(آمد ِ بہار) دورئہ ترجمہ ٔقرآن کا منظر اور پس منظر - مولانا شیخ رحیم الدین

17 /

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ؒ کے تجویز کردہ
عوامی درسِ قرآن کی عملی تعبیر
دورئہ ترجمہ ٔقرآن
کا منظر اور پس منظر

مولانا شیخ رحیم الدین

بانی تنظیم اسلامی و صدر مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو پوری دُنیا میں اُمّت ِمسلمہ قعر ِمذلت میں گری ہوئی تھی اور چار سُو اس پر ذلت و نکبت چھائی ہوئی تھی۔ اُس وقت برعظیم پاک وہند میں حکیم الامّت علامہ محمد اقبال اور مولانا الطاف حسین حالی کا طوطی بول رہا تھا اور وہ مسلمانانِ عالم کو جھنجھوڑجھنجھوڑ کر جگانے کی کوشش کررہے تھے کہ اے مسلمانو تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟کیا تم نے کبھی غور کیا کہ اس ذلت و رسوائی کا سبب کیا ہے؟ کیا ہم وہی قوم نہ تھے جو ساری دنیا میں تہذیب و تمدن کو فروغ دیتے تھے‘ اخلاقِ عالیہ کی بے مثال و بے نظیر روایات ہم قائم کرتے تھے‘ جواںمردی و جاں فشانی کے چشمے ہم سے پھوٹتے تھے‘ جہاں بانی و حکمرانی کے طور طریقے دنیا کو ہم سکھاتے تھے‘ اختراعات و ایجادات کا ایک سیل ِمسلسل ہمارے ہاتھوں رواں تھا۔ اِن عظیم الشان روایات کے امین ہونے کے باوجود آج ہماری یہ حالت زار کیوں ہے؟ بقول غالب ؎
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں!
علامہ مرحوم اس ساری صورتِ حال کا تجزیہ اور اس کا حل اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر!
علامہ مرحوم کا یہ شعر نوخیز ’’اسرار احمد‘‘ کے ذہن میں شعوری طور پر پیوست ہوگیا اور آپ نے اوائل عمر ہی میں یہ عزم کیا کہ میں قرآن حکیم کی تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کروں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت کے مخصوص ظروف و احوال کی بنا پر آپ نے نہ کسی مدرسہ کا رخ کیا نہ کسی دارالعلوم میں داخلہ لیا‘ بلکہ سکول اور کالج میں تعلیم پائی‘ اور کالج کی سطح پر بھی ادب ‘ فلسفہ یا عمرانیات و اسلامیات کے طالب علم نہ رہے بلکہ سائنس اور طب کی تعلیم میں مصروف رہے۔ عربی زبان سے آپ کو بچپن ہی سے شغف تھا۔ چنانچہ سکول کی تعلیم کے دوران آپ نے عربی بطور اختیاری مضمون پڑھی ۔ بعد ازاں آپ کی علمی استعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ارادوں اور عزائم کو pursue کرنے کی غرض سےآپؒ نے قرآن حکیم اور مختلف تفاسیر کا مطالعہ شروع کیا‘ جس سے ذہن کا کینوس وسیع سے وسیع تر ہوتاگیا اور آپؒ کے دروس کے چرچے ہونے لگے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد تو پورے ملک میں آپؒ کے دروس ہونے لگے۔
آپؒ کے دروسِ قرآنی میں علامہ اقبال کا سوزِ دروں‘ فراہی ؒو اصلاحیؒ کا تدبر و تعمق‘ ابوالاعلیٰ ؒو ابوالکلام ؒکا غلبہ و اقامت ِدین کا حرکی تصور موجزن نظر آنے لگا۔نیز ادبیت کی چاشنی سے معمور یہ دروس شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کے رسوخ فی العلم کا پرتو بننے لگے۔ اس پر مستزاد آپ کے منطقی و استدلالی اندازِ درس و خطاب ‘الفاظ کی ادائیگی کے زیر و بم‘ چشم و ابرو کے اشارے اور موقع و محل کی مناسبت سے فارسی واردو کے موزوں اشعار کے استعمال سے آپؒ کے درسِ قرآن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اتنا قبولِ عام بخشا کہ وہ ’’عوامی درسِ قرآن‘‘ کے اُس خواب کی عملی تعبیر بن گیا جو کہ لگ بھگ۷۰‘۸۰ سال قبل حضرت شیخ الہندؒ نے دیکھا تھا۔چنانچہ آپؒ کے دروس و خطابات میں سامعین و ناظرین پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی تھی۔ کئی کئی ہزار لوگ ڈھائی ڈھائی گھنٹہ کے دروسِ قرآن میں شریک ہوتے اوران میں سے ہر ایک اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق حصہ وصول کرتا تھا۔
۱۹۷۲ء میں محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے انتہائی عاجزی اور انکساری سے اپنے ربّ کے حضور یہ التجا پیش کی کہ ’’اے میرے ربّ! اب میری زندگی کے روز و شب صرف تیری آخری کتاب قرآن حکیم کی تعلیمات کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک خالص اسلامی انقلاب برپا کرنے کی جدّوجُہد کے لیے وقف ہوں گے۔‘‘ یہ عہد و پیمان کرتے ہوئے موصوف کے ذہن میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ مجھے {وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَـھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ} کی کڑی شرائط کو امکانی حد تک پورا کرنا ہوگا ‘اور اگر مَیں نے ربّ کریم کی تائید و توفیق سے یہ پوری کرلیں تو پھر لازماً {فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا(۱۹)} (الاسراء) کے مژدئہ جانفزا کا پروانہ بھی ربّ کریم کی جانب سے جاری ہو جائے گا۔
پھر ایسا ہی ہوا کہ موصوف ؒنے اپنے عہد و پیمان کے مطابق اپنے جسم و جاں کی توانائیاں اس راہ میں لگا دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے آپؒ کے دروسِ قرآن کا چرچا پورے ملک کے طول و عرض میں گونجنے لگا۔ جس طرح خوشبو اور انقلاب کو کسی ایک جگہ مقید نہیں کیا جاسکتا اسی طرح توحید و رسالت اور قرآن وسُنّت کی تعلیمات کی روشنی اور انقلابی فکر کو کسی ایک خطہ زمین یا جغرافیائی حدود میں پابند ِسلاسل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی سب کچھ محترم ڈاکٹر صاحب کے خطباتِ قرآنی اور قرآن کے انقلابی فکر کے ساتھ ہوا۔ یہ دعوتِ قرآنی‘ آج پوری دنیا میں جہاں بھی اردو بولنے اور سمجھنے والے حضرات موجود ہیں(جو کل مسلم آبادی کا قریباًایک تہائی بنتے ہیں) وہاں پہنچ چکی ہے۔

خوش قسمتی سے اکتوبر ۱۹۸۹ء میں مجھے حضرت ڈاکٹر صاحب کے ساتھ پندرہ دن ہندوستان کے مختلف شہروں میں گزارنے کا شرف حاصل ہواتھا۔ اُس وقت مجھے شدّت سے احساس ہوا کہ یہاں لوگ ڈاکٹر صاحب سے کس قدر متعارف ہیں ‘ کیونکہ لوگ جوق در جوق اپنے اہل و عیال کے ساتھ پروگراموں میں شرکت کے لیے آتے ۔ اسی دوران حیدر آباد دکن میں کُل ہند مجلس تعمیر ملت کے زیر اہتمام ’’یوم رحمۃ للعالمینﷺ‘‘ کے عنوان سے بارہ ربیع الاوّل کو ایک جلسہ عام کا اہتمام تھا۔ اس جلسہ کے واحد مہمان اور مرکزی مقرر امیر تنظیم اسلامی و صدر مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن محترم ڈاکٹر اسرار احمد تھے۔ اس جلسہ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم ڈیڑھ لاکھ افراد موجود تھے‘ جنہوں نے آپ کا پورا خطاب اس قدر انہماک اور توجہ سے سنا جیسے مسحور ہو گئے ہوں ۔ اسی طرح آپ کے جتنے پروگرام بھی ہوئے وہاں پر حاضری انتظامیہ کے اندازوں سے کئی گنا بڑھ کر رہتی تھی۔ ہر سامع اجتماع کے بعد آپ سے مزید تعارف حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہاں پر ایسے لوگوں سے بڑی تعداد میں ملاقات رہی جو آپ کے دروس کے کیسٹس سن سن کر اَزبر یاد کر چکے تھے۔
اگست۲۰۰۴ء میں انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک عظیم الشان بک فیئر کا اہتمام کیا گیا تھا‘جس میں پوری دنیا سے پبلشرز حصہ لے رہے تھے۔ انجمن خدام القرآن لاہور کو بھی اس بک فیئر میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی تھی‘چنانچہ مجھے ایک دفعہ پھر پندرہ سال بعد دہلی جانے کا موقع میسر آیا۔ اس دفعہ یہاں جو ماحول دیکھا وہ حیران کن تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب یہاں کے ہر مسلم گھرانے میں موجود ہیں اور لوگ آپ کے دروس و خطاباتِ قرآنیہ کو دن میں کئی کئی مرتبہ سنتے ہیں۔ پھر یہ کہ سننے والوں میں ہر مسلک و مشرب اور دین ومذہب کے لوگ شامل ہیں۔ ان کی عقیدت و محبت کا حال یہ تھا کہ جب وہ ہمارے سٹال پر آتے تھے تو جانے کا خیال دل سے نکال چکے ہوتے تھے۔ صبح سے رات گئے تک لوگمجھ سے موصوف کے متعلق معلومات حاصل کرتے رہتے۔
دہلی کے ایک معزز گھرانے کے ایک نوجوان کی دعوتِ ولیمہ کے موقع پر ڈاکٹر صاحب کا دو سی ڈیز پر مشتمل ایک خطاب پانچ ہزار کی تعداد میں بلاتفریق مذہب و ملت مہمانوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس طرح یہ دعوتِ قرآنی دہلی کی ایلیٹ کلاس میں پھیل رہی ہے‘ جس میں سیاسی زعماء‘ تاجر برادری نیز پنڈت اور پادری حضرات بھی شامل ہیں اور جبہ و دستار کے حاملین بھی۔ یہ سلسلہ اس طرح چل نکلا ہے کہ مختلف مواقع پر ڈاکٹر صاحب کے مختلف خطابات کی سی ڈیز تقسیم ہوتی رہتی ہیں ۔
بک فیئر میں ہمارے سٹال سے چند گز کے فاصلہ پر ایک غیر مسلم جو اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ چہرے بشرے سے شریف النفس نیز وضع قطع سے متمول معلوم ہوتے تھے‘ گزر رہے تھے۔ اُس وقت ’’تعارفِ قرآن‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر صاحبؒ کی ڈی وی ڈی چل رہی تھی۔ جونہی ان کی نظریں ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر پڑیں اور ڈاکٹر صاحب کی آواز ان کے کان میں پڑی‘ وہ وہیں صامت و ساکت ہوکر کھڑے ہوگئے اور ہمہ تن گوش ہو کر سننے لگے۔پھر ایک ایک قدم ہمارے سٹال کی طرف بڑھنے لگے اور مجھ سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ میں نے ڈاکٹرصاحبؒ کا تعارف کروایا تو وہ فرمانے لگے’’ان کے گلے میں تو بھگوان بول رہا ہے‘‘۔ اس فقرہ سے ان صاحب کا ذوق اور اشتیاق ظاہر ہو رہا تھا۔ قرآن حکیم حق تعالیٰ شانہ کا کلام ہے اور کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے‘ تو واقعی ان صاحب کو خدا کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ میں نے کرسی پیش کی تو وہ بیٹھ گئے ‘ وہ ڈی وی ڈی مکمل ہونے پر دوسری لگانے کی فرمائش کی اوروہ بھی سن لی۔ اس دوران ان کے اہل خانہ باربار آکر مطالبہ کرتے رہے کہ ہم فارغ ہوگئے ہیں ‘گھر چلیں ‘مگر وہ ان کو ٹالتے رہے اور کہتے رہے کہ کچھ اور خریداری کرلیں ۔ بالآخر ان کا ڈرائیور آیا اور کہنے لگا صاحب جی بہت دیر سے گاڑی میں سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں‘ تب وہ بادلِ نخواستہ جانے کے لیے تیار ہو ئے ۔ میں نے ۱۰۸ڈی وی ڈی پر مشتمل ’بیان القرآن‘ کا سیٹ ہدیۃً پیش کیا کہ یہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی طرف سے تحفہ ہے۔ اس پر موصوف نے فرمایا: ’’یہ میں ضرور لوں گا مگر پہلے اس کا کیش میمو بنا دیں‘‘۔ اور جاتے ہوئے مجھ سے کہنے لگے ’’میں اس کا ایک ایک لفظ سنوں گا ‘یہ تو بھگوان کا کلام ہے۔‘‘
دہلی کے ایک گرامر سکول کی پرنسپل صاحبہ سٹال پر تشریف لائیں۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے خطبات و دروس سے بے حد متاثر تھیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں نے اسکول کی انتظامیہ کو بڑی جرح وقدح کے بعد اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ اسکول کی اسمبلی میں روز انہ نصف گھنٹہ ڈاکٹر صاحب کا ترجمۂ قرآن سنایا جائے اور ہم اس کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں۔ انہوں نے۱۰۸سی ڈیز کے دو سیٹ خریدے اور دوسرے دن میرے موبائل پر یہ خوشخبری سنائی کہ آج ہم نے اسمبلی میں نصف گھنٹہ درسِ قرآن سنایا ہے‘ تمام اساتذہ و طلبہ نے بے حد دلچسپی و دلجمعی سے سنا ہے اور سب نے ازخود اس سلسلے کو جاری رکھنے کی فرمائش کی ہے۔
یہ ان سینکڑوں مشاہدات میں سے چند ایک تھے جو قلم بند کیے گئے ہیں ‘ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ ـ؎
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو ِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی!!
بک فیئر سے واپسی پر میںنے محترم ڈاکٹر صاحبؒ کی خدمت عالیہ میں اپنے مشاہدات و تاثرات پیش کیے تو موصوف کی خوشی و انبساط دیدنی تھی۔ اپنی کاوشوں کے نتائج سن کر فرطِ جذبات سے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ موصوف کے یہ آنسو بارگاہِ خداوندی میں خود خداوند ِعالم سے گویا یوں ہم کلام ہوتے ہیں:
’’اے میرے مولا! تُو نے مجھے جو صلاحیتیں عطا کی تھیں اور جس قوتِ بیانیہ سے مالا مال کیا تھا مَیںنے اسے امکانی حدتک تیرے کلام کو تیری مخلوق تک پہنچانے میں لگا دیا ہے۔اور یہ تیرا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس کے ثمرات بھی تیرے فضل و کرم سے مَیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں!‘‘

۳ مئی ۱۹۸۴ء کو محترم ڈاکٹر صاحب نے اُس وقت کے قیم تنظیم اسلامی محترم قمر سعید قریشی اور محترم شیخ جمیل الرحمٰن کے سامنےیہ بات رکھی کہ’’ جامع القرآن قرآن اکیڈمی لاہور میں نماز تراویح کے موقع پر تلاوت کردہ حصہ کے اہم مضامین پر کئی دفعہ روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ میرے دل میں یہ خیال آ رہا ہے کہ اس سال تراویح میں چار رکعت میں پڑھی جانے والی آیات کا رواں ترجمہ اہم نکات کی امکانی حد تک مختصر تشریح‘ ربط آیات اور نظم سورۃ کے ساتھ بیان کیا جائے۔ اس طرح ۲۹ ویں شب میں ترجمہ قرآن مکمل ہو جائے گا۔‘‘ اس تجویز کو محترم قمرسعید قریشی نے بے حد پسند فرمایا اور عرض کیا :’’ ڈاکٹر صاحب! اہم ترین بات یہ ہے کہ اس طور پر قرآن حکیم کا ترجمہ اور اہم تشریحات ریکارڈ ہو جائیں گی جن سے مستقبل میں دعوت رجوع الی القرآن کے کام کو آگے بڑھانے میں بڑی مدد ملے گی۔‘‘ قمر سعید قریشی صاحب کے یہ الفاظ آج قریباً ۴۲ سال بعد حرف بہ حرف صحیح ثابت ہورہے ہیں۔
محترم قمر سعید قریشی ؒ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کے ساتھ شروع سے شریک کار رہے ہیں۔ آپ انجمن اور تنظیم کے اہم مناصب پر فائز رہے۔آپ جس منصب پر بھی رہے اس کا حق ادا کر دیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی طرف سے جو بھی مہم آپ کے حوالے کی جا تی اس کو احسن طریقے پر ادا کرنے کے لیے جسم و جاں کی ساری توانائیاں لگا دیتے۔ قدرت بھی آپ پر بڑی مہربان رہتی تھی جس کی وجہ سے آپ ہر مہم میں کامیاب رہے۔ مورخہ ۱۱ /جولائی ۲۰۲۵ء کو طویل علالت کے بعد محترم قمر سعید قریشی بھی خالق حقیقی سے جا ملے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور سیئات سے درگزر فرمائے۔ آمین!
۱۹۸۴ءمیں رمضان المبارک جون کے گرم ترین ایام میں آیا تھا۔ ان سخت اور نامساعد حالات میں جبکہ مسجد میں اے سی کی سہولت بھی نہیں تھی‘ ڈاکٹر صاحبؒ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مدد کے آسرے پر دورئہ ترجمہ قرآن کا آغاز فرمایا۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ ۸ رکعت کے بعد ڈاکٹر صاحبؒ کو پسینہ کی شدّت کی وجہ سے کپڑے تبدیل کرنے پڑجاتے تھے‘ لیکن وہ مردِ درویش اس سب کے باوجود اپنی دھن میں آگے بڑھتا گیا۔ جوں جوں اس کا جنون بڑھتا گیا اسی طرح لوگوں کا رجوع بھی بڑھتا گیا اور سامعین کی حاضری تمام اندازوں اور تخمینوں سے آگے نکل گئی۔ عشاء اور تراویح رات نو بجے سے شروع ہو کر نمازِ وتر صبح سحری کے وقت ادا ہوتی ۔ قرآن کے ان شیدائوں کو بعض دفعہ اپنے گھر جا کر سحری کھانے کا بھی موقع مشکل سے ملتا۔ گویا رات بھر یہ ’’مشروع محفل سماع‘‘ جاری رہتی اور چاند ستارے میر محفل کو رشک بھری آنکھوں سے دیکھتے۔
۱۹۸۴ء میں یہ دورئہ ترجمہ قرآن صرف ایک جگہ قرآن اکیڈمی لاہور میں ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید سے یہ سلسلہ قدم بہ قدم آگے بڑھتا گیا ۔ محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے نہ صرف مملکت خداداد پاکستان کے کئی شہروں میں دورئہ ترجمہ قرآن کی سعادت حاصل کی بلکہ امریکہ میں بزبانِ انگریزی دورئہ ترجمہ قرآن مکمل کیا۔
۱۹۹۸ء میں آپؒ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ وقت کی ضرورت کے مطابق اب اس دورئہ ترجمہ قرآن کی ڈیجیٹل ریکارڈنگ کروائی جائے تاکہ یہ سیٹلائٹ کے ذریعےآن ایئر نشر ہو سکے اور دنیا میں رہنےوالے تمام انسان قرآن حکیم کی تعلیمات اور پیغام سے بہرہ مند ہو سکیں۔ اس پروگرام کے لیے آپؒ کی خواہش تھی کہ یہ قرآن اکیڈمی کراچی خیابانِ راحت میں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موصوف کی یہ خواہش بھی اپنے فضل سے پوری کر ا دی۔ اس کی ریکارڈنگ اعلیٰ ترین پیمانے پر ہوئی اور آج ساری دنیا میں اردو دان طبقہ اس سے مستفید ہو رہا ہے۔
گزشتہ سال(۲۰۲۵ء) کے رمضان المبارک میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی طرز پر پورے پاکستان میں قریباً ۱۵۰ مقامات پر تنظیم اسلامی کے تحت دورئہ ترجمہ قرآن اور خلاصہ مضامین قرآن کی محافل منعقد ہوئیں۔ خود امیر تنظیم محترم شجاع الدین شیخ نے کراچی میں دورئہ ترجمہ قرآن حکیم کی سعادت حاصل کی۔
لاہور میں دورئہ ترجمہ قرآن کی سب سے بڑی محفل جامع القرآن قرآن اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوئی‘ جہاں آج سے ۴۳ سال قبل حضرت ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اس کی ابتداکی تھی۔ اس سال اس عظیم شخصیت کے فرزند محترم حافظ عاطف وحید نے یہ سعادت حاصل کی۔ الحمد للہ راقم کو اب تک منعقد ہونے والی تمام محافل میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ اس اکیڈمی میں تنظیم اسلامی کے اعلیٰ عہدیداروں نے دورئہ ترجمہ قرآن کی سعادت حاصل کی اور ہر ایک نے اپنے ظرفِ علمی کے مطابق دورئہ ترجمہ قرآن کا حق ادا کیا جس سے سامعین نے بھرپور استفادہ کیا۔
الحمد للہ حضرت ڈاکٹر صاحب ؒ نے تن تنہا’’دورئہ ترجمہ قرآن‘‘ کے عنوان سے جو کام شروع کیا تھا اب وہ برگ وبار لا رہا ہے۔ تنظیم اسلامی اور انجمن خدام القرآن کے علاوہ دوسری تناظیم اور اہل علم بھی اسی طرح کی یا اس جیسی محافل منعقد کر رہی ہیں‘ جس سے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی تحریک زور پکڑ رہی ہے ۔ قلب کی گہرائیوں سے دُعا ہے کہ ربّ کریم ڈاکٹر صاحب کی ان خدمات کو قبول فرمائے۔ ؎
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے!
ڈاکٹر صاحبؒ کےصلبی اور معنوی فرزندوں کو توفیق مزید عطا فرمائے کہ وہ اس مشن کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیں ع ’’ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!‘‘

ڈاکٹر اسراراحمد ؒ پراللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں بہت سے انعام فرمائے ہیں ان میں سے ایک بڑا انعام یہ بھی ہے کہ آپ نے شعوری طور پر اپنے بیٹوں اور بیٹیوںکو اپنےمشن کے ساتھ ملائے رکھا اور ان کی تربیت اس طرح فرمائی کہ وہ بھی دعوت رجوع الی القرآن اور اقامت ِدین کے کام میں ان کے معاون و مدد گار بن سکیں۔ اس مقصد کے لیے آپ ان کو اپنے دروس اور خطبات میں ساتھ لے جاتے اور ان کی ذہنی تربیت فرماتے تھے۔ اپنی سعی و جُہد کے ساتھ ساتھ اللہ ربّ العزت کی بار گاہ میں بھی محو ِدُعا رہتے کہ ربّ کریم ان سب کو اپنے دین ِمتین کی خدمت کے لیے قبول فرما۔ احقر نے کئی دفعہ خود ڈاکٹر صاحب کی زبان مبارک سے سنا کہ آپؒ نے فرمایا:’’ میں نے طواف بیت اللہ کے سات چکروں میں سے ایک چکر اپنی اولاد کی دعائوں کے لیے مخصوص رکھا ہے‘ جس میں دعا کرتا ہوں کہ ان سب کو خدمت دین کے لیے قبول فرما۔‘‘ کئی دفعہ آپ ؒ نے یہ بھی فرمایا:’’میری آرزو اور دلی خواہش ہے کہ رب کریم مجھے حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی سی سعادت نصیب فرمائے کہ ان کی تمام اولاد نے جس طرح دین اسلام کی خدمت کی اسی طرح میری اولاد بھی دین اسلام کی خدمت میں پیش پیش رہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ انسانوں کے دل سی نکلی ہوئی دعائوں کو قبول فرمانے والا ہے۔اس نے بھی کمال مہربانی سے ڈاکٹر صاحبؒ کی ان دعائوں کو قبول فرمایا اور الحمد للہ تمام اولاد کو اقامت دین کی جدّوجُہد اور دعوت رجوع الی القرآن کے کام میں دامے درمے‘ قدمے‘ سخنے ہر اعتبار سے لگا دیا۔ اور اب ان تمام کی زندگیوں کا مرکز و محور اس مصرعہ کا مصداق ہے کہ ع ’’میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی!‘‘ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے جن کا مختصر سا تعارف قارئین کے لیے دلچسپی کے ساتھ ساتھ جذبۂ محرکہ کا کام بھی دے گا اور وہ بھی اپنی اولاد کو دین کے کام میں لگانے کو سعادت مندی اور خوش بختی سمجھیں گے۔
محترم ڈاکٹر عارف رشید سب سے بڑے صاحب زادے ہیں۔ آپ نے بھی اپنے والد گرامی کی طرح کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے M.B.B.S کی ڈگری امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔ پھر مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور سے دو سالہ دعوت رجوع الی القرآن کورس سے سند فراغت حاصل کرنے کے ساتھ مرکزی انجمن کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ آپ نے انجمن کی مختلف اہم ذمہ داریوں کو باحسن طریقے سے ادا کیا ہے اور آج کل انجمن کی صدارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔آپ نے قریباً دس دفعہ رمضان المبارک کی مقدس راتوں میں دورئہ ترجمہ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے۔ آپ ہر اتوار کی صبح دس بجے قرآن آڈیٹوریم اتاترک بلاک نیو گارڈ ن ٹائون میں اپنے والد مکرم کے طرزپر درس قرآن ارشاد فرمارہے ہیں جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس درس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے حضرات و خواتین کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ آپ کے جمعہ کے خطبات شہر لاہور میں مختلف مقامات پر ہوتے ہیں جو بہت ہی مقبول و معروف ہیں۔ آپ کا انداز اور آواز حضرت ڈاکٹر اسرار صاحب ؒ سے اتنی مشابہ ہے کہ دور سےسننے والوں کو مغالطہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ خطاب فرما رہے ہیں۔ دعا ہے کہ ربّ تعالیٰ موصوف کو صحت و عافیت اور سلامتی ٔایمان کے ساتھ بابرکت طویل عمر عطا فرمائے‘ آپ کی سعی وجُہدکو قبول فرمائےتاکہ آپ ڈاکٹر صاحب کے مشن کو آگے سے آگے لے جائیں۔ آمین!
محترم حافظ عاکف سعید دوسرے صاحبزادے ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ فلسفہ میں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد دعوت رجوع الی القرآن کے دو سالہ کورس سے امتیازی حیثیت سے فارغ ہوئے۔ اس کے بعد انجمن اور تنظیم کے کئی اہم مناصب پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ماہنامہ حکمت قرآن‘ ماہنامہ میثاق اور ہفت روزہ ندائے خلافت لاہور کی ادارتی ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کرتے رہے۔ آپ اب بھی قرآن اکیڈمی لاہور کے ڈائریکٹر ہیں۔ سب سے بڑی ذمہ داری آپ نےتنظیم اسلامی کی امارت کی سنبھالی اور اپنی امارت کے دوران تنظیم کے انقلابی پیغام کو آگےبڑھانے کے لیے جسم و جاں کی ساری توانائیاں لگا دیں۔ دن دیکھا نہ رات ‘گرمی دیکھی نہ سردی‘ ایک شعلہ ٔ جوالہ کی طرح ملک عزیز کے شہر شہر ، قریہ قریہ ‘ گائوں گائوں کے چکر لگائے اور اپنی اس سعی و جہد میں کامیابی حاصل کی۔ اس محنت شاقہ کا آپ کی صحت پرگہرا اثر پڑا‘ خصوصاً آپ کی یاد داشت میں خلل آنے لگا۔ چنانچہ آپ نے تنظیم کی امارت سے مستعفی ہوجانے کا فیصلہ کیاتاکہ کوئی اور اس بارِ گراں کو اٹھا سکے۔ تنظیم کی شوریٰ نے آپ کی اس رائے سے اتفاق کیا اور تنظیم کے تیسرے امیر کے طور پر محترم شجاع الدین شیخ کا تقرر ہوا۔ امیر ثانی محترم عاکف سعید نے بھی رمضان المبارک کی مقدس راتوں میں ملک عزیز کے مختلف شہروں اور بیرونِ پاکستان بھی کئی بار دورئہ ترجمہ قرآن کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے دورئہ ترجمہ قرآن اور خطاباتِ جمعہ کا فی مقبول ہوئے۔ دعا ہے کہ ربّ کریم آپ کی مساعی کو قبول فرمائے اور صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔ آمین!
محترم حافظ عاطف وحید ڈاکٹر صاحب ؒ کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔ آپ نے اکنامکس میں ایم فل کیا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی‘ معاشرتی اور سماجی علوم پر ید ِطولیٰ رکھتے ہیں۔ آپ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے ناظم اعلیٰ کےساتھ ساتھ کلیۃ القرآن کے مہتمم اور انجمن کے تحت ’’شعبہ تحقیق اسلامی ‘‘ کے نگرانِ اعلیٰ کی اہم ذمہ داریاں بھی احسن طریقہ سے انجام دے رہے ہیں۔ الحمد للہ آپ نے رمضان المبارک کی مقدس راتوں میں اب تک قریباً بیس دفعہ دورئہ ترجمہ قرآن کی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حافظ عاطف وحید صاحب کو اپنے والد گرامی کی طرح کئی اوصاف سے متصف کیا ہے۔ زبان و بیان پر آپ کی مہارت اور گرفت نیز تحقیق و تدقیق پر مشتمل دورئہ ترجمہ قرآن سامعین و ناظرین کو سحر انگیزی میں لیے رکھتا ہے۔ موصوف نے قرآن حکیم کے دقیق اور اہم مضامین کو جس طرح عام فہم اور آسان الفاظ کے پیرائے میں بیان کیا وہ انتہائی لائق ستائش ہے۔ مزید اللہ کا کرم یہ ہے کہ چہرے بشرے سے اپنے والد گرامی سے بہت مشابہت ہے۔ دورئہ ترجمہ قرآن میں شرکت کرنے والوں کی اکثریت اسی شمع کے پروانوں پر مشتمل تھی ‘ اس لیے عقیدت و محبت کا روح پرور سماں بندھ جاتا تھا۔ دلی دعا ہے کہ ربّ کریم موصوف کو صحت و عافیت اور سلامتی ٔ ایمان کے ساتھ برکت والی طویل عمر عطا فرمائے اور آپ کی جملہ مساعی کو قبول فرمائے۔
آپ کے دورئہ ترجمہ قرآن کے روح پرور موقع پر جامع القرآن‘ قرآن اکیڈمی لاہور میں قریباً ہر رات چھ سات سو حضرات و خواتین شامل ہوتے رہے ہیں‘ جن میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے حضرات موجود تھے۔ ان کا انہماک اور جوش و خروش دیدنی تھا اور اکثر سے یہ کہتے سنا گیا کہ ’’قرآن کا پیغام تو آج سمجھ میں آیا ہے۔‘‘
محترم آصف حمید ڈاکٹر صاحب ؒ کے چوتھے اور چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ آپ بھی اپنے بڑے بھائیوں کی طرح اپنے والد گرامی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ آپ کی مساعی کا اصل میدان جس میں آپ نے اپنی مہارت و صلاحیت کے جھنڈے گاڑے ہیں وہ ’’سوشل میڈیا‘‘ کا پلیٹ فارم ہے۔ آپ کی شبانہ روز کی مساعی‘ حاضر دماغی اور مستقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر منصوبہ بندی کی خداداد صلاحیت نے اللہ کے فضل و کرم سے ڈاکٹر صاحب ؒ کی دعوت اور مشن کو چار دانگ ِعالم میں پھیلا کر’’امر‘‘ کر دیا ہے۔ آپ انجمن خدام القرآن لاہور کے اہم شعبہ ’’سمع و بصر‘‘ کے انچارج ہیں‘ جو کہ ڈاکٹر صاحب ؒ کے ویڈیوز ‘ آڈیوز وغیرہ تیار کرتا ہے اور یہی شعبہ اس کو اطرافِ عالم میں پھیلاتا ہے۔ آپ کی زیر نگرانی تنظیم اسلامی اور انجمن خدام القرآن کے تحت چلنے والی ویب سائیٹس کے علاوہ بیسیوں ویب سائیٹس ہیں جن پر وزٹ کرنے والوں کی ماہانہ تعداد کروڑوں میں ہے۔ تنظیم اسلامی کے تحت منعقد ہونے والے پروگرام’’زمانہ گواہ ہے‘‘ کی ریکارڈنگ آپ ہی کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ دعوت رجوع الی القرآن کورس میں آپ’’عربی گرامر‘‘ جیسے مشکل اور خشک مضمون کو اپنی خداداد صلاحیتوں سے اس قدر عام فہم اور آسان بنا دیتے ہیں کہ طلبہ الجھن کا شکار نہیں ہوتے۔دلی دعا ہے کہ رب کریم موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق فرمائے ۔آمین!

الحمدللہ اس سال رمضان المبارک۱۴۴۷ ہجری مطابق فروری ۲۰۲۶ء تنظیم اسلامی پورے پاکستان میں دورئہ ترجمہ قرآن اور مختصر ترجمہ قرآن منعقد کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔ پچھلے سال تقریباً پورے پاکستان میں ۱۵۰ سے زائد مقامات پر اسی طرح کی محافل منعقد کی گئی تھیں اور اس سال ان شاءاللہ پچھلے سال کی نسبت زیادہ مقامات پر یہ محافل منعقد کی جائیں گی۔ اس سال پاکستان میں تنظیم اسلامی کے تحت دورئہ ترجمہ قرآن کی سب سے بڑی محفل شہر لاہور میں منعقد ہوگی جس میں ترجمہ قرآن کریم مع مختصر تشریح و توضیح کی سعادت امیر تنظیم اسلامی محترم شیخ شجاع الدین حاصل کریں گے۔ امیر تنظیم جناب شیخ شجاع الدین کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ خصوصیت عطا فرمائی ہے کہ وہ دقیق سے دقیق اور مشکل سے مشکل بات کو انتہائی سادہ‘ عام فہم اور تیزی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ قلب کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات ہوتے ہیں جو کہ سامعین کے کانوں سے ہوتے ہوئے قلب و دماغ کے نہاں خانوں میں اتر جاتے ہیں اور قلب و دماغ گواہی دیتے ہیں کہ جو کچھ سن رہے ہیں وہ صد فیصد صحیح اور درست ہے۔ اسی بات کو فارسی کا ایک جملہ بڑے اچھے پیرائے میں بیان کرتا ہے ’’از دل خیزد بردل ریزد ‘‘یعنی جو بات دل سے نکلتی ہے وہ دل پہ اثر کرتی ہے۔ بقول اقبال؎
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
اس سال امیر محترم شجاع الدین شیخ ڈی فلوریس مارکی‘ بلاکD2جوہر ٹائون لاہور میں دورئہ ترجمہ قرآن کی محفل سجا رہے ہیں ۔یہ بہت بڑی مارکی ہے جس میں قریباً ڈھائی تین ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ لاہور کے باسیوں کے لیے عموماً اور تنظیم اسلامی کے رفقاء اور کارکنان کے لیے یہ بہت اچھا موقع ہے کہ وہ بڑی زوردار تحریک چلائیں اور اس مقام پر زیادہ سے زیادہ افراد کو دورئہ ترجمہ قرآن میں شرکت کے لیے لائیں تاکہ لوگوں کو قرآن حکیم کا انقلابی پیغام پہنچ سکے اور وہ بھی تنظیم اسلامی کے قافلہ میں شامل ہو کر اسلامی انقلاب کی جدّوجُہد کے لیے تیار ہو جائیں۔ ہم سب کو دُعا کرنی چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری ان کوششوں اور کاوشوں اور قبول فرمائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک تنظیم کا پیغام پہنچ سکے۔
تمام رفقاء سے گزارش ہے کہ وہ بانی تنظیم اسلامی حضرت ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کے لیے دعا فرمائیں کہ ربّ کریم ان کی قبر اطہر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور ان کے درجات عالیہ کو بلند سے بلند فرمائے۔ اسی طرح امیر ثانی محترم حافظ عاکف سعید صاحب کے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں جلد سے جلد صحت ِکاملہ عاجلہ مستمرہ عطا فرمائے ۔