(اقبالیات) مکاشفاتِ اقبال:قیامِ پاکستان اور اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ - مظفر حسین

8 /

مکاشفاتِ اقبال
قیامِ پاکستان اور اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ
مظفر حسین

علامہ اقبالؒ ایک شاعر اور فلسفی ہونے کے علاوہ ایک حقیقت پسند سیاسی مفکر بھی تھے اور انہوں نے سیاست میں عملاً بھی حصہ لیا۔ البتہ یہ ان کی شخصیت کےاضافی پہلو ہیںـ ۔ بنیادی طور پر وہ ایک روحانی شخصیت تھے اور انہیں اس بات کا پختہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عصرحاضرمیں اُمت ِمسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سونپا ہے اور وہ خدا کی طرف سے مسلمانوں کے عروج اور ترقی کا خاص پیغام لے کر آئے ہیں ۔؎
بے نیازانہ ز شوریدہ نوایم مگزر
مرغِ لاہوتم از دوست پیامے دارم
’’میری شاعری کو ایک جنونی کی باتیں کہتے ہوئے بے نیازی سے مت گزر جائو۔ میں طائر ِلا ہوتی ہوں اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام لایا ہوں۔‘‘
پیر گردوں با من ایں اسرار گفت
از ندیماں رازہا نتواں نہفت
’’اللہ تعالیٰ نے یہ اسرار مجھ پر الہام کیے ہیں اور میں نے ان اسرار کو اپنے دوستوں سے چھپایا نہیں ہے۔‘‘
اپنے بارے میں یہ غیر معمولی اعتماد ان کے دو روحانی مکاشفات پر مبنی ہے جو انہیں ۱۹۰۷ء اور ۱۹۲۳ء میں پیش آئے۔ ان کی طرف آپ نے سید ظفر الحسن کے نام اپنے خط مورخہ ۶ /اگست ۱۹۳۲ءمیں ان الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا ہے:
’’مجھے پچیس سال ہوئے جب اس کا احساس ایک عجیب و غریب طریق میں ہوا۔ اس وقت میں انگلینڈ میں تھا۔ اس کے بعد ہندوستان میں اس کا اعادہ ہوا۔ اس کو اب کئی سال گزر چکےہیں۔‘‘
پہلا مکاشفہ مارچ ۱۹۰۷ء میں قیامِ لندن کے دوران ہوا جس میں آپ نے قدسیوں کی زبانی سنا کہ قدرت کی طرف سے اُمت ِمسلمہ کو دوبارہ عروج عطا ہونے والا ہے۔ سید نذیر نیازی مرحوم سے آپ نے اس مکاشفہ کی تفصیلات بھی بیان کی تھیں۔ اس کا بد قسمتی سے کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں‘ البتہ ایک غزل میں اس کا بر ملا اظہار ملتا ہے جو ’’بانگ درا‘‘ میں شامل ہے‘ اور یہ واحد غزل ہے جس پر بطور عنوان ’’مارچ ۱۹۰۷ء‘‘ کی تاریخ ثبت ہے۔ اس غزل میں وہ اپنے مکاشفہ کے حوالے سےفرماتے ہیں:؎
نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا
اسی غزل میں انہوں نے مسلمانانِ ہند کی راہنمائی کے لیے اپنے عزم کاواشگاف اعلان
کیا ہے:؎
میں ظلمت ِشب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہو گی آہ میری‘ نفس مرا شعلہ بار ہو گا
نیز اسی غزل میں ان کے اس یقین کا اظہار بھی موجود ہے کہ ان کا درماندہ کارواں تمام تر مشکلات کے باوجود بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔؎
سفینهٔ برگِ گُل بنا لے گا قافلہ مورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا کے پار ہو گا
علاوہ ازیں نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے ابتدائی بند میں دوبارہ اسی پیش گوئی کو بڑےزور دار انداز میں پیش کیا ہے: ؎
عروقِ مردئه مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا سے ہی ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی‘ ذہن ہندی‘ نطق اعرابی
مارچ ۱۹۰۷ء کی مکاشفاتی غزل کے سولہ سال بعد چودھری محمد حسین کے نام اپنے ایک مکتوب مورخہ ۳۰ اگست ۱۹۲۳ء میں علامہ اقبال نے اپنے دوسرے روحانی مکاشفے کا ذکر کیا ہے۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ عالم ِبالا میں قدسیوں میں یہ شور مچا ہوا ہے کہ مسلمانوں کو فتح اور کامرانی نصیب ہونے والی ہے لیکن زمین کے باسیوں کو اس کی کچھ خبر ہی نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
" There is a lot of enthusiasm on heavens in respect of the victory of the Muslims but those on earth are silent. May God have pity on them. Our religious scholars and saints turned Islam into an ancient Asian creed."

’’عالم ِبالا میں مسلمانوں کی فتح و نصرت کے بارے میں بڑا جوش و خروش ہے لیکن ساکنانِ زمین مہر برلب ہیں۔ خدا ان کے حال پر رحم فرمائے۔ ہمارے علماء و صلحاء نے اسلام کو ایک قدیم ایشیائی مذہب بنا کررکھ چھوڑا ہے۔‘‘
علامہ اقبال کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ ہمارے علماء و صلحاء نے اسلام کی جدیدیت کا احساس نہیں کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صرف انہی لوگوں کی تحریروں پر انحصار کرتے ہوئے اسلام کا مطالعہ کرے اور اس بات کو پیش نظر نہ رکھے کہ اسلام آج سے چودہ سو سال پہلے آیا تھا تو کبھی اس حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکتا کہ اسلام کس قدر جدید مذہب ہے۔ چنانچہ وہ اس خط میں لکھتے ہیں:
"If one studies Islam through the writings of Muslims not knowing that Islam's advent took place thirteen hundred years ago, he will not reach the conclusion that Islam is such a modern religion. I am sorry that Muslims have never recognised the modernity of Quran. They instead have interpreted its subject and truths in light of ancient peoples and thus have mutilated its real sense and intent. "

’’اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہو کہ اسلام آج سے تیرہ سو سال پہلے آیا تھا اور اسلام کا مطالعہ ان کی لکھی ہوئی کتابوں کی روشنی میں کرے تو کبھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ اسلام اس قدر جدید مذہب ہے۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں نے کبھی قرآن کی جدیدیت کا احساس نہیں کیا۔ اس کے برعکس انہوںنے قرآن کے موضوع اور حقائق کی تشریح قدیم اقوام کی روشنی میں کر کے اس کے اصل مفہوم اور مدعا کو ہی مسخ کر ڈالا۔‘‘
علامہ اقبال کے خط کے ان مندرجات سے جہاں یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ انہیں اس بات کا پختہ یقین تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دوبارہ عروج حاصل ہو گا ‘وہاں وہ اس بات پر بھی سخت رنجیدہ اور دل گرفتہ تھے کہ مسلمانوں نے قرآن کی جدیدیت کا احساس نہیں کیا۔ ہمارے علماء کی لکھی ہوئی تفاسیر قرآن عصرِحاضر کے معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی مسائل کا حل پیش نہیں کرتیں اور صدیوں پرانے حالات و واقعات کے بیان سے آگے ان کے پاس کچھ کہنے کو باقی نہیں رہتا۔
علامہ اقبال نے قرآن حکیم کا مطالعہ عصرِحاضر کے تقاضوں کی روشنی میں کیا تھا اور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اسلام کا مطمح نظر کشور کشائی ہر گز نہیں بلکہ وہ اپنی اعلیٰ معاشی اور جمہوری اقدار کی اساس پر معاشرہ کی تشکیل و تنظیم کے ذریعے تسخیر ِقلوب کا مقصد رکھتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے نکلسن کے نام اپنے خط میں لکھا تھا:
’’ مجھے پورے وثوق کے ساتھ یقین ہے کہ علاقوں کی فتح اسلام کے اصل پروگرام کا حصہ نہیں ہے اور میرے خیال میں کشور کشائی کی مہم سے قلوب کو مسخر کرنے والی اسلام کی عالمگیر انسانی اخوت کو بے حد نقصان پہنچا اور اس نے معاشرہ میں جمہوری اور معاشی نظم پیدا کرنے اور نشو و نمادینے والی ان کو نپلوں کو نوچ ڈالا جو مجھے قرآن وحدیث کے صفحات مقدسہ میں جابجا بکھری نظر آتی ہیں۔‘‘
اپنے مکاشفات کی بنا پر علامہ اقبال کا خیال یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو عصرِ حاضر میں جب اپنی ایک آزاد منظم ریاست قائم کرنے کا موقع ملے گا تو وہ قرآن کی جدیدیت کو بروئے کار لا کر ایک جدید اسلامی ریاست قائم کر سکیں گے۔ چنانچہ خطبہ الٰہ آباد میں انہوں نے جب پاکستان کا نام استعمال کیے بغیر ہندوستان میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا تو اس میں واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا کہ:
’’ اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر جو عرب امپیریل ازم کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں‘ اُس جمود کو توڑ ڈالے جو اس کی تہذیب و تمدن‘ شریعت اور تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے صحیح معانی کی تجدید ہو سکے گی بلکہ وہ زمانۂ حال کی روح سے بھی قریب ہو جائے گا۔‘‘
اسلام کے صحیح معانی کی تجدید اور زمانۂ حال کی روح سے قریب تر ہونے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ قرآن کی تشریح و تفسیر کے ذریعے دورِ حاضر کے معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی مسائل کا حل پیش کیا جائے۔ اس چیز کو علامہ اقبال ’’قرآن کی جدیدیت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ چودھری محمد حسین کے نام محولہ بالا خط کے آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ مسلمان قوم کی
نشا ٔۃِ ثانیہ تو سیاسی آزادی ملنے سے حاصل ہو جائے گی لیکن اس کے بعد اسلام کی نشا ٔۃ ِثانیہ کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک ایسے مفسر قرآن کی ضرورت ہے جو قرآن کی جدیدیت واضح کرے اور قرآن کی حکمت ِگمشدہ مسلمانوں کو لوٹادے۔
"Now alongwith the renaissance of Muslim communities the renaissance of Islam is also needed. I pray to God almighty that He, for the sake of His beloved, the prophet (PBUH) produces such an interpreter among Muslims who gets at the lost wisdom once more and offers it to Ummah. Our demise is not near at hand, the Quran still holds on."

’’اب مسلم اقوام کی نشا ٔۃ ِثانیہ کے ساتھ ساتھ اسلام کی نشا ٔۃ ِ ثانیہ بھی درکار ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک رسول اللہﷺ کے طفیل مسلمانوں میں ایسا مفسر ِ قرآن پیدا کرے جو اس کی ’’گمشدہ حکمت‘‘اُمّت ِمسلمہ کو لوٹا دے۔ ہمارا خاتمہ قریب نہیں (کیونکہ) قرآن آج بھی ہمارارہنما اور کفیل ہے۔‘‘
چودھری محمد حسین کے نام خط کا یہ آخری حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں علامہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کی نشا ٔۃ ِثانیہ اور اسلام کی نشا ٔۃ ِ ثانیہ کو الگ الگ شمار کرتے ہوئے اسلام کی نشا ٔۃ ِثانیہ کو قرآن حکیم کی جدیدیت کے ساتھ مشروط کیا ہے۔
قیام ِپاکستان
علامہ اقبالؒ کے مکاشفات کے عین مطابق سیاسی آزادی اور قیامِ پاکستان کی صورت میں قومی نشا ٔۃِثانیہ کی بات تو پوری ہو گئی لیکن اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ کے سلسلہ میں علامہ اقبال کا خواب ہنوز تشنہ ٔ تعبیر ہے ‘جو قرآن کی ’’جدیدیت ‘‘ کو بروئے کار لانے سے ہی پورا ہو سکتا ہے۔
مولانا مودودیؒ نے فرمایا تھا کہ اسلامی فکر کا موجودہ سرمایہ ہماری کفایت نہیں کرتا ‘کیونکہ یہ ہزار سالہ پرانی زبان میں ہے جسے دور ِحاضر کا نوجوان سمجھ نہیں سکتا اور ہزار سالہ پرانی زندگی سے تعلق رکھتا ہے جو آج کہیں موجود نہیں ۔جو لوگ حکومت ِالٰہیہ قائم کرنے کا نام لیتے ہیں انہیں اگر کسی خطہ میں اسے قائم کرنے کا موقع مل جائے تو ناکام ہوں گے‘ کیونکہ دورِ جدید میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے جو فکری سرمایه در کار ہے وہ ہمارے پاس موجود ہی نہیں۔
اگر مولانا مودودیؒ اور دیگر علماء اپنی زندگی یہ فکری سرمایہ فراہم کرنے کے لیے وقف کر دیتے تو پاکستان میں اسلام کی نشا ٔ ۃِثانیہ کے امکانات بہت روشن ہو جاتے‘ لیکن انہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ ترکی کو مثال بنا کر پاکستان میں بھی سیکولرازم قدم جمالے گا۔ اس لیے انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینے کو ترجیح دی اور اپنے اصل کام سے غافل ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے مہم جُو علماء نے بھی دین کے نام پر سیاسی جماعتیں قائم کر کے ’’دین‘‘ اور ’’سیکولر ازم ‘‘ کی کشمکش کو ہوادی جس کی وجہ سے ملک میں ایک خاص قسم کی ’’سیاسی برہمنیت ‘‘ کو فروغ ملا اور علماء کے مطالبہ ٔنفاذِاسلام کو تھیا کریسی کے نفاذ کے مترادف سمجھا جانے لگا۔ فرقہ پرست دینی جماعتوں نے جب اپنی اپنی فقہ کے نفاذ کو سیاسی مطمح نظر قرار دیا تو اسلام کو ایک وحدت خیز قوت کے بجائے انتشار انگیز سیاسی عامل سمجھا جانے لگا اور قومی اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے نفاذِ اسلام کی منزل دُور سے دُور ہوتی چلی گئی۔
علامہ اقبال کی آرزو کے مطابق اگر قرآن کی جدیدیت کو بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان میں اسلام اور سیکولرازم کی بحث ہی نہ چھڑتی۔ لیکن ہمارے دینی رہنماؤں نے آج تک اس بات کا احساس نہیں کیا کہ سیاسی میدان میں ’’سیکولر عناصر ‘‘سے اقتدار چھیننے سے زیادہ فکری محاذ پر انہیں مسخر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام قرآن کی جدیدیت کو بروئے کار لائے بغیر ممکن نہیں۔
ہمارے علماء اسلام کو ’’قدیم ایشیائی مذہب‘‘ کی حیثیت سے دیکھنے کے عادی ہیں اور اجتہادی بصیرت سے محروم ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ ’’خطباتِ بہاول پور‘‘ میں فرماتے ہیں کہ جب قرآن حکیم نے حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہ کے لقب سے نوازا ہے تو ہم ملوکیت کو حرام قرار نہیں دے سکتے ‘لیکن اس کے برعکس علامہ اقبال فرماتے ہیں:؎
غلامِ فقر آں گیتی پناہم
که در دینش ملوکیت حرام است
’’میں اس جہاں پناہ کے فقر کا غلام ہوں کہ جس کے دین میں ملوکیت حرام ہے۔‘‘
علامہ اقبال ملوکیت کے حرام ہونے کی دلیل نبی کریم ﷺ کی زندگی سے لاتے ہیں‘ جنہوں نے نہ خود بادشاہت کا طریق اپنایا اور نہ ہی اپنے بعد ملوکیت کی کوئی گنجائش چھوڑی ۔ یہ قرآن کے تصورِ توحید (لا سلاطین، لا کلیسا، لا الٰہ) کا اعجاز تھا کہ آپﷺ کے وصال کے بعد خلافت کی شکل میں شورائیت کا جمہوری اصول اپنایا گیا ‘ جسے علامہ اقبال ’’روحانی جمہوریت‘‘ کا نام دیتے ہیں اور تشکیل و تاسیس حریت‘ مساوات اور اخوت بنی نوع آدم کو مقصود رسالت محمد یہﷺ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ’’خطباتِ بہاول پور‘‘ ہی میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ فرماتے ہیں کہ عہد ِنبویﷺ سے آج تک قانون سازی ایک پرائیویٹ چیز رہی ہے اور کبھی حکومت کی اجارہ داری نہیں رہی‘ جبکہ اس کے برعکس علامہ اقبال پارلیمنٹ کو اجتہاد اور قانون سازی کا حق دیتے ہیں اور اسے اسلامی حدود کا پابند رکھنے کی تدبیر بھی بتلاتے ہیں۔ وہ الیکشن اور ووٹ کو بیعت کی جدید شکل قرار دیتے ہیں۔ علامہ اقبال کا موقف ہے کہ اسلام پر ملوکیت کی ہزار سالہ گرفت نے مسلمانوں میں ان اداروں کو قائم نہیں ہونے دیا اور دورِ حاضر کے پیچیدہ معاشرتی‘ معاشی اور سیاسی مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بیک وقت قدیم اور جدید علوم میں جس قسم کی بصیرت درکار ہے‘ وہ کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اجتماعی کوشش در کار ہے جس کے لیے پارلیمنٹ کا ادارہ اجتہاد و اجتماع کے لیے فورم کا کام دے سکتا ہے۔ صرف یہی دو مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ڈاکٹر حمید اللہ قرآن کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے اسلام کو ایک’’قدیم ایشیائی مذہب ‘‘ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور ہزار سالہ پرانی روایت ملوکیت سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں‘ جبکہ اس کے برعکس علامہ اقبال روحِ عصر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے قرآن اور اسلام کی’’جدیدیت‘‘ کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیلۃ القدر میں قیام پاکستان کی معنویت
لیلۃ القدر میں پاکستان کا وجود پذیر ہونا گہری معنویت کا حامل ہے۔ سورۃ الد خان کی آیت۳ اور ۴ میں لیلۃ القدر کا ذکر بایں الفاظ آیا ہے : 
{اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَـیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ(۳) فِیْہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ(۴)}
’’یقیناً ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں ‘ بے شک ہم خبردار کرنے والے ہیں۔ اس رات میں تمام پُرحکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔‘‘
ان آیات میں لیلۃ القدر کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہیں:
(۱) یہ وہ رات ہے جس میں قرآن حکیم نازل ہوا۔
(۲) یہ وہ رات ہے جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔
چنانچہ لیلۃالقدر میں پاکستان کے قیام کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے لیے اس یاد دہانی کے ساتھ عمل میں آیا کہ پاکستان کی بقا‘ ترقی اور سرفرازی کا سر چشمہ حکمت ِقرآن ہے۔ یہی وہ حکمت ِقرآن ہے جسے علامہ اقبال نے ’’قرآن کی گم شدہ حکمت ‘‘ قرار دیا ہے اور اس کی بازیافت کو’’قرآن کی جدیدیت‘‘سے موسوم کیا ہے۔
ماہِ رمضان قرآن حکیم کے ’’ریفریشر کورس ‘‘ کا مہینہ ہے جس میں تراویح کی صورت میں قرآن حکیم کا دورہ مکمل کیا جاتا ہے ۔ ہر سال ماہ رمضان میں لیلۃالقدر کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ {کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ (۲۹)} (الرحمٰن) والی ذات کی طرف سے قرآن کو نئی شان کے ساتھ نازل کیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے احادیث کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور نبی کریمﷺ کو ہر سال ماہ رمضان میں قرآن حکیم کا دورہ مکمل کر وایا کرتے تھے۔ قرآن حکیم کی اسی نئی شانِ جدیدیت کے بارے میں سورۃ الانبیاء کی آیت ۱۰ میں بھی بڑے واضح الفاظ میں اعلان کیا گیاہے:
{لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط  اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۰)}
’’لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے‘ تم یہ بات سمجھتے کیوں نہیں ہو ! ‘‘
رسول اللہﷺ کے زمانے میں اگر اس آیت کے مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تھے تو آج ’’فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ‘‘ کے مخاطب براہِ راست ہم لوگ ہیں ۔ فِیْہِ ذِکْرُکُمْ کا مطلب اس کے سوا اور کیا لیا جا سکتا ہے کہ قرآن آج بھی ہمارے جملہ انفرادی اور اجتماعی مسائل کے سلسلے میں ہدایت کے لیے کفایت کرتا ہے بشر طیکہ ہم اسے اس انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں کہ گویا قرآن موجودہ حالات میں ہمارے لیے آج ہی نازل ہوا ہے۔ اسی طریقے سے ہم قرآن کی جدیدیت تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب ِکشّاف
قرآن حکیم کی ’’جدیدیت‘‘ کے سلسلے میں ہماری نارسائیوں کی شکایت کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم کا نفرنس کے خطبہ ٔصدارت میں علامہ اقبال نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا کہ روحانی اعتبار سے ہم تخیلات اور احساسات کے ایک ایسے قید خانے میں بند ہو کر رہ گئے ہیں جہاں علماء اور فقہاء کے قدیم فرسودہ خیالات کی زنجیروں نے ہمیں بری طرح جکڑ رکھا ہے‘ اور تلقین کی تھی کہ اب ہمیں ان زنجیروں کو توڑ ڈالنا چاہیے جو ہم نے گزشتہ کئی صدیوں سے اپنے گرد لپیٹ رکھی ہیں۔ پھر گہرے تاسف کے ساتھ فرمایا: ’’ہم پرانی نسل کے لوگوں کو شرم آنی چاہیے کہ ہم نے اپنی نئی نسلوں کو ان سیاسی‘ معاشی اور مذہبی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں کیا جو انہیں مستقبل میں پیش آنے والے ہیں۔‘‘
علامہ اقبال ایسے دانائے راز خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں جن پر قدرت قرآن کی جدیدیت کے راز بذریعہ الہام منکشف کرتی ہے۔ مگر قدرت کی فیاضی دیکھیے کہ علامہ اقبال کے بعد ڈاکٹر محمد رفیع الدین صحیح معنوں میں ان کے جانشین ثابت ہوئے‘ جن کی کتابیں Ideology of the Future اور’’ قرآن اور علم جدید‘‘ علامہ اقبال کے اس مکتب فکر کی مؤثر اور بھر پور نمائندگی اور ترجمانی کرتی ہیں جو قرآن کی جدیدیت کا علمبردار ہے‘ اور یہ بات ان کی کتابوں کے عنوانات سے ہی عیاں ہے۔ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم کے بعد فکر ِاقبال کا کوئی ایساوارث ابھی تک پیدا نہیں ہوا جو انہی کی طرح قرآن کی جدیدیت کے اسرارور موز بیان کرے۔
قحط الرجال اور جدیدیت ِقرآن کی تلاش
سوال یہ ہے کہ اس قحط الرجال میں کیا کیا جائے؟ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ قرآن کی جدیدیت تک رسائی حاصل کرنے کا کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ہے جو اس قحط الرجال کے زمانے میں ہمارے کام آسکے ! علامہ اقبالؒ اور ڈاکٹر رفیع الدینؒ جیسے دانائے راز تو روز روز پیدا نہیں ہوا کرتے‘ تاہم اس کمی کی تلافی کے لیے اجتماعی کاوشیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں اور اس طریق کار کو اپنانے کی قرآن حکیم بھی بڑے واضح الفاظ میں تلقین کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 
{بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِط وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(۴۴)}(النحل)
’’(پچھلے رسولوں کو بھی) ہم نے روشن نشانیاں اور کتا بیں دے کر بھیجا ‘اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیے اُتاری گئی ہے اور تا کہ لوگ (خود بھی) اس میں غور و فکر کریں۔‘‘
اس آیت میں یہ نکتہ انتہائی معنویت کا حامل ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں جب قرآن ان پر نازل ہو رہا تھا اور آپﷺ اس کی تعلیم کی توضیح و تشریح بھی کر رہے تھے‘ عین اس وقت بھی قرآن حکیم اپنے ہر مخاطب سے یہ تقاضا کر رہا تھا کہ وہ خود بھی قرآن میں غور و فکر کرے اور اپنی زندگی کے جملہ انفرادی و اجتماعی مسائل کے بارے میں اس سے ہدایت طلب کرے۔ چنانچہ اگر آج ہم بھی تفکر فی القرآن کو فقط علماء و فقہاء کا تخصّص اور فریضہ نہ سمجھیں بلکہ قوم کی اجتماعی کاوشوں کو بروئے کار لائیں تو اس سے قرآن کی جدیدیت تک رسائی حاصل کرنے میں یقیناً بڑی مدد مل سکتی ہے۔ نیز اس آیت کی رُو سے یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن حکیم میں غور و فکر ہر مسلمان کا فریضہ ہے خواہ اس کا علمی اور عقلی مرتبہ کتناہی فروتر کیوں نہ ہو اور وہ صرف تراجم کی مددسے ہی قرآن کو سمجھتا ہو۔ بلاشبہ اگر ناظرہ قرآن پڑھنے والا محض تلاوتِ قرآن پر ثواب کا مستحق ہے تو تراجم کی مدد سے قرآن پر غور و خوض کرنے والا بھی اجر کا امیدوار ہو سکتا ہے۔
علامہ اقبال نے آل انڈیا مسلم کا نفرنس کے خطبہ ٔ صدارت میں قرآن کی جدیدیت کو بروئے کار لانے کے لیے اجتماعی کاوش کے سلسلے میں دو تجاویز دی تھیں۔ انہیں اس بات کا احساس تھا کہ اس زمانے میں ہمارے قدیم مکاتب ِفقہ کا سرمایۂ فکر ناکافی ہو گیا ہے اور نئی اسلامی فقہ کی ضرورت ہے تاکہ عصرِ حاضر کے نئے تقاضوں کو ادا کرنے کے لیے قانون سازی کی جاسکے۔ لیکن تنہا علماء اس کام کے اہل نہیں کیونکہ وہ جدید علم قانون اور دورِ حاضر کے نئے سماجی اور معاشی مسائل کے بارے میں زیادہ واقفیت نہیں رکھتے‘ اور جو مسلم وکلاء جدید علم قانون میں مہارت رکھتے ہیں‘ وہ علومِ دین سے زیادہ واقف نہیں ہوتے۔ چنانچہ علامہ اقبال کا خیال تھا کہ علماء اور وکلاء پر مشتمل ایک تحقیقی ادارہ قائم کر دیا جائے تو دونوں کے باہمی تعامل اور مشترکہ کوششوں سے اسلامی قانون کی از سرِ نو تشریح‘ توسیع اور حفاظت کرنے سے ایسی نئی اسلامی فقہ معرضِ وجود میں لائی جاسکتی ہے جو زمانۂ حال کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ اسی طرح سے آپ نے پارلیمنٹ کو بھی اجتہاد کا حق دیا اور اس کے ساتھ ہی یہ لازم قرار دیا کہ پارلیمنٹ میں ایسے علماء کی ایک معقول تعداد موجود ہونی چاہیے جو قانون سازی کو اسلامی حدود کا پابند رکھنے کے لیے ایوان کی رہنمائی کر سکے۔
دوسری تجویز ملک کے تمام بڑے شہروں میں مَردوں اور عورتوں کے لیے ثقافتی ادارے قائم کرنے کے بارے میں تھی۔ اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ نوجوان نسل کو یہ بتایا جا سکے کہ انسان کی مذہبی و ثقافتی تاریخ میں اسلام نے اب تک کیا کچھ حاصل کیا ہے اور ابھی کیا کچھ حاصل کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام بھی قرآن اور اسلام کی جدیدیت کی تلاش ہی سے منسلک تھا۔ ان اداروں کا مقصد قرآن اور اسلام کی جدیدیت کو فروغ دینا تھا‘ اس لیے علامہ اقبال قرآن کی جدیدیت کو بروئے کارلانے کے لیے ایسے ادارے قائم کرنے کی ضرورت کا احساس دلا رہے تھے اور ان اداروں میں علماء اور غیر علماء دونوں کا اشتراک ضروری خیال کرتے تھے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹینکا میں ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے عنوان سےJerome R. Ravetz کا جو مقالہ شامل ہے اس میں اس نے اسلامی دنیا میں سائنس کے زوال پذیر ہونے کی بنیادی وجہ یہ بتائی ہے کہ مسلمان ممالک میں کہیں بھی سائنس کا اداراتی ڈھانچا قائم نہیں کیا گیا۔ وہ لکھتا ہے کہ نویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دان علم ریاضی ‘ علم ہیئت ‘ علم بصریات ‘ علم کیمیا اور علم طب میں شاندار پیش رفتیں کر رہے تھے لیکن ان کی یہ ترقی دیر تک قائم نہ رہ سکی‘ جس کا واحد سبب وہ یہ بیان کرتا ہے کہ:
’’مسلمان سائنس دان اگرچہ اپنی اپنی جگہ بڑے بڑے تخلیقی کا رہائے نمایاں انجام دے رہے تھے لیکن ان کی معاشرتی بنیاد (social base) بہت کمزور تھی جس کی وجہ سے ان میں وہ علمی تعاون مفقود تھا جو نچلے درجے کے سائنس دانوں کو بھی مؤثربنا دیتا ہے۔‘‘
یہی صورت حال دینی علوم کی ترقی کے بارے میں ہمیں آج بھی در پیش ہے۔ چنانچہ اس جمود سے نکلنے کی بھی واحد تدبیر یہی ہے کہ دینی علوم کی تحقیق میں معاشرتی بنیاد کو وسعت دی جائے تاکہ دینی علوم کو جدیدیت آشنا کیا جا سکے ۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ قرآن حکیم کی تشریح و تفسیر پر کسی ایک عالم دین یا کسی ایک مکتب فکر کی اجارہ داری تسلیم نہ کی جائے اور قرآن حکیم میں غور و فکر کا حق ہر شخص کو دیا جائے جیسا کہ خود قرآن کا منشا ہے۔ البتہ ہر فرد کے حاصلاتِ تفکر فی القرآن کو ثقافتی اداروں( cultural institutes ) میں ایسے روشن خیال علماء کی نگرانی میں زیر بحث لایا جائے جنہیں عربی زبان اور قرآن و حدیث پر پورا پورا عبور حاصل ہو اور وہ یہ فیصلہ دینے کی صلاحیت سے بہرہ وَر ہوں کہ ان کا تفکر فی القرآن نبی کریم ﷺ کی تشریح و توضیح کے منافی تو نہیں اور وہ اپنے خیالات میں گمراہی کے راستے پر تو نہیں چل نکلے۔
تحریک تفکر فی القرآن
یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ گزشتہ پچاس سال کے عرصے میں حافظ نذر محمد‘ ڈاکٹر اسرار احمد ‘ جاوید احمد غامدی‘ سید شبیر احمد اور ان جیسے کئی اور علماء نے نوجوان نسل میں رجوع الی القرآن کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں شاندار خدمات انجام دی ہیں اور حلقہ ہائے درسِ قرآن قائم کر کے لوگوں کے دل میں نورِ قرآن کی شمعیں فروزاں کی ہیں۔ یہ حضرات زیادہ تر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مولانا امین احسن اصلاحیؒ کے مکاتب ِفکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ رجوع الی القرآن کی تحریک کے ساتھ تفکر فی القرآن کی تحریک کا آغاز کیا جائے۔ اس غرض کے لیے پاکستان کے تمام شہروں میں جہاں جہاں بھی ممکن ہو‘ ایسے کلچرل انسٹیٹیوٹ قائم کیے جائیں جہاں تمام مکاتب ِفکر کے لوگ جمع ہو سکیں اور حالات حاضرہ اور مسائل اُمہ کو زیربحث لاکر قرآن سے رہنمائی اور ہدایت حاصل کر سکیں۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے موجودہ حالات انتہائی مایوس کن ہیں لیکن ہمیں اس بات کو ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کا قیام لیلۃالقدر کی مبارک ساعتوں میں اللہ تعالیٰ کے حکیمانہ فیصلہ کے تحت عمل میں آیا۔ لہٰذا ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے‘ البتہ اس سلسلے میں جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اسے پورا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ یعنی قرآن کی جدیدیت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اجتماعی کاوشوں کو بروئے کار لائیں تاکہ علامہ اقبال کی خواہش کے مطابق پاکستان میں اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ کی راہ ہموار کی جاسکے۔
ہمارے علماء نے جدید تعلیم یافتہ نو جوانوں پر مغرب زدگی اور سیکولر ازم کی مہر لگا کر انہیں دینی اعتبار سے ناقابل اعتماد قرار دے رکھا ہے ‘ حالانکہ ان میں سے کتنے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے محدود دینی علم کے باوجود اسلام کے معاشی اور سیاسی مسائل پر جدید علوم کی روشنی میں قابل قدر تحقیقی کام کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں دور کرنے کی بجائے قریب لایا جائے۔ علومِ تازہ کی سر مستی گناہ نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ بھی قرآنی حقائق تک پہنچادیتی ہے۔؎
کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
علومِ تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
اور: ؎
گہے رسم و رهِ فرزانگی ذوقِ جنوں بخشد
من از درسِ خرد منداں گریباں چاک می آیم
’’کبھی کبھی عقل بھی انسان کو ذوقِ جنون بخش دیتی ہے۔ مجھے دیکھیے میں عقل مندوں کے درس سے اپنا گریباں چاک کر کے آیا ہوں۔‘‘
اس سلسلے میں ڈاکٹر رفیع الدین کا موقف تو یہ تھا:
’’ہم نے علم کو علم دین تک اور دین کو قرآن اور حدیث کے الفاظ تک محدود کر دیا‘ حالانکہ اس وقت جس قدر صحیح اور سچا علم دنیا میں موجود ہے یا آئندہ زمانوں میں انسان کی ذہنی کاوش سے پیدا ہونے والا ہے وہ علم دین کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانہ میں علوم کی ترقی قرآن کو بہت آگے لے گئی ہے لیکن ہم وہیں کے وہیں ہیں‘ بلکہ قرآن آگے جا رہا ہے اور ہمار ارخ پیچھے کی طرف ہے۔‘‘
اپنے اس موقف کے بارے میں انہیں اتنا یقین اور اس حد تک اعتماد تھا کہ انہوں نے علم جدید کا قرآن حکیم کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کو نبوت سے ’’معنوی قرب‘‘ قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہم میں سے بعض کا خیال ہے کہ اسلام کی والہانہ محبت کا جو مقام مسلمانوں کو اسلام کے ابتدائی دور میں حاصل تھا وہ پھر کبھی عود نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ خیال غلط ہے۔اس میں شک نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے: ((خير القرون قرنى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم)) لیکن ہم اس حدیث کی ایسی تشریح نہیں کر سکتے جو قرآن اور حدیث کے باقی ارشادات سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔‘‘
’’نبوت کا قرب ایسا ہے جیسے چراغ کی روشنی کہ جوں جوں ہم اس سے دور ہوتے جائیں ‘کم ہوتی جاتی ہے‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں تک ایمان اور اعتقاد کا تعلق ہے‘ خیر القرون جیسا زمانہ کبھی عود نہیں کر سکتا۔حضورﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں کو جو اسلام کی شدید محبت حاصل تھی اگرچہ نبوت کی ہدایت کے بغیر اس کا حصول ہر گز ممکن نہیں لیکن وہ کوئی ایسا کمال نہیں تھا جو انسان کو نبوت کے زمانی قرب سے ہی حاصل ہو سکتا ہو اور جس کے لیے انسان کی فطرت کے اندر مستقل طور پر کوئی سامان نہ رکھا گیا ہو۔ نبوت کے زمانی قرب نے ہمیں ایمان کی جس دولت سے مالا مال کیا تھا‘ اب نشا ٔۃِثانیہ میں نبوت کا معنوی قرب جو فلسفہ اور سائنس کے ذریعہ سے حاصل ہو گا پھر ہمیں اس سے مالا مال کرے گا اور یہ ایسا قرب ہو گا جسے زوال نہیں اور جو مرورِ زمانہ سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہو تا رہے گا۔ ‘‘
چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’ہو سکتا ہے کہ اسلام کا یہ آخری دور ابتدائی دور سے بھی بہتر ثابت ہو۔ حضور ﷺنے اس بات کا ذکر کرتےہوئے بڑے حوصلہ افزا الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے:’’خوش ہو جاؤ‘ خوش ہو جاؤ‘ بے شک میری اُمت کی مثال بارش کی طرح ہے کہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی ابتدا بہتر ہے یا انتہا۔ ‘‘ ( مشکوٰۃ)
ڈاکٹر رفیع الدین اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ انسان کا ذہن کوئی ایسی علمی حقیقت دریافت نہیں کر سکتا جو فی الواقع ایک سچی حقیقت تو ہو لیکن قرآن کی تشریح و تفسیر نہ ہو۔ ان کا موقف بڑا دوٹوک ہے:
’’سائنس اور فلسفہ کی ہر ترقی خواہ وہ دنیا کے کسی مقام پر اور کسی شخص کی وجہ سے ظہور میں آئے‘ قرآن کے درخت میں ایک نیا پتا‘ نئی شاخ یا ایک نیا پھول یا پھل ہے۔ چونکہ علم کی ترقی جاری رہے گی اور علم وحی نبوت کی رہنمائی میں آخر کار اغلاط سے پاک ہوتا رہے گا ‘ظاہر ہے کہ قرآن کی شاخیں پھل‘ پھول اور پتے قیامت تک نکل نکل کر نوعِ انسانی کو بہارِ حسن دکھاتے رہیں گے اور اس کی ہر قسم کی ترقیوں کو ممکن بناتے رہیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب قرآن کے علم کا درخت پھیل کر تمام کا ئنات کا احاطہ کرے گا اور دنیا کا سارا علم اپنی ساری وسعتوں کے با وجود فقط قرآن کا علم ہو گا ۔‘‘
مختصر یہ کہ ڈاکٹر رفیع الدین اس بات میں پختہ یقین رکھتے تھے کہ قرآن حکیم جدید علوم یعنی فلسفہ و سائنس کے تمام حقائق کو علم وحی کی روشنی میں اغلاط سے پاک کر کے اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی چیز کو علامہ اقبال نے جدیدیت ِقرآن سے تعبیر کیا ہے اور اسے دورِ حاضر میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی ‘جو پاکستان کی غرض و غایت ہے‘ لازمی شرط ٹھہرایا ہے۔
چنانچہ ہمارا یہ خیال ہے کہ جدیدیت ِقرآن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں تفکر فی القرآن کی جان دار اور زور دار تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ قرآن ہمیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پکار رہا ہے کہ: کیا تمہارے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں کہ تم قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ عام مسلمان اس پکار کا مخاطب صرف اور صرف علماء کرام کو سمجھتا ہے ۔ہمارے علماء بھی قرآن حکیم میں عام مسلمانوں کو فرداً فرداً غور کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے کیونکہ وہ انہیں اس کا اہل ہی نہیں سمجھتے۔
آخری بات
قرآن کی جدیدیت کے ذریعے علامہ اقبال نے اسلام کی نشا ٔۃ ِثانیہ کا جو خواب دیکھا تھا اس کا ذکر انہوں نے مکاشفاتی انداز میں ’’پیامِ مشرق‘‘ کی نظم ’’نقشِ فرنگ‘‘ میں بھی کیا ہے۔ اس میں وہ پوری تحدی سے دعویٰ کرتے ہیں کہ مغربی سرمایہ دارانہ استعمار کا قائم کردہ ظالمانہ عالمی نظام یقینی طور پر ختم ہو کر رہے گا اور اس کی جگہ اسلام کا منصفانہ عالمی نظام لے گا۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں: ؎
چشم بکشائے اگر چشم ِتو صاحب نظر است
زندگی درپئے تعمیر جہانِ دگر است
’’آنکھ کھول اور دیکھ اگر تیری آنکھ نورِ بصیرت رکھتی ہے کہ زندگی ایک نیا جہاں تعمیر کرنے کے درپے ہے۔‘‘
من دریں خاکِ کہن گوہر جاں می بینم
چشم ہر ذرہ چو انجم نگراں می بینم
’’میں دنیا کی خاکِ کہن میں گوہر ِزندگی دیکھ رہا ہوں اور مجھے خاک کاہر ذرہ اس انتظار میں آنکھیں کھولے نظر آتا ہے۔‘‘
دانه راکه بآغوشِ زمیں است ہنوز
شاخ در شاخ برومند و جواں می بینم
’’وہ دانہ جو ابھی زیر ِزمین پوشیدہ ہے‘ میں اسے جوان ہوتے اورشاخ در شاخ پھلتا پھولتا دیکھ رہا ہوں۔‘‘
کوه را مثل پر کاہ سبک می یابم
پرِ کاہے صفت کوہِ گراں می بینم
’’مجھے (مغربی تہذیب کا) پہاڑ تنکے کی مانند ہلکا نظر آتا ہے اور پر ِ کاہ] اسلام اپنی موجودہ کمزور حالت میں بھی ]مجھے کوہِ گراں نظر آتا ہے۔‘‘
انقلابے کہ نگنجد بہ ضمیر افلاک
بینم و ہیچ ندانم کہ چساں می بینم
’’ وہ انقلاب جو آسمانوں کے ضمیر میں نہیں سمارہا وہ مجھے صاف نظر آرہا ہے اور نہیں جانتا کہ کیسے نظر آرہا ہے۔‘‘
’’بینم و ہچ ندانم کہ چساں می بینم‘‘ کے الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ان اشعار میں اسی دوسرے مکاشفہ کا بیان ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے چودھری محمد حسین کے نام اپنے خط (مورخہ ۳۰ اگست ۱۹۲۳ء) میں کیا۔ ’’پیامِ مشرق‘‘ کی اشاعت بھی اس خط سے تین ماہ قبل (مئی ۱۹۲۳ء) ہوئی تھی اور نظم’’نقش فرنگ ‘‘ میں ہی آپ نے یہ پیام دیا ہے کہ ’’وقت آن است که آئین دگر تازہ کنیم ‘‘ ( وقت آگیا ہے کہ ہم نیا آئین بروئے کار لائیں) ۔یہ’’آئین دگر‘‘ قرآن ہی کا آئین ہے جو بقول اقبال قرآن کی جدیدیت پر استوار ہو گا۔
قرآن حکیم چودہ سو سال قبل نازل ہوا۔ اس کے ایک ایک لفظ‘ ایک ایک حرف بلکہ زیر و زبر تک کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور اس بنا پر قرآن ہمیشہ کے لیے ناقابل تحریف ہے۔ تاہم اس کے الفاظ کی وسعت ِمعانی لا محدود ہے‘ یعنی بقول اقبال : ع ’’صدجہاں باقی است در قرآں ہنوز‘‘ ۔لیلۃالقدر ہر سال ہمارے لیے قرآن کی معنوی تازگی کا یہی پیغام لاتی ہے جسے علامہ اقبال قرآن کی’’جدیدیت‘‘ سے موسوم کرتے ہیں اور اسے اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔
شب ِنزولِ قرآن میں پاکستان کا قیام قدرت کی طرف سے ہمارے لیے ایک اشارہ ہے کہ تفکر فی القرآن کے ذریعے قرآن کی جدیدیت کا سراغ لگا کر اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ کا آغاز کریں اور دنیا کو اسلامی عدل و احسان کے اس نئے عالمی نظام سے روشناس کرائیں جس کا آج سیاسی اور معاشی استحصال کی ماری مجبور و مقہور انسانیت کو شدّت سے انتظار ہے۔