جنگ کے بعد دنیانیا جنم لے گی!ایوب بیگ مرزا
امریکہ اور یورپ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد ہمیشہ یک جان دو قالب رہے ہیں۔ اب امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی قلابازیوں اور معاشی خودغرضی کی وجہ سے ان میں دراڑ نظر آرہی ہے۔ اس پر ہم بعد میں بات کریں گے‘ فی الحال اتحادیوں کی بنیادی پالیسی اور اس حوالے سےاکثریتی دنیا خاص طور پر اسلامی دنیا پران کے مکمل غلبہ کی وجہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری رائے میں اُن کا ملکی ‘علاقائی اور عالمی سطح پر اقتصادی اور عسکری معاملات میں قلیل المدتی اور طویل المدتی پالیسی کا انتہائی غور و فکر اور باریک بینی سے منصوبہ بندی کرنا حقیقی وجہ ہے‘ جس پر وہ بڑی ثابت قدمی اور استقامت سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اسلامی دنیا کی مغلوبیت کی وجہ ڈنگ ٹپاؤ اور ذاتی‘ سیاسی مفادات پر مبنی پالیسی ہے۔مئی ۲۰۲۵ءمیں پاک بھارت جنگ اور ایران اسرائیل جنگ درحقیقت testing testing لڑائیاں تھیں تاکہ بڑی جنگ کی تیاری ان لڑائیوں کے نتائج اور فریقین کی عسکری صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ امریکہ نے اس جنگ میں بھارت کی ہرگز کوئی عملی مدد نہ کی حالانکہ گزشتہ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اور بھارت فطری حلیف ہیں۔امریکہ نے تو بھارت کی اُس وقت بھی عملی مدد کی تھی جب پاکستان سیٹو اور سنٹو میں امریکہ کا حلیف تھا۔ تب بھی امریکہ کا جھکاؤ بھارت ہی کی طرف تھا۔
۱۹۶۲ء میں چین بھارت سرحدی جھڑپیں کھلی لڑائی کی صورت اختیار کر گئی تھیں۔ اس دوران امریکہ نے بھارت میں اسلحہ و بارود کے ڈھیر لگا دیےتھے اور پاکستان کے احتجاج کی رتی بھر پرواہ نہ کی‘ حالانکہ بھارت اس وقت نہ صرف خود کو ایک غیر جانبدار ملک قرار دیتا تھا بلکہ Non-Alligned Movementکا اہم رکن بھی تھا۔ سوویت یونین سے بھارت کے خصوصی تعلقات بھی تھے۔ بہرحال اس سب کچھ کے باوجود گزشتہ سال مئی کی جنگ میں تب بھی امریکہ خاموش رہا جب پاکستان بھارت کے جنگی طیارے گرا کر اسے ہزیمت سے دوچار کر رہا تھا۔ امریکہ نے اُس وقت میدان میں آکر جنگ بند کروائی جب بھارت کی مکمل شکست نوشتۂ دیوار ہو گئی۔ ہماری رائے کے مطابق امریکہ پاکستان کی عسکری صلاحیت کی جو ٹیسٹنگ چاہتا تھا‘ وہ ہو چکی تھی اور اس نے نتائج مرتب کر لیے تھے۔ اسی طرح اسرائیل ایران جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کی مدد صرف اس وقت کی کہ جب وہ ایران کو نیست و نابود کرنے میں ناکام نظر آیا‘ اسرائیل کی شب و روز کی بمباری ایران کی جوابی حملے کی صلاحیت کو تباہ نہ کر سکی اور وہ تل ابیب اور اسرائیل کے دوسرے شہروں پر ڈرون اور میزائل برساتا رہا۔ تب امریکہ نے آگے بڑھ کر ایران کی زیر تعمیر ایٹمی تنصیبات پر ایک بڑا حملہ کیا اور اپنے دعوے کے مطابق ایران کی ایٹمی صلاحیت کو مزید پروان چڑھنے کے حوالے سے تہ و بالا کر دیا۔ امریکہ نے ان دونوں لڑائیوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بھارت کم از کم کسی فضائی جنگ میں نہ صرف یہ کہ پاکستان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا بلکہ اسے عبرت ناک شکست سے بھی دوچار ہونا ہوگا جبکہ اسرائیل کے لیے بھی ممکن نہ ہوگا کہ وہ موجودہ عسکری صلاحیت کے ساتھ اکیلا ایران کو پچھاڑ سکے اور اپنی علاقائی سالمیت اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کر سکے۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کی اسرائیل سے خصوصی تعلق کی بنیادیں کیا ہیں! امریکہ کے لیے اسرائیل کی کسی خواہش کو ردّ کرنا کیوں انتہائی مشکل بلکہ کسی حد تک ناممکن ہے؟ اس کے لیے ماضی قریب کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ بیسویں صدی میں عالمی سطح پر دو بڑی جنگیں ہوئیں‘ جنہیں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دو جنگوں نے صہیونیوں کی تنظیم کو ایک عالمی قوت بنا دیا۔ اس تنظیم کے دباؤ پر پہلی عالمی جنگ کے بعد اسرائیل کا تصور بالفور ڈیکلریشن کی صورت میں سامنے لایا گیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل دنیا کے نقشے پر آ موجود ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک سرمایہ دار یہودی کے دو بیٹوں یعنی دو سگے بھائیوں میں سے ایک نے اس خوف ناک جنگ میں برطانیہ اور اتحادیوں کا ساتھ دیا اور دوسرے بھائی نے جرمنی کا ساتھ دیا جبکہ یہ ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ ان دو بھائیوں میں کوئی ذہنی اور فکری اختلاف تھا بلکہ وہ اپنے والد کے پلان کے مطابق متحارب فریقین کو جنگ میں جھونک کر کمزور کرنا چاہتے تھے۔ عالمی قوت کے مرکز و محور کو لندن سے واشنگٹن منتقل کرنا چاہتے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ برطانیہ ہی کے ہاتھوں کروا رہے تھے۔ حقیقت میں برطانیہ جنگ جیتنے کی خاطر خود اپنے ہاتھ کاٹ کر صہیونیوں کو پیش کر رہا تھا ۔صہیونیوں کی سوچ یہ تھی کہ اگرچہ سلطنت انگلستان اتنی بڑی اور وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا ‘لیکن خود برطانیہ ایک جزیرہ ہے جس کی حقیقی جغرافیائی حدود بڑی محدود ہیں۔ ویسے بھی اِس سلطنت پر اب بڑھاپا طاری ہو چکاتھا جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ وسیع و عریض رقبے کی حامل ایک نوخیز عالمی قوت تھی۔ پھر یہ کہ عالمی قوت کے مرکز کو لندن سے واشنگٹن منتقل کرنے سے پہلے یہودی ابتدائی تیاری کے طور پر اپنے سرمائے کا جال امریکہ میں بچھا کر وہاں کی معیشت کا اہم ستون بن چکے تھے۔ اسی سرمائے ہی کے بل بوتے پر وہ میڈیا پر بھی قبضہ کر چکے تھے۔ لہٰذا واشنگٹن عالمی قوت کے مرکز کے ساتھ ساتھ صہیونیوں کی طاقت کا مرکز بھی بن گیا۔
سرمائے کی طاقت کی عمل د اری اور میڈیا کی مدد سے یہودیوں اور ان کی تناظیم نے امریکیوں سے کم و بیش وہی سلوک کیا جو اونٹ نے بدو کے خیمے میں داخل ہونے کے بعد اس سے کیا تھا۔ قصہ کوتاہ‘ یہودیوں نے امریکہ میں اتنی طاقت حاصل کر لی کہ ایک مرتبہ راقم کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے یہ مثال ایک سوال کے طور پر دینا پڑی کہ: امریکہ کو واشنگٹن کی سکیورٹی زیادہ عزیز ہے یا تل ابیب کی؟ ہم دیکھتے ہیں کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو اسرائیل دھمکیوں پر اترتا ہے اور بڑا جارحانہ انداز اپناتا ہے۔ اسرائیل نے حال ہی میں غزہ میں جو غارت گری کی اور معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا ہے‘اس کی وجہ سے امریکی عوام کی سوچ میں تو تبدیلی آئی ہے اور اسرائیل کے خلاف نفرت کی لہر ابھری ہے لیکن امریکہ کے فیصلہ کن ادارے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اب بھی مکمل طور پر صہیونیوں کی گرفت میں ہیں۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں تو بات سمجھ میں آ جائے گی کہ گزشتہ سال کی اسرائیل ایران لڑائی محض ٹیسٹنگ تھی۔ فریقین کی عسکری قوت کا جائزہ لینے کے بعد امریکہ نے فیصلہ کیا کہ ایران میں فیصلہ کن تبدیلی کے لیے اُس کو خود میدان میں اترنا پڑے گا۔
لہٰذا اب اپنی تمام تر قوت کو جمع کر کے وہ ایران کے سر پر آ پہنچا ہے۔ یہ یقیناً ایک حقیقی جنگ ہوگی۔ البتہ امریکہ اس جنگ میں ایران کو برباد کرنے کے بجائے اس بات کو ترجیح دے گا کہ تباہ کن جنگ اور اقتصادی جکڑبندیوں سے ڈرا کر ایران میں خامنہ ای رجیم تبدیل کر دے۔ وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہو جائے جو امریکہ کے اشاروں پر ناچے اور خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرے۔ امریکہ اب بھی ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا کہ یہ ہدف جنگ لڑے بغیر حاصل ہو جائے‘ بصورت دیگر وہ جنگی کارروائی کرے گا۔ اس موقع پر یہ عرض کر دینا انتہائی ضروری ہے کہ اگر امریکہ جنگ کا آپشن استعمال کرتا ہے تو یہ خطہ بری طرح متاثر ہوگا۔ ایران حملے کا جواب امریکہ کی سرزمین تک پہنچانے کا ہرگز اہل نہیں لیکن وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پھیلے ہوئی عسکری اڈوں کو یقینا ًنشانہ بنائے گا‘ جس سے علاقے میں ابتری پھیلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسلمان ممالک امریکہ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ جنگ کا آپشن استعمال نہ کرے۔ ہماری رائے میں بھی ایسی ہنگامی صورت حال پیدا ہوگی جس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو جائے گا ۔ ایسی بدامنی اور لاقانونیت پھیلے گی کہ یہ خطہ وحشت اور جنگ و جدل کا خوف ناک منظر پیش کرنے لگے گا۔
اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے بیان دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ اسرائیل کا حق ہے‘ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے ‘لہٰذا اسرائیل اگر لبنان‘ شام اور اردن پر قبضہ کرتا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ راقم کی رائے میں موصوف نے سعودی عرب کا نام سیاسی مصلحت کے تحت نہیں لیا وگرنہ اسرائیلیوں کا اصل ہدف تو مدینہ منورہ ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل اگر دریائے نیل سے دریائے فرات تک کے علاقوں پر قبضہ کر لے تو یہ ٹھیک ہوگا۔ گویا گریٹر اسرائیل کے تصور پر امریکہ کی سرکاری چھاپ لگا دی۔ امریکہ کا اپنے سفیر کی اس بات کی تردید نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف اسے اپنا حکومتی موقف قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ امریکہ کی ایران پر حملہ کرنے میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین اور روس ایران کو دفاعی سامان ارسال کر رہے ہیں۔ لہٰذا امریکہ ایران جنگ طول کھینچ سکتی ہے۔ گویا یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا کو ایک طویل خوں ریز جنگ کا سامنا ہے۔ چین کی ایک عرصے سے یہ پالیسی ہے کہ جنگ سے ہر صورت پہلو بچا کر پہلے اقتصادی لحاظ سے دنیا میں اولین پوزیشن حاصل کی جائے‘ پھر اسلحہ سازی میں امریکہ کے مقابلے پر آیا جائے۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے اسے فی الحال کافی وقت درکار ہے۔
امریکہ کے پالیسی سازوں کا ذہن سمجھنے میں اس لحاظ سے کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ وہ چین کی بے مثال اقتصادی ترقی کو اپنے لیے زبردست خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر چین کو جلد از جلد نہ روکا گیا تو کچھ عرصے بعد اس کا سامنا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ روس کی مالی حالت اگرچہ بہت کم زور ہے لیکن وہ ایک زبردست ایٹمی قوت ہے‘ جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حالات کو کنٹرول کرنا کسی کے اختیار میں نہ رہے اور دنیا نہ چاہتے ہوئے بھی تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ جائے ۔ اس کے نتائج اتنے خوف ناک ہوں گے کہ امن کے خواہش مندوں کے لیے یہ تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔
اب آ جائیے پاکستان کی طرف کہ امریکہ کو پاک بھارت جنگ کروا کر ہماری عسکری صلاحیت کی ٹیسٹنگ کی ضرورت کیوں پڑی! ہماری رائے میں امریکہ کا ایران پر پوری قوت سے حملہ یا ڈرا دھمکا کر وہاں رجیم چینج کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایٹمی پاکستان کے بغل میں امریکہ اپنی موجودگی اسرائیل اور بھارت دونوں کے لیے انتہائی ضروری سمجھتا ہے‘ وگرنہ عالمی غلبے کے حوالے سے وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کر سکے گا۔ پہلے تو یہ جان لیں کہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن میڈیا کے سامنے یہ بات کہہ چکی ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے لیے ریپڈ فورس تیار کر رکھی ہے‘ جب ہم ضروری سمجھیں گے تو آناً فاناً یہ پاکستان کی تنصیبات پر حملہ آور ہو جائے گی۔ پاکستان کے لیے ان کا یہ بیان بڑا مفید ثابت ہوا اور ہم نے اپنی ایٹمی تنصیبات کو ملک بھر میں اس طرح پھیلا دیا کہ کسی کا ان پر قبضہ کرنا یا کنٹرول حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا یہ امریکی خواہش تو اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔بحالت موجودہ‘پاکستان پر کسی بھی عالمی قوت کا کھلا حملہ آسان نہیں رہا کیونکہ پاکستان کی جوابی کارروائی علاقے کی بہت بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کے حوالے سے منصوبہ یہ ہے کہ ایک طرف تو ایران میں رہ کر پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیاں کی جائیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا خوف ناک حد تک بڑھنا بلاوجہ نہیں۔ ایران اور پاکستان کے بلوچستان کو ایک کر کے گریٹر بلوچستان کا منصوبہ تو پرانا ہے‘ لیکن یہ بات بھی اب واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ بلوچستان کو ایک الگ ملک اس لیے بھی بنانا چاہتا ہے کہ وہاں کی معدنی دولت کی لوٹ کھسوٹ کر سکے۔ اسے اندیشہ ہے کہ اگر اس نے آگے بڑھ کر یہ کام نہ کیا تو چین پاکستان سے معاملات طے کر کے بلوچستان کےپوشیدہ خزانے حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں ہمیں اختر مینگل کے اس بیان کا ذکر بڑے افسوس کے ساتھ کرنا ہوگا کہ اہل پاکستان کو بلوچستان آنے کے لیے پاسپورٹ درکار ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مینگل خاندان سے ماضی میں ناقابل بیان حد تک بدترین سلوک کیا گیا۔ ان کے بڑے بھائی کو بہت عرصہ پہلے اٹھایا گیا‘ جس کا نام و نشان آج تک نہ مل سکا۔ پھر بھی انہیں اس سطح پر نہیں اترنا چاہیے کہ’’ اِدھر تم اُدھر ہم‘‘ کی بات کی جاتی۔ ان سےکہا جا سکتا ہے کہ گریٹر بلوچستان کے قیام سے ان کے حالات بدتر ہو جائیں گے۔ وہ محض ایک غلام قوم بن جائیں گے۔ آج تو پھر بھی کچھ لوگ ان کی خاطر آواز اٹھاتے ہیں‘ امریکہ ایسی آواز سننے کو بھی تیار نہیں ہو گا۔ لہٰذا ظلم کے نتیجہ میں بغاوت پر نہ اُتریں ‘جہاد سمجھ کر اصلاحِ احوال کی کوشش کریں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ کسی کھلی جنگ سے گریز کر کے کیا لائحۂ عمل بناتا ہے اوربھارت کو فرنٹ پر رکھ کر بی ایل اے جیسی دہشت گرد تناظیم کو کس حد تک سپورٹ کرتا ہے۔
راقم کے لیے ٹرمپ کا پاکستان کے حکمرانوں سے پیار و محبت کا رویہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ ہنری کسنجر کے اس مقولے کی یاد دلاتا ہے کہ امریکہ اپنے دشمنوں کی نسبت اپنے دوستوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کے خلاف اقتصادی پھندا تیار کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا قرضہ قریباً۱۳۵ ارب ڈالر ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سال ۲۰۲۶ء میں قریباً۱۹ارب۵۶ کروڑ ڈالر واپس کرنے کے لیے حکومت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور ہنگامہ خیزی نے صورت حال میں ایسی بگاڑ پیدا کر دی ہے جو کسی صورت سلجھتی نظر نہیں آتی۔ ایک بے یقینی کی کیفیت ہے ۔بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری آنا تو دُور کی بات ہے‘ پہلے سے موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو خیر باد کہہ رہی ہیں۔ پاکستان کے سرمایہ کاروں کو زبردست قسم کے بحران کا سامنا ہے اور وہ اپنے کاروبار غیر ممالک میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مسائل سے بالکل لاتعلق ہو کر حکومتی خزانے سے اپنے لیے عیش و عشرت کا سامان کر رہی ہے۔ رشوت کا بازار گرم ہے۔ ہر کوئی’’ اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کے فارمولے کے تحت لوٹ مار میں لگا ہوا ہے۔ عالمی ادارے میرٹ اور شفافیت کے حوالے سے بار بار خبردار کر رہے ہیں لیکن حکمرانوں کےکان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ تجارتی خسارہ اور بیرونی سرمایہ کاری کا فقدان ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس ساری صورتِ حال کو سامنے رکھ کر پاکستان کے عوام اور حکمرانوں کے سامنے اہم ترین سوال یہ ہے:پس چہ باید کرد؟راقم کی رائے میں چند باتیں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اوّلین یہ کہ اس وقت جبکہ دنیا پر جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں‘ کیا امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت کا ابلیسی اتحاد ثلاثہ واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان سے صرفِ نظر کرے گا؟ کیا اس پس منظر میں گریٹر اسرائیل کا قیام ایک نظر یے اور دعوئوں سے بڑھ کر کوئی جغرافیائی حیثیت حاصل کر سکے گا؟ کیا مدینہ منورہ کو ٹارگٹ کیے بغیر اسرائیل اپنے مقاصد پورے کر سکے گا؟ کیا امریکہ خاص طور پر صدر ٹرمپ اسرائیلی عزائم کی تکمیل کے حوالے سے پسپائی اختیار کرے گا؟ مدینہ منورہ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان کسی صورت لاتعلق نہیں رہ سکتا تھا جبکہ اب تو پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب دینے سے پہلے ہنری کسنجر کے محولہ بالا مقولہ کو سامنے رکھیں تو پھر صدر ٹرمپ کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے رویے کو سمجھنا کیا مشکل رہ جاتا ہے! یہاں توقف کر کے اس بات پر بھی غور کریں کہ ایک طرف خیبر پختون خوا اور مرکزی حکومت کے مابین اختلافات ہیں جبکہ دوسری طرف اس صوبے سے جڑے ہوئے افغانستان کے ساتھ ہماری خوں ریز جنگ جاری ہے۔ اس سوال میں پڑے بغیر کہ اس میں غلط کون ہے‘ کیا پاکستان کو یہ جنگ وارا کھاتی ہے؟ کیا مصلحت اور حکمت کا تقاضا یہ نہیں کہ پاکستان اپنی شمال مغربی سرحد کو ہر قیمت پر پُرامن بنا لے۔ وقتی طور پر ہی سہی‘ تحمل اور برداشت سے کام لے ۔دہشت گردوں سے مقامی طور پر نمٹنے کی کوشش کرے تاکہ مشرق میں اپنے طاقتور اور ازلی دشمن بھارت کی جارحیت پسندی کا صحیح طور پر جواب دیا جا سکے۔ کیا افغانستان کو تباہ و برباد کر دینے یا شکست فاش دینے سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی؟
ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا جائزہ لینا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے شروع ہونے والی امریکہ دوستی وقت گزرنے کے ساتھ اسی کے زیراثر آ گئی۔ اس تاثر کو دورکرنے کے لیے فوجی آمر ایوب خان نے "Friends not Masters" نامی کتاب لکھی اور حقائق کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی ۔ ایوب خان کے بعد خارجہ پالیسی کے امریکی کنٹرول کا مسئلہ بگڑ کر آقا اورغلام کی صورت اختیار کر گیا ‘اوریہ غلامی آج اپنی بدترین سطح پرہے۔ موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جونہی ایران پر جنگ مسلط کرنے کا منصوبہ بنا‘ پاکستان اور افغانستان کو باہم جنگ میںالجھا دیاگیا۔ اس کا ایک ثبوت یہ سامنے آیا کہ ۱۶ فروری ۲۰۲۶ء کو افغان رہنما ذبیح اللہ مجاہد کا ایران ریڈیو سے ایک انٹرویو نشر ہوا کہ اسرائیلی حملے کی صورت میں ہم ایران کی بھرپور مدد کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ رجیم چینج کے عمل میں رکاوٹ کے حوالے سے افغان عوام کی مدد بڑی مفید ثابت ہو سکتی تھی۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران میں امریکی فوجی اتارنے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکار کر دیاتھا۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ بگرام ایئر بیس کے حوالے سے انتہائی متنازع بیان دےچکے ہیں کہ امریکہ کو اس پر لازماً قبضہ چاہیے تاکہ چین پر آسانی سے حملہ آور ہوا جا سکے۔ اس میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس حوالے سے پاکستان کو آن بورڈ لیا گیا تھا! آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ فارسی کی ضرب المثل ’’ آزمودہ را آزمودن جہل است‘‘ کے مطابق ہمیں یہ اچھی طرح جان لیناچا ہیے کہ امریکہ ماضی میں بھی ہمارا دشمن تھا اور مستقبل میں بھی بدترین دشمن ثابت ہوگا۔
راقم کی رائے میں اگرچہ امریکہ کو براہِ راست للکارنے کی تو ہرگز ضرورت نہیں لیکن عملی طور پر اسے یہ اجازت بھی نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ جب چاہے‘کہیں بھی اور کیسے ہی ہمیں استعمال کرے‘ پھر مطلب حاصل کرنے کے بعد منہ پھیر لے جیسے کہ وہ ایک عرصے سے کرتا چلا آرہا ہے۔ امریکہ ایران جنگ ہو یا ٹل جائے‘ہمیں ہمیشہ کے لیے خود کو مشرق سے جوڑ لینا چاہیے۔ مغرب نہ ماضی میں ہمارا سہارا یا سجن بنا ہے ‘نہ کسی صورت مستقبل میں بنے گا ۔ہم اپنی تمام تر توانائیاں اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے اور قرضوں کی معیشت سے نجات حاصل کرنے میں لگا دیں۔ یہی ایک صورت ہے کہ پاکستان ایک باوقار ملک بن کر دنیا کے نقشہ پر موجود رہ سکے گا۔ راقم کی رائے میں چین جس کی دوستی کو ہم ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی قرار دیتے ہیں‘ اس کی بلندی اور مٹھاس سے بھی ہم صرف معاشی طور پر توانا اور خوددار ملک بن کر ہی مستفید ہو سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امریکہ ہی نہیں‘ دنیا میں کوئی بھی ملک فری لنچ نہیں دے گا۔
بالآخر ۲۸ فروری بروز ہفتہ اسرائیل نے امریکہ کی مدد اور رفاقت میں ایران پر حملہ کردیا۔ نیتن یاہو نے جنگی تیاریاں مکمل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگ ایک روحانی مشن کی تکمیل کے لیے ہے۔ راقم کی رائے میں اِسی لیے اس کے آغاز کے لیے ہفتہ کے دن کا انتخاب کیا گیا‘ گویا یومِ سبت کو ذہن میں رکھا گیا۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے ‘جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے اُس نے اپنی تاریخ کو دہرایا ہے۔ یعنی فریق مخالف کو مذاکرات میں الجھائو اور جونہی اپنی تیاری مکمل ہو تومذاکراتی عمل کے دوران ہی حملہ کر دو۔ بہرحال چند ماہ پہلے ہونے والی ایران اسرائیل جنگ کے نتائج کو سامنے رکھ کر امریکہ اپنی پوری بحری اور فضائی قوت کو مجتمع کرکے ایران پر حملہ آور ہو چکا ہےاور ایران کی سپریم کونسل کے سربراہ خامنہ ای اور فوج کے سینئر جرنیلوں کو اپنے راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اُدھر عین توقع کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے جن مسلمان ممالک میں امریکی اڈے موجود ہیں یا وہ ان کو اسرائیل کا سہولت کار سمجھتا ہے‘ اُن پر حملہ کر دیا ہے۔ گویا اس حوالے سے بھی امریکہ اور اسرائیل ایک تیر سے دو شکار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک اس جنگ کی زد میں آجانے کی وجہ سے اگر سیاسی ‘ معاشی اور نظریاتی حوالے سے کمزور ہوتے ہیں تو آنے والے دنوں میں اسرائیل کے لیے آگے بڑھنا زیادہ آسان ہوجائے گا۔ ایران پرحملہ سے پہلے دنیا بھر سے یہ خبریں آرہی تھیں اور راقم بھی اِسی تحریر میں یہ اظہار کر چکا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک امریکہ کو بڑے اصرار سے یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے۔البتہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘کی اس خبر کو بیک وقت پانچ اہم رپورٹروں نے فیڈ کیا ہے کہ درحقیقت صرف اسرائیل ہی نے نہیں بلکہ سعودی عرب نے بھی بڑے زور دار انداز میں امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے پر اکسایا۔ اگرچہ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ جیسے معیاری اخبار کا کسی من گھڑت خبر کا یوں پھیلا دینا غیر متوقع ہے لیکن یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کے مابین مزید تفرقہ ڈالنے اور اُنہیں سعودی عرب سے متنفر کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ واللہ اعلم! بہرحال برسر زمین یہ صورتِ حال سامنے آرہی ہے کہ خلیجی مسلمان ممالک پر ایران کےحملے جاری ہیں جبکہ یہ ممالک بیان دے رہے ہیں کہ اُنہیں جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ ایران اُن کی سرزمین پر قائم امریکی اڈوں پر حملہ آور ہو کر درحقیقت اُن کی خود مختاری پرحملہ آور ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دوسروں کو اپنے ملک میں اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے سے خود مختاری مجروح نہیں ہوتی؟ کیا یہ اڈے خطے کے دوسرے ممالک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں ہیں؟ درحقیقت جب آپ اپنی سلطنت اور اقتدار کے تحفظ کے لیے غیر سے تعاون کرتے ہیں اور اپنے بھائی کے لیے خطرہ پیدا کر دیتے ہیں تو پھر جوابی وار پر گلہ شکوہ کا حق نہیں رہتا۔
قصہ کوتاہ ‘جنگ کا ہر فریق خود کو محفوظ کرنے اور دوسرے کو نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے ‘جہاں سے روزانہ نجانے کتنے جہازمختلف ممالک کے لیے ساز و سامان خاص طور پر تیل لے کر گزرتے تھے ۔ اس سے امریکہ کا نہ سہی‘ اس کے حلیفوں کا نقصان تو ہوگا۔ چین اور روس کے مفادات کا تقاضا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں طویل عرصہ تک پھنسا رہے جس دوران وہ امریکہ کی عالمی چو دھر اہٹ پر کاری ضرب لگا سکیں۔امریکہ کے مقابلے میں چین اور روس براہِ راست تو اس جنگ میں ہر گز نہیں کودیں گے لیکن اطلاعات کے مطابق وہ ایران کو ایسا اسلحہ فراہم کر رہے ہیں جس سےوہ اپنا ممکنہ تحفظ کرسکے اور امریکہ جیسی سپر پاور کے لیے ایران کو زیر کرنے میں کافی وقت لگے۔ اس سے امریکہ عسکری طور پر تو شایدزیادہ متاثر نہ ہو‘ البتہ قرضوں کے انبار میں دبے ہونے کے باعث اقتصادی طور پر بُری طرح پٹ جائے گا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ڈالر کا زوال درحقیقت امریکہ کا زوال ہو گا۔ چین اقتصادی میدان کا فاتح بننا چاہتا ہے جو کہ امریکہ کی شکست ہو گی۔ اقتصادی کمزوری بالآخر عسکری کمزوری کا باعث ہو گی۔ یہ ہے وہ لائحہ عمل جس پر چین بڑے صبر و تحمل اور استقامت سے عمل کر رہا ہے۔ دوسری جانب‘ امریکہ طاقت کے نشے میں بعض حماقتوں کا مرتکب بھی ہو رہا ہے۔ امریکہ سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر ایران میں اُس کا ہدف رجیم چینج ہے تو خامنہ ای کا قتل اس مقصد کے حصول کوانتہائی مشکل نہیں بنا دے گا؟ کیا خامنہ ای کو شہید کر کے اُس نے ایرانی قوم کومتحد نہیں کر دیا؟ کیا اس سے ایران کی مذہبی قیادت کی مقبولیت میں اضافہ نہیں ہو جائے گا؟ عوام میں اُس کی جڑیں ایک بار پھر مضبوط نہیں ہو جائیں گی؟ یہ قتل ایرانیوں کی غیرت و حمیت کو مزید اجاگرکرنے اور اُس کے حقیقی اظہار کا باعث نہیں بن جائے گا؟ مذہبی قیادت کی پشت پر صف بندی کی ترتیب بہتر نہیں ہو جائے گی؟ ایک اخباری کالم نگار کے مطابق ایران کی حیثیت مختلف قسم کی ہے۔ اس کی تاریخی ساخت‘ فوجی روایات اور تزویراتی طاقت کے وسائل نہ محدود ہیں اورنہ ہی صرف ایران تک محدود ہیں۔ اس کی جغرافیائی اکائی تاریخی طورپر گہری جبکہ اس کا مرکزی ’’سماجی گروہ‘‘ اس کی سیاسی طاقت‘ معیشت اور ثقافت کا امین ہے۔ اسے اندر سے توڑنا اور تقسیم کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا جتنا بعض بیرونی طاقتوں کی نعرہ بازی میں نظر آتا ہے۔
اس جنگ کا انجام کیا ہو گا‘ یہ کہنا تو قبل از وقت ہے لیکن یہ نوشتہ دیوارہے کہ اس جنگ کے بعد دنیا مکمل طور پر بدل جائے گی۔ تیسری عالمی جنگ نہ بھی ہو تب بھی اس جنگ کے بعد آج کی دنیا کسی صورت واپس نہیںآسکے گی۔ اللہ تعالیٰ اُمّت ِمسلمہ کے لیے اس جنگ سے خیر برآمد کرے۔ آمین یا ربّ العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026