(جلوۂ خورشید) منبع ِنور کی بازیافت - ریان بن نعمان

17 /
منبع ِنور کی بازیافت
ریان بن نعمان
روشنی کی ضرورت کیوں؟ 
اندھیرے روشنی کی ضرورت کو جنم دیتے ہیں۔ یہ اندھیرے جتنے شدید اورگھٹاٹو پ ہوں گے‘ ظلمات کے یہ پردے جتنے دبیز ہوں گے‘ یہ تاریکیاں جتنی مہیب ہوں گی‘ بے قرار آنکھیں اتنی ہی شدّت سے روشنی کی کرن کرن کو ترسیں گی ۔بے چین نفوس اتنی ہی بے چینی سے نور کے منتظر ہوں گے ۔مضطرب اذہان اتنے ہی انہماک کے ساتھ حصولِ ضیاء کی تدابیر میں مصروفِ عمل ہوں گے۔ بحالت ِمراقبہ‘ذرا بے قراری کی اس کیفیت کو طاری کر کے تو دیکھیے کہ جب قلوب کی بے چینی اپنی انتہا کو پہنچ جائے مگر نورانیت سے محروم رہے‘ مضطرب اذہان عقل و خرد کی معلوم وادیوں کو طے کر لیں مگر ع   ’’درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘کے مصداق کوئی سراغِ راہ ملنا تو درکنار تشنگی میں اضافے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے ۔ بے قرار آنکھوں سے نمکیات خشک ہو جائیں مگرمنبع ِ نور کی بازیافت تو کجا روشنی کی ایک کرن بھی میسر نہ آسکے!
قہر ِ ظلمات میں گھرا انسانی معاشرہ
ذرا اس معاشرے کے ظروف و احوال بھی ملاحظہ فرما لیں کہ جس کی آغوش میں یہ نفوسِ قدسیہ آنکھ کھولتے ہیں ۔ ہر قسم کے اندھیرے اورہر نوع کی ظلمانیت میں گھر کر‘ انسانی اقدار سے گر کر ‘ حیوانیت سے بھی پست سطح پر زندگی گزارنے والا متعفن معاشرہ کہ جہاں اندھیروں نے روشنی کی ضرورت کے احساس کو ہی دل سے ختم کر دیا ہو ۔ پھر {ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ط }  (النّور:۴۰) کے مثل قول و عمل کے اندھیروں پر مستزاد نظر و فکر کی کالک بھی ہر قسم کی نورانیت کی معدومیت پر دال ہو تو اخراج من الظلمٰت الی النُّور کے لیے معمولی ضیاء کافی نہیں بلکہ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍکی شدید احتیاج ہوگی۔ جن نفوسِ قدسیہ کی یہ قابلِ رحم حالت ہو‘ ذرا بوجھیے تو سہی ان کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہوگی؟ ان کی اس بے قراری کو قرار کیسے ملے گا ؟ ان کے اس درد کا آخر کیا درماں ہوگا ؟ کیا انتہائی معاشی آسودگی یا مروّجہ سیاسی استحکام ؟ آزاد معاشرتی مساوات یا بے مثال سائنسی ترقی؟ نہیں نہیں‘ بالکل نہیں! یہ کون سی فراست ہے کہ مرض غیر مادّی ہو اور علاج مادّی؟ درد اندرونی ہو اور درماں بیرونی؟ تکلیف و تریاق میں یہ بعد المشرقین عقل ِسلیم کے ہاں ناقابلِ قبول ہے۔ 
وادئ ظلمات میں جلوۂ آفتابِ ہدایت
ان پاکیزہ نفوس کے لیے‘ کہ جن کی فطرت سلیم اور عقل صحیح ہے‘ اس پُر وحشت معاشرے میں گزران کس قدر اجیرن ہوگا!بقول جگر مراد آبادی ؎ 
کس طرف جاؤں ‘ کدھر دیکھوں ‘ کسے آواز دُوں ؟
اے ہجومِ نامُرادی‘ جی بہت گھبرائے ہے!
 اس پُر ہیبت معاشرے کی سعید ارواح ابھی اسی گھبراہٹ میں مبتلا تھیں کہ تقدیر کو انسانیت پر رحم  آ ہی گیا ۔ اگرچہ نورو ظلمات برابر نہیں ‘ مگر خالق ِنورو ظلمات تو ایک ہی ہے۔ چنانچہ ع ’’علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی ‘‘کی مانند تڑپتے دلوں کا سرور‘ مضطرب اذہان کا مداوا‘ متلاش آنکھوں کا قرار ‘منتظِر ارواح کا منتظَر وادئ فاران کے جبل ِ نور سے منبع ِ نور سمیت ؎
اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا 
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا     
 کی مانند بغرضِ دفعِ ظلمات آن وارد ہوا ۔{وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَا(۱)}(الشمس) ’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی‘‘کے مصداق وادئ ظلمات میں آفتابِ ہدایت طلوع ہوا۔ اس نور کے اجزائے ترکیبی کا تجزیہ کریں تو معرفت ِالٰہی اس کا اہم ترین اور مرکزی جزو ہے: {اَللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط} (النور:۳۵)’’اللہ نُور ہے آسمانوں اور زمین کا۔‘‘ قرآنِ مجید اس نور کا اہم حصہ ہے۔ازروئے الفاظِ قرآنی: {یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُـرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَاَنْزَلْـنَــآ اِلَــیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا(۱۷۴)} (النساء) ’’اے لوگو! آ چکی ہے تمہارے پاس ایک برہان تمہارے ربّ کی طرف سے ‘ اور ہم نے تمہاری طرف روشن نُور نازل کر دیاہے‘‘۔ اس نور کے قاصد رسولِ ملک جو بذاتِ خود نورانی مخلوق‘ اس نور کو موصول کرنے والے رسولِ بشر ﷺ جو نورانیت (بمعنی روحانیت) کی معراجِ کامل۔ ان اجزاء اور ان پر مستزاد نورِ فطرت و نور ِ عقل کی مدد سے جسمِ انسانی کے مادّی غلاف میں محصور ملکوتی چنگاری یعنی روحِ ربانی کی بازیابی!یہ سب اسی نوری و نورانی رابطے کی وہ پُرنور کڑیاں ہیں جو قہر ِ ظلمات میں پڑی انسانیت بالخصوص عقل و خرد کی صحرائی وادیوں میں بھٹکتے اور مختلف سرابوں کی طرف لپکتے نفوسِ قدسیہ کے لیے آبِ حیات ثابت ہوئیں۔نورِ مجسم ‘ نور الوریٰ‘ سرور ِ کائنات‘ رحمۃ للعالمین‘ محمد رسول اللہﷺ کی آمد کے ساتھ ظلمت کی ہر صورت پر نور ِمحمدیﷺ کے ذریعے معدومیت کی مہر لگی۔
رحمت: مفہوم-احتیاج-مظہر
  رحمت کے مفہوم میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ جس نعمت کی جس وقت احتیاج ہو‘ وہ میسرآ جائے ۔ نوعِ انسانی کو جس نعمت کی سب سے زیادہ احتیاج تھی ‘ہے‘ اور رہے گی ‘ وہ ہے نعمت ِ ہدایت۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف ہدایت‘ گمراہیوں سے صراط ِمستقیم کی طرف ہدایت‘ قدم قدم پر ہدایت ‘ آخری دم تک ہدایت ۔ یہی ہر نعمت کو رحمت بناتی ہے‘ وگرنہ انسان نعمتوں کے صحیح  استعمال سے لاعلم رہ کر انہیں اپنے لیے زحمت بنا بیٹھتا ہے ۔ چنانچہ الرحمٰن ذات کی رحمانیت کا سب سے بڑا مظہر بھٹکتی انسانیت کو منبع ِ ایمان اور سر چشمہ ٔ یقین یعنی قرآنِ حکیم کا بذریعہ امام الانبیاء ‘ آقائے دو جہاں ﷺ عطا کیا جانا ہے۔ قرآنِ مجید اگر الہدیٰ ہے تو نبی اکرمﷺ الہادی ‘ فرقانِ حمید اگر رَحْمَۃٌ لِّلْمُوْمِنِیْنَ ہے تو ذات ِ محمدی ﷺ  رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنَ‘ کتاب اللہ اگر شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ ہے تو نبی مکرمﷺ مزکی ٔاعظم ۔ گویا کلام اللہ اگر منبع ِ نورِ ہدایت ہے تو حبیب اللہﷺ کی شان یہ ہے: {یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ  وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ} (آل عمران:۱۶۴،الجمعۃ:۲) ’’جو انہیں اس (اللہ ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔‘‘ اور((كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ)) (صحیح مسلم) ’’آپ ؐ کا اخلاق تو سراسر قرآن تھا‘‘کے مصداق اس کی نورانیت سے متعارف و مستفیض کرانے والے قرآنِ حکیم کی مجسم تفسیر۔ غرض آفتابِ ہدایت کی تمازت بھی آفاقی ہے اور یہ آفتاب جس افق پر طلوع ہوا اس کی فیوضات بھی ابدی ۔ تجلیاتِ الٰہی کے یہ دونوں مظاہر یعنی قرآن و صاحب قرآنﷺ جب تجلیاتِ نبوت کی صورت میں عالَمِ انسانیت پر منعکس ہوئے تو جہاں دل کی دنیا منور ہوئی ‘ تاریکیوں کے بادل چھٹے‘ نظر و فکر کی کالک رفع ہوئی اور جہاں حسد‘ بغض ‘ طمع‘ لالچ‘ شہوت پرستی‘ عجب ‘ حبِ دنیا‘ ریب و تشکیک‘ غرض اوصافِ رزیلہ کی تمام صورتیں دل کی دنیا سے رفع ہوئیں وہیں ان باطنی امراض کے خارجی مظاہر یعنی کفر‘ شرک ‘ الحاد و مادّہ پرستی ‘ قتل و غارت ‘ فحاشی و عریانی‘ دھوکا دہی و لوٹ مار‘ انتشار و افتراق‘ بد سلوکی و بداخلاقی‘ اسراف و تبذیر‘ قطع رحمی‘ ظلم و جور ‘ فکری آوارگی و بے عملی غرض اخلاقی انحطاط کی تمام صورتوں کی عملاً نفی ہو گئی۔ نورِ مصطفیٰﷺ سے جہاں قلوب محبت و مودّت‘ نرمی و شفقت‘ خوف و رَجا‘ علم و حلم‘ شائستگی و لطافت‘ خشیت و انابت‘ توحید و یقین‘ رحم و کرم ‘ ایثار و قربانی‘ روحانی تسکین و فکر ِآخرت ‘ شرم و حیا جیسے اوصافِ حسنہ سے مزین ہوئے وہیں ان باطنی فضائل کے خارجی مظاہر یعنی حسن سلوک و خوش اخلاقی‘ ادب و احترام ‘ عدل و انصاف‘ امن و سکون ‘ اتحاد و اتفاق ‘ اخوت و مساوات ‘عفو و درگزر‘ میانہ روی وصلہ رحمی سے ایک مثالی و خوش گوار معاشرہ وجود میں آیا۔
منبع ِ نور سے استفادہ: تین طرزِ عمل
چراغِ مصطفوی ﷺ  کے بھڑکنے سے تین طرزِ عمل وجود میں آئے ۔ کچھ سعید ارواح تو وہ تھیں جو {یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْٓ  ُٔ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌط }  (النُّور:۳۵) ’’قریب ہے کہ اُس کا روغن (خود بخود) روشن ہوجائے ‘چاہے اُسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو‘‘ کے احوالِ باطنی کے ساتھ اس منبع ِ نور کی جانب پروانوں کی طرح یوں لپکیں کہ ان کی بقا و فنا کا حصار ہی اس ہالۂ نور کے گرد کھنچ گیا۔ کچھ شقی قلوب وہ تھے جو :
{مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاج فَلَمَّآ اَضَآئَ تْ مَا حَوْلَـہٗ ذَھَبَ اللہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷) صُمٌّم  بُـکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸)}    (البقرۃ)
’’ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی‘ پھر جب اس آگ نے اس کے آس پاس کو روشن کردیا تواللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا‘انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔بہرے‘ گونگے‘ اندھے ہیں پس یہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘
اور {ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ط ’’اندھیرے ہیں ایک پر ایک‘‘ کے مثل فکر و عمل کے ظاہری و باطنی اندھیروں کو ہی اپنا اوڑنا بچھونا بنانے پر مصر رہے۔ چنانچہ بذریعہ بارانِ انوار ِ الٰہی‘ روحانی آ لائشات کی تطہیر کے حسین تجربے ‘ نیز قلب میں عشقِ حقیقی کی آگ بھڑکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لذت و حلاوت ِ ایمانی سے یکسر محروم رہے۔ وہیں کچھ بدنصیب وہ تھے جو تجلیاتِ الٰہی‘ ذات ِمحمدیﷺ اور انوارِ قرآنی کے ہالۂ نور میں آن وارد تو ہوئے مگر جب معلوم ہوا کہ یہاں تو بجلی کی کڑک بھی ہے اور بادلوں کی گرج بھی ‘ نیز آفتابِ ہدایت سے استفادہ اس کی تمازت جھیلنے کے ساتھ مشروط ہے تو خام دل ٹھٹک کر رہ گئے۔؎  
 ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر 
کعبہ مرے پیچھے ہے‘ کلیسا مرے آگے!
اور  ع 
تپتی راہیں مجھ کو پکاریں‘دامن پکڑے چھاؤں گھنیری
 کے مصداق متذبذب رہے کہ آیا وادئ نور میں قدم رکھیں کہ جہاں انفاقِ مال و بذلِ نفس کی کٹھن راہیں ہیں‘ ایثار و قربانی کے پُرصعوبت مراحل ہیں‘ صبر و مصابرت کے جاں گسل لمحات ہیں‘ یا کفر ِ حقیقی ہی کیتاریکی  میں مستغرق رہیں کہ جہاں جان کو بھی تحفظ حاصل ہے اور مال کو بھی دوام‘ نہ راستہ مشکل ہے اور نہ سفر دشوار ۔ مقدم الذکر کفار کہلائے اور مؤخر الذکر منافقین ۔ یہ دونوں ہی عناصر نہ صرف خود انوارِ ایمانی سے محروم رہے‘ ستم بالائے ستم یہ کہ اس منبع ِ نور کو بجھانے ہی کے درپے ہوگئے۔ کوئی مخالف تدبیر ایسی نہ تھی جو انہوں نے چھوڑی ہو‘ کوئی موقعِ حزن ایسا نہ تھا جو انہوں نے ضائع کیا ہو ‘ کوئی طرزِ ملامت ایسی نہ تھی جو انہوں نے اپنائی نہ ہو۔غرض دن ہو یا رات ‘ انفرادیت ہو یا اجتماعیت‘ کوئی صورت حال انہیں منبع ِنور اور اس کے پروانوں کے خلاف محاذ آرائی سے مانع نہ ہوئی۔ ہائے کیا بدنصیبی ہے‘ کیا ہی بدبختی ہےکہ آفتابِ ہدایت کی شعاعیں ماحول کو منور کررہی ہیں مگر مردہ دل اس کی حرارت کو جذب کرنے سے قاصر ہیں ۔یا للعجب! بقول قائم چاند پوری ؎ 
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!
اُن کی اِ ن تمام مساعئ رزیلہ کو ربّ کائنات نےمنہ کی پھونکوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اس کاروانِ نور کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی: {یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللہُ اِلَّآاَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ(۳۲)}(التوبۃ) ’’وہ تلے ہوئے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کا اِتمام فرما کر رہے گا خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘بقول مولانا ظفر علی خان ؎  
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن 
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!
تیسرا گروہ شمع ِرسالت کے اُن پروانوں کا ہے جو نور ِایمان سے منور ہو کر اِتمامِ نور ِالٰہی کے عظیم مشن میں سر بکف ہیں۔ یعنی غلبہ ٔ دین حق کے مشن میں‘ عالم ِ دنیا کو ظلم و جور اور کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر عدل و قسط اور ایمان و ایقان کی روشنی سے منور کرنے کے مشن میں‘ تا آنکہ سرزمین ِعرب نے {جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ط}(بنی اسرائیل:۸۱) ’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا‘‘ کا پُرکیف منظر بھی دیکھا۔ احقاقِ حق وابطالِ باطل یا بالفاظِ دیگر اِتمام ِنور کا یہ پُرخطر اور کٹھن کارِعظیم  ؎ 
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش 
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی!
اور  ؎
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے!
 کے مصداق عالمی غلبہ ٔ اسلام کی صورت میں منتج ہونا تھا‘ اور ہونا ہے۔ لہٰذا عالم ِظاہر سے شمعِ رسالت کے گُل ہو جانے کے بعد نورِ حق کے یہ متوالے {فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗ}(الاعراف:۱۵۷) ’’تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور ان کی تعظیم کریں اور ان کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا‘‘پر عمل درآمد کرتے ہوئے اور آفتابِ ہدایت سے اپنے اٹوٹ تعلق کو نبھاتے ہوئے روئے ارضی کے اطراف و اکناف میں مشن ِرسالت کو لے کر اس نعرے کے ساتھ پھیل گئے: 
إِنَّ اللّٰهَ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللّٰهِ، وَمِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا إِلٰى سَعَةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْيَانِ إِلٰى عَدْلِ الْإِسْلَامِ 
’’بے شک اللہ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم جسے وہ چاہے‘ بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لے آئیں‘ اور دنیا کی تنگی سے نکال کر دنیا و آخرت کی وسعت میں داخل کریں‘ اور باطل مذاہب کے ظلم سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے آئیں۔‘‘
زمین ختم ہو گئی مگر جذبۂ جہاد ختم نہ ہو سکا ۔ زندگیوں کے چراغ گُل ہوئے اس حال میں کہ شوقِ شہادت تلاطم خیز موجوں کی مانند دلوں میں ٹھاٹے مار رہا تھا۔ خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر سوا لاکھ پروانے شمع رسالت کے گرد جمع تھے‘ جن میں سے نورِ حق کے صرف دس ہزار متوالے شہر ِ نور میں سپردِ خاک ہوئے۔روئے ارضی کے مختلف حصوں میں واقع صحابہ کرام   رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کی قبور جہانِ رنگ و بو میں منبع ِ نور کے تعارف و اشاعت اور دفع ِ ظلمات کے نبوی مشن میں اپنی زندگی لٹا دینے پر دال ہیں۔
چراغِ مصطفویؐ بمقابلہ شرارِ بولہبی
نور و ظلمات کی اس تمثیل کا اطلاق فقط ساڑھےچودہ سو سال قبل کے معاشرے پر نہ کیا جائے بلکہ  ؎ 
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی
 کے مصداق یہ زندہ تصویر ہر دور کی ہے ۔ ہر اگلا زمانہ پچھلے زَمَن پر اندھیروں کی نِت نئی صورتوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے ۔ پھر چاہے اندھیرا افکار و نظریات کا ہو یا اعمال و اطوار کا ‘ انفرادی زندگی سے متعلق ہو یا اجتماعی زندگی سے‘ ہر دو قسم کی ظلمتوں کے ا زالے کے لیے اسی منبعِ نور کی جانب مواجہت ناگزیر ہوگی۔  ؎   
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا ز نورِ مصطفیٰؐ او را بہاست
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰؐ است!
’’دُنیائے رنگ و بو میں جہاں بھی نظر دوڑائیں‘ اس کی مٹی سے جو بھی آرزوپیدا ہوتی ہے‘ وہ یا تو نورِ مصطفیٰ ﷺ سے مستعار ہے یا ابھی تک نورِمصطفیٰ ﷺ کی تلاش میں ہے۔‘‘
وہ نفوسِ مطمئنہ جو حیاتِ دُنیوی میں نورِ ایمان و نورِ عمل کی پونجی جمع کر سکے‘ وہی پل صراط کے اندھیاروں میں روشنی کے مستحق ہوں گے اور اپنے رب کے حضور یوں دعا گو ہوں گے : 
{یَـقُوْلُوْنَ رَبَّـنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَاج  اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(۸)}(التحریم)
’’ وہ کہتے ہوں گے: اے ہمارے ربّ! ہمارے لیے ہمارے نُور کو کامل کر دے اور تُو ہمیں بخش دے‘ یقیناً تُو ہر شے پر قادر ہے۔‘‘
یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو اتمامِ نور ِ الٰہی کے عظیم ترین مشن میں کھپا دیا ۔ چنانچہ آج اُن کے لیے اُن کا رب اُن کا نور مکمل فرما دے گا۔ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْهُمْ!!