(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۵) - ڈاکٹر اسرار احمد

17 /

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۵)مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ

آیت ۱۰ {فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَـزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰)}’’اُن کے دلوں میں ایک روگ ہے‘ تو اللہ نے ان کے روگ میں اضافہ کر دیا۔اور ان کے لیے دردناک عذاب ہےاس جھوٹ کے سبب جو وہ بول رہے تھے۔‘‘
مرضِ قلب کی وضاحت
فرمایا کہ ان کے دلوں میں ایک روگ ہے‘مرض ہے‘ بیماری ہے‘اور اس بیماری کو معیّن نہیں کیا گیا کہ وہ کون سی بیماری ہے۔اگر تاویل ِخاص کو سامنے رکھیں کہ اس میں  روئے سخن یہود کی طرف ہے تووہ مرض ’’حسد‘‘ تھا جو علماءِ یہود کی مذہبی چودھراہٹ اور تکبرکا عکس اور اُسی کا نتیجہ تھا۔ وہ اس روگ میں مبتلا تھے کہ یہ مقامِ فضیلت ہم سے کیوں سلب ہوا جو دو ہزار برس تک ہمارا امتیازی مقام تھا۔ وحی اور نبوت کے مہبط ہم تھے‘ سارے نبی ہماری نسل میں سے اُٹھتےرہے‘ کتابیں ہمیں دی گئیں۔ مذہبی چودھراہٹ اور سیاسی قیادت و سیادت پر ہم علماء ِ یہود فائز تھے۔ آج یہ چیز ہم سے چھین کر دوسروں کو دے دی گئی! دراصل تکبر اور حسد ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ یہی ان کامرض تھا۔ اسی لیے یہاں لفظ مرض کو مبہم رکھا گیا ‘واضح نہیں کیا گیا۔ منافقین کا اصل مرض حبِ جان‘ حب ِمال یا یوں کہیے حب ِدنیاکی بنیاد پر بزدلی تھا۔ جان بھی عزیز ہے ‘مال بھی عزیز ہے ۔ اسلام بھی عزیز ہے‘ لیکن اسلام کے لیے جان اور مال کی قربانی جھیلنے کے لیے تیار نہیں۔ ازخود کچھ ہو جائے تو ہو جائے۔
مجھے لطیفے کے درجہ میں بات یادآئی‘کراچی میں ہمارے ایک بزرگ ساتھی ہیں‘ بہت بذلہ سنج ‘وہ ایک تلخ حقیقت کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا کرتے ہیں: ’’اللہ حق ‘رسول ؐ حق ‘ قرآن حق‘دین حق ‘لیکن پیٹ برحق۔‘‘ یہ مسئلہ جب ایک ضعف ِارادہ والے انسان کے سامنے آتا ہے تو پھر وہ کہتا ہے کہ ہاں یہ سب کچھ حق ہے ‘ لیکن جان و مال کا نقصان برداشت کرنا گوارا نہیں۔ اس کے برعکس پختہ عزم و ارادہ والے لوگ ع ’’ہرچہ بادا باد ‘ ما کشتی در آب انداختیم‘‘کی شان کے ساتھ آتے ہیں۔علامہ اقبال کا یہ شعربہت مشہور ہے ؎
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ‘ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں !
لیکن کچھ لوگ جن کی یہ کیفیت نہیں ‘جیسا کہ غالب نے کہا ع’’جس کو ہو جان و دل عزیز‘ اُس کی گلی میں جائے کیوں!‘‘اُس گلی میں داخل تو ہوگئے ہیں مگرجان بھی عزیز ہے ‘ مال بھی عزیز ہے ‘کسی شے کا نقصان گوارانہیں ہے تووہ مذبذب ہوکر رہ جائیں گے ۔دُنیاکے تمام متعلقات اس کے ذیل میں آجائیں گے ۔اولاد بھی پیاری ہے ‘اہل و عیال سے محبت بھی ہے‘ گھر بھی پیارا ہے۔ اس ضمن میں سورۃ التوبہ کی وہ آیت ذہن میں لے آئیے:
{قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ   اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ط وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ(۲۴) }
’’( اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے: اگر تمہیں اپنے باپ‘ اپنے بیٹے‘ اپنے بھائی‘ اپنی بیویاں‘ اپنے رشتہ دار‘اور وہ مال جو تم نے بڑی محنت سے کما کر جمع کیے ہیں‘ اور اپنی وہ تجارتیں جن کے کساد اور مندے کا تمہیں خوف لاحق رہتا ہے‘ اور اپنی وہ حویلیاں(اور جائیدادیں) جو تمہیں بہت پسند ہیں‘ (اگر یہ سب چیزیں) محبوب تر ہیں اللہ سے ‘ اُس کے رسول (ﷺ) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تو جائو انتظار کرو‘ یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔ ‘‘
وہی قانون یہاں آ رہا ہے: {فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا}’’ان کے دلوں میں ایک روگ ہے تو اللہ نے بڑھا دیا ان کا یہ روگ۔‘‘ یہ بڑھانا کس اعتبار سے ہے؟ یہ اس اعتبار سے کہ آگے جوفرمایاگیا:{وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵)} کہ اللہ تعالیٰ ان کی رسّی دراز کر رہا ہے ‘ان کا پردہ چاک نہیں کررہا۔ ان کی رسّی دراز ہو رہی ہے اوروہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہو گئے۔ دیکھوہم بچ گئے۔مرحلہ سخت آیا تھا ‘ہم نے جھوٹا بہانہ بنا کر اپنے آپ کو بچا لیا۔ یہ مسلمان بیچارے‘یہ جو دیوانے (fanatics) ہیں‘یہ جان جوکھوں کے کام کرتے پھر رہے ہیں۔ایک چھوٹا سا جھوٹ ہی تو بولنا تھا۔ہم نے ذرا سا بہانہ بنایا ‘معذرت کی اور رخصت لے کر آگئے۔ چنانچہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہو گئے‘ درآنحالیکہ وہ اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے رسّی ڈھیلی کی جارہی ہےیا ڈھیل دی جارہی ہے ‘ان کا مرض بڑھ رہا ہے ۔ یہی وہ قانون ہے جس کی آخری شکل آیت ۷ میں بیان ہوچکی ہے :{خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ....}
واپسی ناممکن!
قانونِ ہدایت و ضلالت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کونیکی اور بدی کی تمیز دے دی اور ان میں انتخاب کا اختیار(choice) بھی دے دیا۔ خارج میںبھی داعیانِ حق و خیر بھی ہیں اور داعیانِ شر بھی ۔ انسان کے اندر بھی کسوٹی موجودہے۔ اسے عقل بھی دے دی گئی اور نیکی و بدی کی تمیز بھی ودیعت کر دی گئی:{فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا(۸)}۔ اب جدھر جانا چاہتے ہو جائو‘ لیکن یاد رکھو کہ خیر کے راستے پر بڑھو گےتو اللہ تعالیٰ راستہ کشادہ کرتے چلیں جائیں گے۔ شروع میں بڑی مشکل نظر آئے گی‘ جب آگے بڑھو گےتو معلوم ہو گا آسانی ہے ‘کوئی اتنی بھی مشکل نہیں۔ بڑا کٹھن مرحلہ نظر آ رہا تھا لیکن یہ تو اتنا کٹھن ثابت نہیں ہوا۔ اللہ اس کو آسان بناتا چلا جاتا ہے:{فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی(۷)}۔ اس کے برعکس اگر غلط راستہ اختیار کرو گے تواللہ وہ کھول دے گا ‘اس پر چلنا آسان کردے گا کہ اس پر بڑھتے چلے جائو! آج چھوٹے درجے کی بے حیائی تھی ‘کل اس سے دس گنا بڑھ کر بے حیائی کا ارتکاب کرو گے۔ پھر بے حیائی میں بڑھتے چلے جائو گے‘ یہاں تک کہ نیکی اوربدی کو پہچاننے کی حس ختم ہو جائے گی‘ حق کی طرف مراجعت کا اب امکان ہی نہیں رہے گا‘ جس کو کہتے ہیں: point of no return کہ اب واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ ایک حد ہوتی ہے جس میں آدمی واپس آ سکتا ہے۔ اُس حد سے گزرنے کے بعد ایک انتہا وہ آتی ہے کہ پھر آدمی واپس آ ہی نہیں سکتا۔ اس کو قرآن کہتاہے: {خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ}(البقرۃ:۷) یا{طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ} (النحل:۱۰۸)  کہ اللہ نے ان کے دلوں پرمہر لگا دی ہے۔
یہاں بھی فرمایا:{فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ}’’ان کے دلوں میں ایک روگ تھا۔‘‘ انہوں نے اسی کی پیروی کی۔ تکبر کی پیروی کی‘ یا حبِ دُنیا انہیں لے کر بیٹھی رہی‘ انہیں آگے بڑھنے سے روکتی رہی ۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے مرض کو بڑھا دیا: { فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا}۔ یہی بات سورۃالصف میں آئی ہے: {فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ ط} ’’جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تواللہ نے ان کے دلوں کوبھی ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ ٹیڑھ کی آخری انتہاوہی ہے کہ دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔یہاں جو فرمایا : {فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ} تو یہ دونوں طرف قابل اطلاقapplicable ہے۔ علماءِیہودکے دلوں میں اپنا پندار‘ غرور اوراس کی بنیاد پر حضور ﷺ اور اہل ِایمان سے حسد۔ دوسری طرف منافقین کا مرض حبِ دُنیا‘ حبِ مال‘ حب ِاہل وعیال‘ حبِ جائیداد‘ یعنی دنیا اور اس کی متعلقات کی محبتیں ۔ بقول غالب ؎
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے‘ کلیسا مرے آگے!
ازروئے الفاظِ قرآنی:{مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَق لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ ط} (النسا:۱۴۳)’’یہ اس کے درمیان مذبذب (ہو کر رہ گئے) ہیں‘ نہ تو یہ اِن کی جانب ہیں اور نہ ہی اُن کی جانب ہیں۔‘‘ چلنا چاہتے بھی ہیں تو چل نہیں پاتے ‘ ہمت جواب دے جاتی ہے ‘وگرنہ بات اچھی لگتی ہے۔ بدنیتی سے نہیں آئے تھے۔ بدنیتی سے تو جوآئے وہ شعوری منافق تھےجو سازش کے طورپر شامل ہوئے اورایک وقت ِمعیّن طے کرکے آئے تھے کہ بس اتنا عرصہ رہیں گے۔ صبح کے وقت ایمان کا اعلان کرو اورشام کو مرتد ہوجاؤ‘ واپس آجاؤ۔اس طرح کچھ نہ کچھ کو تو اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے ہی آؤ گے۔
{وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰)} ’’ اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بسبب اُس جھوٹ کے جو وہ بولتے رہے۔‘‘ یا ’’بسبب اُس جھوٹ کے جو وہ کہتے رہے۔‘‘
یہ بڑا باریک سا فرق ہے‘ اس لیے عام مفسرین جنہوں نے اس پرزیادہ توجہ نہیں کی‘ یہی ترجمہ کیا ہے: ’’اُس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے۔‘‘ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے‘ لیکن اس پر عذابِ الیم کی وعید اور اس شدّت سے اس پر نکیر اوراتنی سخت گرفت‘ یہ کچھ متناسب(proportionate )معلوم نہیں ہوتا۔ چنانچہ شاہ عبد القادرؒ اور انہی کے تتبع (پیروی) میں شیخ الہندؒ نے ترجمہ کیا ہےکہ ’’جھوٹ کہتے رہے‘‘ یعنی وہ اپنے ایمان کادعویٰ جوکررہے تھے وہ جھوٹا تھا۔ چاہے وہ یہود جوکہتے تھے کہ ہم بھی مؤمن ہیں ‘حقیقتاً وہ مؤمن نہیں۔ ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے ‘ان کا یہ قول جھوٹ پرمبنی ہے۔ اسی طرح منافقین جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے وہ بھی جھوٹ تھا اور ان کے جھوٹے دعوے کی پاداش میں ان کے لیے دردناک ‘الم ناک عذاب ہے۔
آیت۱۱{وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)}’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں‘ وہ کہتے ہیںکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘
وہ کہتے ہیں ہم تو صلح جُو لوگ ہیں‘ مصالحت چاہتے ہیں‘ اصلاح کے لیے کوشاں ہیں۔
آیت۱۲{ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)}’’آگاہ ہو جائو کہ حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں‘ مگر انہیں شعور نہیں ہے۔‘‘
فساد فی الارض کی اصل حقیقت
ان دو آیتوں کے اصل مفہوم کو سمجھنے کے لیے کچھ صغریٰ کبریٰ سمجھاناپڑے گا۔ ازروئے قرآن فساد فی الارض کیا ہے؟یہ زمین اللہ کی ہے ‘اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے‘ اُسی کی مرضی کے مطابق یہاں انسان کو زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ ہے اصل میں حق‘یہ ہے امن۔اس کے خلاف جو روِش بھی ہے وہ فساد ہے‘ بغاوت ہے۔ ایک شخص خود بادشاہ بن کر بیٹھ گیا اور اپنی مرضی کا مالک ہے تو وہ گویا اپنی خدائی کا دعویدار ہے۔ مولانا رومؒ نے تو یہاں تک کہا ہے ؎
نفسِ ما ہم کمتر از فرعون نیست
آں کہ او را عون ما را عون نیست!
یعنی ہمارا نفس بھی فرعون سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی خدائی کا مدّعی ہے کہ یہ وجود میرا ہے ‘اس پر میری مرضی چلے گی ۔ مجھے یہ شے پسند ہے ‘اس کا حصول جائز ہے یا ناجائز ‘مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔مجھےتو بس یہ شے ملنی چاہیے کہ یہ میری طلب ہے۔ فرعون کے پاس معاونت تھی ‘مدد تھی‘ لائو لشکر تھا‘اختیارات تھے تو اُس نے زبان سے بھی خدائی کا دعویٰ کردیا : {اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی(۲۴)}(النازعات) ۔جبکہ ہمارے پاس اختیارات نہیں  ہیں۔ چنانچہ زبان سے تو ہم کچھ نہیں کہتے ‘لیکن ہمارا نفس اندر یہی خدائی کا دعویٰ کررہا ہے۔ درحقیقت یہی فساد ہے۔ انفرادی سطح پر فساد اللہ کی بندگی کی بجائے اپنے نفس کی بندگی ‘ معاشرے کی بندگی ‘ زمانے کے چلن کی پیروی کرنا ہے۔ ع ’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی!‘‘ اس کیفیت میں بظاہر آپ جتنے بھی امن میں ہیں‘ حقیقت میں آپ کی زندگی میں فساد ہے۔ اسی طرح ایک معاشرہ جو بغاوت پر مبنی ہے‘ جیسے ڈاکوئوںکا ایک اڈا ہو۔ڈاکو باہر ڈاکے مارتے ہیں ‘آپس میں تو ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہتے ‘اپنے اڈے میں وہ بڑے پُرامن ہیں‘ لیکن اس کو فساد ہی کہاجائے گا‘کیونکہ درحقیقت یہ فساد کی جڑ اور بنیاد ہے‘نہ کہ امن کا گہوارہ ۔اگر کسی جگہ پر بہت سے سانپ اوربچھو ہوں اور وہ ایک دوسرے کو ڈس نہ رہے ہوںتو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں امن ہے۔ حقیقت میں تو ان کی فطرت کے اندر فساد موجود ہے۔ درحقیقت قرآن مجید کی اصطلاح میں اصل امن یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام‘ انفرادی و اجتماعی سطحوں پر اللہ جل شانہ کی مرضی کے مطابق چلایا جائے۔ اس کے خلاف جو بھی روِش ہو‘ چاہے وہ بظاہر کتنا ہی پُرامن معاشرہ ہو‘ وہ فساد کی آماج گاہ ہے۔ امریکی معاشرے میں یوں تو نظر آتا ہے کہ لوگ بڑے مہذب ہیں‘ خوش اخلاق ہیں‘ایک دوسرے کے حقوق کا بڑا پاس اورلحاظ کرنے والے ہیں‘ لیکن جنہیں یہ شعور ہو کہ امریکی استعمار کس طرح پوری دنیا کا استحصال (exploitation) کر رہا ہے‘ لوگوں کی محنت مزدوری سے کمائی ہوئی دولت کس طرح کھینچ رہاہے ‘انہیں معلوم ہے کہ یہ ڈاکو ہیں ۔یہ امپیریلزم پوری نوعِ انسانی پرڈاکا ہے۔ اپنے طور پر یہ ڈاکوئوں کا اڈا ہے جس نے انہیں امن فراہم کیا ہے ۔چنانچہ فساد اور امن کی اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اب اگر کہیں فساد ہے یعنی زندگی کا ہر پہلو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے تو یہ اللہ کی جناب میں بغاوت ہے ‘چاہے وہاں امن نظر آئے۔ مکہ میں بھی بڑا امن تھا۔ جو بھی ظلم ہو رہے تھے‘ غلاموں پر ہو رہے تھے اور وہ بیچارے برداشت کررہے تھے ‘ کوئی چیخ پکار نہیں تھی۔ بظاہر بڑا امن تھا لیکن نظام غلط تھا۔ اس مفسدانہ اور فاسقانہ نظام کو بدلنے کے لیے نبی اکرمﷺ اور آپؐ کے ساتھی{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ}(الفتح:۲۹) کوشاں ہوئے۔ ماحول کے اندر ایک تصادم پیدا ہوا ۔ اسی کا اگلا مرحلہ مدنی دَور میں آیا جس میں جنگ و جدال بھی ہے: {وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ} (البقرۃ:۱۹۰) ’’اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں۔‘‘ درحقیقت یہاں اس فساد کو ختم کرنے کے لیے جنگ کی جا رہی ہے ‘بظاہر خون ریزی کی جارہی ہے لیکن یہ امن ہے۔ البتہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہیں بھئی‘ لڑوبھڑو نہیں ‘امن سے رہو‘ چلو باطل سے کچھ مفاہمت (reconcile)کر لو‘ کچھ ان سے اپنی منوا لو‘ کچھ ان کی مان لو ‘ بجائے اس کے جوتم اس جدّوجُہد میں اپنا بھی نقصان کر رہے ہو‘ اپنے لیے بھی مسائل اور مشکلات پیدا کر رہے ہو‘ خود بھی قربانیاں دے رہے ہو اور دوسروں کا بھی بہرحال خون گِر رہا ہے‘اس سب کوچھوڑو اورامن کی کیفیت اختیار کرو‘یہ اصل میں فسادی ہیں۔
اقامت ِ دین کی جدّوجُہد کی مخالفت : فساد
اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت فی الارض کو رفع کرنے کے لیے اللہ کے وفادار بندے ایک جماعت اور جمعیت کی شکل میں باطل کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے لیے کھڑے ہو جائیں تو اب جو کوئی اس راستے میں رکاوٹ بنے گا وہ فساد فی الارض کا مرتکب ہو گا۔ چاہے وہ مصالحت کے نام پر ہو‘ چاہے صلح کُل ہونے کے اعتبار سے ہو ‘چاہے کہا جا رہا ہو کہ یہ لڑنا بھڑنا کاہے کو‘ رواداری ہونی چاہیے ‘بڑے خوش نما عنوانات ہوں لیکن حقیقت میں یہ فساد ہے۔ یہاں وہ کردار سامنے آ جاتا ہے جو منافقین کا تھا۔ اصل میں تو جان ومال عزیز تھے‘ میدانِ کار میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے ‘رشتے ناطے بڑے عزیز تھے‘ ان پر کوئی آنچ گوارا نہیں تھی ‘جبکہ حق کی تلوار تو رشتے کاٹ رہی تھی‘ باپ بیٹے سے‘ بھائی بھائی سے جدا ہو رہا تھا۔ اس اعتبار سے جب وہ اس جدّوجُہد کے خلاف کوشش کرتے تھے تو مؤمنین صادقین ان سے کہتے تھے کہ مت فساد مچائو زمین میں!
غور کیجیے‘ یہ فساد کون ساہے؟ وہ فساد یہ ہے کہ اصلاح فی الارض کی جو کوشش ہو رہی ہے اس کو سبوتاژ نہ کرو۔ محمد رسول اللہ ﷺ کاساتھ دو جس طریقے سے مؤمنین صادقین ساتھ دے رہے ہیں ۔ جب تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم توحید کو بھی مانتے ہیں‘ آخرت کو بھی مانتے ہیں‘اور تورات کو بھی مانتے ہیں جس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ قرآن آیا ہے‘ تو پھر اس کو بھی مانو ۔حضورﷺ کی پکار{مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہِ ط} (آل عمران:۵۲ والصف:۱۴) پرسب کے سب ان کے مددگار اور دست و بازو بنو‘ تاکہ اللہ کے خلاف زمین میں جو بغاوت ہے یہ فروہو اور اللہ کا نظام‘ اللہ کی حکومت قائم ہو۔ ’’حق بحقدار رسید‘‘ کے مصداق حق دار کو اُس کا حق ملے‘ اصل امن تب ہو گا۔ البتہ منافقین اور یہود دونوں کی روِش محمدرسول اللہ ﷺکے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا تھی۔ {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ}کی جدّوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کو قرآن نے فساد فی الارض کہا ہے۔ وہ جواب میں کہتے تھے کہ ہم تو مصلح ہیں‘ ہم تو چاہتے ہیں یہ لڑائی بھڑائی نہیں ہونی چاہیے ‘ خوا مخواہ کی خون ریزی نہیں ہونی چاہیے‘ بلکہ رواداری ہونی چاہیے۔ بات ذرا میٹھے انداز میں کی جانی چاہیے‘ بجائے اس کے کہ تلخ انداز اختیار کیاجائے۔ کٹ جانے کی بجائے مصالحت کی روِش اختیار کرنی چاہیے۔ مکی دَور میں یہ کردار ولید بن مغیرہ کا تھا اور مدینہ آ کر یہی رویہ یہود کا ‘پھر منافقین کا ہو گیا۔
چنانچہ یہاں فرمایا:{وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}’’جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد مت مچائو!‘‘ یعنی اللہ کے رسول ﷺاور آپ ؐکے ساتھیوں کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کے دست و بازو بنو ‘ان کا ساتھ دو {قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)}’’وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘ ہم تو چاہتے ہیں کہ بھائی چارے کی فضا قائم رہے ‘تصادم نہ ہو ‘کشاکش نہ ہو ‘ خون ریزی نہ ہو۔ یہ خوا مخواہ کا ایک دوسرے سے کٹ جانا اچھا نہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا:{اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)} ’’آگاہ ہو جائو ‘ حقیقت میں یہی فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔‘‘ اس وضاحت کی روشنی میں فساد اور امن کی تعریف (definition)اگر سامنے ہو تو ان آیات کا ایک ایک لفظ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ انہیں پتہ نہیں‘ حقیقت ان کے سامنے واضح نہیں ‘یہ short sighted ہیں۔ یہ جو اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ کوئی مصیبت نہ آ جائے ‘جھگڑا نہ ہو‘ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نہ ہوجائیں‘ ایک دوسرے سے کٹ نہ جائیں ‘بلکہ صلح کُل اور رواداری کے انداز میں اس معاشرے کے اندر ہم مل جل کررہیں ‘ حقیقت میں یہ فساد ہے۔ اس لیے کہ جو جدّوجُہد فساد کو رفع کرنے کی ہو رہی ہے اس کا ساتھ دینا ضروری ہے‘ لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
آیت۱۳{ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ ط’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لائو جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں‘ وہ کہتے ہیں: کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں؟‘‘
یہاں ’’النَّاس‘‘ لام معرفہ کے ساتھ ہے‘ اس سے اہل ایمان کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے دوسرے لو گ ایمان لارہے ہیں۔دیکھوان تمام مہاجرین کو جو اللہ اوراُس کے رسول ﷺ کی وفاداری میں گھر بار چھوڑ کر آ گئے ہیں اور دیگر اوس و خزرج کے اہل ِ ایمان کو جنہوں نے ہمہ تن حضرت محمدﷺ کی اطاعت قبول کی ہے ۔ اپنا سب کچھ حضورﷺ کی سپردگی میں دے دیا ہے۔ ’’مواخات‘‘ کے طور پر مہاجرین میں اپنے گھر اور دکانیں تقسیم کردیے ہیں ۔توفرمایاکہ جب ان سے کہاجاتاہے جیسےیہ لوگ ایمان لائے ہیں ویسے ہی ایمان لائو! اب اس میں بھی دونوں طرف بات چلے گی ۔
یہود ِمدینہ کا دعوائے ایمان
یہود کہتے تھےکہ جب ہم توحید اور آخرت کو مانتے ہیں تو ہم بھی مؤمن ہیں۔ ہم موسیٰ(علیہ السلام) اور تورات کو مانتے ہیں ‘تم محمد(ﷺ) اور قرآن کو مانتے ہو تو کیا فرق ہوگیا؟ اس اعتبار سے ہمیں بھی مؤمن تسلیم کرو‘ ہمیںrecognize کرو۔ تاریخی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی حکمت یہ ظاہر ہوئی کہ ہجرتِ مدینہ کے بعد بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر دیا گیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ اس میں بڑی حکمت یہ تھی کہ فوری طورپریہود کے کان کھڑے نہ ہو جائیں اوروہ پہلے دن ہی سے مخالفت پر کمر بستہ نہ ہو جائیں ‘بلکہ ان کے ذہن میں یہ بات آئے کہ ان کا اور ہمارا قبلہ ایک ہی ہے۔بیت اللہ جو ان کا مقدس مقام ہے‘ان کے جدّ ِامجد حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی عمارت ہے‘ جس کے ساتھ ان کا نسلی و قومی اور مذہبی روایات کے اعتبارات سے بہت گہرا رشتہ ہے‘ اس کی طرف رخ کرنے کی بجائے مسلمانوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا ہے‘تو یہود کو ایک طرح سے کچھ اطمینان حاصل ہوا کہ یہ کوئی اتنے غیر بھی نہیں ہیں‘ ان سےاتنا زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو گویا ایک اعتبار سے ہمارے متبعین ہیں‘ ہمارے camp followers ہیں‘ ہمارے قبلے کی پیروی کر رہے ہیں۔ لہٰذا فوری طور پر یہود کی طرف سے کوئی مخالفت اور دشمنی ظاہر نہ ہوئی۔
حضورِ اکرمﷺ نے ہجرت کے بعد فوری طور پر یہود کو جس طرح معاہدوں میں جکڑ لیا‘ یہ حضورﷺ کی طرف سے ایک بہت حکیمانہ اقدام تھا۔ قبلے کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی نوعیت کی حکمت کا اظہار ہے کہ بجائے اس کے کہ یہود فوری طور پراہل ِ ایمان کی بیخ کنی پر کمر کس لیں اورحضورﷺ اور اہل ایمان کو مدینہ کے اندر اپنی پوزیشن کو مستحکم(consolidate)کرنے کا موقع ہی نہ ملے‘تحویل قبلہ تک ۱۶ ماہ محمدرسول اللہﷺ کو ملے جس میں آپؐ نے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا اور یہود کو معاہدوں میں جکڑ لیا۔اس کے بعد پھر وہ سازشیں کرتے رہے۔ اوپر سے صلح ‘اندر سےسازش۔ جو شخص یہ رویہ اختیار کرتا ہے اس کی اپنی کوئی اخلاقی قوت (moral strength) باقی نہیں رہتی۔ وہ تو خود اپنے ضمیر کے سامنے مجرم ہوتا ہے کہ اوپر سے میں صلح کیے ہوئے ہوں اور بباطن سازش کر رہا ہوں۔ لہٰذا اس کے وار میں کبھی زیادہ زور نہیں ہو گا۔وہ جوکبھی جگر نے کہاتھا : ؎
مَیں زخم بھی کھاتا جاتا ہوں‘ قاتل سے یہ کہتا جاتا ہوں
توہین ہے دست وبازو کی وہ وار کہ جو بھرپور نہیں!
جس شخص کویقین نہ ہوکہ جوکام میں کررہا ہوںوہ حق ہے‘ اُس کے وار میں زور نہیں ہوتا۔ اس کا واربھرپور ہو ہی نہیں سکتا۔اس لیے کہ وہ توخود اپنی نگاہ میں ذلیل ہے ‘اپنے ضمیر کا مجرم ہے۔اس اعتبار سے یہ ایک بڑا حکیمانہ معاملہ تھا ۔میں سمجھتاہوں کہ اس کے ساتھ ان کے اس دعوے کی بڑی مطابقت تھی کہ ہم بھی مؤمن ہیں‘ہمیں بھی تسلیم کرو۔ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم محمد(ﷺ) پر ایمان لائیں اوراپناہاتھ ان کے ہاتھ میں دیں۔تم بھی مانتے ہو تورات اللہ کی کتاب ہے‘ وہ ہمارے پاس ہے ۔ تم مانتے ہوکہ موسیٰ(علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں‘ہم ان کو مانتے ہیں۔یہ پس منظر سامنے رکھیے ۔تویہ جتنابھی پورا بیانیہ (narrative) بیان ہورہاہے اس میں یہ دونوں بالکل فٹ بیٹھ رہے ہیں ۔ کہیںپر کوئی بات یہود کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ‘جیسے کہ پہلی آیت ہے : {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)} اس کازیادہ انطباق یہود پرہوتاہے کہ اس میں ایمان بالرسالت کاذکر نہیں ۔لیکن یہ جوطرزِعمل بیان ہو رہاہے کہ وہ جواب میں کہتے ہیں : {اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ ط }’’ کیا ہم ایمان لائیں جیسے یہ بے وقوف لوگ ایمان لائے !‘‘اس کا زیادہ انطباق منافقین پر ہوتا ہے۔
منافقین کا دعوائے ایمان
سَفِیْہ اسے کہتے ہیں جسے اپنے برے بھلے کا فہم حاصل نہ ہو‘ ناسمجھ ہو۔ جیسے کہ سورۃ النساء میں آیا: {وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَـآئَ اَمْوَالَـکُمُ}(آیت۵)’’او ر اپنے مال ناسمجھوں کے سپرد مت کرو۔‘‘ اگر انہیں سمجھ نہیں ہے‘ نیک و بد کی تمیز نہیں ہے‘ اپنے نفع نقصان کا شعور نہیں ہے تو مال ان کے حوالے مت کرو۔انگریزکے دور میں ’’کورٹ آف وارڈز‘‘ ایک محکمہ ہوتا تھا۔کوئی بڑ ا جاگیردار یا زمین دار ہوتا‘ اس کی اولاد ناسمجھ ہوتی یا آوارہ ہو گئی ہوتی تو حکومت اس کی وراثت جبراًکورٹ آف وارڈز کے سپرد کر دیتی تھی کہ اس سے اولاد کا خرچہ ادا کیا جائے۔وہ کھائیں پئیں‘لیکن اس جائیداد پر ان کا کنٹرول نہ ہو‘ ور نہ وہ اسے اللے تللوں میں اڑا دیں گے ۔ اسی طرح منافقین یہ کہتے تھے کہ یہ لوگ تو دیوانے ہیں‘ fanatics ہیں۔ انہیں اپنے نفع نقصان کاخیال نہیں ‘جان اور مال کی پروا نہیں ۔یہ توجان ہتھیلیوں پرلیے پھر رہے ہیں‘گھربار چھوڑ کریہاں آگئے ہیں۔اسی طرح جو یہاںانصار میں سے مؤمنین صادقین ہیں‘ انہیں بھی دائیں بائیں دیکھ کر‘سوچ سمجھ کر‘آگے پیچھے دیکھ کر چلناچاہیے۔ اپنا بھی کوئی تحفظ ہو‘جان ومال کابھی خیال رہے ۔ اولاد کے بھی حقوق ہیں ‘گھروالوں کا معاملہ ہے۔ آدمی یہ ساری چیزیں سوچ سمجھ کرچلے ۔ایسا لگتا ہے کہ ہرچیز سے بالکل آزاد ہیں۔جب پکارا ‘حاضرہو گئے۔جس کام کے لیے کہا‘سر ِتسلیم خم۔ ہم تو اتنے ناسمجھ نہیں ہیں ۔ چلناچاہتے ہیں لیکن دیکھ بھال کر‘ دائیں بائیں دیکھ کر‘ اپنے جان ومال کے تحفظ کے ساتھ۔ یہ بات منافقین کے کردار پر صد فی صد منطبق ہورہی ہے کہ ان کے نزدیک ’’ہر چہ بادا باد‘ ماکشتی در آب انداختیم‘‘ کا معاملہ ایک حماقت ہے۔
سورۃالحج کی آیت۱۱ میں فرمایا: { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ ج} یعنی لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی بندگی کنارے کنارے رہ کر کرنا چاہتے ہیں۔ منجدھار میں کودنا نہیں چاہتے۔ وہ آخرت بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا کا گھاٹا بھی گوارا نہیں۔ چاہتے ہیں کہ ہمیں دین بھی ملے لیکن دنیا کا بھی کوئی نقصان نہ ہو۔ جنت بھی مل جائے مگر دنیا میںکوئی قربانی بھی نہ دینی پڑے ۔اللہ کی بندگی تو کرنا چاہتے ہیں لیکن کنارے کنارے‘ حفاظت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے۔ اپنے تحفظ کا خیال مقدّم ہے۔ safety first ۔ فرمایا: {فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُنِ اطْمَاَنَّ بِہٖ جتواگر خیر ہو‘فائدہ حاصل ہوجائے‘ مالِ غنیمت بھی مل جائے‘ کچھ کرنا بھی نہ پڑے‘ (ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ آئے چوکھا ) تو اس پر بڑے مطمئن ہوتے ہیں۔ { وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ج اور اگر کہیں فتنہ وآزمائش ‘ابتلاء و امتحان‘ جان و مال کے لیے خطرات آ گئے تو اوندھے منہ گر پڑے۔یہ ہے ایک کردار۔فرمایا: {خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَط ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(۱۱)}’’وہ خسارے میں رہا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہی تو کھلا خسارہ ہے۔‘‘ یہ دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ اورتباہی وبربادی ہے ۔
{اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰــکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)}’’آگاہ ہو جائو کہ یہی بیوقوف ہیں (یہی احمق ہیں ‘یہی ناسمجھ ہیں) لیکن انہیں علم نہیں ہے ۔‘‘
ایمان کے اعتبار سے اصل تجارت ‘ سب سے زیادہ کامیاب تجارت تو وہ ہے کہ جان و مال اللہ کے حوالے کر دو۔ سورۃ التوبہ میں فرمایا:
{ اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ ط وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۱) }
’’یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ِ ایمان سے اُن کی جانیں بھی‘ اور اُن کے مال بھی‘ اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنّت ہے۔ وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ یہ وعدہ اللہ کے ذمّہ ہے سچا‘ تورات‘ انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے؟ پس خوشیاں منائو اپنی اِس بیع پر جس کا سودا تم نے اُس کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘
اگر یہ سودا کرلیاتوخوشیاں منائو۔ اگر ایمان کی رمق موجود ہوتومحسوس ہوگاکہ اس سے زیادہ نفع بخش سود ا کوئی اورنہیں ہے ۔ اصل میں تو انہیں علم حقیقی حاصل نہیں اور یہ اس ایمانِ حقیقی سے بھی محروم ہیں‘ اس لیے سچے اہل ایمان کوکہہ رہے ہیں کہ احمق اور ناسمجھ ہیں۔
آیت۱۴{وَاِذَا لَـقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ‘وْنَ(۱۴)} ’’اور جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان رکھتے ہیں (یا ہم بھی ایمان لائے ہیں) اور جب یہ خلوت میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کے پاس‘ کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے تو محض مذاق کر رہے ہیں۔‘‘
یہ دونوں ترجمے اس اعتبار سے کہ اگر یہود پر منطبق کریں تو ’’ہم ایمان رکھتے ہیں‘‘ یعنی ہم اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں‘ رسولوں کو مانتے ہیں ‘ ابراہیم علیہ السلام کومانتے ہیں‘ موسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں‘ تورات کو مانتے ہیں‘ ہم بھی مؤمن ہیں۔ یا یہ کہ منافقین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’ہم ایمان لے آئے ہیں‘‘ یعنی ہم محمد رسول اللہﷺ کومانتے ہیں ‘ لیکن جب وہ اپنے شیطانوں کے ساتھ تخلیے میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں یقینا ً ہم آپ کے ساتھ ہی ہیں ۔ہماری طرف سے اپنے دل میں کوئی تشویش پیدا نہ ہونے دیں کہ ہم آپ کا ساتھ چھوڑکر مسلمانوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ یہ تو بس ہنسی اور دل لگی ہے‘ یا جیسے ہم بامحاورہ کہتے ہیں کہ ہم ذرا مسلمانوں کوبنارہے ہیں‘ اس بات کی اس سے زیادہ حقیقت نہیں ہے۔
اس ضمن میں سورۃ البقرہ کی آیات ۷۶‘۷۷میں بھی ایک مضمون آرہا ہے جس کے الفاظ اس سے کچھ ملتے جلتے ہیں ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہوسکتا کہ یہاں یہود کا تذکرہ ہے۔ دوسری اقوام کی طرح یہود ی قوم اور گروہوں میں بھی مختلف مزاج کے لوگ ہیں ‘جیسا کہ سورۃ آل عمران میں آیا ہے کہ ان میں کچھ ایسےلوگ بھی تھے جو اپنی حق پرستی کا کچھ نہ کچھ بھرم قائم رکھنا چاہتے تھے اورکچھ ایسے بھی تھے جواپنی بات پر سختی سے اَڑ گئے تھے‘ کسی بھی درجے میں کوئی معقول بات ماننے کو تیار نہیں تھے‘ چنانچہ ان میں یہ تما م shades تھے۔ مکہ میں حضور ﷺ کی بارہ برس کی دعوت کے ردّعمل میں مختلف لوگ سامنے آئے‘ سب کا کوئی ایک موقف نہیں تھا۔ اسی طرح یہود میں بھی مختلف مزاج ‘ انداز اورموقف رکھنے والے لوگ تھے۔ ان میں سے کچھ کہتے تھے کہ ہاں جو کچھ نبی آخر الزماں (ﷺ) فرما رہےہیں یہ حق ہے‘ جن باتوں کی آپ کے رسول (ﷺ) خبر دے رہے ہیں‘ یہ ہماری کتب میں بھی درج ہے۔ گویا کہ ایک طرح سے تائیدتھی‘ کسی درجے میں اپنی حقیقت پسندی یا حق پسندی کا مظاہرہ کرتےتھے‘ لیکن صراحت کے ساتھ یہ کہنا کہ ہم محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لے آئے ہیں‘ اس سے گریز کرتے تھے ۔پھرجب یہ علیحدہ اپنی مجلسوں میں ہوتے تھے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے تھے کہ تم کیا کررہے ہو! جوباتیں ہماری کتب میں درج ہیں وہ تم ان مسلمانوں کو بتا رہے ہو! یہ قیامت کے دن تم پرحُجّت قائم کریں گے کہ اے اللہ! انہوں نے مانا اور تسلیم کیا تھا کہ یہ سب ہماری کتب میں درج ہے‘اس کے باوجود محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ لہٰذا ہمیں یہ باتیں انہیں نہیں بتانی چاہئیں۔ یہاں وہ بات بیان کی جارہی ہے:
{وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَا بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَـیْـکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۷۶) اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ (۷۷) } 
’’اور (ان میں سے کچھ لوگ ہیں کہ) جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اورجب وہ خلوت میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تو کہتے ہیں کیا تم بتا رہے ہو ان کو وہ باتیں جو اللہ نے کھولی ہیں تم پر؟ تاکہ وہ ان کے ذریعے تم پر حُجّت قائم کریں تمہارے ربّ کے پاس! کیا تمہیں عقل نہیں ہے؟ تو کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو تو معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ سب کچھ بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔‘‘
کیا ان احمقوں کو یہ بات یا دنہیں رہی یا ان کے علم میں نہیں ہے کہ اللہ تو ہر شے کا جاننے والا ہے۔خو اہ یہ اسے چھپا بھی لیں ‘ ا للہ کی نگاہوں سے تو وہ بات چھپی نہیں رہے گی۔ گویا یہ ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے جس پر قرآن کریم نے ایک طرح کی تعریض کی ہے۔ یہ آیت ثابت کررہی ہے کہ یہ یہود کا آپسی معاملہ تھا‘ چنانچہ اس سے اس رائے کو تقویت پہنچتی ہے کہ یہ بات بھی یہود ہی سے متعلق ہے۔
لفظ ’’شیطان ‘‘ کی وضاحت اور علمائے یہود
متذکرہ بالا آیت ۷۶ میں {وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ} کے الفاظ آئے ہیں کہ جب وہ ایک دوسرےسے خلوت میں ملتے ہیں‘ اور یہاں(آیت۱۴ میں) آیا: {وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا} ’’جب وہ اپنے شیطانوں کے ساتھ تخلیے میں ہوتے ہیں۔‘‘یہاں لفظ ’’شیطان‘‘ پہلی مرتبہ آیا ہے‘ تو اُس کی کچھ وضاحت سمجھ لیجیے ۔ ایک رائے یہ ہے اورامام راغب اصفہانیؒ نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ اس میں ’’ن‘‘ اصلی ہے۔شَطَنَ ای تَبَعَّدَ : دُور ہو جانا۔ یعنی سرکشی اورمعصیت کے اعتبار سے اللہ سے دُور ہو جانا‘ ہدایت سے دُور ہوجانا۔الشیطان وہ ہے جو ہدایت سے بہت دُور ہو گیا‘ اللہ سے بہت دُور ہو گیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ شَاطَ یَشِیطُ سے فَعْلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے۔ شَاطَ یَشِیطُ کے معنی ہیں: احترق غضبًا وحسدًا یعنی کوئی شخص غصے اور حسد کے اندر جل بھن کرکباب ہوجائے۔ اس سے پھرفعلان کے وزن پر ’’شیطان‘‘: غصے اور حسد کی آگ میں جل اُٹھنے والا‘جل کربھسم ہونے والا۔ اس اعتبار سے امام راغبؒ نے حضورﷺ کی ایک حدیث بھی نقل کی ہے : ((اَلْحَسَدُ شَیْطَان وَ الْغَضَبُ شَیْطَان)) (مفردات القرآن:۱ / ۵۶۸) یعنی حسد اور غضب ہی اصل شیطنت کی بنیاد ہیں۔ شیطنت انہی کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے اورپروان چڑھتی ہے۔ یہاں مراد ہے جو اُن کے بڑے سردار تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد علمائے یہود تھے۔اس لیے کہ اوس اور خزرج کے بڑے سردارتو ایمان لے آئے تھے‘ سوائے عبد اللہ بن اُبی خزرجی کے‘ جو منافقین کا سردار تھا۔ تو ’’شیاطین‘‘کا اطلاق بھی دونوں طر ف ہو گا۔
اہل ِکتاب میں سے بھی کچھ سردار ایسے تھے کہ جو کہتے تھے ہم بھی مؤمن ہیں ‘ہم توحید و آخرت کو مانتے ہیں‘ہم بھی ایمان لائے‘ لیکن انہیں خطرہ تھا کہ ہماری سرداری‘ سیادت‘ چودھراہٹ اور مسندیں خطرے میں ہیں‘ لہٰذا جا کر اپنے لوگوں کو مطمئن کرتے تھے کہ گھبرائیں نہیں ‘ہمارے بارے میں آپ کو کوئی سوئے ظن نہ ہو۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں لیکن ان مسلمانوں کے ساتھ ذرا استہزاء کر رہے تھے۔ ان کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ اسی طرح منافقین کا معاملہ تھا‘اورمنافق توہے ہی وہ جو دو طرفہ رہنا چاہتا ہے: {مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ق لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ ط} وہ یکسو تو ہونا چاہتا ہی نہیں۔ اگر وہ اہل ایمان کے ساتھ ہو جائے تو اسے کفار کے ساتھ تعلق توڑنا پڑے گا جس کے لیے وہ تیار نہیں۔ اگر وہ کفار کے ساتھ ہو جائے تو اہل ِایمان سے تعلق ٹوٹتا ہے ۔ چنانچہ ان کی روِش یہ تھی کہ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو! دیکھو‘ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اس کوانگریزی میں کہتے ہیں:Don't put all your eggs in one basket کہ اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہ رکھو‘ اگر وہ کہیں گر گئی تو سارے کے سارے انڈے ٹوٹ جائیں گے۔ چنانچہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ کچھ تقسیم کرکے رکھو۔اہل ِایمان کے ساتھ بھی اچھےتعلقات رکھو اور کفار کے ساتھ بھی۔ سورۃ المجادلہ میںاس کا نقشہ یوں کھینچا گیاہے:
{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَیْہِمْ ط مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْلا وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۴)}
’’کیا تم نے غور نہیں کیا اُن لوگوں (کے طرزِعمل) پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے اُن لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں ‘اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں اٹھاتے ہیں۔‘‘
یہ جھوٹا حلف لےرہے ہیں ‘ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ اے مسلمانو! یہ نہ تم میں سے ہیں نہ یہود میں سے‘ اگرچہ انہوں نے یہود کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے‘ انہیں بھی اپنی وفاداری کا یقین دلایا ہے‘ لیکن حقیقت میں یہ ان کے بھی نہیں ہیں۔نہ یہ ان کے ہیں نہ تمہارے ہیں۔ یہ آیت بھی دونوں پر منطبق ہوتی ہے‘ یعنی یہود پر بھی اور منافقین پر بھی۔
آیت۱۵ {اَللہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵)} ’’درحقیقت اللہ اُن کا مذاق اڑا رہا ہے اور اُن کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔‘‘
عقل کے اندھے : خود پسندی کا شکار
درحقیقت اللہ ان سے مذاق کررہا ہے۔ یہ گویا صورت حال کی تعبیر ہے‘ وگرنہ اللہ کے لیے استہزاء کا لفظ موزوں نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے ہاتھوں خود اپنا مذاق بنوا رہے ہیں‘ قدرت ان کا مذاق اُڑا رہی ہے۔ حقیقت بین نگاہ دیکھ رہی ہے کہ یہ کس طرح اپنے جال میں خود پھنستے جا رہے ہیں‘ اپنی عاقبت کو کس طرح برباد کر رہے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ’’استہزاء‘‘ یہ ہے کہ وہ ان کی رسّی دراز کر رہا ہے ‘ انہیں ڈھیل دے رہا ہے‘ جسے ’’استدراج ‘‘کہتے ہیں۔
{وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵)}۔مَدّ یَمُدُّ مَدَدًا: مدددینا‘ نصرت کرنا۔ اگر کسی کو مدد دی جائے تو وہ اس کے لیے سہارا بن جاتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سےگر پڑا تھا‘ چل نہیں پارہا تھا تو تعاون یا مدد کی وجہ سےچل پڑتا ہے۔ جب کہ مَدَّ یَمُدُّ مَدًّا کے معنی کھینچنا‘ کسی کو آگے لے جانا ‘ ڈھیل دینا‘ رسّی دراز کرنا ہے۔ طَغٰی سرکشی کے معنی میں آتاہے۔ کسی کا اپنی حد سے گزر جانا طغیانی ہے۔ بقول حالی: ؎
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے!
جب دریا اپنی حدود کے اندر چل رہا ہو تویہ اس کی معمول کی کیفیت ہے اور جب وہ اپنی حدود سے تجاوز کرگیا تو یہ طغیانی ہے۔
’’یَعْمَھُوْنَ‘‘ کا لفظ بھی بہت اہم ہے۔ اس کا مادّہ ع م ہ ہے۔ ع م ی (عمی) کا مادہ انسان کے نابینا اور اندھا ہونے کے لیے آتا ہے یعنی اس کی ظاہری قوتِ بصارت موجود نہیں‘ آنکھوں میں نوراور بینائی نہیں۔ یہ لفظ (عُمْیٌ) آگے آئے گا کہ وہ لوگ جو اندھے ہیں ۔ یہ ہے بصارت ِظاہری‘ آنکھوں سے کسی شے کا دیکھنا‘ جب کہ ایک ہے بصیرت ِباطنی‘ دل سے کسی شے کی حقیقت کا ادراک اور شعور۔ بقول علامہ اقبال ؎
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے ‘ وہ نظر کیا!
جس شخص کی آنکھوں کی بینائی زائل ہوگئی وہ اَعْمیٰ  ہے ‘ اس کی جمع عُمْیٌ ہے اور جن کی باطنی بصیرت زائل ہوگئی ہے ان کے بارے میں فرمایا: ’’یَعْمَھُوْنَ‘‘ کہ یہ داخلی اورباطنی بصیرت سے محروم ہوکربھٹکتے چلے جارہے ہیں ۔
نوٹ کیجیے کہ اس رکوع میں دو مرتبہ ’’ لَایَشْعُرُوْنَ‘‘ اور ایک مرتبہ’’ لَایَعْلَمُوْنَ‘‘ آچکا ہے۔سورۃ المنافقون میں’’ لَایَفْقَھُوْنَ‘‘دومرتبہ آیا ہے۔درحقیقت لَایَشْعُرُوْنَ، لَا یَفْقَھُوْنَ اورلَا یَعْلَمُوْنَ کو جمع کردیجیے تو یہ ’’یَعْمَھُوْنَ‘‘ ہے۔ کوئی شخص ٹامک ٹوئیاں  مارتے ہوئے آگے بڑھتا چلاجارہا ہے‘ اس کو نظر نہیں آرہا ہے‘ اسے شعو ر وادراک نہیں ہے‘ منزل کی خبر نہیں ہے۔ بقولِ غالب ع ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں!‘‘ اس کیفیت میں انسان چلا جارہا ہے‘ بڑھا جارہا ہے‘ یہ ’’یَعْمَھُوْنَ ‘‘ہے۔ چنانچہ فرمایا : { وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵)} ’’اور انہیں ان کی سرکشی میں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ عقل کے اندھے پن میں بھٹکتے پھریں۔‘‘ اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیل دے رہا ہے‘ ان کی رسّی دراز کررہا ہے ‘فوراً پکڑ نہیں رہا اوریہ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری چال کامیاب ہورہی ہے۔
آیت ۱۶{اُولٰٓـئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰـلَۃَ بِالْھُدٰی ص} ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے‘‘
عربی زبان میں ’’بیع‘‘ کا لفظ بیچنے کے لیے آتا ہے۔ بیع وشراء:بیچنا اورخریدنا۔ البتہ شراء دونوں معنی دیتا ہے۔شَرٰی یَشْرِی شِرَاءً: خریدنا‘ بیچنا۔ بابِ افتعال میں  اِشْتَرٰی  یَشْتَرِیْ: خریدنا۔ یہ خریدنا اور بیچنا اصل میں تو مبادلہ ہوتا ہے‘جیسا کہ پہلے زمانے میںکرنسی کا رواج نہیں تھا تو ساری تجارت مبادلہ(barter) کی تھی۔ کسی نے کھیت میں فصل اُگائی‘ محنت کرکے اناج اُگایا ‘ کسی نے کرگےپر بیٹھ کر کپڑا بُنا ۔ پس وہ ضرورت کےتحت exchange کر لیتے تھے۔ اب کس کوقیمت کہیں گے اور کس کو جنس یا مال (commodiy) ؟ یہ جوبیچ میں کرنسی آئی ہےتو اس سے ایک مفہوم معیّن ہوا ہےکہ جس نے کرنسی دی ہےوہ خریدار ہے اور جس نےبدلے میں کوئی مال دیا ہے وہ بیچنے والاہے۔ قرآن حکیم میں شَرٰی یَشْرِی بیچنے اور اِشْتَرٰی یَشْتَرِیْ خریدنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔سورۃالبقرہ کی آیت ۲۰۶ میں ارشاد ہوا:{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِ اللہِ ط}’’اور لوگوں میں ایک شخص وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنی جان کو اللہ کی رضا کے لیے۔ ‘‘لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان اللہ کی رضا جوئی کےلیےبیچتے ہیں ‘جسم وجان میںجو توانائیاں اورصلاحیتیں ہیں انہیں اللہ کی رضا کے لیے صَرف کرتے ہیں ۔ دوسری طرف سورۃ التوبہ کی آیت ۱۱۱میں فرمایا : { اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَط }’’یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے اُن کی جانیں بھی اور اُن کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنّت ہے۔‘‘تومعلوم ہوا کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیع وشراء کا معاملہ ہے۔
ایسے الفاظ قرآن کریم اس لیے لاتا ہے کہ یہ انسانی ذہن سے بہت قریب ہیں‘ عام انسان بھی ان کو سمجھتا ہے۔ کہیں تجارت کا لفظ آیا ہے‘ جیسا کہ یہاں بھی آرہاہے : {فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ(۱۶)}اسی طرح سورۃ الصف میں ہے: {یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّــکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۱۰) } ’’اے ایمان کے دعوے دارو! کیا مَیں تمہیں ایسی تجارت کے بارے میں بتائوں جو تمہیں دردناک عذاب سے چھٹکارا دلا دے؟‘‘چنانچہ یہ بہت ہی بنیادی conceptsہیں جن کو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بجائے اس کےکہ کوئی بھاری بھر کم فلسفیانہ اصطلاحات سامنے لائی جائیں یا منطق کی گتھیاں سلجھائی جائیں ‘ قرآن مجید نے اپنا انداز بڑا فطری اور سادہ رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت و ضلالت
فرمایا: {اُولٰۗئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی}’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔‘‘ عام طور پر تصور یہ ہے کہ ایک طرف گمراہی ہے اورایک طرف ہدایت ہے اورانہوں نے ہدایت کے بجائے گمراہی کو پسند (choice) کرلیا ہے‘ حالانکہ اس پر تو بیع وشراء کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مبادلہ تو تب ہوگا کہ کوئی شے دے کر کوئی شے لی جائے۔ اسی لیے مَیں بار بار ترجمہ کررہا ہوں کہ انہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خریدلی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ہدایت پہلے سے ان کےپاس موجود تھی۔یہی وہ نکتہ ہے جس کو مَیں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ واقعتاً ہدایت حاصل ہو جاتی ہے‘ پھر انسان اپنے تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر‘ یا اپنی حیثیت‘ وجاہت اور اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے اس کو ردّ کرکے گمراہی خریدتا ہے۔ قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی حق بات انسان کے سامنے آئے اوردل گواہی دے دے کہ یہ حق ہے تو اس کو قبول کرنے اوراس کا اعتراف کرنے میں عافیت ہے‘لیکن اگر انسان حق کو پہچاننے کے بعد اس کو تعصب‘ مصلحت یا کسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ردّ کرتا ہےتو گویا اس نے جان بوجھ کر خو دکو ہدایت سے محروم کیا ہے۔ یہی طرزِ عمل آگے بڑھ کر اس کو
point of no return تک لے جاتا ہے۔ پھر اس میں حق کو پہچاننے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی‘ استعداد ہی سلب ہوجاتی ہے۔ یہ بات قرآن کی نص سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ سورۃ المنافقون میں منافقین کے بارے میں فرمایا :
{ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ(۳) }
’’یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے‘ تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی‘ پس یہ سمجھنے سے عاری ہو گئے۔‘‘
ایمان انہیں مل چکا تھا‘ ہدایت ان کے پاس آگئی تھی‘ دل میں بات اُتر گئی تھی‘ حق ان پر منکشف ہوچکا تھا‘ دل نے اسے قبول کرلیا تھا‘ اس سب کے باوجود انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہرکردی گئی‘اب وہ تفقہ سے خالی ہوچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت وضلالت قرآن میں بار بار آتا ہے اوراس میں انسان اگرذرا سا بھی ان دونوں پہلوؤں کو سامنے نہ رکھے تو اشکالات پیداہوجاتے ہیں کہ جب اللہ نے مہر کردی تو وہ کیسے سمجھ سکتے تھے ؟ اللہ ابتداء ً مہر نہیں کرتا‘ بلکہ جب انسان حق کوپہچاننے کے بعد اسے ردّکرتا ہے تو یہ اس کی سزا کے طور پرہوتا ہے ‘اوروہ بھی ایک دم نہیں بلکہ رفتہ رفتہ اور تدریجاً ہوتا ہے۔ جب آدمی اس پر اَڑتا‘ اصرار کرتااور اسی پر اپنے طرز ِعمل کو مسلسل قائم رکھتا ہےتو پھر تدریجاًاُس سے حق کوپہچاننے کی استعداد سلب ہوجاتی ہے‘جس کا آخری درجہ یہ ہے :
{خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَ عَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَـھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)}
’’اللہ نے مہر کر دی ہے اُن کے دلوں پر اور اُن کے کانوں پر‘ اور اُن کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
{فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ(۱۶)} ’’سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے وہ راہ پانے والے۔‘‘
عربی زبان میں جن الفاظ کے سہ حرفی مادے قریب ہوتے ہیں ان کے مفہوم میں بھی قرب ہوتا ہے۔ رَبِحَ یَرْبَحُ (س) رِبْحًا کے معنی ہیں (تجارت میں) نفع ہونا‘ بڑھوتری ہونا‘ کسی چیز میں اضافہ ہونا‘ منفعت بخش ہونا۔ جب کہ ’’رب و‘‘ مادہ سے رَبَا یَرْبُوْ رِبَاءً کے معنی ہیں (مال کا) زیادہ ہونا‘ بڑھنا‘ نشوونما پانا‘ نفع ہوجانا۔ اگرچہ ’’رِبَا‘‘ خاص طور پر مختص ہوگیا ہے اُس حرام شے کے لیے جو اضافہ حرام ذریعہ سے ہورہا ہے۔ رِبَا(سود) حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والا ہے جبکہ جائز طریقے سے تجارت میں نفع حلال ہے : {وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط}(البقرۃ:۲۷۵) ’’اللہ نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام ٹھہرایا ہے۔‘‘ ناجائز طریقے سے اگر اضافہ ہوا ہے تو وہ ربا ہے اوراگر تجارت کے ذریعہ سے اضافہ ہوا ہے تو یہ ربح ہے ۔ ر ب ح اور رب و مادہ کے لحاظ سے بھی بہت قریب بھی ہیں اوراصولی اعتبار سے مفہوم میں بھی بہت قرب ہے‘ اگرچہ اصطلاح کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق ہے۔
یہاں تلاوت کی گئی ۹آیات (۸ تا ۱۶) مکمل ہو گئی ہیں۔
(جاری ہے)