منہج ِانقلاب ِنبویؐ اور خدمت ِخلقامیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ
سوال: تنظیم ِاسلامی منہج ِانقلابِ نبویﷺ پر عمل کا دعویٰ کرتی ہے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرت سے تو انسانیت کی فلاح و بہبود کا سبق بھی ملتا ہے‘ لیکن یہ تنظیم اسلامی کی ترجیحات میں کیوں شامل نہیں ہے؟
جواب:اسلام خدمت ِخلق اور خدمت ِانسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ مغرب کے سوشل ویلفیئر کے تصور سے بہت پہلے اسلام نے انسانیت کی خدمت کے حوالے سے نہ صرف عظیم مثالیں قائم کیں بلکہ اعلیٰ تعلیمات بھی دی ہیں ۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا ‘ یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنا ‘ مسافروں اور محتاجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا ‘ کمزور اور ضعیفوں کا سہارا بننا ‘ یہ سب وہ خدمات ہیں جن کا قرآن اور حدیث میں بار بار حکم دیا گیا ہے ۔ مسلم شریف میں حدیث ِقدسی ہےکہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا : اے میرے بندے! میں بھوکا تھا‘ تُو نےمجھے کھلایا نہیں‘ میں پیاسا تھا‘ تُو نے مجھے پلایا نہیں‘ میں بیمار تھا‘تُو نے میری عیادت نہ کی اور میں بے لباس تھا تُو نے مجھے لباس نہ دیا؟ بندہ عرض کرے گا:اے اللہ! تُو ربّ العالمین ہے ‘ تجھے اِن باتوں کی کیا حاجت ہے؟ اللہ فرمائے گا : میرا فلاں بندہ بھوکا تھا‘ پیاسا تھا‘ بے لباس تھا‘ بیمار تھا۔ تُو نےاُسے کھلایا ہوتا پلایا ہوتا ‘عیادت کی ہوتی ‘لباس دیا ہوتا تومجھے پا لیتا۔
انسان تو بڑی بات ‘ اسلام جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تعلیم دیتاہے ۔ احادیث میں ذکر ہے کہ کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے ایک عورت کی مغفرت کر دی گئی اور ایک بلی کو روکے رکھنے اور اس کے بھوکا مرجانے کی وجہ سے ایک عورت کو جہنم کی سزا ملی۔
مغرب کا تصورِ خدمت ِ خلق صرف اس مادی دنیا تک محدود ہے جب کہ اسلام سب سے بڑی خدمت اس کو سمجھتا ہے کہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کیا جائے ۔ بخاری شریف میں وارد ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! تمہارا حال یہ ہے کہ تم جہنم کی آگ میں گرنے کے لیے بھاگے جارہے ہو اور میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر اس آگ سے بچانا چاہتا ہوں ۔‘‘ مغرب صرف جسم اور ظاہر کو دیکھتا ہے لیکن اسلام روح اور باطن کی فلاح بھی چاہتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر روح کے بارے میں فکرمند ہونا ضروری ہے۔ قرآن میں یہ نہیں کہا گیا کہ بچوں کے لیے گھر بناؤ ‘ گرمی لگے تو اے سی چلاؤ ‘ بھوک لگے تو کھانا کھلاؤ ‘کیونکہ اس دنیا میں تو ایک چڑیا بھی اپنے بچوں کو پال لیتی ہے ‘ ان کے لیے گھونسلا بنا لیتی ہے۔ اس لیے قرآن میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی آخرت کو بچانے کی فکر دلائی گئی ہے:
{قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا} (التحریم:۶)
’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو (جہنم کی) آگ سے۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺ غریبوں کی مدد بھی کرتے تھے ‘ یتیموں اور مسکینوں کا خیال بھی رکھتے تھے ‘ بوڑھی اور ضرورت مند خواتین کے گھر جاکر ان کے کام بھی کرتے تھے‘ تجارت سے جو منافع حاصل ہوتا اُسے ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے تھے لیکن جب اللہ کا حکم آگیا کہ :
{قُمْ فَاَنْذِرْ(۲) وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(۳) } (المدثر)
’’(اے نبیﷺ!) اٹھو اور (لوگوں کو) خبردار کرو۔اور اپنے رب کو بڑا کرو!‘‘
اس کے بعد آپﷺ نے تجارت بھی چھوڑ دی اور اپنا سارا وقت دین کی دعوت اور اقامت ِ دین کی جدّوجُہد میں صرف کیا ۔ انفرادی سطح پر خدمت ِخلق کے کام بھی جاری رہے لیکن سب سے بڑھ کر جو فریضہ انجام دیا وہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کروانا تھا ۔ معلوم ہو ا کہ یہ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے ۔ اِس کے بعد دنیا میں عدلِ اجتماعی کا نظام قائم کرناہے تاکہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر رب کی بندگی کی طرف لایاجائے ۔
عدل کا نظام قائم ہو گا تو لوگوں کو جینے کا حق ملے گا ۔ دنیا اس کی برکات دیکھنا چاہے تو خلافت ِراشدہ کی تاریخ کا مطالعہ کر سکتی ہے ۔ خصوصاً حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں وہ مثالیں قائم ہوئیں جن کی پیروی آج مغرب بھی کر رہا ہے۔آپ فرماتے تھے کہ دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مرگیا تو عمر ؓسے اس کے بارے میں پوچھا جائےگا۔ ایک بوڑھا یہودی بھیک مانگتا ہوا دیکھاتو آپ ؓنے اُس کا وظیفہ مقرر کردیا اور فرمایا کہ جب تم جوان تھے تو کما کر ریاست کو بھی دیتے تھے ‘ آج تم ضعیف ہو تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمہاری کفالت کرے۔ سکینڈےنیوین ممالک میں ’’عمرلاز‘‘ کےنام سے آج بھی قوانین نافذ ہیں ۔ لہٰذا خدمت خلق کا اصل پیکج اسلام کے پاس ہے ۔حضرت عمربن عبدالعزیزؒ کے دور میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی ایک کتاب ’’خدمت ِخلق کا قرآنی تصوّر‘‘کے عنوان سے شائع ہوتی ہے۔ اسی عنوان سے ڈاکٹر صاحب کا خطاب بھی موجود ہے:
(https://youtube/VmX5zkf5E7o)
اس خطاب میں انہوں نے بہترین مثال پیش کی ہے کہ فرض کریں کسی بستی پر توپ کے گولے برسائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ۵۰ لوگ مر جاتے ہیں‘۵۰ زخمی ہو جاتے ہیں ‘ لوگ انسانی ہمدردی کے تحت زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتے ہیں ‘ متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد پھر توپ کے گولے برسائے جاتے ہیں اور لوگ زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتے ہیں ‘ مُردوں کو دفناتے ہیں اور متاثرین کی مدد کرتے ہیں ۔ تیسری مرتبہ پھر یہی ہوتاہے ۔ پھر ایک سیانے نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ پہاڑ پر چڑھ کر گولے برسانے والوں کا خاتمہ کر دیا جائے تاکہ بستی میں امن ہو ۔ اصل خدمت یہ ہوگی ۔ اسی طرح آج ہزاروں تنظیمیں ہیں‘ این جی اوز ہیں جو فلاحی کام کر رہی ہیں ‘ لیکن عدل کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ ظلم و جبر کا راج ہے ۔ جب تک اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جائے گا ‘لوگوں کو جینے کا حق نہیں ملے گا ۔ لہٰذا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت باطل نظام کا خاتمہ کرنا ہے ۔
تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہمیں جب موقع ملتا ہےتو حسب ِتوفیق خدمت ِخلق کے کام بھی کرتے ہیں۔ زلزلہ اور سیلاب متاثرین کے لیے ‘ غزہ کے مسلمانوں کے لیے اور اکثر قدرتی آفات کے مواقع پر اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ البتہ نظامِ عدل کے لیے جدّوجُہد کرنا تنظیم اسلامی کا اولین ہدف ہے‘ اور یہی درس ہمیں منہج ِانقلاب ِنبویﷺ سے ملتا ہے کہ انفرادی سطح پر خدمت ِخلق کے کام کیے جائیں لیکن اجتماعی سطح پر نظامِ عدل کے قیام کےلیے جدّوجُہد کی جائے تاکہ عادلانہ نظام قائم ہو ۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026