ذِمہ داری ادا کرنے کی اہمیتحافظ محمد اسد
استاذ قرآن اکیڈمی‘یٰسین آباد ‘کراچی
انسان کی بہت سی ضرورتوں میں ایک اہم ضرورت اجتماعیت ہے۔اس میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے برکت رکھی ہے‘ جس میں نصرتِ الٰہی بھی شامل حال رہتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
((يَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ)) (سنن الترمذی‘ رقم الحدیث:۲۱۶۶)
’’جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔‘‘
اس لیے اجتماعیت سے الگ ہوکر زندگی گزارنا پسندیدہ نہیں ہے۔ ایسی حالت میں خاتمہ کو میتة الجاہلیة (جاہلیت کی سی موت) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اجتماعیت ہوگی تو لازماً اس کا ایک امیر اور سربراہ ہوگا جو اس کی قیادت کا فریضہ انجام دے گا۔ عوام اس کی راہنمائی میں اپنا سفر حیات جاری رکھتے ہوئے منزل کی طرف کامیابی کے ساتھ گامزن ہوں گے۔ قیادت و سربراہی کی اس ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
((اِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا اَحَدَهُمْ)) (ابوداؤد:۲۶۰۹)
’’جب تین آدمی سفرمیں ہوں تو ان میں ایک کو امیر بنالینا چاہیے۔‘‘
قوم کا سربراہ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ عوام کی خیر خواہی کرنا‘ ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کی بہتری کی فکر کرنا‘ سربراہ کی ذمہ داری ہی نہیں‘ بلکہ عین فرض منصبی ہے۔اسے اس کا احساس ہونا چاہیے۔ قوم کے رہبر و رہنما کی حیثیت ایک خادم کی سی ہوتی ہے۔ وہ اپنے اس فرض منصبی کو صحیح طریقہ سے انجام دے تو رعایا اور اس کے ماتحت افراد خوش حال ہوں گے‘ جاں نثاری کے جذبے کے ساتھ اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کریں گے۔ اس کے برعکس سربراہ اگر خود کو قوم کا خادم تصور کرنے کے بجائے مخدوم سمجھ بیٹھے اور آرائش و آسائش کی زندگی کو مقصد بنا لے‘ع ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘‘کے مصداق عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کرلے تو رعایا بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہوگی۔ بسا اوقات اس سربراہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنے پر بھی آمادہ ہو جائے گی۔
نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل دنیائے انسانیت دم توڑ رہی تھی۔ ہر طرف ظلم وستم کا بازار گرم تھا۔ رقص وسرود میں ڈوبے عیش پسند‘ ناعاقبت اندیش رہنماؤں اور بادشاہوں کو عوام کی ذرہ برابر بھی فکر نہ تھی‘ بلکہ وہ وقتاً فوقتاً انہیں اپنے عتاب کا شکار بناتے رہتے تھے۔ پھر یہ بادل چھٹا اور آفتاب کی شکل میں ایک عظیم رہنما نمودار ہوا جس نے لوگوں کو معرفت ِخداوندی کے ساتھ قیادت و سیادت کے اصول سمجھائے۔ لوگوں کے دکھ درد بانٹ کر انہیں حقیقی زندگی جینا سکھایا اور بتایا کہ بہترین انسان ہی بہتر قائدانہ کردار پیش کرسکتا ہے۔ حقیقی قائد وہ ہے جو امانت دار‘ امن و امان کا خواہاں اور انسانوں کی ضروریات پوری کرنے والا ہو‘ نہ کہ عیش و عشرت کا خواہاں ۔ یہ بہترقیادت عملی طور پر کیسے ممکن ہے؟ آپﷺ نے اپنی پوری زندگی سے اس سوال کا جواب فراہم کیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) ( متفق علیہ)
’’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے‘ اور ہرایک سے اس کی رعیت کے سلسلے میں میں باز پرس ہوگی۔‘‘
ذمہ داری کسی عہدے کا نام نہیں بلکہ ایک رویے کا نام ہے‘ جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔شریعت اسلامیہ نے ہمیں انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر ذمہ دار مقرر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری کے تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
{اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا(۳۶) } (بنی اسرائیل)
’’بےشک کان‘ آنکھیں اور دل‘ ان سب سے سوال کیا جائے گا۔‘‘
انسان کی شب و روز کی کامیابی‘ ترقی کی نئی نئی راہیں‘ منزل کا حصول اور زندگی میں ربط سب کچھ ذمہ داری کا مرہون منت ہے۔ احساسِ جواب دہی کا یہی محرک تھا جس نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ذمہ دارشخصیت بنادیا‘ جو دنیا والوں کے لیے نمونہ بنے ۔ دنیا نے آپﷺ کے تربیت یافتہ خلفائے راشدین کا دور بھی دیکھا کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ امیرالمومنین ہیں‘ بیت المال کے موجود ہوتے ہوئے بھی زندگی کس مپرسی میں گزری‘ مگر رعایا کے سرمایہ کو اپنے ذاتی مصرف میں نہیں لائے۔ غیر ضروری خرچ سے گریز کرتے رہے۔ پوری دُور اندیشی اور احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیا۔ قیصر وکسری کو فتح کرنے والے اور وسیع وعریض دنیا میں اسلام کا پرچم لہرا دینے والے خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کھجور کی چٹائی پر سوتے ہیں‘ جسم پر اس کے نشانات ابھر آتے ہیں۔ ان کی سادگی پر دوسرے علاقوں سے آنے والے لوگوں کو معلوم کرنا پڑتا تھا کہ امیر المومنین کون ہیں!ان کے احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ رعایا کے احوال سے نہ صرف باخبر رہتے ‘ بلکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی پیٹھ پر غلوں کا بوجھ اٹھالیتے ‘ کیوں کہ انہوں نے اپنے قائد سرور عالمﷺ کو بدست خود خندق کھودتے دیکھا تھا۔
تاریخ کے اوراق کو مزید پلٹ کر دیکھیں تو تابعین میں عمر ثانی حضرت عمربن عبد العزیزؒ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے اپنے دورخلافت میں عدل و انصاف کا وہ گراں قدر کارنامہ انجام دیا کہ سینگ والی بکری بھی بغیر سینگ کی بکری کو مارنے سے کتراتی تھی۔ ان کی جوانی کا دور (جب آپ خلیفہ مقرر نہیں ہوئے تھے) بڑے ہی ٹھاٹ باٹ اور شان وشوکت میں گزرا تھا۔ خوب صورت لباس پہنتے‘ عمدہ خوشبو لگاتے جسے دیکھ کر لوگ ٹھہر جاتے اور گلی معطر ہو جاتی تھی۔ جب بہ حیثیت خلیفہ خود کو خادم کی حیثیت سے پیش کیا تو دنیا ایسی سادگی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
آج کا انسان اپنے اس احساس ذمہ داری سے عاری ہوگیا ہے‘ جس کی وجہ سے قیادت و سیادت کا مفہوم بالکل الٹ گیا ہے۔ اب قوم کا رہبر اس کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ عوام سے خدمت وصول کرنے کے لیے اپنی عیاری اور مکاری سے کام لیتا ہے۔ ٹھاٹ باٹ کے لیے بیت المال میں جمع قوم کا سرمایہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ اقتدار کی ہوس اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لوگ اپنے ضمیر کے خزانے لٹا دیتے ہیں۔ اب یہ رعایا پرہے کہ وہ اپنا ذمہ دار کسے چنتے ہیں ‘ کیوں کہ یہ قیادت بھی ایک امانت ہے‘ جو اس کے اہل تک پہنچانا ضروری ہے۔سورۃ النساء میں اعلان ہے:
{اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُــؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَالا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًا(۵۸) یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج }
’’(مسلمانو!) اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو‘ اللہ تعالیٰ تم کو نہایت ہی عمدہ نصیحت کرتا ہے‘ اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (ﷺ) کی‘ اوران لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔‘‘
پھر ذمہ داروں میں اہل شخص اپنی امانت داری اور صلاحیتوں کے ذریعے اعلیٰ اصولوں کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے۔ عوام کی توقع کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس کے پیش نظر جہاں احساس ذمہ داری ہے‘ وہیں ایمان کے تقاضے بھی ہیں۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہٗ))(مسند احمد:۱۳۱۹۹)
’’اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت داری نہ ہو اور اس شخص میں دین کا پاس و لحاظ نہیں‘ جس کے اندر عہد کی پاس داری نہ ہو‘‘۔
امانت کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں جن کی ادائیگی تمام مسلمانوں پرلازم ہے۔ ذیل میں امانت کی چند ایسی صورتیں بیان کی جارہی ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کا ذہن نہیں جاتا‘ حالانکہ شریعت کی نظر میں ان چیزوں میں بھی خیانت قبیح اورموجب گناہ عمل ہے‘ مثلاً:
(۱) نااہلوں کو عہدے اور مناصب سپرد کردینا
(۲) مزدور اورملازمین کا کام چوری کرنا
(۳) خاص مجالس کی بات کو عام کرنا
(۴) غلط مشورہ دینا
جب کسی سے مشورہ لیا جاتا ہے تو وہ ان کے حق میں امین ہوتا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہی مشورہ دے جس میں اس کے علم کے مطابق مشورہ لینے والے کا خیر و فلاح مضمر ہو۔ دل میں جو بات آئے‘ کسی ذہنی تحفظ کے بغیر صاف صاف کہہ دے۔ رسول اکر مﷺ نے ایک صحابی کے مشورہ لینے پر ارشاد فرمایا:
((الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ)) (سنن الترمذی:۲۸۲۳)
’’جس سے مشورہ لیا جائے اس کو امین ہونا چاہیے۔‘‘
(۵)کسی کا راز ظاہر کرنا
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:
((اِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ اَمَانَةٌ))(سنن الترمذی:۱۹۵۹)
’’جب ایک شخص کوئی بات کہے اورچلا جائے تو یہ بھی امانت ہے۔‘‘
(۶) حق تلفی اور ناانصافی کرنا
موجودہ مسلم دنیا کے خراب حالات اس بات کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ امت کے بڑوں میں احساس ذمہ داری باقی نہ رہا تھا۔ سیاسی و معاشی امور میں ذمہ دار افراد کا فقدان‘ علماء کا فکری رہنمائی کے میدان میں ذمہ دارانہ رویے سے انحراف‘ ہمارے زوال کی بڑی وجوہات ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ رویہ غفلت‘ سستی اور کاہلی کو جنم دیتا ہے‘ جو کسی بھی قوم کے زوال میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر ہم اپنا شان دار ماضی دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم میں سے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔آج کے کام کو آج ہی کرنا ہوگا۔ خواب غفلت کو چھوڑ کر ذمہ دار معاشرے کے قیام کے لیے جدو جہد کرنی ہوگی۔ وسائل کا درست استعمال کرنا اور معاملات کی تکمیل اپنی عادت بنانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن و سنت کا تابع بنائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026