(منبرو محراب) قرآن حکیم سے ہمارا تعلق - شجاع الدین شیخ

8 /

قرآن حکیم سے ہمارا تعلقشجاع الدین شیخ ‘امیر تنظیم اسلامی
مسجد جامع القرآن ‘ قرآن اکیڈمی لاہور میں ۶ فروری ۲۰۲۶ء کا خطابِ جمعہ
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد:
استقبالِ رمضان کے عنوان سے تنظیم اسلامی اور انجمن خدام القرآن کے زیر اہتمام مختلف نوعیت کے اجتماعات ہوتے ہیں اور خطاباتِ جمعہ میں بھی اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس وقت یہ گفتگو کرنا مقصود ہے کہ ماہِ رمضان کی فضیلت دراصل نزولِ قرآن حکیم کی وجہ سے ہے۔لہٰذا اس ماہِ مبارک کا ایک اہم تقاضا قرآن حکیم کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔
سورۃ الطارق قرآن حکیم کے آخری پارے میں ہے‘ جس میںاللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
{اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ(۱۳) وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ(۱۴) }
’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے ‘اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘
بلا شبہ یہ قرآن فیصلہ کن کلام ہے۔ حتمی اور دو ٹوک بات ہے۔ انگریزی میں اسے decisive word کہا جائے گا جبکہ ہمارے محاورے میں کہیں گے کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔عربی میں  ھزل ایسی شے کو کہتے ہیں جو بے کار سمجھی جائے‘ جوworthlessہو‘ جس کو پس پشت ڈال دیا جائے‘ جسے نظر انداز کر دیا جائے‘ جو فوکس میں نہ رہے‘ جس کے لیے محنت نہ کی جائے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرما رہے ہیں کہ قرآن مجید کوئی بے کار شے نہیں بلکہ فیصلہ کن کلام ہے۔اللہ کے رسولﷺ کی دو احادیث بڑی معروف ہیں ‘ جنہیں ہم دروسِ قرآن میں بیان بھی کرتے ہیں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺنے فرمایا:
((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتٰبِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ))(صحیح مسلم:۱۸۹۷)
’’بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کریم کی بدولت کچھ قوموں کو عروج عطا فرمائے گا اور اس کو ترک کر دینے کی وجہ سے کچھ دوسری قوموں کو ذلیل اور رسوا کر دے گا۔‘‘
علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا: ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!
یہ اصول ہم ماننے والوں کے لیے بتایا جا رہا ہے‘ ورنہ دنیا کی دولت‘ شہرت ‘ اقتدار فرعون کو بھی ملے‘ نمرود کو بھی اور شداد کو بھی۔ ہم جانتے ہیں کیا کچھ نہیں تھا ان کے پاس۔ چنانچہ یہ جو معیار بیان ہو رہا ہے کہ اس قرآن کی بدولت اللہ عروج عطا فرمائے گا‘ یہ ہمارے لیےہے۔ قرآن کو ماننے کا دعویٰ کرنے والوں اور واقعتاً قرآن کوتھامنے والوں کو اللہ دنیا میں عروج عطا فرمائے گا‘ ورنہ ذلیل و رسوا کر دے گا ‘جو آج ہماری حالت ہے۔ ہم سے پہلے بنی اسرائیل اُمّت ِ مسلمہ تھے۔ ان کے خلاف چارج شیٹ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں بیان فرمائی کہ:
{نَــبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ق کِتٰبَ اللہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ} (آیت۱۰۱)
’’جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا‘‘
انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈالا تو ذلت اور رسوائی ان کا مقدر بنی۔ آج کتاب ہمارے پاس ہے ‘ جسے ہم فراموش کیے بیٹھے ہیں۔اس کے نتیجے میں ہماری جو حالت ہے‘ بتانے کی ضرورت نہیں۔ دنیا میں سب سے سستا خون ہمارا ہے۔پچھلی صدی میں سب سے زیادہ لاشیں مسلمانوں کی گری ہیں۔ کسی قوم کے بارے میں دوسروں نے سب سے زیادہ فیصلے کیے ہوںتو وہ ہم مسلمان ہیں۔ سب سے زیادہ قبضے ہمارے ممالک پر ہوئے ہیں۔ اس اُمّت کے زوال کی ایک بہت بڑی وجہ قرآن کریم کو فراموش کر دینا ہے۔ ہم ایک مسلمان ملک بھی دنیا کے سامنے ایسا نہیں دکھا سکتے کہ جس قرآن کی ہم تلاوت کرتے ہیں‘ جس کی سماعت کرتے ہیں اس کے احکامات کا اجتماعی سطح پر وہاں نفاذ ہو۔ یہ ہمارا قرآن کے ساتھ اجتماعی سطح پرمعاملہ ہے۔ دنیا میں تو اللہ کے فیصلے قوموں کے اجتماعی اعمال پر نافذ ہوتے ہیں ۔چنانچہ یہ دنیا میں قرآن کے فیصلہ کن کردار کا معاملہ ہوا۔
انفرادی حوالے سےدنیا کا معاملہ عارضی ہے۔ہر ایک نے یہاں سے جانا ہے۔ ہر جانے والا بتا کر جاتا ہے کہ تم بھی میرے پیچھے آؤ گے۔ کسی کے انتقال کی خبر پر ہم یہ الفاظ ادا کرتے ہیں: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ’’یقیناً ہم اللہ ہی کے ہیں اور بلاشبہ اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘جنازے کی معروف دعا ہے:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَ شَاھِدِنَا وَ غَائِبِنَا وَ صَغِیْرِنَا وَ ذَکَرِنَا وَ اُنْثَانَا
اس میں پہلے زندہ لوگوں کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہیں‘ پھر میت کے لیے۔ پھر اپنے چھوٹوں‘ بڑوں‘ مردوں‘ عورتوں سب کے لیے دعائے مغفرت کی جاتی ہے۔مُردوں کو قبرستان جانے کی تاکید ہےتاکہ عبرت پکڑیں۔ قبرستان میں داخل ہوتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ، یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ
اس میں بھی پہلے اپنی مغفرت مانگ رہے ہیں۔
اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْاَ ثَرِ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ
تم ہم سے پہلے جا چکے ہو‘ ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔ یہ سب موت کی یاد دہانی ہے۔ میں نے اور آپ نے بھی جانا ہے۔ دنیا تو چھوڑنی ہے۔ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی یعنی آخرت میں بھی یہ قرآن کریم ہی فیصلہ کن کلام ہوگا۔ مسلم شریف کی ایک اور طویل روایت کا آخری حصہ ہے‘ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((اَلْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ))
یہ قرآن حکیم تمہارے حق میں حجت ہوگا یا تمہارے خلاف شکایت لے کر کھڑا ہوگا۔
بہرحال ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم آج قرآن حکیم کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کیا ہم اس کو اپنے حق میں سفارش کرنے والا بنا رہے ہیں یا (معاذ اللہ!) شکایت کرنے والا۔ اس موضوع پر استاد محترم بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کا بڑا پیارا کتابچہ’’ مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ بہت قیمتی ہے۔ اس کا شارٹ ورژن بھی ہے:’’ قرآن حکیم اور ہماری ذمہ داریاں۔‘‘ کم سے کم وہی ہماری نگاہوں سے گزرتا رہے۔ اول الذکر کتاب میں ڈاکٹر صاحبؒ نے پانچ حقوق بیان فرمائے ہیں۔ ان حقوق کو اگر ہم ادا کریں تو ان شاءاللہ قرآن مجید کے ساتھ تعلق مضبوط ہوگا۔ نمبر ایک‘ اس پر ایمان لائیں۔ یہ ایمان صرف lip servicing نہ ہو بلکہ دل سے بھی یقین ہو ۔اِقرارٌ بِاللِّسان و تصدیقٌ بِالقلب۔ نمبر دو‘ قرآن پاک کی روزانہ باقاعدہ تلاوت ہو‘ اس کے آداب کے ساتھ۔ نمبر تین‘قرآن حکیم کو سمجھنے کا اہتمام کرنا۔ابن ماجہ کی ایک حدیث مبارکہ کی رُو سے قرآن مجید کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں عطا ہوتی ہیں‘ لیکن قرآن حکیم کا اولین تعارف یہ نہیں کہ یہ ثواب کی کتاب ہے۔ ثواب یقیناً ملتا ہے اور بغیر سمجھے بھی تلاوت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ اس حدیث میں الفاظ آئے ہیں کہ (المّ میں) الف ایک حرف ہے‘ لام ایک حرف ہے‘ میم ایک حرف ہے۔ ان کا مفہوم ہمیں نہیں معلوم ‘ ان کا ترجمہ تو ہم نہیں کرتے‘ ان کو حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے۔اسی لیے بغیر سمجھے بھی قرآن کریم کی تلاوت کا اجر ملتا ہے‘ البتہprimarily قرآن کتابِ ہدایت ہے۔ فرمایا گیا:
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(۲)} (البقرۃ)
’’ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔‘‘
اسی طرح سارے انسانوں کے لیے ہدایت ہے:
{ہُدًی لِّلنَّاسِ} (البقرۃ:۱۸۵)
’’لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر (نازل کیا گیا)‘‘
پھر ارشاد ہوا:
{ اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ } (بنی اسرائیل:۹)
’’یقیناً یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اُس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے ۔‘‘
اور:
{ کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ} (ابراھیم:۱)
’’یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف۔‘‘
بندگانِ خدا گمراہی کے اندھیروں سے نکل کر ہدایت کی روشنی کی طرف آ جائیں‘ اس لیے قرآن پاک کی آیات عطا کی گئیں۔
چوتھا حق ہے اس پر عمل کرنا۔ یہ قرآن صرف ثواب کے لیے نہیں ہے ‘صرف فہم کے لیے نہیں ہے‘ صرف علم حاصل کر لینے کے لیے نہیں ہے۔یہ سب بھی کیا جائے لیکن اس سے آگے اس کو اپنے عمل میںtranslateکرنا اور اس کے تقاضوں کو عملی طور پر پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ انفرادی زندگی سے متعلق قرآن کریم کہتا ہے کہ نماز ادا کرو‘ زکوٰۃ ادا کرو‘ روزہ رکھو۔جھوٹ مت بولو۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ رشتہ دار اور پڑوسی کا حق ادا کرو۔ کمزوروں کی مدد کرو۔ وراثت کے احکام پر عمل کرو۔ یہ وہ احکام ہیں جو انسان کی انفرادی زندگی سے متعلق ہیں۔ ان پر فوراً عمل ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں کر رہے تو اس میں ہمارا قصور ہے۔ پھر قرآن کریم کے وہ اَحکام ہیں جو اجتماعی زندگی سے متعلق ہیں ۔ قرآن پاک قصاص ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قصاص جان کا بھی ہوتا ہے اور زخموں کا بھی۔ سورۃ ا لمائدہ میں زخموں کے قصاص کا ذکر بھی ہے۔ اسی طریقے پر زکوٰۃ اور عشر کی وصولی کا معاملہ آئے گا۔ شرعی سزاؤں کے نفاذ کی بات آئے گی۔ سوشل ویلفیئر کا پورا سسٹم آئے گا۔ اجتماعی معاملات میں بھی قرآن پاک کے احکام کا نفاذ ہونا چاہیے۔ یہ چوتھا حق ہے کہ قرآن مجید کے احکام انفرادی سطح پر تو فوراً لاگو ہوں جبکہ اجتماعی سطح پر ان کے نفاذ کی کوشش ہو۔
پانچواں حق قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری میرے اور آپ کے کاندھوں پر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ قرآن پاک کے حقوق کو ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ کل شرمندگی اور ندامت نہ ہو۔ یہ قرآن ہمارے حق میں سفارش کرنے والا ہو۔
سورۃ الحشر کی آیت ۲۱ میں فرمایا گیا:
{لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ ط}
’’اگر ہم اس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘
اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن میں اس قدر جلال ہے کہ اگر یہ کسی پہاڑ پر نازل کیا گیا ہوتا تو اسے ریزہ ریزہ کر دیتا ۔ وہ قلب ِ محمدیﷺ تھا جسے اللہ نے اس کام کے لیے تیار کیا تھا۔یہ حضورﷺ کی عظمت اور آپﷺ کے قلب اطہر کی شان ہے۔ درحقیقت اس قرآن کا جلال یہ ہے کہ کسی پہاڑ پر نازل ہوتا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا۔ کیا آج ہماری آنکھوں میں اس قرآن کے کوئی اثرات دکھائی دیتے ہیں ؟ہمارے دل کی حرکت پر قرآن کے کوئی اثرات دکھائی دیتے ہیں؟ ہمارے چہروں پر کبھی قرآن کے اثرات نظر آتے ہیں؟ ہمارے وجود کےرونگٹے کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا کبھی کبھی یہ کیفیات ہمیں نصیب ہوتی ہیں؟ کیا ہمیں یقین ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے ؟کیا ہم اسے دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں؟ کیا یہ ایقان حاصل ہے کہ یہ پہاڑوں کو ہلا دینے والا کلام تقدیروں کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
{اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ(۱) } (القدر)
’’یقیناً ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔‘‘
تقدیروں کو بدلنے والی رات میں قرآن کا نزول ہوا ‘بلکہ وہ رات نزولِ قرآن کی وجہ سے افضل ہوئی۔ رمضان افضل ہے تو نزولِ قرآن کریم کی وجہ سے۔ آج ہمارے اندر یہ احساس مفقود ہے۔ فلموں اور ڈراموں کے ڈائیلاگ سن کر لوگوں کے آنسو بہہ جاتے ہیں۔استغفر اللہ! دوست ناراض ہو گیا تو آنسو بہہ جاتے ہیں۔ اولاد نے کچھ کہہ دیا تو آنسو بہہ جاتے ہیں۔ آئی فون کا نیا ورژن نہیں ملا تو آنسو بہہ جاتے ہیں۔ بچی کی شادی پر پچاس لاکھ روپے خرچ کر کے بھی رو رہے ہیں کہ ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا بہت کچھ نہ کر سکے جو کرنا چاہتے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!ہم لوگ کہاں کہاں روتے ہیں‘یہ سب کو پتہ ہے۔ غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ کبھی اللہ کے کلام کو سن کر بھی چہرے کا رنگ بدلتا ہے ؟ دل کی حرکت تیز ہوتی ہے؟ نہیں! اس لیے کہ we don't understand Quran۔ اس سے پہلے inclination اور موٹیویشن کا معاملہ بھی ضروری ہے ۔ طلب اور تڑپ کی ضرورت ہے۔ عربی تو ابولہب کو بھی بہت آتی تھی اور خوب آتی تھی ۔ اسے سنانے والے تھے محمد رسول اللہﷺ۔ داعیٔ قرآن حضرت محمد مصطفیٰﷺ جن پر نزولِ قرآن ہوا‘ وہ ابولہب کو سنا رہے ہیں جسے اتنی عربی آتی تھی کہ میں اور آپ سیکھ نہیں سکتے۔ اتنی بڑی opportunity‘ لیکن اثر نہیں ہوا۔ مسئلہ یہ تھا کہ دل کے اوپر قفل لگا ہوا ہے۔ طلب نہیں‘ تڑپ نہیں۔ چنانچہ اسے سورۃ اللہب تو ملی‘ ہدایت نہیں ملی۔ اس کے برعکس حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فارس کے تھے ‘ غیر عرب‘ لیکن دل میں طلب اور تڑپ تھی۔ مشرکانہ ماحول کو دل قبول نہیں کرتا۔ کبھی ایک پادری کے پاس جاتے ہیں‘ کبھی دوسرے کے پاس۔ آخر بتایا جاتا ہے کہ جائو کھجور والی سرزمین میں‘ وہاں آخری رسول کا ظہور ہونے والا ہے۔چنانچہ اللہ نے پہنچایا حضورﷺ کے قدموں میں‘ اور ایمان کی دولت ملی۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا :((سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ)) یعنی سلمان ؓہمارے اہل بیت میں شامل ہیں۔ اللہ اکبر! لہٰذا طلب کا ہونا لازمی ہے۔
ہماری ۹۹ فیصد آبادی نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی قرآن کا مکمل ترجمہ اپنی زبان میں نہیں پڑھا ہے۔ ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے! خاص طور پر جو پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ well qualified ہیں‘ جو اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم پر اس سے کہیں زیادہ خرچ کر رہے ہیں جو ان کے والدین نے ان پر کیا تھا‘ ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ what about the Word of Allah!
آج اللہ کا کلام نظر انداز ہو رہا ہے ۔ ہمارے استاد ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ بقول شخصے قرآن کی قوالی کر کر کے دنیا سے چلے گئے۔ لیکن دروسِ قرآن‘ دورئہ ترجمہ قرآن‘ مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب‘ عربی گرامر کلاسز‘ رجوع الی القرآن کورسز‘انجمن ہائے خدام القرآن‘ تنظیم اسلامی یہ سب اسی بڑے کام کے لیے ہیں۔ لوگ ماہِ رمضان میں تراویح کے دوران قرآن کو سنتے چلے جاتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ اللہ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ پر فضل فرمایا کہ انہوں نے ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اوائل میں اسی شہر لاہور میں ایک ترتیب بنائی‘ جس کو اب ہم دورئہ ترجمہ قرآن مع تراویح کہتے ہیں۔ اس میں قرآن کا ترجمہ بھی ہوگا ‘تشریح بھی ہوگی اور نماز تراویح بھی ہوگی۔ اس کی ترتیب یوں ہوتی ہے کہ عشاء کے چار فرض اور دو سنتیں ادا کرنے کے بعد تراویح کی چار رکعات کے حوالے سے مدرس ہر آیت کی تلاوت کرتا ہے۔ پھر اس کا ترجمہ اور مختصر تشریح بیان کرتا ہے۔ اس کے بعد تراویح میں متعلقہ حصہ تلاوت کیا جاتا ہے‘ جو حاضرین کی سمجھ میں بھی آتا ہے کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے اس کا ترجمہ اور تشریح سنی ہوتی ہے۔ اس طرح تین اعتبارات سے قرآن مجید کی تکمیل ہوتی ہے اور رمضان کی راتیں قرآن حکیم کے ساتھ گزرتی ہیں۔حضورﷺکا تو پورا سال قرآن کے ساتھ گزرتا تھا ۔رمضان شریف میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی پوری پوری راتیں قرآن پاک کے ساتھ گزرتیں۔ حضورﷺ آخری عشرہ میں پوری پوری رات قرآن پاک کے ساتھ قیام فرماتے۔ وہاں عربی کے حوالے سے مسئلہ نہیں تھا۔ ہمیں چونکہ عربی سمجھ میں نہیں آتی تو یہ ایک اچھا نظام بن گیا ہے۔اس سے ہزاروں افراد پاکستان بھر میں اور پاکستان سے باہر بھی استفادہ کر رہے ہیں ‘ الحمدللہ! اللہ تعالیٰ اس کام کو قبول کرے ۔ اس سے لوگوں کی زندگی بدلتی ہوئی دیکھی گئی ہے۔ ایک ایمان افروزماحول ہوتا ہے ۔ پورا سال قرآن پاک کی تلاوت نہیں ہو پاتی اور یہاں ۲۹ راتوں میں ۱۴۰‘۱۵۰ گھنٹوں کے اندر ترجمہ اور تشریح ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ قرآن کریم کے ساتھ ہمارا تعلق مضبوط ہو۔
بسنت کا تہوار
پنجاب میں حکمران یہ دعویٰ کر رہے ہیںکہ ہم بسنت کے تہوار کو reviveکریں گے۔ پورے شہر کے اندر موٹر سائیکلوں پر راڈ لگا رہے ہیں کہ ڈور سے گلا نہ کٹ جائے۔ جتنا کسی دہشت گرد کا لوگوں کو ہلاک کرنا ظلم ہے اتنا ہی اس طرح کی سرگرمیوں میں انسانی جانوں کا ضیاع بھی ظلم ہے۔ پہلے تو اس خونی رسم کوچلنے دیا جائے اور پھر لوگوں سے کہا جائے کہ راڈ لگا کر اپنی گردن بچاؤ ۔کل کہا جائے گا کہ ہماری روایات میں تو پٹاخے پھاڑنا اور فائرنگ کرنا بھی ہے‘ اب آپ بلٹ پروف جیکٹ اور بلٹ پروف ہیلمٹ پہن کر آئیے گا ۔پرسوں کہیں گے کہ چلو ہولی کھیلتے ہیں ‘ رنگ پھینکیں گے تو لوگ واٹر پروف کپڑے پہن کر باہر نکلیں۔ یہ سلسلہ کہاں  رکےگا!یہ سب کچھ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ بسنت ہندوانہ ثقافت اور ان کی تہذیب کا بھی حصہ ہے ‘کسی نے لکھا کہ ان کی مذہبی روایات کا بھی حصہ ہے ۔ موسم بہار کا بھی ایک حصہ ہے۔ کسی گستاخِ رسول کی یاد کے حوالے سے بھی اس کو جوڑا گیا۔ یہ بہت سارے پہلو ہیں۔ البتہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے وہ صرف امیروں کی عیاشی کا معاملہ ہے۔ ایک ایک چھت لاکھوں روپے میں بُک ہوگی۔ استغفر اللہ!
عیاشی کا سامان ہوتا ہے ‘ ہلا گلا بھی ہوا کرتا ہے اور سارا آسمان پتنگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے ہم چھٹی بھی دیں گے ‘ ساری ٹرانسپورٹ فری کریں گے۔کیا حکومتی خزانہ آپ کی آبائی جاگیر ہے ؟یہ قوم کے ٹیکسز کا پیسہ ہے۔جس معاشرے میں غربت کا یہ عالم ہو کہ لوگ معاشی حالات سے تنگ آ کر خود کشی کرنے پر مجبور ہوں ‘ زندگی کی بنیادی ضرورتیں فراہم نہ ہو رہی ہوں‘ وہاں ایسی بے ہنگم قسم کی تقریبات زیب نہیں دیتیں۔ کھیل سے کس نے منع کیا ہے ؟ اگر اس سے فزیکل فٹنس بہتر ہوتی ہے تو بہت اچھی بات ہے مگر اس کے نتیجے میں اللہ کا حق پامال نہ ہو‘ ماں باپ کے حقوق پامال نہ ہوں۔ لوگوں کی زندگی اجیرن نہ ہو۔ مال کا ضیاع نہ ہو۔ فحاشی ‘ عریانی پھیلنے کا سبب نہ بنے۔ جس کرکٹ میں جوا شامل ہو گیا‘ سٹہ شامل ہو گیا‘ عورتوں کا ناچ گانا شامل ہو گیا‘ بے حیائی شامل ہو چکی‘ وہ اب صرف کھیل نہیں رہا۔ چاہے کرکٹ ہو یا پتنگ بازی‘ کم سے کم کسی مسلمان کا ایمان تو گوارا نہیں کر سکتا کہ ان چیزوں کو تسلیم کرے۔
یہ مہینہ شعبان کا ہے‘ جس میں رمضان کی طرف توجہ دلانی چاہیے۔ قرآن کریم کی طرف توجہ دلائی جائے۔ عوام کے حقوق کی بات کی جائے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ اس کے بجائے کھیل تماشے میں لگا دیا گیا ہے ۔علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آتا ہے : ؎
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری
یہ حکمرانوں کے tactics ہوا کرتے ہیں تاکہ اصل حقائق کی طرف عوام کی توجہ نہ رہے ۔ یہ ظلم ہے‘ ستم ہے۔ ماضی میں کبھی عدلیہ نے بسنت کے خلاف فیصلہ دیا تھا ‘ لیکن آج عدلیہ کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ وہ حکومت کے خلاف کیا فیصلہ دے گی! ہم سب نے اللہ کو جواب دینا ہے‘یہ کیوں بھلا دیا جاتا ہے ! رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَ عَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) (صحیح البخاری، ح:۷۱۳۸)
’’آگاہ ہوجاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( صاحب اقتدار) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ مرد اپنے گھروالوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا ۔ عورت اپنے شوہر کے گھروالوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا ۔کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہوگی۔‘‘
ایک حدیث کے مطابق کوئی شخص رسول اللہﷺ کے ساتھ جہادمیں شریک ہوا اور قتل ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ شہید ہو گیا‘ لیکن رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنم کی آگ میں ہے‘ کیونکہ اس نے غنیمت کے مال میںسے ایک چادر چرائی تھی۔ غنیمت کا ایک حصہ مجاہدین میں تقسیم ہوتا ہے جبکہ دوسرا حصہ بیت المال میں جاتا ہے۔ بیت المال اس معنی میں پبلک پراپرٹی ہے کہ اس کا پیسہ عوام کی بہبود پر خرچ ہوگا۔ مالِ غنیمت میں سے ایک چادر چرائی گئی تو ٹھکانا جہنم قرار پایاجبکہ آج کے حکمران سرکاری خزانے کا غیر منصفانہ استعمال کر رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اللہ کو جواب نہیں دینا!
سورۃ التکاثر کے آخر میں ارشاد ہوا:
{ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ(۸)}
’’پھر اُس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔‘‘
اقتدار بھی ایک طرح کی نعمت ہے۔ اللہ اس کے بارے میں پوچھے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے۔ ہمیں بھی ہدایت دے ۔ہمارے عوام کم سے کم بائیکاٹ تو کریں۔ مفت ٹرانسپورٹ پر لعنت بھیجیں۔اپنے بچوں کو سمجھائیں۔ یہ سارا ہندوانہ رسومات کا معاملہ ہے ‘ان کی تہذیب و ثقافت کا معاملہ ہے۔ ہمیں کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہیے۔عوام اس کے خلاف بات کریں اور اپنے گھر والوں اور متعلقین کو بچانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حیا کی حفاظت فرمائے‘ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ ہمیں رمضان کا مہینہ عافیت کے ساتھ عطا کرے۔ قرآن مجید کے ساتھ تعلق کی مضبوطی عطا فرمائے۔ حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین!