بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
غزہ سے کابل:اُمّت کے زخم اور رمضان کا سبقالحمدللہ ‘رمضان المبارک کا مہینہ اپنی خیرو برکت بکھیرتا ہوا ختم ہو چکا ہے۔یہ گزشتہ برسوں سے کئی اعتبار سے مختلف رہا ہے ۔بیشتر اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں مہنگائی اور کرنسی دباؤ کے باعث افطار و سحر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ نوجوان نسل میں قرآن سے جڑنے کا رجحان پہلے سے زیادہ رہا ہے‘ جو بلا شبہ خوش آئند ہے۔ اعتکاف‘ رضاکارانہ خدمات اور فلاحی کاموں میں دلچسپی کا پہلوبھی نمایاں طور پر دیکھا گیا۔انجمن ہائے خدام القرآن اور تنظیم اسلامی کے پلیٹ فارمز سے ملک بھر میں کم و بیش دو سومقامات پر مکمل دورئہ ترجمہ قرآن یا خلاصۂ مضامین قرآن مکمل کیا گیا۔اِس کے علاوہ پاکستان کی دیگردینی تناظیم نے بھی اپنے اپنے طور پر قرآن سرکلز اور سماجی خدمت کے پروگرام منظم انداز میں کیے ہیں جن کی تحسین کی جانی چاہیے ۔ آن لائن تراویح‘ دروسِ قرآن اور سوشل میڈیا مہمات کا رجحان مزید بڑھا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم مسلمان لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے مکہ و مدینہ کی عبادات سے جڑ رہے ہیں‘ خصوصاً مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ سے۔مسجد اقصیٰ میں بھی ہزاروں مسلمان مل کرخوف کے سائے میں نماز عشاء اور تراویح ادا کرتے رہے ہیں۔تشدد کے چند واقعات بھی رپورٹ ہوئے مگر ماضی کے ظلم و ستم کے مقابلے میں اُنہیں نظر انداز کیاجاسکتا ہے۔
یہ وہ مثبت تبدیلی ہے جو واضح طور پر سامنے آئی ہے‘ جس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بہرحال ادا کرنا ہے ۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دو ارب مسلمانوں میں سےچند لاکھ لوگوں کے اس جذبہ پر مطمئن ہوجانا دانش مندی کا تقاضا ہر گز نہیں ۔اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان ہی قرآن سے جڑ جائے۔توقع کی جاسکتی ہے کہ اگلے چند سال میں کم ازکم قرآن کے مہینے میں ہی قرآن سے جڑنے والوں کی تعداد ضرور بڑھے گی‘ ان شاء اللہ!
رمضان المبارک کی ہر سحری اور افطاری میں غزہ اور فلسطین میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران نے مسلمانوں کو غم و تشویش میں مبتلا بھی کیے رکھا۔یہ رمضان مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں سیاسی اُتار چڑھاؤ کے حوالے سے بھی خاصا اہم رہا۔ اس نے مذہبی اجتماعات اور عوامی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ بعض جگہوں پر سکیورٹی انتظامات سخت ہیں‘ جبکہ کچھ ممالک میں معاشی دباؤ نے سادگی کو بڑھایا ہے۔مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ یہ رمضان عبادات کے ساتھ عالمی حالات پر گہری نظر‘ انسانی ہمدردی اور سماجی تعاون کے جذبے کے باعث پہلے سے زیادہ بیداری اور اجتماعی شعور کا حامل نظر آیا ۔دُعا ہے کہ یہ جذبہ رمضان المبارک کے بعد بھی برقرار ہے۔ آمین!
رمضان المبارک جیسے روحانی مہینے میں مسلمان دنیا بھر میں صبر‘ ایثار‘ ہمدردی اور اللہ کے حضور جواب دہی کا سبق سیکھتے ہیں۔ مساجد آباد ہوتی ہیں‘ آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں اور دل میں اصلاحِ نفس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی صرف فرد تک محدود رہ جاتی ہے یا اجتماعی زندگی میں بھی منتقل ہوتی ہے؟رمضان ہمیں بھوک پیاس کا احساس دے کر مظلوم کی تکلیف سمجھنا سکھاتا ہے۔ اگر یہی جذبہ اجتماعی شعور میں بدل جائے تویقیناً مسلم معاشرے عالمی سیاست کے محض تماشائی نہ رہیں بلکہ اخلاقی اور پھر عسکری قیادت کا کردار ادا کرسکیں۔ افسوس یہ ہے کہ عبادات کے بعد بھی ہماری سیاست مفادات کی اسیر‘ معیشت سودی دباؤ میں جکڑی اور معاشرت انتشار کا شکار رہتی ہے۔ گویا روحانی تربیت اور اجتماعی کردار کے درمیان ایک خلا موجود ہے۔رمضان کے بعد کا اصل امتحان تو یہی ہے کہ کیا ہم اپنی ذاتی اصلاح کو نظام کی درستی سے جوڑتے ہیں یا نہیں! اگر روزہ ہمیں ضبط ِنفس سکھاتا ہے تو اسے قومی فیصلوں میں بھی جھلکنا چاہیے۔ عبادت اگرہمیں اللہ کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے تو ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی اِسی سے پیدا ہونا چاہیے۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے نظر آتے ہیں جہاں محض سیاست نہیں بلکہ انسانیت خود کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ گزشتہ مہینوں میں فلسطین خصوصاً غزہ کی پٹی میں پیش آنے والے الم ناک واقعات نے عالمی ضمیر کی بیداری کے دعوؤں کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے۔ انسانی حقوق‘ جمہوریت اور عالمی انصاف کے بلند بانگ دعوے کرنے والی طاقتیں اِس آزمائش میں جس طرح خاموش یا جانب دار دکھائی دی ہیں‘ اُس نے موجودہ عالمی نظام کی اخلاقی بنیادوں پر سنگین سوالات اُٹھائےہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں انصاف کا پیمانہ ہمیشہ یکساں نہیں رہا‘ مگر حالیہ بحران نے تواِس عدم توازن کو انتہائی واضح کردیا۔ ایک طرف شہری آبادیوں کی تباہی‘ بے گھر ہوتے خاندان اور ملبے تلے دبے خواب ہیں‘تو دوسری طرف سفارتی بیانات اور سیاسی مصلحتیں۔ عالمی ادارے‘ خصوصاً اقوامِ متحدہ‘ جن سے مظلوم اقوام کو امید یںوابستہ تھیں‘ عملی اقدام کے میدان میں کمزور دکھائی دیے ہیں۔ قراردادیں‘ اجلاس اور بیانات اپنی جگہ‘ مگر جب انصاف ہی طاقت کے تابع ہو جائے تو پھربھلاقانون کی روح کیسے باقی رہ سکتی ہے؟ اِس سارے منظرنامے میں اسرائیل کی پالیسیوں پر عالمی ردّ ِعمل کا تضاد بھی نمایاں رہا۔ بعض طاقتیں انسانی جانوں کے ضیاع کو محض ’’سکیورٹی‘‘ کے تناظر میں دیکھتی رہیں‘ جبکہ مظلوموں کی چیخیں سیاسی مفادات کے شور میں دبتی رہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا کے عام انسان اور نوجوان نسل نے سوال اُٹھانا شروع کیا کہ کیا عالمی انصاف واقعی سب کے لیے یکساں ہے!
غزہ کا المیہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ محض احتجاجی بیانات یا وقتی جذبات کافی نہیں ہیں بلکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلم دنیا علمی‘ معاشی اور سیاسی سطح پر خود انحصاری کی طرف بڑھے۔ جب تک داخلی استحکام‘ تعلیم‘ تحقیق اور اخلاقی قیادت کو ترجیح نہیں دی جائے گی‘ عالمی نظام میں عزت اور اثر پذیری کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔آج دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ عالمی طاقتوں کے مفادات بدل رہے ہیں اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ ایسے میں اُمّت ِمسلمہ کے پاس صرف دو راستے ہیں: حالات کے بہاؤ میں بہتی رہے‘ یا پھر رمضان کی روحانی تربیت کو عملی حکمت میں بدل کر ایک باوقار‘ منصفانہ اور بااثر کردار ادا کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ایمان‘ اخلاق اور بصیرت ایک جگہ جمع ہوجائیں تو کمزور قومیں بھی زمانے کا رخ موڑ دیتی ہیں۔
گزشتہ چندہفتوں کے دوران میں پاک افغان تعلقات نہایت نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں‘ تاہم امید کی کرن کو ہر حال میں سامنے رکھنا چاہیے ۔امن کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ تازہ ترین کشیدگی نے پاک افغان تعلقات کو ایک خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے۔ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے قائدین صورت حال کو طویل المدتی امن کے تناظر میں دیکھیں‘نہ کہ اُن طاقتوں کا آلہ کار بنیں جو امن کا نعرہ لگا کر دنیا بھر میں جنگ کی آگ بھڑکا رہی ہیں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026