(تزکیۂ نفس) روزہ : برکات اور آفات - مولانا امین احسن اصلاحیؒ

17 /
روزہ : برکات اور آفات
مولانا امین احسن اصلاحیؒ
 
شہوات اور خواہشاتِ نفس کے غلبہ سے انسان کے اندر خدا سے جو غفلت اور اس کی حدود سے جو بے پروائی پیدا ہوتی ہے‘ اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزے کی عبادت مقرر کی ہے۔ اس عبادت کا نشان تمام قدیم مذاہب میں بھی ملتا ہے‘ بالخصوص تزکیۂ نفس کے جتنے طریقے بھی ‘صحیح یا غلط ‘دنیا میں اب تک اختیار کیے گئے ہیں‘ ان سب میں اس عبادت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مذاہب کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پچھلے ادیان میں اس عبادت کے آداب و شرائط‘ اسلام کی نسبت سے زیادہ سخت تھے۔ اسلام دین فطرت ہے‘ اس وجہ سے اس نے اس کی ان پابندیوں کو نسبتاً نرم کر دیا ہے جو انسان کی عام طاقت کے تحمل سے زیادہ تھیں‘ جن کو صرف خاص خاص لوگ ہی برداشت کر سکتے تھے۔
یہ عبادت نفس پر شاق ہونے کے اعتبار سے تمام عبادات میں سب سے زیادہ نمایاں ہے‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس انسانی کی تربیت و اصلاح میں اس کا عمل بڑا مشکل ہے۔ یہ انسان کے نہایت سرکش اور منہ زور رجحانات پر کمند ڈالتی اور ان کو رام کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ عین اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ ان کے مزاج میں سختی اور درشتی ہو۔
نفس انسانی کے جو پہلو سب سے زیادہ زور دار ہیں‘ ان میں شہوات‘ خواہشات اور جذبات سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ ان کی فطرت میں اشتعال‘ ہیجان اور جوش ہے‘ اس وجہ سے ارادہ کو ان پر قابو پانے کے لیے بڑی ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ یہ ریاضت اتنی سخت اور ہمت شکن ہے کہ قدیم مذاہب کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیۂ نفس کے بہت سے طالبین سرے سے اس چیز ہی سے مایوس ہو گئے کہ ان کو قابو میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قابو میں لانے اور ان کی تربیت کرنے کے بجاے ان کے یک قلم ختم کر دینے کی تدبیریں سوچیں اور اختیار کیں‘ لیکن اسلام ایک دین فطرت ہے اور یہ چیزیں بھی انسانی فطرت کے لازمی اجزاء میں سے ہیں‘ جن کے بغیر انسان کے شخصی اور نوعی تقاضوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ اس وجہ سے اس نے ان کو ختم کر دینے کی اجازت نہیں دی ہے‘ بلکہ ان کو قابو میں کر کے ان کو صحیح راہ پر لگانے کا حکم دیا ہے۔ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کو قابو میں کرنا ان کو ختم کر دینے کے مقابل میں کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ایک منہ زور گھوڑے کو ختم کر دینا ہو تو اس کے لیے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ہے۔ بندوق کی ایک گولی اس کوٹھنڈا کر دینے کے لیے بالکل کافی ہے‘ لیکن اگر اس کو رام کر کے سواری کے کام میں لانا ہے تو یہ مقصد ایک ماہر شہ سوار بڑی ریاضتوں‘ بڑی مشقوں اور بہت سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے بعد ہی حاصل کر سکتا ہے۔
روزے کی برکات
روزے کی عبادت اسلام نے اس لیے مقرر فرمائی ہے کہ ایک طرف نفس انسانی کے یہ سرکش رجحانات ضعیف ہو کر اعتدال پر آئیں اور دوسری طرف انسان کی قوتِ ارادی ان کو دبانے اور ان کو حدودِ الٰہی کا پابند بنانے کے لیے طاقت ور ہو جائے۔ اپنے اس دو طرفہ عمل کے سبب سے تزکیۂ نفس کے نقطۂ نظر سے‘ جیسا کہ ہم نے عرض کیا‘ اس عبادت کی بڑی اہمیت ہے اور اس کی برکات کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ ہم یہاں اختصار کے ساتھ پہلے اس کی چند برکات کا ذکر کریں گے‘ اس کے بعد اس کی آفات بیان کریں گے۔
روحِ ملکوتی کی آزادی
روزے کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ اس سے انسان کی روحِ ملکوتی کو نفسانی خواہشات کے دباؤ سے بہت بڑی حد تک آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ ہماری روحِ ملکوتی کا حقیقی میلان ملا ٔ اعلیٰ کی طرف ہے۔ وہ فطری طور پر خدا کے تقرب‘ ملائکہ سے تشبّہ اور سفلیات سے تجرد کی طالب ہے اور مادی زندگی کے تقاضوں میں گرفتار رہنے کے بجائے اعلیٰ عقلی و اخلاقی مقاصد کے لیے پرواز کرنا چاہتی ہے۔ روح کے ان تقاضوں اور نفس کے ان مطالبات میں‘ جو خواہشات و شہوات سے پیدا ہوتے ہیں‘ ایک کھلا ہوا تضاد ہے۔ ان دونوں میں اکثر تصادم رہتا ہے اور اس تصادم میں اکثر جیت خواہشات و شہوات ہی کو ہوتی ہے۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ خواہشات وشہوات کے مطالبے پورے کر دینے سے انسان کو فوری لذت و راحت حاصل ہوتی ہے۔ برعکس اس کے ‘روح کے مطالبات پورے کرنے سے انسان کو کوئی فوری لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ الٹے اس کے لیے انسان کو اپنی بہت سی فوری لذتوں اور راحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ 
یہ صورت حال ظاہر ہے کہ روح کے فطر ی میلانات کے بالکل خلاف ہے۔ اگر یہی حالت عرصہ تک باقی رہ جائے اور روح کو اپنی پسند کے میدانوں میں جولانی کا کوئی موقع نہ ملے تو پھر نہ صرف یہ کہ اس کی قوتِ پرواز ختم ہو جاتی ہے‘ بلکہ آہستہ آہستہ وہ خود بھی ختم ہو جاتی ہے۔
روزہ اس صورتِ حال میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ یہ ان چیزوں پر بہت سی پابندیاں عائد کر دیتا ہے جو شہوات و خواہشات کو تقویت پہنچانے والی ہیں۔ اس سے آدمی کا کھانا پینا اور سونا سب کم ہو جاتا ہے۔ دوسری لذتوں اور دل چسپیوں پر بھی بعض پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔ ان چیزوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ نفس کے شہوانی میلانات کی جولانیاں بہت کم ہو جاتی ہیں اور روحِ ملکوتی کو اپنی پسند کے میدانوں میں جولانی کے لیے موقع مل جاتا ہے۔
روزے کی یہی خصوصیت ہے جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے ساتھ ایک خاص نسبت دی ہے اور روزہ دار کو خاص اپنے ہاتھ سے اس کے روزے کی جزا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ یوں تو اسلام نے جتنی عبادتیں بھی مقرر فرمائی ہیں‘ سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں‘ لیکن روزے میں دنیا اور لذاتِ دنیا کوترک کر کے بندہ خدا سے قرب اور اس کے ملائکہ سے مناسبت اور تشبّہ حاصل کرنے کی جو کوشش کرتا ہے اور اس کوشش میں مشقت اٹھاتا ہے‘ وہ روزے کے سوا کسی دوسری عبادت میں اس قدر نمایاں نہیں ہے۔ فقر‘ درویشی‘ زہد‘ تجرد‘ ترکِ دنیا او ر تبتّل اِلی اللہ کی جو شان اس عبادت میں ہے ‘وہ اس کا خاص حصہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہے کہ رہبانیت جس حد تک اسلام میں جائز رکھی گئی ہے اور جس درجہ تک اللہ تعالیٰ نے تربیت ِنفس کے لیے اس کو پسند فرمایا ہے‘ اسلام میں یہی عبادت اس کا مظہر ہے۔ اگر ایک بندہ روزے کی ساری مشقتیں اور پابندیاں فی الحقیقت اسی لیے جھیلتا ہے کہ اس کی روح اس عالم ِناسوت کی دلدل سے آزاد ہو کر عالم ِلاہوت کی طرف پرواز کر سکے اور اسے خدا کا قرب حاصل ہو سکے توبلاشبہ اس کی یہ کوشش اسی چیز کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ ا س کو اپنے ساتھ خاص نسبت دے اور اس کی جزا خاص اپنے ہاتھوں سے دے۔ ایک حدیث ملاحظہ ہو جس میں یہ حقیقت بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
((قالَ اللّٰهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لهُ إلَّا الصِّيَامَ، فإنَّهُ لي وأَنَا أجْزِي بِهِ، والصِّيَامُ جُنَّةٌ، وإذَا كانَ يَوْمُ صَوْمِ أحَدِكُمْ فلا يَرْفُثْ ولَا يَصْخَبْ، فإنْ سَابَّهُ أحَدٌ أوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ. والذي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَـمِ الصَّائِمِ أطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِن رِيحِ المِسْكِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إذَا أفْطَرَ فَرِحَ، وإذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ)) [صحیح البخاری: ۱۹۰۴]
’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم کا ہر عمل اُس کے لیے ہے‘ مگر روزہ‘ یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ایک سپر ہے۔ جب کسی کا روزہ ہو تو اسے چاہیے کہ نہ شہوت کی کوئی بات کرے اور نہ شور و شغب کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالم گلوچ کرے یا لڑے جھگڑے تو وہ اس سے کہے کہ بھائی‘ میں روزے سے ہوں۔ اُس خدا کی قسم جس کی مٹھی میں محمد(ﷺ) کی جان ہے‘ روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک اس کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ کھولتا ہے اور دوسری اس وقت حاصل ہو گی جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔‘‘
مزید روایات میں اسی سلسلہ کی کچھ اور باتیں ہیں جن سے حدیث کی اصل حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس وجہ سے ہم ان کو بھی یہاں نقل کیے دیتے ہیں:
((يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي. الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا)) [صحیح البخاری: ۱۷۹۴]
’’(اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) بندہ اپنا کھانا اور پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :
((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْع مِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ)) [صحیح مسلم:۱۱۵۱]
’’ ابن ِآدم کا ہر عمل بڑھایا جائے گا‘ یعنی نیکیاں دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بڑھائی جائیں گی‘ مگر روزے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور اپنا کھانا پینا میرے لیے قربان کرتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے‘ دوسری خوشی اس کو اپنے رب کی ملاقات کے وقت حاصل ہو گی۔ اور اس کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوش بو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘
ان دونوں روایتوں کو ملا کر غور کرنے سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عبادت کو اپنی طرف خاص نسبت کیوں دی ہے اور یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ خاص اپنے ہاتھ سے اس کا بدلہ دینے کا مطلب کیا ہے۔
اس کو اپنے لیے خاص قرار دینے کی وجہ تو یہ ہے کہ بندہ محض اُس کی رضا اور اُس کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنی ان خواہشوں اور اپنے نفس کے ان مطالبات کو ترک کرتا ہے جن کا اس کے نفس پر سب سے زیادہ غلبہ ہوتا ہے اور جن کے اندر اس کی تمام مادی خوشیاں اور تمام مادی لذتیں سمٹی ہوئی ہیں۔ ان لذتوں سے محض اللہ کی رضا کے لیے منہ موڑ لینا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اُس نے اسے محبوبیت کا ایک خاص درجہ دیا اور فرمایا کہ بندہ روزہ خاص میرے لیے رکھتا ہے اور میری خوشی کے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی لذتوں کو چھوڑتا ہے۔
خاص اپنے ہاتھ سے بدلہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے بدلہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بندھے ہوئے قاعدے ہیں۔ حالات و خصوصیات کے لحاظ سے ہر نیکی کا دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک بدلہ ملے گا۔ مثلاً فرض کیجیے ایک نیکی ساز گار حالات کے اندر کی گئی ہے اور دوسری نیکی مشکل حالات کے اندر کی گئی ہے ‘یا ایک نیکی پوری احتیاط اور پوری نگہداشت کے ساتھ کی گئی ہے اور دوسری نسبتاً کم اہتمام اور کم نگہداشت کے ساتھ کی گئی ہے۔ اس طرح کے فرق و اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر شخص کی نیکی کا جو اجر ہونا چاہیے‘ وہ مذکورہ بالا اصول کے مطابق خدا کے رجسٹر میں درج ہو گا اور ہر حق دار اس اجر کو حاصل کر لے گا‘ لیکن روزے کی جو عبادت ہے‘ اس کا صلہ اللہ تعالیٰ نے اس فارمولے کے تحت نہیں رکھا ہے‘ بلکہ اس کا فیصلہ کسی اور فارمولے کے مطابق ہوگا جس کا علم صرف اسی کو ہے۔ جب جزا دینے کا وقت آئے گا‘ تب وہی اس کو کھولے گا اور خاص اپنے ہاتھ سے ہر روزہ رکھنے والے کو صلہ دے گا۔ جس عبادت کی جزا کے لیے یہ کچھ اہتمام ہو گا‘ کون اندازہ کر سکتا ہے کہ آسمان و زمین سب کا مالک اس کی کیا جزا دے گا۔
سد ِ ابوابِ فتنہ
اس کی دوسری برکت یہ ہے کہ آدمی کے اندر فتنہ کے جو بڑے بڑے دروازے ہیں‘ روزہ ان کو بہت بڑی حد تک بند کر دیتا ہے۔ آدمی کے اندر فتنے کے بڑے دروازے‘ جیسا کہ ایک سے زیادہ حدیثوں میں تصریح ہے‘ بطن اور فرج ہیں‘ انہی کے سبب سے آدمی نہ جانے خود کتنی ہلاکتوں میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی نہیں معلوم کتنی ہلاکتوں میں مبتلا کرتا ہے۔ یہی راستے ہیں جن سے شیطان انسان پر سب سے زیادہ حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان ان کی حفاظت کرسکے تو سمجھیے کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے جو شخص ان دونوں چیزوں کی حفاظت کی ضمانت دے سکے۔ ایک حدیث ملاحظہ ہو۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا : 
((مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ)) [صحیح البخاری: ۶۱۰۹]
’’جو شخص ان چیزوں کے بارے میں مجھے ضمانت دے سکے جو اس کے دونوں کلّوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان میں ہیں‘ میں اس کے لیے جنت کا ضامن بنتا ہوں۔‘‘ 
روزہ ان کی حفاظت کا بہتر سے بہتر انتظام کرتا ہے۔ انسان کے لیے روزے میں صرف کھانا پینا ہی حرام نہیں ہو جاتا‘ بلکہ لڑنا جھگڑنا‘ جھوٹ بولنا‘ غیبت کرنا اور غیر ضروری باتوں میں حصہ لینا بھی روزے کے مقصد کے بالکل خلاف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح روزے میں صرف شہوانی تقاضوں کا پورا کرنا ہی حرام نہیں ہو جاتا‘ بلکہ وہ تمام چیزیں بھی روزے کے منشا کے خلاف ہیں جو اس کے شہوانی میلانات کو شہ دینے والی ہوں۔ روزہ خود بھی ان میلانات کو ضعیف کرتا ہے اور روزہ دار کو بھی ہدایت ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے آپ کو ان تمام مواقع سے دور رکھے جہاں سے اس کے ان رجحانات کو غذا بہم پہنچ جانے کا امکان ہو۔
فتنہ کے دروازوں کے بند ہو جانے سے اس کے لیے ان کاموں کا کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے جو خدا کی رضا کے کام ہیں اور جن سے جنت حاصل ہوتی ہے جبکہ ان کاموں کی راہیں بند ہو جاتی ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف کام ہیں اور جن کے سبب سے آدمی دوزخ میں پڑےگا۔ شیطان اس کے آگے بالکل بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری چوکڑی بھول جاتی ہے۔ وہ ڈھونڈتا ہے‘ لیکن اس کو روزہ دار پر حملہ کرنے کے لیے کوئی راہ نہیں ملتی۔ یہی حقیقت ہے جو ایک حدیث شریف میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
((إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ)) [صحیح البخاری:۱۸۹۹]
’’ جب رمضان کا مہینا آتا ہے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں‘ دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔‘‘ 
قوتِ ارادی کی تربیت
روزے کی تیسری برکت یہ ہے کہ یہ آدمی کی قوتِ ارادی کی بہترین طریقہ پر تربیت کرتا ہے۔ شریعت کی حدود کی پابندی کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کی قوتِ ارادی نہایت مضبوط ہو۔ بغیر مضبوط قوتِ ارادی کے یہ بالکل ناممکن ہے کہ کوئی شخص شہوات و جذبات اور خواہشات کے غیر معتدل ہیجانات کو دبا سکے ‘اور جو شخص ان کے مفرط ہیجان کو دبا نہیں سکتا‘ اس کے لیے یہ محال ہے کہ وہ شریعت کی حدود کو قائم رکھ سکے ۔ایک ضعیف اورلچلچے ارادہ کا آدمی ہر قدم پر ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ جب بھی کوئی چیز اس کے غصہ کو اشتعال دلانے والی سامنے آ جائے گی‘ وہ بڑی آسانی سے اس سے مغلوب ہو جائے گا۔ جب بھی کوئی طمع پیدا کرنے والی چیز اس کو اشارہ کر دے گی‘ وہ اس کے پیچھے لگ جائے گا ‘اور جہاں بھی کوئی چیز اس کو اکسانے والی نظر آ جائے گی‘ وہیں وہ پھسل کے گر پڑے گا۔ اس طرح کی ضعیف قوتِ ارادی کا انسان دنیا میں عزم و ہمت کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی نہیں کر سکتا‘ چہ جائیکہ وہ شریعت کی حدود و قیود کی پابندی کر سکے۔ بالخصوص شریعت کا وہ حصہ جو انسان کو برائیوں سے روکتا ہے‘ مضبوط صبر کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس صبر کی مشق روزے سے حاصل ہوتی ہے اور پھر اسی صبر سے وہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے جو روزے کا اصل مقصود ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَـبْلِکُمْ لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۸۳)}  (البقرۃ)
’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ فرض کیا گیا ہے‘ جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کیا گیا تھا‘تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔‘‘
’’تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو‘‘  یعنی تاکہ صبر اور برداشت کی تربیت سے تمہاری قوتِ ارادی مضبوط ہو اور تمام ترغیبات و تحریکات اور تمام مشکلات و موانع کا مقابلہ کر کے تم شریعت کی حدود پر قائم رہ سکو۔
یہی قوت مومن کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہے جس سے وہ شیطان کے ہروار کو روک سکتا ہے جو وہ خواہشات و جذبات اور شہوات کی راہ سے اس پر کرتا ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر اس حدیث میں‘ جو اوپر گزر چکی ہے‘ روزے کو ایک ڈھال کہا گیا ہے اور روزہ دار کو یہ ڈھال استعمال کرنے کی تعلیم یوں دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے گالم گلوچ یا لڑائی جھگڑا شروع کر دے تو اس سے کہے کہ میں روزے سے ہوں۔
جذبۂ ایثار کی پرورش
روزے سے انسان کے اندر جذبۂ ایثار کی بھی پرورش ہوتی ہے اور یہ جذبہ انسان کے ان اعلیٰ جذبات میں سے ایک ہے جن سے ہزاروں نیکیوں کے لیے اس کے اندر حرکت پیدا ہوتی ہے۔ انسا ن جب روزے میں بھوکا پیاسا رہتا ہے اور اپنی دوسری خواہشوں کو بھی دبانے پر مجبور ہوتا ہے تو اس طرح اسے غریبوں‘ فاقہ کشوں‘ محتاجوں اور مظلوموں کے دکھ درد اور ان کے شب و روز کاا ندازہ کرنے کا بذاتِ خود موقع ملتا ہے ۔وہ بھوک اور پیاس کا مزہ چکھ کر بھوکوں اور پیاسوں سے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ ان کی ضرورتوں اور تکلیفوں کو سمجھنے لگتا ہے اور پھر قدرتی طور پر اس کے اندر یہ جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر ان کے لیے کچھ کر سکتا ہے تو کرے۔ روزے کا یہ اثر ہر شخص پر اس کی استعداد و صلاحیت کے اعتبار سے پڑتا ہے‘ کسی پر کم پڑتا ہے‘ کسی پر زیادہ۔ لیکن جس شخص کے روزے میں روزے کی خصوصیات موجود ہیں‘ اُس پر روزے کا یہ اثرپڑتا ضرور ہے۔ جن کا جذبۂ ایثار کمزور ہوتا ہے‘ روزہ کچھ نہ کچھ ان کو بھی متحرک کر دیتا ہے‘ اور جن کے اندر یہ جذبہ قوی ہوتا ہے ان کے لیے تو روزوں کا مہینا اس جذبہ کے ابھرنے کے لیے گویا موسم بہار ہوتا ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی فراخ دستیاں اور فیض بخشیاں یوں تو ہمیشہ ہی جاری رہتی تھیں‘ لیکن رمضان کا مہینا تو گویا آپ کے جود و کرم کا موسم بہار ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما   سے روایت ہے:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ [متفق علیہ]
’’نبی کریم ﷺ یوں تو عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے‘ لیکن رمضان میں تو گویا آپ سراپا جود و کرم ہی بن جاتے۔‘‘
قرآنِ مجید سے مناسبت
قرآن مجید کو روزے کی عبادت کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے۔ اس مناسبت کے سبب سے روزہ دار پر قرآن مجید کی خاص برکتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ روزے کی حالت میں بہت سے دنیاوی مشاغل کا بوجھ روزہ دار کے اوپر سے اترا ہوا ہوتا ہے اور نفس کے میلانات و رجحانات میں‘ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں‘ روزے کے سبب سے بڑی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خاموشی‘ خلوت‘ غیر ضروری مصروفیتوں سے علیحدگی اور ترک و انقطاع کی ایک مخصوص زندگی‘ جو روزہ دار کو حاصل ہوتی ہے‘ قرآن کی تلاوت اور اس کے تدبر کے لیے کچھ خاص موزونیت رکھتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی آں حضرت ﷺ پر اس وقت اُتاری جب آپ غارِ حرا میں معتکف تھے۔ نیز قرآن مجید کے نزول کے لیے اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مبارک مہینے کو منتخب فرمایا اور اس نعمت کی شکر گزاری کے لیے اس پورے مہینے میں روزے رکھنا اُمّت پر فرض قرار دیا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ رمضان میں حضرت جبرائیل  علیہ السلام   ہر شب میں آں حضرت ﷺ کے ساتھ قراء تِ قرآن مجید کا مذاکرہ کرنے کے لیے تشریف لایا کرتے تھے اور جتنا قرآن مجید نازل ہو چکا ہوا ہوتا تھا‘ اس کا مذاکرہ فرماتے تھے۔ رمضان کی راتوں میں تراویح میں قرآن کے سننے اور سنانے کی جو اہمیت ہے‘ وہ ہر شخص کو معلو م ہے۔ یہ ساری باتیں شہادت دیتی ہیں کہ قرآن مجید کو روزوں سے اور روزوں کو قرآن مجید سے گہری مناسبت ہے۔
تبتّل اِلی اللہ
روزے کی اصل غایت دل‘ دماغ‘ جسم اور روح سب کا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا ہے۔ اسی چیز کو قرآن مجید میں تبتّل الی اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ مقام آدمی کو روزے سے حاصل ہوتا ہے اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے روزے کے ساتھ اعتکاف کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ اعتکاف اگر چہ ہر شخص کے لیے رمضان کے روزوں کی طرح ضروری چیز نہیں ہے — بلکہ یہ اختیاری عبادت ہے — لیکن تزکیۂ نفس کے نقطۂ نظر سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اگر رمضان کے آخری عشرہ میں‘ جب کہ روح میں تجرد و انقطاع اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی ایک خاص کیفیت و حالت پیدا ہو جاتی ہے‘ آدمی اعتکاف میں بیٹھ جائے تو اس سے روزے کا جو اصل مقصود ہے‘ وہ کمال درجہ حاصل ہوتا ہے۔ آں حضرت ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں جو اہتمام فرماتے تھے‘ اس کا ذکر حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   اس طرح فرماتی ہیں:
 كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ [متفق علیہ]
’’جب رمضان کا آخری عشرہ آتا‘ آں حضرت ﷺ شب بیداری فرماتے‘ اپنے اہل و عیال کو بھی شب بیداری کے لیے اٹھاتے اور کمر کس کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہو تے۔‘‘
روزے کی آفات اور ان کا علاج
روزے کی برکات میں سے یہ چند برکات ہم نے بیان کی ہیں ‘لیکن یہ برکتیں اس صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جب آدمی اپنے روزے کوان تمام آفتوں سے محفوظ رکھ سکے جو روزے کوخراب کر دینے والی ہیں۔یہ آفتیں چھوٹی اور بڑی بہت سی ہیں۔ہم تزکیہ نفس کے طالبوں کی واقفیت کے لیے یہاں چند بڑی آفتوں کا ذکر کریں گے اور ساتھ ہی ان کے وہ علاج بھی بتلائیں گے جو قرآن اور حدیث میں بیان ہوئے ہیں‘تاکہ جو لوگ اپنے روزوں کی حفاظت کرنا چاہیں‘ان سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔
لذتوں اور چٹخاروں کا شوق
روزے کی عبادت ‘جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا ہے‘ اس لیے مقرر کی گئی کہ آدمی اپنی خواہشوں پر قابو پاسکے۔یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب آدمی اس مقصد کو روزوں میں ملحوظ رکھے اور ان رغبتوں کو حتی الامکان دبائے جن کے آگے اپنی روز مرہ زندگی میں وہ اکثربے بس ہو جایا کرتا ہے‘ اوریہ بے بسی اس کو بہت سی اخلاقی اور شرعی کمزوریوں میں مبتلا کردیتی ہے‘ لیکن بہت سے لوگ اس مقصد کو بالکل ملحوظ نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک روزے کامہینا خاص کھانے پینے کامہینا ہوتا ہے۔بعض لوگوں کایہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اس مہینے میں کھانے پینے پرجتنا بھی خرچ کیاجائے ‘خدا کے ہاں اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔اس خیال کے لوگ اگر خوش قسمتی سے کچھ خوش حال بھی ہو تے ہیں تو پھر فی الواقع ان کے لیے روزوں کا مہینا کام ودہن کی لذتوں سے متمتع ہونے کاموسم بہار ہی بن کرآتا ہے۔وہ روزے کی پیدا کی ہوئی بھوک اور پیاس کو نفس کشی کے بجائے نفس پروری کاذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ صبح سے شام تک طرح طرح کے پکوانوں کے پروگرام بنانے اوران کے تیار کرانے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں اورافطار سے سحر تک اپنی زبان اور اپنے پیٹ کی تواضع میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ میں ایک ایسے بزرگ سے واقف ہوں جو ایک دین دار آدمی تھے لیکن ان کا نظریہ یہ تھا کہ رمضان کامہینا کھانے پینے کاخاص مہینا ہے۔چنانچہ اس نظریے کے تحت وہ رمضان کے مہینے کے لیے کھانے پینے کی مختلف چیزوں کااہتمام بہت پہلے سے شروع کر دیتے تاکہ رمضان میںان کے تنوعات سے متمتع ہو سکیں۔
ہرشخص جانتا ہے کہ روزہ کھانے پینے کے شوق کواُکسا دیتا ہے لیکن روزے کامقصود اسی اکساہٹ کو دبانا ہے نہ کہ اس کی پرورش کرنا۔اس وجہ سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوتِ کا ر کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیئے تو ضرور لیکن ہرگز کھانے پینے کو اپنی زندگی کاموضوع نہ بنالے۔ جوکچھ بغیرکسی خاص سرگرمی اور بغیر کسی خاص اہتمام کے میسر آجائے‘ اس کو صبر اور شکرکے ساتھ کھا لے۔اگر کوئی چیز پسند کے خلاف سامنے آئے تو اس پر بھی گھر والوں پرغصے کااظہار نہ کرے۔اگرکسی کو خدا نے فراغت وخوش حالی دی ہو تواسے چاہیے کہ وہ خود اپنے کھانے پینے پر اسراف کرنے کے بجائے غریب اورمسکین روزہ داروں کی مدد اور ان کو کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔اس چیز سے اس کے روزے کی روحانیت اوربرکت میں بڑا اضافہ ہوگا۔ رمضان میں نبی کریم ﷺکی فیاضی کاجو حال ہوتا تھا ‘اس کے متعلق ایک حدیث اوپرگزر چکی ہے۔روزہ افطار کرانے کے ثواب سے متعلق ایک حدیث ملاحظہ ہو۔ زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:
((مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْئًا)) [سنن الترمذی: ۸۰۷]
’’جس نے کسی روزہ دارکو افطار کرایا‘اس کے لیے روزہ دار کے برابراجر ہے‘ اوراس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔“ 
اشتعالِ طبیعت
آدمی جب بھوکا پیا سا ہو توقاعدہ ہے کہ اس کاغصہ بڑھ جایاکرتا ہے۔جہاں کوئی بات ذرا بھی اس کے مزاج کے خلاف ہوئی فوراً اس کو غصہ آجاتا ہے۔روزے کے مقاصد میں سے یہ چیز بھی ہے کہ جن کی طبیعتوں میں غصہ زیادہ ہووہ روزے کے ذریعہ سے اپنی طبیعتوں کی اصلاح کریں‘ لیکن یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب آدمی روزے کو اپنی طبیعت کی اس خرابی کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔اگر وہ ا س کواپنی طبیعت کی اصلاح کاذریعہ نہ بنائے تو اس بات کا بڑا اندیشہ ہے کہ روزہ اس پہلو سے اس کے لیے مفید ہونے کے بجائے الٹا مضر ہو جائے‘ یعنی اس کی طبیعت کااشتعال کچھ اور زیادہ ترقی کرجائے۔ جو شخص اس کو اپنی اصلاح کاذریعہ بناناچاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جب اس کی طبیعت میں اشتعال پیدا ہویا کوئی دوسرااس کے اندر اس اشتعال کو پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً اس بات کو یاد کرے کہ اَنَا صَائِمٌ (مَیں روزے سے ہوں)اور یہ چیز روزے کے مقصد کے بالکل منافی ہے۔ یہ طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کو غصہ پر قابو پانے کی تربیت ملتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تربیت اس کے مزاج کو بالکل بدل دیتی ہے‘ یہاں تک کہ اس کو اپنے غصے پر اس حد تک قابو حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ وہیں استعمال کرتا ہے جہاں وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔
بہت سے لوگ اسلام کے بتائے ہوئے اس اصول کے بالکل خلاف روزے کو سپر کے بجائے تلوار کے طورپراستعمال کرنے کے عادی بن جاتے ہیں‘ یعنی روزہ ان کے لیے ضبط ِنفس کے بجائے اشتعالِ نفس کابہانہ بن جایاکرتا ہے۔ وہ بیوی پر‘ بچوں پر‘نوکروں پر‘ماتحتوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے ہیں‘ صلواتیں سناتے ہیں‘گالیاں بکتے ہیں اور بعض حالات میں مار پیٹ سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ پھر اپنے آپ کو اس خیال سے تسلی دے لیتے ہیں کہ کیاکریں‘ روزے میں ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے۔
جو لوگ اپنے نفس کو اس راہ پرڈال دیتے ہیں‘ان کے لیے روزہ اصلاحِ نفس کاذریعہ بننے کے بجائے ان کے بگڑے ہوئے نفس کو بگاڑنے کامزید سبب بن جایاکرتا ہے۔جو روزہ بھی وہ رکھتے ہیں وہ ان کا نفس مشتعل کرنے کے لیے چابک کا کام دیتا ہے جس سے ان کانفس تیز سے تیز تر ہوتا جاتا ہے۔جو شخص روزے کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے‘ اسے چاہیے کہ وہ روزے کو اپنے نفس کے لیے ایک لگام کے طور پراستعمال کرے اورہراشتعال دلانے والی بات کو اسی سپرپررو کے جس کاہم نے اوپر ذکرکیا ہے۔تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگرروزے کے احترام کا یہ احساس طبیعت پرغالب رہے تو آدمی بڑی سے بڑی ناگواربات بھی برداشت کرجاتا ہے اور اس پرکوئی احساس کمتری طاری نہیں ہوتا۔ اس طرح کی آزمائش کے جتنے مواقع اس کے سامنے آتے ہیں وہ ہر موقع پر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے شیطان پرایک فتح حاصل کی ہے اور اس فتح کااحساس اس کے غصہ کو ایک راحت واطمینان کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔
دل بہلانے والی چیزوں کی رغبت
روزے کی ایک عام آفت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ جن کے ذہن کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی ہے‘ کھانے پینے اور زندگی کی بعض دوسری دلچسپیوں سے علیحدگی کوایک محرومی سمجھتے ہیں اور اس محرومی کے سبب سے ان کے لیے دن کاٹنے مشکل ہوجاتے ہیں۔اس مشکل کاحل وہ یہ پیدا کرتے ہیں کہ بعض ایسی دلچسپیاں تلاش کرلیتے ہیں جو ان کے خیال میں روزے کے مقصد کے منافی نہیں ہوتیں۔مثلاً یہ کہ تاش کھیلتے ہیں‘ناول‘ڈرامے اور افسانے پڑھتے ہیں‘ریڈیو پرگانے سنتے ہیں‘ دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں اور بعض من چلے سینما کے ایک آدھ شو دیکھ آنے میں بھی کوئی قباحت نہیں خیال کرتے۔ ان سب سے زیادہ سہل الحصول  دلچسپی بعض لوگ یہ پیدا کر لیتے ہیں کہ اگر ایک دو ساتھی میسر آجائیں تو کسی کی غیبت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔روزے کی بھوک میں آدمی کاگوشت بڑالذیذ معلوم ہوتا ہے اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکھ کر آدمی کو یہ لذیذ مشغلہ مل جائے تو آدمی جھوٹ‘غیبت‘ ہجو اوراس قسم کی دوسری آفتوں کا جن کو حدیث میں ’’حصائد اللّسان‘‘(زبان کی کھیتیاں) سے تعبیر کیاگیا ہے‘ایک انبار لگادیتا ہے اور اسی مشغلہ میں صبح سے شام کر دیتا ہے۔یہ چیزیں آدمی کے روزے کو بالکل برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔
ان کاایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کے ضروری آداب میں سے سمجھے۔ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ پچھلے مذاہب میں چپ رہنابھی روزے کی شرائط میںداخل تھا۔چنانچہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم سلامٌعلیہا روزے کی حالت میں صرف اشارہ سے بات کرتی تھیں۔اسلام نے روزہ داروں پر یہ پابندی تو عائد نہیں کی ہے لیکن اس پابندی کے نہ ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی روزے میں اپنی زبان کو چھوٹ دے دے ‘بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگرکوئی ضروری اور مفید بات کرنے کاموقع پیش آجائے تو کرلے‘ ورنہ خاموش رہے۔ جو شخص ہر قسم کی اناپ شناپ اور جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا رہتا ہے‘ حدیث شریف میں آیا ہے کہ پھر اس کا محض کھانا پینا چھوڑ دینا اللہ کے نزدیک ایک با لکل بے نتیجہ کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ   روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:
((مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ)) [صحیح البخاری:۱۹۰۳]
’’جو شخص جھوٹ بولنا اورجھوٹ پرعمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘ 
اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی کاجو وقت گھرکے کام کاج اورمعاش کی مصروفیتوں سے فاضل بچے اس کو مفید چیزوں کے مطالعہ میں صر ف کرے۔روزے کے دنوں کے لیے قرآن شریف‘حدیث‘ سیرتِ نبوی‘ سیرتِ صحابہؓ اور تزکیۂ نفس کی کتابوں کے مطالعے کاایک باقاعدہ پروگرام بنالے۔خصوصیت کے ساتھ قرآن مجید کے تدبر پر‘پابندی کے ساتھ کچھ نہ کچھ وقت ضرورصرف کرے۔قرآن مجید کو روزے کی عبادت کے ساتھ‘ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے‘ایک خاص مناسبت ہے۔اس مناسبت کے سبب سے روزہ دار پر قرآن کی خاص برکتیں ظا ہر ہوتی ہیں۔ہرروزہ دار کو ان برکتوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قرآن مجید اورماثور دعاؤں کے یاد کرنے کے لیے بھی آدمی کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالے۔اس طرح قرآن مجید اورمسنون دعاؤں کاآدمی کے پاس آہستہ آہستہ ایک ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے‘جو آدمی کے جمع کیے ہوئے مال واسباب کے ذخیروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
ریا
ریا کافتنہ جس طرح تمام عبادتوں کے ساتھ لگا ہواہے‘ اسی طرح روزے کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔بہت سے لوگ روزے تو رکھتے ہیں‘ بالخصوص رمضان کے روزے‘ لیکن ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت کچھ دخل اس احساس کو بھی ہوکہ روزے نہ رکھے تو پاس پڑوس کے روزہ داروں میں نکو بننا پڑے گا ‘یا لوگوں میں جودین داری کا بھرم ہے وہ جاتا رہے گا ‘یااپنے گھر اور خاندان والے ہی برا مانیں گے۔اس طرح کے مختلف احساسات ہیں جو رمضان کے روزوں میں شریک بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ خلوصِ نیت آلودہ اورمشتبہ ہو جایاکرتا ہے جو روزے کی حقیقی برکتوں کے ظہور کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ جس بندے میں خدا کی خوشنودی کے سوا کوئی اورمحرک شریک ہوجائے‘ یہ روزہ وہ روزہ نہیں ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرمائے گا:’’بندہ میرے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت چھوڑتا ہے‘ روزہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کابدلہ دوں گا۔‘‘ بلکہ یہ روزہ اسی غرض کے لیے ہوجائے گا جس غرض کے لیے رکھا گیا ہے۔
اس آفت کا اوّل علاج تو یہ ہے کہ آدمی اپنی نیت کو ہر دوسرے شائبہ سے حتی الامکان پاک کرنے کی کوشش کرے۔اسے ہر روز یہ سوچنا چاہیے کہ اپنے روزے کوتمام برکتوں سے محروم کرکے فاقہ کے درجے میں ڈال دینا انتہائی نادانی ہے۔آخر یہ مشقت اٹھانے کا حاصل کیا ہوا جب کہ یہ دنیا میں بھی موجب کلفت اور آخرت میں بھی موجب وبال بنے ؟اس طرح نفس کے سامنے باربار روزے کی قدروقیمت واضح کرنی چاہیے تاکہ اس کی نگاہ دوسروں کی طرف سے ہٹ کر خدا کی طرف متوجہ ہو۔
اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھے اوراس میں دوباتوں کااہتمام کرے: ایک حتی الامکان اخفا کا‘یعنی ان کااشتہار دینے کی کوشش نہ کرے۔دوسرے اعتدال یامیانہ روی کا‘ یعنی نفلی روزے اسی حد تک رکھے جس حد تک خواہشات و شہوات کو حالت اعتدال پرلانے کے لیے ان کی ضرورت ہو۔اگراس حد سے آدمی بڑھ جائے گاتو و ہ چیز خود بھی ایک فتنہ ہے اور اسلام نے اس سے بھی بڑی شدت کے ساتھ روکا ہے۔روزے کی حیثیت ایک دوا کی ہے‘ وہ اگر ضرورت سے زیادہ استعمال کرلی جائے تو بسااوقات یہ خود بھی ایک بیماری بن جاتی ہے۔ (میثاق: جون ۱۹۵۹ء)