سیرت ِ رسول اللہﷺ : فکری اور عملی اسباق
(خطاب : این ای ڈی یونیورسٹی ‘ کراچی )
شجاع الدین شیخ‘امیر تنظیم اسلامی
خطبہ ٔ مسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!
اللہ تعالیٰ کی توفیق سےہم آج کی اس گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ ہماراموضوع ہے:
Intellectual & Actionable Lessons From Seerah
Of Prophet Muhammad
اگر سادہ اردو میں کہیں توہم رسول اللہﷺ کی سیرت سے فکری اور عملی اعتبارات سے کچھ اسباق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس موضوع کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں ہم intellectual lessons پر بات کریں گے اور پانچ باتیں آپ کے سامنے رکھی جائیں گی‘ ان شاءاللہ! ان میں غوروفکر کے لیے کچھ مواد بھی ہوگا‘ ملاحظہ ٔ نفس( self-reflection ) بھی ہوگا اور آئندہ کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ بھی۔گفتگو کے دوسرے حصے میں ہم actionable lessons پر بات کریں گے اور ان کی تعداد بھی پانچ ہوگی۔
فکری پہلو
(1) Why are we here in this world
سادہ سا سوال ہےکہ ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں! جواب ہم سب کے پاس ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں‘ الحمدللہ ‘لیکن بعض باتوں کی یاد دہانی ضروری ہوتی ہے۔
(2) Is humanity my religion or Islam my Deen
یہ آج کل کافی زیربحث ہے۔ہم اس کا تجزیہ کریں گے۔
(3) Destination ahead
جانا کدھر ہے ‘منزل کیا ہے؟ اس کا جواب بہت سادہ ساہے جو ہم سب کے پاس موجود ہے۔
(4) What after finality of prophethood
رسول اللہﷺ کی ختم نبوت کے بعد تو کوئی کتاب نہیں آنی ‘کوئی رسول نہیں آنے‘ تواب کیا ہے؟اس کا ہمارے عمل سے بھی تعلق ہے لیکن بنیادی طور پر یہ فکری پہلو ہے ۔
(5) The best role model
یقیناً رسول اللہﷺ بہترین role model ہیں‘ لیکن خود احتسابی کے ذریعے اس امر کاجائزہ لیں گے کہ کیا واقعی آج ہمارے معاشرے خاص طور پر ہماری youth کے لیے رسول اللہﷺ ہی بہترین نمونہ ہیں!
۱) ہمارا مقصد ِ حیات
ہم مسلمان ہیں۔ ہم سب کو پتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےہمیں عبادت کے لیے پیدا کیا۔ کیا واقعی ایسا ہے کہ ہمیں ہمارا مقصد ِتخلیق یاد رہتا ہے ؟یہاں اِیَّاکَ نَعْبُدُ ‘جسے ہم پنج وقتہ نماز میں دہراتے بھی ہیں‘ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے بلکہ عالمی سطح کا بھی جائزہ لیںتو بہت سی عجیب باتیں سامنے آتی ہیں۔ سی این این ایک بڑا نشریاتی ادارہ ہے جسے Ted Turner نے بنایا۔ اس خاندان کی ایک اہم شخصیت نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر تحریر لکھی:
Nothing more to be achieved in life, there is no more usage of life
اس کے بعد پستول کی گولی سے خود کشی کرلی۔ہمارا ایمان بتاتا ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے لیکن بندے نے ظاہری طور پر یہ لکھا کہ زندگی کا کوئی اور مقصد نہیں ہےاور پھر اپنے آپ کو مار ڈالا۔ایک طالب علم نے بھی کچھ اہداف مقرر کیے ہوتے ہیں ۔ مطلوبہ ڈگری مل گئی تو اچھی سی ملازمت کرنی ہے۔ پھر اچھا ساکاروبار کرنا ہے۔ اس کے بعد شادی ہوگی۔بچے بھی ہوں گے۔ اس قسم کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹارگٹس لوگوں نے سیٹ کیے ہوتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس عمل کے دوران کوئی ہدف حاصل نہ ہو تو خودکشی کر لیتے ہیں۔ رواں سال کاماہِ رمضان میں نے لاہور میں گزارا۔ رات میں ہم قرآن کا ترجمہ تشریح کے ساتھ بیان کرتے تھے‘ جیسے ڈاکٹر اسراراحمدؒ تراویح کے ساتھ بیان کرتے رہے۔ دن میں کوئیبارہ کے قریب یونیورسٹیز میں جانے کا اتفاق ہوا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی یونیورسٹیزکو طلبہ کی ذہنی و روحانی صحت میں بہتری لانے کے حوالے سے کچھ گائیڈ لائنز دی ہیں ۔ ان بارہ میںسےچار یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز سے میری ملاقات ہوئی ۔ ان سے گفتگو میں پتا چلا کہ آج کل خود کشی کی سب سے بڑی وجہ breakup ہے ۔ یہ لفظ سوشل میڈیا پرنوجوانوں میں بہت عام ہے۔ہوتا کچھ یوں ہے کہ کوئی صاحب کسی خاتون کی خاطر اپنا مخصوص علمی شعبہ چھوڑ کرانہی کی فیکلٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد باہمی تعلقات توقع کے مطابق نہیں بڑھتے تو ’’بریک اپ ‘‘ ہوجاتا ہےاور پھر وہ صاحب خود کشی کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ یہ ہمارے معاشرے کے بھی issues ہیں‘ صرف سی این این کے کسی بڑے کا ہی مسئلہ نہیں تھا۔
دیکھنا یہ ہے کہ آیا زندگی ایسے چھوٹے چھوٹے مقاصد ہی سے عبارت ہے ؟نہیں !اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں ۔ اللہ کے رسولﷺ کی تہجد کی نماز اتنی طویل ہوتی کہ رات کا ایک تہائی‘ دوتہائی یا نصف حصہ اسی میں گزرتا۔ رمضان کے آخری عشرے میں تو پوری رات کھڑے ہوتے۔ پیروں میں ورم آتا‘ سوجن ہو جاتی ۔ پوچھا جاتا کہ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں‘ تو اللہ کے رسول ﷺ فرماتے: ((اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا))[متفق علیہ] کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!یہ وہ ہستی کہہ رہی ہے جو معصوم ہے۔ ہم سب حضورﷺ کی شفاعت کے طلب گار ہیں۔ شفاعت ِکبریٰ کا حق آپﷺ کو عطا کیا جائے گا۔ ایسے میں ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ آیا ہم اپنے مقصد ِحیات کو یاد رکھے ہوئے ہیں یا نہیں! دنیا میں ہم کسی چھوٹے موٹے کام کے لیے‘ break up کے بعد خود کو ختم کرنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے زمین پر بھیجا۔ اس حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ ہماری تخلیق کی وجہ کیا ہے! صحیح مقصد کے حصول کی راہ میں studies بھی عبادت بن جائیں گی‘ حلال کمانا بھی عبادت بن جائے گا ‘ گھر گرہستی کے معاملات چلانا بھی عبادت بن جائے گا۔ یہ بات ہر وقت مستحضر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بڑے مشن کے ساتھ زمین پر بھیجا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہدایت کی نعمت ہمارے پاس ہے ‘ ورنہ چند چھوٹے چھوٹے معاملات پر بندہ زندگی ختم کر لیتا ہے۔ بہت زیادہ دنیاوی دولت حاصل کرنے کے بعد وہ سمجھتا ہے کہ اب کچھ کرنے کو تو ہے نہیں‘ اس لیے اپنے آپ کو مار ڈالتا ہے۔ایک مسلمان کی سوچ ایسی نہیں ہوتی۔ ایک خاندان کے سربراہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی فیملی کے مستقبل کے لیے کیا طے کیا ہے‘ کیا اہداف طےکیے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ سورۃ الفجر کی آخری دو آیتیں اپنے اور اپنی فیملی کے لیے بطور مقصد ِحیات مقرر کی ہیں:
{فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ(۲۹) وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(۳۰)} (الفجر)
’’پس توداخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں‘اور داخل ہو جائو میری جنّت میں!‘‘
کہ کل اللہ تعالیٰ میرے اور میری فیملی کے لیے اعلان فرما دے کہ داخل ہو جائو میرے بندوں میں‘ داخل ہو جائو میری جنت میں۔
۲) انسانیت بطور مذہب یا اسلام بطور دین؟
عبدالستار ایدھی صاحب کے انتقال کے بعد ان کی بڑی بڑی تصاویر والے بل بورڈز کراچی میں لگے اور ساتھ ہی یہ جملہ بھی ہمارے ہاں متعارف ہوا: ’’میرا مذہب انسانیت ہے۔‘‘ ان کے بعد ایک صاحب جو حیات ہیں ‘ان کے ہاں بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا کہ میرا مذہب تو انسانیت ہے ‘ اسی کی بات کرنی چاہیے‘ مذہب کیا ہوتا ہے! سوال یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان کیا ہمیں اسلام کو دین ماننے میں کوئی شرم ہے؟اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ دنیا کی کوئی معروف انگریزی لغت دیکھ لیں‘ مذہب کا مفہوم یہی ملے گا کہ یہ تو کچھ عقیدوں کا مجموعہ‘ کچھ مراسم عبودیت‘ کچھ خوشی غمی کے تہواروں کی باتیں ہیں۔ البتہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر جو آیت نازل ہوئی ‘ اس میں فرمایاگیا:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} (المائدۃ:۳)
’’آج کے دن مَیں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ پر اپنے دین کے مکمل ہونے کا اعلان کیا۔ یہ حضورﷺ کی امتیازی شان ہے۔ اسلام تو پہلے دن سے چلا آ رہاتھا؛ سورئہ آلِ عمران کے مطابق :
{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ قف} (آیت۱۹)
’’یقیناً دین تو اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔‘‘
لیکن اس کی تکمیل حضورﷺ پر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} (المائدۃ:۳)
’’آج کے دن مَیں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل فرما دیا۔‘‘
’’انسانیت میرا مذہب ہے‘‘ کا جملہ دین کی تعریف سے ہماری ناواقفیت کی وجہ سے زبان پر آ جاتا ہے ورنہ انسان کو ہم نے خدا نہیں بنانا‘ معاذ اللہ! اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بس انسان خوش ہو جائے ‘جبکہ درحقیقت یہ حق تو خدا کا ہے کہ اسے راضی کیا جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان کبھی خوش ہو بھی نہیں سکتے۔ لہٰذا ’’انسانیت میرا مذہب ہے‘‘ کی بجائے یہ کہنا چاہیے کہ ’’اسلام میرا دین ہے۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان اس ٹریپ میں کیوں آ گئے؟ کیا اسلام بندوں کے لیے نہیں آیا؟ کیا اسلام بطور ایک ضابطہ حیات اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا؟ کیا اللہ کے دیے ہوئے نظام میں مخلوق کا بھلا نہیں ہوگا، فائدہ نہیں ہوگا؟ اس امر میں ہمیں کیا تامل ہے کہ ہم دین کی اور اسلام کی بات کریں؟
یہ ایک بڑا ٹریپ ہے کہ ’’انسانیت میرا مذہب ہے‘‘ جبکہ حقیقتاً ایسا قطعاً نہیں ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی ہے۔ سارے انسان اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خود ایک تقسیم بتائی ہے۔ فرمایا :
{ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُّؤْمِنٌ ط} (التغابن:۲)
’’وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے‘ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے تم سب کو پیدا کیا۔ تم میں سے کچھ کافر ہیں‘ کچھ مؤمن ہیں۔ باقی حسن سلوک تو اسلام جانوروں کے ساتھ بھی بتاتا ہے۔ چنانچہ انسانیت میرا مذہب ہرگز نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام میرا دین ہے ۔ مرنے کے بعد جو سوالات قبر میں ہوں گے‘ ان کی بابت رسول اللہﷺ نے بتایا کہ : تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی ﷺ کون ہیں؟ کیا آج کل یہ سوالات کہیں پڑھائے جاتے ہیں؟ کبھی اسلامک سٹڈیز میں شاید پڑھائے گئے ہوں ۔ ہماری زندگی کے اہم ترین سوالات کسی نیوز بریف میں نہیں آتے۔کس قدر بڑاٹریپ ہے کہ اصل سوال سے ہم غافل ہو جاتے ہیں۔ بہرحال اسلام میرا دین ہے اور اس پر مجھے فخر ہونا چاہیے‘ نہ کہ میں شرمندہ ہوں یا کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کروں۔ اور یہ خدا تعالیٰ سے detach کرنے کا ٹریپ ہے۔ انسانیت کی فکر کرو جبکہ انسانیت کے خالق کو بھلا دو ۔ خالق نے دین بندوں کے لیے ہی تو عطا کیا ہے۔ خالق کے حکم پر جب عمل ہوگا تو بندوں کے ساتھ بھلا سلوک ہی دکھائی دے گا۔ اس کی بہترین مثال محمدرسول اللہﷺ کی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (الاحزاب:۲۱)
’’یقیناً رسول اللہ کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔ ‘‘
۳) منزل کیا ہے ؟
ہم سب کو پتہ ہے کہ کدھر جانا ہے۔ کسی مسلمان کے انتقال پر ہم پڑھتے ہیں : اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! بے شک ہم بھی اللہ کے ہیں اور ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جملے میں متوفیٰ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ تو ڈرانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔جی بالکل ڈرایا جاتا ہے۔ آپ لوگوں کو passing marks کے حوالے سے ڈرایا جاتا ہے کہ مقررہ فیصد سے کم لینے پر کیا ہوگا! یہ ڈرانا آپ کے بھلے کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے ڈرایا ہے کہ نہیں ؟اگر وہ رحمٰن و رحیم ذات ڈراتی ہے تو اس میں ہمارے ہی بھلے کی بات ہے۔ میری چارٹرڈ اکائونٹینسی کی آڈٹ لائف گزری ہے۔ اس میں مجھے غور و فکر اور تدبر کے لیے بڑا اچھا پوائنٹ ملا۔ آج اگر ایک ایکسٹرنل آڈیٹر آئے اور گزشتہ سال کی میری ریسرچ ہسٹری کا آڈٹ کرے تو جو رپورٹ بنے گی وہ کیا نکلے گی؟ بس میں اپنا سوچ لوں ‘آپ اپنا سوچ لیں‘ اس سے پہلے کہ کوئی ہماراآڈٹ کرے‘ ہمیں خود اپناآڈٹ کر لینا چاہیے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور قول ہے:
حَاسِبُوْا اَنْفُسَکُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا [مسند الفاروق ۲ / ۶۱۸]
اپنا محاسبہ خود کر لو ا س سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ کل تمہاری accountability کی جائے۔ہمارے دائیں اور بائیں طرف کراماً کاتبین موجود ہیں۔ اردو کی ضرب المثل ہے کہ ’’آنکھوں دیکھا جانا‘ کانوں سنا نہ مانا‘‘۔ البتہ دونوں فرشتے نظر نہیں آتے۔ اب ایک اوردلچسپ بات کہ میرا اور آپ کا ایمان seen سے شروع نہیں ہوتا بلکہ unseen سے شروع ہوتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ}(البقرۃ:۳) ’’غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ ‘‘
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جو نظر آ رہا ہے یہ حقیقت میں اصل نہیں ہے۔ جو اس کے بعد ہے‘ وہ اصل ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’ لوگو! آج تم سو رہے ہو ‘ جب موت آئے گی تب تم جاگو گے ۔‘‘ تب اصل حقیقت تمہارے سامنے کھل کر آئے گی۔ چنانچہ ہماری منزل آخرت ہے۔ ہم کہتے تو ہیں کہ آخرت ہماری منزل ہے‘ لیکن کیا واقعی ایسا سمجھتے بھی ہیں ؟کیا واقعی ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں؟چار سال کی ڈگری جان لگانے کے بعد ملتی ہے۔ چند لاکھ کی تنخواہ جان کھپانےکے بعد ملتی ہے۔ کیا اللہ کی جنت اتنی سستی ہے کہ بغیر کچھ کیے مل جائے گی؟
۴) ختم نبوت کے بعد کیا؟
ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہﷺ پر آ کر نبوت ختم ہو گئی۔ وحی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔انبیاء و رسل علیہم السلام لوگوں کی رہنمائی کے لیے آتے تھے ۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ پچھلی آسمانی ہدایت distortion کا شکار ہو جاتی تھی تو نئی تعلیم کی ضرورت ہوتی تھی۔ ایک اور ذرا گہرا پوائنٹ یہ ہے کہ سماجی حوالے سے انسان کا ارتقا ہو رہا تھا۔ غار کی زندگی سادہ تھی۔ پھر چھوٹی چھوٹی بستیاں‘ بڑے شہر ‘اور ریاستوں کے معاملات پیش آئے۔ جیسے جیسے انسانی ارتقاء آگے بڑھتا رہا‘ نئی تعلیم آتی رہی۔محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو اس وقت ذرائع ابلاغ دستیاب تھے۔ جدہ کے ساحل پر مختلف ممالک سے جہاز آ کر لگتے تھے۔ اتنے ذرائع ابلاغ دستیاب تھے کہ پوری دنیا میں رسول اللہﷺ کا پیغام پہنچ سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری کلام قرآن مجید کی صورت میں عطا کردیا جبکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی۔ اب کسی نئی کتاب کی ضرورت نہیں۔ دین مکمل ہونے کا اعلان ہو گیا۔ رسول اللہﷺ کے دور میں انسان socially evolve ہو کر ریاستوں کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ آج بھی دنیا میں ریاستوں کا تصور موجود ہے۔ اگلا مرحلہ گلوبل ریاست کا ہو گا۔
اب سوال یہ ہے پہلے رسول لوگوں کی راہنمائی کے لیے آتے تھے تو آج لوگوں کو گائیڈنس کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کون دے گا ؟قرآن دے گا۔ پہنچا ئے گا کون؟ ہم نے پہنچانا ہے۔ آج ہم the chosen ones ہیں۔ یہ الفاظ یہودی آج بھی اپنے لیے استعمال کرتے ہیں مگر غلط وقت استعمال کر رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن کہتا ہے :
{وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ(۴۷)} (البقرۃ)
’’میں نے تمہیں (اُس وقت کے) جہان والوں پر فضیلت دی ۔‘‘
اُس وقت تو صحیح تھا۔ اب رسول اللہﷺ کے آخری رسول بنائے جانے کے بعد ان پر تو اللہ کی طرف سے لعنت ہوئی ۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۶۱ اور سورئہ آل عمران کی آیت ۱۱۲ میں ارشاد ہوا کہ ان پر لعنت کی گئی اور ان پر ذلت اور محتاجی تھوپ دی گئی۔
اب اگر ایک غیر مسلم مسلمانوں کے ذاتی کردار‘ ہمارے روز مرہ کے معاملات اور معمولات کو دیکھے تو وہ کس نتیجے پر پہنچے گا ؟ بقول علامہ اقبال: ؎
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
۵) بہترین کردار کا نمونہ ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ } (الاحزاب:۲۱)
’’تمہارے لیے رسول اللہ(ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔‘‘
ہم کیا‘ یہ حقیقت بہت سے غیر مسلم بھی مانتے ہیں ۔جب گاندھی جی نے جیل میں مولانا شبلی نعمانی کی کتاب ’’سیرت النبیﷺ‘‘ پڑھی تو کہا: ’’(حضرت) محمد(ﷺ) کی عظمت کا قائل ہونے کے لیے مجھے کچھ اور پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔‘‘کانگریس کے امیدواروں نے جب ۱۹۳۶ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو گاندھی نے کہا : ’’گورننس کے لیے میرے پاس تمہارے سامنے (حضرات) ابوبکر اور عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) کے سوا کسی اور کی مثال نہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب The Hundred میں حضرت محمدﷺ کو نمبر ایک پر رکھا۔ یہ تو بندوں کی مجبوری ہے کہ مانیں‘ رسول اللہﷺ کو کوئی ضرورت نہیں ان کے استناد کی۔ مائیکل ہارٹ نے بھی گڑبڑ یہ کی کہ کہا: He is the only person in history ۔ یعنی بطور ایک شخصیت مانا ہے‘ رسول نہیں مانا ۔
ہمارے لیے غور و فکر کے لیے کیا مواد ہے؟ ہمارے بچے کیا‘ ہماری عورتیں بھی روئی ہیں اور ہمارے بڑے بھی جب رونالڈو FIFA کے ورلڈ کپ سےآئوٹ ہوا۔ پھر Messi کو پکڑلیا گیا۔ وہ بھی ہار گیا تو ہمارے بچے روئے‘ ہماری بچیاں روئیں‘ ہمارے مرد روئے‘ ہماری عورتیں روئیں ۔آج ہمارے یہ رول ماڈلز ہیں۔ یہ ہیروز ہیں آج ہمارے۔ پہلے ہم کہتے تھے حجام کی دکان‘ آج انگلش میں کہتے ہیں سیلون‘ اس کے باہر تصاویر کس کی لگی ہیں؟ ماڈلز کی اور مشرک اداکاروں کی۔ دلہنیں بیوٹی پارلر میں تیار ہوتی ہیں۔ وہاں اداکارائوں کی تصویریں لگی ہوتی ہیں کہ ان جیسا بنا دیا جائے ۔ اب ہم دوبارہ اپنے آپ سے پوچھیں کیا واقعی حضرت محمدﷺ ہمارے لیے بہترین رول ماڈل ہیں۔ اُمت کی عورتوں کے لیے رسول اللہﷺ کارول ماڈل ازواج مطہرات کے ذریعے‘ رسول اللہﷺ کی پیاری بیٹیوں کے ذریعے مکمل ہو گا۔ کیا آج ہماری اُمّت کی عورتوں کے لیے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک رول ماڈل ہیں؟ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیا آج ہماری قوم کی بیٹیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہے؟ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تھا: ’’جب میرا انتقال ہو تو میرا جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھانا۔‘‘ مرد کے کفن کے کپڑے تین ہوتے ہیں لیکن عورت کے کفن کے کپڑے پانچ ہوتے ہیں۔ یہ میری گفتگو کا تقریباً۶۰ فیصد مکمل ہوا‘ جو پہلا حصہ تھا۔
عملی پہلو
گفتگو کے دوسرے حصے میں بھی پانچ باتیں پہلےلسٹ ڈائون کر لیتے ہیں۔لوگکہہ سکتے ہیں کہ آپ تو بالکل وعظ کی بات کر رہے ہیں۔ جی بالکل‘ ہمیں وعظ ہی کی بات کرنی ہے۔ وعظ عربی زبان کا لفظ ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے لیے خود وعظ کا لفظ استعمال کیا۔ وعظ کا اردو میں اگرترجمہ کریں تو بنتا ہے:’’ وہ بات جو دل کو نرم کر دے۔
(1) Relation with Allah (2) Relation with Quran
(3) Social responsibility
دین ہمیں سوشلائزیشن کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاتا ہے ‘ لیکن ہماری لاعلمی کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید یہ دوسروں سے ملا ہے۔
(4) Guarding the senses
اپنے حواس کی حفاظت: آج ہم جہاں کھڑے ہیں‘ ہم سب کو پتہ ہے کہ دنیا پریشان ہے۔ ایلون مسک سے کہا جا رہا ہے کہ AI کی سپیڈ کو سلو کروا دو۔اس پر بات کریں گے‘ ان شاء اللہ۔
(5) Role as member of Ummah
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے کام کے لیے پیدا کیاہے۔
۱) تعلق مع اللہ
رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’جس کسی نے بھی مجھ پرکوئی احسان کیا‘ میں نے اس کے احسان کا بدلہ چکایا ہے سوائے ابوبکر کے۔‘‘اللہ اکبر! رسول اللہﷺ کی زبان سے یہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تحسین آمیز الفاظ ہیں۔ اسی طرح اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’اگر میں کسی کو واقعتاً دوست (خلیل) بناتا توابوبکر کو بناتا۔‘‘ البتہ نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ کو بنایا ہے۔جب حضورﷺ کی زندگی کے آخری لمحات تھے اور آپؐ پر ایک کیفیت طاری ہوئی اسے دیکھ کر سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا روئی ہیں ۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں‘تمہارے والد اپنے رب سے ملاقات کو جا رہے ہیں۔یہ آخری بیان ہے جو اس دنیا میں رسول اللہﷺ کی زبان سے جاری ہوا۔یہ اللہ کے ساتھ تعلق کا کلائمکس ہے۔اللّٰہُمَّ الرفیق الاعلیٰ! بل الرفیق الاعلى! اس کے کئی مفاہیم بیان کیے گئے۔
ہم اپنی تنہائی میں غور کریں کہ اللہ کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں ۔کیا ہم واقعی اللہ کو پہچانتے ہیں؟اللہ کی محبت میں کبھی روئے ہیں؟ آنسو خوشی کے بھی نکلتے ہیں۔وہ رونا غم میں نہیں ہوتا جورونا خوشی میں ہوتا ہے۔ ایک رات اللہ کے رسولﷺ کو سورئہ آل عمران کی آخری آیات عطا ہوئیں‘جس میں دعائیں ہیں۔ حضورﷺ پوری رات روئے۔ مفسرین نے کہا یہ رونا خوشی کے مارے تھا۔ اتنا بڑا خزانہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔اللہ کی نعمتوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رونا اور اپنی تنہائی میں اللہ سے باتیں کرنے کے لیے کتنا وقت ہے ہمارے پاس؟ یہ فکر رہتی ہے کہ میرا فلاں دوست یا رشتہ دار ناراض نہ ہو جائے ‘کتنی مرتبہ یاد رہتا ہے کہ اللہ ناراض نہ ہو جائے؟ سیاست دان کہتے ہیں ہماری ریڈ لائن، اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے ہماری ریڈ لائن ،گھر والے کہتے ہیں ہماری ریڈ لائن۔ اللہ تعالیٰ کی بھی کوئی ریڈ لائن ہے جسے دھڑلے کے ساتھ توڑے جا رہے ہوں؟ اللہ کے رسولﷺ راتوں کو کھڑے ہو کر اللہ سے راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں‘اللہ سے لو لگا رہے ہیں۔اس کا کچھ تو عکس ہماری زندگی میں ہونا چاہیے کہ اللہ میرے لیے ترجیح اول ہے یا نہیں !اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے !
۲) قرآن کے ساتھ تعلق
اس حوالے سے میں عام طور پر چھ سوالات رکھتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو یہ مل جائیں گے۔
(i آخری بار قرآن کی تلاوت خود سے اپنے لیے کب کی تھی؟
(ii قرآن پاک کی تلاوت کی تکمیل کب کی تھی؟
(iii قرآن کوسمجھ کر کب پڑھا تھا؟ یعنی ترجمہ ‘تشریح ‘ audio/visual ‘قرآن کی کوئی محفل۔
(iv قرآن کو ترجمہ کے ساتھ کب کھولا تھا ؟
(v قرآن تفسیر کے ساتھ کب کھولا تھا ؟کتاب کی شکل میں ‘آڈیو/ ویڈیو؟
(vi قرآن کی تشریح کے ساتھ کب تکمیل کی؟
میں نے چارٹرڈ اکائونٹینسی کی تعلیم ۲۰۰۱ء میں کلوز کر دی تھی ۔ اس کے بعد کبھی پلٹ کر اس کی کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔ وہ کتابیں بھی outdated ہو گئیں۔اسی طرح کل آپ لوگ پاس آئوٹ ہو کر اپنی فیلڈز میں چلے جائیں گے۔سارا نصاب پرانا ہو جائے گا۔ قرآن جیسا کلام بھی کوئی ہوگا؟ ہماری زندگی کا اہم ترین نصاب یہی ہے ۔ فجر میں قرآن‘ ظہر میں قرآن ‘عصر میں قرآن‘ مغرب میں قرآن‘ عشاء میں قرآن۔ یہ رسول اللہ ﷺنے بتایا۔ چھ سال کے بچے کے لیے قرآن ‘ ۱۰۰ برس کے بوڑھے کے لیے قرآن‘ امام کعبہ کے لیے قرآن‘ عام آدمی کے لیے قرآن‘ دنیا کے کسی بھی علاقے میں بسنے والے مسلمان کے لیے قرآن۔ ہماری زندگی میں اس قرآن کی کیا قدر و منزلت ہے؟ اس قرآن کی کیا fixation ہے ہمارے معمولات میں؟ مشہور مفکر برنارڈ شاکہتا ہے:
I read the Holy Quran. There is no better book than the Holy Quran in the world. But when I see the Muslims there is no worst the nation than the Muslims in the world
’’میں قرآن پڑھتا ہوں۔ دنیا میں اس سے بہترین کوئی کتاب نہیں‘ لیکن جب میں مسلمانوں کو دیکھتا ہوں تو دنیا میںان سے بدترین کوئی قوم نہیں۔‘‘
آپ نے کل ہی یا آج ہی قرآن پاک کھولا‘ بہت اچھی بات! کچھ تلاوت کر رہے ہیں‘ بہت اچھی بات۔ترجمہ نہیں پڑھ رہے تو پڑھ لو بھائی! اب تو HEC بھی پڑھوا رہاہے ۔ تو پڑھ لو بھائی! ہمیں تو اضافی کلاسز لینا پڑیں۔ یا ہمارے اساتذہ نے سمجھا دیا۔ آپ کو تویونیورسٹی میں رہ کر پڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔پڑھ لو بھائی! اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟دنیا کا بہترین علم جو ربّ تعالیٰ نے دیا ہے‘ وہ ہمارے پاس نہ ہو تو یہ سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں تو ایک آیت کے سمجھنے پر ۱۰۰ نفل سے زیادہ کا اجر بھی ملتا ہے۔ یہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا۔
۳) معاشرتی ذمہ داری
سوشل ویلفیئر یا خدمت خلق کے تصور کوبھی مغرب سے منسوب کیا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ہم اپنی بنیادوں پر کھڑے ہونے کو تیار کیوں نہیں۔ غور کریں پچھلے ۱۰۰برس میں سب سے زیادہ لاشیں کس کی گریں؟ مسلمانوں کی۔ پچھلے سو برس میں سب سے زیادہ کن ملکوں پر قبضہ ہوا؟ مسلمانوں کے۔ پچھلے ۱۰۰ برس میں ایک کروڑ سے زیادہ بندوں کی ہجرت کن لوگوں کی ہوئی؟ مسلمانوں کی۔۷۰ لاکھ شام سے ترکیہ گئے ہیں‘ تین ساڑھے تین لاکھ افغانستان سے ہمارے ہاں آئے۔ باقی کو چھوڑ دیں ۔ان ایک کروڑ سے زیادہ کو کس نے hostکیا؟ مسلمانوں نے۔ اس سب کے بعد بھی کہا یہ جائے کہ ہمیں سوشل ویلفیئر کو سیکھنا پڑے گا۔ استغفر اللہ!
اس حوالے سے ہمارا دین کیا بتاتا ہے؟ کیا میں اپنے والد کو زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ نہیں! اپنی اولاد کو دے سکتا ہوں؟ نہیں! اپنی بیوی کو دے سکتا ہوں؟ نہیں! اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میری ذمہ داری ہیں۔ مجھے ان کی دیکھ بھال کرنی ہے۔ پھر باقی لوگ آئیں گے‘ بہن بھائی وغیرہ۔ اگر وہ مستحق ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا نظام دیا ہے ۔ مسلم شریف کی روایت میں حدیث قدسی ہے :
((اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ اَعُودُكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟))
((يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ اُطْعِمُكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي))
((يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ اَسْقِيكَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ، اَمَا اِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي))
’’بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت (بیمار پرسی) نہیں کی۔بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا جبکہ تو ربُّ العالمین ہے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی تھی؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اُس کے پاس پاتا؟
اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا‘ تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو ربُّ العالمین ہے؟اللہ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا؟
اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو ربُّ العالمین ہے؟اللہ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا اور تو نے اسے پانی نہیں پلایا تھا۔ اگر تو نے اسے پانی پلایا ہوتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا۔‘‘
اسی طرح ایک حدیث مبارکہ کے مطابق پیاسے کتے کو پانی پلانے پر ایک عورت کی مغفرت ہورہی ہےجبکہ بلی کو ایک عورت نے باندھ کر رکھا اور وہ مر گئی تو اُس کو عذاب دیا گیا اُس بلی کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے۔ جو رسول ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں‘ ہمیں کہیں اور سے لینے کی ضرورت ہے؟ کیا ہم اتنے غلام ہو گئے دوسروں سے سیکھنے کے چکر میں؟پھر حقوق العباد کے ذیل میں ماں باپ کو دیکھنے کا اجر حج کا ثواب ہے۔ وہ حلال لقمہ جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو‘ یہ بھی صدقہ کا عمل ہے۔ حقوق العباد کے حوالے سے ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے بتایا ہے اور اس کو جنت‘ جہنم سے جوڑا ہے۔رسول اللہﷺ کی حدیث کی رو سے اس اُمت کا مفلس وہ نہیں جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو بلکہ وہ ہے جس کے پاس نماز ‘روزہ‘ زکوٰۃ کے ڈھیر ہوں گے لیکن وہ آخرت میں جھوٹ‘ غیبت‘مار دھاڑ‘مال ہڑپ کرنے جیسی کوتاہیوں کے ساتھ آئے گا۔ کل exchange کے لیے کیا ہوگا ؟پیسہ یا اعمال ؟ ا س سے بڑا خدمت ِخلق کا تصور کہیں اور ملے گا ؟
۴) حواس کی حفاظت
اپنی آنکھ، اپنی زبان، اپنے کان، اپنے دل، اپنے ہاتھ، اپنے پیر سب کی حفاظت اللہ کے رسول ﷺ نے بتائی۔ اللہ کے رسولﷺ کی حیا ایسی تھی کہ ایک کنواری پردہ کرنے والی لڑکی سے زیادہ حیا کرنے والے تھے ۔اللہ اکبر! اور آج ہم کیا دیکھتے ہیں : ع ’’حمیت نام تھا جس کا‘گئی تیمور کے گھر سے۔ ‘‘ آج ہماری وہ بہنیں بیٹیاں جو حجاب کرتی ہیں ‘یہ ایک بڑا جہاد ہے۔ اسلام میں صرف لڑکیوں یا عورتوں کو نہیں بلکہ مَردوں کو بھی نگاہوں کی حفاظت کی تعلیم دی گئی ہے۔
اللہ کے رسولﷺ کی حدیث ہے کہ بری نگاہ شیطان کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں‘ اگر ایک چلا جائے تو دوسرا بھی چلا جائے گا۔‘‘
۵) اُمتی ہونے کا تقاضا
وہ لوگ نہیں ہیں کہ کھا لیا‘ پی لیا‘ موج کر لی۔بے مقصد زندگی تو جانور کی ہوتی ہے۔ انسان تو ایک بڑی مخلوق ہے ۔ انسانوں میں سے بھی ہم مسلمان ہیں آخری پیغمبر ﷺ کے اُمتی ہیں۔ اس حوالے سے ہم سے تو بڑا تقاضا ہے۔ آپ نے جو بھی راستہ چنا ہے‘ اپنی تعلیم پوری کریں۔اپنے کریئر کو pursue کریں۔ بس یہ دیکھیں ہماری اصل ذمہ داریاں کیا ہیں۔ آج میرے پاس جو علمی صلاحیت ہے‘ ذہنی رسوخ ‘ پیشہ ورانہ مہارت ہے‘ اس کا بہترین استعمال کیا ہو گا؟ ہم سب مانتے ہیں کہ دُنیا کی افضل ترین ہستی حضرت محمدﷺ ہیں۔ آپؐ کا خون اس پوری کائنات میں سب سے قیمتی ہے۔ وہ طائف میں بہا ہے‘ اُحد میں بہا ہے۔ ہم ان کے اُمتی ہیں تو ختم نبوت کے بعد اب میری صلاحیتوں کا بہترین مصرف وہ ہو گا جو اس کام کے لیے لگے۔ اس کے لیے کوشش کریں۔ غور کریں کیا آج ہم اُمت کے درد کومحسوس کرتے ہیں؟ آج ہمارا رونا ہے شرٹ سیون والے رونالڈو کے ہارنے پر مگرفلسطین میں چالیس ہزار بچہ شہید کر دیا گیا ہے جسے ہم بھول گئے۔ کراچی کے کچھ علاقوں میں آج بھی بچے لائن لگا کر برتنوں میں پانی بھر کر لے جاتے ہیں۔ کیا ہم یہ درد محسوس کرتے ہیں؟ کچھ سوچ ہے ہمارے پاس؟ NED کے گریجوایٹس نے دنیا کو serve کیا ہے ‘آپ نے پوری امت کو serve کرنا ہے‘ ان شاءاللہ! جتنابڑا سوچیں گے‘ اللہ تعالیٰ اتنا نوازے گا۔ جو آخرت کا سوچے گا ‘ اس کے لیے اللہ تعالیٰ یہ دنیا ذلیل کرکے اس کے قدموں میں ڈالے گا۔جب ہم اللہ کے دین کے کام میں لگیں گے تواللہ ہمارے لیے کافی ہو جائے گا‘ ان شاءاللہ! اللہ پھر وہ دے گا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰه ربّ العالمین