فکر ِ آخرتاعجاز لطیف ‘نائب امیر تنظیم اسلامی
(سالانہ زونل اجتماع منعقدہ نومبر۲۰۲۵ء میں خطاب )فکر ِآخرت ہم میں سے ہر ایک کی سب سے بنیادی فکر ہونی چاہیے۔یہ بات بانی ٔ تنظیم محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے ہمیں بار بارسمجھائی‘ اور قرآن بھی یہی تلقین کرتا ہے کہ ہم اس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجے گئے ہیں۔یہ زندگی ہمیشہ ہمیش کے لیے نہیں ملی ہے‘ بلکہ ہمیں اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے ۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہمارے لیے ہر نماز میں سورۃ الفاتحہ کی آیت {مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo} کے ذریعے آخرت کی یاد دہانی کا اہتمام فرمایا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے : ؎
قلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!اصل کامیابی اس دن کی ہے جب انسان کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جنت میں داخل فرما دے۔ فکر ِآخرت کا مطلب خوف نہیں ہے بلکہ احساسِ ذمہ داری ہے‘ accountability کا احساس ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کے رذائل کو ختم کرنے اور اس کی خوبیوں کو اُجاگر کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
{وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمْ مَّشْکُوْرًا (۱۹)} (بنی اسرائیل)
’’اور جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو اور اس کے لیے اس کے شایانِ شان کوشش کرے اور وہ مؤمن بھی ہو تو یہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر افزائی کی جائے گی۔‘‘
’’جس نے آخرت کا ارادہ کیا‘‘کا مطلب ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کوخلوصِ نیت کے ساتھ آخرت کی تیاری کا پختہ عزم کرنا چاہیے۔ صرف پختہ عزم ہی نہیں بلکہ{وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا} کی رو سے اس کے لیے صحیح کوشش اور محنت بھی کرنی چاہیے‘ جیسا کہ اس کے لیے جدوجہد کا حق ہے۔ یہاں پر خوب کہا کہنے والوں نے:
’’اس دنیا کے لیے اتنی کوشش کرو جتنا یہاں رہنا ہے‘اور آخرت کے لیے اتنی کوشش کرو جتنا وہاں رہنا ہے۔‘‘
یہ بھی ایک لمحہ ٔ فکریہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری ترجیح(priority) واقعی یہہے؟ سورۃ الحشر کی آیات۱۸ تا ۲۰ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں یہ یاد دہانی بڑے خوب صورت طریقے سے کروائی ہے :
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج وَاتَّقُوا اللہَ ط اِنَّ اللہَ خَبِیْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸) وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰىہُمْ اَنْفُسَہُمْ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۹)}
’’اے اہل ِایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے ‘اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ۔یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو‘ اللہ اس سے باخبر ہے۔اور (اے مسلمانو دیکھنا !) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔‘‘
پھر یہ بھی بتا دیا کہ ان دونوں رویوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہے:
{لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِط اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ (۲۰)}
’’ (دیکھو !) برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنت والے۔ یقیناً جنت والے ہی کامیاب ہوں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ذراغور کرو‘ تم نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ یہ کل ہماری اصل زندگی ہے‘ جس کے بارے میں سورۃ الفجر میں فرمایا کہ وہاں پہنچ کر انسان کہے گا:
{یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ(۲۴) }
’’اے کاش! کہ میں نے اپنی اصل زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔‘‘
اس اعتبار سے ہر نیکی‘ ہر خیر‘ ہر خدمت ہمارے کل کے لیے سرمایہ ہے۔ اس حقیقت کو بھول جانے والے‘ اور اسی دنیا کو اپنی منزل سمجھ لینے والے خسارے میں رہیں گے۔ جو اللہ کو یاد رکھتے ہیں {الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ} (آل عمران:۱۹۱) کھڑے‘ بیٹھے اور اپنی کروٹوں کے بل‘ یعنی کوئی لمحہ خالی نہیں چھوڑتے‘ صرف الفاظ سے یاد نہیں رکھتے بلکہ عمل میں یاد رکھتے ہیں‘ وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ ان کے لیے بشارت ہے کہ {اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ (۲۰)} یعنی جنت والے ہی حقیقی معنوں میں کامیاب ہیں۔ سورۂ آلِ عمران کی آیت۱۸۵میں یہی مضمون ایک مختلف انداز سے بیان ہوا ہے۔ فرمایا:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)}
’’ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘اور تم کو تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ تو قیامت
ہی کے دن دیا جائے گا ۔تو جو کوئی بچالیا گیا جہنم سے اور داخل کردیا گیا جنت میں تو وہ کامیاب ہوگیا ‘اور یہ دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘
پتہ چلا کہ یہ دنیا دارالجزا نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ بدلے کی جگہ دراصل آخرت ہے۔ اگر یہ زندگی اُس اصل زندگی کی تیاری کے لیے بسر نہیں کی گئی‘ اگر یہ حقیقت یاد نہیں رہی تو پھر دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں:
الدُّنْیَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ
’’یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے( ہم جو یہاں بوئیں گے وہاں پر وہی کاٹیں گے)۔‘‘
دنیا کا فریب ختم ہو جائے گا‘ آخرت کی کامیابی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گی۔ دنیا کی کوئی کامیابی حقیقی نہیں ‘اگر خدانخواستہ انسان آخرت میں ناکام قرار دے دیا جائے۔ دنیا میں عہدے یا سہولیات کے لحاظ سے کسی کا چھوٹا یا بڑا ہوناکامیابی یا ناکامی کی دلیل نہیں ہے۔ اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ آخرت کی فکر ہمیں مایوس نہیں کرتی بلکہ یہ یقین دلاتی ہے کہ زندگی کا ہر سچا قدم معنی رکھتا ہے‘ جس کے اصل ثمرات اور نتائج آخرت میں ملیں گے۔
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط} کے الفاظ میں موت کا ذکر قرآنِ مجید میں تین مرتبہ کیا گیا ہے۔ یہ بات بانی ٔمحترم نے متعدد باربتائی ہے کہ اہم باتیں قرآنِ مجید میں کم از کم دو یا اس سے زیادہ مرتبہ ضرور دہرائی جاتی ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہوا:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃًط وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۳۵) }
’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘اور ہم تمہیں جانچتے رہتے ہیں( پرکھتے رہتے ہیں‘ تمہارا امتحان لیتے رہتے ہیں) شر سے بھی اور خیر سے بھی بطور آزمائش‘ اور تم سب کو ہماری ہی طرف واپس آنا ہے۔‘‘
مرزا شوق لکھنوی کا بڑا معروف شعر ہے : ؎
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ‘ کل ہماری باری ہے!تیسرا مقام جہاں اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو نہایت تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ‘وہ ہے سورۃ العنکبوت کی آیات ۵۷ تا ۵۹:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۵۷) }
’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔پھر تم ہماری ہی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
البتہ یہاں خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اِس زندگی کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کیا:
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۵۸) }
’’جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کیے‘ ہم انہیں ضرور جگہ دیں گے جنت کے بالا خانوں میں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ۔‘‘
{ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ(۵۹) }
’’وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا( ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا‘ ڈٹے رہے‘ جمے رہے) اور وہ اپنے ربّ پر ہی توکّل کرتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ یہ حقیقت بتائی ہے کہ: ’’ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔‘‘ یہ نہیں کہا کہ ہر انسان کو مرنا ہے۔اگر اس پر غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر انسان کے لیے ذائقہ اور اس کے معیارات مختلف رکھے ہیں۔ ہر انسان کا اس کے ذوق کے مطابق tasteہوتا ہے۔ کسی کو نمک زیادہ اچھا لگتا ہے‘ کسی کو ذرا کم اچھا لگتا ہے۔ یہ taste انسان کے اندر اس کے اعمال کی نسبت سے بنتا ‘ بگڑتا اور ڈیویلپ کرتا رہتا ہے ۔ جس کا ذوق خدانخواستہ بگڑ گیا ہو تو اسے قرآنِ مجید کی محفل میں بھی سکون نہیں ملتا‘ لیکن جن کا ذوق صحیح ہو‘ ان کا دل اس موقع پر باغ باغ ہوتا ہے۔ جیسا ذوق اعمال کی بنا پر دنیا میں انسان نے اپنے لیے create کیا ہے‘ موت کے وقت اس کو ویسا ہی ذائقہ چکھنا پڑے گا۔ اس اعتبار سے ابھی وقت ہے کہ اپنا taste اعمالِ صالحہ کے ذریعے سے درست کر لیا جائے‘ تاکہ موت بھی انسان سے مسکراتے ہوئے ملاقات کرے۔یہ دنیا اور اس کے اندر جو کچھ ہے ‘ وہ عارضی ہے‘ جبکہ آخرت کا حسن دائمی ہے۔ سورۃ الحدید کی ان آیات پر غور کریں:
{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَـکُمْ وَتَـکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ط کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًاط وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ لا وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانٌ ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۲۰) سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لا اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۱) }
’’خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ‘دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔ (انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے) جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے‘ پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے‘پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے‘ پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور (یا پھر) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اس کی) رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے‘ وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔‘‘
اسی طرح فرمایا گیا:
{فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ ۵ وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ (۸۹) } (الواقعۃ)
’’پس اس کے لیے راحت ہے‘ خوشبو ہے‘ اور نعمتوں بھری جنت ہے۔‘‘
یہ فیصلہ انسان نے خود کرنا ہے کہ وہ کس مقصد کے تحت زندگی گزار رہا ہے : عذاب کے لیےیا مغفرت اور جنت حاصل کرنے کی خاطر؟عذاب ‘ مغفرت اور جنت‘ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیںجبکہ اختیار انسان کا ہے۔جیسے سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا:
{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآئِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَـرَۃِ مِـنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط ذٰلِکَ مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَاللہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)}
’’مزین کردی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دنیا کی محبت ‘جیسے عورتیں اور بیٹے اور جمع کیے ہوئے خزانے سونے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی۔ یہ سب دنیوی زندگی کا ساز وسامان ہے ‘لیکن اللہ کے پاس ہے اچھا لوٹنا۔‘‘
یہ سب کچھ صرف دنیا کی زندگی کے برتنے کا سامان ہے۔ اصل زندگی آخرت ہے۔ آخرت کی روشنی ہمیشہ کے لیے ہے۔ زندگی مختلف مرحلوں میں گزرتی جا رہی ہے‘ اور ہم موت اور آخرت سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اصل فکر آخرت کی ہونی چاہیے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اُخروی نجات کے میدان میں دوسروں سے آگے نکلنے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے کہتا ہے:
{سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لا }
’’ تم سبقت اختیار کرو (آگے نکلو) اپنے رب کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کی طرح ہے۔‘‘
آسمان و زمین کی وسعتیں ختم ہو جائیں گی‘ لیکن جنت کی وسعتیں ختم نہیں ہوں گی۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے سورۂ آلِ عمران میں ہمارے سامنے رکھی:
{وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّ‘بِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۳)}
’’اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت کے حصول کے لیے اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے جس کا پھیلاؤ آسمانوں اور زمین جتنا ہے ‘وہ تیار کی گئی ہے (اور سنواری گئی ہے) اہل ِتقویٰ کے لیے۔‘‘
یعنی یہ اُمید ہر حقیقی صاحب ِایمان کو رکھنی چاہیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس بہت وافر جگہ موجود ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہاں جگہ کم پڑ جائے گی۔اس حوالے سے رسولِ اکرمﷺ فرماتے ہیں:
((إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللّٰهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَ أَعْلَى الْجَنَّةِ)) (صحیح البخاری عن ابی ھریرۃص)
’’ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں ‘ اس کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو ‘کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔‘‘
سورۃالحج کے آخری رکوع میں فرمایا گیا:
{وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِہٖ ط}
’’اللہ کے لیے کوشش کرو( محنت کرو‘ جدّوجُہد کرو) جیسا کہ اس کے لیے جدّوجُہد کرنے کا حق ہے۔‘‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں میں صدقِ دل کے ساتھ شامل ہونے کی توفیق مزید عطا فرمائے!
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے رسول ﷺبشارت دے رہے ہیں کہ اللہ نے ایسے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں‘اور ان میں دو درجوں کے درمیان وسعت ایسی ہے جیسے زمین اور آسمان کے درمیان فرق۔ اس لحاظ سے اللہ کی جنت کی وسعتوں میں کمی نہیں ہے‘ اصل بات یہ ہے کہ ہماری طلب اور تڑپ کتنی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات میں سے ایک جامع خطبہ ہے جو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اپنی کتابُ الزُّهَّاد میں نقل کیا ہے:
((يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ لَكُمْ مَعَالِمَ فَانْتَهُوا إِلَى مَعَالِمِكُمْ، وَ إِنَّ لَكُمْ نِهَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى نِهَايَتِكُمْ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ بَيْنَ مَخَافَتَيْنِ: بَيْنَ أَجَلٍ قَدْ مَضَى لَا يَدْرِي مَا اللّٰهُ صَانِعٌ فِيهِ، وَ بَيْنَ أَجَلٍ قَدْ بَقِيَ لَا يَدْرِي مَا اللّٰهُ قَاضٍ فِيهِ، فَلْيَأْخُذِ الْعَبْدُ مِنْ نَفْسِهِ لِنَفْسِهِ، وَ مِنْ دُنْيَاهُ لِآخِرَتِهِ‘ وَ مِنَ الشَّبَابِ قَبْلَ الْهَرَمِ، وَ مِنَ الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَوْتِ، فَوَ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا بَعْدَ الْمَوْتِ مِنْ مُسْتَعْتَبٍ، وَمَا بَعْدَ الدُّنْيَا مِنْ دَارٍ إِلَّا الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ))
’’اے لوگو! تمہارے لیے (دین کی) حدیں اور نشانیاں مقرر ہیں‘ پس اپنی حدوں اور نشانیوں تک ہی رہو۔ اور تمہارے لیے ایک انجام مقرر ہے‘ پس اپنے انجام تک ہی پہنچو۔بے شک مومن دو خوفوں کے درمیان ہوتا ہے: ایک وہ مدت جو گزر چکی‘ اسے معلوم نہیں کہ اللہ نے اس میں اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؛ اور ایک وہ مدت جو باقی ہے‘ اسے معلوم نہیں کہ اللہ اس میں کیا فیصلہ فرمائے گا۔ پس بندہ اپنی جان کے لیے اپنی جان سے زادِ راہ لے‘ اپنی دنیا سے اپنی آخرت کے لیے (تیاری کرے)‘ اپنی جوانی سے بڑھاپے سے پہلے‘ اور اپنی زندگی سے موت سے پہلے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد( ﷺ) کی جان ہے! موت کے بعد توبہ یا واپسی کا کوئی موقع نہیں‘ اور دنیا کے بعد کوئی ٹھکانا نہیں مگر جنت یا جہنم۔‘‘
یعنی انسانوں کے لیے کچھ نشاناتِ منزل اور سنگ ہائے میل ہیں‘ ہدایت کے اصول ہیں جو طے کیے گئے ہیں۔ پس اپنی ان منزلوں تک پہنچ جاؤ‘ یعنی اپنے رب کی طرف لوٹنے کی تیاری کرو۔انسان کے لیے ایک انتہا ہے‘ زندگی کا خاتمہ ہے‘ اس انجام تک پہنچنے کی تیاری کرو۔بندہ جن دو خوفوں کے درمیان ہے‘ان پر غور کیجیے۔ایک وہ وقت جو گزر چکا اور انسان نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے اعمال کی کیا حقیقت تھی؟ وہ کس درجے میں قبول ہوئے اور کس درجے میں قبول نہیں ہوئے؟دوسری وہ مہلت جو باقی ہے‘ اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمانے والا ہے۔
ایسے میں یہ کرنا چاہیے کہ انسان اپنی زندگی کے حال میں‘ یعنی جو مہلت اسے میسر ہے‘ اس میں اپنے نفس کی تربیت کر لے اور اپنی دنیا سے آخرت کے لیے تیاری کر لے۔ اس دنیا کو آخرت کی تیاری میں بسر کرے۔ جوانی میں بڑھاپے کے لیے کچھ اہتمام کرلے ‘ اس لیے کہ بڑھاپے میں مختلف عوارض کے باعث توانائی کا وہ معیار نہ رہے گا۔ ؎
در جوانی توبہ کردن شیوئہ پیغمبری
وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیزگار!اس لیے جوانی میں توبہ‘ استغفار اور نیکی کا اہتمام کرے۔
اسلام میں جوانی کا مفہوم ذرا مختلف ہے۔ اسلام میں انسان ذہنی طور پر بالغ چالیس سال میں ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اصل جوانی چالیس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس لیے گھبرانے کی بات نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر عمر میں عمل کی توفیق دینے پر قادر ہے۔اپنی موجودہ زندگی میں موت کے لیے کچھ توشہ تیار کرلینا چاہیے۔ مرنے کے بعد کسی کے لیے توبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ لوٹنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ دنیا کے بعد دو ہی گھر ہیں: جنت یا جہنم ۔
ہمیں اصل میں اپنی اس جنت کے لیے ساری کوشش کرنی ہے۔ یہ دنیا تیاری کا موقع ہے اور آخرت نتیجے کی جگہ ۔نبی مکرم ﷺ نے ہمیں امید دلائی ہے کہ آج کا ہر نیک عمل کل کے لیے جمع ہو رہا ہے۔ وقت‘ جوانی‘ زندگی سب اللہ کی امانت ہے جن سے آخرت کے لیے ذخیرہ تیار کرنا ہے۔ورنہ معاملہ یہ ہے کہ : ؎
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے‘ پل کی خبر نہیں!
(حیرت الٰہ آبادی)اور: ؎
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے‘ باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
(ان شاء اللہ خان انشا)اور: ؎
خون کا گارا بنایا ‘ اینٹ جس میں ہڈیاں
چند سانسوں پہ کھڑے ہیں یہ خیالی آسماں
موت کی پُرزور آندھی آ کے جب ٹکرائے گی
یہ عمارت ٹوٹ کر پھر خاک میں مل جائے گی!اور: ؎
یہ جو کچھ دیکھتا ہے تُو‘ فریب خوابِ ہستی ہے
تخیّل کے کرشمے ہیں‘ بلندی ہے نہ پستی ہے
عجب دنیائے حیرت‘ عالم دورِ غریباں ہے
کہ ویرانے کا ویرانہ ہے‘ اور بستی کی بستی ہے!اب اس میں ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادِ گرامی کی روشنی میں جو مہلت ِعمر میسر ہے‘ اس کو کن کاموں میں صرف کرنا ہے۔اگلی بات آپ ﷺ نے ترجیح کے اعتبار سے ارشاد فرمائی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ طراواللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((مَنْ اَحَبَّ دُنْیَاہُ اَضَرَّ بِآخِرَتِہِ، وَمَنْ اَحَبَّ آخِرَتَہُ اَضَرَّ بِدُنْیَاہُ، فَآثِرُوا مَا یَبْقٰی عَلٰی مَا یَفْنٰی)) (رواہ احمد)
’’جو دُنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کا نقصان کرے گا‘ اور جو آخرت سے محبت کرے گا وہ دنیا کا نقصان کرے گا۔پس تم ترجیح دو اس کو جو باقی رہنے والی ہے اس پر جو فنا ہو جانے والی ہے۔‘‘
باقی رہنے والی چیز آخرت ہے‘فنا ہو جانے والی چیز دنیا ہے۔اصل دانائی یہ ہے کہ باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دی جائے۔ اسی کو قرآنِ مجید میں بار بار ہمارے سامنےتاکید سے بیان کیا گیا ہے۔سورۃ القیامۃ میں فرمایا:
{کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ(۲۰) وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ(۲۱) }
’’ہرگز نہیں! بلکہ تم فوری ملنے والی (دنیا) سے محبت کرتے ہو‘اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘
سورۃ الدہرمیں فرمایا:
{اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُوْنَ وَرَآئَ ہُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا(۲۷)}
’’یقیناً یہ لوگ فوری ملنے والی (دُنیا) سے محبت کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن (یعنی قیامت) کو چھوڑے جا رہے ہیں۔‘‘
سورۃ الاعلیٰ میں تو براہِ راست خطاب ہے:
{ بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا(۱۶) وَالْاٰخِرَۃُ خَیْـرٌ وَّاَبْقٰی(۱۷)}
’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو‘حالانکہ آخرت بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی۔‘‘
اس کا مطلب ترکِ دنیا نہیں‘ بلکہ دنیا کو آخرت کے لیے زادِ راہ بنانا ہے۔
اب نفسِ مطمئنہ کے حصول اور جنت سے بھی بڑی نعمت کے شوق کے حوالے سے چند باتیں عرض ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ایک موقوف قول ہے‘ جو مصنف ابن ابی شیبہ میں نقل کیا گیا ہے۔ نفس کے تین درجے ہیں‘ ان میں سے ایک نفسِ مطمئنہ ہے‘ جس کے حصول کے لیے یہ جامع دعا نقل کی گئی ہے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا مُطْمَئِنَّةً تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَ تَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَ تَقْنَعُ بِعَطَائِكَ
’’اے اللہ! میں تجھ سے ایک مطمئن نفس مانگتا ہوں‘جو تیرے دیدار پر ایمان رکھتا ہو‘ تیرے فیصلے پر راضی رہے‘اور تیری عطا پر قناعت کرے۔‘‘
اگر یہ دعا ہماری دعاؤں میں شامل نہیں تو اللہ توفیق دے کہ ہم اسے شامل کریں۔ اس میں نفسِ مطمئنہ کے تین اجزاء بتائے گئے ہیں:اللہ کی ملاقات پر کامل یقین‘اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا‘اللہ کی عطا پر قناعت کرنا۔
سوال یہ ہے کہ جنت سے بھی بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے امام نسائی نے نبی اکرمﷺ کی دعا کا ایک حصہ نقل کیا ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ
’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرے چہرۂ مبارک کے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے چہرۂ انور کی زیارت جنت سے بھی بڑی نعمت ہے‘ اور یہ اسی کو نصیب ہوگی جو جنت میں داخل ہوگا۔یہی وہ بات ہے جس کی نوید اللہ سبحانہ وتعالیٰ دیتے ہیں:
{یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ(۲۷) ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً(۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ(۲۹) وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(۳۰)}
’’اے مطمئن جان!اپنے رب کی طرف لوٹ آ‘ اس حال میں کہ تو راضی بھی ہے اور (اللہ کی طرف سے) پسندیدہ بھی۔تُو میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا‘اور میری جنت میں داخل ہو جا۔‘‘
فلاحِ آخرت کے حوالے سےمحترم ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کا ایک ارشادکتاب ’’تنظیم اسلامی کی دعوت‘‘کے صفحہ۴۴ میں نقل ہے کہ:
’’انقلاب آئے یا نہ آئے‘ نظام بدلے یا نہ بدلے‘ اگر تم اقامت ِدین کی جدّوجُہد کرتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو گئے تو چاہے شہادت کی موت نصیب ہو یا طبعی موت‘ آخرت میں یقینا ًنجات مل جائے گی۔‘‘
حاصل گفتگو یہ ہے کہ روزمرہ کے اعمال میں آخرت کا زاویہ پیدا کریں‘ نیتوں کو پاک کریں‘ غلبہ و اقامت ِدین کی جدّوجُہد کے لیے اپنا تن‘ من‘ دھن لگا دیں۔ یہی آخرت کی سرمایہ کاری ہے‘ اور اسی کے ذریعے ان شاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی۔اس اعتبار سے اللہ کی جنت کوئی بہت دور کی چیز نہیں‘ بلکہ متقین کے لیے بہت قریب ہے۔ جنت پانے کا قرآنی نسخہ یہ ہے:
{ یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّــکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(۱۰) تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۱) یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۲)}
’’اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے؟ وہ یہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو‘ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ (اس کے بدلے میں) اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پاکیزہ رہائشیں عطا فرمائے گا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اس کامیابی کے حصول کے لیے جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026