( دلیل صبح روشن) امتحان وآزمائش - ابوکلیم مقصود الحسن فیضی

17 /
امتحان وآزمائش
شیخ ابوکلیم مقصود الحسن الفیضی
 
ایک انسان خصوصاً ایک مؤمن کی زندگی سراپا امتحان ہے‘ بلکہ اس کی پیدائش کا مقصد بھی امتحان ہی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط  وَ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(۲) }  (الملک)
’’ جس نےموت اورحیات کواس لیے پیداکیاکہ تمہیں آزمائےکہ تم میں سےاچھےکام کون کرتاہے‘اوروہ غالب(اور)بخشنےوالاہے۔‘‘
اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن گونا گوں نعمتوں سے نوازا ہے وہ بھی درحقیقت ہمارے لیے محض آزمائش ہیں۔ سورۃ الکہف میں ارشاد ہوتا ہے:
{اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّـہَا   لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)}
’’ جو کچھ زمین پر موجود ہے‘ اُسے ہم نے اس کی زینت بنایا ہے‘ تاکہ ہم آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘
 یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مؤمن کی زندگی اول تا آخر امتحان ہی امتحان ہے‘ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس امتحان میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگوں کو یہ تصور بھی نہیں رہتا کہ وہ کسی امتحان سے گزر رہے ہیں۔آج ہمارا حال بعینہٖ یہی ہے‘جس کاذکر حضرت سلمان فارسی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اس فرمان میں موجود ہے۔
حضرت عبد الرحمان بن سعیدؒ بیان کرتے ہیں کہ مَیں حضرت سلمان فارسی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے ساتھ تھا‘ جب وہ ’’کندہ‘‘نامی گاؤں کے ایک شخص کی عیادت کو گئے۔ جب مریض کے پاس پہنچے تو اسے خوشخبری سنائی کہ’’مؤمن بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو یہ بیماری اس کے لیے گناہوں کا کفارہ اور مستقبل میں خبر دارکرنے کا سبب بنتی ہے ‘ اور اگر فاجر بندہ بیمار ہوتا ہے‘تو اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہےجسے اس کے مالکوں نے باندھ دیا اور پھر کھول دیا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ کیوں اسے باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا۔‘‘ (۱) 
امتحان وآزمائش کے سلسلے میں چند گزارشات لائق توجہ ہیں:
اوّلًا:  ابتلاء وآزمائش ایک لازمی امر ہے 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۵)  الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌلا  قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ  وَ اِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ(۱۵۶)}  (البقرۃ)
’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں خوف وفاقہ میں مبتلا کرکے‘ نیز جان ومال اور پھلوں کے خسارے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے‘ اور (اے نبیﷺ) ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیں‘ کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اُٹھتے ہیں:ہم خود بھی اللہ کی ملکیت ہیں‘ اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تاکید کے تین الفاظ : – واو قسم‘ لام تاکید اور نون تاکید کے ذریعے‘ مسلمانوں کو خبر دارکیا کہ تمہیں اس دنیا میں پانچ قسم کے مصائب سےآزمایا جائے گا: (۱)خوف‘ (۲)فاقہ‘ (۳)جان یعنی افراد کی کمی‘ (۴) مال و اسباب کی کمی‘(۵) پھلوں اور کھیتی میں کمی۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: 
{ لَتُـبْـلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ قف وَلَـتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَـبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًاط وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَـتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)}  (آل عمران)
’’(مسلمانو!) تمہیں اپنے اموال اور اپنی جانوں میں آزمائش آکر رہے گی‘نیز تمہیں ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دیے گئےتھے اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سننا ہوں گی۔ اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو یہ بلا شبہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔‘‘
ثانیاً  :  ابتلاء وآزمائش اللہ کانظام ہے
ہم سے پہلے بھی جتنے لوگ گزرے ہیں ‘اللہ تعالیٰ نےانہیں بھی آزمایاہے۔ سورۃ العنکبوت میں ارشاد ہوتا ہے:
{الٓمّٓ (۱)  اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲)   وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ  فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ(۳)}
’’الف لام میم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یہ کہنے سے کہ’’ہم ایمان لائے‘‘ اُنہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اُن کی آزمائش نہ کی جائےگی؟ حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا تھاجو ان سے پہلے گزر چکے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ضرور یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان میں سے سچے کون ہیں اور جھوٹے کون!‘‘
حضرت خباب بن ارت  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں(مظالم کا ) شکوہ کیا ۔آپﷺ خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے یا ہمارے حق میں دعا نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : 
((كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهِ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ، وَمَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللّٰهِ لَيُتِمَّنَّ هٰذَا الْأَمْرَ، حَتّٰى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰى حَضْرَ مَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ أَوِ الذِّئْبَ عَلٰى غَنَمِهِ، وَلٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ))(۲) 
’’ تم سے پہلوں میں تو ایک آدمی کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا‘پھر اُسے اس میں گاڑ دیاجاتا‘پھر آرالایاجاتا اور اس کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دیے جاتے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش بھی اسے دین سے ہٹا نہ سکتی ۔ اور(بعض کے ساتھ ایسا بھی ہوتا کہ) لوہے کی کنگھی سے اس کے گوشت کو ہڈی اور پٹھے سے الگ کر دیا جاتا‘اور یہ سزا بھی اسے دین سے دور نہ کر سکتی ۔قسم بخدا ! اللہ اس دین کو لازماً پورا کرکے چھوڑے گا‘حتیٰ کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک چلتا جائے گا اور اسے صرف اللہ کا ڈر ہو گا‘یا بھیڑیے سے بکریوں کا ڈر ہوگا‘ البتہ تم جلد بازی کرتے ہو۔‘‘
ثالثاً: آزمائش کیوں؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے بندوں کو آزمائش سے دوچار کیوں ہونا پڑتاہے؟ اس کی متعدد و جوہات قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں۔
(۱)حقیقت کا اظہار: بظاہر ہر انسان اپنے آپ کے حق پر ہونے اور مخلص ہونے کا دعویٰ کرتاہے‘ لیکن حقیقت میں اس کا ثبوت امتحان وآزمائش کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔سورئہ آلِ عمران میں فرمایا: 
{مَا کَانَ اللہُ لِـیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَـآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّـیِّبِ ط وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰــکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ص فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ ج  وَاِنْ تُـؤْمِنُوْا وَتَـتَّقُوْا فَـلَـکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)}
’’اللہ تعالیٰ مؤمنین کو اسی حال پر نہ چھوڑے گاجس حال پر تم اس وقت ہو‘ تا آنکہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کردے۔ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ وہ تمہیں غیب پر مطلع کردے‘ بلکہ اس کام کے لیے وہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا منتخب کر لیتا ہے‘ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ اور اگر تم ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے‘ تو تمہیں بہت بڑا اجر ملے گا۔‘‘
{وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ لا وَ نَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ(۳۱) }   (محمد)
’’اور (قسم ہے ) ہم تم لوگوں کو ضرور بالضرور آزمائیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے کہ تم میں سے مجاہد کون ہے‘ اورتمہارے احوال کی جانچ پڑتال کریں گے۔‘‘
سورئہ آلِ عمران میں ارشاد ہوا:
{اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ط وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ج  وَلِیَعْلَمَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآئَ ط  وَاللہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۱۴۰)   وَلِیُمَحِّصَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ(۱۴۱)  اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّـۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللہُ الَّذِیْنَ جٰہَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۲)}
’’ اگر تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہے تو اس سے پہلے کافروں کو بھی ایسا ہی صدمہ پہنچ چکا ہے‘ اور یہ (فتح وشکست وغیرہ کے) دن تو ہم لوگوں کے درمیان پھراتے رہتےہیں‘ اور اس لیے بھی کہ اللہ ان لوگوں کو جانناچاہتا ہے جو سچے دل سے ایمان لائے ہیں اورپھر تمہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام دینا چاہتا ہے ‘اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس لیے بھی کہ (اس آزمائش سے)مؤمنوں کو پاک صاف کرکے چھانٹ لے اور کافروں کو ملیامیٹ کردے۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے‘  جبکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ کونہیں معلوم کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں ۔‘‘
اگر غور کریں تو اس آیت میں آزمائش کی چار حکمتیں بیان ہوئی ہیں :
ا) ایمان والے بےایمانوں سے ممتاز ہوجائیں۔
ب) کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام مل جائے۔ 
ج) اہل ِایمان کی تمحیص یعنی ان کے گناہوں کی معافی۔       
د) کافروں کی طاقت پر ضرب کاری‘ کہ وہ پہلی جیت پر دلیر ہو کر آگے بڑھیں تو مسلمان انہیں کاٹ کر رکھ دیں۔
(۲)جنّت میں داخلے کا سبب: آزمائش کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ جنّت میں داخلے کا سبب ہے۔حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ))(۳) 
’’جہنّم کو شہوات سے گھیر دیا گیا ہے‘اور جنّت کو مشکلات سے گھیردیا گیا ہے۔‘‘
عطاءبن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ مجھے عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہما   نے بیان کیا کہ کیا میں تمہیں وہ عورت نہ دکھاؤں جو جنتی ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں!انہوں نے کہا : یہ کالی سی عورت۔یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا : مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے‘اور میرا ستر کھل جاتا ہے‘آپ میرے حق میں دعا کریں۔آپﷺ نے فرمایا: 
((إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ أَنْ يُعَافِيَكِ))  فَقَالَتْ: أَصْبِرُ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰہَ لِي أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ، فَدَعَا لَهَا.(۴) 
’’اگر تم چاہو تو صبر کر لو اور تمہارے لیے جنت ہے‘اور اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کردوں کہ تمہیں بیماری سے عافیت بخش دے ۔تو اس نے کہا : میں صبر کر لیتی ہوں ۔ اس نے مزید یہ بھی کہا کہ میرا پردہ کھل جاتا ہے‘ میرے حق میں دعا کریں کہ میرا ستر نہ کھلے۔ تو آپ ﷺ نے اس کے حق میں دعا کی۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ بخار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔کہنے لگا : مجھے اپنے پیاروں کے پاس بھیج دیں‘تو آپ ﷺ نے بخار کو انصار کی طرف  بھیج دیا۔ بخار چھ دن تک انصار کو چڑھتا رہا‘تو انہیں ا س کی سخت تکلیف ہوئی۔ آپ ﷺ انہیں ملنے ان کے گھروں تک آئے ۔ انہوں نے آپﷺ سے بخارکی شکایت کی‘تو نبی اکرمﷺ ایک ایک گھر میں گئے۔ ان کے حق میں صحت و عافیت کی دعا کرتے رہے ۔جب آپﷺ واپس ہونے لگے تو ایک انصاری عورت پیچھے پیچھے ہو لی‘کہنے لگی :جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا اس کی قسم !میں بھی انصار میں سے ہوں اور میرا باپ بھی انصاری تھا۔جیسے آپ نے انصار کے لیے دعا کی ہے‘میرے لیے بھی دعا کر دیں۔آپﷺ نے فرمایا :
((مَا شِئْتِ، إنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰہَ أن يُعافِيَكِ، وإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ)) قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا أَجْعَلُ الْجَنَّةَ خَطَرًا(۵) 
’’جو تو چاہے۔ اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کردوں کہ وہ تجھے عافیت بخش دے‘اگر تو چاہے تو صبر کر لے اور تیرے لیے جنت ہے۔‘‘کہنے لگی : ’’میں صبر کرتی ہوں اور میں جنت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔‘‘
(۳) جہنم سے نجات: آزمائش کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں پورا اترنے والوں کوجہنم سے نجات ملے گی۔
((الحُمٰى حَظُّ كُلِّ مُؤمنٍ مِنَ النَّارِ))(۶) 
’’بخار ہر مؤمن کے لیے آگ میں سے حصہ ہے ۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔اسے بخار تھا‘اور میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔آپﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔ ایسا کرنا آپﷺ عیادت کا ایک حصہ تصور کرتے تھے۔ پھر فرمایا : 
((أَبْشِرْ فَإِنَّ اللّٰہَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلٰى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ))(۷) 
’’خوش ہوجاؤ‘ اس لیے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ بخار میری آگ ہے‘جسے میں اپنے مؤمن بندے پر مسلط کر تا ہوں‘ تاکہ اس کے لیےجہنم کے حصے کا بدل بن جائے۔‘‘
(۴) گناہوں کی معافی: آزمائش کا ایک بڑا اہم فائدہ بندوں کی ان لغزشات اور گناہوں کا کفّارہ ہے جو اُن سے دانستہ یا نادانستہ سرزد ہوتے ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
((مَا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِيْ نَفْسِهٖ وَوَلَدِهٖ وَمَالِهٖ حَتّٰى يَلْقَى اللّٰہَ تَعَالٰى وَمَا عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ))(۸)
’’ مؤمن مرد یا عورت کو تکلیف پہنچتی رہتی ہے‘ کبھی اس کے جسم میں‘کبھی اولاد میں‘ اورکبھی مال میں‘ یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا(یعنی اس کی موت واقع ہو جاتی) ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔‘‘
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہما   سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ‘آپ فرما رہے تھے:
((مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلاَ نَصَبٍ وَلاَ سَقَمٍ وَلاَ حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ، إِلاَّ كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ)) (۹)
’’مؤمن کو جو تکلیف پہنچتی ہے‘ جو تھکان لاحق ہوتی ہے‘ کسی بیماری سے دوچار ہوتا ہے یا کوئی غم لاحق ہوتا ہے ‘حتیٰ کہ اگر اسے کوئی خیال بھی فکرمند کر دے‘تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو تیز بخار چڑھا ہوا تھا ۔ میں نےعرض کیاکہ یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو تو بڑا سخت اور تیز بخار چڑھا ہوا ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا: 
((أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ)) قُلْتُ: ذٰلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. قَالَ: ((أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا))(۱۰)
’’ ہاں‘ مجھے اس طرح بخار چڑھتا ہے جیسے تمہارے دو آدمیوں کو بخار ہوتا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا : پھر تو آپ کو دہرا اجر ملتا ہے۔آپ ﷺنے فرمایا: ’’یہ بات اسی طرح ہے۔جس مؤمن کو کوئی بھی تکلیف پہنچے ‘چاہے کانٹا چبھے یا اس سے بھی زیادہ بڑی تکلیف ہو‘ اللہ اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت سے پتے گرتے ہوں ۔‘‘
  یہی وجہ ہے کہ اللہ والے بلا و مرض وغیرہ سے پریشان نہیں ہوتے‘بلکہ اسے صبر وشکر سے برداشت کرتے تھے‘ بلکہ بسا اوقات اس سےخوش ہوتے تھے۔
حضرت ابو سعید  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ کو سخت بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا ہاتھ آپﷺ پر رکھا‘تو میں نے لحاف کے اوپر سے بھی گرمائش محسوس کی ۔ میں نے عرض کیا : یہ تو بڑا سخت بخار ہے۔ فرمایا: 
((إِنَّا كَذٰلِكَ، يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: ((الْأَنْبِيَاءُ)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الصَّالِحُونَ، إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلٰى بِالْفَقْرِ حَتّٰى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يُحَوِّيهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ))(۱۱)
’’ ہمارا ایسا ہی معاملہ ہے‘ہمیں سخت آزمائش آتی ہے اور دہرا اجر ملتا ہے ۔‘‘میں نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ ! سب سے سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے ؟‘فرمایا : ’’انبیاء کی۔‘‘ میں نے پوچھا : اس کے بعد کس کی باری ہے ؟فرمایا : ’’نیک لوگوں کی ۔ان میں سے کوئی کوئی تو فقر و فاقہ کے ذریعے آزمایا جاتا ہے‘ بس اس کے پاس ایک چادر ہوتی تھی‘ جسے وہ اپنے جسم پر لپیٹ لیتا تھا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی کوئی تکلیف سے اس طرح خوش ہوتا ہےجیسے تم آسانی سے خوش ہوتے ہو ۔‘‘
  یہی وجہ ہے کہ یہ امر شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کہ کسی کو بیماری یا اسی قسم کے مصائب سے سابقہ ہی نہ پڑے۔حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں: 
جَاء أَعرابِيٌ فَقال النَّبيُ ﷺ : ((هَل أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَم؟)) قَالَ: ‌ومَا ‌أُمُّ ‌مِلْدَم؟ قَالَ:((حَرٌّ بَيْنَ الجِلدِ وَاللَّحْمِ)) قَالَ: لَا. قَال: ((فَهل صُدِعْتَ؟)) قَالَ: ومَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ: ((رِيحٌ تَعْتَرِضُ فِي الرَّأسِ تَضْرِبُ العُرُوقَ))، قَالَ: لَا. قَالَ: فَلَمَّا قامَ قَالَ: ((مَنْ سَرَّهُ أنْ يَنظُرَ إِلٰى رَجلٍ مِنْ أَهلِ النَّارِ، أي: فَليَنظُرهُ))(۱۲)
’’ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا‘تو آپ ﷺ نے پوچھا :’’کیا تمہیں کبھی اُمّ مِلدم ہوا ہے ؟‘‘ اس نے پوچھا :اُمّ مِلدم کیا ہوتا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :’’جلد  اور گوشت کے درمیان گرمائش ( بخار) ہوتی ہے ‘‘۔ اس نے کہا : نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا : ’’کیا تمہیں کبھی صُداع ہوا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : یہ صداع کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:’’سر میں ہوا بھر جاتی ہے‘ جو رگوں کو تکلیف پہنچاتی ہے ۔‘‘اس نے کہا : نہیں ۔جب وہ چلا گیا‘ تو آپﷺ نے فرمایا :’’جس آدمی کو پسند ہو کہ وہ کسی جہنمی کو دیکھے وہ اسے دیکھ لے ۔‘‘
’’اُمّ ملدم‘‘ بخار اور تپ کو کہتے ہیں‘ جس کی وجہ سے جسم میں پانی کم ہو جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے بخار انسان کو بہت کمزور کردیتا ہے اور پچھاڑ دیتا ہے ‘ کیونکہ لدم کے معنی ہیں زور سے پچھاڑنا یا دونوں ہاتھ سے طمانچہ مارنا۔
(۵) درجات کی بلندی: اسودؒ بیان کرتے کہ ایک نوجوان سیدہ عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے پاس آیا اور آپ منیٰ میں تھیں‘اور وہ لوگ زور زور سے ہنس رہے تھے ۔پوچھا : تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ کہنے لگے : فلاں شخص خیمے کی رسی پر گرا ہے ۔اس کی آنکھ یا گردن ضائع ہوتے ہوتے بچی ہے ۔آپؓ نے فرمایا: تم مت ہنسو‘ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ))(۱۳)
’’جس مسلمان کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے یا اسے کوئی چھوٹی تکلیف آئے‘ مگراس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بڑھا دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔‘‘
انبیاء کرام  علیہم السلام  جوگناہوںسے پاک ہوتے ہیں‘اُن کے آزمائش سے دوچار ہونے میں یہی حکمت پوشیدہ ہے۔ چونکہ ان کے درجات بہت اونچے ہیں‘اس لیے ان کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ! کس آدمی کو سب سے زیادہ مصیبت آتی ہے ؟آپﷺ نےفرمایا: 
((الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلٰى حَسَبِ دِينِهِ….. فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ ))(۱۴)
’’ انبیاء کو‘ پھر جو اُن کے قریب تر ہوتے ہیں‘ پھر جو اُن کے قریب تر ہوتے ہیں ۔ہر آدمی کو اُس کے دین کے اعتبار سے آزمایا جاتا ہے…… ایک آدمی کو مستقل مشکلات آتی رہتی ہیں‘ بالآخر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ زمین پر چل پھر رہا ہوتا ہے اور اُس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔‘‘
سیدہ فاطمہ بنت الیمانی  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نامی ایک صحابیہ بیان کرتی ہیں کہ ہم چند عورتیں آپ ﷺ کی تیمار داری کے لیے حاضر ہوئیں۔کیا دیکھتی ہیں کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا ہے جس کا پانی آپﷺ پر قطرہ قطرہ گر رہا ہے‘کیونکہ آپ کو بخار کی سخت گرمی لگ رہی تھی۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ !آپ اللہ سے دعا کرتے تو وہ آپ کو شفا دے دیتا ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
((إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً ‌الْأَنْبِيَاءَ، ‌ثُمَّ ‌الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ))(۱۵)
’’سب سے زیادہ سختیاں انبیاء پر آیا کرتی ہیں‘پھر جو اُن کے بعد ہوتے ہیں‘ پھر جو اُن کے بعد ہوتے ہیں‘ پھر جو اُن کے بعد ہوتے ہیں۔‘‘
ابتلاء ومصائب کے سلسلے میں یہ حدیث بھی قابل غور ہے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللّٰهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلاَهُ اللّٰهُ فِى جَسَدِهِ أَوْ فِى مَالِهِ أَوْ فِى وَلَدِهِ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلٰى ذٰلِكَ، حَتّٰى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِى سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللّٰهِ تَعَالَى))(۱۶)
’’بندے کا اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقام لکھا ہوتا ہو‘اوروہ اپنے عمل سے اس مقام تک نہیں پہنچ پاتا‘تواللہ تعالیٰ اس کی جان میں یا مال میں یا اولاد میں تکلیف دے کر آزماتا ہے‘پھر اِس پر اُسے صبر بھی عطا کر دیتا ہے‘ بالآخر وہ اس مقام تک پہنچ جاتاہے جو اللہ نے اس کے لیے پہلے سے لکھا ہوتا ہے ۔‘‘
(۶)دنیا ہی میں اچھا بدلہ: بسا اوقات اللہ تبارک وتعالیٰ بندے کو کسی مرض میں مبتلا کرتا ہے‘ یا کسی قسم کی مصیبت سے دوچار کرتا ہے‘ تو اس کےعوض اسے اسی دنیا میں کسی بڑی نعمت سے نوازتا یا کسی بڑی مصیبت سے بچاتا ہے۔ 
حضرت اُمّ سُلَیمؓ کا واقعہ:حضرت اُمّ سلیم کابیٹا فوت ہو گیا تو انہوں نے صبر کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرا بیٹا عطا کر دیا‘جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی۔(۱۷)
حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگانے کا واقعہ : دشمنوں نے بدنام کرنے کی سازش کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی پاکیزگی آسمان سے نازل کر کے تا قیامت اسے قرآن کا حصہ بنا دیا ۔(۱۸)
  اگر ہم اپنے حافظے پر تھوڑا سا زور دیں تو ماضی قریب کی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے آجائیں گی۔ ؎
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا!
(۷) حقیقت ِتوحید کا اثبات: انبیاء  کرام  علیہم السلام  اور اللہ کے نیک بندوں کو مصائب وپریشانیوں میں مبتلا کرنے کی ایک بڑی حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے کہ یہ شخصیات خواہ کتنے ہی بلند مقام پر فائز ہوں‘ وہ عبادت کے لائق نہیں ہیں بلکہ مشیت ِالٰہی کے سامنے مجبورِ محض ہیں۔ اگر وہ کسی چیز کے مالک ہوتےتو سب سے پہلے اپنے اوپر سے بلا و مصیبت  کو دور کرلیتے ۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  اگر الوہیت و ربوبیت کا کوئی خاصہ اپنے اندر رکھتے تو انہیں سولی پر [نصرانی عقیدے کے مطابق] نہ لٹکایا جاتا۔ اگر ہمارےنبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کسی  نفع وضرر کے مالک ہوتے تو غزوئہ اُحد میں ان کے ستر ساتھی شہید نہ ہوتے اور خود ہمارے نبیﷺ کے دندانِ مبارک شہید نہ ہوتے۔ اسی طرح اور بہت سی مثالیں بھی ہیں ۔
{قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآئَ اللہُ ط  وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ ج  اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُوْنَ(۱۸۸) }  (الاعراف)
’’آپ فرمادیجیےکہ میں خوداپنی ذات خاص کےلیے کسی نفع کااختیارنہیں رکھتااورنہ کسی نقصان سے بچنے کا‘مگراتناہی کہ جتنااللہ نےچاہاہو۔اوراگرمیں غیب کی باتیں جانتا ہوتا‘ تومیں بہت سےمنافع حاصل کرلیتااورکوئی نقصان مجھ کونہ پہنچتا۔میں تومحض خبردار کرنے والا اور بشارت دینےوالاہوں ان لوگوں کوجوایمان رکھتےہیں۔‘‘
سورۃ الجن میں ارشاد فرمایا:
{قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ  وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا(۲۰) قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا(۲۱) قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللہِ اَحَدٌ ۵ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا(۲۲)}
’’آپ کہہ دیجیےکہ میں توصرف اپنےرب ہی کوپکارتاہوں اوراُس کےساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔کہہ دیجیےکہ مجھےتمہارےکسی نقصان اور نفع کااختیار نہیں۔کہہ دیجیے کہ مجھے ہرگزکوئی اللہ سےبچانہیں سکتااورمیں ہرگزاُس کےسواکوئی جائےپناہ بھی پانہیں سکتا۔‘‘
یحییٰ بن سعد بن زرارہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن زرارہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے حلق میں ایک بیماری لاحق ہوئی‘ جسے’’ ذبحہ‘‘ کہتے ہیں ۔ اس وقت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ((لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِی أُمَامَةَ عُذْرًا)) ’’میں ابو امامہ کے علاج کی پوری کوشش کروں گا حتیٰ کہ معاملہ میرے بس سے باہر ہوجائے‘‘ تاکہ کسی کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملے۔ چنانچہ اس کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے انہیں داغا بھی‘ لیکن وہ جان بر نہ ہوسکے اور ان کا انتقال ہوگیا۔ ( یہ دیکھ کر یہودی باتیں کرنے لگے کہ یہ اللہ کے کون سےنبی ہیں کہ اپنے ساتھی کو بری موت سے نہ بچا سکے۔  یہ سن کر)آپﷺ نے فرمایا: ((مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ ، يَقُولُونَ: أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ؟ وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا)) ’’بری موت یہودیوں کو ہو‘ وہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے اپنے ساتھی کی جان کیوں نہ بچا لی! مَیں تو اُس کے لیے اور اپنے لیے اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘(۱۹)
اگر حضرت نوح  علیہ السلام  اپنے لیے کسی بھی نفع ونقصان کے مالک ہوتے تو یوں دعا نہ کرتے: {فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ(۱۰)}(القمر) ’’پس اُس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے رب! میں مغلوب وبے بس ہوں‘ تو میری مدد کر!‘‘ {قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ کَذَّبُوْنِ(۱۱۷)   فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا  وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۱۸)}(الشعراء) ’’آپ نےکہا:اےمیرےپروردگار!میری قوم نےمجھےجھٹلادیا۔پس تُومجھ میں اوران میں کوئی قطعی فیصلہ کردےاورمجھےاورمیرےباایمان ساتھیوں کونجات دے۔‘‘        
اسی طرح اگر حضرت لوط  علیہ السلام  کےپاس کوئی غیبی قوت ہوتی تو ان الفاظ میں اپنی مجبوری کا اظہار نہ فرماتے: {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ(۸۰)}(ھود) ’’لوطؑ نے کہا:کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں کسی زبردست کا سہارا پکڑ پاتا۔‘‘ 
(۸)اللہ کے نزدیک بندے کی محبوبیت کی دلیل: حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
((إذا أرادَ اللّٰهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عجَّلَ لَهُ العُقُوبةَ في الدُّنيا، وإذَا أرادَ اللّٰهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أمْسَكَ عنهُ بِذَنبِهِ حتّٰى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))(۲۰)
’’ جب اللہ اپنے بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو دنیا میں ہی اسے سزا دے دیتا ہے‘اور اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کا نقصان چاہتا ہے تو اس کے گناہ کوسنبھال کر رکھتا ہے تاکہ قیامت کے دن اس کا حساب پورا پورا چکا دے ۔‘‘
حضرت انس بن مالک   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 
((عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللّٰہَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا ، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ))(۲۱)
’’بلا شبہ بڑا ثواب بڑی آزمائش کا ہوتاہے‘ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ تو جو اللہ کی آزمائش پر راضی رہے‘ تو اسے اللہ کی رضا ملے گی اور جو اللہ کی آزمائش پر ناراض ہوگا‘ اس سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوگا۔‘‘
(۹) عبرت کا سبب: انسان کے نفس ومال اور اولاد وغیرہ میں جو آزمائش آئے‘ اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان اس سے عبرت حاصل کرے ‘ اپنے بارے میں نظر ثانی کرے اور اپنامحاسبہ کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَبَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ(۱۶۸)} (الأعراف)
’’ اور ہم انہیں اچھے اور برے حالات سے آزماتے رہے کہ شاید وہ اللہ کی طرف 
پلٹ آئیں۔‘‘
سورۃالشوریٰ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ(۳۰)}
’’ تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے‘ اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔‘‘
حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو کتابِ الٰہی کی سب سے افضل آیت نہ بتلاؤں‘ جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتلائی ہے؟ وہ آیت یہ ہے: {وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ(۳۰)} پھر آپﷺ نے فرمایا: اے علی! میں تمہیں اس کی تفسیر بتلاتا ہوں: (({مَآ اَصَابَکُمْ} من مرض أو عقوبة أو بلاء في الدنيا {فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ} واللّٰه تعالٰى أكرم من ان يثنى عليهم العقوبة في الآخرة وما عفا اللّٰه تعالٰى عنه في الدنيا فاللّٰه تعالٰى أحلم من أن يعود بعد عفوه)) ’’بیماری‘سزا اور دنیاوی بلاؤں کی شکل میں جو کچھ تمہیں لاحق ہوتا ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کریم ہے کہ اپنے بندے کو دنیا میں سزا دے دینے کے بعد دوبارہ آخرت میں بھی سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ بہت ہی حلیم ہے اور اس کے حلم کے یہ منافی ہے کہ معاف کردینے کے بعد وہ دوبارہ گرفت کرے۔ ‘‘(۲۲)
حضرت براء بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 
((مَا اخْتَلَجَ عِرْقٌ وَلَا عَيْنٌ إِلَّا بِذَنْبٍ، وَمَا يَدْفَعُ اللّٰهُ عَنْهُ أَكْثَرُ))(۲۳)
’’ کوئی رگ یا آنکھ نہیں پھڑکتی مگر کسی گناہ کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے ‘اور اللہ اکثر گناہوں سے ویسے ہی درگزر کر دیتا ہے ۔‘‘
 لہٰذا کسی بھی مصیبت وپریشانی کے موقع پر ایک مسلمان کو یہ احساس سب سے پہلے ہونا چاہیے کہ یہ بلا میرے کسی گناہ اور کوتاہی کے سبب ہی سے ہے۔ 
حضرت عمران بن حصین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو بواسیر کی بیماری تھی‘ جس کی وجہ سےخصوصاً عمر کے آخری ایام میں بہت ہی تکلیف میں تھے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ ایک بار ان کے ایک شاگرد نے کہا کہ جب میں آپ کو اس مصیبت کی حالت میں دیکھتا ہوں‘ تو مجھے بڑا غم ہوتا ہے۔ حضرت عمران  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نے فرمایا: مجھے اس حال میں دیکھ کر پریشان نہ ہو‘ یہ سب کچھ ہمارے بعض گناہوں   کا بدلہ ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔پھر یہ آیت کریمہ    تلاوت فرمائی: {وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ(۳۰)} (الشورىٰ) (۲۴)
مشہور تابعی ابن ابی ملیکہ ؒبیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے سر میں درد ہوتا‘تو وہ سر پر ہاتھ رکھتیں اور کہتیں:’’ یہ سب کچھ میرے گناہ کا نتیجہ ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا وہ بہت زیادہ ہے۔‘‘(۲۵)
  ان کے علاوہ ابتلاء وآزمائش کے اور بھی بہت سی فائدے ہو سکتے ہیں‘ جیسے:
(۱) بندے کا اپنے رب کی طرف رجوع کرنا اور غفلت سے بیداری
(۲) ایک مؤمن کا اپنے اوپر اللہ کی دیگر بہت سی نعمتوں کو یاد کرنا‘ کیونکہ یہ آزمائش اللہ کی دیگر نعمتوں کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔
(۳) گھمنڈ اور تکبر وغیرہ جیسے امراض سے دل کی صفائی 
(۴) اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کو یاد کرنا وغیرہ
   (جاری ہے)
حواشی
(۱) الادب المفرد:۴۹۳ 
(۲) صحيح البخاري:۳۶۱۲ علامات النبوة، سنن ابي داوٗد:۲۶۵۱ الجھاد، مسند احمد:۵/ ۱۰۹
(۳)  صحيح البخاري:۶۴۸۷ الرقائق، صحيح مسلم:۲۸۲۲ الجنة.
(۴)    صحيح البخاري:۵۶۵۲ المرضٰـی، صحيح مسلم:۲۵۷۶ البِّـر  والصلۃ
(۵) الأدب المفرد:۵۰۲
(۶) مسند البزار، کشف الاستار۱/ ۳۶۴‘ ح:۷۶۵، بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا 
(۷) سنن الترمذي:۲۰۸۸، سنن ابن ماجة:۳۴۷۰، مسند احمد  ج۴ / ۴۴۰
(۸)  سنن الترمذی:۲۳۹۹ الزھد، مستدرک الحاکم ۱ / ۳۴۶، مسند احمد۲ / ۲۷۸، الادب المفرد:۴۹۴
(۹) صحيح البخاري:۵۶۴۱، ۵۶۴۲ المرضٰی، صحيح مسلم:۲۵۷۳ البِـر والصلة
(۱۰)    صحيح البخاري:۵۶۴۸ المرضى، صحيح مسلم:۲۵۷۱ البِـر والصلة
(۱۱) سنن ابن ماجة:۴۰۲۴ الفتن، مسند احمد۳  / ۹۴، مستدرك الحاكم ۴/  ۳۰۷
(۱۲) الادب المفرد:۴۹۵، مسند احمد ۲/  ۳۳۲ ، صحیح ابن حبان:۴/ ۴۶۰
(۱۳) صحيح مسلم:۲۵۷۲ البِـر والصلة۔  اس حدیث کا مرفوع حصہ صحیح البخاری:۵۶۴۰ میں بھی ہے۔
(۱۴) سنن الترمذي:۲۳۹۸ الزهد، سنن ابن ماجة:۴۰۲۳ الفتن، سنن الدارمي ۲ /  ۳۲
(۱۵) مسند احمد:۵/  ۲۳۹، مستدرك الحاكم۴  /  ۴۰۴۔ دیکھئے  الصحیحۃ:۱۴۵ 
(۱۶) سنن ابي داوٗد:۳۰۹۰ الجنائز، الطبراني الأوسط:۱۰۵۰، مسند احمد۵ / ۲۷۲ ، بروایت محمد السلمي
(۱۷) صحیح البخاری:۱۳۰۱   الجنائز مع الفتح۳ / ۱۶۹ ، ۱۷۱۔
(۱۸) صحیح البخاری :۲۶۶۱ الشہادات،۴۱۴۱  المغازی، صحیح مسلم:۲۷۷۰ التوبۃ۔
(۱۹) سنن ابن ماجة:۳۴۹۲ الطب، مسند احمد۴  /  ۶۵ و  ۱۳۸ 
(۲۰) سنن الترمذي:۲۳۹۶ الزهد، مسند أبو يعلٰی:۴۲۵۲ ، مستدرك الحاكم ۴  /   ۶۰۸
(۲۱) سنن ابن ماجة :۴۰۳۱ الفتن
(۲۲)  مسند احمد۱ / ۸۵ ۔ علامہ احمد شاکرؒ نے اس حدیث کو حسن بتلایا ہے۔شرح مسند احمد۱/۶۱ 
(۲۳)  الطبراني الصغير ۲ /۱۰۳، دیکھئے  الصحیحۃ:۲۲۱۵ 
(۲۴) مستدرك الحاكم۲ /  ۴۸۳  (الشاملۃ)،شعب الإيمان:۹۳۵۶ ، المرض والكفارات: ۲۴۹
(۲۵)   تفسير الدر المنثور۷  /  ۳۵۵