(منبرو محراب) معیارات کاتضاد:باعث ِفساد - شجاع الدین شیخ

17 /
معیارات کاتضاد:باعث ِفساد 

 

 شجاع الدین شیخ‘امیر تنظیم اسلامی

 

مسجد جامع القرآن ‘ قرآن اکیڈمی لاہور میں ۲ جنوری ۲۰۲۶ءکا خطابِ جمعہ 
 
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!
قرآنِ حکیم کے آخری پارے میں اکثر سورتیں مکی ہی ہیں ‘جن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بنیادی مضمون فکر آخرت کے اعتبار سے عطا فرمایا۔ساتھ ساتھ کچھ اخلاقی صفات کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ اس وقت سورۃ المطفّفین سے پہلی چھ آیات تلاوت کی گئی ہیں۔ان میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کرنے کے ساتھ وہ وجہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ انسان یہ گھٹیا حرکت کرتا کیوں ہے ! ناپ تول کی کمی سے مراد صرف ترازو سے تولا جاناہی نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ اخلاقی رویوں میں بھی ہوا کرتا ہے۔ باہمی معاملات اور تعلقات میں بھی ہوا کرتا ہے۔ یہ گھروں میں بھی ہوتا ہے اور اداروں میں بھی۔ یہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان بھی ہو جایا کرتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایسا بندے اور رب کے درمیان میں بھی ہو جایا کرتا ہے۔ ناپ تول کا تصور بڑا وسیع ہے۔ 
قرآن حکیم میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قوموں کے حالات کا جو ذکر کیا ہے‘ وہ محض حالات سے باخبر کرنے یا تاریخ سے آگاہی دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد ہدایت ‘ رہنمائی اور عبرت دینا ہے۔انہی اقوام عالم کے واقعات میں حضرت شعیب  علیہ السلام  کی قوم اصحابِ مدین کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس قوم میں شرک کی برائی کے ساتھ معاشی معاملات میں ناپ تول کی کمی کا جرم بھی موجود تھا ۔ اس قوم پر عذاب بھی آیا اور شعلے بھی برسائے گئے۔ زوردار چیخ یا آواز کا عذاب بھی مسلط کیا گیا ۔زلزلہ بھی اس قوم پر آیا ۔ ان کے دو بڑے جرائم تھے: شرک کا معاملہ اور  معاشی معاملات میں ناپ تول کی کمی کا مسئلہ۔ فرمایا: 
{وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ(۱) }
’’ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘
{الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ (۲)}
’’وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔‘‘
{وَاِذَا کَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ(۳) }
’’اور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کمی کر دیتے ہیں۔‘‘
{اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّـہُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ(۴)}
’’کیا اُن کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں!‘‘
{لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ(۵)}
’’ایک بڑے دن کے لیے۔‘‘
{یَّوْمَ یَـقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶) }
’’جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے ربّ کے سامنے۔‘‘
اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَسِیْرًا ۔اے اللہ ہم سب کے حساب کو آسان فرما دے! 
اس سورت کی پہلی ہی آیت میں ’’وَیْل‘‘ کا لفظ ہے ‘ جو ہم قرآن حکیم کی آخری سورتوں میں بھی پڑھتے ہیں:
{وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ (۱) }   (الھمزۃ)
’’بڑی خرابی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب چنتا اور طعنے دیتا رہتا ہے۔‘‘
اسی طرح :
{فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ(۴) }  (الماعون)
’’تو بربادی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے۔‘‘
’’وَیْل‘‘ کا لفظ قرآن پاک میں جابجا آیا ہے ۔اس کا ترجمہ تباہی بھی ہے‘ بربادی بھی ہے‘ ہلاکت بھی ہے۔بعض روایات کی روشنی میں یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ پھر مزید وضاحت یہ کی گئی کہ جہنم کی اس وادی کا عذاب اتنا سخت ہے کہ خود جہنم بھی اس سے پناہ مانگتی ہے۔ یعنی عذاب کے اعتبار سے بڑا سخت مقام ہے ۔اصل تباہی‘ بربادی اور ہلاکت بہرحال آخرت میں ہے۔یہاں پرناپ تول کی کمی کرنے والوںکے لیے ’’وَیْل‘‘ کا ڈراوا آیا ہے۔ سورۃ الہمزۃ میں یہ وعید رودرروطعنہ زنی کرنے والوں‘مذاق اُڑانے والوں‘ پیچھے بیٹھ کر برائیاں کرنے والوں ‘ اور غیبت کرنے والوں کے لیے آئی ہے۔ سورۃ الماعون میں فرمایا گیا:
{فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ(۴)  الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ(۵)}
’’تو بربادی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے‘جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔‘‘
قرآن حکیم میں اور رسولِ اکرمﷺ کی تعلیمات میں ایمانیات اور عقائدکے ساتھ معاملات‘ رویوں اور کردار کا بیان بھی ہے ۔ اللہ کا یہ دین ہمارے عقائد کے ساتھ ہمارے اعمال ‘ معاملات‘ رویوں اور کردار کو بھی درست کرنا چاہتا ہے۔ جن چھ آیات کا ابھی مطالعہ کر رہے ہیں ان میں آخرت کا ذکر بھی آیاہے ‘اللہ کے سامنے پیشی کا ذکر بھی آیاہے ۔اس کے ساتھ ان لوگوں کے لیے تباہی بیان کی جارہی ہے جو ناپ تول کی کمی کرنے والے ہوں۔ یہ نکتہ میں نے اس لیے عرض کیا کہ مفسرین نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔آج بھی مناظروںاور مباحث میں سارا زور عقائد کی چند ضمنی تفصیلات کے بیان تک محدود ہوگیاہے۔ عقیدہ اگر درست ہو تو اس کا عکس کردار میں بھی نظر آئے گا ۔ ایمان اگر مضبوط ہوگا تو کردار اس کی گواہی دے گا۔ کیا آج ہمارے مجموعی کردار‘ اعمال‘ رویے‘ معاملات یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ہمارے عقیدے مضبوط ہیں؟ ایمان ہمارا مضبوط ہے؟ اس بات پر بھی توجہ کرنے اور توجہ کرانے کی ضرورت ہے۔ فرمایا:
{وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ(۱) }
’’ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘
تباہی ہے ‘بربادی ہے  تَطْفِیْف کرنے والوں کے لیے ‘کمی کرنے والوں کے لیے۔ طف کہتے ہیں بڑی حقیر سی شے کو۔ ناپ تول میں جو بندہ کمی کر رہا ہے ‘ڈنڈی مار رہا ہے بڑا حقیر سا فائدہ اس کے ہاتھ آ رہا ہے۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ لیا گیا۔ دوسرے‘  تطفیف  سے مراد ہے کمی کردینا۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔ عرض کی گئی: حضور ﷺ! نماز میں چوری کیا ہوگی؟ فرمایا:رکوع صحیح ادا نہ کرنا‘ سجدے کو صحیح ادا نہ کرنا‘نماز کو حسین بنانے کی کوشش نہ کرنا ‘ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا نہ کرنا اور جلد بازی کرنا ‘ نماز کی چوری ہے۔ سیدنا عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جب دیکھا کہ ایک شخص نماز میں جلدی جلدی رکوع وسجود ادا کررہا تھا تو فرمایا:’’تُو نے تطفیف  کر دی۔‘‘اللہ کا حق یہ ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہو‘ اس کے آگے جھکو تو احسن طریقے پر۔ ہر نماز کے بعد ہم دعا کرتے ہیں: اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ’’ اے اللہ! میری مدد فرما اپنے ذکر کے لیے اور اپنے شکر کے لیے اور اپنی عمدہ عبادت کے لیے۔‘‘یہ جو عبادت مطلوب ہے حسن کے ساتھ‘ یہ صرف نماز ہی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ پوری زندگی میں ایسا رویہ مطلوب ہے ۔ زکوٰۃ ادا کرنی ہے‘روزہ رکھنا ہے ‘حج ادا کرنا ہے ‘ قربانی پیش کرنی ہے‘ ماں باپ کے ساتھ رویہ ہے‘ کمائی کا معاملہ ہے تو ہر موقع پر حسین انداز میں بندہ بننا ہے۔ یہ ترازو کے دو پلڑوں میں تولے جانے والے امور ہی سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ پوری زندگی پر پھیلا ہوا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ  تباہی ہے‘ ہلاکت ہے‘ بربادی ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔ یہ لوگ کون ہیں؟
{الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ (۲)}
’’وہ لوگ کہ جب دوسروں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں۔‘‘
کوئی پیمانہ ہوگا ‘کوئی باٹ رکھا جائے گا یا موجودہ دور کا الیکٹرانک سکیل ہو گا‘ تو جب وہ لوگوں سے ناپ کر لیتے تو پورا پورا ناپ کر لیتے ہیں لیکن :
{وَاِذَا کَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ(۳)}
’’اور جب خود انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کمی کر دیتے ہیں۔‘‘
جب ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا دیتے ہیں۔ جو بھی پیمائش یا وزن کے پیمانے ہوں‘ جب لینے کی بات آتی ہے تو پورا پورا بلکہ زیادہ ہی لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب دینے کی بات آتی ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اپنے لیے معیار کچھ اور ہے جبکہ دوسرے کے لیے کچھ اور۔ اپنے مفاد کی فکر ہے‘ دوسرے کا نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔یہ دراصل کردار اور رویے میں گراوٹ ہے جس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ یہاں پر بیان کر رہا ہے۔ رسولِ مکرمﷺ کی مشہور حدیث مبارک ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: 
((لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ)) (صحيح البخاري)
’’تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے آپ کے لیے چاہتا ہے۔‘‘
ہم سب کو چاہیے کہ جو اپنے لیے پسند کریں وہی دوسرے کے لیے بھی چاہیں‘ مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے جھگڑوں کی پچاس فی صد وجہ یہی ہے کہ اپنے لیے معیار کچھ ہے ‘ دوسرے کے لیے کچھ اور ۔ کاروبار اور اداروں سے شروع کر لیجیے تو ایک آجر ہے‘ اعلیٰ افسر ہے‘ مالک ہے‘ سیٹھ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میرا سارا سٹاف جان لگا کر کام کرے ‘ انتھک محنت کرے ‘وقت پر کام کرے اور رپورٹ بھی بروقت آئے۔ اہداف بھی پورے ہوں۔ البتہ جب تنخواہ دینے کی بات آتی ہے تو کہیں دو دن کے بعد‘ کہیں پانچ دن کے بعد‘ کہیں دس دن کے بعد‘کارپوریٹ سیکٹر میں دو مہینے کے بعد‘ میڈیا ہاؤسز میں چار مہینے کے بعد ادائیگی ہوتی ہے۔ سیٹھ کہتا ہے کہ نقصان ہو گیا۔ نقصان وہ اسے کہتا ہے کہ اس نے سوچا تھا ایک کروڑ کا پرافٹ ہو گا لیکن پرافٹ ہو گیا  ۸۰ لاکھ کا۔ اس بنیاد پر وہ تنخواہ دیر سے دے رہا ہے۔ پھر ایک کم سے کم اجرت کا معاملہ بھی ہے۔ اچھے بھلے مستحکم کاروبار ہیں اور ایک کوالیفائیڈ گریجویٹ کو تیس ہزار روپے دے رہے ہیں‘ وہ بھی اس کی آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد۔ اس چیز کو مَیں ذاتی طو رپر جانتا ہوں۔ اگر منافع ایک کروڑ سے ۸۰ لاکھ پر آ گیاتو کہتے ہیں نقصان ہو گیا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! چنانچہ ایک آجر کو اپنے لیے تو یہ پسند ہے کہ سٹاف وقت پر آفس میں ہو ‘ وقت پر آفس سے جائے‘ زیادہ نہ بیٹھے کہ اوور ٹائم دینا پڑے البتہ ٹارگٹس بھی پورے کرے ‘رپورٹ بھی ٹائم پر دے‘ لیکن جب دینے کی باری آئے تو کم سے کم اجرت کا بھی خیال نہ کرے۔اسے کہتے ہیں لینا پورا جبکہ دینا کم۔
اب اس معاملے کی معکوس صورت دیکھیں۔ ملازمین یہ چاہتے ہیں کہ بغیر محنت کے تنخواہ  مل جائے۔ پہلی کو نہیں بلکہ مہینے کے آخری دن ہی میرے اکائونٹ کے اندر کریڈٹ ہو جائے۔ اس حدیث کا حوالہ دینا بھی نہیں بھولتے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جائے‘توپہلے مزدوری بھی تو کرو ۔دفتر میں بیٹھ کر سمارٹ فون بھی چل رہا ہے‘ کرکٹ کے میچز بھی چل رہے ہیں‘ گپیں بھی چل رہی ہیں۔جوچیز امانت کے طور پر دفتر میں استعمال کے لیے دی گئی تھی وہ ذاتی کام میں لائی جا رہی ہے ۔ سارا وقت اس طرح برباد ہو گا تو رپورٹ وقت پر خاک بنے گی‘ ٹارگٹس خاک پورے ہوں گے۔ تنخواہ وقت پر چاہیے لیکن کام میں گڑبڑ ہے۔
اسی طرح ہماری بیٹی بہو بن کر کسی کے گھر جائےتو ہم چاہتے ہیں کہ رانی بن کر رہے۔ اس کو سر آنکھوں پر بٹھایا جائے۔اس کے برعکس کسی کی بیٹی کو ہم اپنی بہو بنا کر گھر لا رہے ہوں تو وہ نوکرانی بن جاتی ہے۔یہ تو بنیادی انسانی شرافت کے خلاف ہے۔ ہم تو مسلمان ہیں۔رسول اکرمﷺ کے اُمتی اور ماننے والے ہیں۔ ہمیں بچپن سے یہ حدیث یاد ہے کہ ’’تم مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ دوسرے بھائی کے لیے وہی بات پسند نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ‘‘
اسی طرح حکمرانوں اور عوام کے درمیان بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوام پورا ٹیکس دیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا کتنا بوجھ ہونا چاہیے‘ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ اس ٹیکس کے عوض عوام کو کیا دیا جا رہا ہے! آپ کا‘ میرا جمع شدہ ٹیکس جو قوم پر خرچ ہونا چاہیے ‘ وہ تو حکومت کی کرپشن کی نذر ہو گیا۔ حکمران دو چار فتوے بھی لے لیں گے کہ ٹیکس ادا کرنا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ گویا اپنے حصے کا فتویٰ لیتے ہیں۔ اپنی ذمہ داری کے بارے میں فتویٰ کیوں نہیں لیتے؟ 
ایک مثال اور لے لیں ۔ہم کبھی نہیں چاہتے کہ ہمارے گھر کے سامنے کوئی اپنی گاڑی اس طرح کھڑی کر دے کہ ہماری گاڑی نکل نہ سکے ۔ اگر ہم اپنے گھر کے سامنے ایسا ہونا نہیں چاہتے تو اپنی گاڑی کسی دوسری جگہ پارک کرتے ہوئے کیا اس بات کا خیال رکھتے ہیں؟جمعہ کا اجتماع ہے۔دو افراد گاڑی کے درمیان میں فاصلہ اس لیےرکھتے ہیں تاکہ جو پہلے نکلنا چاہے وہ نکل جائے۔ ایسے میں ایک حضرت موٹر سائیکل پر آتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر کہتے ہیں: ماشاءاللہ‘ میں توایک نیک کام کرنے کے لیے آیا ہوں‘اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مجھے تو فوراً جگہ مل گئی۔ وہ اپنی موٹر سائیکل اس خالی جگہ کے اندر داخل کر دیتے ہیں۔پھر ایک اور صاحب آتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ مسلمان مسلمان بھائی ہیں‘ سب نماز کو آئے ہوئے ہیں‘ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ پہلے والی موٹر سائیکل ذرا آگے ہٹا کر اپنی موٹر سائیکل بھی کھڑی کر دیتے ہیں۔ پھر مسجد سے اعلان کرانا پڑتا ہے کہ باہر گاڑی بلاک ہو گئی ہے۔ کسی کے گھر میں ایمرجنسی ہوگی‘ اس کو جانا ہے۔ اگر ایسی ہنگامی صورت حال ہمارے گھر میں ہوتی تو کیا ہمیں یہ اچھا لگتا ؟
آج جنوری کی دو تاریخ ہے۔۳۱ دسمبر کی رات کو کراچی میں تو بہت کچھ ہوتا ہے‘ لاہور میں بھی ہوتا ہے۔ آتش بازی ہوتی ہے۔ یہ صرف جہلاءیا غیر پڑھے لکھے لوگ ہی نہیں کرتے بلکہ پوش ایریاز میں بھی ہوتی ہے۔ انتہائی بے ہودہ قسم کی بے ہنگم باتیں۔ کوئی اپنی رائفل صاف کر رہا ہے‘کوئی ٹی ٹی صاف کر رہا ہے‘ کوئی اے کے ۴۷ رپیٹر۔ رات کو ۱۲ بجے ہوائی فائرنگ شروع ہو جاتی ہے۔ چاہے اس سے کسی بچے کے دل کی دھڑکن تیز ہو جائے یا کوئی بزرگ متاثر ہو۔ صبح نماز کی فکر کس نے کرنی ہے!بے ہنگم فائرنگ شادی بیاہ کے موقع پر کرتے ہیں‘ نیو ایئر نائٹ کے موقع پر کرتے ہیں‘ پاکستان انڈیا کے میچ کے موقع پر کرتے ہیں۔رمضان شریف کے اختتام پر جب شیطان کھل جاتا ہے تو ہم بھی کھل جاتے ہیں اور عید کی رات فائرنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کس قوم کی علامت ہوتی ہے! ایسے میں متعدد لوگ زخمی ہو جاتے ہیں‘ یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے‘ کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہوا ہے‘ کسی کی گردن ٹیڑھی۔ اتنی بنیادی انسانی اخلاقیات ہم میں سے ختم ہوگئیں۔ 
یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہ آپ کے‘ میرے گھروں میں آتا ہے۔ہمارےاداروں میں آتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ ہمارے رویوں میں اس کا نور نظر آئے۔چنانچہ تباہی ہے ان کے لیے جو کمی کرتے ہیں۔ لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا ‘مگر جب دینے کی بات آتی ہے تو اس میں ڈنڈی مارتے ہیں۔ میرے خیال سے یہ پانچ مثالیں کافی ہیں ۔ شارحین حدیث اور علمائے امت نے چند احادیث کو ایک بہت بڑا خزانہ قرار دیا کہ بہت سارے مسائل اور معاملات میں ان سے رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ ایک تو یہی مشہور حدیث ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ دوسرے کے لیے وہی بات پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اسی طرح بچپن سے ایک حدیث یاد ہے‘جس میں مسلمان کی تعریف یہ بتائی گئی کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں:((اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ))(متفق علیہ)۔ کیا اس قسم کی فائرنگ سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں؟ لوگوں کا سکون محفوظ ہے؟ لوگوں کی نیند اور لوگوں کا آرام محفوظ ہے؟ کل ہماری چھٹی ہے تو آج ڈرل مشین لے کر رات کو بارہ بجے کام کر رہے ہیں۔ پڑوسی کا بیڑا غرق ہو رہا ہے‘فکر ہی کوئی نہیں۔ یہ دین صرف چند رسوم (rituals) کا نام نہیں ہے۔modes of worshipکا نام نہیں ہے۔ کچھ عقیدوں کا ذکر کر دینے کا نام نہیں ہے۔ کچھ عقائد کے مباحث کو پیش کر دینے کا نام نہیں ہے۔ یہ activeدین ہے۔ اس کا تو نام ہی’’ اسلام‘‘ ہے‘جس کا مطلب ہے: سر ِتسلیم خم کرنا۔ یہ سرنڈر زندگی کے تمام گوشوں میں ہوگا۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے!
انسان یہ حرکتیں کیوں کر جاتا ہے؟ ہلکا سا فائدہ اٹھا کر اتنا برا کردار کیوں اختیار کرتا ہے؟  اتنی گراوٹ پر کیوں آ جاتا ہے؟ فرمایا :
{اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّـہُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ(۴)}
’’کیا اُن کو یہ گمان نہیں کہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں!‘‘
کیا وہ یہ خیال نہیں رکھتے کہ انہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔کوئی مسلمان ہونے کا دعوے دار  ہو اور پھر یہ حرکت کرے تو ایسا لگتا ہے کہ اسے گویا یقین نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ وہ بھول گیا کہ اللہ اس کے ساتھ ہے: 
{وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط }   (الحدید:۴)
’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ ‘‘
{ وَاِنْ تُـبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْـکُمْ بِہِ اللہُ ط} (البقرۃ:۲۸۴)
’’اورجو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو خواہ چھپائو‘ اللہ تم سے اس کا محاسبہ کر لے گا۔‘‘
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ ج   وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَـیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (۱۶)} (قٓ)
’’اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اُس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے۔ اور ہم تو اُس سے اُس کی رَگِ جاںسے بھی زیادہ قریب ہیں۔ ‘‘
{اِنَّهٗ عَلِيْمٌ بِذَاتِ الصُدُوْرِ}  (فاطر:۳۸، الملک:۱۳)
’’بے شک وہ سینوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔‘‘
 حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
{یٰـبُنَیَّ اِنَّہَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ  فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِہَا اللہُ ط   اِنَّ اللہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ(۱۶)} (لقمٰن)
’’اے میرے بچّے! اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو‘ پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر‘ اُسے اللہ لے آئے گا۔ یقیناً اللہ بہت باریک بین‘ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
پھر یہ حرکت  کیوں ہوتی ہے؟ ڈنڈی کیوں ماری جاتی ہے؟ کیا وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ انہیں  دوبارہ زندگی دے کر کھڑا کیا جائے گا :
{لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ(۵)}
’’ایک بڑے دن کے لیے۔‘‘
{یَّوْمَ یَـقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶) }  (المطففین)
’’جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے ربّ کے سامنے۔‘‘
 ساری تان یہاں آکر ٹوٹتی ہے۔اللہ ربّ العزت ہر بات کا علم رکھنے والا اور ہر بات پر قدرت رکھنے والا ہے۔ان دو صفات کے ساتھ بار بارکُل  کا لفظ کیوں آتا ہے؟ ہمارے استاد ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے تھے کہ یہ آخرت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اس اشکال کا جواب ہے کہ کیسے مُردے زندہ کر دیے جائیں گے اور ایک ایک بات پیش ہوگی۔ اللہ تعالیٰ میکرو لیول کی باتیں ہی نہیں‘ مائیکرو لیول کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ سینےکے رازوں سے بھی واقف ہے۔جب اللہ کے سامنے  پیشی ہونی ہے تو یہ حرکتیں کیوں ہوتی ہیں؟ دراصل یہ یقین نہیں رہتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ یقین نہیں رہتا کہ مجھے مرنے کے بعد اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ میرے اور آپ کے عمل پر سب سے زیادہ آخرت کا عقیدہ اثر انداز ہوتا ہے۔ جتنا موت کا یقین ہوگا‘ جتنا کل کی جواب دہی کا احساس ہوگا اتنا سات پردوں میں بھی سیدھے رہیں گے۔ غلطی ہو جائے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ معصوم صرف پیغمبر ہوتے ہیں‘ ہم تو سب خطاکار ہیں۔ توبہ کر لو‘ اللہ معاف کر دے گا لیکن زندگی کا رخ تو سیدھا رکھو۔ اللہ کرے کہ وہ رخ ہو جو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ مومن وہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے۔
تکبر کا اظہار کرنے والے کلمہ گو مسلمان تو ہوں گے لیکن صاحب ایمان اس معنی میں نہیں کہ دل میں وہ یقین ہو جو بندے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تکبر‘ دنیا پرستی ہو‘ اختیار کا غلط استعمال ہو‘ ڈنڈی مارنے کا معاملہ ہو‘ خیانت ‘ جھوٹ اور دھوکے کا معاملہ ہو‘ طاقت کا غلط استعمال کر کے لوگوں کا مال ہڑپ کرنے کی بات ہو‘ اپنے لیے معیار کچھ ہو جبکہ دوسرے کے لیے کچھ اور ہو جائے‘ یہ حرکتیں تبھی ہوتی ہیں جب بندہ دل سے یقین نہیں رکھتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔بھول جاتا ہے کہ مجھے مر کر اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ بھول جاتا ہے کہ کل ایک ایک بات کا حساب دینا ہے۔ سورۃ الزلزال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ(۷) وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ(۸)}
’’توجس کسی نے ذرّے کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہو گی وہ اُسے دیکھ لے گا ۔اور جس کسی نے ذرے کے ہم وزن بھی کوئی برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘
 اسی لیے بڑا پیارا جملہ ہے‘ بزرگوں کا قول ہے کہ جو کرنا ہے کر لو‘ بس یہ سوچ کر کرو کہ اللہ پوچھے گا ضرور۔ اللہ کے سامنے تمہاری پیشی تو ہوگی۔ نماز کی ہر رکعت میں ہم اسی کو دہرا رہے ہوتے ہیں :
{مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ}  (الفاتحۃ)
’’ جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
یہ اوپر سے نیچے تک سارا بگاڑ کیوں ہے؟ میں نے ابھی سیاست دانوں کی بات نہیں کی۔ ادھر بھی یہی مسئلہ ہے۔ جب حکمران بنتے ہیں تو رویے کچھ اور ہوتے ہیں‘ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو رویے کچھ اور ہوتے ہیں۔ کل کی اپوزیشن والے آج حکمران بنے ہوئے ہیں جبکہ   آج جو اپوزیشن میں ہیں وہ کل حکمران تھے۔ اہل ِاقتدار کے ہاں بھی‘ اپوزیشن والوں کے ہاں بھی‘ دینی طبقات میں بھی‘ عوام الناس میں بھی اپنے لیے معیار کچھ اور ہے جبکہ دوسرے کے لیے کچھ اور۔ تبھی یہ بگاڑ اور فساد کا معاملہ ہے۔ہمارا دین صرف عقیدے کی اصلاح کی بات نہیں کرتا۔ آج کچھ لوگ عقیدے کی اصلاح پر ہی لگ گئے ہیں اور اسی کے مباحث میں الجھ گئے ہیں۔ بال کی کھال نکالنے پر لگ گئے ہیں۔ میرا سادہ سا سوال ہے کہ کسی غیر مسلم کو مسلمان کرنے کے لیےکتنا عقیدہ پڑھائیں گے؟ کتنی کتابیں پڑھائیں گے؟ کتنے کورسز کرائیں گے؟ ہم نے  کن کن گوشوں کے اندر جا کر مباحث شروع کر دیے جبکہ عمل کے میدان میں جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے! دبئی میں بیٹھامسلمان کہتا ہےہندو کے ساتھ کاروبار کرنے میں آسانی ہے‘ مسلمان کے ساتھ کاروبار کرنے میں مشکل ہے۔ استغفراللہ!یہ ہمارے کردار ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں ‘ رسول اللہﷺ کے اُمتی ہیں۔ اس دعوے کے بارے میںrevisit کرنے کی ضرورت ہے۔ دل میں یقین ہوگا تو عمل اس کا ثبوت پیش کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ کیفیت عطا فرمائے کہ مومن وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے!