(حقیقتِ دین) الدِّينُ يُسْرٌ - ڈاکٹر ربیعہ ابرار

17 /

الدِّينُ يُسْرٌ
ڈاکٹر ربیعہ ابرار

اللہ عزّوجل نے اپنے آخری نبی ﷺ کے ساتھ جو دین تمام بنی نوعِ انسان کے لیے تاقیامت منتخب فرمایا ‘اس کے بارے میں یہ قرار دیا کہ:
{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ قف} (آلِ عمران:۱۹)
’’بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔‘‘
اس دین کو اللہ ارحم الراحمین نے آسان اور سہل بنایا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَنُیَسِّرُکَ لِلْیُسْرٰی(۸) } (الاعلیٰ)
’’اور ہم آپ کو آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔‘‘
’’یُسْرٰی‘‘ مبالغے کا صیغہ ہے ‘جس کا معنی بنتا ہے: سب سے زیادہ آسان۔ یعنی اللہ عزوجل سب سے آسان راستے کے لیے بھی مزید آسانی کا وعدہ فرما رہے ہیں۔ یہاں یُسْریٰ سے مراد اسلام اور شریعت ِمحمدیﷺ ہے‘جس کی تائید ہمیں ایک حدیث مبارکہ سے ملتی ہے۔ فرمانِ مصطفی ﷺ ہے:
((اِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ )) (صحیح البخاری:۳۹)
’’بے شک دین آسان ہے۔‘‘
اسلام ہر زمانے کے تمام افراد کے لیے زندگی کے ہر مرحلے میں قابلِ عمل اور مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ دور میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد‘ جن میں مسلمان بھی شامل ہیں‘ یہ کہتی نظر آتی ہے کہ اب جبکہ انسانی معاشرہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل پر ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے ‘ اسلام پر عمل کرنا مشکل اور کسی درجے میں ناممکن ہے۔زیر نظر مضمون میں ہم اسلام کی لائی ہوئی آسانیوں کا جائزہ لیں گے اور اس حقیقت پر غور کریں گے کہ اسلام نہ صرف بطور دین عمل کے لیے آسان ہے بلکہ اپنے پیروکاروں کی زندگی کو بھی سہل بناتا ہے۔
گزشتہ مذاہب سے موازنہ
اسلام کا موازنہ اگر سابقہ آسمانی مذاہب سے کیا جائے تو یہ ان سب میں آسان‘ معتدل اور عقل و دلائل سے ثابت ہونے والا دین ہے۔ اس میں نہ رہبانیت ہے‘ نہ کسی Original Sin کا تصور کہ جس کے تحت ایک معصوم نومولود بھی گنہگار پیدا ہوتا ہے۔ اسلام سابقہ شریعتوں میں موجود مشکل احکام اور پابندیوں کو بھی دور کرتا ہے جو کہ یہود کے بعض اعمال کی وجہ سے ان پر لاگو ہوئی تھیں۔ قرآن کریم (الاعراف:۱۵۶‘۱۵۷) کے مطابق تورات اور انجیل میں نبیﷺ کی جو خصوصیات ذکر کی گئی تھیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں‘ گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق ہیں ان کو دور کرتے ہیں۔ اس میں بعض ان چیزوں کو حلال کرنا بھی شامل ہے جو یہود کی برائیوں کے سبب حرام کر دی گئی تھیں یا حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیروی میں خود ان کے بعض حلال کو حرام کی طرح ترک کر دینا بھی شامل ہے ( جن کا ذکر آلِ عمران:۹۳ ‘النساء:۱۶۰ اور الانعام :۱۴۶ میں آتا ہے)۔ یہود میں آج تک بھی کھانے پینے کے معاملات سخت ہیں‘ جیسے کہ وہ دودھ اور گوشت کو اکٹھا نہیں کرسکتے۔ پھر بعض جانور کلی طور پر ان پر حرام ہیں‘ جیسے ایک ناخن والے جانور یعنی شتر مرغ ‘ قاز ‘ بط وغیرہ۔ اس کے علاوہ اُونٹ ‘ خرگوش اور سافان بھی حلال نہیں۔ گائے اور بکری کی چربی (مخصوص حصوں کی) بھی ان کے لیے ممنوع ہے۔ ذبیحہ کے معاملات میں بھی سختی ہے‘ جیسے خون کو مکمل طور پر شدّت کے ساتھ صاف کرنا ضروری ہے ۔ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کی عرق النساء کو بھی الگ کرنا بھی ضروری ہے‘ جو کہ ایک دشوار عمل ہے۔ مسلمانوں کے لیے ذبیحہ کے بھی واضح احکام دیے گئے ہیں اور ان میں جانور کے ساتھ احسان کا معاملہ اور ذبح کرنے والے کے لیے آسانی کا پہلو ہے۔
سبت جو یہود کی عبادت کا دن تھا‘ اس میں ان پر کام کاج منع تھا جبکہ مسلمانوں کو جمعہ کے دن عبادت کے بعد تجارت کی آزادی ہے (الجمعہ:۱۰)۔ روزے کے معاملے میں بھی یہود کے ہاں تقریباًپچیس گھنٹے کا روزہ ہوتا ہے جس میں کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات کے علاوہ نہانے‘ خوشبو لگانے اور چمڑے کے جوتے پہننے کی بھی پابندی ہے۔ نصاریٰ میں روزوں کا کوئی باضابطہ طریقہ رائج نہیں۔ الگ الگ مسلکوں کے اپنے دن اور طریقے ہیں۔ مکمل بھوک پیاس کا تصور نہ ہونے کے برابر ہے‘ یعنی روزے سے کوئی حقیقی فائدہ ملنا ممکن نہیں۔ مسلمانوں کو عطا کردہ روزوں میں بھوک کا عنصر طبی اور روحانی تربیتی پہلو لیے ہوئے ہے اور افطار کے کشائش والے اوقات آسانی کا پرتو ہیں (البقرہ:۱۸۷)۔ یہود کے ہاں کسی قتل کے جرم کے بدلے صرف قتل کی سزا تھی (سنن النسائی:۴۷۸۵) اور نصاریٰ میں صرف معافی کی گنجائش‘ جبکہ اسلام میں قتل خطا کے بدلے سزا کا بھی حق ہے‘ دیت کی سہولت بھی اور فی سبیل اللہ معاف کرنے کا بھی اختیار ہے۔ یہ مختلف انتخاب آسانی کے سوا اور کیا ہیں!
پیغمبر اسلامﷺ
محض دیگر ادیان سے مقابلے پر ہی نہیں‘ اسلام اپنے آپ میں بھی ہر ہر پہلو میں آسانیاں اور خیر لیے ہوئے ہے۔ یہ جس پیغمبر کے توسط سے انسانیت کو عطا ہوا ‘وہ ہادی ٔاعظم رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گئے ۔ وہ اپنی ذات میں بھی سراپا شفقت‘ آسانیاں پیدا کرنے والے اور آسانیوں کو پسند فرمانے والے تھے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپؐ نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میںزیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔‘‘ (بخاری: ۳۵۶۰)
رسول اللہ ﷺکے کامل اخلاق اور اسوہ حسنہ کا ایک جزو وہ آسانی بھی تھی جو آپﷺ دوسروں کے لیے پیدا فرمایا کرتے تھے۔ خود نبی ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا:
((إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا، وَ لَا مُتَعَنِّتًا، وَ لٰكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا)) (مسلم:۱۴۷۸)
’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ‘ بلکہ تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حکومتی وانتظامی امور کے لیے یمن بھیجا۔ اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی کہ:
((يَسِّرَا وَ لَا تُعَسِّرَا، وَ بَشِّرَا وَ لَا تُنَفِّرَا، وَ تَطَاوَعَا وَ لَا تَخْتَلِفَا)) (بخاری:۳۰۳۸‘ مسلم:۴۵۲۶)
’’ ( لوگوں کے لیے ) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ‘ ان کو خوش رکھنا ‘ نفرت نہ دلانا ‘ اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا۔ ‘‘
نہ صرف قولی تعلیم میں بلکہ آپ ﷺ کے عمل میں بھی لوگوں کے لیے یہی تعلیم تاباں تھی کہ ہر طرح کے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو ‘سختی سے بچا جائے۔ معروف واقعہ ہے کہ جب ایک بدوی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنا شروع کر دیا اور لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا :
((دَعَوْہُ وَاَھْرِیقُوا عَلٰی بَوْلِہٖ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ، فَاِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ)) (نسائی:۵۶)
’’ اسے چھوڑ دو (فارغ ہونے دو) اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔ تمہیں نرمی اور آسانی کرنے والے بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ نہ کہ سختی اور تنگی کرنے والے ۔‘‘
ایک مو قع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((اِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْرٌ، وَ لَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَ قَارِبُوا، وَ أَبْشِرُوا، وَ يَسِّرُوا، وَ اسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ، وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ)) (بخاری:۳۹‘ نسائی:۵۰۳۸)
’’ دین آسان ہے۔ جو شخص دین کو سخت بنائے گا ‘ دین اس پر غالب آ جائے گا ‘ لہٰذا تم اپنے اعمال درست رکھو ‘ میانہ روی اختیار کرو ‘ لوگوں کو بشارت دواور اُن کے لیے آسانی پیدا کرو۔اور صبح وشام اور کسی قدر رات میں (نماز کے ذریعے) مدد حاصل کرو۔‘‘
دراصل نبی ﷺ کو تو مبعوث ہی آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جانتے ہیں کہ جب وہ قرآن کی شرح احادیث سے کرتے ہیں اور سیرتِ مطہرہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اسلام کی اصل وسعت‘ خوب صورتی اور آسانی ان پر آشکار ہوتی ہے۔ یعنی یہ آسان دین نہ صرف اللہ کا کرم ہے بلکہ اس کے محبوب ترین نبی ﷺ کی شخصیت کا اعجاز اور معاملات میں آسانی کی طرف رجحان کا ثمرہ بھی ہے۔
صحیفہ ٔاسلام
نبی کے بعد اگر اُس کے لائے ہوئے دین کو کوئی چیز زندہ رکھتی ہے تو وہ اس عقیدے کی کتاب ہوتی ہے۔ اسلام کا آسمانی نسخہ یعنی قرآن کریم ربّ تعالیٰ کا کلام بھی ہے اور نبی ﷺ کا تاقیامت زندہ معجزہ بھی۔ بَیْنَ الدُّفَّتَیْن (دو گتوں کے درمیان) موجود کہنے کو یہ ایک کتاب ہے‘ مگر ایمان والوں کے لیے کیا کچھ نہیں ہے۔ شفا‘ تذکرہ‘ یاددہانی‘ نصیحت‘ فرقان‘ ہدایت‘ نور‘ تزکیہ یعنی کہ یہ ہر وہ شے ہے جو اس مادہ پرست دنیا میں انسان کو دنیا اور اصل زندگی (آخرت) کے درمیان توازن رکھنے میں معاون ہے۔ دنیا اپنی آرائش اور فریب کے ساتھ انسان کو بہکانے‘ بھٹکانے اور اندھا بنا دینے کے لیے ہر لحظہ سرگرم ہے۔ یہ انسان کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا کر اور عبودیت کے مقام سے پھسلا کر {ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ (۳۰)}(قٓ) ’’کیا کچھ اور بھی ہے؟‘‘کی دلدل میں یوں دھنساتی چلی جاتی ہے کہ پھر موت سے قبل کوئی چیز اسے جگا نہیں پاتی۔
قرآن جو انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے‘ دراصل اس کی دنیا کو بھی سنوارتا ہے۔ دنیا کو کتنا مرتبہ دینا ہے اور کیسے اس کو دل میں سمانے سے بچانا ہے‘ یہ سکھا کر وہ اس زندگی کو بھی آسان بناتا ہے۔ بندئہ مؤمن کبھی اس کتاب کو رحمت ِرحمان کے حصول کے لیے کھولتا ہے ‘ تو کبھی کوئی آیت اس کے دکھی دل کے لیے مرہم بن جاتی ہے۔ یہ اندھیروں میں امید بھی ہے اور بیمار دلوں کے لیے شفا بھی۔ یہ کتاب برکت لاتی ہے اور اپنے قاری کی زندگی کو خیر اور آسانیوں سے بھر دیتی ہے۔ دنیا کی مثال اگر کسی راستے سے لی جائے تو اس کے گڑھے اور خطرات ظاہر نہیں بلکہ چھپے ہوئے اور آرائشوں کے لبادے اوڑھے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ ازلی دشمن شیطان جو نسل در نسل دشمنی نبھا رہا ہے ‘وہ بھی اس راستے کی ہر جہت پر گھات لگائے بیٹھا ہے۔ ایسے میں قرآن وہ گائیڈ بک ہے جو اس دنیا کے مسافر کو آسانیوں کی راہ دکھاتی ہے‘ اسے درست سمت رواں رکھتی ہے اور شیطان کے وار سے بھی باخبر کرتی ہے۔ اگر انسان کے لیے ایک مشین سے استعارہ لیا جائے توقرآن حکیم اس کا manual ہے جو اسے خود اُس کی ذات سے بھی متعارف کراتا ہے‘اُس کے وجود میں چھپے اسرار اور نشانیوں کے بھید کھولتا ہے اور اپنی صلاحیتوں سےبہترین فائدہ اٹھانے میں معاون ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا موضوع انسان ہی ہے۔ پھر کرم در کرم یہ ہے کہ اس قدر متاثر کن قرآن کو سیکھنے‘ نصیحت لینے کے لیے آسان بنایا گیا ہے ۔اس کی تلاوت آسان کی گئی ہے۔
اللہ عزوجل فرماتے ہیں: {فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ط }(المزمل:۲۰) ’’جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو ‘اتنا ہی پڑھو۔‘‘ سورۃ القمر میں چار مرتبہ فرمایا: {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا ہے‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور پھر قرآن کو اپنی زبان پر بھاری محسوس کرنے لگے ‘ اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے تو چاہیے کہ سو جائے۔‘‘ فرض نماز میں بھی آسانی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں نماز میں سورۃ الفاتحہ اور جو سورت آسانی سے پڑھ سکیں‘ اس کی تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد:۱۱۴۳۵)
اس کے برعکس دین کو مشکل بنانے پر سخت تنبیہہ فرمائی گئی ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سب سے زیادہ قرآن کو جاننے والے اور اس کی خیر کو سمجھنے والے تھے‘ لیکن جب آپ ﷺ کو خبر ملی کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشاء کی امامت میں بہت طویل قراء ت کرتے ہیں تو ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
((يَا مُعَاذُ، أَ فَتَّانٌ أَنْتَ))- أَوْ ((أَ فَاتِنٌ))- ثَلاَثَ مِرَارٍ: ((فَلَوْ لَا صَلَّيْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشٰى، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَ رَاءَكَ الكَبِيرُ وَ الضَّعِيفُ وَ ذُو الحَاجَةِ)) (بخاری: ۷۰۵، مسلم: ۱۰۴۰)
’’معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو؟ آپ نے تین مرتبہ ( فَتّان یا فَاتِن) فرمایا۔ تم نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحٰهَا، وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى (جیسی سورتیں ) کیوں نہ پڑھیں؟ کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے‘ کمزور اور حاجت مند نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
توحید
اسلام کی عمارت جن پانچ بنیادی ارکان پر کھڑی ہوئی ہے‘ ان میں سے پہلا رکن اور وہ دروازہ جس سے اس دین کی عمارت میں داخل ہوا جاتا ہے ‘کلمہ شہادت ہے۔ قرآن کریم میں صراحت سے موجود ہے کہ اللہ پر ایمان لانا اور دین اسلام کو اختیار کر لینا ایک مضبوط کڑے کو تھام لینا ہے۔(البقرۃ:۲۵۶)
آج کی دنیا میں جدت کے نام پر ہر لحظہ ایک نیا فتنہ درپیش ہے ۔ ایسے میں پاؤں جما کر کھڑے ہونے کو کوئی ایسی زمین جو قدموں کو تھام لے ‘انسان کو پھسلنے اور گرنے سے بچائے درحقیقت ایک قیمتی ترین نعمت ہے۔اسلام وہ نورِ بصیرت ہے جو ایک نیا زاویۂ نگاہ نصیب کرتا ہے۔ انسان اپنے اطراف کے اندھیروں میں ایک نور لے کر چلنے لگتا ہے‘ جیسے تاریک رات میں کوئی جگنو اپنا چراغ لے کر چلتا ہے۔ وہ روشنی نہ صرف اس کے راستے آسان کرنے لگتی ہے بلکہ لوگوں کے لیے بھی مشعل راہ بنتی ہے۔ اس دنیا میں انسان روز ایک نئے طوفان سے آشنا ہوتا ہے۔ ایسے میں اس دین کی تعلیمات کی مثال درخت کی اس ٹہنی کی سی ہے جو لچک دار ضرور ہے لیکن مضبوط بھی ہے ۔اس کو تھام کر ہلاک ہونے سے محفوظ رہا جا سکتاہے۔
عبادات
اسلام کا دوسرا رکن جو ہر عاقل بالغ مسلمان پر دن میں پانچ بار فرض ہے‘ نماز ہے۔ بظاہر نماز کی پابندی ایک عام انسان کو مشکل لگ سکتی ہے لیکن درحقیقت یہ انسانی روح کی اہم ترین ضروریات میں سے ہے۔ ۱یمانی زندگی کی خوراک ذکر اللہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ(۱۴) }(طٰہٰ) ’’اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے۔‘‘ امام ابن القیم لکھتے ہیں کہ اللہ نے نماز کو بندے کے لیے اپنے قرب ‘اپنے ساتھ مناجات ‘اپنی محبت اور اپنے سے مانوس ہونے کا سبب بنایا ہے۔ دو نمازوں کے درمیانی وقفے میں بندے سے غفلت و بد اخلاقی‘ روگردانی‘ لغزشیں اور غلطیاں سرزد ہوتی ہیں جو اُسے اُس کے رب سے دور کر دیتی ہیں ۔ وہ ایسے ہو جاتا ہے گویا عبودیت سے اجنبی ہو اور اللہ کے بندوں میں شامل نہ ہو۔ چنانچہ اُس کے رب کی رحمت نے تقاضا کیا کہ وہ اس کے لیے اپنی عبودیت میں سے مختلف اجزاء اور حالات کی ایک جامع عبودیہ مقرر کر دے۔
انسان کے اندر ایک فطری ضرورت رکھ دی گئی ہے کہ اُس نے اپنی ذات سے بڑھ کر کسی اور ذات سے محبت کرنی ہے‘ اس کی پرستش کرنی ہے۔ اسی طلب کے پیش نظر ہی پانچ وقت کی نماز اس پر فرض کردی گئی ہے۔ یہ نماز اسے دنیا کی جگمگاہٹوں اور اس کے جمگھٹوں سے نکال کر اس کے اصل کی طرف لے آتی ہے۔ جو شخص اصل آقا کی عبودیت سے نکل جاتا ہے ‘وہ نفس کا‘ مال کا‘ جاہ کا‘ جمال کا غلام بن جاتا ہے۔ چیزوں کے آنے کی آس اور جانے کا غم اس کی ذات پر چھائے رہتے ہیں۔ بہت اکٹھا کرنے کی آرزو میں وہ پاس موجود چیزوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ پھر زیست اور گزران تنگ ہونے لگتی ہے تو کبھی نیند کی گولیاں‘ کبھی سکون کا علاج ڈھونڈتا ہے۔ ان سب مشکلات کے حل کے لیے انسان کو نماز جیسی آسانی عطا کی گئی ہے۔ پانچ نمازوں کا ثواب ۵۰ کے برابر رکھا گیا کہ وہ ذکر ِالٰہی میں مشغول ہو تو دل کا سکون بھی پائے اور بیش بہا اجر بھی۔ پھر خاص مواقع سے جڑی خصوصی رعایت کی اپنی آسانی ہے۔ سفر میں قصر ‘ جنگ میں صلاۃ الخوف‘ عذر والے کے لیے بیٹھ کر حتیٰ کہ لیٹ کر نماز پڑھنا بھی درست ٹھہرا۔ سہولت کے لیے بعض دفعہ نماز جمع کرنا بھی درست ہے ۔ پانی میسر نہ ہو تو تیمم کی سہولت اور برکت بھی اللہ عزوجل نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے صدقے اس اُمت کو عطا کر رکھی ہے۔ (بخاری:۴۶۰۸)
روزے بھی ہر بالغ مسلمان پر رمضان کے مہینے میں فرض کیے گئے ہیں۔ ان کا معاملہ بڑا ہی دلچسپ ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے لیے کچھ روزے مقرر کیے گئے تھے‘ جیسے کہ دس محرم کا روزہ اور ہر ماہ ایامِ بیض کے روزے ۔ حکم یہ تھا کہ روزے رکھنا بہتر ہے لیکن گنجائش تھی کہ روزے کے بجائے فدیہ دے دیا جائے۔ پھر سورۃ البقرہ ‘آیت۱۸۵ کے ذریعے فرما دیا گیا:{فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ط’’جو کوئی اس مہینے (رمضان) کو پائے اسے چاہیے کہ وہ روزے ہی رکھے‘‘۔ یہ پہلے کی طرح سال کے مختلف دنوں میں چند روزے نہ تھے بلکہ پورے ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے ۔ مہینہ بھی رمضان کا چنا گیا۔ اُس دور میں شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان عربوں کے ہاں گرم ترین مہینہ ہوا کرتا تھا۔ لغت میں رمضان کا معنیٰ ہی جھلسا دینے والی گرمی یا ایسی سوکھی زمین ہے جو پانی کی کمی کی وجہ سے تڑخ جائے۔ رمضان میں روزوں کی فرضیت کے بعد قمری تقویم اختیار کی گئی اور ماہِ رمضان سال کے مختلف موسموں میں آنے لگا۔
سطحی طور پر دیکھا جائے تو مہینے بھر کے روزے ایک دشوار معاملہ نظر آتا ہے‘ لیکن دراصل رمضان کا مقصد بندئہ مؤمن کی زندگی کو آسان کرنا ہے۔ جس طرح کسی بھی پروفیشنل تعلیم کے بعد تربیت دی جاتی ہے‘ مثلاً ایم بی بی ایس مکمل ہونے کے بعد ہاؤس جاب لازم ہوتی ہے‘ اسی طرح رمضان نفس کی تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ بندئہ مؤمن کو باقی سال میں دین پر جمے رہنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ رمضان کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے‘ جو آزمائشوں سے اٹی دنیا میں انسان کو دین پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا : { یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَز وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ} (البقرہ:۱۸۵) ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتا‘ اس لیے گنتی پوری کرو۔ ‘‘گنتی پوری کرو یعنی ٹریننگ مکمل کر لو‘ پھر آسانیاں تمہاری منتظر ہیں۔ رخصتیں مزید آسانی کے پہلو لاتی ہیں کہ مریض‘ مسافر ‘ حاملہ‘ رضاعت کرانے والی‘ حیض اور نفاس والی عورتیں دوسرے دنوں میں قضا ادا کر لیں۔ انتہائی ضعیف اور دائمی مریض کو فدیہ کی رخصت بھی دی گئی ہے۔ روزے دار جانتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ کچھ اپنا ہی فیض اور برکت رکھتا ہے۔ اس میں رکھے گئے روزے نفلی روزوں سے کہیں زیادہ آسان ہوتے ہیں ۔ صرف روزے ہی نہیں ‘نیکی کا ہر کام آسان تر معلوم ہوتا ہے۔
زکوٰۃ کا ذکر قرآن میں نماز کے ساتھ آتا ہے۔ صحابہؓ اور سلف صالحین زکوٰۃ کو نماز سے الگ نہیں سمجھتے تھے اور اسے نماز جتنی ہی اہمیت دیا کرتے تھے۔ یہ نہ صرف اللہ کے فرض کردہ احکام میں سے ہے بلکہ ایک فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے بھی اس کی اہمیت اساسی ہے۔ مال کی اہمیت معاشرے میں اسی طرح ہے جیسے خون کی اہمیت جسم میں۔ خون جسم کے کسی ایک عضو تک نہ پہنچے تو وہ فالج زدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر مال بھی معاشرے کے ایک طبقے تک محدود ہو کر رہ جائے تو وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ایسے معاشرے میں ذہنی انتشار‘ جرائم‘ بدامنی الغرض ہر وہ شے ہوگی جو آسانی اور خوش حالی کی متضاد ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام زکوٰۃ کی ادائیگی کو فرض قرار دیتا ہے ۔اس میں آسانی کا یہ پہلو رکھا گیا ہے کہ سال میں محض ایک بار صاحب نصاب پر کُل مال کا صرف ڈھائی فیصد حصہ نکالنا لازم ہے۔ اس میں بھی استثناآت موجود ہیں‘ جیسے رہائش والا مکان اور زیر استعمال سواری ‘اس کے علاوہ کرسٹل کے قیمتی برتن اور ڈائمنڈ وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام امیر کبیر لوگ اگر اپنے کُل مال کا صرف ڈھائی فیصد غرباء میں تقسیم کر دیں تو پوری دنیا کی غربت دور کی جا سکتی ہے۔ ایک مؤمن خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کرنے والا ہوتا ہے ‘کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ مال نہ صرف اس دنیا میں لوگوں کی زندگی میں آسانی لائے گا بلکہ روز قیامت اس کا کنز اس کے گلے کا طوق نہیں بنے گا۔
زکوٰۃ کی طرح حج بھی آسانی کی خاطر صرف صاحب حیثیت افراد پر فرض ہے ‘اور وہ بھی عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ۔ اگرچہ حج کا تمام ہی سفر دشوار گزار اور اس کے ارکان تھکا دینے والے معلوم ہوتے ہیں لیکن جنہیں یہ سعادت نصیب ہوتی ہے وہ اسے زندگی بدلنے والا تجربہ قرار دیتے ہیں۔ اپنی لگی بندھی زندگی جیتے انسان اکثر غفلت کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ سفر انسان کو اس یکسانیت سے نکال لاتا ہے۔ یہ رکن عظیم سال بھر کے سب سے عظمت والے دنوں میں دنیا کے ہر کونے سے ہر نسل کے مسلمانوں کو دنیا کی مقدس ترین جگہ پر اکٹھا کر کے ایک ربّ تعالیٰ کے آگے جھکا دیتا ہے ۔ اُسی کے لیے تلبیہ اور تکبیر پڑھواتا ہے۔ اسلام کی شان اور اس دین کے ربّ کی عظمت کو دل پر ثبت کر دیتا ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں‘ میدانِ عرفات میں تو یہ اُس آخری دن کی تیاری بھی کرواتا ہے جس میں سب نے ہی اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ کسی بھی چیز کی تیاری اس کام کو کرنے کے لیے آسانی کے سوا اور کیا ہے! بار بار حج اور عمرہ کرنا فقر و فاقہ کو بھی دور کرتا ہے۔ عبادت کے اس سفر میں تجارت کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔
نفلی عبادات
نفلی عبادات کی بات کی جائے تو بھی اسلام کا مزاج معتدل اور بندے کے ساتھ آسانی کرنے والا معلوم ہوتا ہے۔ بعض اصحاب نے جب عبادت کے معاملے میں خود پر مشقت کرنے کی ٹھانی تو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا اور اپنی معتدل سنت کی طرف رہنمائی فرمائی (سنن نسائی:۳۲۱۹)۔ یہی معاملہ خرچ کا ہے ۔اس میں بھی اعتدال کو پسند کیا گیا ہے کہ اتنی فراخ دستی نہ ہو کہ انسان خود فقیر ہو جائے (الاسراء:۲۹) ۔اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے کو زیادہ پسند کیا گیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ آسانی ہی چاہتا ہے۔ اس کے خزانے لا محدود ہیں‘ کمزور ہم انسان ہیں۔ فرمانِ رسول اللہ ﷺ ہے:
((اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ)) (نسائی: ۷۶۳)
’’ اتنے عمل کے شائق بنو جس کی آسانی کے ساتھ طاقت رکھو ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم ہی اُکتا جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ کام وہ ہے جس پر ہمیشگی ہو اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آسانی اور اعتدال کی راہ کو چھوڑتے ہوئے خود پر نفلی روزوں اور نمازوں کی کثرت کی تو آخر عمر میں یہ شوق ان کے لیے دشواری کا باعث بن گیا۔ ( صحیح مسلم:۱۱۵۹)
بندہ مؤمن کے ساتھ اس قدر شفقت برتی گئی ہے کہ اسے بے وجہ کے ہر تکلف سے بچا لیا گیا ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ‘ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کررہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنے لگے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
((يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ اِلٰى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ)) (متفق علیہ)
’’ لوگو ! اپنے آپ پر آسانی کرو ‘ کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے ‘ اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے ۔‘‘
صرف عبادات ہی میں نہیں‘ معاملات میں بھی آسانی کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے میں عام کرنے کا شوق دلایا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ؟ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ؟ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ)) (ترمذی:۲۴۸۸)

’’کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ لوگوں کے قریب رہنے والے‘ آسانی کرنے والے‘ اور نرم اخلاق والے پر حرام ہے۔‘‘
اسی طرح ایک موقع پر فرمایا :
((وَمَنْ يَسَّرَ عَلٰى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ))(ترمذی:۱۹۳۰)
’’جس نے دنیا میں کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اسے آسانی عطا فرمائے گا۔‘‘
ایک تاجر کا واقعہ احادیث میں وارد ہوتا ہے جس کے دنیا میں قرض خواہوں سے آسانی کی جزا میں اخروی معاملات میں آسانی برتی گئی۔ (مسلم:۱۵۶۰)
اسلامی حدود اور قوانین
اسلام کا وہ پہلو جس پہ سب سے زیادہ اعتراض اٹھائے جاتے ہیں وہ اسلامی قوانین اور حدود کی سزائیں ہیں۔ کسی حکم کی افادیت سے نا بلد اور ربّ العالمین کی حکمت پر توکل نہ رکھنے والے ہی اسلام کے واضح احکام پر شور مچا سکتے ہیں۔ اسلام چوں کہ انسانیت کی بقا کے لیے اتارا گیا ‘لہٰذا یہ ہر اُس فعل کو حرام ٹھہراتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے جو انسان کی جان‘ مال‘ عقل‘ ایمان یا نسب کے لیے خطرہ ہو۔ عقل کی حفاظت کے لیے شراب کو حرام کیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تعزیری سزا اسلامی حکومت نافذ کر سکتی ہے۔ عقل انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اگر یہی مغلوب ہوجائے تو ہر وہ برائی جس کا انسان ہوش کی حالت میں تصور بھی نہ کرنا چاہے‘سرزد ہو سکتی ہے۔
حد الحرابة اور سرقه کی سزائیں بھی معاشرے سے فتنہ اور انتشار مٹانے کے لیے ہیں۔ عادی چور اور ڈکیت کونشانِ عبرت بنانے کے لیے چور کا بایاں ہاتھ اور ڈکیت کے مخالف سمت سے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کے جرم کا حوصلہ بھی نہ کرے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح کے قوانین کا بنیادی مقصد سزا دینا نہیں بلکہ جرم روکنا ہے۔ اس لیے ضروری قرار دیا گیا کہ اعتراف یا گواہی جرم کو ثابت کرے۔ چوری بھوک سے مجبور ہوکر نہ کی گئی ہو۔ اسی طرح کا معاملہ زنا کی سزا کا ہے۔ شادی شدہ زانی کے لیے رجم جب کہ غیر شادی شدہ زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا ہے۔ثبوت کے لیےچار ایسے گواہ لانے ضروری ہیں جو جرم کے عینی شاہد ہوں۔ یہ سد ِباب اعلانیہ بے حیائی کو روکنے کے لیے ہے۔ اسلام کا مزاج معاشرے میں امن اور استحکام کی فضا کو قائم کرنا ہے۔ گھر کسی بھی معاشرے کی اکائی ہوتا ہے ‘اگر وہ خوش حال ہوگا تو معاشرہ بھی خوش حال ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نکاح کو آسان بنانے اور زنا کو مشکل تر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا ہے۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے:
((خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ)) (ابو داوٗد:۲۱۱۷)
’’بہترین نکاح وہی ہے جو زیادہ آسانی والا ہو۔‘‘
معاشرے میں مجرم پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ گھروں کا ٹوٹنا ہے۔ شادی سے باہر تعلقات جب گھر توڑتے ہیں تو صرف دو لوگوں ہی میں بگاڑ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اگلی نسل بھی اس کے منفی اثرات تلے پروان چڑھ کر کئی اور لوگوں کی زندگی کو مشکل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام زنا کے قریب جانے سے روکتا ہے ‘یعنی سد ِذرائع پر زور دیتا ۔پھر اتنے جتن پر بھی کوئی نہ رکے تو اس کے لیے عبرت ناک سزا ہے‘ تاکہ ایک کے انجام سے باقی سبق لیں۔ اس کے بعد بھی سیرت سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے کہ رسول اللّه ﷺ حتی المقدور کوشش فرماتے کہ حدود کے معاملات آپ تک نہ پہنچیں اور سزا نافذ نہ ہو‘ اِلّا یہ کہ کوئی خاص بات ہو۔(ابو داؤد:۴۳۷۷‘ ۴۳۸۱)
اسی طرح ارتداد کی سزا موت بھی اسی لیے ہے کہ زیادہ تر یہ سیاسی بغاوت کی علامت ہے اور بد امنی کا باعث ہے۔ اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم توبہ کا موقع دے کر اسلام کی طرف پلٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ (ابودائود:۴۳۵۶)
خلاصہ
دین ِاسلام کی عبادات‘ قوانین شریعت اور معاملات پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ دین آسان ہے اور آسانیاں لانے والا ہے۔ جو لوگ اسلام کی تصدیق کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے راستہ مزید آسان ہوتا جاتا ہے۔ جو لوگ اسے جھٹلاتے ہیں اور برائی کی طرف مائل رہتے ہیں ‘ان کے لیے آسان راستہ (نیکی کا راستہ) مشکل اور مشکل راستہ (بدی کا راستہ) آسان کر کے دکھایا جاتا ہے۔ (سورۃ اللیل:۵)۔ دنیا کی زندگی جتنی اور جیسی بھی ہو‘ بالآخر ختم ہو جانی ہے ۔ اس کے بعد ہمیشہ کی آسانی ہے یا ہمیشہ کی دشواری۔ جنت کا راستہ بظاہر مکروہات سے بھرا ہے اور انسان کا نفس‘ خواہشات اور شیطانی وسو سے اسے مشکل بنا دیتے ہیں لیکن دین اسلام کو مضبوط تھامنے والا اپنے لیے آسانیاں پیدا کر لیتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
((أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ الشَّقَاوَةِ)) (بخاری:۱۳۶۲)
’’بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔‘‘