(تذکیر و موعظت) امتحان و آزمائش (۲) - شیخ ابوکلیم مقصود الحسن الفیضی

8 /

امتحان وآزمائش (۲)شیخ ابوکلیم مقصود الحسن الفیضی

رابعاً: امتحان و آزمائش کے میدان
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃًط وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۳۵) } (الانبیاء)
’’ہر جان دارموت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ہم بطریق ِامتحان تم میں سےہرایک کوبرائی و بھلائی میں مبتلاکرتےہیں ‘اور تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:
قوله (وَ نَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَۃً) يقول: نبتليكم بالشدة و الرخاء، و الصحة و السقم، و الغنى و الفقر، والحلال و الحرام، و الطاعة و المعصية، و الهدى و الضلالة))(۲۶)
یعنی ’’ہم تمہیں آزمائیں گے مصائب و آلام میں مبتلا کرکے اور دُنیوی امور کی فراوانی کے ذریعے‘ صحت اور مرض کے ذریعے‘ مال داری وتونگری اور فقر وفاقہ کے ذریعے‘ حلال اور حرام وسائل کے ذریعے ‘ طاعت کی توفیق اور معصیت کے مواقع فراہم کرکے‘ اور ہدایت کی راہ دکھا کر اور ضلالت کے راستے بتا کر۔‘‘
بنی اسرائیل کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَقَطَّعْنٰـہُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًاج مِنْہُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ ز وَبَلَوْنٰہُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ(۱۶۸)} (الاعراف)
’’اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین میں کئی گروہوں میں تقسیم کردیا‘ ان میں کچھ تو نیک لوگ ہیں اور دوسرے ان سے مختلف ہیں ‘ اور ہم انہیں اچھے حالات [مالداری‘ آسودگی اور صحت و فراغ] اور برے حالات[مالی پریشانی ‘ روزی میں تنگی اور طرح طرح کی بیماریوں] سے آزماتے رہے کہ شاید وہ اللہ کی طرف پلٹ جائیں۔‘‘
(۱) مال اوررزق میں فراخی کے ذریعے: قرآن کریم میں اس کی متعدد مثالیں ہیں‘ جیسے قومِ سبا کا قصہ:
{لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌج جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ ط کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ط بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ(۱۵) فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّتَیْہِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْ ئٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ(۱۶) ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْاط وَہَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ(۱۷) وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَط سِیْرُوْا فِیْہَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ(۱۸) فَقَالُوْا رَبَّـنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ (۱۹) وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۰) وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ ط وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ(۲۱)} (سبا)
’’ قومِ سبا کے لیے اپنی بستیوں میں قدرتِ الٰہی کی نشانی تھی‘ ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے۔( ہم نے ان کو کہہ دیا کہ) اپنےرب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اوراس کا شکر ادا کرو۔ یہ ہے عمدہ شہراوروہ بخشنےوالارب ہے۔لیکن انہوں نےروگردانی کی‘ توہم نے ان پرزور کا سیلاب (کاپانی) بھیج دیااورہم نےان کے (ہرے بھرے )باغوں کے بدلے دو (ایسے) باغ دیے جو بدمزہ میووں والے اور(بکثرت)جھاؤ اور کچھ بیری کے درختوں والےتھے۔ہم نےان کی ناشکری کایہ بدلہ انہیں دیا۔اور ہم (ایسی) سخت سزا بڑےبڑے ناشکروں ہی کودیتے ہیں۔اورہم نےان کےاوران بستیوں کے درمیان جن میں ہم نےبرکت دےرکھی تھی‘ چند بستیاں اور (آباد) رکھی تھیں ‘جوبرسرراہ ظاہر تھیں‘ اوران میں چلنےکی منزلیں مقررکردی تھیں۔ ان میں راتوں اور دنوں کوبہ امن و امان چلتے پھرتےرہو۔ لیکن انہوں نےپھرکہاکہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور درازکردے۔چونکہ خودانہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا‘ اس لیے ہم نے انہیں (گزشتہ) افسانوں کی صورت میں کردیااوران کےٹکڑےٹکڑےاڑادیے۔بلاشبہ ہر ایک صبر وشکر کرنے والےکےلیے اس(ماجرے)میں بہت سی عبرتیں ہیں۔ اور شیطان نےان کے بارے میں اپناگمان سچاکردکھایا ‘تویہ لوگ سب کےسب اس کے تابع داربن گئے‘ سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے۔شیطان کاان پرکوئی زور (اور دباؤ) نہ تھا‘مگراس لیےکہ ہم ان لوگوں کوجوآخرت پرایمان رکھتے ہیں ظاہر کردیں ان لوگوں میں سے جواس سےشک میں ہیں۔اورآپ کا رب ہرچیزپرنگہبان ہے۔‘‘
باغ والوں کا قِصّہ (سورۃ القلم)
{اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ کَمَا بَلَوْنَآ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِج  اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِیْنَ(۱۷) وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ(۱۸) فَطَافَ عَلَیْہَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّکَ وَہُمْ نَـآئِمُوْنَ(۱۹) فَاَصْبَحَتْ کَالصَّرِیْمِ(۲۰) فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَ(۲۱) اَنِ اغْدُوْا عَلٰی حَرْثِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ(۲۲) فَانْطَلَقُوْا وَہُمْ یَتَخَافَتُوْنَ(۲۳) اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّہَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِّسْکِیْنٌ(۲۴) وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ(۲۵)فَلَمَّا رَاَوْہَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ(۲۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ(۲۷) قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ(۲۸) قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۲۹) فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ(۳۰) قَالُوْا یٰــوَیْلَنَآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ(۳۱) عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّـبْدِلَـنَا خَیْرًا مِّنْہَآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ(۳۲) کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۳۳) }
’’بے شک ہم نےانہیں اسی طرح آزمالیاجس طرح ہم نےباغ والوں کو آزمایا تھا‘ جبکہ انہوں نےقسمیں کھائیں کہ صبح ہوتےہی اس باغ کےپھل اتار لیں گے‘اور ان شاءاللہ نہ کہا۔پس اس پرتیرےرب کی جانب سےایک بلاچاروں طرف گھوم گئی اوریہ سوہی رہےتھے۔پس وہ باغ ایساہوگیاجیسے کٹی ہوئی کھیتی۔اب صبح ہوتےہی انہوں نےایک دوسرےکوآوازیں دیں‘کہ اگرتمہیں پھل اتارنےہیں تواپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرےچل پڑو۔ پھر یہ سب چپکےچپکے یہ باتیں کرتےہوئےچلےکہ آج کےدن کوئی مسکین تمہارےپاس نہ آنےپائے۔اورلپکتے ہوئے صبح صبح گئے(سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پا گئے۔پھر جب انہوں نے باغ دیکھا توکہنے لگے: یقیناًہم راستہ بھول گئے۔نہیں نہیں بلکہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔ان سب میں جوبہتر تھااس نےکہا کہ میں تم سے نہ کہتاتھاکہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟سب کہنے لگے: ہمارا رب پاک ہے‘بے شک ہم ہی ظالم تھے۔پھروہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکےآپس میں ملامت کرنےلگے۔کہنے لگے: ہائےافسوس !یقیناًہم سرکش تھے۔کیاعجب ہےکہ ہمارا رب ہمیں اس سےبہتر بدلہ دےدےہم تواب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں۔یوں ہی آفت آتی ہے‘اورآخرت کی آفت بہت بڑی ہے۔کاش انہیں سمجھ ہوتی!‘‘
سورۃ الکہف میں دو باغوں والے کا قِصّہ
{وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰہُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَیْنَہُمَا زَرْعًا(۳۲) کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُکُلَہَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ شَیْئًالا وَّفَجَّرْنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا(۳۳) وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌج فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَہُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا(۳۴)}
’’اورانہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنادیںجن میں سےایک کوہم نےدوباغ انگوروں کےدےرکھے تھےاورجنہیں کھجوروں کےدرختوں سےہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کےدرمیان کھیتی لگارکھی تھی۔دونوں باغ اپناپھل خوب لائے اوراس میں کسی طرح کی کمی نہ کی‘ اورہم نےان باغوں کےدرمیان نہرجاری کررکھی تھی۔الغرض اس کےپاس میوےتھے۔ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سےکہاکہ میں تجھ سےزیادہ مال دار ہوں اورجتھے کےاعتبار سےبھی زیادہ مضبوط ہوں۔ ‘‘
اگلی آیات میں اس واقعے کی مزید تفصیلات مذکور ہیں کہ وہ شخص اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے اپنے باغات میں داخل ہوا تو کہنے لگا : میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ کبھی برباد ہو سکتا ہے۔ پھر کہنے لگا کہ میں یہ گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے ‘ اور اگر ہوئی بھی تو میں وہاں اس سے بھی بہتر زندگی پائوں گا۔ اس پر اُس کے ساتھی نے اسے سرزنش کی کہ تُو اپنے ربّ کی ناشکری کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے یہ سب کچھ چھین بھی سکتا ہے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ اُس کے باغات تباہ و برباد ہو گئے اور وہ کف ِ افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا کہ ہائے میری شامت‘ کاش! میں نے اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا۔ اُس شخص نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اُس کے اختیار کو بھلا کر ظاہری اسباب اور مادّی وسائل پر توکّل کر لیا تھا‘ اور یہی وہ شرک تھا جس کا خود اُس نے پھر اعتراف کیا۔
بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کا قِصّہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے؛ ایک کوڑھی‘ دوسرا گنجاا اور تیسرا ندھا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی جلد اور مجھ سے یہ کوڑھ کا مرض دور ہوجائے‘ کیونکہ اس کی وجہ سےلوگ مجھ سے دور دور رہتے ہیں۔ چنانچہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی ‘ اس کا رنگ بھی خوب صورت ہو گیا اور جلدبھی اچھی ہو گئی۔ پھرفرشتے نے پوچھا :کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کروگے؟ اس نے کہا :اونٹ۔ چنانچہ اسے ایک حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ: تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال اورمیرا موجودہ عیب ختم ہو جائے‘ کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے۔ فرشتے نے پوچھا:کس طرح کا مال پسند کروگے؟ اس نے کہا : گائے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔ پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دے دے تاکہ اس سےمیں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اسے بینائی واپس دے دی۔ پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا :بکریاں۔ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے‘ یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی‘ گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔
پھر (ایک مدّت کے بعد ) فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں دوبارہ کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر مسافرآدمی ہوں‘ سفر کے تمام سامان و اسباب ختم ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بعد تمہارے سوا میرا اورکوئی نہیں ہے کہ اس کی مدد سے میں اپنی منزل تک پہنچ جاؤں‘ لہٰذا میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ ‘ اچھی جلد اور بہت سارا مال عطا کیاہے‘ ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کر سکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ اور بھی بہت سے حقوق ہیں۔ فرشتہ نے کہا: غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں‘ کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے‘ تم ایک فقیر اور قلاش نہ تھے( کہ تمہارے پاس کچھ نہ تھا) ‘پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟ اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔
اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس بھی اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں‘ سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بعد تمہارے سوا میرااور کوئی نہیں ہے کہ اس کی مدد سے میں اپنی منزل تک پہنچ جاؤں ‘لہٰذا میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے‘ ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔ اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو۔ اللہ کی قسم !تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ‘ میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔ فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس رکھو‘ یہ تو صرف امتحان تھا۔ اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔(۲۷)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((إِنَّ لِلّٰهِ عَبَّادًا اخْتَصَّهُمْ بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ یُقِرُّھُم فِيهَا مَا بَذَلُوهَا، فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهُمْ، فَحَوَّلَهَا إِلَى غَيْرِهِمْ))(۲۸)
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو اپنی نعمتوں لیے مخصوص کیا ہے تاکہ دوسرے بندوں کو فائدہ پہنچے۔ جب تک وہ خرچ کرتے رہتے ہیں اللہ ان کی نعمتیں بحال رکھتا ہے ۔جب وہ کنجوسی دکھانے پر آجاتے ہیں‘تو اللہ تعالیٰ ان سے نعمتیں چھین لیتا ہے ‘پھر انہیں دوسروں کی طرف پھیر دیتا ہے ۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((إن للّٰه عندَ أقوامٍ نِعَمًا، يُقِرُّهَا عِنْدهُمْ مَا كَانُوْا فِيْ حَوَائجِ النَّاسِ مَالَمْ يَمَلُّوْهُمْ، فَإذا مَلُّوهُمْ نَقَلَهَا اِلٰى غيرِهِم))(۲۹)
’’ کچھ لوگوں کے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہوتی ہیں۔جب تک وہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے سے نہیں اُکتاتے اللہ ان نعمتوں کو ان کے پاس رہنے دیتا ہے۔جب وہ اُکتا جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کو دوسروں کو دے دیتا ہے۔‘‘
ابو العلاء بن شخیر بیان کرتے مجھے بنی سلیم کے اس آدمی نے بتایا‘میرا خیال ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((أَنَّ اللّٰهَ يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ، فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللّٰهُ لَهُ بَارَكَ اللّٰهُ لَهُ ‌فِيهِ ‌وَوَسَّعَهُ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَهُ))(۳۰)
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دے کر آزماتاہے۔ توجو اللہ کی تقسیم پر راضی رہا ‘اللہ اس میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس میں اور اضافہ کر دیتا ہے ‘ اور جو راضی نہ ہوا اللہ بھی اس کو برکت نہیں دیتا ۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفاتِ نبیﷺ کے بعد کشادگیٔ رزق کو ابتلاء شمار کیا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے:
أبتلينا مع رسول اللّٰه ﷺ بالضراء فصبرنا، ثم ابتلينا بالسراء بعده فلم نصبر(۳۱)
’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تنگی دے کر آزمائے گئے تو ہم نے صبر کر لیا‘ پھر آپؐ کے بعد ہم کشادگی کےذریعے آزمائے گئے تو ہم سے صبر نہ ہوا ۔‘‘
(۲) جاہ ومنصب کے ذریعے: بسا اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی منصب دے کر آزماتا ہے کہ آیا وہ شکر سے کام لیتا ہے‘ یا تکبر یا گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اپنی خلافت کو ایک امتحان قرار دیا۔ چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد ان کا جو پہلا خطاب تھا اس سے یہ بات واضح ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’جب حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے خلافت سنبھالی تو سرکاری باڈی گارڈ ان کے پاس آیا‘تاکہ اسلحہ لے کر آپ کے آگے چلے ‘ جیسا کہ اس کی سابقہ خلفاء کے وقت میں ڈیوٹی تھی ۔تو حضرت عمرؒ نے اس سے کہا :میرا تیرا کیا کام ہے ‘ سامنے سے دور ہو جا ‘ میں تو ایک عام سا مسلمان ہوں۔پھر حضرت عمرؒبھی چلے اور سارے لوگ آپ کے ساتھ ساتھ چلے۔مسجد میں تشریف لائے ‘ منبر پر چڑھے ‘ لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے۔ فرمایا : اے لوگو!مجھے میری مرضی کے خلاف یہ خلافت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ‘نہ میری رائے لی گئے ‘ نہ میرا مطالبہ تھا اور نہ ہی مسلمانوں سے مشورہ ہوا ۔میں نے اپنی بیعت تمہاری گردنوں سے ختم کر دی ہے ‘جسے تم پسند کرو اپنے معاملات کا ذمہ دار بنا لو۔ لوگوں نے یک زبان نعرہ لگایا : ہم نے آپ کو چن لیا ہے۔‘‘ (۳۲)
عضد الدولہ العبیدی کا واقعہ: عضد الدولہ شیعی حاکم تاریخ اسلام میں پہلا شخص ہے جس نے ’’شہنشاہ‘‘ کا لقب اختیار کیا ۔ اس کے جاہ و جلال کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ عباسی خلیفہ الطائع لامر اللہ عضد الدولہ کا جس قدر احترام کرتا تھا ‘کسی اور کا نہیں کرتا تھا۔ نہ ہی اس سے قبل خلیفہ کے نام کےساتھ کسی دوسرےکا نام لیا جاتا تھا۔ اس حاکم نے رفاہِ عامہ کے بہت زیادہ کام کیے ۔ عضد الدولہ کو جس قدر سیاسی بصیرت حاصل تھی‘ اس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے ۔ البتہ وہ نہایت جابر اور متکبر تھا ۔کہا جاتا ہے کہ کسی لونڈی سےاسے حد درجے محبت تھی‘ جس کی وجہ سے امورِ سیاست میں اس سے کوتاہی ہونے لگی تو اس نے اس لڑکی کو سمندر میں ڈبو دینے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح ایک بار اسے معلوم ہوا کہ کسی غلام نے کسی شخص سے ایک بطیخ (تربوزبطوررشوت) لے لیا ہے‘ تو اُسے تلوار سے مار کر دو ٹکڑے کردیا۔
اس کے ساتھ اللہ کی آزمائش کا ایک نمونہ یہ تھا کہ ایک بار وہ اپنے کسی باغ کی طرف نکلا اور کہنے لگا کہ کا ش کہ آج بارش ہو جاتی تو کیا خوب تھا‘ تو فوراً بارش ہونے لگی ۔ اس پر اُس نے ایک طویل غزل کہی جس میں عیش وشباب اور رقص وسرود کا ذکر کیا اور گانے والی لونڈیوں کی زبانی ایسے اشعار بھی کہلوا دیے جن میں انتہائی فخر و مباہات‘ خود ستائی‘ غرور و تکبر اور خدا فراموشی کا اظہار کیا گیا تھا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : قبحه اللّٰه و قبح شعره و قبح أولاده فإنه اجترأ في أبياته هذه یعنی ’’اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کرے ‘ اس کی شاعری کو برباد کرے اور اس کی اولاد کو ہلاک وبرباد کرے‘ کیونکہ وہ اپنے ان اشعار میں حد کو پار کرگیا ۔‘‘
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت نہ دی۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس نےیہ اشعار پڑھے تو اسی وقت سے اسے مرگی کا مرض لاحق ہوا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے دورہ پڑنے لگا۔ جب افاقہ ہوتا تو یہ آیات دہرانے لگتا: {مَآ اَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ(۲۸) ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ(۲۹)} (الحاقۃ) ’’میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔ میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا۔‘‘اور اسی حالت میں ہلاک ہوگیا۔ (۳۳)
(۳) علم کے ذریعہ آزمائش: اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو علم کے ذریعہ بھی آزماتا ہے‘ جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہے:
{ وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَـبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰـہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَـکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ(۱۷۵) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰـہُ بِہَا وَلٰـکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّـبَعَ ہَوٰىہُ ج فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ج اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ط ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاج  فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(۱۷۶)}
ََ’’اوران لوگوں کواس شخص کاحال پڑھ کرسنائیےکہ جس کوہم نےاپنی آیات دیں ‘پھروہ ان سےبالکل ہی نکل گیا‘پھرشیطان اس کےپیچھےلگ گیا‘سووہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔اوراگر ہم چاہتے تواس کوان آیات کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے‘لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اوراپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنےلگا۔سواس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگرتو اس پرحملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دےتب بھی ہانپے۔یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نےہماری آیات کوجھٹلایا۔سوآپ ان واقعات کو بیان کر دیجیے شاید وہ لوگ کچھ سوچیں ۔‘‘
عہد ِنبوی ﷺمیں عام یہود کا یہی حال تھا ۔ آج بھی علمائے سو کا یہی حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم دیا ہے اور قوت گویائی دے کر آزمایا ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو علم نبوت بھی ایک آزمائش ہے ‘ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے۔ حضرت عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
((أَلاَ إِنَّ رَبِّى أَمَرَنِى أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِى يَوْمِى هَذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلاَلٌ، وَإِنِّى خَلَقْتُ عِبَادِى حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِى مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلاَّ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِىَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لاَ يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ)) (۳۴)
’’سن لو کہ مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں تم کو وہ کچھ سکھاؤں جس کا تمہیں علم نہیں ‘ جو کچھ اس نے مجھے آج سکھایا ہے ۔(اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ)وہ سارا مال جو میں نے بندے کو عطا کیا ہے حلال ہے ‘اور میں نے اپنے سب بندوں کو حنیف (توحید والے) بنایا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ان کے پاس شیاطین آگئے اور انہیں ان کے دین سے گمراہ کردیا ‘اور جو چیزیں میں نے حلال کی تھیں ان کو انہوں نے حرام کر دیا ۔اور شیطانوں نےا نسانوں کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کی طرف نگاہ کی ‘توچند اہلِ کتاب کے علاوہ عرب وعجم سب پر ناراض ہو گیا ۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(اے نبیﷺ!) میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے کہ تمہیں آزماؤں اور تمہارے ذریعے دوسروں کو بھی آزماؤں ‘ اور میں نے تمہارے اوپر ایسی کتاب اتاری ہے جسے پانی نہیں دھو سکتا ‘ تم اسے سوتے جاگتے پڑھو گے ۔‘‘
(۴) لوگوں میں مقبولیت اور عدم مقبولیت کے ذریعہ: اگر کسی شخص کو اس دنیا میں شہرت اور لوگوں میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے‘ تو یہ بھی ایک طرح کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے‘ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندوں انبیاء کو بھی اس سے آزمایا ہے۔ چنانچہ بعض نبی ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ان پر صرف ایک ہی شخص ایمان لایا ‘بلکہ بعض نبی تو ایسے بھی گزرے ہیں کہ ان پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا۔ اس کے برخلاف ایسے بھی نبی ہیں جن کے امتیوںکی تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔دومثالیں حاضر ہیں:
الف )نبی اکرم ﷺ جب طائف تشریف لے گئے تو وہا ں لوگوں کو دعوت دی ‘ عام لوگوں کو بھی دعوت دی اور خاص لوگوں کو بھی ‘ ایک ایک آدمی کو بھی دعوت دی اور عام مجمع میں بھی دعوت دی۔ حضرت خالد عدوانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے :
أبصر رسولَ اللّٰه ﷺ في مشرق ثقيف وهو قائم على قوس أو عصا حين أتاهم، يبتغي عندهم النصر، قال: فسمعتُه يقرأ والسماء والطارق حتى ختمها‘ قال: فوعيتها في الجاهلية وأنا مشرك ثم قرأتها في الإسلام، قال: فدعتني ثقيف، فقالوا: ماذا سمعتَ من هذا الرجل، فقرأتها عليهم، فقال من معهم من قريش: نحن أعلم بصاحبنا، لو كنا نعلم ما يقول حقًّا لاتبعناه(۳۵)
’’ انہوں نے نبی کریم ﷺکو ثقیف کے مشرق نامی بازار میں اپنی کمان یا چھڑی پر ٹیک لگائے کھڑے دیکھا ‘ جب آپ ﷺاہل طائف سے مدد کے لیے گئے تھے - وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ آپ ﷺ نے سورۃ الطارق کی تلاوت کی اوراسے پورا پڑھ لیا‘ یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ یہ سورت میں نے اس وقت پڑھی جب میں مشرک تھا اور اسے اب حالت اسلام میں بھی پڑھ رہا ہوں۔ ان کا بیان ہے کہ اہل طائف نے مجھے بلایا اور مجھ سے پوچھا کہ اس شخص سے تم نے کیا سنا ہے ؟ میں نے سورۃ الطارق پڑھ کر سنا دی تو ان کے پاس موجود قریش کے لوگوں نے کہا :ہم اپنے آدمی کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں ‘ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ جو یہ کہتا ہے وہ حق ہے تو ہم سب سے پہلے اس کی اتباع کرلیتے۔‘‘
ذرا غورکریں کہ نبی مکرمﷺ سے بہتر اور عمدہ طریقے سے وعظ کرنے والا اور آپﷺ سے بہتر انداز میں دعوت دینے والا دوسرا کون ہوگا ‘ اس کے باوجود آپﷺ تقریر کرنے لگے تو سارے لوگ آپﷺ کو چھوڑ کر ہٹ گئے اور ایک اجنبی شخص ہی پاس رہ گیا‘ تو اسے بھی بلا لیا اور حق قبول کرنے سے روک دیا‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ کہ آپﷺ طائف میں دس دن مستقل دعوت کا کام کرتے رہے لیکن ایک شخص بھی آپﷺ پر ایمان نہ لایا۔
ب) حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غزوئہ حنین کے موقع پر جب نبی ﷺ نماز پڑھتے تو کچھ دعائیہ کلمات آہستہ آہستہ پڑھتے‘ جسے ہم سمجھ نہ پاتے۔ ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کچھ آہستہ آہستہ پڑھتے ہیں ‘جسے ہم سمجھ نہیں پاتے(ہمیں بھی بتلائیے کہ ہم بھی پڑھا کریں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
((فَطِنْتُمْ لِي؟)) قَالَ قَائِلٌ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنِّي قَدْ ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَةً بِهَذِهِ [شَكَّ سُلَيْمَانُ] قَالَ: فَأَوْحَى اللّٰهُ إِلَيْهِ: اخْتَرْ لِقَوْمِكَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ، قَالَ: فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّ اللّٰهِ نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ فَخِرْ لَنَا، قَالَ: فَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ، قَالَ: وَكَانُوا يَفْزَعُونَ إِذَا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَصَلّٰى، قَالَ: أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا، أَوْ الْجُوعُ فَلَا، وَلَكِنْ الْمَوْتُ، قَالَ: فَسُلِّطَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ: اللّٰهُمَّ يَا رَبِّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ))(۳۶)
’’کیا تم لوگوں نے محسوس کر لیا؟ ہم نے عرض کیا: ہاں ہم لوگوں نے محسوس کیا ہے۔تو آپﷺ نے فرمایا :(آج جب میں نے تمہاری کثرت دیکھی تو) مجھے اللہ کے ایک نبی یاد آئے جنہیں ایک بڑی فوج عطا کی گئی تھی۔جب انہوں نے اپنی فوج کی کثرت دیکھی تو کہنے لگے کہ ان کا مقابلہ کون کرسکتا ہے! اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے بارے میں آپ تین باتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو:یا تو تمہارے اوپر کسی دشمن کو مسلط کردیاجائے‘یا بھوک ‘ یا پھر موت مسلط کردی جائے۔ چنانچہ انہوں نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ کیا کہ کس بات کا انتخاب کروں! قوم نے کہا:آپ اللہ کے نبی ہیں‘ہم یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتے ہیں‘آپ ہی جس چیز کو مناسب سمجھیں اس کا انتخاب کرلیں۔چنانچہ وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے‘ اور وہ لوگ جب کسی چیز کے بارے میں فکر مند ہوتے تو نماز کا سہارا لیتے۔ اس نبی نے جتنی نماز پڑھنی تھی اتنی پڑھ کر فارغ ہوئے‘ تو پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا :اے میرے رب!ان پر کوئی دشمن مسلط ہو یا ان پر بھوک مسلط ہو‘یہ قبول نہیں ہے‘ البتہ ان پر موت کومسلط کردے۔ چنانچہ ان پر مسلسل تین دن تک موت مسلط کردی گئی ‘جس کی وجہ سے ان کے ستر ہزار لوگ مر گئے۔ اسی واقعہ کو یاد کرکے میرا وہ آہستہ آہستہ پڑھنا ہے‘ جسے تم لوگ محسوس کررہے ہو۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کررہا ہوں : اللّٰهُمَّ بِكَ اُقَاتِلُ، وَبِكَ اُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ’’اے اللہ! میں تیرے ہی بھروسے قتال کرتا ہوں ‘تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں‘تیری دی ہوئی قوت سے کوشش کرتا ہوں‘ اور گناہوں سے رُکنے اور عبادت کو بجا لانے کی طاقت تیری توفیق کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں ہے۔‘‘
یہ وہ مثالیں ہیں جنہیں لوگ ابتلاء وامتحان شمار نہیں کرتے‘ ورنہ اگر غور کیا جائے تو دنیا امتحان گاہ اور ہماری ساری زندگی ایک امتحان ہے‘ اور خوش نصیب وہی ہے جو اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھ رہا ہے۔
خَامساً: آزمائش وابتلاء کے موقع پرہمارا موقف
اللہ تعالیٰ کی طرف آزمائشوں سے نپٹنے کے لیے ہمیں درج ذیل موقف اختیار کرنا چاہیے۔ طوالت سے بچنے کی غرض سے دلائل وشواہد سے بچتے ہوئے صرف موقف ذکر کر دینے پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
(۱) صبر:
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)}(البقرۃ)
’’اے ایمان والو!صبراورنماز کے ذریعہ مدد چاہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبروالوں کاساتھ دیتاہے۔‘‘
{اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) } (الزمر )
’’یقیناًصبرکرنے والوں ہی کوان کاپوراپورا بے شماراجردیاجاتاہے۔‘‘
حدیث نبوی ہے:
((وَالصَّبْرُ ‌ضِيَاءٌ))(۳۷)’’اور صبر روشنی ہے۔ ‘‘یعنی جو آدمی مشکل حالات میں صبر سے کام لیتا ہے اسے مشکل سے نکلنے کا راستہ مل جاتا ہے۔
(۲) ہر چیز مقدرہے۔
(۳) اللہ تعالیٰ کے بارے حسنِ ظن کا دامن نہ چھوٹے۔
(۴) یہ مصیبت اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
(۵) استغفار و توبہ
(۶) دعا ‘ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق جڑا رہے۔
(نظر ثانی: ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور)
حواشی
(۲۶) تفسير الطبری : الدر المنثور ۵/ ۶۲۹
(۲۷) صحيح البخاري:۳۴۶۴ ، صحيح مسلم:۲۶۶۴
(۲۸) الطبراني الكبير (المجمع ۸ /۱۹۲) الطبراني الأوسط: ۵۱۵۸ . دیکھئے صحيح الترغيب ۲ / ۷۰۷ )
(۲۹) الطبراني الأوسط:۸۳۴۶ دیکھئے صحيح الترغيب ۳/ ۷۰۷
(۳۰) مسند احمد۵ / ۲۴، شعب الإيمان:۱۲۹۱،۱۲۹۲
(۳۱) سنن الترمذي:۲۴۶۴
(۳۲) البدایۃ والنہایۃ ۹/۲۱۲
(۳۴) البدایۃ والنہایۃ ۱۱/۳۰۰ ، سير أعلام النبلاء ۱۶/ ۲۵۰
(۳۵) صحيح مسلم:۲۸۶۵ الجنة ، مسند احمد۴ / ۱۶۱
(۳۶) مسند احمد ۴/ ۳۴۴
(۳۷) مسند احمد۴/۳۳۳، صحیح ابن حبان:۱۹۷۲
(۳۸) صحیح مسلم:۲۲۳، سنن الترمذی:۳۵۱۷، سنن النسائی:۲۴۳۷