(تذکرہ و تبصرہ) صومالی لینڈ اور عالمی طاقتوں کا ایجنڈا - شجاع الدین شیخ
17 /
صومالی لینڈ اور عالمی طاقتوں کا ایجنڈا
شجاع الدین شیخ‘ امیر تنظیم اسلامی
گزشتہ چند روز میں بین الاقوامی منظرنامے میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں‘ اِس کے اثرات فوری بلکہ بہت دُور رس ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کر لینا‘یمن میں سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے بحری جہاز پر حملہ‘ متحدہ عرب امارات کی افواج کا یمن سے نکلنے پر آمادہ ہو جانا‘ وینزویلا کے صدر کو امریکی فوجی کارروائی کے ذریعے امریکہ منتقل کر کے اُن پر مقدمہ چلانا‘ امریکہ کا ایران کے مظاہرین کی مدد کی آڑ میں جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دینا اور دوسری جانب ترکیہ کا پاک سعودیہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر آمادہ ہو جانا۔یہ سب واقعات بظاہر الگ الگ ہیں‘ مگر مجموعی طور پر یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی گیم چینج کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اسی تناظر میں پاک افغان مذاکرات میں ترکیہ کا ثالثی کے کردار سے دستبردار ہو جانا بھی ایک ایسا پہلو ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ ابلیسی اتحادِ ثلاثہ یعنی اسرائیل‘ امریکہ اور بھارت یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کسی صورت بہتر نہ ہوں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف لفظی اور عملی محاذ آرائی میں اُلجھے رہیں تاکہ مستقبل کا وہ خراسان وجود میں نہ آ سکے جہاں سے حضرت مہدیؒ کی نصرت کے لیے لشکر روانہ ہوں گے‘ اور پھر سیاہ جھنڈے لیے یہ افواج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر یہود کے خلاف آخری معرکے میں شریک ہوں گی۔ اسلامی روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اُس معرکے میں حق کو فتح نصیب ہو گی‘ دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوگا اور نظامِ عدلِ اجتماعی کا قیام عمل میں آئے گا‘ جس کی برکات سے پوری انسانیت مستفید ہوگی۔ایسے میں وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان جو برادر اور ہمسایہ مسلم ممالک ہیں‘اپنے باہمی تعلقات کو دینی تعلیمات اور اسلامی اخوت کے اصولوں کے مطابق استوار کریں‘ تاکہ دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ صرف دہشت گردی اور فساد پھیلانے والے عناصر‘ نیز ان کے اندرونی و بیرونی سرپرستوں کے خلاف آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی جائے۔ جرم ثابت ہونے پر اُنہیں قرار واقعی سزا دی جائے‘ کیونکہ اسی طرزِ عمل میں ریاست اور اُمّت دونوں کا مفاد مضمر ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکی آشیر باد سے اسرائیل نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کا تھانیدار بننے کا خواہاں ہے۔ اِسی مقصد کے تحت وہ عالمی بساط پر مسلسل اپنے مہروں کو حرکت دے رہا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو اچانک تسلیم کر لینا محض اتفاق نہیں۔صومالی لینڈ بظاہر ایک غیر تسلیم شدہ ریاست ہے‘ مگر بحیرۂ احمر‘ خلیج ِعدن اور باب المندب پر اس کا محلِ وقوع اسے عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کے قرنِ افریقہ کے علاقے میں واقع ایک خطہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر صومالیہ سے الگ ریاست تسلیم نہیں کیا گیا‘ تاہم مستقبل قریب میں اِسے تسلیم کیے جانے کے تسلسل کا اندیشہ موجود ہے۔ اسرائیل کے بعد امریکہ بھی اِسے تسلیم کرنے کے لیے مختلف جواز تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو خاص اِسی وقت تسلیم کرنے کا راز دراصل اِس کے جغرافیائی محلِ وقوع میں پوشیدہ ہے‘ جس کی اسرائیل کو اس مرحلے پر شدید ضرورت ہے۔ یہ علاقہ باب المندب کے قریب اُس مقام پر واقع ہے جہاں بحیرۂ احمر اور خلیج عدن آپس میں ملتے ہیں۔ ایک طرف یمن اور جزیرہ نما عرب ہے جبکہ دوسری جانب جبوتی اور اریٹریا واقع ہیں۔ باب المندب نہ صرف بحیرۂ احمر کو بحرِ عرب اور بحرِ ہند سے جوڑتا ہے بلکہ نہر ِسویز تک جانے والے بحری راستے کا بھی لازمی حصہ ہے۔یہاں سے ایران اور اس کے اتحادیوں کی بحری نقل و حرکت پر مؤثر نگرانی ممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علاقہ بحری‘ عسکری اور انٹیلی جنس اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اسرائیل جو خود ایک متنازع اور ناجائز ریاست کے طور پر وجود میں آیا‘ایک اور غیر تسلیم شدہ ریاست کو اس مقصد کے تحت تسلیم کر رہا ہے کہ نہ صرف گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے تناظر میں خطے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے بلکہ اہم عالمی آبی گزرگاہوں پر بھی کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔یوں اسرائیل اب صرف مشرقی بحیرۂ روم تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرۂ احمر میں بھی ایک فعال اور فیصلہ کن فریق بن چکا ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو جبراً صومالی لینڈ منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ نے پہلی مرتبہ اس علاقے کا دورہ بھی کیا اور باہمی تعلقات مضبوط بنانے‘ نیز اقتصادی‘ تکنیکی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس دورے کے خلاف صومالیہ کے دارالحکومت مغدیشو میں سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور اسرائیل کے فیصلے کو صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اسی طرح افریقی یونین نے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے۔یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اصول رہا ہے : جب عرب دنیا متحد ہوتی ہے تو اسرائیل دباؤ میں آ جاتا ہے‘ اور جب عرب ریاستیں باہم منتشر ہوں تو وہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس انتشار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کوئی مشترکہ عرب محاذ تشکیل نہیں پا سکتا‘ فلسطین کا مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور توجہ عرب دنیا کے داخلی تنازعات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
اسرائیل کاایک خودمختار ریاست کے اٹوٹ حصے کو تسلیم کرنا محض سفارتی اقدام نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی جارحیت ہے‘ جو ایک نہایت خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے۔ اس اقدام سے افریقہ‘ بحیرۂ احمر کے خطے اور اس سے آگے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل کا یہ قدم صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملے کے مترادف ہے۔ایسے حالات میں بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یک زبان ہو کر صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات کو مسترد کرے۔