قرآن کے اصل مخاطب کون ؟حافظ محبوب احمد
قرآن ہم پر مؤثر کیوں نہیں ہے؟انسان پر کسی چیز کے اثر انداز ہونے کے لیے تنہا یہی بات کافی نہیں ہے کہ وہ چیز بجائے خود مؤثر ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کے اندر اثر پزیری کی صلاحیت بھی موجود ہو۔ سورج لاکھ چمکے لیکن ایک شخص اگر بینائی سے ہی محروم ہے تو سورج کے چمکنے سے اس کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے! اسی طرح قرآن کا نور ہونا‘ بصیرت ہونا‘ سرچشمہ ٔ ہدایت ہونا مسلّم ہے‘ لیکن اگر کسی نے اپنی وہ صلاحیت ہی ضائع کر دی ہے جو اس نور اورسرچشمہ ٔ ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے تو آخر قرآن کیا کرےگا؟ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے وقت یہ احساس ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل و استحکام میں کچھ لوگوں کو خاص حیثیت دی گئی ہے اور ان کی ذمہ داریوں کا تعین بھی کیا گیا ہے ۔
قرآن ہر پڑھنے والے کے لیے یکساں اہداف نہیں رکھتا۔ جو لوگ حضرات ابوبکر صدیق‘ عمر‘ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اپنی زندگی میں آئیڈیل بناتے ہیں انہیں مطالعہ قرآن کے وقت ان ہستیوں کا کردار و عمل بھی پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ایسے لوگوں کے لیے دین کے مقابلے میں ان کی جان و مال کی حیثیت ثانوی ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ قرآن سے ہدایت نہیں دُنیوی مفادات کے لیے تعلق قائم کرتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے شاہین و گدھ۔ع ’’کرگس کا جہاں اور ہے‘شاہیں کا جہاں اور!‘‘دونوں اپنے اہداف کے لیے فضا میں اڑتے ہیں۔ شاہین اپنا ہدف فضائوں میں تلاش کرتا ہے جبکہ گدھ زمین کی پستیوں کا رُخ کرتا ہے۔ایسے لوگوں کی زبان آیت مبارکہ : {یٰٓاَ یُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًاط } (المومنون:۵۱)’’اے رسولو! پاکیزہ اور حلال چیزوں میں سے کھائو اور نیک عمل کرو‘‘کی تلاوت کر رہی ہوتی ہے مگر ہاتھ ’’اوساخ النَّاس‘‘ کے حصول کے لیے بے چین ہوتے ہیںـ ۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ((الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ)) پڑھتے بھی اور جانتے بھی ہیں مگر عملاً ((الْيَد السُّفْلٰى)) کواپنا ہدف و مقصود بناتے ہیں۔((وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللّٰهُ))’’اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہے گا اسے اللہ تعالیٰ بھی محفوظ رکھتا ہے‘‘کی تشریح و توضیح میں بھی اپنا علم و بیان صرف کرتے ہیں مگر مخلوق سے سوال کرنے میں ذرا تامل سے کام نہیں لیتے۔((وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللّٰهُ)) ’’اور جو دوسروں کے مال سے بےنیاز رہتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ بےنیاز ہی بنا دیتا ہے‘‘کی تعلیم ان کے دل پر ذرا اثر نہیں کرتی اور وہ اس پر یقین کے لیے کبھی راضی نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ تو محض اس لیے قرآن سیکھتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعے ’’معمولی مفادات‘‘ حاصل کرسکیں۔ لہٰذا اس مقصد کے لیے وہ تجوید و قراء ت بھی سیکھتے ہیں اور مسائل قرآن بھی۔رسول اللہ ﷺ کے مہمان کے لیے حضرت ابوطلحہ ا نصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی بیوی کے میزبان بننے کا واقعہ توبیان کرتے ہیں مگر خود ’’میزبان‘‘ بننے کے بجائےساری عمر کے لیے ’’مہمان‘‘ ہی بننا پسند کرتے ہیں‘یہ جانتے ہوئے کہ ان صحابی کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے مسکرانے کا سبب بنا اور ان کی تعریف {وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} (الحشر:۹) کی آیت مبارکہ میں فرمائی گئی۔
قرآن سے اپنا تعلق قائم کرتے وقت ہمیں اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ اس عمل کی نوعیت کیا ہے! پست اور سطحی نظریات قرآن سے تعلق کے باوجود بھی اعلیٰ عمل کو جنم نہیں دے سکتے۔ قرآن میں ایمانیات کے بعد جو دو بنیادی عملی تقاضے کیے گئے ہیں‘ ان میں سے ایک ’’اقامت ِصلوٰۃ‘‘ اور دوسرا ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ انسانی کردار و عمل کی نشوونماکے لیے یہ دونوں تعلیمات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہئیں۔
مطالعہ قرآن کے وقت یہ جائزہ بھی لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان کا حامل ہونے کی وجہ سے ہم پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان ذمہ داریوں کو بہت خوبصورت عنوانات سے سجایا ہے اور ایسی اصطلاحات استعمال کی ہیں جن پر غور و فکر کرنے سے نئے جہان کھل جاتے ہیں۔ ان ہی میں سے چند اصطلاحات کا احاطہ اس مضمون میں کیا گیا ہے ۔ ان اصطلاحات کی لغوی و اصطلاحی تعریف و مختصر تشریح بھی کی گئی ہے ‘جبکہ ان کی ’’ضد‘‘ سے اعراض کیا گیا ہے کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔
(۱) اُولُوا الالباب
اُولُو جمع ہے ذُو کی‘ یعنی والے‘ مالک ۔ لُبّ کے اصل معنی تو مغز کے ہیں‘جو کہ ہر چیز کاخلاصہ ہوتا ہےیعنی خالص عقل‘ اصل شعور‘ باطنی بصیرت اس کی جمع ہے الالباب ۔ لبیب عقل مند آدمی کو کہتے ہیں۔ اسی سے اس کی خاصیت و فوائد معلوم ہوتے ہیں۔انسانی عقل کو لُبّ کہا گیا ہے‘ کیونکہ عقل ہی انسان کا اصلی جوہر ہے ۔اولو الالباب کے معنی ہوئے: عقل والے‘ یعنی وہ لوگ جو خالص عقل‘ بصیرت اور گہرے شعور والے ہیں۔
قرآن کے نزدیک’’ اولو الالباب‘‘ صرف وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کے نظام پر غور کرکے خدا کے ذکر اور آخرت کی فکر تک رہنمائی حاصل کریں۔ جن کو یہ چیز حاصل نہیں ہوئی‘ وہ چاہے زمین و آسمان کی تمام مسافت ناپ ڈالیں اور چاند و مریخ تک سفر کر آئیں لیکن وہ اولو الالباب نہیں ہیں۔ان کے سروں پر کھوپڑیاں تو ہیں لیکن ان کے اندر مغز نہیں ہے۔اگر ان کے اندر مغز ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ انہیں باقی سب کچھ تو نظر آ جاتا لیکن یہ تل کی اوٹ پہاڑ نظر نہ آتا۔ ’’تفسیر طبری‘‘ میں امام طبریؒ کہتے ہیں:’’اولوالالباب سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقلِ سلیم رکھتے ہیں اور اس عقل کو حق کی پہچان میں استعمال کرتے ہیں۔‘‘یعنی ہر شخص کے پاس عقل تو ہے‘ مگر لُبّ یعنی خالص اور صاف عقل وہ ہے جو خواہشات‘ تعصب اور جہالت سے پاک ہو۔’’تفسیر کبیر‘‘ میں امام فخر الدین رازیؒ لکھتے ہیں:’’اولو الالباب ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عقل کو نفس کی غلامی سے آزاد رکھا‘ اور غور و فکر کے ذریعے حق تک پہنچتے ہیں۔‘‘تفسیر قرطبی‘‘ میں ہے: ’’لُبّ اصل عقل کو کہتے ہیں‘ جیسے کسی چیز کا مغز۔ تو اولو الالباب وہ ہیں جو ظاہری سطح پر اٹکے نہیں رہتے ‘بلکہ چیزوں کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔‘‘تفسیر ابن کثیر میں کئی مقامات پر ہے: ’’اولوالالباب وہ لوگ ہیں جو اللہ کی آیات میں غور کرتے ہیں‘ دنیا کی حقیقت کو جانتے ہیں‘ اور ان کی عقل انہیں رب کی طرف جھکنے پر آمادہ کرتی ہے۔‘‘
{یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًاط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۶۹)} (البقرۃ)
’’وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے۔ اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر ِکثیر عطا ہو گیا۔ اور نہیں نصیحت حاصل کر سکتے مگر وہی لوگ جو ہوش مند ہیں۔‘‘
اس آیت میں ’’اُولُوا الْاَلْبَابِ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو صاف ستھری اور پاکیزہ عقل کے مالک ہیں اور نصیحت و دانائی کو قبول کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی عطا کردہ حکمت (یعنی دین کے صحیح فہم اور علم وفقہ میں بصیرت) سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صاحبِ عقل و دانش‘ پاکیزہ عقل والے‘ جن کے پاس ایسی عقل ہے جو نصیحت کو قبول کرتی ہے۔ حکمت سے فیض یاب لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ حکمت دیتا ہے اور وہ اس سے مستفید ہوتے ہیں‘ جس کی وجہ سے انہیں بہت بڑی بھلائی ملتی ہے۔
(۲) پختہ ومضبوط علم والے
معاشرے کا یہ جوہر ’’صائب الرائے‘‘ افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کے اخلاقی و روحانی رُخ کو درست سمت میں رکھتا ہے۔اس طبقے کا صحیح رخ پر ہوناتب ہی ممکن ہے جب یہ اپنے علم اور عمل کو صرف اللہ کے لیے خاص کر لے اور دُنیوی مفادات سے اپنی ان صلاحیتوں کو آلودہ نہ ہونے دے۔ فکری کج روی منتشر عمل کو جنم دیتی ہے اور انسان کی شخصیت کے لیے مضر جبکہ معاشرے کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔سورئہ آلِ عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ہُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الْـکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ط فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَـیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْـتِغَـآئَ الْفِتْـنَۃِ وَابْـتِغَــآئَ تَاْوِیْـلِہٖ ج وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْـلَہٗ اِلَّا اللہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَــقُوْلُــوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ لا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْـبَابِ(۷)}
’’وہی ہے جس نے آپؐ پر یہ کتاب نازل فرمائی‘ اس میں محکم آیات ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں‘ اور کچھ دوسری آیتیں ایسی ہیں جو متشابہ ہیں۔ تو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ پیچھے لگتے ہیں ان آیات کے جو ان میں سے متشابہ ہیں‘ فتنے کی تلاش میں اور ان کی حقیقت و ماہیت معلوم کرنے کے لیے‘ حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر‘ یہ کل کا کل ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت حاصل نہیں کر سکتے مگر وہی جو ہوش مند ہیں ۔‘‘
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رَاسِخْ فِی الْعِلْم وہ عالم ِ باعمل ہے جو اپنے علم کی پیروی کرنے والا ہو۔ مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ رَاسِخْ فِی الْعِلْم وہ ہیں جن میں یہ چار صفات ہوں: اللہ کا تقویٰ‘ لوگوں کے ساتھ تواضع‘ دنیا سے زُہداور نفس سے مجاہدہ۔ (تفسیر خازن)
عقل بہت بڑی فضیلت اور خوبی ہے‘ جس کے ذریعے ہدایت و نصیحت ملتی ہے۔ جس عقل سے ہدایت نہ ملے وہ بدترین حماقت ہے‘ جیسے طاقت اچھی چیز ہے لیکن جو طاقت ظلم کے لیے استعمال ہو وہ کمزوری سے بھی بدتر ہے۔
(۳) روح کی نشوونما کرنے والے
{کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) } (صٓ)
’’(اے نبیﷺ!) یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے‘ تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریںاور ہوش مند لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔‘‘
اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ (potentially) کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا باعث بن گیا۔قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی روح کی نشوونما کے لیے غذا فراہم کرتی ہے اور روح کے اندر موجود خیر اور نیکی کی غیرفعال صلاحیت کو انگیخت دے کر اسے عمل صالح کے صدور کے قابل بناتی ہے۔ علامہ اقبال نے روح کی اہمیت کا احساس ان الفاظ میں دلایا ہے : ؎
ہے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل! تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے!(۴) دانا و بینا
یہ ایک عظیم حقیقت ہے کہ معاشرے کو چلانے والے افراد کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے جنہیں معاشرے کا دماغ کہا جاتا ہے۔ان کی سوچ و فکر معاشرے میں نیکی و برائی کے پیمانے مقرر کرتی ہے۔ قرآن بھی اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس حیثیت کے حامل ہوں تاکہ قرآن کے نظریات کے مطابق معاشرے کو ڈھالا جا سکے ۔بے مغز ‘ کھوکھلے افراد معاشرے کے کچرے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بعض مفسرین کے بقول درج ذیل آیت لوگوں کو حصولِ علم کی تاکید کرتی ہے کیونکہ اس میں بے علم اور دانش سے محروم افراد کو نابینا قرار دیا گیا ہے ۔
{اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَ نَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ہُوَ اَعْمٰی ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۱۹) } (الرعد)
’’(اے نبیﷺ!) کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے ربّ کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے‘ بھلا اُس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہے؟ یقیناً نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘
(۵) قوتِ نظری اور قوتِ عملی کے حامل
امام فخر الدین رازی ؒ لکھتے ہیں کہ انسان میں دو قوتیں ہیں: قوتِ نظری اور قوتِ عملی۔ انہی کی تکمیل میں انسان کی ترقی اور کمال کا راز پنہاں ہے۔ قوتِ نظری کا کام موجودات کے حقائق کو جاننا ہے۔ اس کا کمال یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اور ارفع حقیقت یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا عرفان اسے حاصل ہوجائے ۔ قوتِ عملی کا کام یہ ہے کہ انسان اخلاقِ فاضلہ سے متصف ہوجائے۔سب سے افضل اور احسن خلق یہ ہے کہ انسان خداوند ذوالجلال کی اطاعت کو اپنا شعار بنالے۔
یہ دونوں کمال قرآن کریم میں غوروفکر کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ہدایت طلبی کے جذبہ سے سرشار ہو کر قرآنی دلائل وبراہین کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بےساختہ یہ کہہ اٹھتا ہے : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔جب یقین کا یہ چراغ روشن ہوجاتا ہے تو عمل کی شاہراہ جگمگانے لگتی ہے اور وہ مستانہ وار یہ کہتا ہوا اس پر گامزن ہوجاتا ہے: اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی میں نے اپنا سر ِاطاعت وانقیاد ربّ العالمین کے ہر حکم کے سامنے جھکا دیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
{ہٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنْذَرُوْا بِہٖ وَلِیَعْلَمُوْٓا اَ نَّمَا ہُوَ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌ وَّلِیَذَّکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۵۲)} (ابراھیم)
’’یہ پہنچا دینا ہے لوگوں کے لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے خبردار کر دیے جائیں‘ اور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی معبود ہے اکیلا‘ اور اس لیے کہ نصیحت اخذ کریں عقل والے لوگ۔‘‘
(۶) اہل ِثروت کی ذمہ داریاں
اسلامی معاشرے کی معاشی تشکیل اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں صلاحیتوں کے اعتبار سے ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے ۔ کسی خاص نسلی ‘لسانی گروہ پر معاشی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالا گیا کہ ایک گروہ خود کو مفلوج کر لے اور دوسرا گروہ اس کی ذمہ داری اٹھائے۔ان راستوں کا تعین کیا گیا ہے جن کے ذریعے گرے پڑے لوگ بھی معاشرے میں ’’اُولُو الضَّرَر‘‘ سے ’’اُولُو الطَّوْل‘‘ کے منصب پر آ سکیں۔’’اولو الطول‘‘ کا لغوی مطلب ہے ’’لمبائی والے‘‘ یا ’’وسعت کے مالک‘‘۔ اصطلاحی طور پراس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے پاس دولت‘ مال‘ وسائل اور اثر و رسوخ ہو۔ معاشی‘ سماجی اور سیاسی وسعت کے حامل وہ لوگ جو صاحبِ ثروت‘ صاحبِ اختیار اور اثر و رسوخ کے مالک ہوں۔یہ اصطلاح اکثر قرآنی آیات میں دُنیاوی وسائل اور قدرت کے مالک افراد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ ایک طبقہ اگر صاحب ثروت افراد پر اپنی معاشی ذمہ داری مستقل طور پر ڈال دے تو یہ قرآن کے معاشی نظام کی روح کے خلاف ہے ۔ قرآن دولت مندوں کے مثبت کردار کو پسند اور ان کے منفی کردار کی مذمت کرتا ہے۔ اگر یہ طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرے گا تو اس کے نتیجے میں معاشرتی افراتفری پیدا ہو گی۔ کسی طبقے کو اس کی معاشی ذمہ داریوں سے مستقل طور پر استثناء نہیں سوائےایسے افراد جو جسمانی معذوری کے حامل ہوں۔ ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کی روشن مثالوں کی شکل میں موجود ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :
{وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللہِ وَجَاہِدُوْا مَعَ رَسُوْلِہِ اسْتَاْذَنَکَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْہُمْ وَقَالُوْا ذَرْنَا نَـکُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ(۸۶)} (التوبۃ)
’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ ایمان لائو اللہ پر اور جہاد کرو اُس کے رسولؐ کے ساتھ مل کر‘ تو آپ سے رخصت مانگتے ہیں ان میں سے مقدرت والے بھی اورکہتے ہیں ہمیں چھوڑدیجیے کہ ہم بیٹھ رہنے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘
(۷) بزرگی اور کشادگی والے
’’اُولُوا الطَّول‘‘ کے کردار کو سمجھنے کے بعد اب ہم ان افراد کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی شخصیت عوام الناس کے لیے بھی پسندیدہ ہے اور اللہ کی نظر میں بھی وہ عظیم المرتبت ہیں۔’’أُولُو الْفَضْلِ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو فضیلت اور بزرگی والے ہیں۔ لغوی معنی میں ’’فضیلت رکھنے والا‘‘ اور اصطلاحی معنی میں کسی خاص علم‘ مقام یا ہنر کے لحاظ سے بلند مرتبہ شخص مراد لیا جاتا ہے۔ فقہ میں بعض اوقات اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کے پاس فضیلت کی کوئی خصوصیت ہو‘ جیسے کہ علم و عمل میں بزرگی کے حامل افراد۔
قرآن مجید میں اس کا استعمال ان لوگوں کے لیے کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نےدوسرے لوگوں سے زیادہ نعمتیں عطا کی ہوں‘ جیسا کہ اس آیت مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے:
{وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ص وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْاط اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ط وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) } (النور)
’’اور قسم نہ کھا لیں تم میں سے فضیلت اور کشادگی والے لوگ اس پر کہ وہ (اپنے اموال میں سے) دیں قرابت داروں کو‘ مساکین کو اور مہاجرین کو اللہ کی راہ میں‘ اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا‘ نہایت مہربان ہے۔‘‘
(۸) مصلحین
معاشرے میں اصلاح کے لیے کوشش کرنے والے ہمیشہ اور ہر حال میں پسندیدہ افراد ہوتے ہیں جبکہ فساد کبھی بھی مطلوب نہیں رہا۔ اصلاحی مقاصد کے لیے کی جانے والی یہ کوششیں ہی معاشرے کو زندگی دیتی ہیں۔ جہاں یہ کوششیں کمزور ہوتی ہیں وہیں ظلم اور فساد اپنی پوری طاقت سے ابھر آتا ہے۔ قرآن میں ان لوگوں کو پسند کیا گیا ہے۔
{فَلَوْلَا کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُولُوْا بَقِیَّۃٍ یَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْہُمْ ج وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَکَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶) وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَامُصْلِحُوْنَ(۱۱۷)} (ھود)
’’تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں حق کے ایسے علمبردار ہوتے جو (اپنی اپنی قوموں کے لوگوں کو) روکتے زمین میں فساد مچانے سے‘ مگر بہت تھوڑے لوگ ایسے تھےجنہیں ہم نے اُن میں سے بچا لیا۔ اور پیچھے پڑے رہے وہ ظالم اُن عیش و آرام کی چیزوں کے جو انہیں دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے۔اور آپؐکا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان میں بسنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘
سورئہ بنی اسرائیل میں یہی مضمون یوں بیان کیا گیا:
{وَ اِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّہْلِکَ قَرْیَۃً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا فَفَسَقُوْا فِیْہَا فَحَقَّ عَلَیْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰہَا تَدْمِیْرًا(۱۶)}
’’اور جب ہم ارادہ کرتے کہ تباہ کر دیں کسی بستی کو‘ تو ہم اُس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے اور وہ اس میں خوب نافرمانیاں کرتے‘ پس ثابت ہو جاتی اُس پر (عذاب کی) بات‘ پھر ہم اُس کو بالکل نیست و نابود کردیتے۔‘‘
اب اُولُوْا بَقِیَّۃٍ کے عنوان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بَقِیَّۃ (وہ شے جس کو باقی رکھا جائے یا وہ شے جو باقی رہے) سے مراد ہے عقل و خرد اور فضیلت۔ جو چیزیں آدمی باقی رکھتا ہے یا جو باقی رہنی چاہئیں ان میں عقل و دانش ہی سب سے اعلیٰ چیز ہے۔جسمانی طاقت و صحت اور مال وغیرہ کا درجہ دانش و عقل سے کم ہے۔ اگر کسی میں کوئی اچھی بات اور بھلائی ہو تو اس کو ذُوَبَقِیَّۃ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی برگزیدہ اور اعلیٰ طبقے میں سے ہو تو کہا جاتا ہے : ھُوَ مِنْ بَقِیَّۃِ الْقَوم۔ ایک اور کہاوت ہے : فی الزوایا خنایا وفی الرجال بقایا یعنی گوشوں میں کچھ چھپی چیزیں ہوتی ہیں اور آدمیوں میں کچھ اعلیٰ اشخاص ہوتے ہیں۔ بعض کے نزدیک بِقِیَّۃ سے طاعت مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ بِقِیَّۃ سے مراد ہے خیر باقی ‘ یعنی اچھی خصلت۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بَقِیَّۃ مصدر ہو جیسے تَقِیَّۃ۔ قاموس میں ہے: بَقِیَ یَبْقٰی (س) بقاءًا وَبَقِیًّا ۔اس صورت میں اُولُو بَقِیَّۃ کا معنی ہوا : اپنے اوپر رحم کرنے والے اور اپنی جانوں کو عذاب سے محفوظ رکھنے والے۔
متذکرہ بالا آیت(ھود:۱۱۷) میں بہت خوب صورت انداز میں ان لوگوں کو اپنی جانوں پر رحم کرنے والے اور اپنی جانوں کو عذاب سے محفوظ رکھنے والے بیان کیا گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں رحم و کرم کی صفات جنم لیتی ہیں۔
(۹) طاقت اور قوت والے
طاقت کا ہدف کیا ہونا چاہیے؟ یہ اگر اپنا ہدف کھو د ے گی تواقوام کی راہوں کو مزید تاریک بنا دے گی۔ اگر طاقت مضبوط اخلاقی بنیادوں پر قائم ہو گی تو وہ اپنے ہدف کے حصول میں کامیابی کے نسبتاً زیادہ امکانات رکھتی ہے۔طاقت اگر ہوس ِملک گیری کے لیے ہو گی تو تاریخ اس کو ’’تموچن‘‘ (چنگیز خان) کی شکل میں اقوام کی تباہی کا باعث بنتے دیکھے گی۔طاقت اگر ذاتی برتری کے لیے ہو تو نپولین یورپی میدانوں اور روس کے برفیلے علاقوں کو خون سے نہلادے گا۔ طاقت ہی کا ایک منفی پہلو تیمور لنگ جیسے کردار ہیں جو انسانی کھوپڑیوں کے پہاڑ بناتے نظر آتے ہیں۔ طاقت اگر معاشی محرومیوں کا بدلہ لینے کے لیے تشکیل دی جائے گی تو وہ ’’داس کیپٹل ‘‘ کی صورت میں لاکھوں لوگوں کے قتل عام کا باعث بن جائے گی۔
اسلامی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کے لیے بھی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے مگر اسے اسلام کی روح کےمطابق استعمال کیا جائےتو ہی یہ ثمر آور بنے گی ۔ اس معاملے میں قرآن ہماری راہنمائی کرتے ہوئے طاقت کا آئیڈیل مقصد اور ہدف بیان کرتا ہے اور مضبوط لوگوں کی تعریف و توصیف بھی کرتا ہے ۔
’’اُولُو‘‘ کے معنی ہیں ’’کے مالک‘‘ یا ’’کے حامل‘‘ جبکہ ’’قُوَّةٍ‘‘کے معنی ہیں طاقت‘ اختیار یا صلاحیت۔اس لیے‘ ’’أُولُو قُوَّةٍ‘‘ کا مطلب ہوا ’’طاقتور لوگ‘‘ یا ’’بااختیار لوگ‘‘۔ اصطلاحی طور پر‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس کسی قسم کی طاقت ہے‘ خواہ وہ جسمانی طاقت ہو‘ مالی طاقت ہو‘ علمی طاقت ہو‘ یا سیاسی طاقت ہو۔
قرآن و حدیث میں اس سے مراد ایسے لوگ لیے جاتے ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنی طاقت استعمال کرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں۔ انصاف قائم کرتے ہیں‘ عدل کو قائم کرنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ کمزوروں کی مددکرتے اور ان پر ظلم کرنے سے بچتے ہیں۔ امن و استحکام کو فروغ دیتے اور سماجی بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔ طاقت کا استعمال اللہ کی اطاعت میں کرتے ہیں‘ نہ کہ اسے اپنے ذاتی مقاصد یا دوسروں پر ظلم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو علم کی طاقت دی ہے تو وہ اسے علم کے فروغ اور معاشرے کی بہتری کے لیے صرف کرتے ہیں۔ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد ہی ان کی طاقت کا اصل مقصد ہوتا ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے:
{قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّۃٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ لا وَّالْاَمْرُ اِلَیْکِ فَانْظُرِیْ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ(۳۳) } (النمل)
’’انہوں نے کہا: ہم طاقتور بھی ہیں اور زبردست جنگی صلاحیت والے بھی‘ اور فیصلے کا اختیار تو آپ ہی کے پاس ہے‘ چنانچہ آپ خود دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔‘‘
یہاں ’’اُولُو بَاْسٍ شَدِيدٍ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ ’’اُولُوا‘‘ کا معنی ہے ’’مالک‘‘‘ ’’بَاْس‘‘ کا معنی ہے ’’طاقت‘‘ یا ’’جنگ‘‘ اور ’’شَدِيدٍ‘‘ کا معنی ہے ’’مضبوط‘‘ یا ’’سخت‘‘۔ لہٰذا‘ اس کا لغوی معنی ہے ’’سخت طاقت والے لوگ۔‘‘
(۱۰)صاحب ِاختیار (اُولُوالامر)
یہ قرآن مجید میں استعمال ہونے والی ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں وہ تمام افراد شامل ہیں جنہیں معاشرتی اور سیاسی معاملات میں اختیار دیا گیا ہے‘ جیسے کہ حکام‘ علماء‘ اور ذمہ دار افراد جو لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
لغوی اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں :’’اولی الامر‘‘ کا لفظی مطلب’’احکام والے لوگ‘‘ ہے۔
اصطلاح میں‘ یہ عام طور پر ان افراد کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے پاس لوگوں کے معاملات سنبھالنے کا اختیار ہوتا ہے۔ان میں حکام اور علماء دونوں شامل ہیں۔ اگر معاشرہ دینی تعلیمات پر قائم ہے تو سونے پر سہاگا ‘اس کی رہبری کا کام دین والے ہی سرانجام دیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لامحالہ یہ اختیار بٹ جائے گا اور علماء صرف دین کے ان معاملات میں راہنمائی دے سکتے ہیں جو ریاست کی پالیسی سے متعلق ہوں۔ دوسری صورت میں ریاست کے غیراسلامی قوانین معاشرے میں انسانوں کی زندگی کو متاثر کرتے جائیں گے۔تاہم اس کے باوجود بھی ریاست کے مقابلے میں علماء کرام کےمثبت کردار کی نفی نہیں کی جا سکتی۔معاشرہ محض ریاستی قوانین سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ اخلاقی و روحانی تعلیمات کے بہت سے پہلو اس کو استحکام بخشتے ہیں۔
اسلامی معاشرے میں علماء‘ حکام اور ان تمام لوگوں کا کردارہے جو مسلمانوں کے معاملات سنبھالتے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کی پیروی کریں‘ انصاف کریں‘ اور معاشرے کے لوگوں کے لیے بھلائی کا کام کریں۔ اصطلاحی تعریف میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہیں معاشرے کے انتظام اور نظم و ضبط کا اختیار دیا گیا ہے۔
اولی الامر کو معاشرے کی دینی اور دنیاوی تعلیم یقینی بنانا چاہیے۔ اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نبھانا چاہیے‘ اور اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ معاشرتی ڈھانچا مستحکم رہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض کو پور ے شعور سے انجام دیں اور کسی بھی غیر اسلامی سرگرمی میں شریک نہ ہوں۔ حکمران ‘ علماء اورعوام کا سہ فریقی اتحاد ہی مسلم معاشرے کے استحکام کا ضامن ہے۔ حکمرانوں کا کردار انصاف قائم کرنا‘ عوام کی حفاظت کرنا‘ اورامن و امان برقرار رکھنا ہے۔علماء کا کردار لوگوں کو دین سکھانا‘ اہم مسائل پر رہنمائی کرنا‘ صحیح اور غلط کے درمیان فرق بتانا ہے۔ عام مسلمانوں کے کردار میں حکمرانوں اور علماء کی اطاعت کرنا (جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں) اور معاشرے کی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنا شامل ہے۔ ازروئے قرآن ‘ اطاعت کا دائرہ کار مسلم معاشرے میں بتدریج نظر آنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط ذٰلِکَ خَیْـرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا(۵۹)} (النساء)
’’اے اہل ِایمان! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی (اطاعت کرو)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلافِ رائے ہو جائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم واقعتاً اللہ پر اور یومِ آخر پر ایمان رکھتےہو۔ یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفیدہے۔‘‘
(۱۱) عبرت کی نگاہ رکھنے والے(اولو الابصار)
تاریخ نے اقوام کے عروج و زوال کے باب میں بہت سا مواد اخذ کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ اقوام کیسے ڈوبتی ہیں اور کن عوامل کی بنا پر ان کو زندگی اور عروج حاصل ہوتا ہے۔ قرآن حکیم نے تاریخ کے ذریعے اُمّت ِمسلمہ کی بہت سے معاملات میں رہنمائی کی ہے ۔ سابقہ امتیں کیسے ناکام ہوئیں ؟ انبیاء کی دعوت کے اثرات ان معاشروں میں کیسے پھیلے ؟ کون لوگ انبیاء کے حریف بن کر آئے؟تلاوت کے دوران ہمیں ذرا توقف کر کے قرآن کی اس صدا پر غور کرنا چاہیے کہ {اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط} (النساء) ’’کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے؟ ‘‘یا {اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا(۲۴) }(محمد) ’’کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑ چکے ہیں!‘‘ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ موجود نہیں کہ قرآن کی تلاوت یا قراء ت ہی کافی ہے۔ ان آیات پر تدبر کے لیے ضروری ہے کہ انسان تاریخ کی روشنی میں اپنی آنکھ میں وہ صلاحیت پیدا کرے جو ’’عبرت‘‘حاصل کر سکے۔ دیکھتا تو ایک جانور بھی ہے لیکن قرآن کو وہ آنکھ مطلوب ہے جو بصارت سےبڑھ کر بصیرت کی حامل ہو۔ بصیرت بہت کم لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔بصارت آنکھوں کی ظاہری روشنی ہے ‘ جبکہ بصیرت وہ کامل ہدایت ہے جو مِن جانب اللہ ہوتی ہے۔ بصیرت خدا کی خاص عطا ہے جو ہر ایک کو نہیں ملتی۔ بہت سے لوگ ساری زندگی کلام و بیان، بحث و مناظرہ اور عقل و منطق و فلسفہ کی گتھیاں سلجھانے میں الجھے رہتے ہیں مگر بصیرت کے مقام تک نہیں پہنچ پاتے ۔
{ وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ(۴۵) }(صٓ)
’’اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم‘اسحاق اور یعقوب(علیہم السلام ) کا‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔‘‘
اہل بصائر ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے معاشی‘ معاشرتی‘ روحانی‘ اخلاقی مسائل کا ادراک کریں ۔ سابقہ اقوام کے واقعات و قصص پر عبرت کی نگاہ سے اپنے معاشرے کو ان رذائل سے بچائیں جو زوال کا سبب بنتے ہیں۔
(۱۲) صاحب ِعزیمت لوگ
ایک اور قابل قدر قرآنی اصطلاح ’’اولوا العزم‘‘(صاحب عزیمت)ہے۔ اوپر بیان کردہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے جو لفظ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے وہ ہے عزیمت۔ عزم کے عام معنی میں تہیہ‘ پختہ ارادہ‘ ضبط وتحمل شامل ہیں ۔ عَزَمَ الأَمْرَ وعَلَيه یعنی کسی کام کا تہیہ کرنا‘ ٹھان لینا‘ کوشش کے ساتھ لگ جانا‘ پختہ ارادہ کرنا۔ جس طرح انبیاء کرام علیہم السلام میں پانچ اولوالعزم پیغمبر ہیں اسی طرح مسلمانوں کی تاریخ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے ‘ جنہوں نے اسلام میں در آنے والی ہر فکری کج نظری کو پوری طاقت سے ردّ کیا‘چاہے اس کے لیے انہیں جان دینی پڑی یا پس ِزنداں رہنا پڑا۔اس حوالے سے بڑی فہرست سید ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ میں موجود ہے‘ جوقابل قدر ہے۔ حقیقتاً یہی وہ لوگ ہیں جوع ’’چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘کے برعکس چلے۔ دریا کی لہروں کے مخالف تیرے ‘بزدلی کے مقابلے میں بہادری و جرأت سے لڑے۔ظلم و جبر کی آندھیوں کو ’’تقدیر گردش‘‘ سمجھ کر سمجھوتا نہیں کیا بلکہ ’’گردشِ ایام‘‘ کے نظریہ پر قائم رہے۔ وقت کے جابرکے ’’دشنام‘‘ کو ’’اکرام‘‘ خیال کرتے رہے۔ زمانے کی طعن زنی اورحرفِ ملامت کو بھی ’’مسکرا‘‘کر سہتے رہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن ’’صاحب ِعزیمت‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی:
{فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ ط کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍط بَلٰغٌ ج فَہَلْ یُہْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ(۳۵)} (الاحقاف)
’’تو (اے محمدﷺ!) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑصبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے! جس دن یہ لوگ دیکھیں گے اُس (عذاب) کو جس کی انہیں وعید سنائی جا رہی ہے (تو ایسے محسوس کریں گے) گویا نہیں رہے تھے (دنیا میں) مگر دن کی ایک گھڑی۔ یہ پہنچا دینا ہے! تو کیا سوائے نافرمان لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا؟‘‘
مطالعہ قرآن کرتے وقت کبھی ان ہستیوں کو اپنے ذہن میں لائیں کہ آج ’’عزیمت‘‘ کا لفظ ہماری زندگی سے خالی ہے ۔ ’’رخصتوں‘‘ کے ہار اپنے گلے میں ڈالے ہم ’’اللہ‘ اللہ‘‘ کرتے ہیں مگر یہ پکار نہ تو ہمارے اپنے گلے سے اُترتی ہے اور نہ ہی ہمارے عمل میں ڈھلتی ہے۔ مزید یہ کہ نہ ہی زمانے میں کوئی تبدیلی لاتی ہے۔ حقیقتاً وہ سجدہ جو قرآن کو مطلوب ہے ‘ا س سے ہماری پیشانی محروم ہو چکی ہے۔
(۱۳) تاریخ سے سبق حاصل کرنے والے (کامل العقل )
قرآن کریم میں ایک بہت اہم اصطلاح ’’اُولِی النُّھٰی‘‘ استعمال ہوئی ہے۔ نُھٰی بمعنی کسی چیز کی انتہا کو پہنچنا۔ نَھُوَ یَنْھُو نَھَاوۃً :بہت زیادہ ذہین ہونا‘کامل العقل ہونا۔ نُھیَۃ کا معنی عقل ہے‘ جس کی جمع نُھٰی ہے۔اُولُوالنُّھٰی یعنی صاحب ِفراست لوگ‘ بات کی تہ تک پہنچنے والے لوگ‘ تیز فہم لوگ ۔انسانی تاریخ قرآن کا ایک بڑا موضوع ہے ۔ سابقہ اقوام کے عروج و زوال اور ان کی ناکامی و کامیابی کے عنوانات کو اُمّت ِمسلمہ کے لیے بطور نشانِ عبرت بار بار استعمال کیا گیا ہے۔ ہمیں پوری طرح ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قوانین آج بھی اسی طرح جار ی و ساری ہیں جس طرح سابقہ اقوام کے ضمن میں جاری تھے۔ ہماری تاریخ ابن خلدون‘ طبری‘ حافظ ابن کثیر جیسے مورخین سے بھری پڑی ہے‘ جنہوں نے قابلِ قدر کتابیں تصنیف کی ہیں۔ قرآن بھی اقوام کے ضمن میں ’’ایَّامُ اللّٰہ‘‘ کی شاندار اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ ان اقوام کے مذہبی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ سیاسی جرائم پر نظر ڈالی گئی ہے ‘ جو ان کے زوال کے سبب بنے۔ بڑی اُمتوں میں قومِ نوح‘ قوم لوط‘ قوم ہود اور یہودیوں کی تاریخ انتہائی تفصیل سے بیان کی گئی ہے تاکہ اُمّت ِمسلمہ ان جیسی غلطیوں اور بے اعتدالیوں سے خود کو بچائے۔ ارشا دِ ربانی ہے :
{اَفَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّہٰی(۱۲۸) } (طٰہٰ)
’’تو کیا انہیں اس بات سے کوئی راہنمائی نہیں ملی کہ ہم نے ہلاک کر دیا ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو‘ وہ بھی چلتے پھرتے تھے (اسی طرح) اپنی آبادیوں میں۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔‘‘
اب کچھ ان افراد کا ذکر ہو جائے جن کو معاشرتی ذمہ داریوں سے استثناء دیا گیا ہے ۔ ان کو اگرچہ مکمل طور پر معاشرے سے نکالا تو نہیں گیا مگردرجے کے اعتبار سے تنزلی کے حامل افراد میں بدل دیا گیا ہے ۔
ذمہ داریوں سے استثناء کی صورت
{لَا یَسْتَوِی الْقٰـعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط فَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃً ط وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ط وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا(۹۵)} (النساء)
’’برابر نہیں ہیں اہل ِایمان میں سے بیٹھ رہنے والے بغیر عذر کے اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد (قتال) کے لیے نکلتے ہیں اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ۔ اللہ نے فضیلت دی ہے اُن مجاہدین کو جو اپنی جانوں اور اپنے مالوں سے جہاد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر‘ ایک بہت بڑے درجے کی ۔ (اگرچہ) سب کے لیے اللہ کی طرف سے اچھّا وعدہ ہے‘ لیکن فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک اجر عظیم کی (صورت میں)۔‘‘
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
{لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُج وَمَنْ یَّـتَوَلَّ یُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِیْمًا(۱۷) } (الفتح)
’’ہاںکسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ ہی کسی لنگڑے پر اور نہ ہی کسی مریض پر کوئی تنگی ہے۔اور جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا تو وہ داخل کرے گا اس کو ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔ اور جو کوئی پیٹھ پھیر لے تو اُسے وہ ایک دردناک عذاب سے دوچار کرے گا۔‘‘
مطالعہ قرآن کریم سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ’’تقویٰ‘‘ کے ساتھ ’’صلاحیت‘‘ بھی ضروری ہے۔ دورِ نبویؐ ہی وہ ’’شفاف چشمہ‘‘ ہے جہاں ہم تقویٰ اورصلاحیت کو ایک ساتھ پروان چڑھتے دیکھتے ہیں۔ کم و بیش دو سو سے اڑھائی سو سال تک یہ کیفیت رہی۔ اس کے بعد دوسری اقوا م سے ملاپ اور ان کے نظریات کی آمیزش نے اس شفاف چشمے کو گدلا کر دیا ۔ علامہ ابن جوزی اپنی کتاب ’’صید الخاطر‘‘ میں کہتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ ’’شفاف چشمے‘‘ سے فیض یاب ہو اور ’’گدلے پانی کے تالاب‘‘ سے خود کو بچائے۔ حاصل مطالعہ یہ ہے کہ مسلمان قرآن کا مطالعہ کرتے وقت اپنی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دیں۔ اپنی حیثیت کو معاشرے کی اصلاح و بھلائی کے لیے استعمال کریں۔ جس طرح ہم دنیاوی معاملات میں اپنے آپ کو پست وحقیر کہلانا نہیں پسند کرتے اسی طرح دین میں بھی درجہ بدرجہ ترقی کریں اور ’’وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا‘‘ کے منصب تک پہنچیں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026