دورۂ ترجمۂ قرآن اور فریضہ ٔ اقامت ِدینعبدالرؤف
معاون شعبہ تعلیم و تربیت‘ تنظیم اسلامی
بانیٔ تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں آج سے کم و بیش ستر سال قبل خدماتِ قرآنی کے جس عظیم مشن کا آغاز کیا تھا‘ اس کے سنگ ہائے میل میں رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں۱۹۸۴ء سے شروع ہونے والے دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کو ایک اہم حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ہر آنے والے سال میں تنظیم اسلامی کی سطح پر اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں عوام الناس کی بہت بڑی تعداد اس سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ قرآن کے ذریعے عوام میں پیدا ہونے والی تبدیلی کا باعث اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحبؒ جیسی عظیم عبقری شخصیت کو بنایا ہے‘ لہٰذا اسی وجہ سے اس کا بہت بڑاکریڈٹ ڈاکٹر صاحبؒ کی ذات کو جاتا ہے۔ مزید برآں ‘ان کے لیے یہ بہت بڑا صدقۂ جاریہ اور توشۂ آخرت بھی بن رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ محترم ڈاکٹر صاحبؒ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے دروس میں نظمِ قرآن کی خوب صورت جھلک‘ فلسفۂ وحکمت ِقرآن کے مضامین کی آسان انداز میں ادائیگی اور اسلافِ امت سے تعلق کی خوشبو نمایاں تھی۔ ہر طبقہ ٔفکر کے سامعین مشامِ جاں کو معطر کر کے اُٹھتے تھے اور ہر کوئی اپنے ظرفِ ذہنی کے مطابق اس سے استفادہ کرتا تھا۔ البتہ ان کے دروس کا سب سے نمایاں پہلو دین کے ہمہ گیر تصور کا بیان تھا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی شعلہ بیانی اور مولانا مودودیؒ کی سلاست ِتحریر کا امتزاج تھے۔ اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دور کی اس بلندی پر تھے جہاں وقت کے بڑے بڑے صحافی‘ دانشور‘ مقرر‘ مصنف اور عالمِ دین بھی نہ پہنچ سکے۔ بقولِ شاعر: ع’’یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا!‘‘
اس کی وجہ بھی تھوڑے سے غور و فکر سے بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہےکہ انہوں نے قرآنِ حکیم کو سیرت النبی ﷺ کے انقلابی پہلو کی روشنی میں سمجھا تھا‘ نہ کہ ایک محدود مذہبی تصور کے زیرِ سایہ۔ نبی اکرم ﷺ نے وحی الٰہی کی رہنمائی میں اکیلےسفر کیا اور معاشرے کے ایک بہت بڑے طبقے کی شدید ترین مخالفت کے باوجود اپنے تخیل اور مقصد کو بلند رکھا۔ مکہ جیسے چھوٹے سے شہر میں رہ کر اپنے مخاطبین کو یہ پیغام دیا کہ:
((يَا اَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تُفْلِحُوا، وَتَمْلِكُوا بِهَا الْعَرَبَ، وَتُدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ، فَاِذَا مِتُّمْ كُنْتُمْ مُلُوكًا فِي الْجَنَّةِ))
’’لوگو! لا الٰہ اِلا اللہ کہو‘ کامیاب رہو گے۔ اس کی بدولت تم عرب کے بادشاہ بن جاؤ گے‘ اور اس کی وجہ سے عجم بھی تمہارے زیر نگیں آ جائیں گے۔پھر جب تم وفات پا جاؤ گے تو جنت کے اندر بادشاہ ہو گے۔‘‘
سیرت النبی ﷺ کا یہی ایک اہم ترین نقطہ تھا جس کی روشنی میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنی جدّوجُہد کا آغاز کیااور۱۹۶۷ء میں اکیلے ہی ایک بہت بڑے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ چند سال بعد معدودے چند سرپھرے فرزانوں کا جو قافلہ سخت جاں تیار کیا‘ اس کا مقصد کسی ایک ادارے‘ انسٹیٹیوٹ‘ اسکول‘ کالج‘ مسجد‘ مدرسہ یا جامعہ تک محدود نہیں رکھا‘ بلکہ واضح کر دیا کہ اس کے پیشِ نظر سب سے پہلے پاکستان میں نظامِ خلافت کا قیام اور بعد ازاں پوری دنیا میں خدائے لم یزل کےعطا کردہ دین ِعدلِ اجتماعی کا غلبہ ہے۔ اس کے بعد پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور زندگی کے آخری لمحات تک ؎
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی ‘کبھی پیچ و تابِ رازیکے مصداق اپنی زندگی کی موم بتی کو دونوں طرف سے جلاتے رہے۔اپنے ہر درس‘ تقریر‘ خطاب اور دورۂ ترجمۂ قرآن کے اختتام پر مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد کراتے کہ آج کا دور نوافل کا نہیں بلکہ فرائض کا ہے‘ اور فرائض میں اہم ترین فریضہ اقامت ِدین کی جدّوجُہد ہے۔
ڈاکٹر صاحبؒ ہر سال دورۂ ترجمۂ قرآن کے آخر میں خصوصی خطاب فرماتے تھے‘ جس میں شرکاء کے سامنے قرآن کا اصل پیغام واضح انداز میں پیش کرنے کے بعد ان کو اقامت ِ دین کی جدّوجُہد کے لیے تنظیم ِ اسلامی میں شمولیت کی دعوت دیتے ۔ ان کا اسی طرح کا ایک خطاب ماہنامہ ’’میثاق‘‘ ماہ مئی۱۹۹۹ء میں شائع ہوا‘ جس کا عنوان تھا:’’قرآنِ حکیم کا پیغام: مدنی سورتوں کے مضامین کی روشنی میں‘‘ ۔ اپنے اس تفصیلی خطاب میں ڈاکٹر صاحبؒ ’’قرآنِ حکیم کا حاصلِ مطالعہ ‘‘کے عنوان سے فرماتے ہیں :
’’اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم کے ان مباحث کا حاصل کیا ہے۔میں اپنے مطالعہ ٔ قرآن‘ فہم قرآن اور تدبر ِقرآن کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
اقامت ِدین کی جدّوجُہد کی فرضیت
اگر دین حق مغلوب ہو اور باطل اور طاغوت غالب ہو تو مسلمان کا اولین فرضِ عین اس طاغوت کو ختم کر کے اس کے غلبے کو توڑکر اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ یہ اصل اور پہلا فرضِ عین ہے جو نماز پر بھی مقدم ہے۔ اس لیے کہ نماز کی صداقت کا معیار یہی ہے۔ اگر آپ یہ کر رہے ہیں تو آپ کی نماز صحیح ہے‘ اور اگر یہ نہیں کر رہے (اورباطل نظام کو دل سے تسلیم کیے بیٹھے ہیں)تو آپ کی نماز جھوٹی ہے۔ آپ نے باطل کا غلبہ گوارا کر رکھا ہے اور نماز میں{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} کہہ رہے ہیں تو آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ہاں‘ آپ نے باطل کو تسلیم نہیں کیا‘ باطل کے خلاف آپ کی جدّوجُہد جاری ہے‘ اور آپ کہیں کہ{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ} تو آپ سچ بول رہے ہیں۔ آپ نماز میں کہہ رہے ہیں’’وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ‘‘یعنی ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہم ان سے قطع تعلق کرتے ہیں جو تیرے فاسق اور فاجر ہوں‘لیکن ہماری وہی دوستیاں اور وہی رشتہ داریاں برقرار ہوں تو ہم اللہ کی جناب میں جھوٹ بول رہے ہیں۔چنانچہ پہلا فرضِ عین اللہ کے دین کی اقامت اور اس کے غلبے کی جدوجہد ہے۔ یہ ایسا فرض ہے جس کے ادا ہونے پر ہر فرض کی صحت کا دارومدار ہے۔ نماز بھی اس کی استعانت کے لیے ہے۔ حکم دیا گیا:{وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِط} (البقرۃ:۴۵) یعنی اس مقصد کے لیے نماز اور صبر سے استعانت (مدد) حاصل کرو۔
ہاں‘ اگر ہم خلافت ِراشدہ کے دور میں پیدا ہو چکے ہوتے تو اس کے برعکس صورتِ حال ہوتی۔ اسلام کا نظام اگر قائم ہو تو اس نظام کی مزید توسیع اور اسے عالمگیر پیمانے پر پھیلانا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اور ہم حکومت کےنظم کے پابند ہیں۔ اس صورت میں یہ جدوجہد فرضِ کفایہ ہے۔ حکومت کو جتنے رضاکار مطلوب ہیں وہ اگر مہیا ہو جائیں تو باقی سب لوگ اپنے گھروں میں پائوں پھیلا کر سوئیں‘ ان پر کوئی ملامت نہیں۔ اس صورت میں یہ فرضِ عین نہیں بلکہ فرضِ کفایہ ہے ‘ جیسے نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے۔ کچھ لوگوں نے نماز پڑھ لی تو باقی سب کی طرف سے بھی ادا ہو جائے گی‘ اگر کسی نے بھی نہ پڑھی تو سب گناہ گار ہوں گے۔اس معنی میں اگر خلافت کا نظام قائم ہو‘ دین غالب ہو تو افراد کے اوپر سے غلبہ واقامت ِدین کی جدوجہد کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے‘ کیونکہ حکومت اسلامی کا ادارہ موجود ہے۔ وہ ان معاملات کی دیکھ بھال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو عالمی سطح پر قائم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے جو افرادی اور مالی قوت چاہیے وہ لوگ پیش کر دیں تو بس ٹھیک ہے۔لیکن جب یہ صورت نہیں ہے اور آپ باطل کے غلبے میں جی رہے ہیں تو اقامت ِدین کی جدّوجُہد آپ کا اولین فرضِ عین ہے۔ اسے اضافی نیکی نہ سمجھیے۔ یہ فرضِ عین ہے‘ اسے فرضِ کفایہ نہ سمجھیے۔ فرضِ عین کے تصور میں دو چیزوں کی نفی ہے:یعنی یہ اضافی نیکی نہیں ہے اور فرضِ کفایہ نہیں ہے۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ حکیم سے تعلق قائم کرنے کے بہت سے مادی اور روحانی فیوض و برکات ہیں‘ اور ہر انسان اپنی افتادِ طبع کے مطابق ان سے شاد کام بھی ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ جب تک زمین آسمان قائم ہیں ‘چلتا رہے گا۔البتہ دورِ مغلوبیت میں قرآن سے استفادے کے لیے موجودہ ظالمانہ اور طاغوتی نظام کی آلائشوں کا شعور حاصل کرنا اور قرآن کی روشنی میں اس گھمبیرتا سے نکلنے کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ اگر اسے ۱۴۰۰ سال پرانی کتاب سمجھ کر ہی پڑھا جائے گا‘ تو پھر اس میں موجود مومنین‘ کفار‘ منافقین اور یہود و نصاریٰ سے خطاب کو بھی محض اسی دور سے متعلق سمجھ کر پڑھا تو ضرور جائے گا‘ لیکن فرمانِ نبویﷺ : ((فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ)) یعنی ’’ اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں بھی ہیں‘ تمہارے بعد آنے والوں کے لیے احوال بھی ہیں‘ اور تمہارے باہمی مسائل و اختلافات کا حل بھی ہے‘‘ کا شعور حاصل نہیں ہو سکے گا۔
بانی ٔتنظیم‘ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی یہی خصوصیت تھی جو ان کو دوسرے علماء اور مدرّسینِ قرآن سے ممتاز کرتی تھی کہ وہ قرآن کے ساتھ اس انداز کا تعلق قائم کرتے کہ ہر سننے والا یہ محسوس کرتا کہ یہ کتاب تو میرے لیے نازل ہوئی ہے۔۱۴۰۰ سال گزرنے کے باوجود آج بھی ہمارے لیے اس میں رہنمائی کا مکمل سامان موجود ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر صاحب یہ الفاظ بھی استعمال کیا کرتے تھے: I want to learn the Quran of today.
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ایک صدی قبل اُمت کی زبوں حالی کی وجہ قرآن سے دوری بیان کی تھی‘ اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صَرف کروں کہ قرآن حکیم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کیے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درسِ قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کروایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ مسلمانوں کی باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔ ان کے راہی ٔ ملک ِعدم ہونے کی بنا پر اس کام کا ڈول نہ ڈالا جا سکا۔ بعد ازاں اُن کے شاگردوں میں سےایک بہت بڑی علمی شخصیت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے اپنے شہر کی سطح پر اس کام کو آگے بڑھایا اور شہر لاہور میں۴۰ سال تک درسِ قرآن دیا۔ ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو یہ توفیق بخشی کہ وہ عوامی سطح پر درسِ قرآن کو لے کر آگے بڑھے اور پاکستان بھر میں قرآن کے پیغام کو عام کیا‘جو آج بھی ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا بھر کے اردو بولنے والوں تک پہنچ رہا ہے۔اس طرح درسِ قرآن جو پہلے مدارس کے علماء و طلبہ تک محدود تھا‘ اُس نے عوامی درسِ قرآن کی شکل اختیار کی‘ جس کے نتیجے میں عوام الناس خصوصاً جدید تعلیم یافتہ طبقہ قرآن کی آفاقی تعلیمات سے بہرہ وَر ہوا۔
یہ سلسلہ پھر رکا نہیں بلکہ ڈاکٹر صاحبؒ کی صُلبی و معنوی اولاد نے اسے مزید آگے بڑھایا‘ اور ملک کے طول و عرض تک دعوتِ قرآنی پھیلتی چلی گئی۔ اس کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ علماء کے طبقے نے بھی اس کی ضرورت محسوس کی اور اپنے اپنے دائرۂ کار میں درسِ قرآن اور قرآنی تعلیمات پر مبنی کورسز کا آغاز کیا‘ جو انتہائی خوش آئند بات ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی وفات کے بعد ان کی مدح میں مختلف رسائل و جرائد میں جو مضامین ان کی خدماتِ جلیلہ خصوصاً خدمت ِقرآن کے حوالے سے تحریر کیے گئے‘ انہی میں کراچی کے ایک معروف عالمِ دین مولانا محمد اسلم شیخوپوری ؒ کا مضمون تھا‘ جس کو انہوں نے ’’ہمارے ڈاکٹر صاحب‘‘کا عنوان دیا۔ اس مضمون میں یہ شاہکار جملہ تحریر کیا گیاکہ:’’ایک ڈاکٹر( ڈاکٹر اسرار ؒ)نے ہمیں ہمارا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیا۔‘‘اس کا صاف مطلب یہی نکلتا ہے کہ یہ کام تو علماء کرام کا تھا کہ درسِ قرآن کے ذریعے عوام الناس کو قرآن سے جوڑتے‘ اس کے ذریعے ایمان کی ایک عمومی تحریک برپا کرتے اور معاشرے میں تبدیلی کا کام کرتے‘ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو مدارس کی چار دیواری تک محدود کر لیا۔ لہٰذا ڈاکٹر صاحب کی برپا کی ہوئی تحریک ِرجوع الی القرآن ہی کے ثمرات ہیں کہ دروسِ قرآن ‘فہم دین کورسز‘ رجوع الی القرآن کورسز اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بہت بڑے پیمانے پر عوام الناس تک قرآنِ حکیم کا پیغام پہنچ رہا ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا اضافہ رمضان کی مبارک راتوں میں دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کا آغاز ہے۔ اسی دورۂ ترجمۂ قرآن نے بعد میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی‘ اور بلامبالغہ ہر سال سینکڑوں مقامات پر اس کا نہ صرف باقاعدگی سے انعقاد بلکہ مسلسل اضافہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کا اصل مقصد یہ تھا کہ عوام الناس میں قرآن کے ذریعے پہلے شعوری ایمان کے حصول کی تحریک برپا ہو۔پھر اگلے مرحلے میں قرآن سے جڑنے والوں کی ایک ایسی جماعت تیار کی جائے جو اس ظالمانہ طاغوتی نظام کے خلاف اُٹھ کھڑی ہو اور اس کی بنیادوں کو گرا کر اسلام کے عادلانہ نظام کا قیام عمل میں لانے کے لیے اپنا تن‘ من‘ دھن وقف کر دے۔ظاہر ہے یہ کوئی معمولی نوعیت کا کام نہیں۔ اس کے لیے قرآن حکیم میں { اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۷) }(لقمان) ’’بے شک یہ بڑے حوصلے اور عزم کے کاموں میں سے ہے‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔ اس اہم ترین فریضہ کی ادائیگی کے لیے اخلاص کی دولت کے ساتھ ساتھ جرأت‘ ہمت اور حوصلہ سے مزاحم قوتوں کے ساتھ ٹکرانے کا جذبہ درکار ہے‘جس کے لیے علامہ اقبال نے ’’بالِ جبریل‘‘ میں یہ اشعار کہے ہیں: ؎
ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ
دنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگ
چیتے کا جگر چاہیے‘ شاہیں کا تجسّس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش و فرہنگ
کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ
بلبل فقط آواز ہے‘ طاؤس فقط رنگقرآن حکیم کو جب تک سیرتِ مطہرہ کی روشنی میں نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک ہماری انفرادی اور اجتماعی حیات میں وہ حقیقی انقلاب نہیں برپا ہوسکتا جس کے زیر اثر اس دنیا میں بھی حقیقی تبدیلی پیدا ہواور آخرت کی تیاری بھی احسن انداز میں ہوسکے۔ دورۂ ترجمہ قرآن کی اس عظیم الشان تحریک کے نتیجے میں تنظیم اسلامی کے علاوہ بھی کچھ افراد اور ادارے اپنی اپنی سطح پر یہ خدمت انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ ہمارے نزدیک اس اعتبار سے خوش آئند ہے کہ قرآن حکیم کا لازوال پیغام مزید پھیلے گا جس کے نتیجہ میں عوام کی بہت بڑی تعداد اس سے مستفید ہوسکے گی۔ البتہ اس سے صحیح استفادہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اسے ایک زندہ کتاب کی حیثیت سے حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں سیر ت النبیﷺ کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ اس صورت میں قرآن حکیم کے ذریعہ عوام الناس میں ایمانی حرارت پیدا ہوگی۔ قرآن حکیم کو سیرت کی روشنی میں سمجھنے کے انسان پر کیا اثرات مترتّب ہوتے ہیں‘ اسے مولانا مودودیؒ نے اپنی معرکۃ الآراء تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ کے مقدمہ میں اس طرح بیان کیا ہے:
’’لیکن فہم قرآن کی ان ساری تدبیروں کے باوجود آدمی قرآن کی روح سے پوری طرح آشنا نہیں ہونے پاتا جب تک کہ عملاً وہ کام نہ کرے جس کے لیے قرآن آیا ہے۔ یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں ہے کہ آپ آرام کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھیں اور اس کی ساری باتیں سمجھ جائیں۔ یہ دنیا کے عام تصورِ مذہب کے مطابق ایک نری مذہبی کتاب بھی نہیں ہے کہ مدرسے اور خانقاہ میں اس کے سارے رموز حل کر لیے جائیں۔ جیسا کہ اس مقدمے کے آغاز میں بتایا جا چکا ہے‘ یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اس نے آتے ہی ایک خاموش طبع اور نیک نہاد انسان کو گوشۂ عزلت سے نکال کر خدا سے پھری ہوئی دنیا کے مقابلے میں لا کھڑا کیا‘ باطل کے خلاف اس سے آواز اٹھوائی‘ اور وقت کے علم بردارانِ کفر و فسق و ضلالت سے اس سے لڑا دیا۔ گھر گھر سے ایک ایک سعید روح اور پاکیزہ نفس کو کھینچ کھینچ کر لائی اور داعی ٔ حق کے جھنڈے تلے ان سب کو اکٹھا کیا۔ گوشے گوشے سے ایک ایک فتنہ جُو اور فساد پرور کو بھڑکا کر اٹھایا اور حامیانِ حق سے ان کی جنگ کرائی۔ ایک فردِ واحد کی پکار سے اپنا کام شروع کر کے خلافت ِالٰہیہ کے قیام تک پورے تیئس سال یہی کتاب اس عظیم الشان تحریک کی رہنمائی کرتی رہی‘ اور حق و باطل کی اس طویل اور جاں گسل کشمکش کے دوران میں ایک ایک منزل اور ایک ایک مرحلے پر اسی نے تخریب کے ڈھنگ اور تعمیر کے نقشےبتائے۔
اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سرے سے نزاعِ کفر و دین اور معرکہ ٔ اسلام و جاہلیت کے میدان میں قدم ہی نہ رکھیں‘ اور اس کشمکش کی کسی منزل سے گزرنے کا آپ کو اتفاق ہی نہ ہوا ہو‘ اور پھر محض قرآن کے الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی ساری حقیقتیں آپ کے سامنے بے نقاب ہو جائیں! اسے تو پوری طرح آپ اسی وقت سمجھ سکتے ہیں جب اسے لے کر اٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کریں‘ اور جس جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اس طرح قدم اٹھاتے چلے جائیں۔ تب وہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو نزولِ قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔مکے اور حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ دیکھیں گے‘ اور بدر و اُحد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابو جہل اور ابو لہب سے بھی آپ کو واسطہ پڑے گا‘ منافقین اور یہود بھی آپ کو ملیں گے‘ اور سابقین ِاولین سے لے کر مؤلَّفۃُ القلوب تک سبھی طرح کے انسانی نمونے آپ دیکھ بھی لیں گے اور برت بھی لیں گے۔
یہ ایک اور ہی قسم کا سلوک ہے جس کو مَیں سلوکِ قرآنی کہتا ہوں۔ اس سلوک کی شان یہ ہے کہ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے‘ قرآن کی کچھ آیتیں اور سورتیں خود سامنے آ کر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اسی منزل میں اتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئی تھیں۔ اُس وقت یہ تو ممکن ہے کہ لغت اور نحو اور معنی و بیان کے کچھ نکات سالک کی نگاہ سے چھپے رہ جائیں‘ لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ قرآن اپنی روح کو اس کے سامنے بے نقاب کرنے سے بخل برت جائے۔ پھر اسی کلیہ کے مطابق قرآن کے احکام‘ اس کی اخلاقی تعلیمات‘ اس کی معاشی اور تمدنی ہدایات‘ اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصول و قوانین آدمی کی سمجھ میں اُس وقت تک آ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ عملاً ان کو برت کر نہ دیکھے۔ نہ وہ فرد اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد کر رکھا ہو‘ اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہو سکتی ہے جس کے سارے ہی اجتماعی ادارے اس کی بنائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔‘‘
جس طرح مولانا مودودیؒ کے مذکورہ بالا الفاظ آبِ زرسے لکھنے کے قابل ہیں‘ بالکل اسی طرح مصر کے معروف انقلابی رہنما اور مفسر ِقرآن سید قطب شہیدؒ نے بھی اپنی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں اس موضوع پر جو الفاظ کے موتی بکھیرے ہیں وہ پڑھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’قرآن کی اپنی ایک فضا ہے جس میں اس کے قاری‘ اس کے مطالعہ کرنے والے‘ اس کے مضامین پر غور کرنے والے اور اس کے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم چلنے والے زندہ رہتے ہیں۔ یہ فضا محض اس کا درس و تدریس اور قراءت و مطالعہ نہیں ہے۔ قرآنی فضا میں زندہ رہنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ انسان اس قسم کے احوال اور ظروف میں زندگی گزارے جن میں قرآن نازل ہوا تھا۔ وہی تحریک ہو‘ وہی جدّوجُہد ہو‘ مخالفت کے طوفانوں سے وہی مقابلہ ہو‘ معاندین کے ساتھ وہی کُشتی ہو‘ وہی انتظام و اہتمام ہو جو اُمّت ِمسلمہ کی پہلی صف کے وقت میں تھا۔ یہ جاہلیت جو آج روئے زمین پر محیط ہے‘ اس کے ساتھ وہی مقابلہ ہو جو پہلی جماعت ِمسلمہ نے کیا تھا۔ قرآنی فضا میں زندگی گزارنے والے کے دل و جان اور حرکت و سکون میں یہی ولولہ ہو کہ ا سے اپنے نفس میں اور تمام انسانوں کے قلب و روح میں اسلام کی روح کو پھونکنا ہے۔جس طرح پہلی بار جاہلیت سے مقابلہ ہوا تھا‘ اب ایک بار پھر وہی مقابلہ کرنا ہے۔ جاہلیت کے ہر تصور‘ ہر عقیدے‘ ہر رسم و رواج اور ہر تنظیم کو مٹا کر اس کی جگہ پر زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی شعبے میں اسلام کو نافذ کرنا ہے۔ قرآن کا ذوق حاصل کرنے کے لیے اس فضا میں زندہ رہنا اور اس فضا کو برپا کرنا ضروری ہے۔ قرآن کا نزول اس فضا میں ہوا تھا اور اس کا عمل دخل انہی حالات میں قائم ہوا تھا۔ جو لوگ اس قرآنی فضا میں زندگی نہیں گزارتے‘ وہ قرآن کی درس و تدریس اور قراءت اور علوم کے خواہ کتنے ہی ماہر ہوں‘ وہ ہر وقت اسی میں غرق رہیں مگر وہ قرآن سے الگ تھلگ ہیں۔‘‘
اس تحریر کے ذریعہ تنظیم اسلامی کے مدرّسین پر بھی ہم یہ حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دورۂ ترجمہ ٔقرآن کے مقاصد ان پر واضح رہنے چاہئیں۔ جو ہدایات انہیں دی جاتی ہیں اُن میں جہاں دیگر بہت سی ا حتیاطوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہیں یہ خصوصی تاکید بھی کی جاتی ہے کہ تذکیری اور عملی پہلو یعنی ایمان و یقین کی پختگی اور دینی فرائض کی ادائیگی پر توجہ زیادہ مذکور رہے۔ دین کا ہمہ گیر تصوّر ‘ فرائض دینی کے جامع تصور اور انقلابی فکر پیش کرنے کے لیے بانی ٔتنظیم اسلامی محترم ڈکٹر اسرار احمد ؒ کے خطابات اور تحریروں کو گفتگوکی بنیاد بنائیں۔ مدرسین اگر ان ہدایات کوسامنے رکھیں گے تو اُمید ہے کہ دورۂ ترجمہ ٔقرآن کے مقاصد کے ساتھ اُن کی ہم آہنگی برقرار رہ سکے گی۔ اس کے ذریعہ سامعین اپنے اندر ایک حقیقی تبدیلی محسوس کریں گے۔ یہی تبدیلی دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کا اصل حاصل ہے!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026