(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ  الْبَقَرَۃ (۶) - ڈاکٹر اسرار احمد

8 /

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۶)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ

آیات ۱۷ تا ۲۰مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاج فَلَمَّآ اَضَآئَ‘تْ مَا حَوْلَـہٗ ذَھَبَ اللہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷) صُمٌّ  بُـکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸) اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ ج یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ط وَاللہُ مُحِیْطٌم بِالْکٰفِرِیْنَ(۱۹) یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبـْصَارَھُمْ ط کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِق وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْاط  وَلَوْ شَآئَ اللہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ط  اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(۲۰)
دوتماثیل : دو آراء
زیر مطالعہ رکوع کی بقیہ چارآیات میں دوتماثیل آرہی ہیں ‘ ان کے بارے میں بھی دوآراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ دونوں منافقین ہی سے متعلق ہیں ‘ لیکن ان کے مختلف shades ہیں۔ ایک شخص نفاق کی آخری منز ل کو پہنچ چکا ہے جبکہ ایک ابھی درمیان میں ہے‘ کچھ امکان ہے کہ واپس لوٹ آئے ‘رجوع کرے اور اپنے روگ کامداوا اور علاج کرسکے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ پہلی تمثیل ان کُفّار کے بارے میں ہے جن کا پہلے رکوع کے آخر میں تذکرہ ہوا ہے :
{اِنَّ الَّـذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶) خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَعَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز   وَّلَـھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)}
گویا دواقسام کے کفر کو یہاں بیان کیا گیاہے۔ ایک کفر پہلے رکوع کی آخری دوآیات میں آیا ہے۔دوسرامعناً تو کفر ہے لیکن دعویٰ ایمان کا ہے:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)}
حقیقت میں تو یہ بھی کفر ہے۔ گویا کفر کے ان دو shades یادودرجوں کے لیےیہ دو تماثیل آئی ہیں۔ یہ دونوں آراء ہیں ۔ زیادہ رجحان یہی ہے کہ یہ دوتماثیل نفاق ہی کے دودرجات کے لیے ہیں ۔ نفاق کے وہ درجات کون سے ہیں‘ ان کا ایک مختصر سا خاکہ سامنے آجانا چاہیے تاکہ ان دونوں تماثیل کی اصل حقیقت واضح ہوسکے۔
نفاق کی حقیقت اور درجات
سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ نفاق کا لفظ بنا کہاں سے ہے۔ اس کامادہ ’’ن ف ق‘‘ ہے‘ اس سے دولفظ ذہن میں رکھیے۔ نفق سرنگ کوکہتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں قلعوں اور محلات میں سرنگیں بنتی تھیں کہ اندر موجود بادشاہ یا بڑی شخصیات کو اندیشہ ہوتاتھا اگرباہر سےکوئی غنیم محل یا قلعہ کا محاصرہ کرلے اورمقابلے کی کوئی صورت اورامکان باقی نہ رہے توپھرزمین دوز راستہ ہونا چاہیے‘ جس سے نکل کر بھاگا جاسکے ۔ محل یا قلعہ سے شروع ہوکر وہ زیر ِزمین سرنگ کہیں دُورجاکر بیابان میں نکلتی تھی‘ تاکہ اس راستے سے جان بچاکر یہ لوگ بھاگ جائیں۔یہ ہے’’ نفق‘‘ یعنی سرنگ۔ اسی طرح گوہ کے بِل کو ’’نافقاء‘‘ کہتے ہیں۔ گوہ ایک جانو ر ہےجس کا گوشت عرب میں کھایا جاتا ہے۔وہ ایک زیر ِزمین بِل یا بھٹ بناکر رہتا ہے۔ اہل عرب شکاری کتوں کے ذریعہ اس کا شکار کرتے ہیں۔ گوہ کو اللہ تعالیٰ نے اتنی سمجھ دی ہے کہ وہ اپنے بِل یا بھٹ کے دو دروازے رکھتا ہے‘ ایک اُدھر اور ایک اِدھر۔ اگر اُدھر سے کتّا داخل ہو تویہ اِدھر سے نکل کر بھاگ جائے اور اگر اسے اِدھر سے کوئی خطرہ ہوتواُدھر سے نکل کربھاگ جائے۔ ان دونوں الفاظ کی حقیقت کوسامنے رکھیے۔پیش نظر ہے تحفظ ِذات‘ اپنا بچاؤ‘ اپنی حفاظت۔ حبِ جان‘ حبِ دنیا‘ حبِ مال اورحبِ اہل واعیال۔
نفاق کے چار درجات ہیں ‘ انہیں سمجھ لینا چاہیے۔ اگرچہ اس کے پہلے درجہ پر لفظ نفاق کا اطلاق صحیح نہیں ہے اس لیے کہ وہ ضعف ِایمان کی ایک کیفیت ہے۔ فطرتِ انسانی خیر کو پسند کرتی ہے۔ اگر کسی کی فطرت میں ذرا سی بھی جان باقی ہےتو وہ خیر کی طرف لپکتی ہے۔ اس اعتبار سے بہت سے لوگ دین کو قبول کرلیتے ہیں ‘حق کو تسلیم کرلیتے ہیں۔بات اچھی‘درست اور معقول ہے‘ دل کو لگتی ہے اور دل گواہی دیتاہے کہ اسے قبول کرلیں تو قبول کر لیتے ہیں۔البتہ سب لوگ ہمت اور عزیمت کے لحاظ سے برابر نہیں ہوتے۔ ؎
نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد
خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد!
کچھ لوگ جو باہمت اور صاحب ِعزیمت ہیں‘ وہ اس کیفیت کے ساتھ ایمان لاتے ہیں کہ اب جو ہو سوہو ‘ہمیں کوئی پروا نہیں۔ جو قربانی دینی پڑے‘ جو تکلیف آئے‘ جس امتحان میں سے گزرنا پڑے‘ جس کھائی میں کودنا پڑےوہ تیار ہیں۔بقول فیض ؎
واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی!
خیریتِ جاں‘ راحت تن‘ صحتِ داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی!
یہ ایک کردار ہے۔ دوسرا کردار ان لوگوں کا ہے جن میں ہمت کی کمی ہے‘ عزیمت نہیں ہے۔ چلنا چاہتے ہیں لیکن ہمت اورحوصلہ ساتھ نہیں دے رہا۔ جب امتحا ن و آزمائش کا وقت آتاہے تو ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں ‘اعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں‘ خلل ِ اعصاب neurastheniaکی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کیفیت کو قرآن نےمرض یا روگ کہا ہے۔ جیسا کہ جسمانی اعتبار سے سب لوگ برابر نہیں ہیں‘ کچھ قوی اور کچھ ضعیف ہیں‘ اسی طرح انسانی قوت ِارادی کے اعتبار سے معنوی حیثیت میں قوی ٔالہمت اوراولوالعزم لوگ بھی ہیں ‘ ضعیف الہمت اور ضعیف الارادہ لو گ بھی ہیں۔ ان لوگوں کو کبھی کوئی مسئلہ پیش آیاتو وہ پیچھے رہ گئے یا جو تقاضاآیا اس کو قبول نہ کرسکے۔ تاہم وہ مانتے رہے کہ ہم سے کمزوری ہوئی ہے‘ ہم ہمت نہ کرسکے‘ کوتاہی اورتقصیرہوئی ہے ۔اگر اس کا اعتراف ہورہا ہوتو یہ نفاق نہیں ہے‘ یہ ضعف ِایمان کی ایک کیفیت ہے۔البتہ انسان کی طبیعت کا ایک تقاضا ہے عزّتِ نفس (واضح رہے کہ مَیں طبیعت کا لفظ استعمال کررہا ہوں ‘فطرت کا نہیں)۔ سورۃ البقرہ ہی میں ہم پڑھیں گے :
{ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ } (البقرۃ:۲۰۶)
’’اورجب اُس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو‘ تو جھوٹی عزّتِ نفس اس کو گناہ پر اور جما دیتی ہے۔‘‘
یعنی ایسا بھی ہوتاہے کہ کسی شخص کی غلطی کو اگر اس کےسامنے بیان کیا جائے ‘اس کو متنبہ کیا جائے اوراُسے کہاجائے کہ اللہ کا خوف کرو‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ مانو کہ تم سے یہ غلطی ہوئی ہےتواس کی جھوٹی اَنا اور عزّت ِنفس اس کو قابو میں کرلیتی ہے۔ وہ اپنی بات کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کی عزّت ِنفس اور جھوٹی اَنانیت اسے گناہ پر جمادیتی ہے۔ یہ کیفیت طبع انسانی کا تقاضا ہے۔ جب انسان بار بار یہ کہتا ہے کہ مجھ سے خطا ہوئی‘غلطی ہوئی‘ مَیں تسلیم کرتا ہوں‘توایک وقت دماغ میں آتا ہے کہ کیوں نہ جھوٹا بہانہ بنالیا جائے۔ پھر وہ کہتا ہے : اجی ایسی بات نہیں ہے‘ مَیں تو چلنے کوتیار تھا لیکن عین وقت پر یہ معاملہ پیش آگیا‘ اس میں میری کوئی تقصیر اورغلطی نہیں ‘بلکہ یہ تو ایک حادثہ تھاجو سرزد ہوگیا ۔ یہاں سے اب نفاق کا آغاز ہوتاہے۔
 دراصل جھوٹ اورنفاق کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ چنانچہ سورۃ  المنافقون کی پہلی آیت میں بھی منافقین کو کَاذِبُون (جھوٹے) قرار دیا گیا ہے:
{اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ  وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ ط وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِ بُوْنَ(۱)}
’’(اے نبیﷺ!) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیںتو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اُس کے رسول ہیں۔ اوراللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین یقیناً جھوٹے ہیں۔‘‘
اس سےپہلے جو آیا ت ہم پڑھ چکے ہیں‘ ان میں بھی یہ لفظ (کذب) آچکا ہے: { وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰)} ’’اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بسبب اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے رہےیا جھوٹ کہتے رہے۔‘‘ گویا جھوٹ اورنفاق لازم و ملزوم ہیں۔جہاں جھوٹے بہانے بنانے شروع کردیے تو وہاں سے نفاق کی پہلی منزل شروع ہوگئی۔
دوسری منزل یہ ہے کہ جب انسان متواتر جھوٹے بہانے بناتا رہے توخود اس کو یہ احساس ہونے لگتاہےکہ کچھ لوگ میری بات پر زیر ِ لب مسکراتے ہیں ‘میر اجھوٹ ان پر کھل چکا ہے۔ اب وہ اپنے اس بیان میں زور پیدا کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے کہ مَیں جو کہہ رہاہوں یہ صحیح ہے‘ واقعتاً یہ مجبوری تھی‘ میرے لیے یہ مشکل پیش آگئی تھی ۔ اس طرح قسمیں کھا کھاکر پھروہ اپنے آ پ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کیفیت بھی سورۃ المنافقون میں موجود ہے : { اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً} (آیت۲) ’’انہوں نے اپنی قسموں کو اپنی ڈھال بنا لیا ہے۔‘‘ لوگوں کی طرف سے اعتراضا ت آرہے ہوں کہ بھئی تمہیں کیا ہوا ‘کیا بات ہےفلاں موقع پر تم نظر نہیں آئے‘ دین کے لیےبڑا اہم موقع تھا‘ اس دعوت وتحریک کے لیے بہت فیصلہ کن مرحلہ تھا‘ تم اس وقت کہیں دبک گئے‘ نظر نہیں آئے‘ تو وہ جھوٹی قسموں کو ڈھال بنائیں گے۔ ان اعتراضات اورنظم ِجماعت کے حوالے سے جو جواب طلبیاں ہوتی ہیں ‘ان سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ اپنی قسموں کو ڈھال بناتے ہیں:
{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللہُ عَلَیْہِمْ ط مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ لا وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۴)} (المجادلۃ)
’’کیا تم نے غور نہیں کیا اُن لوگوں (کے طرزِعمل) پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے اُن لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں ‘اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں اٹھاتے ہیں۔‘‘
وہ جان بوجھ کرجھوٹ پر حلف اٹھاتے ہیں ‘ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ۔گویا یہ اس مرضِ نفاق کی دوسری سٹیج ہے۔ مَیں نے ابتدائی مرحلے کو نفاق نہیں بلکہ ضعف ِایمان کی کیفیت کہا ہے۔ نفاق کا آغاز جھوٹے بہانے سے ہوتا ہے۔
دین کا تحریکی تصوّر
تعارفِ قرآن کے ضمن میں مولانا مودودی مرحوم کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ انہوں نے ’’ تفہیم القرآن‘‘ کے مقدمے میں یہ بہت قیمتی بات تحریر کی ہےکہ قرآن مجید کے بہت سے حقائق اُس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتے جب تک کہ دین کا تحریکی تصور سامنے نہ ہو۔ چنانچہ اگر دین کا جامد تصور ذہن میں ہے تونفاق کی حقیقت کبھی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ نفاق کی اصل حقیقت سامنے آتی ہے حرکت و تحریک اورانقلابی جدّوجُہد میں۔ جہاں تقاضا اور مطالبہ آتا ہے‘ جان ومال کی قربانی کے مواقع آتے ہیں ‘ وہاں ایمان اور نفاق ظاہر ہو جاتے ہیں۔ وگرنہ جو شخص اس جدّوجُہد میں ہے ہی نہیں ‘ نماز وروزہ اور کچھ دیگر رسومات پر عمل کرنے ہی کو دین سمجھے بیٹھا ہے‘ اس پر کہاں آزمائش آئے گی ؟ اس پر اس طرح کےکوئی مراحل آئیں گے ہی نہیں ۔ نفاق کی حقیقت تب سمجھ میں آتی ہےجب آپ کے پس منظر میں کوئی حرکت یا جدّوجُہد ہوجو مختلف مراحل سے گزری ہو۔ مکّہ میں عدمِ تشدد اور صبر ِمحض (passive resistance) کا بھی ایک دور تھا‘ جبکہ مدینہ میں اِقدام (active resistance) کادورشروع ہوا۔ اب حکم ہوا کہ اللہ کے راستے میں نکلو:
{وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ} (البقرۃ: ۱۹۰)
’’اور قتال کرو اللہ کی راہ میں اُن سے جو تم سے قتال کر رہے ہیں۔‘‘
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَـکُمْ اِذَا قِیْلَ لَـکُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ط } (التوبۃ:۳۸)
’’اے ایمان کے دعوے دارو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف! ‘‘
جس کو ہم کہتے ہیں کہ پاؤں مَن مَن بھر کے ہوجاتے ہیں ‘ حرکت میں نہیں آ سکتے‘ جنبش نہیں کرتے۔ تم جامد وساکت ہو کر رہ جاتے ہو۔ یہ تب سمجھ میں آئے گا جب دین کا dynamic concept‘ دعوت و تحریک سامنے ہو۔ تب سارے حقائق واضح اور اُجاگر ہوں گے ۔ اگر تحریکی تصور نہیں اور مذہب کامحض جامدتصور ہے تویہ مسائل سمجھ میں آئیں گے ہی نہیں ۔
نفاق کا آخری درجہ
اس اعتبار سے مَیں نے عرض کیا‘ جہاں جھوٹا بہانہ شروع ہوا تو یہ نفاق کی پہلی سٹیج ہے۔ اگلی سٹیج ہے جھوٹی قسمیں{یَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ}۔اس کے بعد سخت جھنجھلاہٹ  کی سٹیج ہے۔ مخلص لوگوں سے بغض پیدا ہوجاتا ہے کہ انہوںنے ہمیں کن مصیبتوں میں ڈال دیا۔ ہمیںیہ پریشانیاں  ان کی وجہ سے آرہی ہیں ۔ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ مصلحت کو دیکھو‘ مصالحت کرلو۔ خوا مخواہ aggressive ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟خوا مخواہ آگے بڑھ کر کشمکش اورکشاکش کا آغاز کردینا کیا ضروری ہے ؟ اگر مدّ ِمقابل اپنے باطل پر قائم ہیں تو قائم رہیں ‘ ہم اپنے حق کو لے کر چلیں اورآگے بڑھیں۔ ’’اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ‘‘ ہمارے مابین کوئی co-existence ہونی چاہیے‘ کوئی مصالحت ہونی چاہیے۔
یہ بیان ہوچکا کہ قرآن کی رُو سے اصلاح اورفساد دونوں کا اصل نظریہ کیا ہے! اگرکہیں پر اللہ کا دین غالب نہیں ہے‘ اللہ کا نظام قائم نہیں ہےتو بظاہر کتنا ہی امن ہووہ اصلاح نہیں بلکہ فساد ہے۔ اس کے لیے جو جدّوجُہد کی جائے گی وہ اصلاح ہے‘ اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالی جائے تو وہ ا ِفساد ہے یعنی وہ مفسدین کا کردار ہے۔ یہ ہے وہ بغض ‘ جس کی مثال یہ ہے کہ جس بلی کی دُم کٹی ہو‘وہ چاہتی ہے کہ سب کی دُمیں کٹ جائیں۔ لہٰذا منافقین یہ چاہتے تھے کہ کوئی بھی آگے نہ بڑھے۔
جب کچھ لوگ call of duty پر لبیک کہتے ہیں‘ تو جو پیچھے رہ گئے وہ نمایاں ہوگئے۔ اگر سب بیٹھے رہتےتو برابر تھے۔ لہٰذا آگے بڑھ جانے والوں سے ایک بغض  اور دشمنی پیدا ہوگئی کہ ان پر کوئی مصیبت آئے تو اچھا ہے‘ یہ بہت ہی زیا دہ جری (adventurous) ہوگئے ہیں۔ان کے اندر بہت ہی زیادہ جسارتیں آگئی ہیں۔ اچھا ہے اگر انہیں کوئی سزا ملے‘ تاکہ ان کوہوش آئےاوریہ اپنے معاملات میں کچھ میانہ روی اختیار کریں۔یہ بغض ‘دشمنی اور شقاق دراصل نفاق کا آخری درجہ ہے جس پر جاکر انسان اسی سٹیج پر پہنچ جاتا ہے :
{خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَعَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز  وَّلَـھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)}
یہ چارstages سامنے رکھیں اور اب ذرا ان دوتماثیل پر غور کریں:
آیت ۱۷ مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاج فَلَمَّآ اَضَآئَ‘تْ مَا حَوْلَـہٗ ذَھَبَ اللہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷) ’’ان کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ روشن کی۔ پھر جب اُس آگ نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نورِ بصارت سلب کر لیا اور چھوڑ دیا ان کو اندھیروں کے اندر کہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔‘‘
ان کا معاملہ اس شخص کی کیفیت کے مشابہ ہے یا ان کی مثال اس شخص کی مانند ہے۔ مثال کہتے ہیں کہ کسی چیز کےاندر کوئی مشابہت ہو۔ تشبیہ اورتمثیل میںفرق ہے۔ تشبیہ مفرد ہوتی ہے کہ ایک شے کو دوسری شے سے تشبیہ دے دی جائے‘ اس میں مطابقت ضروری ہے۔ تمثیل مرکب تشبیہ ہوتی ہے کہ ایک صورت حال (situation) کو دوسری کے مقابل رکھ دیا جائے۔ اس میں تمام اجزاء کی مطابقت لازم نہیں ہوتی بلکہ اس کا sum total ‘ مجموعی اثر (effect) مشابہ ہوجانا چاہیے۔ مشبہ لہ جس کے لیے تشبیہ دی جارہی ہے‘ اس کے ساتھ بحیثیت مجموعی مشابہت ہوجائے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ مشبہ بہ اور مشبہ لہ کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھتے ہوں۔تمثیل اور تشبیہ کے فرق کو ذہن میں رکھیں تو اس سے ایک مجموعی situation کا تصور سامنے آتا ہے‘اس میں ان کی باطنی کیفیت کے ساتھ مشابہت ہے۔
پہلی تمثیل : نورِ رسالت کے باوجود گمراہی میں مبتلا ہونا
ان کی مثال یا ان کی مشابہت اس شخص کی کیفیت کے مشابہ ہے جس نےآگ روشن کی۔’’ وَقُود ‘‘ ایندھن کو کہتے ہیں۔یہ لفظ قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے۔ جہنم کے بارے میں فرمایا گیا :{ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ }(البقرۃ:۲۴) کہ اس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ ایندھن طلب کرنا تاکہ اس سے آگ روشن کی جائے‘ آگ جلائی جائے‘ یہ ہے استیقاد (باب استفعال)۔ وہ لفظ یہاں پر آیا ہے: اسْتَوْقَدَ ۔ فرمایا کہ ان کی مثال اس شخص کی کیفیت کے مانند ہےجس نے آگ روشن کی۔ نار عربی میں مؤنث ہے ‘تو یہاں ’’اَضَآءَتْ‘‘ مؤنث کا صیغہ آیا ہے۔ {فَلَمَّآ اَضَآئَ‘تْ مَا حَوْلَـہٗ} ’’تو جب اس آگ نےروشن کردیااس کے ماحول کو۔‘‘ یعنی جب اردگرد روشن ہوگیا {ذَھَبَ اللہُ بِنُوْرِھِمْ} ’’تواللہ نے ان کا نورِبصارت سلب کرلیا۔‘‘ اللہ ان کی بینائی لے گیا {وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷)}’’اور چھوڑ دیا ان کو اندھیروں میں کہ یہ کچھ نہیں دیکھتے ۔‘‘
اس تمثیل میں یہ نقشہ کھینچاجارہا ہے کہ کوئی قافلہ رات کو کہیںراستہ سے بھٹک گیا ہے‘ رات بہت اندھیری اورتاریک ہے‘ راستہ نظر نہیں آرہا کہ کدھر جائیں۔ اس کیفیت کو ذرا چشم تصور سے دیکھیے کہ ایسے میں کوئی باہمت شخص اٹھتا ہے اوراِدھر اُدھر سےٹٹول کر ایندھن جمع کرتا ہے۔ اندھیرے میں بڑے خطرات ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی لکڑی سمجھ کر سانپ پر نہ ہاتھ ڈال دے۔بہرحال کسی باہمت آدمی نے ساری محنت کی‘ ایندھن جمع کیا اور اُس میں آگ لگا دی جس نے ماحول کو روشن کردیا۔ پہلے سب لوگوں کی بینائی سلامت تھی‘ لیکن باہر روشنی نہ ہونے کے باعث کچھ دیکھ نہیں پارہے تھے۔ اب صورت تبدیل ہوگئی کہ ماحول روشن ہوگیا ۔ پھر اچانک یہ حادثہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کی بینائی سلب ہوجاتی ہے۔وہ تو جوں کے توں اندھیرے میں رہ گئے ‘ انہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ پہلے ماحول تاریک تھا اور اپنی بصارت موجود تھی ‘لیکن نتیجہ یہ تھا کہ دیکھ نہیں پارہے تھے۔ اب اگرچہ ماحو ل منور ہوگیا ہےمگر اپنی بصارت سلب ہوگئی تو اس کے نتیجہ میں اندھے کے اندھے ہی رہے‘کچھ نظر نہیں آرہا۔ انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔
اس تمثیل میں مَاحَوْلَہٗ سے مراد درحقیقت نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی بعثت سے قبل کے اندھیرے ہیں جن میںقافلہ انسانی بھٹک رہا تھا ۔ اگرچہ بہت سے لوگ ایسے تھے کہ جو کسی درجے میں توحید تک بھی پہنچ گئے‘آخرت اورمعاد کاتصور بھی حاصل ہوگیا‘ لیکن لائحۂ عمل کا کوئی تصور ان کے سامنے نہیں تھا۔ جیسے حضرت زید بن عمرو بن نفیل جو حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( یکے از عشرئہ مبشرہ ) کےوالد ہیں ‘کعبے کے پردے پکڑ پکڑ کر کہتے تھے : اےاللہ ! مَیں صرف تجھے پوجنا چاہتا ہوں‘ لیکن کیسے پوجوں‘کیا کروں ‘مجھے یہ معلوم نہیں! اس ماحول میں محمد رسول اللہﷺ کا ظہور ہوا۔ آپؐ نے ماحول کو منور کردیا‘ اب راستہ نظرآرہاہے۔ آفتا بِ رسالت طلوع ہوچکا ہے‘ لیکن کچھ لوگوں کی بینائی حسد اوربغض کی وجہ سے سلب ہوگئی۔ لہٰذا وہ اب اندھیروں کے اندر ہی بھٹک رہے ہیں۔ اگرچہ آفتا بِ رسالت نصف النہار پر چمک رہا ہے‘ لیکن ان کی قوتِ بصارت اپنے حسد‘ تکبر اورانانیت کی وجہ سےسلب ہوچکی ہے۔ چنانچہ اب یہ بھٹکتے رہیں گے۔
آیت ۱۸ صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸) ’’یہ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں‘ سو اَب یہ نہیں لوٹیں گے۔‘‘
صُمٌّ ’’اَصَمّ‘‘ کی جمع ہے یعنی بہرا‘ بُکْمٌ ’’اَبْکَم‘‘ کی جمع ہے یعنی گونگا اور عُمْیٌ ’’اَعْمٰی‘‘ کی جمع ہے یعنی اندھا۔ فرمایا کہ یہ توبہرے‘ گونگے اور اندھے ہیں‘ یہ لوٹ کر آنے والے نہیں ہیں ۔
ان دو آیات میں مذکور تمثیل کے ضمن میں میرے نزدیک وہ رائے قوی ہے کہ یہ انہی کُفّار کے بارے میں ہے جن کا ذکر پہلے رکوع کے آخر میں آیا :{خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَعَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز۔یہاں تین چیزیں مذکور ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اوران کی آنکھوں پر پردے پڑ چکے ہیں ۔ البتہ جو شخص نفاق کی بھی آخری حد کو پہنچ گیاہوجو مَیں نے چوتھی منزل بیان کی ہے‘ اس پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔ ضعف ِایمان کے مرض کو بھی اس میں شامل کرلیں کہ نفاق کا نقطۂ آغاز (starting point) تو وہی ہے۔ انسان اگرجسمانی طور پر کسی وجہ سے کمزور ہوگیا ہو‘اس کی قوتِ مدافعت کم ہوگئی ہو تو اس پر ہر طرح کے جراثیم حملہ آور ہوجائیں گے۔ اسی طرح نفاق کے جراثیم اس وقت تک حملہ آور نہیں ہوسکتےجب تک کہ ایمان میں ضعف نہ آگیا ہو۔اگر ایمان قوی ہےتو نفاق اس کا نقیض ہے‘وہ تو اس کے قریب بھی پھٹک نہیں سکتا۔ جب ضعف ِایمان کی کیفیت ہوتی ہے تونفاق کے حملہ آور ہونے کا امکان ہے۔ اس طرح نفاق کی چا ر stages ہوگئیں۔ فائنل سٹیج پر پہنچا ہوا شخص چاہے کھلم کھلا کفر اور ارتداد کا اعلان نہیں کررہا‘ اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل کررہا ہے‘لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ کفر کےاس درجے کو پہنچ چکاہےجوpoint of no return ہے۔اس کے لیے پہلے الفاظ آئے:{خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَ عَلٰٓی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز} اوریہاں الفاظ آئے: {صُمٌّ بُـکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸)}
یہ ایک تمثیل ہے جو دونوں کےلیے ہے ‘اورمیرے نزدیک زیادہ صحیح یہ ہےکہ کُفّار کے لیے ہے۔ اب دوسری تمثیل ملاحظہ کیجیے:
آیت ۱۹ {اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ج یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْ اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ط وَاللہُ مُحِیْطٌ بِالْکٰفِرِیْنَ(۱۹)} ’’یا اُن کی مثال ایسی ہے جیسے بڑے زور کی بارش برس رہی ہے آسمان سے‘ اُس میں اندھیرے بھی ہیں اور گرج اور بجلی (کی چمک) بھی۔ یہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں کے اندر ٹھونسے لیتے ہیں مارے کڑک کے‘ موت کے ڈر سے۔ اور اللہ ایسے کافروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
سماء کامادہ ہے س م و۔’’سمو‘‘ بلندی کوکہتے ہیں ۔عرب میں کہا جاتا ہے صاحب ِسمو‘ عالی جناب‘ عالی مرتبت۔ یہ لفظ سماء علو یا بلندی کے لیے ہے۔ اب یہ کہ سات آسمان کیا ہیں ‘ان کی حقیقت کیا ہے‘یہاں اس سے کوئی بحث نہیں ہے۔بارش برستی ہے اوپر سے ‘ بلندی سے۔صَیِّب کا لفظ اصلاً تو ایسے بادلوں کے لیے آتاہےجن کے اندر بھرپور پانی اور بارش کی صلاحیت موجود ہو‘ لیکن اس کا اطلاق مجازاً بارش پر بھی ہوتا ہے ۔ بڑی زور دار بارش ہے۔ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ ’’اس میں اندھیرے بھی ہیں ‘‘ وَّ رَعْدٌ ’’اورکڑک ہے‘‘ وَّ بَرْقٌ’’اوربجلی چمک رہی ہے۔‘‘یعنی ایک طوفانی کیفیت ہے۔ یہاں بھی یوں سمجھیے کہ ایک قافلہ کسی اندھیری شب میںایک طوفان میں گھر گیا ہے۔ زور دار بارش اور کڑک ہے۔ کبھی کبھی بجلی چمکتی ہے‘ تو لمحہ بھر کے لیے دائیں بائیں کچھ نظر آتا ہےکہ ادھردرخت ہیں‘پہاڑ ہے‘ سبزہ ہے ‘اگلے ہی لمحے پھر اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ اس پوری تصویر کو بحیثیت مجموعی ذہن میں رکھیے۔
’’صَاعِقَہ‘‘(۱)
(۱) ’’الصَّاعِقَۃ‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں چھ دفعہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ زوردار آواز کے ذریعے عذاب کے حوالے سے آیا ہے۔ سورئہ حٰم السجدۃ میں ارشاد ہوا : {فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ(۱۳) } ’’تو (اے نبیﷺ!) اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ مَیں نے تو تمہیں خبردار کر دیا ہے ایک ایسی خوف ناک کڑک سے جیسی کہ قومِ عاد اور قومِ ثمود کی کڑک تھی۔‘‘ (حاشیہ از مرتب))

ایک بہت بڑی کڑک کو کہتے ہیں‘ جس کی جمع صَوَاعِق ہے۔ صَعِقَ (س) صَعَقًا کا معنی ہے زور سے بادل گرجنا ۔ کسی بڑی کڑک کی وجہ سے انسان بے ہوش ہوجائےتواس کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے سورۃ الاعراف (آیت ۱۴۳) میں آیا ہے: {وَخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا} ۔ ’’ مِّنَ الصَّوَاعِقِ‘‘ کڑک او ر گرج سے ’’حَذَرَ الْمَوْتِ‘‘ موت کے خوف سے۔ صورِ اسرافیل پھونکا جائے گا توقیامت آئے گی۔ وہ ایک آواز ہی تو ہے‘ کھڑکھڑانے والی آواز: {اَلْقَارِعَۃُ(۱) مَا الْقَارِعَۃُ(۲) وَمَآ اَدْرٰىکَ مَا الْقَارِعَۃُ(۳)} یہ آوازہی ہلاکت و تباہی کا ذریعہ بنے گی۔ تو بجلی کی کڑک کی وجہ سے ان کو جان کا خوف لاحق ہوگیا اور اس کی وجہ سے یہ اپنے کانوں میں  انگلیاں ٹھونسے ہوئے ہیں ۔{وَ اللہُ مُحِیْطٌۢ بِالْکٰفِرِیْنَ(۱۹)}’’اور اللہ تعالیٰ ان کافروں کااحاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی پکڑسے نکلنے والا تو کوئی ہے ہی نہیں۔ موت کا وقت آ گیا تو وہ آکر رہے گی‘ چاہے کانوں میں کتنی ہی انگلیاں ٹھونسی ہوں ۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ یہ بھی درحقیقت بزدلی کی ایک کیفیت ہے‘ ضعف ِارادہ ہی کی ایک کیفیت ہے کہ جس کانقشہ کھینچاجارہا ہے کہ کانوں میں خو ف سے انگلیاں ٹھونسے تھرتھرکانپ رہے ہیں ۔
آیت۲۰ {یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبـْصَارَھُمْ ط کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِ ق  وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْاط وَلَوْ شَآئَ اللہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ط اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ(۲۰)} ’’قریب ہے کہ بجلی اُچک لے ان کی آنکھیں۔ جب چمکتی ہے ان پر تو چلنے لگتے ہیں اس کی روشنی میں‘ اور جب ان پر تاریکی طاری ہو جاتی ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اور اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت کو سلب کر لیتا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادرہے۔‘‘
قریب ہے کہ بجلی کی چمک ان کی بصارت اُچک لےجائے‘ لیکن ابھی ایسا ہوا نہیں ہے۔ یہ درمیانی مرحلے کی بات ہورہی ہے جبکہ ابھی بینائی سلب نہیں ہوئی۔ ویسے اللہ جب چاہے ان کی بینائی سلب کرلے‘ لیکن اس وقت تک کیفیت یہ ہےکہ بینائی سلب نہیں ہوئی۔ جب بھی اس برق کی وجہ سے روشنی ہوتی ہےتو اس میں کچھ چل پھر لیتے ہیں ‘کچھ آگے بڑھ لیتے ہیں‘ کچھ حرکت ہوجاتی ہے۔ اورجب ان پر تاریکی چھاجاتی ہےتو ٹھٹک کر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں ۔ اور اگراللہ چاہے تو ان کی بصارت اور سماعت سلب کرلے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادرہے۔ لیکن اللہ کی سُنّت یہ نہیں ہے کہ جو اس کیفیت میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں‘نیمے دروں نیمے بروں‘ ان کو زبردستی ہدایت پر لے آئے یا زبردستی گمراہی کی طرف دھکیل دے‘ بلکہ انہیں ان کے ذاتی انتخاب پر چھوڑ دیتا ہے۔
دوسری تمثیل : ضعف ِ ایمان کی کیفیت
اس تمثیل کے اندر کچھ کمزور‘ کم ہمت‘ بزدل اور ضعف ِ ارادہ کے مریض افرادکا نقشہ کھینچا گیاہے‘ اورجیسا کہ مولانا مودودیؒ کا حوالہ دیا گیاکہ تحریک‘ دعوت اور حرکت بالخصوص انقلابی دعوت‘ اس میں قدم قدم پرآزمائشیں‘ امتحانات‘ ابتلائیں ہیں‘ جان و مال کھپانےکا مطالبہ ہےکہ اللہ کی راہ میں نکلو‘ قربانیاں دو‘ اپنا وقت صرف کرو۔ وقت بھی دولت ہے ( time is money) اور جب آدمی سے وقت کا تقاضا کیا جاتاہے تووہ اس پر گراں اورشاق گزرتاہے۔ جس وقت میں اہل وعیال اور گھریلو معاملات پر توجہ ہوسکتی تھی وہی وقت انسان اگر دعوت و تحریک کے لیے لگارہا ہےتو گھرمیں بھی بے چینی اور شکوہ وشکایت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ ایک اورامتحان ہے کہ جس سے انسان دوچار ہوتاہے۔ جو عزمِ مصمم کے ساتھ یکسو ہو کر چل رہا ہے‘ اسے کسی چیز کا ڈر اور خوف نہیں۔ جو ہونا ہے ہو جائے‘ کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوجائے‘ کسی سے کٹنا پڑتا ہے تو کٹ جائے۔ تکلیف آئے تو جھیل لے‘ صبرو مصابرت کی روش اختیار کرے تواللہ تعالیٰ اس کے لیے  آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔ پھر وہی مشکلات جو شروع میں پہاڑ کی طرح نظر آتی تھیں‘ رفتہ رفتہ آسانیوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ اللہ کی طرف سے ’’ تیسیر‘‘ اسی کو کہتے ہیں: {فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی(۷)} ’’ توہم اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتے چلے جائیں گے۔‘ ‘ دوسروں کونظر آئے گاکہ یہ بات توبڑی مشکل تھی‘ بڑاکٹھن مرحلہ تھا ‘اس نے یہ کیسے عبور کرلیا !
میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی مثال غزوئہ بدر کی ہے کہ جہاں معاذ ا ور معوذ( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) دونوجوان انصاری صحابیوں نے ابوجہل کوقتل کیا۔ ان میں سے ایک کے بارے میں یہ روایت ہے کہ ان کے ایک شانے پرتلوار کا اتنا کاری وار پڑا کہ پورا بازو کٹ گیا‘ ایک تسمہ سالگا رہ گیا۔ یعنی ہاتھ بے کار ہو چکا ہے لیکن لٹکنے کی وجہ سے اُلجھن پیدا کر رہا ہے۔ وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے بھی آزادانہ طورپرکوئی کام نہیں کر پارہے‘ اس لیے کہ ایک ہاتھ لٹکا ہوا ہے‘ جس پرکنٹرول نہیں‘ اور یہ پریشان کررہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس ہاتھ کو اپنے پائوں تلے رکھا اور جھٹکا دے کر اُسے اتار کرپھینک دیا کہ یہ رکاوٹ بن رہا تھا۔ یہ سن کر جھرجھری آتی ہے کہ انسان ایسا بھی کرسکتا ہے! جب کسی چیز کی لگن اوردھن انسان کے سرپرسوار ہوجائے تویہ چیزیں بڑی آسان ہوجاتی ہیں۔ دیکھنے والوں پرلرزہ طاری ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ایسے ایسے کٹھن مراحل سے یہ لوگ کیسے گزر رہے ہیں ! شاید کچھ لوگوں کو محسوس ہورہا ہو کہ یہ کوئی بڑا ہی سیدھا اور ہموار راستہ ہے جس پر وہ بڑھ رہے ہیں۔ اسی جدّوجُہد میں جن کے اندر ہمت نہیں‘ کمزوری اور ضعف ہے‘ قوتِ ارادی مضمحل ہے‘ وہ قدم قدم پر رکیں گے‘ ٹھٹک جائیں گے۔
مدنی دور میں بھی جنگوں کے مابین وقفے آتے تھے۔ تھوڑی دیر کے لیےحالات میں کچھ نہ کچھ ٹھہرائو آجاتا تھا‘ لیکن ہر وقت اندیشے رہتے تھے‘ خوف کی حالت طاری رہتی تھی۔ اس لیے کہ مدینہ میں آباد یہود کے قبائل سازشیں کررہے تھے۔ دوسری طرف بھی سازشیں ہور ہی تھیں۔ مکّہ سے خبریں آرہی تھیں کہ یہ یہ مشورے طے پارہے ہیں ۔ حالت ِخوف تو تھی‘ لیکن بہرحال درمیان میں انہیں کچھ نہ کچھ ریلیف کا وقفہ مل جاتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ کچھ آگے چل لیتے تھے‘ کچھ آگے بڑھتےتھے تاکہ نمایاں ہوجائیں۔ مسجدنبوی میں بھی اگلی صف میں آکربیٹھتے تھے تاکہ معلوم ہوکہ یہ لوگ بھی ایمان واسلام میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں اور ان کے ساتھ چل رہے ہیں۔ {کُلَّمَآ اَضَاۗءَلَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِ طیہ گویا ایک کیفیت ہے کہ جیسے ہی ذرا کوئی روشنی ہوتی ہے تو چل لیتے ہیں‘ کچھ لوگوں کی معیت میں اپنابھی ثبوت دیتے ہیں کہ ہم بھی ساتھ ہیں۔ جیسے سورۃ العنکبوت کی آیت ۱۰ میں ان کی کیفیت بیان کی گئی کہ یہ لوگ ایمان تو لائے ہیں مگر اس راستے کی مشکلات اور آزمائشوں کو جھیلنے کا ان میں حوصلہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کھول کرواضح کردے گا‘ دودھ کادودھ اور پانی کاپانی جدا کردے گا‘ بالکل واضح ہوجائے گا کہ کون واقعی مؤمن ہے اور کون منافق ہے۔
اسی کیفیت کو سورۃ الحج میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ ج } (آیت۱۱) کہ لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی بندگی توکرنا چاہتے ہیں‘ لیکن کنارے کنارے رہ کر۔ منجدھار میں کودنے کوتیار نہیں۔ اس لیے کہ فطرت تو کشش محسوس کرتی ہے کہ بات صحیح ہے‘ تسلیم کرو۔ آئو شامل ہوجائو‘ اچھے لوگ ہیں‘ اچھاقافلہ ہے۔ پھراگر خیر ملے تو مطمئن ہوتے ہیں‘ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں کہ صرف نماز روزے ہی کی بات ہے۔ نماز کے لیے کسل مندی تو ہوتی تھی‘ لیکن بہرحال کوئی ایسی قربانی والی بات تو نہیں تھی‘ جان اورمال پرآنچ تونہیں آتی تھی‘ بس تھوڑی سی مشقت ہی تھی۔جب رسول اللہﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوتے تھے توعبد اللہ بن اُبی اپنی چودھراہٹ کے مظاہرے کے لیے بڑے اہتمام کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا کہ مَیں یہاں کاسردار ہوں۔ یہ وہی شخص ہے کہ جب حضورﷺ ہجرت فرما کرمدینہ تشریف لائے تو اس نے کہاتھاکہ میرے گھر چلیے‘ وہاں قیام پذیر ہوں‘ اس لیے کہ مدینہ میں سب سے بڑا اور آرام دہ گھر میرا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا تھاکہ میری اونٹنی کو چھوڑدو‘ اللہ کی طرف سے اسے جہاں حکم ہوگا وہاں یہ رک جائے گی‘ اور وہیں میرا قیام ہو گا۔ بہرحال اس نے اپنی چودھراہٹ کے اظہار کا ایک ذریعہ یہ بھی اختیار کیا کہ ہرخطبہ سے پہلے کھڑا ہوکرکہتا تھا: لوگو ! دیکھو یہ اللہ کے رسول ہیں‘ ان کی بات بڑی توجہ سے سنو۔ بہرحال ایسے لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ جب کوئی مطالبہ نہیں‘ قربانی نہیں‘ کوئی مشکل اور آزمائش نہیں تو اُچھلتے پھرتے تھے۔
پھرجب تاریکی طاری ہو گئی‘ اندھیرا چھا گیا‘ مصائب‘ مشکلات‘ تکالیف‘ امتحانات‘ تقاضے اورمطالبے آگئے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ‘ جس کوہم کہتے ہیںٹھٹک کر کھڑے ہوجانا۔ فرمایا کہ اللہ چاہتا تو ان کی سماعتوں اور بصارتوں کو سلب کرلیتا‘ جیسے کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا کہ اللہ نے ان کانور ِبصارت سلب کرکے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑدیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے‘لیکن اس کا قانون یہ نہیں ہے کہ کسی کو زبردستی ہدایت دی جائے یازبردستی گمراہ کر دیا جائے۔ جو جس حد تک خود جاتا ہے‘ وہیں تک وہ قانونِ خداوندی کی گرفت میں آئے گا۔ اس میں اس کا اپنا اختیار اور انتخاب(free choice) برقرار رہے گا۔
اس اعتبار سے یہ دوسری تمثیل بنیادی طورپرضعف ِایمان کی کیفیت کی تشبیہ اوراس کی تمثیل ہے‘ جو نفا ق کے ابتدائی درجے کو بھی coverکرتی ہے۔ البتہ نفاق کی آخری شکل اور کفر میں کوئی فرق نہیں۔ وہ تو بالکل کفر ہے‘ سوائے اس کےکہ جیسے کوئی بہت بڑا شہتیر یاکوئی چوکھٹ ہو‘ بظاہر موٹی لکڑی نظر آرہی ہو‘ لیکن اندر سے اسے دیمک چٹ کرچکی ہو۔ اس صورت میں اس پر صرف ایک چھلکا سا (veneer)لگا رہ جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے سے کیڑے کو بھی اتنی سمجھ دی ہے کہ اگر یہ کیفیت باہر سے ظاہر ہو گئی اور ہم نے اس کیcovering بھی ختم کردی تو گھروالوں کوفوراً معلوم ہوجائے گا اور پھر وہ ہمارا بندوبست کرلیں گے۔ چنانچہ دیمک لکڑی کو چٹ کرتی جا رہی ہے‘ لیکن اوپر کا کور اس نے برقرار (intact) رکھا ہوا ہے۔ یہی معاملہ منافقین کا ہے کہ کفر کی آخری حد تک پہنچنے کے باوجود وہ اسلام کی ڈھال کے طور پر کلمہ شہادت‘ کچھ نہ کچھ نماز‘ روزہ دکھاوے اورریاکاری کے لیے برقرار رکھتے تھے تاکہ مسلمان شمار کیے جائیںاور ان کا تعلق بھی ادھر سے ٹوٹنے نہ پائے۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے ان کی کیفیت یہ تھی جو سورۃ المنافقون میں ارشاد فرمایا گیا :
{ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ(۳) }
’’یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے‘ تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی‘ پس یہ سمجھنے سے عاری ہو گئے۔‘‘
یہ لوگ ایمان لائے تھے لیکن پھرانہوں نے کفر کیا۔ کسی شخص کاجان بوجھ کرمنافق بننا یعنی شعوری نفاق بہت شاذ ہوتا ہے۔ جیسے سورئہ آلِ عمران کی آیت ۷۲میں آیا ہے کہ اہل ِ کتاب کے ایک گروہ نے سازش کی اورکہاکہ صبح کے وقت اپنے ایمان کااعلان کرو اور شام کو کفر کااعلان کردو‘ علی الاعلان مرتد ہوجائو۔ اس طرح مسلمانوں میں کچھ نہ کچھ توشک پیدا ہوجائے گا‘ ان میں کسی درجے میں تو اشتباہ کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ یہ جوجمے ہوئے ہیں‘ راسخ الایمان ہیں‘ ان کے ایمان کی پختگی میں کمی آئے گی۔ جو شخص چند گھنٹے بظاہر مسلمان کے طور پر رہا‘ اسے یہ معلوم ہے کہ مَیں مسلمان نہیں ہوں‘ بلکہ شعوری طور پر‘ پورے ارادے کے ساتھ دھوکا دے رہا ہوں۔ یہ شعوری نفاق ہے جو ایک بالکل علیحدہ استثنائی کیفیت ہے۔ وہ نفاق جو بالعموم موجود تھا ‘شعوری نہیں بلکہ غیرشعوری نفاق تھا۔ اسی لیے اس رکوع میں  لَایَشْعُرُوْنَ اور لَا یَعْلَمُوْنَ جیسے الفاظ آ رہے ہیں کہ ان کو شعور اور احساس نہیں ‘ان کو معلوم نہیں کہ یہ کدھر جارہے ہیں‘ کس وادی میں بھٹک رہے ہیں۔ یا جیسے کہ سورۃ المنافقون میں آیا : { فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ(۳) } چنانچہ ان کے دلوں پرمہر لگ چکی ہے اوریہ تفقہ (سمجھ بوجھ)سے محروم کردیے گئے ہیں۔ حقیقی فہم اب ان کے پاس نہیں رہا۔
مکی اور مدنی دور کے نفاق میں فرق
مکی اور مدنی دور کے نفاق میںباریک سا فرق ہے۔ مکی دور میں جو بھی ایمان لاتا‘ خلوص اور شعور کے ساتھ ایمان لاتا۔ اس لیے کہ وہاں ایسی بات نہیں تھی کہ کوئی سرسری طور پر ایمان لے آئے۔ اسے معلوم ہوتاکہ یہ تواپنے معاشرے سے کٹنے والی بات ہے۔ قبیلے سے تعلق منقطع ہوجائے گا۔بہنوں اور بھائیوں سے تعلق ختم ہوجائے گا۔ پھر وہ یہ بھی دیکھتےتھے کہ ایمان لانے والوں پرکیا بیت رہی ہے ۔ چنانچہ جو بھی ایمان لاتا‘ خلوص کےساتھ لاتا تھا۔ البتہ یہ قدرت کا معاملہ ہے کہ سب کے اندر یکساں قوت ِارادی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی طبیعت کے اندر ایک کمزوری کااحساس پیدا ہوتا ہے‘ جیسے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑ رہے ہوں‘ ہمت جواب دے رہی ہو۔
جس زمانے میں اہل ِایمان پر شدید ترین تعذیب( persecution)ہو رہی تھی‘ مکّہ میں صحابہ کاایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔آپﷺ اُس وقت خانہ کعبہ کی دیوار کے سائے میں اپنی چادر کو تکیہ بنا کر استراحت فرما رہے تھے۔ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کے راوی ہیں۔ یہ وہ صحابی ہیں جن کوشدید ترین ایذا دی گئی۔ دہکتے ہوئے انگارے زمین پربچھاکر ان سے کہاگیا کہ کُرتا اتار کرننگی پیٹھ ان انگاروں پرلیٹ جائو! وہ لیٹ گئے۔ پیٹھ کی کھال جلی‘ چربی پگھلی‘ اسی سے وہ انگارے ٹھنڈے ہوئے۔ وہ اپنا کُرتا اٹھا کر لوگوں کو جلی ہوئی کمر کے نشان دکھایا کرتے تھے کہ یہ حالات مجھ پر بیتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آکر حضور ﷺ سے عرض کیا : یارسول اللہﷺ ! اب تو مظالم ناقابلِ برداشت ہورہے ہیں‘ کیاآپؐ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے مدد کی دعا نہیں کرتےکہ وہ ہمیں ان درندوں کے ظلم و بربریت سے بچالے۔ یہ الفاظ سن کرحضور ﷺ کاچہرئہ مبارک غصہ سے سرخ ہوگیا اور آپﷺ اُٹھ کربیٹھ گئے۔ پھرفرمایا : اللہ کی قسم ! تم بہت جلدی مچار ہے ہو۔تم سے پہلے توایسا بھی ہوا کہ ایمان والوں کولایا جاتا تھا اور ان کا آدھا دھڑ زمین کے اندر گاڑ کر سر پر آرا رکھ کر چیرناشروع کرتے اور پورے دھڑ کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے۔ یہ بھی ہوا کہ آگ کے الائو جلائے گئے اور زندہ لوگوں کواس میں جلادیا گیا (سورۃ البروج میں تفصیل سے واقعہ موجود ہے)۔ ایسا بھی ہوتا تھاکہ لوہے کے بڑے بڑے کنگھوں سے ہڈیوں کے اوپر کا گوشت کھرچ دیاجاتا تھا لیکن وہ پھربھی ثابت قدم رہتے تھے۔ اللہ کی قسم! وہ وقت آکر رہے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اوراسے سوائے اللہ کے اور کسی کاخوف نہیں ہوگا‘یا صرف بھیڑیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں پر حملہ نہ کر دے ۔ (صحیح البخاری‘ کتاب المناقب ‘ ح۳۶۱۲) یعنی آخر کار اہل ِایمان کے لیے مکمل طور پر امن کی کیفیت پیدا ہوجائے گی‘ لیکن ع ’’ابھی عشق کے امتحاں اوربھی ہیں!‘‘ ابھی توسختیاں آئیں گی‘ تم جلد بازی کر رہے ہو ۔
سورۃ العنکبوت میں خبردار کر دیا گیا تھا کہ اگر تم نے صبرو استقامت کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کیفیت نفاق کی طرف لے جانے والی ہے :
{ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللہِ ط} (آیت۱۰)
’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر‘ مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں۔ ‘‘
البتہ ایسی کوئی مثال بالفعل ہمارے سامنے موجود نہیں کہ مکّہ مکرمہ میں نفاق کا پودا پروان چڑھ گیا ہو۔ تاہم اہل ِایمان کو آغاز ہی میں مرضِ نفاق کی آخری سٹیج سے خبردار کر دیا گیا تھا۔ اس کا ظہوربعد میں اُس مرحلے پر ہوا جب ہجرت لازم کردی گئی تواہل ِمکّہ میں سے بھی کچھ لوگ ایسے کم ہمت ثابت ہوئے جوایمان تو لے آئے تھے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی۔ گویاکہ وہ اپنے کنبوں اورقبیلوں سے کٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہاں ان کا ایمان ان کاساتھ نہ دے سکا اور ان کی ہمت جواب دے گئی۔ اس ضمن میں پھر سورۃ النساء میں اہل ِایمان سے کہہ دیا گیا : {فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط}(آیت۸۹) ’’لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بنائو جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کےنہ آ جائیں۔‘‘ یعنی اگر یہ ہجرت نہیں کرتے تواب تمہارا ان سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں۔چنانچہ مکی دور میں عددی اعتبار سے بڑے پیمانے پر نفاق کا باضابطہ ظہور یا کوئی نمایاں کیفیت ہجرت تک سامنے نہیں آئی۔ البتہ مدینہ میں آ کر یہ دونوں کیفیات ظاہر ہوئیں۔ مکی دور کے نفاق کی کیفیت بھی سامنے آئی‘ یعنی کچھ لوگ خلوص کےساتھ جان بوجھ کر‘ سوچ سمجھ کر‘ پورے شعور کے ساتھ ایمان لائے‘ لیکن بعد میں ہمت جواب دے گئی۔ یہ بالکل دوسری بات ہے۔ آپ نے ایک وقت میں پختہ ارادہ کیا‘ لیکن بعد میں آپ کی ہمت میں کمزوری کاظہور ہوا‘ قوت ِارادی ساتھ چھوڑ گئی۔
ایمان اور اسلام میں فرق
اس کے علاوہ مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو سرسری طور پر ایمان لے آئے۔ اسی کی ایک بڑے پیمانے پر وہ شکل تھی جو سورۃا لحجرات میں بیان ہوئی ہے :
{ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا    ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط } (آیت۱۴)
’’یہ بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ۔ (اے نبیﷺ!) ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے‘ اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘
یہ سرسری طورپرایمان لانااس اعتبار سے ہوا کہ مدینہ میں دو ہی قبیلے عربی ٔالاصل تھے۔ یہود کے قبائل عربیٔ النسل نہیں تھے‘ یہ دوسرے علاقوں سے وہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اصل میں عرب قبائل جو یمن سے آ کر مدینہ میں آباد ہوئے‘ وہ اوس اور خزرج تھے۔ یہ دونوں اجتماعی طور پر ( en bloc) ایمان لے آئے۔ کیفیت ایسی ہوگئی کہ ان کے سردار ایمان لے آئے تو گویا سب نے ایمان قبول کرلیا۔ تبھی تو ہجرت کے وقت حضور ﷺ کا مدینہ میں داخلہ گویا ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت سے ہوا ۔ کئی دنوں سے لوگ آپﷺ کی آمد کے منتظر تھے کہ کب یہاں پہنچیں تو ہم خوشیاں منائیں۔ اس اعتبار سے وہاں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو محض اس وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے کہ جب پورے کا پورا قبیلہ مسلمان ہے توہم بھی مسلمان ہیں۔ یہ سرسری ایمان کی قسم ہے۔ اس کیفیت کی منطقی انتہا اس وقت ہوئی جب پورے عرب پر اسلام کاغلبہ ہوگیا۔ ازروئے الفاظِ قرآنی:
{اِذَا جَآئَ نَصْرُاللہِ وَالْفَتْحُ(۱) وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ اَفْوَاجًا(۲)}
’’جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح نصیب ہو۔اور آپؐدیکھ لیں لوگوں کو داخل ہوتے ہوئے اللہ کے دین میں فوج در فوج۔‘‘
یہ فوج دَر فوج داخل ہونا بھی اسی نوعیت کا تھاکہ قبائل نے اپنی اپنی جگہ بیٹھ کرمشورے کیے کہ اب تو بات ختم ہوگئی‘ حضرت محمد ﷺ کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوچکی ہے‘ لہٰذا ان حالات میں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ ہم بھی اللہ کے دین میں داخل ہوجائیں۔ خاص طور پر جبکہ چیلنج بھی سامنے آگیا تھا :
{ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ }(التوبۃ:۵)
’’پھر جب یہ محترم مہینے گزر جائیں تو قتل کرو ان مشرکوں کو جہاں بھی پائو۔‘‘
اعلانِ عام آ گیا کہ یا تو اس سرزمین کو چھوڑ کر نکل جائو ‘جہاں کہیں تمہیں رہنا ہے۔ اب اس سر زمین پر تم اسلام کے بغیر نہیں رہ سکو گے۔ جب اَشْھُرحُرُم ختم ہوں گے تو قتل عام ہوگا۔ ایسے حالات میں جولوگ ایمان لائے‘ یقیناًان میں مؤمنین صادقین بھی تھے اور  منافق بھی تھے جنہوں نے شعوری طورپر فیصلہ کیاکہ ٹھیک ہے اب تو ہم بے بس ہو گئے ہیں‘ اس وقت تواپنا سرنیچا کرلو‘ دبک جائو اوراسلام کا کلمہ پڑھ لو۔ پھر جب وقت آئے گا‘ کوئی مناسب موقع ہوگا‘ تب دیکھ لیں گے اور نمٹ لیں گے۔ البتہ ان میں بڑی تعداد ایسی تھی کہ جن میں کوئی بدنیتی یا دھوکا دینے کا ارادہ نہیں تھا‘ مرتد ہونے کاکوئی ارادہ بھی نہیں تھا ‘نہ کسی اور موقع کا انتظارتھا‘ لیکن انہیں ذاتی سطح پر مثبت طورپر ایمان بھی حاصل نہیں ہوا۔ ان کےلیے مَیں نے عنوان تجویز کیاہے: ’’سرسری ایمان۔ ‘‘ اس نوعیت کا ایمان تکلیف اور آزمائش کے وقت پر کھا جاتا ہے۔ چنانچہ مدینہ میں جب آزمائش شروع ہوئی توان کا نفاق ظاہر ہوناشروع ہو گیا۔
غور کیجیے کہ حضورﷺ جب غزوئہ احد کے لیے مدینہ سے نکلے تو اُس وقت ایک ہزار کی نفری تھی اورجب ذرا باہر گئے تو تین سو افراد واپس ہو گئے ۔ کل تعداد کا ایک تہائی کوئی معمولی نفری نہیں ہے۔ اس کوسمجھناچاہیے کہ یہ کیسے ہوگیا ۔ ان میں شعوری منافق توشاید کچھ ہی لوگ ہوں‘ ہم تعین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ قرائن یہی ہیں کہ عبداللہ بن اُبی تو بلاشبہ شعوری منافق تھا۔ وہ اہل ِمدینہ کا سب سے بڑا سردار تھا ‘جس کی بادشاہت کافیصلہ ہو چکا تھا۔ اس کے لیے سونے کاتاج بھی تیار کیاجاچکا تھا‘صرف تاج پوشی باقی تھی کہ حضورﷺمدینہ تشریف لے آئے۔ اب اُس نے اپنے دونوں قبائل کا رنگ دیکھا کہ ان میںسے اکثر لوگ محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لے آئےہیں۔یہ گویا اس کے لیے فیصلہ کن مرحلہ تھاکہ یا تو میں ابھی ان سے علیحدہ ہوجائوں۔ اس صورت میںمیری سرداری اورچودھراہٹ ختم ہوجائے گی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ اس وقت ( جس کو پنجابی میں کہتے ہیں ’’نیویں پاکر‘‘)سر جھکا لو اور بعد میں موقع ملنے پر پیٹھ میں چھرا گھونپا جائے‘ جیسا کہ اُس نے غزوئہ اُحد کے موقع پر کر دکھایا۔ سورۃ المنافقون میں اس کے الفاظ نقل ہوئے ہیں : {لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ ج } (آیت۸) ’’اگر ہم مدینہ لوٹ گئے توعزّت والے ان ذلیلوں کونکال باہر کریں گے۔ ‘‘ الفاظ بتار ہے ہیں کہ اس کےدل میں کیاروگ تھا۔ حضور ﷺ کے خلاف کتناغصہ‘ بغض‘ عناد اور شقاق تھا۔ اس نے مجبوراً ایمان کا اظہار کیا تھا‘اس لیے کہ جب پوری قوم ایمان لے آئی تو اب وہ اکیلا کیا کرے گا ! چنانچہ ان میں شعوری منافق بھی یقیناً ہوں گے ‘ لیکن بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جوسرسری طورپرشامل ہوگئے تھے۔ اب جب آزمائش کا مرحلہ آیا اور انہیں معلوم ہوا کہ قریش کاتین ہزار کالشکر کیل کانٹے سے لیس باہر کھڑا ہے تویہ بہانہ بناکر کہ جب ہمارے مشورے پرعمل ہی نہیں ہوا توہم کیوں خوا مخواہ اپنی جان کے لیے خطرات مول لیں‘ واپس ہوگئے۔
مکّہ میں نفاق کی صورت محض امکانی یا احتمالی (potential) تھی‘ ایک ادارے (institution) کی حیثیت سے اس دورمیںکہیں اس کا وجود نظر نہیں آتا۔ اس معاشرے میں‘اس جماعت کے اندر جواس وقت حضور ﷺ پر ایمان لائی‘ کوئی ایسا گروہ نظر نہیں  آتا کہ جس کے اندر یہ کیفیت پیدا ہوچکی ہو۔ وہاں صرف متنبہ کردیاگیاکہ اگر تمہارے صبرو تحمل میں کمی ہوئی‘ اگرتم استقامت کاثبوت نہیں دو گے‘ اگر آزمائشیں برداشت نہیں کرو گے تودیکھوپھر یہ راستہ تمہیں نفاق کی طرف لے جائے گا۔یہ ایک طرح کاcaution اور warning ہے‘ جیسے کوئی ڈاکٹر ٹی بی کے کسی ایسے مریض کوبتائے جو ابھی پہلی سٹیج میں ہو کہ اگر علاج نہیں کرو گے‘ پرہیز نہیں کرو گے ‘ہدایات پر عمل نہیں کرو گے توپھریہ نتیجہ نکلےگا۔ مکی دور میں معاملہ اس درجے کا تھا۔ البتہ کچھ لوگوں کا معاملہ ہجرت کے مرحلے پرآکر زیادہ ظاہر ہوگیا۔ اب امتحان یہ تھاکہ اپنے رشتہ دار وں اور قبائل کو چھوڑ نے کے لیے تیار ہو یا نہیں!
مدینہ میں آکرتین اقسام کے نفاق ہو گئے۔ ایک تو مکّہ میں جو امکانی potential نفاق تھا‘ یہاں آکر اس نے حقیقی نفاق کی شکل اختیار کرلی اور اب اس کا بالفعل ظہور ہوا۔ دوسرے وہ لوگ جو سرسری طورپرایمان لائے‘ صرف اس وجہ سے مسلمان ہوگئے کہ پورا قبیلہ‘ پورا گھرانہ اسلام لارہا ہے‘ ایسے لوگوں میں اس کیفیت کا دس گنا نہیں سوگنازیادہ امکان ہے کہ آزمائش اور ابتلاء کے موقع پران کے اعصاب ڈھیلے پڑجائیں اور ان کی ہمت جواب دے جائے۔ تیسرا شعوری نفاق ہے۔ جیسے کہ گمان غالب کے طورپرعبداللہ بن اُبی کا معاملہ تھا‘ اور یہود کا سازش کے طور پر معاملہ ہواکہ صبح ایمان لائو اورشام کو مرتد ہوجائو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے چنددن اسلام میں رہ کرپھریہ معاملہ کیا ہو‘ تاکہ مسلمانو ں کی ہوا اُکھڑ جائے اوران کی ساکھ متاثر ہو۔
سورۃ النور کی آیات سے تقابل
آخر میں تفسیر قرآن کے اس اصول کا اعادہ کر رہا ہوں کہ ’’اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہُ بَعْضًا‘‘ یعنی قرآن مجیدکا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر کرتاہے۔ اس اعتبار سے مختلف مقامات کی باہم مشابہتوں کو نمایاں کیاجائے توفہم قرآن میں کچھ اضافہ ہوتا ہے۔ سورۃ البقرۃ کی پہلی پانچ آیات کاسورئہ لقمان کی پہلی پانچ آیات سے تقابل ذہن میں رکھیے‘ یہ بہت ہی گہرا تقابل ہے۔پھر بحیثیت ِ مجموعی سورۃ البقرۃ کے پہلے رکوع کی سورئہ یٰسین کے پہلے رکوع سے مشابہت ہم ملاحظہ کر چکے ہیں۔
مزید برآں بحیثیت ِمجموعی مشابہت کے اعتبار سے سورۃ البقرۃ کے ان دو رکوعوں کا مثنیٰ سورۃ النور کا پانچواں رکوع ہے۔ جیسے یہاں تین گروہ ہمارے سامنے آئے: اولاً مؤمنین ِصادقین {اُولٰۗئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ اُولٰۗئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)} اور ان کی صفات:{الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳)} بالکل یہی نقشہ سورۃ النور کے پانچویں رکوع کے اندرموجود ہے‘ جہاں پہلے ایمان کی بحث اور ایمان کے لیے تمثیل آئی ہے۔ ان کے نورِ ایمان کی مثال ایسے ہے گویا ان کے قلب کے اندر ایک قندیل روشن ہے۔ چنانچہ ایمان کے لیے تمثیل اور اہل ِایمان کا کردار بیان ہوا۔ وہی تین گروہ جن کا ذکر یہاں (سورۃ البقرۃ میں) ہو رہا ہے ان ہی تین گروہوں کا ذکر سورۃ النور میں ہے۔ وہاں بھی کفر کی دو حالتیں(shades )بیان کی گئیں۔ کفر کی ایک حالت وہ ہے کہ تاریکی ہی تاریکی ہے‘ کوئی ملمع کی روشنی بھی نہیں۔ خیر اور نیکی کاوجود ہی نہیں۔ نفس پرستی‘ عیش پرستی‘ مفاد پرستی اور خود غرضی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جھوٹ موٹ کی بھی کوئی نیکی نہیں۔ یہ کفر کی انتہا ہے:
{ اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ط ظُلُمٰتٌم بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰىہَاط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ(۴۰)} (النور)
’’یا بہت گہرے سمندر میں اندھیروں کی مانند‘ اسے ڈھانپ لیتی ہو ایک موج‘ اس کے اوپر ہو ایک اور موج ‘ اس کے اوپر ہوں بادل۔ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ایک دوسرے کے اوپر۔ جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اُسے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اور جس کو اللہ نے ہی کوئی نُور عطا نہ کیا ہو تو اُس کے لیے کہیں کوئی نُور نہیں ہے۔‘‘
ایسے اندھیرے جوبڑے گہرے سمندر میں ہوں۔موج کے اوپر موج‘ پھراوپر بادل بھی کہ چاند یاستاروں کابھی کوئی انعکاس نہ ہو رہا ہو(absolute darkness)‘تاریکی کا یہ عالم کہ ہاتھ کوہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ sense of direction موجودہے‘ اس کے باوجود دیکھ نہیں پا رہا۔ یہ انتہائی تاریکی کی مثال ہے۔ اس کے مقابل یہاں سورۃ البقرۃ میں اس کیفیت کی مثال بیان کرنے کے بعد فرمایا :{صُمٌّۢ  بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸)} یہ انتہائی کفر کی کیفیت ہے۔
سورۃ النور میں دوسری مثال بیان کی گئی :
{وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ  بِقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآئً ط حَتّٰیٓ اِذَا جَآئَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا وَّوَجَدَ اللہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰىہُ حِسَابَہٗ ط وَاللہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۳۹)}
’’اور جو کافر ہیں اُن کے اعمال ایسے ہیں جیسے سراب کسی چٹیل میدان میں‘ پیاسا اُسے پانی سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ جب اس کے پاس آیا تو اُس نے وہاں کچھ نہ پایا‘ البتہ اُس نے اس کے پاس اللہ کو پایا‘ تو اُس نے پورا پورا چکا دیا اُسے اس کا حساب۔ اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
یعنی سراب کے مانند کچھ نیکیاں ہیں۔ ریاکاری ‘ دکھاوے اور ملمع کی نیکی موجود ہے۔ کچھ نہ کچھ چمک دمک ہے‘ کردار اور زندگی میں کچھ روشنی نظر آرہی ہے‘ مگر یہ حقیقت نہیں سراب ہے۔ دیکھنے میں پانی نظر آتاہے ‘ لیکن حقیقت میں پانی نہیں ہوتا۔ پیاسا گھسٹتا ہوا اس کے قریب آتاہے‘ پیاس کے مارے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی ہے ‘ لیکن اسے پانی نہیں‘ موت منتظر ملتی ہے۔ یہ وہ بین بین کی کیفیت ہے کہ محض ملمع اور ریاکاری کی نیکی ہے۔ آخرت میں معلوم ہوجائے گا کہ اس نیکی کا کوئی وزن نہیں۔ بین بین کایہی معاملہ نفاق کا ہے جویہاں بیان کیا گیا۔ چاہے اس کوکفر کی دوتمثیلیں کہہ لیاجائے یا نفاق کی ‘ اس لیے کہ نفاق بھی درحقیقت کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مرضِ نفاق سے محفوظ رکھے!
کیفیاتِ قلب اور دعائوں کا خصوصی اہتمام
قرآن مجید کے ان مقامات سے گزرتے ہوئے طبیعت میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ہرفرد کے دل میں کچھ نہ کچھ احساسات ہوتے ہیں۔ میرا جو بھی تجربہ ہے‘اس میں آپ کو بھی شریک کرلیاکرتا ہوں۔ مَیں ان رکوعوں کی تلاوت کرتاہوں توجب پہلا حصہ سامنے آتا ہے: {اُولٰۗئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ ۤ وَ اُولٰۗئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۲)} اس پر ایک ردّ ِعمل طبیعت میں ہونا چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! مذکورہ صفات میں سے ایک ایک چیز کے لیے دعا کیجیے۔ {رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ج}(ابراھیم:۴۰) ’’پروردگار! مجھے نماز قائم کرنے والا بنادے اور میری اولاد کو بھی۔‘‘ پروردگار! مجھے انفاق کرنے والا بنادے۔ مجھے ایمانِ حقیقی عطا فرما۔ مجھے ہدایت پرقائم کر دے اورجوہدایت تُو نے مجھے دی ہے اس پراستقامت عطا فرما۔
جب دوسرا حصہ آئے: {اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (۶) خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِہِمْ ۭ وَ عَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ۡ وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)} اس پرمیرے قلب میں شکر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْنِیْ مِنْھُمْ ’’پروردگار !تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں اس گروہ میں شامل نہیں کیا‘ ایسے لوگوں کے زمرے سے بچایا ہے۔‘‘ {اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ ھَدَانَا لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَا اَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ ج}(الاعراف:۴۳) ’’اورکُل شکر‘ کُل ثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ ہدایت بخشی اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔‘‘ البتہ جب تیسرا حصہ آئے تو نفاق سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ اس کااندیشہ ہرمسلمان کو ہروقت ہونا چاہیے۔ جیسے کہ جلیل القدر تابعی حضرت حسن بصریؒ سے منقول ہے: مَا خَافَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا أَمِنَهُ إِلَّا مُنَافِقٌ(۱)

((۱) جناب ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں تیس صحابہؓ سے ملا ہوں‘ ان میںسے ہر ایک اپنے بارے میں نفاق کا خطرہ محسوس کر رہا تھا‘ اور مذکورہ بالا قول جناب حسن بصریؒ سے منقول ہے۔ ملاحظہ ہو : صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب خوف المؤمن من ان یحبط عملہ وھو لا یشعر (باب ۳۶‘ ح:۴۸))

’’نفاق کا اندیشہ صرف مؤمن کو ہوتا ہے اور صرف منافق ہی اس سے اپنے آپ کومحفوظ اورمامون سمجھتا ہے۔‘‘ جب ایمان کی پونجی ہی ختم ہو گئی تو ع ’’رہا کھٹکا نہ چوری کا‘ دعا دیتا ہوں رہزن کو!‘‘ اب کیااندیشہ ہے ؟ کھٹکا اُسی کوہوتا ہے جس کے پاس کوئی پونجی ہو۔ ایمان کی رمق موجود ہو کہ میرا ایمان سلب نہ ہو جائے ‘ ایمان زائل نہ ہو جائے‘ یہ دولت مجھ سے چھن نہ جائے۔ جو پہلا معاملہ ہے کفر کا ‘اس پر اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں ان میں سے نہیں بنایا۔اس میں بھی درحقیقت ہمارا کوئی کارنامہ نہیں بلکہ یہ اللہ کی دین اور اس کافضل و کرم ہے۔ البتہ تیسرے معاملے پر آکر یہ دعا کریں: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ ’’پروردگار ! ہمیں اس گروہ میں شامل نہ کرنا!‘‘اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ النِّفَاقِ وَالرِّیَاءِ’’اے اللہ! ہم نفاق اور ریاکاری سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔‘‘ اَللّٰہُمَّ طَھِّرْ قُلُوْبَنَا مِنَ النِّفَاقِ، وَ اَعْمَالَنَا مِنَ الرِّیَاءِ، وَ اَلْسِنَتَنَا مِنَ الْکَذِبِ، وَ اَعْیُنَنَا مِنَ الْخِیَانَۃِ’’اے اللہ! ہمارے دلوں کو نفاق سے پاک کر دے‘ ہمارے اعمال کو ریاکاری سے پاک کر دے‘ ہماری زبانوں کو جھوٹ سے اور ہماری آنکھوں کو خیانت سے محفوظ فرما۔‘‘ آمین یا ربّ العالمین!
انسان کو بار بار بڑے حضور قلب کے ساتھ یہ دعا مانگنا چاہیے‘ اس لیے کہ نفاق سے بچنےکی کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے ۔ بڑے سے بڑا آدمی‘ جتنی زیادہ اس کے پاس دولت ِایمان ہوگی اتنا ہی وہ خطرے میں ہے۔ شیطان اتنا ہی اس پرمورچا لگائے گا اور اس کو ایمان کی دولت سے محروم کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ لوگ بڑے مغالطے میں ہیں جوسمجھتے ہیں کہ ہم نفاق سے مامون اورمحفوظ ہیں۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوحضورﷺ نے کچھ منافقوں کے نام بتا دیے تھے‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا تھاکہ یہ میرا راز ہے ‘ کسی کوبتانا نہیں ۔اسی لیے ان کانام پڑ گیا تھا: صَاحِبُ سِرِّالنَّبِیّ! ’’ نبیﷺ کے رازدان۔‘‘ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے پوچھا کرتے تھے :’’ اے حذیفہ! مَیں تمہیں اللہ کی قسم دے کرپوچھ رہا ہوں کہ کہیں میرا نام توان میں نہیں!‘‘ اگر واقعتاً ہمارے اندر ایمان ہے تو ہماری یہ کیفیت ہونی چاہیے۔ فرائض ِدینی کا جامع تصوّر ہر وقت ہمارے سامنے ہونا چاہیے کہ دین صرف نماز‘ روزے کانام نہیں ‘ یہ صرف کوئی کلچر نہیں ‘بلکہ دین ایک دعوت‘ حرکت اور تحریک ہے۔ اگر ہم اس کے تقاضوں کو پورا نہ کریں اور کہیں ہمارے اعصاب جواب دے جائیں توگویاکہ ہرآن خطرہ ہے کہ نفاق کی بیماری ہم پرحملہ آور ہوجائے۔
اَللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ! اللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ! اللّٰھُمَّ اَعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ!
(جاری ہے)