا اکتسابی علم  (Acquired Knowledge) کا ذکر ہے جو بالقو ۃ (potentially)حضرت آدمؑ  میں رکھ دیا گیا اور جسے انسان نے پھر اپنی محنت ‘ اپنے حواس اور عقل کے ذریعے سے آگے بڑھایا۔ یہ علم مسلسل ترقی پذیر ہے اور آج مغربی اقوام اس میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ کبھی ایک زمانے میں مسلمان بہت آگے نکل گئے تھے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ اس دنیا میں عروج تو انہی کو ہو گا جنہیں سب سے زیادہ اس کی آگہی حاصل ہو گی۔ البتہ وہ علم جو آسمان سے نازل ہوتاہے وہ عطائی (given)ہے‘ جو وحی پر مبنی ہے۔ انسان کے مقامِ خلافت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام اس کے پاس آئیں‘ وہ جو ہدایات بھی بھیجے ان کی پورے پورے طور پر پیروی کرے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا۔ یہ گویا ابدی منشور (charter) اور فرمانِ خداوندی ہے حضرت آدمؑ اور اُن کی ذریت کے لیے‘ جیسے کسی وائسرائے کو چارج دیا جائے‘ پھر ا سے کوئی چارٹر دیا جارہاہو۔
آیت۳۹  {وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُولٰٓـئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ(۳۹)}’’اور جو کفر کریں گےاور ہماری آیات کو جھٹلائیں گےوہ آگ والے (جہنمی) ہوں گے‘ اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘
جوہماری آیا ت کا کفر کریں گے‘ ناشکری کریںگے‘ ہماری آیات کی تکذیب کریں گے وہ آگ والے یعنی جہنمی ہوں گے اور وہ ا س میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ 
علم کے یہ دو گوشے ہیں۔ اس رکوع کے آغاز میں اُس علم انسانی یعنی مادی علوم کا تذکرہ ہوا جن کےحصول کا ذریعہ ہمارے اندر رکھ دیا گیا ہے‘ اور وہ ہیں ہمارے حواس اور ان کے اوپر عقل جو مزید استنباط اوراستدلال کرتی ہے۔ خلافت کا اصل تعلق اسی علم سے ہے۔حضرت آدم  علیہ السلام  اسی کی بنیاد پر خلیفہ بنائے گئے۔ فرشتوں کے اشتباہ کے جواب میں اسی علم کیdemonstration کرائی گئی۔ دوسرا علم ہدایت ہے جو انسان کو تدریجاً عطا ہوتا رہا۔ جیسے جیسے انسانی شعور کا ارتقا ء ہوا‘ جیسے جیسے انسان کاتمدنی ارتقا ء ہوا‘ جیسے جیسےانسان کے ذرائع رسل ورسائل بڑھتے چلے گئے اسی طرح اُس نے ہدایت کے مراحل طے کیے۔ یہاںتک کہ آج سے چودہ سو برس قبل وہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ’’الھُدٰی‘‘ (The Final Guidance) کی شکل میں بصورت ِقرآن آخری کتاب کے طور پر نازل ہوا؎
نوعِ انساں را پیامِ آخریں
حاملِ اُو رحمۃٌ للعالمین 
یہ علم ہدایت ہے کہ زمین پر رہتے ہوئے انسان نے کس طرح زندگی گزارنی ہے۔ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کدھر جانا ہے اور کدھر نہیں جانا۔ خاص طور پر اجتماعیات کے اعتبار سے بڑی راہ نمائی ہے ‘ جہاں بڑی پیچیدگیاں ہیں‘  بڑے عقدہ ہائے لاینحل ہیں‘ جن کو حل کرنے کے لیے انسان کے پاس ذرائع موجود نہیں ہیں اور وہ افراط وتفریط کا شکا ر ہوجاتا ہے۔ اگر یہ ’’الہدیٰ ‘‘ کو امام بنالے تو پھر خلافت ِ ارضی کے تحت تسخیر کائنات میں بڑھتا چلا جائےگا۔ ایسے میں کوئی خرابی ‘ کوئی شر وجود میں نہیں آئے گا۔ اصل میں اِس دور کی سب سےبڑی محرومی یہ ہے کہ انسان نے الہدیٰ کی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں اور صرف علم انسانی و علم مادی میں ترقی کرتا ہوا ایک انتہا کی طرف بڑی تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ یہ عدم توازن ہے جس نے اس دور کو دورِدجالی بنادیا ہے۔