راہِ نجات
سورۃ العصر کی روشنی میں
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ --------- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
{وَالْعَصْرِ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)}
ادعیہ ماثورہ کے بعد :
ان اجتماعات میں مجھے آپ کے سامنے دو اہم باتیں رکھنی ہیں: (۱)دین کیا ہے‘ (۲)دین چاہتا کیا ہے؟ یعنی ازروئے قرآن مجید یہ واضح ہو جائے کہ ہمارے دین کی طرف سے ہم پرکیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ مَیں نے مطالعہ قرآن حکیم کا جو منتخب نصاب مرتّب کیا ہے‘اُسی کا خلاصہ سامنے رکھا جائے گا ‘جس کا نقطہ آغاز سورۃ العصر ہے ۔ آج مَیں اسی کے حوالے سے کچھ باتیں گوش گزار کر رہا ہوں تاکہ ازروئے قرآن یہ واضح ہوجائے کہ راہ ِنجات کا کیا تصور ہے !
اس سورئہ مبارکہ کے بارے میں مجھے یہ حسنِ ظن ہے کہ یہ ہر مسلمان کو یاد ہو گی ۔ گنتی کے چند الفاظ ہیں۔ پہلے میں اِس کا ایک سادہ سا ترجمہ کر دیتا ہوں‘ جس کو ہر شخص اپنے ذہن پر کندہ کر لے۔
{وَالْعَصْرِ(۱)}’’ زمانے کی قسم ہے!‘‘{اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)}’’بے شک تمام انسان خسارے میں ہیں۔‘‘گھاٹے میں ہیں‘ دھوکہ میں ہیں‘ نقصان میں ہیں‘ تباہی اور بربادی کا نوالہ بننے والے ہیں۔{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}’’سوائے اُن کے جو ایمان لائے‘‘ {وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ}’’ اور انہوں نے نیک عمل کیے‘‘{وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ}’’اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی وصیت (اور تاکید) کی۔‘‘ {وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} ’’اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘
اس سورئہ مبارکہ کا مَیں نے بارہا درس دیا ہے ‘اس کی متعدد ریکارڈنگز موجود ہیں۔ آج مجھے اس کو بیان کرنے میں تھوڑی سی ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے ۔ ہو سکتا ہےکہ آپ میں سے بہت سے حضرات نے وہ دُروس سنے ہوئے ہوں ‘ ان کے لیے گویا کہ یہ ایک تکرار ہوجائے گی۔ اس پر میری ایک تحریر بھی مطبوعہ ہے ‘ تو بہت سے حضرات کے سامنے وہ چیزیں بھی شاید ہوں۔ قرآن مجید کا معاملہ ایسا ہے کہ حضور ﷺ کے الفاظ مبارکہ میں: ((لَا یَخْلَقُ عَلٰی کَثْرَۃِ الرَّدِّ ))(سنن الترمذی:۲۹۰۶) یعنی بار بار کی تکرار اور اعادہ سے اس پر کوئی باسی پن طاری نہیں ہوتا۔یہ وہ کتاب نہیں ہے کہ جس کو چند مرتبہ پڑھنے کے بعد انسان محسوس کرے کہ اب کیا پڑھنا‘ پڑھ لیا‘ سمجھ لیا۔ یہ تو وہ کتاب ہے کہ ہر بار اس میں ایک نئی ندرت کا احساس ہوگا۔ اس کی رعنائی ‘اس کا حسن ہر بار ایک نئی شان کے ساتھ سامنے آئے گا۔اس وقت حضورِ اَقدسﷺ کا یہ فرمان مجھے نفسیاتی اعتبار سے ایک سہارا دے رہا ہے کہ چاہے مَیں نے اس سورئہ مبارکہ کو بارہا بیان کیا ہو لیکن آج اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرتے ہوئے پھر کوشش کر رہا ہوں کہ وہ مجھے صحیح اور دل نشین پیرائے میں اس سورئہ مبارکہ کے مفاہیم اور معنی و مراد کو پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ذہن کے دروازے بھی اس کے لیے کھول دے اور دل کے دروازے بھی کھول دے!
چار بنیادی باتیں
اس سورئہ مبارکہ کے بارے میں چاربنیادی باتیں ذہن نشین کر لیں:
(۱) یہ قرآن حکیم کی مختصرترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی کل تین آیات ہیں‘ جس سے کم پر قرآن مجید کی کوئی سورت مشتمل نہیں ہے ۔یاد رہے کہ ہم نماز کی رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ ملا کر جب قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں ‘اس کا نصاب بھی کم از کم تین آیات کاہے۔ بڑی آیت ہو ‘ جیسے آیۃ الکرسی ‘تو وہ ایک آیت بھی کفایت کر جائے گی ۔یہ نبی اکرمﷺ کی ہدایات ہیں ۔ عجیب حسنِ اتفاق ہےکہ قرآن مجید کی تین ہی سورتیں ایسی ہیں جو تین تین آیات پر مشتمل ہیں: سورۃ العصر‘ سورۃ الکوثر اور سورۃ النصر۔
(۲) ترتیب نزولی کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کی اولین سورتوں میں سے ہے۔ قرآن مجید کی تنزیل بائیس برس میں مکمل ہوئی ۔ قمری تقویم کے اعتبار سے یہ ۲۳ برس بنتے ہیں۔ ۶۱۰عیسوی میں حضورﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور۶۳۲عیسوی میں آنحضورﷺ کا وصال ہوا۔اس عرصے میں قرآن تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ۔ قرآن مجید کے نزول میں ایک ترتیب یہ بھی رہی کہ شروع میں بہت تھوڑا تھوڑا حصہ نازل ہوا اور اکثر قرآن مجید کےآخری پارہ کی چھوٹی سورتیں ہی سب سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی سورتیں وہ ہیں جنہوں نے ایک ہلچل مچا دی تھی۔ ان کے بارے میں ہی مولانا حالیؒ کا شعر ہے: ؎
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی!
قرآن مجید میں جوسورتیں پہلے نازل ہوئیں وہ حجم کے اعتبار سے چھوٹی لیکن معانی اور مفاہیم کے اعتبار سے ایسی ہیں جیسے دریا کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ اس کے بعد طویل مدنیات ان ہی سورتوں کی شرح ہیں۔ چنانچہ سورۃ ہود کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید کا تعارف بایں الفاظ کرایا:
{الٓرٰقف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ(۱)}
’’الف لام را‘ یہ (قرآن مجید) وہ کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں (مضبوط کی گئیں‘ چھوٹے چھوٹے جملوں کے اندر معانی کے سمندر بند کیے گئے ) پھر ایک حکیم اور خبیر ہستی کی طرف سے ان کی تفصیل بیان ہوئی ۔ ‘‘
یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے‘ اور سورۃ العصر بھی اولین سورتوں میں سے ایک ہے۔
(۳) ہر زبان کے ادب میں ’’سہل ممتنع‘‘ کی ایک اصطلاح آتی ہے‘ یعنی نہایت آسان زبان لیکن مضامین بہت بلندہوں۔ بھاری بھرکم اصطلاحات میں اونچی باتیں بیان کرنا آسان ہے ۔ اس کے برعکس مضامین بلند ہوں لیکن زبان سادہ ہو ‘یہ مشکل ہے۔ اس کو سہل ممتنع کہتے ہیں کہ مضمون بظاہر تو بہت سہل نظر آئیں لیکن آپ ویسا کلام خود کہنا چاہیں تو دانتوں پسینہ آجائے۔ جیسے مرزا غالب کا شعر ہے : ؎
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی!
اس غزل میں کوئی لفظ مشکل نہیں ہے۔ اشعار سادہ‘ بالکل سلیس زبان میں ہیں لیکن اپنی ادبیت کے اعتبار سے یہ ایک معراج ہے۔ قرآن حکیم ویسے تو ابتدا سے انتہا تک عربی زبان کی ادبیت کی معراج ہےلیکن اس کے اعجاز کا سب سے نمایاں اور اولین پہلو یہی ہےجس پر اس نے چیلنج کیا ہے کہ اگر تم مقابلہ کر سکتے ہو تو کرو:{فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ص} (البقرۃ:۲۳) ’’تو لے آؤ ایک ہی سورت اس جیسی۔‘‘ اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکا‘ کوئی جھوٹ موٹ کو بھی میدان میں کھڑا نہ ہو سکاکہ میں اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں۔ پس قرآن مجید از ابتدا تا انتہا عربی ادب کا کلاسک ہے۔ البتہ اس میں بعض چوٹی کے مقامات ہیں‘جیسے سورۃ الرحمٰن کے بارے میں حضورﷺ کی حدیث ہے:
((لِکُلِّ شَیْءٍ عَرُوْسٌ وَعَرُوْسُ الْقُرْآنِ الرَّحْمٰن))(رواہ البیھقی فی شعب الایمان)
’’ہر چیز کا حسن و جمال ہوتا ہے جبکہ قرآن کاحسن و جمال سورۃ الرحمٰن ہے۔‘‘
اس میں ایک صوتی آہنگ ہے ‘اس کے اندر ایک غناء ہے‘اس کے الفاظ کا ایک ظاہری حسن ہے۔ اسی طرح سہل ممتنع کے اعتبار سے قرآن مجید کی اہم ترین سورت ’’سورۃ العصر‘‘ ہے۔ اس میں کوئی مشکل لفظ نہیں آتا۔
{وَالْعَصْرِ(۱)} یہ لفظ عام اردو دان لوگ بھی استعمال کرتے ہیں۔ ہم عصر اشخاص (contemporaries)جو ایک زمانےمیں رہے‘ عصر ِحاضر‘ عصر رواں ‘ عصر جدید۔ {اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)} انسان کا لفظ ہر کوئی جانتا ہے۔ خُسْریعنی خسارہ ‘ یہ اردو کے اندر مستعمل ہے۔{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} ایمان‘ عمل صالح عام الفاظ ہیں۔ تواصی ایک تھوڑی سی بدلی ہوئی شکل ہے۔ اردو میں وصیت کا لفظ مستعمل ہے ۔ وصیت سے تواصی بنا ہے‘ جو باب تفاعل سے آتاہے۔ حق اور صبر بھی اردو کےعام الفاظ ہیں۔پس کوئی بھاری بھرکم اصطلاح اس پوری سورت میں موجود نہیں۔ تاہم‘ اس سورت کے مفاہیم جو کسی درجہ میں سامنے آئیں گے تو جہاں تک علم اور حکمت کی معراج کا تعلق ہے‘ فلسفہ اور اس کے چوٹی کے مسائل اس سورت میں موجود ہیں۔
(۴) میرے نزدیک یہ قرآن مجید کی جامع ترین سورت ہے۔ یہ اولین سورتوں میں سے ایک ہے‘ مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہےاور یہ قرآن مجید کی جامع ترین سورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید ھُدًی لِّلنَّاس ہے‘ نوعِ انسانی کے لیے ہدایت اور رہنمائی بن کر آیا ہے۔ اس ہدایت کے راستے کو‘ صراطِ مستقیم کو نہایت جامعیت کے ساتھ اس سورت میں بیان کیا گیاہے۔ قرآن مجید کی مکی سورتوں میں ایمان کے طویل مباحث ہیں۔ پھر اعمالِ صالحہ‘ عبادات‘ اخلاقیات اور معاملات کے مباحث آتے ہیں جوسب دراصل عمل صالح کی تشریحات ہیں۔ پھر جہاد‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مباحث ہیں جو تواصی بالحق کی شرح ہیں۔
قرآن مجید کے تمام مضامین کو جامع ترین صورت میں پیش کرنے والی سورت‘ سورۃ العصرہے۔ اس کا احساس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اِس قدر تھا کہ ہمیں ایک روایت ملتی ہے:
کَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ اِذَا الْتَقَیَا لَمْ یَفْتَرِقَا حَتّٰی یَقْرَأَ اَحَدُھُمَا عَلَی الْآخَرِ سُوْرَۃَ الْعَصْرِ، ثُمَّ یُسَلِّمُ اَحَدُھُمَا عَلَی الْآخَرِ (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی:۲۸۱۶)
’’نبی اکرمﷺ کے صحابہ ؓ میں سے جب دو حضرات کی آپس میں ملاقات ہوتی تھی تو وہ اُس وقت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے جب تک ایک دوسرے کو سورۃ العصر نہ سنا لیتے۔پھر وہ ایک دوسرے کو سلام کرکے علیحدہ ہوتے تھے۔ ‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں تھا۔ قرآن مجید کی اصل قدر و قیمت جاننے والے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس سورہ مبارکہ کے ساتھ ان کے خصوصی لگاؤ کا مظہر ہے۔
قرآن مجید کی سورتوں کی سردار سورۃ الاخلاص ہے‘ اس لیے کہ اسے حضورﷺ نے ثُلث قرآن کے مساوی قرار دیا‘ یعنی یہ چار آیتیں ایک تہائی قرآن کے برابر ہیں۔ ایک تہائی قرآن کے مساوی ہونے کی وجہ کیا ہے؟ دراصل توحید اسلام کی جڑ‘ بنیاد ہے اور سورۃ الاخلاص میں توحید کا جامع ترین بیان ہے۔ اس اعتبار سے تو یہ اہم ترین سورت ہے لیکن اس میں ایمان کے صرف ایک پہلو توحید کو بیان کیا گیا ہے۔اس میں اعمال کی کوئی بحث نہیں‘ تواصی بالحق کی کوئی بحث نہیں ‘ تواصی بالصبر کی کوئی بحث نہیں ۔ اس لحاظ سے اسے جامع ترین سورت نہیں کہیں گے‘ البتہ اہم ترین تو یقیناًہے کیوں کہ ہمارے دین کی جڑ‘بنیاد توحید ہی ہے۔اسی طرح آیت الکرسی کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمام آیات ِقرآنیہ کی سردار ہے۔ اس کی وجہ بھی توحید ہے ‘اس لیے کہ اسلام حقیقت میں دین ِتوحید ہے‘ لیکن جامعیت ایک الگ شے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے مضامین کا احاطہ کرلیناسورۃ العصرکے علاوہ کسی اور سورت میں نظر نہیں آتا۔ دین کے فلسفہ کے لیے جڑ اور بنیاد سورۃ الفاتحہ ہے ‘جو قرآن مجیدکا مقدمہ و دیباچہ ہے ۔ اِسے اُمّ القرآن کہا گیا ہےاوراس کی سات آیات ہیں:
{وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ(۸۷)} (الحجر)
لیکن جامعیت کے اعتبار سے جامع ترین سورت‘ سورۃ العصر ہے۔
بہرحال ایک تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا عمل سامنے آگیا۔ دوسرے امام شافعی ؒ کے دو اقوال اس بارے میں ملتے ہیں ۔ ایک قول تو ان کا بہت مشہور ہے:
لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذہِ السُّوْرَۃَ لَوَسِعَتْھُمْ
’’اگر لوگ صرف اس ایک سورت پر تدبر کریں(غور کریں ‘ اس کی گہرائیوں میں اُتریں) تو یہ سورت ان کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائے۔ ‘‘
امام شافعی ؒ کا ایک اور قول مفتی محمدعبدہٗؒ نےاپنی تفسیر ’’المنار‘‘میں نقل کیا ہے:
لَوْ لَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاسَ
’’اگر قرآن مجید میں سوائے سورۃ العصر کے کوئی اور حصہ نازل نہ ہوتا تو یہ سورت ہی لوگوں (کی ہدایت) کے لیے کافی تھی۔ ‘‘
اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اس سورئہ مبارکہ کی کیا عظمت ہے!
فہم ِقرآن کے دو درجے
قرآن مجید کے فہم کا ایک درجہ ’’تذکر‘‘ ہے‘ جسے قرآن حکیم کی اصطلاح میں تذکربالقرآن کہتے ہیں ۔تذکر کے معنی ہیں نصیحت اخذ کر لینا‘ سبق حاصل کر لینا ۔ بچپن میں جب ہم انگریزی کی کوئی سٹوری لکھتے تھے تو آخر میں Moral Lesson لکھتے یعنی اس کہانی کا سبق کیا ہے ‘ اس سے حاصل کیا ہوا‘ اس کہانی کالب ِلباب کیاہے ۔ اسی طرح ایک ہے قرآن مجید سے اس کے اصل سبق کو حاصل کر لینا جس کو قرآن حکیم تذکر‘یاددہانی‘ نصیحت اخذ کرنا کہتا ہے۔اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا یہ دعویٰ ہے:
{ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ}
’’اور ہم نے قرآن کوتذکر(نصیحت) کے لیے انتہائی آسان کر دیا ہے ‘پھر ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا !‘‘
یہ آیت سورۃ القمر میں چار مرتبہ آ ئی ہے۔ یہ اتنی صریح اور روشن یعنی کِتَابٌ مُّبِیْنٌ ہےکہ ایک شخص اس کو پڑھتا چلا جائے‘چاہے وہ فلسفی نہ ہو‘ منطقی نہ ہو‘اس نے کوئی اعلیٰ علوم حاصل نہ کیے ہوں لیکن اگر عربی زبان کے ساتھ اس کی تھوڑی سی واقفیت ہو تو وہ قرآن مجید کا اصل لب ِلباب حاصل کرتا چلا جائے گا۔ قرآن مجید انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ انسانوں میں بدو بھی تھے‘ کاشت کار بھی ہیں‘ مزدور بھی ہیں‘ فلسفی بھی ہیں ‘ حکماء بھی ہیں ‘ اہل منطق بھی ہیں ۔ قرآن مجید تو سب کے لیے ہدایت بن کر نازل ہو اہے‘ لہٰذا اِس نے وہ انداز اختیار کیا کہ ایک عام بدو بھی اس کو سنے تو اسے محسوس ہو کہ یہ میرے دل کی پکار ہے۔ جیسا کہ مرزا غالب نے کہا: ؎
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
پس قرآن مجید کو تذکر کے لیے آسان بنا دیا گیا ہے۔
قرآن مجید کو سمجھنے کا ایک دوسرا درجہ بھی ہےجسے قرآن نے ’’تدبر‘‘ قرار دیا ہے:
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا(۲۴)} (محمد)
’’تو کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں !‘‘
تدبر کسے کہتے ہیں؟ قرآن کے ایک ایک لفظ پر غور و فکر کرنا۔ گویا انسان اس میں غواصی کررہا ہے ‘ غوطہ لگا رہا ہے۔ علامہ اقبال کا ایک مشہور مصرعہ ہے: ع ’’قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں!‘‘حضور ﷺنے فرمایا: ((لَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبَہُ)) ’’اِس کے عجائبات کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔‘‘ بیسوی صدی کے فلسفی علامہ اقبال کو بھی مشرق و مغرب کے قدیم و جدید فلسفے کھنگالنے کے باوجودقرآن مجید کے دامن ہی میں تسکین حاصل ہوئی ۔
گویا قرآن مجید کا ایک انداز تذکر کا ہے اور ایک تدبر کا ۔ تذکر کے لیے یہ نہایت آسان جبکہ تدبر کے اعتبار سے انتہائی مشکل کتاب ہے ۔اس کی تہ تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام ہے اوراس کے کلام کی تہ تک کوئی پہنچ پائے ‘ یہ ناممکن ہے ۔یہ boundless ہے ‘اس کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ یہ کلام مطلق ہے۔ کلام‘ متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ اللہ کا کلام دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے تو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات boundless ‘ مطلق‘ لا محدود‘ لامتناہی ہے اسی طرح قرآن مجیدبھی لامحدود ‘ لامتناہی ہے۔ اسی لیے حضورﷺنے فرمایا کہ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس پرغور کرنے والے غور کرتے رہیں گے‘ علم و حکمت کے موتی نکالتے چلے جائیں گے لیکن یہ کان ختم ہونے والی نہیں ہے۔ ہر دور میں علم و حکمت کے نئے موتی‘ نئے جواہرات اس سے نکالے جائیں گے ۔
تدبر کے اعتبار سے یہ روایت ملتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ مَیں نے صرف سورۃ البقرہ پر آٹھ برس تک تدبر کیا۔ عربی ان کی مادری زبان تھی۔ انہیں عربی سیکھنی نہیں تھی‘ صرف و نحو سیکھنی نہیں تھی‘ آیات کے شانِ نزول کے لیے کوئی کھوج کرید کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو خود اس ماحول میں تھے جس میں قرآن مجید نازل ہو رہا تھا‘ سارا پس منظر ان کی نگاہوں کے سامنے تھا ۔وہ براہ ِراست حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے سن رہے تھے۔ پھر کیا چیز تھی کہ صرف سورۃ البقرہ پر آٹھ برس تک تدبر کرتے رہے ! سورۃ البقرہ قرآن مجید کے بارہویں حصے سے بھی کچھ کم بنتی ہے۔ اس حساب سے ایک صحابی ٔرسولﷺ کو قرآن مجید سمجھنے میں ایک سو برس لگ سکتے تھے۔ یہ معاملہ ہم تک پہنچے گا تو ہمیں شاید ہزار برس کی عمر چاہیے تب بھی قرآن مجید پر تدبر کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر تو نسل درنسل لوگ اپنی زندگیاں لگائیں گے۔
امام رازی ؒ بھی یہ نہیں کہہ سکے کہ مَیں نے قرآن مجید پوراسمجھ لیا ہے۔۳۰ جلدوں میں تفسیر لکھنے والا شخص جو اپنے وقت کے فلسفہ اور علم کلام کی معراج پر پہنچا ہوا ہے ‘ منطق جس کے گھر کی لونڈی ہے‘ جس کے لیے صرف و نحو ایسے ہے جیسے انسان اُن سے کھلونوں کی طرح سے کھیلتا ہو ‘مگر قرآن مجید کے بعض مقامات ایسے آتے ہیں کہ جہاں پر ایسا انسان بھی قلم رکھ دے‘ گھٹنےٹیک دے۔ سورۃ الحدید کی آیت ۳ہے: {ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ } امام رازی ؒاس مقام پرآتے ہیں تو کہتے ہیں : اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْمَقَامَ مَقَامٌ غَامِضٌ مُھِیْبٌ عَمِیْقٌ ’’ جان لو کہ یہ مقام بہت عمیق اور گہرا ہے ‘ بہت مشکل ہے‘ بڑاپُر ہیبت ہے۔ ‘‘اس کی ترجمانی الفاظ میں کرنا ممکن نہیں۔ امام رازی ؒ کا حال یہ ہو یعنی صاحب ِکشاف یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ اس نے قرآن مجید کے ہر لفظ کو بیان کردیا ہے تو مَیں ‘آپ یا اس بیسویں صدی کا کوئی بھی بڑے سے بڑا پڑھا لکھا شخص کیا دعویٰ کرے گا!لہٰذا جان لیجیے کہ فہم قرآن کے یہ دو درجےہیں۔ ایک درجہ تذکرہے‘ اس کے اعتبار سے قرآن حکیم بہت آسان ہے ۔ میں اس کی مثال یہ دیا کرتا ہوں کہ سمندر میں تیل کے ٹینکرز گزرتے ہیں ۔کبھی کوئی ٹینکر اگر leakکر جائے تو تیل پانی کی سطح پر رہتا ہے۔ اسی طرح سے قرآن مجید کی اصل حکمت ‘ اصل سبق جو یہ سکھانا چاہتا ہے وہ قرآن کی سطح پر ہے۔البتہ سمندر کی گہرائی کا اندازہ کیسے ہو گا! چنانچہ قرآن مجید کی گہرائی کو ناپنا ناممکن ہے۔ وہ ہے تذکربالقرآن اور یہ ہے تدبربالقرآن۔
کامیابی کا قرآنی تصوّر
اب تذکر کے اعتبار سے اس سورئہ مبارکہ کو سامنے رکھیے: {وَالْعَصْرِ(۱)} ’’زمانے کی قسم!‘‘ جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ کس چیز پر قسم کھائی گئی ہے‘ جملہ پورا نہیں ہوگا۔ فرمایا: {اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)} یہ ایک قاعدہ کلیہ بیان ہوا۔ آگے اس قاعدہ کلیہ سے ایک استثناء (exception) بیان فرمایا: { اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} جب تک مستثنیٰ کو مستثنیٰ منہ کے ساتھ نہیں جوڑیں گے ‘ مطلب سمجھ میں نہیں آئے گا۔ لہٰذا اصل میں یہ تینوں آیات مل کر ایک مکمل جملہ بنتی ہیں۔’’ زمانے کی قسم ! تمام انسان برباد ہونے والے ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے‘ اور جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی تاکیدکی اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ ‘‘اب اس جملے کو اپنے سامنے رکھیے۔ پہلا سبق کیا حاصل ہوتا ہے؟ پہلا تذکر کیا ہے؟
انسان کی کامیابی اور ناکامی کا ایک معیار ہمارے سامنے آرہا ہے ۔ہم جو بھاگ دوڑ اور صبح سے شام تک کی مشقت اس دنیا میں کررہے ہیں ‘یہ سب کچھ کیوں کررہے ہیں؟ کامیابی کے حصول کے لیے!البتہ کامیابی کے کچھ معیارات ہیں۔ ہمارے ذہن میں کامیابی کے جو معیارات بیٹھے ہوئے ہیں‘ وہ کیا ہیں؟ کامیابی پیسے سے ہے‘ کامیابی جائیداد سے ہے‘ کامیابی کاروبار سے ہے‘ کامیابی شہرت سے ہے‘ کامیابی اقتدار سے ہے۔ جو جتنا دولت مند ‘اتنا کامیاب ۔جو جتنا مشہور ‘اتنا کامیاب۔جس نے بڑا کاروبار جمالیا‘ کامیاب۔ جس نے بہت جائیداد بنا لی کامیاب! یہی ہے اصل میں ساری بِس کی گانٹھ(زہر کی پوٹلی‘ فساد کی جڑ)۔ جو تصور کامیابی کا ہوگا ‘اسی کے مطابق بھاگ دوڑ ہوگی‘ اسی کے لیے جدّوجُہد ہوگی‘اسی کے لیے توانائیاں صَرف ہوں گی‘اسی کے لیے دن رات کی مشقت ہوگی۔یہ ہے اصل شےجس کی اس سورت میں نفی ہو رہی ہے کہ کامیابی دولت سے نہیں ‘شہرت سےنہیں‘ اقتدار سے نہیں‘ بلکہ کامیابی ہے ایمان سے‘ عمل صالح سے‘ تو اصی بالحق سے ‘ تواصی بالصبر سے۔ اس نقطہ نظرکا‘ اس طرزِ عمل کا‘اس mental attitude کا بدل جانا ہی انسانی شخصیت کے اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تو دولت سے کامیابی ہوتی تو قارون بہت کامیاب تھا ۔اگر حکومت سے کامیابی ہوتی تو فرعون اور نمرود بہت کامیاب تھے ۔ دراصل کامیابی ان چیزوں سے ہے ہی نہیں ۔کوئی انسان دولت میں قارون کی دولت تک پہنچ جائے اور دنیا میں دبدبہ اور اقتدار کے اعتبار سے وہ نمرود اور فرعون کا مقام حاصل کرلے ‘ پھر بھی وہ ناکام ہے‘ خائب ہے‘خاسر ہے‘ برباد ہے۔ اس کے برعکس حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامیاب ہیں چاہے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ جھونپڑی تک نہیں تھی ‘کوئی گھر نہیں تھا۔ صحیح مسلم کی روایت ہے‘حضورﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے:
’’اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جو کسی محفل میں جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے۔ اگر کہیں رشتہ کرنا چاہیں تو کوئی ان سے رشتہ کرنے کو تیار نہ ہو ۔کہیں کوئی سفارش کرنا چاہیں تو ان کی کوئی بات ہی نہ سنے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا وہ مقام ہے کہ اگر بھولے سے بھی کسی بات پر قسم کھا بیٹھتے ہیں تو اللہ ان کی قسم کی لاج رکھتا ہے۔ ‘‘
یہ فرق اچھی طرح جان لیجیے ۔اس بات کا مان لینا آسان ‘اس پر سبحان اللہ کہہ دینا سہل ‘لیکن اس کے مطابق ذہن کا بدل جانا بہت مشکل ہے‘ اس لیے کہ ہم اپنے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں ۔ وہ بڑا محل ہے جس کو دیکھ کر ایک دفعہ آدمی کو جھرجھری آتی ہے۔ بیس فٹ لمبی کار زناٹے کے ساتھ آپ کے پاس سے گزر گئی توایک دفعہ اعصاب کے اندر ارتعاش ہوتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بڑے نصیبوں والے لوگ ہیں‘ بڑے کامیاب ‘حالانکہ کچھ معلوم نہیں کہ یہی سب سے بڑی بدنصیبی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہی سب سے بڑی ناکامی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں فوز و فلاح سےہم کنار ہونے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے بارہا کہا گیا: {اُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo} ’’یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ ‘‘
ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ جاننے میں ہے کہ کامیابی کس چیز سے ہے۔ اگرہمارے دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے‘ ہمارے دل میں جاگزیں ہوجائے تو زندگی بدل جائے گی ۔صبح وشام کے نقشے بدل جائیں گے‘ بھاگ دوڑ کا رنگ بدل جائے گا‘ value structure بدل جائے گا۔ آج ایک چیز نہایت اہم نظر آرہی ہے لیکن کل بہت غیر اہم نظر آئے گی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((مَالِیْ وَمَا لِلدُّنْیَا، مَا اَنَا فِی الدُّنْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَھَا)) (سنن الترمذی:۲۳۷۷)
’’مجھے تمہا ری اس دُنیا سے کیا سروکار؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی ہے جو (تھوڑی دیر سستانے کے لیے) ایک درخت کے سائے میں ٹھہرتا ہے ‘پھر وہ اپنا راستہ لےلیتا ہے۔‘‘
اس درخت سے اُس کا مستقل تعلق نہیں ہے۔ وہ اس کا گھر نہیں ہے‘اس کی منزل نہیں ہے۔ اسی طرح یہ دنیا میرا گھر نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں:{اِنَّا لِلہِ وَاِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ(۱۵۶)} (البقرۃ) ’’ یقیناًہم اللہ کے پاس سےآئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے ۔‘‘ یعنی ہم تو مسافر ہیں۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
((کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ)) (صحیح البخاری: ۶۴۱۶)
’’دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راہ چلتے مسافر۔‘‘
البتہ یہ طرزِعمل اس وقت ہوگا جب یہ آیت ہمارے ذہن کے اندر بیٹھ گئی ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک دوسرے کو سورۃ العصر کیوںیاد دلاتے تھے؟ اس لیے کہ جیسے برف باری میں باہر نکلیں تو برف کپڑوں پر جم جاتی ہے ‘پھر کپڑوں کو جھٹکتے ہیں تا کہ برف ہٹ جائے‘اسی طرح اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمارے ایمان پرماحول کا گہرا اثر آجاتا ہے ‘گرد پڑ جاتی ہے‘ برف پڑ جاتی ہے۔ اس کوبار بار جھٹکتے رہنے کی ضرورت ہے‘ جس کی بہترین اور مؤثر ترین شکل یہ بات مستحضر رکھنے میں ہے کہ کامیابی ان چیزوں سے نہیں ہے۔دنیا کی یہ ساری چمک دمک جو ہمیں رِجھا رہی ہے ‘اپنے اندر گم کیے ہوئے ہے‘ اس لفظ گم پر علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا: ؎
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
تو اس میں گم نہ ہو کر رہ جاؤ ‘مبہوت نہ ہو کر رہ جاؤ‘ مرعوب نہ ہو کر رہ جاؤ۔ دنیا کی محبت تمہارے اوپر ڈیرے نہ ڈال لے ‘تمہارے دل کے اوپر مسلط نہ ہوجائے ۔لہٰذا پھر یاد کرلو ‘ پھر تازہ کر لو اپنے اس یقین کو کہ کامیابی دولت سے نہیں‘ اقتدار سے نہیں‘ شہرت سے نہیں۔ کامیابی ہے ایمان سے ‘عمل صالح سے ‘تواصی بالحق سے‘ تواصی بالصبر سے۔ پہلی بات یہ سمجھ میں آئی کہ چار چیزیں کامیابی کے لوازم ہیں ۔
نجات کے لازمی تقاضے
دوسری بات یہ کہ یہاں پر کامیابی کا اعلیٰ معیار بیان نہیںکیا جارہا بلکہ اس کا کم سے کم معیار بتایا جارہا ہے۔ سورۃالعصر کا سورۃالتّین سے تقابل کیجیے۔سورۃ العصر بتا رہی ہے کہ سب لوگ خسارے میں ہیں‘ سوائے ان کے جو یہ چار شرائط پوری کریں ۔ سورۃ التین میں صرف دو شرطیں بیان ہوئی ہیں‘ دوبیان نہیں ہوئیں۔ گویا کام ہلکا اور آسان ہوگیا ۔
سورۃ التین میں فرمایا گیا :{فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ(۶)} کہ ان کے لیےبہت بڑا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوگا ‘جبکہ سورۃ العصر میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ناکامی سے بچ جائیں گے ۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی طالب علم کوکہا جائے کہ محنت کرو گے تو فرسٹ ڈویژن میں پاس ہو جاؤ گے اور کسی سے یہ کہیں کہ محنت کرو‘ ورنہ فیل ہوجاؤ گے۔ ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہی فرق سورۃ التین اور سورۃ العصر میں ہے۔ سورۃ العصر ناکامی سے استثناء کو بیان کر رہی ہےجس میں چار شرطیں ہیں جبکہ سورۃ التین میں اعلیٰ درجات کابیان ہو رہا ہےاور اس میں دو شرطیں ہیں ۔
قرآن مجید کی اصطلاح میں ایک جگہ ’’انذار‘‘ کا اور دوسری جگہ ’’تبشیر‘‘ کا رنگ ہے۔ حضور ﷺسے مخاطب ہوکر فرمایا گیا: {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا(۱۰۵)} (بنی اسرائیل) ’’اور(اے نبیﷺ !) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر۔‘‘ سورۃ الکہف میں جمع کے صیغے میں آیا ہے: {وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَج } (الکھف:۵۶) ’’اور ہم نہیں بھیجتے رہے اپنے رسولوں کو مگر مبشر اورنذیر بنا کر۔ ‘‘ حضورﷺ کے بارے میں فرمایا: {اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا(۸)}(الفتح) ’’بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ پھر جمع کے صیغے میں فرمایا:
{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ط وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (۱۶۵) }( النساء)
’’ خوش خبری دینے والے اور خبردار کرنے والے رسول (ہم نے) بھیجے تاکہ رسولوں کے بعدلوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حُجّت نہ رہے ۔اور اللہ بہت غالب ‘ بڑی حکمت والا ہے۔ ‘‘
ایک ہے تبشیر یعنی بشارت دینا اور ایک ہے انذار یعنی خبردار کرنا۔ تربیت کے دوران ان دونوں چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دھمکی اس حوالے سے کہ اپنے رویے کو درست کرلو ورنہ پکڑ ہو گی‘ سزا ملے گی‘ جبکہ کبھی شاباش دی جاتی ہے کہ ہمت کرو‘گھبراؤ نہیں‘ تمہارے اندر صلاحیت ہے۔ مایوس نہ ہو‘ تمہاری ہمت کیوں جواب دے رہی ہے! تم بڑے ذہین ہو‘ محنت کرو‘ بڑے اعلیٰ درجات ملیں گے۔ قرآن مجید میں یہ دونوں رنگ اختیار کیے گئے ہیں‘ یعنی تبشیراور انذار ۔ سورۃ العصر میں اِنذار کا رنگ غالب ہے کہ خبردار‘ تمام انسان ہلاکت اور بربادی کا نوالہ بننے والے ہیں سوائے ان کے جو چار شرطیں پورا کریں ۔ درحقیقت یہ چاروں کامیابی کی کم از کم شرائط (minimum prerequisites) ہیں ۔ان سے کمتر پر نجات کا کوئی سوال ہی نہیں ۔
پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ اس سورہ میں کامیابی اور ناکامی کا معیار سامنے آیا ۔ دوسری یہ کہ اس میں کامیابی کی کم سے کم شرائط کا بیان ہے۔ تیسری چیزیہ ذ ہن میں رکھیے کہ یہ چاروں شرطیں لازم ہیں۔
ابھی ہم نے کسی لفظ کی گہرائی میں اتر کر غور نہیں کیا‘ سرسری طور پر تذکر بالقرآن کے مرحلہ میں ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ ایچی سن کالج لاہور میں سورۃالعصر پرتقریر کی تھی توطلبہ کے ذہن کی مناسبت کے اعتبار سے کہا کہ یہ فرسٹ ڈویژن کا بیان نہیں بلکہ تھرڈ ڈویژن میں کامیابی کا بیان ہے جس سے کم تر پر failure ہے ۔یہاں اِنذار کا رنگ غالب ہے۔ خبردار کرنے والا انداز ہے۔ زجر کا‘ ڈانٹ ڈپٹ کا انداز ہے کہ اگر کامیابی چاہتے ہو تو یہ چار شرطیں پوری کرو ۔
اگر اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے لیے چار شرطیں بیان کی ہوں تو سوچیے کیا مجھے یہ اختیار ہے کہ ان میں سے ایک کم کر دوں‘ دو کم کر دوں‘ تین کم کر دوں؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ کسی چیز میں کسی کو یہ اختیار نہیں۔اگر ایسا کوئی اختیار ہو تا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوتا‘ مگر جب مشرکینِ مکہ نےمطالبہ کیا کہ اے محمد(ﷺ) یہ قرآن بہت rigid ہے‘ بہت سخت ہے‘ uncompromising ہے‘ یہ کہیں بھی کوئی رعایت کرنے کوتیار نہیں ہے تو اِس قرآن پرہمارا اور آپ کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔اس قرآن میں کوئی ترمیم کیجیے یا کوئی اور قرآن لے کر آئیے۔ ایسے میں رسول اللہﷺ سے سورئہ یونس (آیت۱۵) میں کہلوایا گیا :
{قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآءِ نَفْسِیْ ج اِنْ اَ تَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج }
’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے: میرے لیے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ مَیں قرآن میں اپنے جی سے کوئی ترمیم (کوئی تبدیلی) کردو ں۔ میں تو خود پابند ہوں اس کا جو مجھ پر وحی کیا جارہا ہے ۔‘‘
غور کیجیے قرآن بیان کر رہا ہے کہ نجات کی چار شرطیں ہیں جبکہ میرے اور آپ کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ صرف کلمہ گو ہونا نجات کے لیے کافی ہے‘ صرف ایمان سے نجات ہو جائے گی۔ درحقیقت ایک نجات وہ ہے جو ہزار ہا برس تک جہنم میں جلنےکے بعد نصیب ہو گی۔ مَیں اُس نجات کی بات نہیں کر رہا ۔ یقیناً جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اپنے اعمال کی‘ اپنےکرتوتوں کی سزا بھگت کر بالآ خر جہنم سے نکالا جائے گا اور اُس وقت حال یہ ہوگا جیسے جلا ہوا کوئلہ۔ یہ شرح حدیث نبوی ؐ میں آئی ہے۔ یہ نجات نہیں ہے ۔نجات دراصل وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میدانِ حشر میں ہی ہماری مغفرت کا اعلان فرمادیں۔اوّل مرحلہ میں ہی ہمیں جنت میں داخل فرمائیں۔یہاں اُس نجات کی بات کی جا رہی ہے۔ جان لیجیے کہ وہ نجات محض کلمہ گو ہونے کی بدولت نہیں ملے گی ۔اس نجات کے لیے شرط اول ایمان‘ شرط دوم عمل صالح ‘شرطِ ثالث تواصی بالحق اور چوتھی شرط تواصی بالصبر ہے۔یہ قرآن مجیدکا بیان ہے۔ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے کہ اس میں ترمیم کی جاسکے۔ یہ چار شرطیں پوری ہوگی تو نجات ہوگی ۔
میں اس کے لیے ایک سادہ سی مثال دیا کرتا ہوں۔آپ کسی حکیم کے پاس گئے۔ اس نے نبض دیکھ کر چاردوائیں لکھ دیں۔ اب اگر آپ نے اُس میں سےاپنی مرضی سے ایک دوا نکال دی اور تین رکھ لیں ‘یا دو نکال دیں اور دو استعمال کرلیں تو یہ نسخہ اب اُس حکیم کا نہیں ہے بلکہ آپ کا اپنا نسخہ ہے۔ ہو سکتا ہے یہ نسخۂ شفا نہ رہے بلکہ نسخۂ ہلاکت بن جائے۔ اس لیے کہ ہر وہ شخص جو نسخہ لکھتا ہےجانتا ہے کہ کسی مرض میں ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جو بہت تیز ہے ‘مضرہےمگر دینی بھی ضروری ہےتو اس کے ساتھ ایک مُصلح (corrective)بھی دیتے ہیں جو اس کے تیز اثر کو ختم کر تی ہے ۔وہ اس کے مضر ت بخش پہلو کا ازالہ کر دے گی ۔ اب اگر آپ نے وہ تیز دوا تو خوب استعمال کرلی اور اس کاجو مصلح تھا اس کو ساقط کر دیا تو وہ یقیناً نسخۂ ہلاکت بن جائے گا ۔چنانچہ یہ چار اجزاء پر مشتمل نسخۂ نجات ہے جواللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے ۔ اس کی چاروں شرطیں لازم ہیں۔ ان میں کوئی کمی بیشی کرنےکا اختیار ہمیں حاصل نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ العصر پر شائع شدہ کتابچہ میں مَیں نے امام رازی ؒ کا ایک جملہ نقل کیا ہےجس سے اُن کی عظمت مجھ پر منکشف ہوئی۔ سورۃ العصر کی تیسری آیت کے بارے میں اُن کی تفسیر میں یہ الفاظ آتے ہیں: اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذِہِ الْآیَۃَ فِیْھَا وَعِیْدٌ شَدِیْدٌ ’’جان لو اس آیت مبارکہ میں بڑی زبردست وعید ہے‘‘ اللہ کی طرف سے بڑی دھمکی ہے۔ کیوں ؟
وَذٰلِکَ لِاَنَّہُ تَعَالٰی حَکَمَ بِالْخِسَارِ عَلٰی جَمِیْعِ النَّاسِ، اِلَّا مَنْ کَانَ آتِیًا بِھٰذِہِ الْاَشْیَاءِ الْاَرْبَعَۃِ، وَ ھِیَ الْاِیْمَانُ وَ الْعَمَلُ الصَّالحُ وَ التَّوَاصِیْ بِالْحَقِّ وَ التَّوَاصِیْ بِالصَّبْرِ، فَدَلَّ ذٰلِکَ اَنَّ النَّجَاۃَ مُعَلَّقَۃٌ بِمَجْمُوْعِ ھٰذِہِ الْاُمُوْرِ
’’اس لیے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پوری نوعِ انسانی کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ کردیا ہے سوائے ان کے جو چار شرطیں پوری کریں‘ اور یہ ایمان ‘ عمل صالح‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر ہیں ‘اور اس سے قطعی طور پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ نجات کا دارومدار ان چاروں کے مجموعہ پر ہے۔‘‘
جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی‘ اس پر تاکید کا انداز ملاحظہ ہو :{وَالْعَصْرِ(۱)} ’’زمانے کی قسم !‘‘ اللہ تعالیٰ تو بغیر قسم کھائےبھی جو بات فرمائے مستند ہے‘ اس کے فرمان میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں‘ لیکن جہاں اللہ تعالیٰ کسی بات پر زور دینا چاہتا ہے‘ چاہتا ہے کہ تمہیں پختہ یقین ہوجائے وہاں قسم کھا کر کہتا ہے ۔
میں نے چار بنیادی باتیں تمہیدی طور پر عرض کی تھیں ‘ تذکربالقرآن کے ضمن میں بھی چارہی باتیں ہیں ۔ جب اس سورئہ مبارکہ کو بحیثیت مجموعی ذہن میںرکھ کر نتیجہ نکالا جائے تو یہ نکات سامنے آتے ہیں:
(۱) اس میں کامیابی کا ایک معیار ہے۔
(۲) کامیابی کے کم سے کم لوازم کا بیان ہے۔
(۳) اس میں بیان کردہ چاروں چیزیں لازمی ہیں ۔
(۴) یہ نہایت مؤ کد کلام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔
سورہ ٔمبارکہ پر تدبر
{وَالْعَصْرِ(۱)} اس کا ترجمہ یہی کیا گیاہے کہ ’’زمانے کی قسم ‘‘۔گہرائی میں سمجھیےکہ یہ زمانے کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے! سب سے پہلے یہ جانیے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قسمیں کیوں کھائیں اور قسم کھانے سے مراد کیا ہے۔ ہم جب قسم کھاتے ہیں تو کسی عظیم ہستی کی قسم کھاتے ہیں ورنہ اس میں کوئی معنی نہیں ہوں گے۔ قسم کا اصل مفہوم گواہی اور شہادت کا ہے۔ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں کہ یہ بات درست ہے تو دراصل اس نے اللہ کو گواہ بنا یا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں‘ وہ صحیح ہے۔ جب ہم قسم کھا کر کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس میں بھی گویا اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں: اللّٰہُ شَھِیْدٌ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ’’ اللہ گواہ ہے ہمارے اور تمہارے مابین۔‘‘ اب ہم دونوں کو اس معاہدے کی پیروی کرنی ہے اور اس کا ایفا کرنا ہے ۔ لہٰذا انسان کی قسم کا اصل مفاد گواہی وشہادت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں ‘جیسے {وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنَ} ’’قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔‘‘{وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ}’’قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی ۔‘‘ {وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا}’’قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔‘‘ {وَالَّیْلِ}’’ رات کی قسم‘‘ تو یہ مخلوقات کی قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قسموں میں کسی شے کی عظمت کا کوئی عمل دخل نہیں‘ اس لیے کہ یہاں قسم کھانے والا خود عظیم ترین ہے ‘اس سے عظیم تر کوئی شے ہی نہیں ہے ۔لہٰذا قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں ان میں کسی شے کی عظمت کا معاملہ نہیں بلکہ مجرد شہادت اور گواہی ہے۔ چنانچہ با محاورہ ترجمہ ہو گاکہ زمانہ گواہ ہے !
لفظ ’’عصر‘‘ کا معنیٰ و مفہوم
عصرکا مَیں نے ترجمہ کیا زمانہ ‘لیکن زمانہ کے لیے عربی میں کئی الفاظ آتے ہیں‘ جیسا کہ زمان، وقت، دھر۔دہر اور عصر ان دونوں الفاظ کو سمجھ لیجیے۔ جدید علوم والےلوگ جنہوں نے فزکس کا کچھ مطالعہ کیا ہے ‘ وہ ان الفاظ کی گہرائی کو سمجھ سکتے ہیں۔
آئن سٹائن ایک بہت بڑا Physicist تھا۔ اِس صدی کا عظیم ترین سائنس دان مانا گیا۔مکان (space) کے حوالے سے ہمارا نظریہ ہے کہ یہ سہ ابعادی (three dimensional) ہوتاہے۔ یعنی کسی شے کی تین اَبعاد (یا اَعراض) ہوتی ہیں: طول‘ عرض اور گہرائی یا اونچائی ۔حقیقت میں ایسانہیں ہے‘بلکہ آئن سٹائن نے یہ کہا ہے کہ Time is the fourth dimension of space ‘یعنی وقت درحقیقت مکان کی چوتھی جہت ہے۔ زمان و مکان (time and space) کی اصطلاح مرکب ہے۔ اس مرکب میں کُل کو لیں گے اور اس کا پھیلاؤ سامنے رکھیں گے تو اس کے لیے لفظ ’’دہر‘‘آئے گا ۔جب اس کے لیےصرف وقت کا تصور رکھیں گے‘ وہ وقت جو گزرتا ہے جس میں مُرور ہے‘ جس میں تین زمانوں (ماضی‘ حال اور مستقبل) کی تقسیم ہے‘ جسے انگریزی میں serial time کہا جاتا ہے‘عربی میں اِسے زمانِ جاری کہیں گے۔ یہ ہے عصر‘ گزرنے والا زمانہ۔ وہ زمانہ جو اس وقت حال ہے‘ اگلے لمحہ وہ ماضی ہوگیا اور ا س سےپہلے کے لمحے وہ مستقبل تھا۔ ہر لمحہ جو گزر رہا ہے کہ ع ’’میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ!‘‘
یہ زمانہ جو ماضی‘ حال اور مستقبل میں گزرتا ہےاس کو عصر کہتے ہیں ۔ چنانچہ اب اس کا ترجمہ ہو گا: ’’تیزی سے گزرنے والا زمانہ گواہ ہے۔‘‘ یہ زمانہ گزر رہا ہے‘ تمہیں اپنی غفلت کی وجہ سے ٹھہرا ہوا نظر آرہا ہے۔ دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ تم اپنی قبر سے قریب تر ہوتے جا رہے ہو۔ یہ چونکانے کا انداز ہے۔ ؎
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردُوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی!
Every minute which is passing, it’s bringing you nearer to your grave.
ہم نے میٹرک کے زمانے میں ایک انگریزی کی نظم پڑھی تھی A Psalm of Life ۔ اس کا ایک قطعہ (stanza)ہے :
Art is long, and the time is fleeting,
And our hearts, though stout and brave,
Still, like muffled drums are beating,
Funeral marches to the grave.
جب کسی فوجی افسر یا بڑے شخص کا انتقال ہو جاتا ہے اور اس کے تابوت کو لے کر جاتے ہیں تو ساتھ بینڈ بھی بجتا ہے۔بینڈ کی ہر beat کےساتھ وہ جنازہ اپنی قبر سے قریب تر ہورہا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ beating of heart ہے کہ دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ تم اپنی موت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہو۔یہ زمانہ جو اصل متاع ہے‘ اس میں ہمارے پاس یہ تھوڑی سی مہلت ہی ہے۔ اسی میں کچھ بنانا ہے۔ یہ مہلت تیزی سے گزر رہی ہے ‘جیسے برف پگھلتی ہے۔
امام رازی ؒنے بڑی عمدہ بات لکھی ہے کہ ’’وَالْعَصْرِ‘‘ کا مفہوم مجھے اُس وقت معلوم ہوا جب ایک شہر میں شام کے وقت داخل ہوا۔ بازار اب بند ہونے والا تھا کہ ایک برف بیچنےوالا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا: ’’لوگو! مجھ سے برف خرید لو ‘جلدی کرو‘ اس لیے کہ وہ پگھلی جا رہی ہے۔‘‘ ایک دکان دار تو وہ ہے جس کا سامان دکان کے اندر محفوظ ہے۔ وہ دکان بند کرے گا ‘ اگلے دن کھولے گا تو اس کا سامان اسی طرح رکھا ہوا ہو گا۔ برف پگھل گئی تو اصل زر چلا گیا ‘سرمایہ ختم ہوا ۔چنانچہ انسان کی مثال اس برف کے تاجر کی سی ہے کہ ہر لمحہ وقت ختم ہو رہا ہے اور انسان اپنی منزل سے قریب تر ہو رہا ہے۔ اگر اِس میں اُس نے کچھ بنا لیا تو کامیابی ہے‘ لیکن اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر تباہی اور بربادی ہے ۔یہ انداز تیزی سے گزرنے والے زمانہ کا ہے۔
انسان کا عظیم ترین خسارا
اب آگے آئیے:{اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)} الانسان میں جو’’ال‘‘ ہے اس کو ’’لام تعریف‘‘ کہتے ہیںاور اس میں بہت سے مفہوم پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں مراد ہے تمام انسان ۔ یہ لام حصر ہے۔ ’’ اِنَّ‘‘ تاکید کے لیے آتا ہے۔ {اِنَّ الْاِنْسَانَ}’’ یقیناً تمام انسان‘‘{لَفِیْ خُسْرٍ(۲)}’’درحقیقت خسارے میں ہیں۔‘‘ قرآن حکیم کی ہر آیت ایک معجزہ ہے۔ عر بی زبان میں کسی چیز پر زور دینے کے لیے جتنے اسلوب ممکن ہیں وہ سب کے سب یہاں جمع کر دیے گئے ہیں۔ اِنَّ تاکید کے لیے‘ لامِ حصر تاکید کے لیے‘ فِیْ خُسْرٍ سے پہلے لَ (لام تاکید) ‘ پھر خُسْرٍ نکرہ آیا ہے یہ بھی تاکید کے لیے۔ تو یہ جملہ اسمیہ تاکید یہ بنےگا۔
ذرا اس آیت پر نگاہوں کو مرتکز کیجیےکہ انسان کا خسارہ کیا ہے! آنکھیں کھول کر قلبِ حساس کے ساتھ نوعِ انسانی کا مشاہدہ کیجیے۔ کیسا کیسا دکھ‘ کون کون سی تکلیف ‘کتنی محنت‘ کتنی مشقت ہے جو ہر انسان کا مقدر ہے۔ سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ نے متعددقسمیں کھا کر یہ بات کہی ہے:
{لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ(۴)}
’’یقیناًہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ ‘‘
یہ مشقت ہر انسان کا مقدر ہے۔ لوگ گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس دنیا میں محنت اور مشقت کے لیے انسان کہاں کہاں جاتا ہے۔ ایک مغالطہ ہے کہ شاید محلات میں رہنے والوں کے لیے کوئی مشقت‘ کوئی دکھ نہیں ‘حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جو جتنا امیر ہے‘اس کی جسمانی مشقت اگرچہ کم ہے مگر ذہنی کو فت زیادہ ہے۔سکون آور دوائوں (tranquilizers)کی انہیں زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ انہیں خواب آور دوائیں (sedatives) چاہئیں۔ مزدور کو ان کی کبھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وہ آٹھ گھنٹے کی محنت کرنے کے بعد ایسا سوتا ہے کہ پھر صبح ہی کی خبر لے گا۔دراصل کسی کی جسمانی مشقت ہے تو کسی کی ذہنی مشقت ۔
مہاتما گوتم بدھ کے معاملہ پر غور کیجیے ۔تیس برس کی عمر میں کپل وستو کا شہزادہ محل کوچھوڑ کر نکل گیا۔ جوان بیوی کو سوتا ہوا چھوڑ دیا۔ شیر خوار بچے کو چھوڑ گیا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ باپ کے بعد یہ سلطنت مجھے ملنے والی ہے۔ کبھی آپ نے یہ سوچاکہ وہ کیوں گیا؟ اُس نے انسان کے غم اور دکھ کا مشاہدہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ کوئی اندھا ٹھوکر کھا کر گر رہا ہے‘ کوئی والدین رو رہے ہیں کہ وہ کچھ نہ کر سکے اور ان کی نگاہوں کے سامنے ان کا نہایت محبوب بچہ دم توڑ گیا ۔اس نے سوچا کہ انسان کے ساتھ یہ صدمہ کیوں ہے! یہ دُکھ انسان کا مقدر کیوں ہے ؟ اِس صدمہ اور دکھ سےنجات پانے کی بھی کوئی شکل ہے کہ نہیں؟ انسانوں کی ایک عظیم اکثریت ‘حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒکے الفاظ میں ‘ لدو اونٹ اورکولہو کا بیل بن کر زندگی بسر کر رہی ہے۔ جو آٹھ گھنٹے تک اینٹیں ڈھو رہا ہو‘ وہ واقعی انسان ہے یا حیوان بن گیا ہے ! آٹھ گھنٹے کی اس محنت کے بعدبھی ہو سکتا ہے کہ دو وقت کی روٹی اُسے پوری نہ ملے ۔ ایسا شخص کتنے بوجھ تلے دبا ہوا ہے‘کتنی مشقت کے اندر پسا ہوا ہے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے لیے دُکھ دیکھنے پڑتے ہیں۔ اپنی اولاد کے لیے رات کی نیندیں حرام کر لیتےہیں۔ بچہ بخار میں تپ رہا ہے یا درد سے تڑپ رہا ہے تو نہ باپ سو سکتا ہے نہ ماں سو سکتی ہے۔ جس زمانے میں ابھی سوئی گیس نہیں آئی تھی اور اکثر و بیشتر مٹی کا تیل بطور ایندھن استعمال ہوتا تھا ‘میں نے دیکھا کہ لاہور میں کیروسین آئل کی قلت ہو گئی تو دکانوں کے باہر کئی کئی فرلانگ لمبی قطاریں لگتی تھیں۔ ایسے ایسے منظر تھے کہ ایک برقع پوش خاتون گود میں ایک بچہ سنبھالے ‘ دوسرے کی انگلی پکڑے ‘ تیل کی بوتل ہاتھ میں لیے ہوئے کئی کئی گھنٹے دکان پر کھڑی ہے ۔ یہ مشقت انسان جھیل رہا ہے۔ غالب نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے: ؎
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں!
ہم بھول جاتے ہیں ورنہ واقعہ یہ ہے کہ اگر قلب حساس ہو تو: ؎
قید ِحیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں!
بنی آدم کا المیہ : محاسبہ ٔ اُخروی
یہ تو ہوا انسان کا معاملہ کہ {لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ (۴)}‘جبکہ حیوانات کا معاملہ ایک اعتبار سے آسان ہےکہ ان سے کیا کوئی محاسبہ بھی ہے؟کوئی جواب دہی بھی ہے؟ ان کو اللہ کے حضور میں کھڑے ہوکر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے؟ نہیں! یہ ٹریجڈی ‘ یہ المیہ صرف انسان کاہے ۔ اس کوبھی سورۃ الانشقاق میں کئی قسمیں کھانے کے بعد فرمایا گیا:
{یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ(۶)}
’’اے انسان!بے شک تجھے (صدموں پر صدمے جھیلتے ہوئے) مشقت پر مشقت برداشت کرتے ہوئے ایک روز اپنے رب سے ملنا ہے۔ ‘‘
یعنی تیرا المیہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ صدموں پر صدمات جھیلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کےحضور کھڑا بھی ہونا ہے‘ جواب دہی بھی کرنی ہے ۔
اُس دن کے احساس سے تو ہماری اُمّت کے جو بڑے بڑے عظیم گُلِ سرسبد ہیں‘ اُن کا حال بھی عجیب ہوتاتھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک عجیب کیف کے عالم میں فرمایا کرتے تھے:
’’کاش میں درختوں پر چہچہا تی ہوئی چڑیا ہوتا جس سےحساب کتاب نہ ہوتا۔ کاش میں گھاس کا تنکا ہوتا جو آج ہے اور کل آگ میں جلا دیا جاتا ہے ‘ختم ہو جاتاہے‘ اس سےکوئی محاسبہ نہیں ہوتا۔‘‘
حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے انتقال کے وقت سخت بے چین تھےکہ بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کا سر اپنے زانو پر رکھ لیا تو فرمایا کہ نیچے ڈال دو۔ ایک عجیب بے کلی اور بے چینی تھی۔بیٹے نے کہا :ابّا جان آپ کیوں پریشان ہیں؟ آپ تو عشرئہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺکے ذریعہ سے اس دنیا میں جنت کی بشارت دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
’’ خدا کی قسم‘ اگر قیامت کے دن عمر برابر سرابر پر بھی چھوٹ گیا تو بہت بڑی کامیابی تصور کرے گا۔‘‘
یہ ان لوگوں کے احساس کا عالم تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ حال تھا کہ ایک تیر پیوست ہو گیا تھا جوکسی طرح نکل نہیں رہا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: ’’اچھا چھوڑومجھے ‘میں نماز کی نیت باندھتا ہوں۔‘‘ جب نماز کی نیت کرتے تو لرزتے اور کانپتے تھے کہ کس کے سامنے کھڑا ہوں اور کس کے سامنے مجھے ایک دن جواب دہی کے لیے کھڑا ہونا ہوگا ۔چنانچہ اسی حالت میں وہ تیر نکال دیا گیا۔حضورﷺ نے خبر دی ہے :
((لَا تَزُوْلُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ))
’’آدم کے بیٹے کے قدم قیامت کے دن اپنے ربّ کے پاس سے ہل نہیں سکیں گے ‘‘
یعنی جیسے مجرم کٹہرےکے اندر کھڑا ہوتا ہے‘ اس کٹہرے میں سے ہل نہیں سکو گے۔
((حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ))
’’یہاں تک کہ اُس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا جائے۔‘‘
وہ پانچ چیزیں کیا ہیں ؟کان کھول کر سنیے:
(۱) ((عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَ اَفْنَاہُ))
’’اُس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا؟‘‘
عمر کا حساب دو ۔یہ ستر‘ اسی برس ہم نے تمہیں دنیا میں دیے‘ کہاں ضائع کیے؟
(۲) ((وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَ اَبْلَاہُ))
’’اُس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا؟ ‘‘
اور خاص طور پر جوانی کا دور جو اُمنگوں کے دن ہوتے ہیں۔ ولولے ہوتے ہیں‘ قوت و توانائی ہوتی ہے‘ آدمی چلتے ہوئے زمین پر پاؤں مارتا ہے ۔ یہ جوانی کہاں لگائی؟ ایک ایک لمحے کا حساب دو۔
(۳) ((وَمَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہُ))
’’اُس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا؟ ‘‘
ایک ایک پائی کا حساب دو۔ مال کہاں سے کمایا تھا‘ حلال سےیا حرام سے؟
(۴) ((وَفِیْمَ اَنْفَقَہُ))
’’اور کس چیز میں خرچ کیا؟‘‘
گل چھروں میں‘عیاشیوں میں یا نیکی کے کاموں میں ‘ادائے حقوق میں‘ اللہ کے دین کے لیے؟
یہ چار سوال ہو گئے۔ دو زندگی کےبارے میں ۔ایک پوری زندگی بحیثیت مجموعی کہاں‘ کس کام میں لگائی اور خاص طور پر شباب کا دور کہا ں لگایا۔ دو سوال مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا! حلال سے کہ حرام سے‘ جائز سے کہ ناجائز سے؟ خرچ کہاں کیا؟
(۵) ((وَمَا ذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ)) (سنن الترمذی:۲۴۱۶)
’’اور اُس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا؟ ‘‘
علم کے انبار لگا تے چلے گئے جبکہ عمل کے آغاز کی نوبت ہی نہ آئی۔ یہ علم اُس روز سب سے بڑا وبال بن جائے گا۔ اتنا علم اور عمل کچھ نہیں! بجائے یہ کہ credit کا ذریعہ بنے‘ الٹا debit کا کھاتا بن جائے گا۔
یہ جواب دہی کا احساس ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کی ٹریجڈی دوہری ہے۔ کوئی حیوان اتنے بوجھ تلے نہیں ہے۔ اس نے جو محنت و مشقت کی وہ اس زندگی میں ہی ختم ہوجائے گی ۔اس کے بعد کوئی محاسبہ نہیں ہے۔ اس کو ابراہیم ذوق نے خوب کہا کہ ؎
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے!
یہ ہے انسانی زندگی کا المیہ۔
اب غور کریں تو ایک گوتم بدھ کا فلسفہ ہے۔ اس کے فلسفہ کی main theme ہے: ’’سروم دکھم دکھم‘‘ (جیون دکھ ہی دکھ ہے) All is pain, all is suffering ۔ اس نے جوبھی محنت کی ‘یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اسے بعد میں کیا ملا اور کیا نہیں۔ ایک بہت جید عالم مولانا مناظر احسن گیلانیؒ ‘جن کا برصغیر پاک و ہند کے علماء میں بہت اونچا مقام ہے‘ انہوں نے گوتم بدھ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور اس کی دلیل دی ہے۔ قرآن مجید میں ایک رسول کا ذکر آتا ہے:’’ذوالکفل‘‘ جن کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ قرآن مجید میں ایک جگہ ذکر آیا لیکن کسی حدیث میں ان کے بارے میں وضاحت نہیں ملتی ۔نہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا‘ نہ حضورﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی۔ تورات میں نبیوں کے جونام آتے ہیں ان میں کسی نبی کا نام ذوالکفل کے آس پاس نہیں بنتا کہ سمجھا جائے کہ یہ اُس نام کی بگڑی ہوئی یا بدلی ہوئی شکل بن گئی ہوگی۔ چنانچہ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے جو کہا وہ بات وزنی معلوم ہوتی ہے ‘اس اعتبار سے کہ کپل وستو میں کپل کی جو’’پ‘‘ ہے وہ عربی میں ’’ف‘‘ بنتی ہے ۔یوں ذوالکفل کے معنی ہوئے:’’کفل والا‘‘ جس کو ہم کہتے ہیں کپل وستو کا شہزادہ۔ انہوں نے کہا کہ گوتم بدھ کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے‘اگرچہ ہم یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے‘ ہم واللہ اعلم کہیں گے لیکن یہ امکان ضرور موجود ہے ‘کیونکہ قرآن کہتا ہے:
{وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ (۷) } (الرعد) ’’ہم نے ہر قوم میں ہادی بھیجے ہیں۔ ‘‘
اور یہ بھی فرمایا گیا:
{وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ(۲۴) } (فاطر)
’’اورکوئی اُمت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔‘‘
یہ ممکن نہیں کہ کسی علاقے میں کوئی نبی نہ آیا ہو ‘لیکن ان کی تعلیمات اتنی بدل گئی ہیں کہ ہم ان کو پہچان نہیں سکتے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات اگر عیسائیوں سے ہم سمجھیں گے تو کبھی بھی انہیں اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں مان سکتے۔ یہ تو قرآن مجید نے آکرحضرت عیسٰی علیہ السلام کی اصل حقیقت بتائی ہے۔ بہر حال ہو سکتا ہےکہ گوتم بدھ اللہ تعالیٰ کے نبی ہوں مگریقین سے نہیں کہا جا سکتا ۔ گوتم بدھ نے دُکھ‘ رنج‘ صدمہ ‘غم جو انسان کا مقدر ہے اس کا مشاہدہ کیا اور پھر تپسّیائیں کیں‘ علم حاصل کیا ۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس دکھ سے نجات پانے کی کوئی سبیل بھی ہے کہ نہیں! اس غم سے انسان کسی طریقے سے چھو ٹ سکتا ہے یا نہیں ؟اس کو انگریزی میں salvation اور ہندی میں ’’نرمان‘‘ کہتے ہیں۔ اسی کو عربی میں ’’نجات‘‘ کہتے ہیں۔مَیں نے امام رازی کے الفاظ میں اِسے بتایا: اَنَّ النَّجَاۃَ مُعَلَّقَۃٌ بِمَجْمُوْعِ ھٰذِہِ الْاُمُوْرِ کہ نجات کادار و مدار ان تمام چیزوں کے مجموعے پر ہے۔
اُمید کی کرن
جدید فلسفوں میں ایک فلسفہ ٔوجودیت (Existentialism) ہے۔ اس کا مرکزی خیال بھی یہی ہے کہ انسان کے لیے دکھ ہی دکھ ہے‘ صدمہ ہی صدمہ ہے ‘رنج ہی رنج ہے۔ کچھ حساس لوگ ہوتے ہیں جو صدمے کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ کچھ وہ ہیں جن کی حس dull ہو جاتی ہے‘ کند ہو جاتی ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ دکھ سے نجات کا کوئی راستہ ہے بھی کہ نہیں! اس سوال کا جواب سورۃ العصر کی تیسری آیت ہے : {اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} پہلی دو آیات {وَالْعَصْرِ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)} سےجو ایک مایوس کن صورت حال سامنے آتی ہے‘ اس سے نجات دلانے والی تیسری آیت ہے۔ یہ اُمید کی کرن ہےکہ تباہی سے بچ سکتے ہو ‘ابدی بربادی سے نجات حاصل کر سکتے ہو۔ اس دنیا میں ہم نے مشقتیں اٹھا لیں ‘ تکلیفیں جھیل لیں‘ صدمے برداشت کر لیے لیکن موت آئی تو ان کا خاتمہ ہوگیا۔جہنم کی آگ کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ اگر انسان کی ایک کھال جل جائے گی‘ جھلس جائے گی تو اللہ تعالیٰ دوسری کھال دے دے گا۔ جدید دور کے فرانسیسی سرجن مورس بوکائے نے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید میں جتنے natural phenomena کاحوالہ دیا گیا ہے وہ بالکل سائنس کے مطابق ہیں۔آج ہمیں یہ معلوم ہے کہ حِس صرف کھال میں ہوتی ہے۔ کھال حساس ہوتی ہے۔ کھال اتر جائے تونیچے کا گوشت جلنے پر تکلیف نہیں ہوگی ۔ قرآن مجیدمیں آتا ہے کہ جب ان کی کھالیں جھلس جائیں گی تو ہم نئی کھال دے دیں گے تاکہ سوزش اورجلن کا احساس برقرار ہے‘ وہ ختم نہ ہونے پائے۔ قرآن کہتا ہے: {کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط } (النساء: ۵۶) ’’جب ان کی کھالیں جھلس جائیں گی( جل جائیں گی) تو ہم ان کی کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔مگر حال یہ ہوگا : {ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی(۱۳) }(الاعلٰی) ’’پھر نہ وہ اس میں جی سکے گا نہ مر سکے گا۔‘‘نہ زندوں میں ہوگا‘ نہ مُردوں میں ہوگا۔ موت کو پکارے گا کہ کاش وہ آ کر مجھے اس مشقت سے ‘ اس مشکل سے چھٹکارا دلا دے۔وہ موت جس سے اس وقت ہم بھاگتے ہیں‘ اگر خدانخواستہ جہنم میں جھونکے جائیں گے تو پھر موت کو پکاریں گے ‘لیکن وہ نہیں آئے گی۔
اس عذاب سے ‘اس ابدی ناکامی سے‘ اس خسران سے‘ اس ابدی ہلاکت سے بچنے کا کوئی راستہ ہے ؟ وہ جو میدان حشر میں لوگ پکاریں گے: {اَیْنَ الْمَفَرُّ(۱۰)} (القیٰمۃ) ’’ ہےکوئی جائے فرار ؟‘‘ ہےکوئی جائے پناہ؟ وہ جائے فرار‘ وہ جائے پناہ ‘اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی جس کا نام صراطِ مستقیم ہے۔ {اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} یہ ایک راستہ ہے جس کے چار نشان ہائے راہ ہیں ‘ سنگ ہائے میل ہیں۔ پہلا ایمان‘ دوسرا عمل صالح‘ تیسرا تواصی بالحق اور چوتھا تواصی بالصبر۔ اس صراطِ مستقیم پر چلو گے تونجات حاصل ہوجائے گی‘ کامیابی سے ہمکنار ہوجاؤ گے‘ ابدی خسران سے نجات پا جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما!
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ------ آمین یا ربّ العَالَمِین!!