(ظروف و احوال) دی گریٹ گیم - ایوب بیگ مرزا

17 /
دی گریٹ گیم
ایوب بیگ مرزا 
 
طاقت کا حامل ہونے اور اقتدار پر قابض ہونے کو انسانی فطرت کا تقاضا تو نہیں کہہ سکتے البتہ یہ انسانی جبلت کا تقاضا یقیناً ہے۔ حضرت آدم  علیہ السلام  زمین پر پہلے انسان اور اللہ کے پہلے پیغمبر تھے لیکن ان کی اولاد میں اقتدار اور قبضہ کی کہانی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب قابیل نے ایک ایسی خاتون کو اپنانے کی خاطر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا جس سے شادی کرنا اُس وقت کا سسٹم یا طریقہ کار ہرگز اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہ انسانی تاریخ میں فطری تقاضے کو ردّ کر کے طاقت کے بل بوتے پر اپنی خواہش کی تکمیل کی پہلی واردات یا واردات ڈالنے کی کوشش تھی۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ پہلا انسانی قتل ہوا اور طاقت کا استعمال کر کے ہوا۔ پھر جب اجتماعیت مرحلہ وار وجود میں آئی یعنی فرد‘ خاندان، معاشرہ قبائلی نظام سے آگے بڑھا اور شہری حکومتیں‘ ریاستیں اور بالآخر عظیم ریاستیں قائم ہوئیں تو اقتدار پر جائز‘ ناجائز قبضہ کی خواہش بڑھتی چلی گئی۔  کہا جا سکتا ہے کہ یہ خواہش نہایت خوف ناک حدتک بڑھ گئی۔ اس کے مناظر بڑی آسانی سے تاریخ کے اوراق میں دیکھے اور پڑھے جا سکتے ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اِسی طاقت کی نمائش ہوتی رہی۔ کبھی کبھاراس طاقت کا استعمال انسانیت کے لیے ثمر آور ہوا‘ باقی تاریخ ظلم و ستم  اور جبر و استبداد سے بھری پڑی ہے۔ کبھی انسانی کھوپڑیوں کے پہاڑ بنائے گئے۔ایشیا اور افریقہ میں کبھی چنگیزیت اور یزیدیت نے انسانیت کو رسوا کیا ۔ سولہویں صدی میں یورپ میں شراب دشمن کے چہرے پر پھینک کر باہمی خون ریزی ہوتی تھی۔ پھر جب یورپ کے کچھ ممالک ریاستی سطح پر طاقتور ہوئے تو انہوں نے افریقہ کے سیاہ رنگ والوں کے ساتھ جو کچھ کیا‘ امریکہ کے ریڈ انڈینز کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر انسانی شرف کا تماشا بنایا‘ تو یہ بھی انسانی تاریخ کا  ایک ناقابلِ فراموش سیاہ باب تھا۔ اٹھارھویں صدی میں یورپ میں صنعتی انقلاب نے مالی وسائل میں اضافہ کیا تو مادہ‘ سرمایہ اور دولت کی لوٹ کھسوٹ اگرچہ پہلے بھی تھی‘ لیکن اِس انقلاب نے اُسے طاقت اور اختیار کا جزوِ لاینفک بنا دیا۔ اب طاقت زمینی قبضے بھی کرنے لگی اور مقبوضہ  علاقوں کے تمام تر وسائل کو مالِ غنیمت قرار دیا جانے لگا۔ 
بیسویں صدی کی دو عالمی جنگیں مالی اور جانی نقصانات کے حوالے سے آج کی تاریخ تک کی بدترین جنگیں تھیں۔ اس کے بعدکچھ بڑے بیٹھے بلکہ صحیح تر الفاظ میں اُنہیں بٹھایا گیا تو چند قواعد و ضوابط بنائے گئے‘ جس سے یہ تاثر دیا گیا یا ظاہر کیا گیا کہ اب عالمی امن کے حوالے سے پیش رفت ہو گی۔ پہلے سے قائم شدہ لیگ آف نیشنز کو ردّ کر کے تنظیم اقوامِ متحدہ (UNO) بنائی گئی اور کہا گیا کہ اب جارحیت جواب دہ ہوگی۔ لیکن افسوس‘ صد افسوس کہ جو حقائق سامنے آئے ہیں اُن کی رُوسے اقوامِ متحدہ جیسے ادارے کے بھی دوچہرے ہیں ۔ یوں کہہ لیجیے کہ طاقت نے سب ضوابط اور قوانین کو دبوچ لیا ہے اور اب U.N.Oکو بجا طور پر طاقتور ریاستوں کی کنیز کہا جا رہا ہے۔ تمام طے شدہ ضوابط اب چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے رہ گئے ہیں۔ بڑی طاقتور ریاستیں اپنے ناجائز زمینی قبضے اور وسائل پر ایسی ایسی قانونی موشگافیاں کرتی ہیں کہ کمزوروں کے پاس ہاں میں ہاں ملانے اور’’یس سر‘‘کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وہ اپنے مفادات کے قتل ِ عام کا خود نظارہ کرتی ہیں لیکن بے بس اور مجبور ہیں۔ اصلاً  ع :’’ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات۔‘‘
راقم کی رائے میں جس دور کو دورِ جہالت کہا جاتا تھا‘ اب وہ خوب صورت لباس زیب تن کیے ہوئے درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اسے قانونی لبادہ بھی اوڑھا دیا گیا ہے۔اسے تہذیب ِ نو کا نام دیا گیا ہے اور اِس کے حق میں ایسے دلائل دئیے جاتے ہیں اور منطقی جواز پیش کیے جاتے ہیں کہ ہر صحیح فہم رکھنے والا انسان سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔ اصلیت سب جانتے ہیں لیکن طاقت نے زبان پر تالے لگا دیے ہیں۔ گویا منافقت اپنے عروج پر ہے۔ البتہ داد دیجیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہ اُس نے مکمل طور پر نہ سہی‘ کافی حد تک اس منافقت کا پردہ چاک کیا ہے۔ اسے بے باکی یا بے شرمی کہہ لیجیے جب وہ صاف صاف کہتا ہے کہ فلاں ملک کے فلاں علاقہ میں معدنی دولت ہے‘ مَیں طاقت استعمال کر کے اس پر قبضہ کروں گا۔ وہ اِسے اپنا حق جتلاتا ہے اورکہتا ہے کہ امریکہ کو اپنی ’’غربت‘‘ دور کرنے کے لیے قبضے کرنے ہوں گے اور مالِ غنیمت سمیٹنا ہوگا۔یہ امریکہ کا حق ہے‘ کیونکہ اُسے اپنی مالی عظمت ِرفتہ کو واپس لانا ہے۔ عالمی قوانین کی ایسی تیسی ‘یہ میرے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتے ۔ وینزویلا پر حملہ بھی اس حوالے سے انتہائی اہم قدم ہے ۔  چنانچہ امریکہ نے۳ جنوری ۲۰۲۶ء کو رات کے اندھیرے میں وینزویلا پر حملہ کر دیا‘ جس میں امریکی فضائیہ کے۱۵۰ جنگی طیارے استعمال کیے گئے ۔ ہیلی کاپٹر سے فوج بھی زمین پر اتاری گئی۔ یہ کارروائی اتنی اچانک اور فوری کی گئی کہ وینزویلا کی فوج سنبھل ہی نہ سکی اور امریکی افواج صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہو کرصدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکہ لے گئیں۔بعدازاں وینزویلا کی طرف سے کچھ مقابلہ ہوا‘ لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ نےایسا زہریلا بارود استعمال کیا کہ وینزویلا کے فوجیوں کے ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا‘ لہٰذا انہوں نے سرنڈر کر دیا۔ امریکہ نے یہ مجرمانہ واردات پہلی مرتبہ نہیں ڈالی۔ ۱۹۸۹ء میں وہ پاناما کے ساتھ بھی یہ سب کچھ کر چکا ہے جب وہاں کے ڈکٹیٹر جنرل نوریگا کو اسی طرح کے آپریشن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 
یاد رہے کہ ٹرمپ گزشتہ سال نوبل پرائز کا امیدوار تھا ۔پاکستان کی حکومت نے بڑے جوش و خروش سے صدر ٹرمپ کو امن کا نوبل پرائز دینے کے لیے سفارش کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کی خفیہ ایجنسیاں بڑی بُری طرح ناکام ہوئیں۔وہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی حرکات وسکنات کا درست نوٹس نہ لے سکیں اور اپنی حکومت کو اس سے آگاہ نہ کر سکیں۔ یوں امریکہ کا کام آسان ہو گیا۔ اب تو یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ وینزویلا کے آرمی چیف کوبہت بڑی رشوت دی گئی تھی۔ درحقیقت نادیدہ عالمی قوتیں‘ جنہیں خلائی قوتیں کہنا زیادہ مناسب ہوگا‘ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ کس ملک میں کس کو طاقت یا اقتدار سے نوازنا ہے۔ امریکہ کامعاملہ تو یہ ہے کہ کوئی امریکی شہری صدارتی انتخاب میں بطور امید وار مؤثر طور پر حصہ ہی نہیں لے سکتا جب تک اُسے اِن نادیدہ عالمی قوتوں سےN.O.Cنہ مل جائے۔ ڈیموکریٹ اورری پبلکن امریکہ کی دونوں بڑی جماعتیں اپنے صدارتی امید وار کے لیے اِن قوتوں کے اجازت نامے کی محتاج ہوتی ہیں۔ اُن ہی کا فیصلہ تھا کہ نوبل پرائز ٹرمپ کو نہیں بلکہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر کو رینا مچادو کو دیاجائے گا۔ ان عالمی قوتوں کی منصوبہ بندی بڑی گہری اور خفیہ ہوتی ہے۔ اکثر اوقات اس سے وہ حکومت بھی آگاہ نہیں ہوتی جس سے اُنہوں نے کوئی بڑا کام لینا ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وینزویلا میں کارروائی سے پہلے امریکہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر مچادو کو اس آپریشن کے لیے استعمال کرتا رہا اور یہ تاثر دیتا رہا کہ وقت کی حکومت کا کام تمام کر کے وہ حکومت مچادوکے سپرد کر دے گا‘ لیکن کامیابی کے بعد مچادو کو دھوکا دیتے ہوئے حکومت کسی اورکو دے دی ہے۔
بہرحال وینزویلا پر دہشت گردانہ حملے کی وجوہات اب سامنے آرہی ہیں۔اس کے تیل کے ذخائر۳۰۳بلین بیرل بتائے جاتے ہیں‘ جو شاید دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ امریکہ خود بھی تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ اُس کے ذخائر صرف۵۵ بلین بیرل ہیں۔جب وینزویلا  میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے تھے تب ہی امریکی کمپنیوں نے وہاں کا رخ کیا تھا اور تیل نکالنا شروع کر دیا۔۱۹۹۸ء میں وینزویلا کے ایک فوجی افسر ہیوگو شا ویز نے بغاوت کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ وہ ہر اتوار کو ٹیلی ویژن پر چھ گھنٹے عوام سے خطاب کرتا اور ایسی باتیں کہتا جو امریکہ کو سخت ناگوار گزرتی تھیں۔ وہ سوشلسٹ نظریات رکھتا تھا۔ اِسی لیے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل ہماری کمپنیوں نے نکالا تھا لیکن سوشلسٹ حکومت نے ڈاکا زنی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ کے منہ سے جورال ٹپکی ہے اُس کی وجہ صرف تیل نہیں ہے بلکہ وہاں Rare Earth Mineralsکی بھی بہتات ہے۔ ٹرمپ سیاست دان نہیں ایک سوداگر ہے۔ لہٰذا اِس قبضہ سے معدنی دولت بھی حاصل ہو گی۔ علاوہ ازیں‘ وینزویلاپر امریکی حملے کی سیاسی اور عسکری وجوہات بھی ہیں ۔کچھ عرصہ سے وینزویلا کے ایران سے تعلقات بہت بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ایران نے وینزویلا میں ایک نیول بیس بنا لیا تھا۔ وینزویلا نے ایران سے مہاجر سکس ڈرون طیارے  بھی خریدے ۔ صدر مادورو کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ اس نے حماس اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت کے نشے میں چُور امریکہ اپنی حیثیت کے حوالے سے مختلف نعرے لگاتا رہا ہے۔ سویت یونین جب شکست و ریخت سے دو چار ہوا تو بش اول نے نیو ورلڈ آرڈر کا نعرہ لگایا اور واضح الفاظ میں کہا کہ اب دنیا میں وہی ہو گا جو امریکہ چاہے گا۔ پھر     نائن الیون کے بعد بش دوئم نے اپنے حلیف اور حریف دونوں ممالک کوeither with us or against us کی دھمکی دی۔ اب ٹرمپ دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تمام معدنیات اور دولت ہمارا مالِ غنیمت ہے‘ جس پر قبضہ کا امریکہ کو حق ہے ۔ امریکہ یہ امر فراموش کر رہا ہے کہ ربع صدی گزر چکی ہے۔ آج ہم ۲۰۲۶ء میں ہیں۔ طاقت کے توازن میں تبدیلی آچکی ہے جس کی تفصیل راقم آگے بیان کرے گا۔ پہلے اِس بات کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ کسی ملک یا قوم کے لیے دنیا کے دوسرے معاملات‘ جھگڑوں اور تنازعات سے الگ تھلگ رہنا اب ممکن نہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ دنیا کے مسائل باہم گتھم گتھا ہو چکے ہیں اور کوئی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں ۔دنیا کو آج جس صورتِ حال کا سامنا ہے‘ یہ کیوں ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے! راقم نے جو نادیدہ قوتوں کا ذکر کیا وہ دنیا بھر میں اقتدار کی بندر بانٹ کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یوں تو آغاز ہی سے یہودیوں کی عظیم اکثریت بحیثیت مجموعی اس دنیا کے لیے وبال کا باعث بنی ہوئی ہے‘لیکن صہیونیت یہودیت کی بھی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اِن صہیونیوں کو جو کسی نے اِس دنیا میں شیطان کے ایجنٹ کہا ہے تو غلط نہیں کہا۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہ امن کے بد ترین دشمن ہیں اور ہر وقت دنیا کو جنگ وجدل میں اُلجھانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ اُن کے عزائم پر گہری نگاہ رکھنے والا ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ جنگی ماحول ہی میں وہ اپنے اصل ہدف کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اُن کا ہدف گریٹراسرائیل ہے۔ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکہ کی طاقت کو استعمال کر رہے ہیں۔ وہ امریکہ کی معیشت اورمیڈیا پر قابض ہو چکے ہیں۔ لہٰذا آج دنیا میں جو گریٹ گیم چل رہی ہے‘ اُس کے منصوبہ ساز بھی وہی ہیں اور وہی عملی میدان میں اُس کو دھکیل رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک کو اسرائیل اپنی حکمت ِ عملی سے زیر کر چکا ہے۔ اب مشرقِ وسطیٰ سے باہر اُس کا پہلا بڑا شکار ایران ہے۔ ماضی قریب میں وہ ایران پر حملہ آور ہو چکا ہے لیکن غیر متوقع طور پر اُسے دندان شکن جواب ملا۔ لہٰذا وہ ایک حکمت عملی کے تحت پسپا ہوا اور اب ایک نئی حکمت ِ عملی سے ایران پر حملہ آور ہونے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایران کی معیشت پر تو امریکہ اور اسرائیل ایک عرصہ سے حملہ آور تھے۔ دنیا بھر کے ممالک پر پابندی لگائی ہوئی تھی کہ وہ ایران سے تجارت نہیں کر سکتے۔ اس پابندی کی صرف چین‘ روس اور بھارت نے عملی طور پر مخالفت کی اورایران سے کچھ نہ کچھ تجارت کی لیکن پاکستان سمیت دنیا کے باقی ممالک امریکہ کے ردّ ِعمل کے خوف سے ایران سے تجارت کرنے سے گریز کرتے رہے۔ یوں ایران کی معاشی حالت بری طرح متاثر ہوئی۔
عدل کا تقاضا ہے کہ ایران سے عالمی قوتوں کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے بلنڈر کا بھی ذکر کیا جائے کہ کس طرح وہ بھی دوسرے ممالک میں مداخلت کرتا رہا جبکہ اُس کی معاشی حالت اور اقتصادی صورتِ حال ہرگز اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اُس نے لبنان میں مداخلت کی‘حزب اللہ کی بے تحاشا مدد کی‘ شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی‘ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی مدد کی۔ عراق میں باغیوں کی مدد کے لیے جا پہنچا۔  گویا وہ اس خطے میں ایرانی کریسنٹ قائم کرنا چاہتا تھا۔ یہ وہ کام تھے جو امریکہ عالمی سطح پر کرتا ہے ۔ ان حرکتوں سے تو امریکہ جیسی عظیم معیشت کو دھچکا لگا ہے چہ جائیکہ ایران جیسا ملک ایسی حرکات کرتا جس کی معیشت انقلاب کے بعد سے مسلسل ہچکولے کھا رہی ہے۔ ان ہی دخل اندازیوں نے ایران کی معیشت کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیا۔ لہٰذا مہنگائی اور بے روزگاری عوام کوسڑکوں پر لے آئی۔ 
وہ مذہبی حکومت جو نصف صدی پہلے رضا شاہ پہلوی کو ملک بدر کر کے ایران میں قائم ہوئی تھی اور جس نے خود کو ولایت فقیہہ کا درجہ دیا تھا‘ آج خود مظاہرین کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ خامنہ ای کی حکومت سارا الزام بیرونی قوتوں پر لگا رہی ہے کہ وہ سازشی اور تخریبی کردارادا کر رہی ہیں اور ملک میں فساد کا باعث ہیں۔ بدامنی اور مظاہروں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی حکومت کے خلاف مظاہروں میں بیرونی قوتوں کا اگرچہ سازشی کردار ہوتا ہے لیکن لاکھوں کی تعداد میں عوام کا سڑک پر آنا جو لاٹھی‘ گولی اور ہر قسم کے تشدد کا سامنا کرتے ہیں وہ اندرونِ ملک ہونے والے حالات اور حکومت کے خلاف غصہ اور نفرت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کہیں گڈ گورنس کا فقدان اور مہنگائی ہوتی ہے تو کہیں اداروں کی بے جامداخلت اور حکومت سے مختلف موقف اختیار کرنا وجہ بنتی ہے۔ بہرحال ایران کو اس وقت۱۹۷۹ء کے انقلاب کے خلاف ایک اور انقلاب کا سامنا ہے۔ 
راقم نے جو بیرونی سازشیوں کا تذکرہ کیا ہے تو ظاہر ہے وہ اسرائیل کی موساد اور امریکہ کیCIAکی سرگرمیاں ہیں۔ گزشتہ سال ایران سے شکست کھانے والا اسرائیل اب نئی حکمت ِ عملی کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ امریکہ جو جنگ میں اسرائیل کا پشت بان تھا‘ ان تخریبی کارروائیوں میں بھی باقاعدہ حصہ ڈال رہا ہے۔ امریکہ جسے نائن الیون کے بعد بد مست ہاتھی کہا گیا‘ عالمی سطح پر اپنی گرفت ڈھیلی ہونے پر اب desperateہو چکا ہے اور ایک لاابالی ریاست کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔وینزویلا پر حملہ بھی اِسی ذہنیت کا نتیجہ تھا اور اب صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین(جنہیں وہ محب وطن کہتا ہے) پر تشدد کیا تو امریکہ مظاہرین کی مدد کو پہنچ سکتا ہے۔ درحقیقت یہ اعلان غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے ذیل میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں‘ امریکہ ایران میں رجیم چینج کی باتیں بھی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کو دخل اندازی کا اختیار کس نے دیا ہے؟ میڈیا کے مطابق رجیم چینج کے تذکرے نے رضا شاہ پہلوی کے بیٹےاور اُس کی والدہ کو متحرک کر دیا ہے وگرنہ عوام میں صرف ہارڈ کورلبرلز کا ایک مختصر گروہ اُن کی حمایت کر رہا ہے۔ ایرانی عوام کو حقیقت میں تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ میڈیا اپنی اصطلاحات میں اُنہیں روایت پسند‘ اصلاح پسند اور رجعت پسند کے نام دے رہا ہے۔ غیر متوقع اور خطرناک بات یہ ہے کہ یہ مظاہرے leader lessہیں‘ یعنی مظاہرین کی طرف سے کوئی بڑا رہنما سامنے نہیں آسکا ۔ رضا شاہ پہلوی کا فرزند پاگلوں کی طرح اسرائیل اور اُس کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ساری امید لگائے بیٹھا ہے۔ اخبار میں اُس کی ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس میں وہ دیوار ِگریہ سے سر پٹخ رہا ہے۔ گویا وہ اقتدار کے لیے سیاسی نہیں‘ مذہبی حدود بھی پار کرنے کو تیار ہے۔ ظاہری طور پر نیتن یاہو اُس کی پشت پر ہاتھ رکھتا دکھائی دیتا ہے‘ لیکن اگر اسرائیلی مفادات کا تقاضا ہو ا تو وہ اُس کی پشت پر خنجر بھی گھونپ سکتا ہے۔ تاہم‘ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکی اور رضا شاہ پہلوی کے خاندان کا اسرائیل کے پائوں پڑنا امریکی اور اسرائیلی سازشوں کے لیےcounter productiveثابت ہو رہا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایرانی نہایت قوم پرست ہیں۔ لہٰذا وہاں گزشتہ چند دنوں سے صورتِ حال بدلتی نظر آ رہی ہے۔حکومت کے خلاف مظاہروں میں کمی آگئی ہے۔ اب ایسے مظاہرے بھی ہونے شروع ہوگئے ہیں جن میں’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور’’ مرگ پر اسرائیل ‘‘کے نعرے سننے میں آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں مداخلت کا اگرچہ پہلے بھی کوئی جواز نہیں تھا لیکن امریکہ کی حکومت عذرِ لنگ تراشنے کی بڑی ماہر ہے۔ اپنے نا جائز ایجنڈے کی تکمیل کے لیے بڑے مضحکہ خیز جواز تراش لیتی ہے۔ لہٰذا اس تبدیلی کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب امریکہ اور اسرائیل ایران پر ہر گز حملہ نہیں کریں گے۔ صرف امکانات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماضی میں افغانستان پر حملہ کرتے وقت اُس نے جو جواز تراش لیا تھا وہ بالکل اُسی طرح کا تھا جیسا wolf and the lambکی کہانی میں بھیڑیا‘ بکری کے بچے کو کھانے کے لیے یہ عذر بناتا ہے کہ اگر گزشتہ سال تم نے نہیں تو تمہارے باپ نے مجھے گالی دی ہو گی۔ حقیقت میں آج دنیا میں کمزور ممالک اور اقوام کی امریکہ کے سامنے وہی حیثیت ہے جو جنگل میں بھیڑیا کے سامنے بکریوں کی ہوتی ہے۔
اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں بلاواسطہ یا بالواسطہ موجودگی پاکستان کے لیے کتنی خطرناک ہو گی۔ قارئین کو شاید یاد ہو کہ اکیسویں صدی کے آغاز میںجب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو ہلیری کلنٹن نے صاف صاف کہا تھا کہ ہم ایک rapid force تیار کر رہے ہیں جو ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کر کے پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ کر لے گی۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثہ جات کے حوالے سے ایسے زبردست حفاظتی اقدامات کر لیے ہیں کہ اب کسی عالمی قوت کا قبضہ تو آسان نہیں‘لیکن جس بات کا خدشہ ہے‘ اور یہ بڑا سنجیدہ اور سنگین خطرہ ہے‘ کہ اگر یہ اسلام اور پاکستان کےدشمن دونوں ممالک پاکستان کی بغل میں جگہ بنا لیتے ہیں تو وہ ایجنٹوں اور تخریب کاروں کے ذریعے پاکستان میں امن وامان تباہ کر سکتے ہیں اور یوں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے خلاف بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کے خلاف وہ پہلے ہی کئی اقدام کر چکے ہیں‘ جس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کا بڑھنا ہے۔ قصہ مختصر‘ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں کسی نوعیت کی موجودگی پاکستان کے لیے بہت خطرناک ہو گی ۔ راقم کو یہ کہنے میںکوئی باک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے حوالے سے جو کچھ کر رہے ہیں‘ درحقیقت یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی طرف بڑھنے کے حوالے سے بھی ایک سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے۔
پاکستان میں مقتدر حلقوں کواس نکتہ پرغور کرنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کو ایران سے محدود خطرہ ہے اور حالیہ جنگ میں اُسے ایران کی جنگی استعداد کا صحیح اندازہ ہو چکا ہے۔ ایران کی جنگی قوت میں اضافہ کے امکانات بہت کم ہیں۔ میڈیا میں ایسی خبریں گشت کر رہی ہیں کہ روس اور چین کچھ اسلحہ اور دفاعی نظام ایران کو دینے والے ہیں لیکن اِس کے باوجود ہماری رائے میں روس اور چین اُس کی حربی قوت میں کوئی بڑا اضافہ نہ کر سکیں گے جو انقلابی تبدیلی لے آئے‘ جبکہ امریکہ اسرائیل کا مائی باپ ہے۔۱۹۷۴ء کی مصر اسرائیل جنگ میں امریکہ نے واشنگٹن اور  تل ابیب کے درمیان ایسا فضائی پل قائم کر دیاتھا جس کے ذریعے اسرائیل کو  دھڑا دھڑ اسلحہ پہنچایا گیا اور وہ شکست کھاتے کھاتے فاتح بن گیا ۔ اس پر مصر کے صدر انوار سادات نے کہا تھا کہ ہم اسرائیل سے تو لڑ سکتے ہیں‘ امریکہ سے نہیں۔ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ مصر اسرائیل کا دست و باوز بن کرفلسطینیوں کے قتل عام میں حصہ دار بن چکا ہے‘ یعنی وہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے مکمل طور پر بچھ چکا ہے۔ لہٰذا اگر اسرائیل دوبارہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایسا مکمل طور پر امریکہ کی سرپرستی میں ہو گا۔یہ حقیقت ہے کہ اگرچہ ایران اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن اسے تباہ و برباد کرنا یا ایک مکمل شکست دینا قریباً نا ممکن ہے‘ جبکہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ہونے اور تباہ کن میزائل رکھنے کی وجہ سے اسرائیل کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ لہٰذا اسرائیل کو اصل خطرہ پاکستان سے لاحق ہے۔ 
پاکستان بد قسمتی سے اِس وقت سیاسی اور معاشی طور پر بدترین عدم استحکام کا شکار ہے۔ یقیناً پاکستان کی فوج نہایت پروفیشنل ہے‘ اُس کے سپاہی بہادر اور جری ہیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ عسکری قیادت اور عوام کی عظیم اکثریت ایک پیج پر نہیں ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ تاریخ کا واضح فیصلہ ہے کہ وہ فوج جنگ جیتتی ہے جس کی پشت پر عوام ہوں۔بیرونی تجارتی کمپنیاں پاکستان میں اپنا کاروبار ختم کر کے واپس جا رہی ہیں‘ یہاں تک کہ پاکستان کے سرمایہ دار بھی بوریا بستر لپیٹ کر دوسرے ممالک میں اپنے کاروبار جما رہے ہیں ۔ بہت سی صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔  بیرونی سرمایہ داری نہ ہونے کے برابر جبکہ تجارتی خسارہ خوف ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بجلی اور گیس اس قدرمہنگی ہیں کہ پاکستانی صنعت کار اور تاجر عالمی مارکیٹ سے آئوٹ ہوگیا ہے۔ پھر یہ کہ ملک میں ہائبرڈ نظام اور ایک ایسی حکومت قائم ہے جس کے خلاف عوام میں شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ اقلیتی حکومت خود کو پاکستان کے عوام پر مسلط کرنے کے لیے نا جائز طریقے سے ریاست کے تمام اداروں پر قبضہ کر چکی ہے‘ خاص طور پر آئین میں۲۶ ویں اور  ۲۷ ویں ترامیم کر کے عدلیہ کو تہ و بالا کر دیا گیا ہے جس سے ملک میں عدل کا فقدان ہے۔ جنگ میں فتح کے حوالے سے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کا  یہ مقولہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔بد قسمتی سے پاکستان میں اِس وقت عدل عنقا ہو چکا ہے۔
پھر یہ کہ پاکستان معاشی لحاظ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔ بیروز گاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ امریکہ کو خوش کرنے کے لیے افغانستان سے بگاڑ پیدا کر لی گئی ہے جس کا نقصان یہ ہوا کہ مشرق میں اگر ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے جو دن رات پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے تو شمال مغرب میں افغانستان ہمارا دشمن بن کر سامنے آیا ہے۔ گویا ہم جغرافیائی لحاظ سے بھارت اور افغانستان کے درمیان سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔ اس حکومت نے تو بعض ایسے اقدامات بھی کیے تھے کہ خطے میں ہمارا پرانا اور وفادار دوست چین ناراض ہو گیا تھا۔ وہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ چین کو بھارت دشمنی اور اپنی جغرافیائی صورت حال کی وجہ سے دفاعی اور عسکری لحاظ سے پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ناراض کرنا چین کو وارا نہیں کھاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل و قوع ایسا ہے کہ خطے میں اُسے کسی صورت ignoreنہیں کیا جا سکتا! لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ پاکستان موجودہ سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے اور فریقین اپنے مفادات اور اپنی انا کے جال میں پھنسے رہنے کی بجائے صرف ملک اور قوم کے مفاد کو مدّ ِنظر رکھیں۔افراد آتے جاتے رہتے ہیں‘ صرف ریاست کی سلامتی اور عوام کی فلاح مقصود و مطلوب ہونی چاہیے۔ راقم کی رائے میں پاکستان کے تمام مسائل اور مصائب کی اصل وجہ یہ ہے کہ قوم خاص طو رپر اس کے رہنما تحریک پاکستان کے دوران لگائے گئے نعرے ’’پاکستان کا مطلب کیا ‘لا الٰہ اِلا اللہ!‘‘ کو نہ صرف فراموش کر چکی ہے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ریاست کھلے عام خلافِ اسلام قانون سازی کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ گریٹ گیم کے عالمی کھلاڑیوں سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین!