(عرض احوال) نئی عالمی بساط اور اتحادِ اُمّت کی ضرورت - ادارہ

17 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نئی عالمی بساط اور اتحادِ اُمّت کی ضرورت

عالمی سیاست کو اگر محض خبروں‘ بیانات اور وقتی واقعات کے مجموعے کے طور پر دیکھا جائے تو بہت کچھ سمجھ سے باہر رہتا ہے۔ اگر اسے طاقت‘ مفادات اور منصوبہ بندی کی مسلسل کشمکش کے تناظر میں پرکھا جائے تو بظاہر منتشر واقعات ایک واضح تصویر میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ تاریخ کا ایک تلخ مگر ثابت شدہ اصول ہے کہ عالمی سیاست میں کچھ بھی محض اتفاقاً نہیں ہوتا‘ خصوصاً جب بات حساس جغرافیائی خطوں‘ آبی گزرگاہوں اور نظریاتی تصادم کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا‘ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کا شدت اختیار کرنا‘ ایران میں مہنگائی کے نام پر پُرتشدد احتجاج اور ہنگامے‘ غزہ میں جاری نسل کشی اور وینزویلا میں امریکہ کی کھلی جارحیت یہ سب الگ الگ کہانیاں نہیں بلکہ ایک ہی عالمی منظرنامے کے مختلف باب ہیں۔
صومالی لینڈ‘ جو بظاہر ایک غیر تسلیم شدہ ریاست ہے‘ درحقیقت عالمی طاقتوں کے لیے غیر معمولی کشش رکھتا ہے۔ بحیرۂ احمر‘ خلیج ِعدن اور باب المندب کے سنگم پر واقع یہ خطہ صرف جغرافیائی اہمیت ہی کا حامل نہیں بلکہ عالمی تجارت‘ توانائی کی ترسیل اور عسکری نگرانی کے اعتبار سے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا کی بڑی بحری طاقتیں اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ باب المندب پر گرفت کا مطلب نہر ِ سویز تک رسائی اور عالمی تجارت کی شہ رگ پر ہاتھ رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صومالی لینڈ‘ جسے عالمی اداروں نے آج تک رسمی طور پر تسلیم نہیں کیا تھا‘ عملی طور پر ایک مکمل ریاستی ڈھانچے کے ساتھ موجود ہے اور بڑی طاقتوں کی نظریں اِس پر مرکوز ہیں۔
اسرائیل کا صومالی لینڈ کو خاص اُسی وقت تسلیم کرنا جب بحیرۂ احمر میں کشیدگی بڑھ رہی ہو‘ محض سفارتی جرأت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھاstrategic قدم ہے۔ اسرائیل اِس اقدام کے ذریعے نہ صرف ایک نئے جغرافیائی محاذ پر قدم جما رہا ہے بلکہ ایران اور اُس کے اتحادیوں کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی صلاحیت بھی بڑھا رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ عرب دنیا کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خود کو ایک ناگزیر طاقت کے طور پر منوا رہا ہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو عرب اتحاد کے وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے اور عرب انتشار کے دور میں غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتا ہے۔
یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی اِسی انتشار کی ایک واضح مثال ہے۔ بظاہر دونوں ممالک ایک ہی اتحاد کا حصہ ہیں‘ مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دونوں کے اہداف‘ ترجیحات اور حکمت ِعملی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جنوبی یمن‘ بندرگاہیں‘ جزائر اور ساحلی پٹی یہ سب اِس کشمکش کا مرکز بن چکے ہیں۔ حالیہ واقعات‘ الزامات‘ تردیدیں اور افواہیں اِس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض عسکری تصادم نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔ ایسے ماحول میں ہمیشہ وہی قوت فائدہ اُٹھاتی ہے جو خود میدان میں اُترے بغیر دوسروں کو آپس میں اُلجھائے رکھے اور اِس کردار میں اسرائیل سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
یہ صورتِ حال ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے : کیا یہ سب کچھ محض اتفاق ہے؟ یا ہم ایک منظم عالمی منصوبہ بندی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس میں مسلم دنیا کو مسلسل تقسیم اور کمزور رکھا جا رہا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلم ممالک باہم دست و گریباں ہوتے ہیں تو عالمی طاقتیں نہ صرف خاموش تماشائی نہیں بنتیں بلکہ اِس انتشار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اِس کی سب سے روشن مثال ہے‘ جو ہر نئے بحران میں پس منظر میں چلا جاتا ہے اور پھر کسی وقتی بیان یا قرارداد کے ذریعے وقتی تسلی دے دی جاتی ہے۔
اِسی عالمی تناظر میں امریکہ کی وینزویلامیں کھلی مداخلت کو دیکھا جانا چاہیے۔ وینزویلا کے صدر کو حالت ِامن میں گرفتار کر کے امریکہ منتقل کرنا بین الاقوامی قانون‘ ریاستی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں‘تاہم اِس سے قبل جتنی بھی مثالیں ملتی ہیں وہ سب حالت ِجنگ سے متعلق ہیں ۔
۲۰۰۴ء میں ہیٹی کے منتخب صدر جین برٹراند آرسٹائڈ ہنگاموں اور فوجی دباؤ کے بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو امریکی فوجی طیارہ اُنہیں لے کر روانہ ہو گیا۔ اِس سے قبل۲۰۰۳ء میں عراق کے صدر صدام حسین کو امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے گرفتار کیا۔یہ ایک کثیر القومی جنگی آپریشن تھا‘ نہ کہ کسی پُرامن ملک کے سربراہ کی اچانک گرفتاری اور فوری امریکہ منتقلی۔یہ ایک بالکل مختلف قانونی اور جنگی پس منظر رکھتا تھا۔اِسی طرح ۱۹۸۹ء میں امریکی فوج نے پاناما کے آمر مینول نورئیگا کو گرفتار کیا اور بعد ازاں اُسے امریکہ لا کر مقدّمہ چلایا گیا۔یہ گرفتاری بھی ایک بڑی فوجی مداخلت کے تناظر میں ہوئی۔یہ سچ ہے کہ طاقت جب قانون کو روندتی ہے تو عالمی ادارے محض رسمی احتجاج تک محدود رہ جاتے ہیں۔ تنظیم اقوام متحدہ جو دنیا بھرمیں امن کی علامت سمجھی جاتی ہے‘ اکثر اوقات صرف اُن جنگوں کو روکنے میں سرگرم نظر آتی ہے جن سے طاقتور ممالک کو نقصان کا اندیشہ ہو‘ جبکہ کمزور اقوام کے توزخم گننے تک ہی محدود رہتی ہے۔
یہی ’’جس کی لاٹھی‘ اس کی بھینس‘‘ کا اصول آج کی عالمی سیاست کا غیر تحریری مگر غالب قانون بن چکا ہے۔ طاقت اپنے داخلی قوانین کے تحت ہر قدم کو جائز قرار دے سکتی ہے‘ مگر بین الاقوامی قانون کی نظر میں یہ اقدامات ہمیشہ متنازع رہیں گے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں دنیا نے کبھی طاقتور کو حقیقی معنوں میں جواب دہ نہیں ٹھہرایا‘ اور نہ ہی آج اس کی کوئی مثال دکھائی دیتی ہے۔
اِن تمام عالمی واقعات کے بیچ اصل سوال اُمّت ِمسلمہ کا ہے۔ کیا ہم محض مظلوم ہونے کا بیانیہ دہراتے رہیں گے‘ یا اِس مظلومیت کے اسباب کا سنجیدہ جائزہ بھی لیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ اُمّت کی کمزوری کا بنیادی سبب بیرونی سازشوں سے زیادہ ہماری داخلی تقسیم ہے۔ فرقہ واریت‘ قومیت‘ لسانیت اور ذاتی مفادات نے ہمیں اِس حد تک بانٹ دیا ہے کہ ہم اجتماعی ردّعمل دینے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ غزہ‘ کشمیر‘ روہنگیا اور سوڈان یہ سب ہمارے اجتماعی ضمیر پر قرض ہیں‘ مگر ان قرضوں کو محض جذباتی نعروں سے ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان‘ جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا‘ اس بحران سے الگ نہیں۔ قائداعظم نے واضح طور پر فرمایا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہوگا اور اس کے اصول قرآن و سُنّت سے ماخوذ ہوں گے۔ دستورِ ۱۹۷۳ء بھی اسی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ آئین کی دفعات حکومت کو پابند کرتی ہیں کہ قوانین کو قرآن و سُنّت کے مطابق بنایا جائے‘ مگر عملی طور پر نفاذِ دین ہمیشہ مؤخر کیا جاتا رہا۔ سودی نظام کے خاتمے کے لیے آئینی وعدے موجود ہیں‘ مدتیں مقرر کی جا چکی ہیں‘ مگر رکاوٹیں آج بھی وہیں کی وہیں ہیں۔ بعض قوانین پر فوری اور سختی سے عمل درآمد ہو جاتا ہے‘ مگر دین کی سربلندی کے معاملے میں اجتماعی بے حسی نمایاں ہے۔
عصر ِحاضر کی اس نئی عالمی بساط میں چھوٹے خطے بڑی طاقتوں کے مہرے بن چکے ہیں‘ اور کمزور اقوام دوسروں کے فیصلوں کا ایندھن۔ اگر مسلم دنیا نے اِس حقیقت کو نہ سمجھا‘ اتحاد کو محض تقاریر اور قراردادوں تک محدود رکھا‘ تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسلام کمزور نہیں ہوا بلکہ کمزوری ہمارے عمل میں ہے ۔اگر ہم خود انصاف‘ دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے تقاضے پورے نہیں کرتے تو عالمی سطح پر ہماری آواز کیوں کر مؤثر ہوگی؟ آج وقت ہے کہ ہم طاقت کی لاٹھی کے مقابلے میں اصول کی سیاست کو زندہ کریں‘ اور اتحادِ اُمّت کو محض خواب نہیں بلکہ عملی حقیقت بنائیں۔دوسری صورت میں طاقت کی یہ لاٹھی ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہےاور اُس وقت شاید ہمارے پاس نہ احتجاج کی قوت ہو‘ نہ سوال کرنے کا حوصلہ۔
تاہم یہ بات بھی خوش آئندہے کہ عالمی سطح پر اسلام کو سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اسلاموفوبیا میں کمی کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں‘ اور مخلص افراد مختلف پلیٹ فارمز پر اُمّت کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکیہ نے پاکستان اور سعودیہ کے عسکری اتحاد کا حصہ بننے کا عندیہ دیا ہے‘ جس سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی وہ خواہش پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہے کہ پاکستان‘ ایران اور افغانستان کا اتحاد ہوجائے تو زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی صورت واضح ہوجائے گی ۔ترکیہ کے اِس اتحاد میں شامل ہونے سے اسلام دشمن طاقتوں کو تکلیف تویقیناً پہنچے گی مگر زیادہ تکلیف تب پہنچے گی جب ایران اور افغانستان بھی اِس اتحاد میں شامل ہوکر دنیا کی رہنمائی کریں گے ۔ایسا ہوجائے تویہ صدی واقعی دین کے غلبے کی صدی بن سکتی ہے‘ بشرطیکہ ہم جذباتی ردّ ِعمل کے بجائے شعوری اور منظم کردار ادا کریں۔