(دعوتِ فکر) صہیونیت اور ہندوتوا: ایک ہی سکّے کے دو رُخ - رانا عرفان علی

8 /

صہیونیت اور ہندوتوا
ایک ہی سکّے کے دو رُخ
رانا عرفان علی

سورۃ المائدہ کی آیت ۸۲ میں چودہ سو سال قبل ایک ابدی حقیقت بیان کی گئی کہ:
{لَـتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج}
’’تم اہل ایمان کا سب سے سخت دشمن یہودیوں اور ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے شرک کیا‘‘
آج کے دور میں اس کی عملی صورت صہیونیت اور ہندوتوا کے تزویراتی(strategic) گٹھ جوڑ کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں بلکہ اس قرآنی تنبیہہ کی عملی تفسیر ہے‘ جس کے 'ڈی این اے میں نسلی برتری اور فسطائیت رچی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسرائیل کا ’’نیشن اسٹیٹ لا‘‘ اور بھارت کا ’’سی اے اے‘‘ ایک ہی ذہن کی پیداوار ہیں جو شہریت کو مذہب سے جوڑ کر آبادیاتی تبدیلی (demographic engineering) کے ذریعے مسلمانوں کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب فروری ۲۰۲۶ء کا ’’اسپیشل اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ معاہدہ اسی نسلی ایجنڈے کو عالمی سطح پر مسلط کرنے کی کڑی ہے۔ نریندر مودی نے اسرائیل کو ’’فادر لینڈ‘‘ (قوت و حکمت ِعملی کا منبع) اور بھارت کو ’’مدر لینڈ‘‘ (مقدس سرزمین) قرار دے کر اُس نظریاتی و مذہبی ملاپ کا برملا اعتراف کیا ہے جس کا ذکر اللہ ربّ العزت نے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔ یہ اتحاد دراصل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے توسیعی عزائم کو یکجا کر کے اسلام کی نظریاتی اساس اور اس کے دفاعی قلعے پاکستان کے ایٹمی وجود کو نشانہ بنانے کا ایک منظم عالمی منصوبہ ہے۔ دونوں طاقتیں جانتی ہیں کہ جب تک پاکستان کی ایٹمی صلاحیت موجود ہے‘ ان کے’’مقدس‘‘ توسیع پسندانہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتے۔
ذیل میں صہیونیت (Zionism) اور ہندوتوا (Hindutva) کے درمیان نظریاتی‘ مذہبی اور سیاسی مماثلتوں کا جائزہ لیا گیا ہے‘ جو ثابت کرتی ہیں کہ ان دونوں کے ڈی این اے‘ اہداف اور طریقہ کار یکساں ہیں۔
(۱) مذہبی اور کائناتی تصورات
• تناسخ (Reincarnation): دونوں نظریات میں روحوں کی واپسی یا دوبارہ جنم کا تصور موجود ہے۔ یہودیوں کے ہاں ’’گلگول‘‘ اور ہندوؤں کے ہاں ’’آواگون‘‘ یا کرموں کے حساب کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔
• تخلیق کائنات: دونوں کے ہاں کائنات کی بنیاد ایک مرکزی ہستی سے جڑی ہے۔ صہیونیت میںابراہام (Abraham) اور ہندوتوا میں برہما (Brahma) کا تصور بنیادی ہے۔
• مقدس زبان: دونوں اپنے مذہبی متن اور عبادات کے لیے قدیم اور مخصوص زبانوں (عبرانی اور سنسکرت) کو لازم قرار دیتے ہیں۔
• باطنی روایات: دونوں نظاموں میں عملیات، جادو، اور حروف و اشیاء کی تسخیر کے تصورات (قبالہ اور تانترک روایات) گہرے اثرات رکھتے ہیں۔
(۲) سماجی درجہ بندی اور نسلی برتری
• منتخب قوم کا زعم: صہیونیت میں یہودیوں کو ’’خدا کی منتخب قوم ‘‘سمجھا جاتا ہے‘ جبکہ ہندوتوا میں براہمن اور اونچی ذات کی برتری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
• ذات پات کا نظام: جس طرح ہندو مت میں برہمنوں کا خاص درجہ اور دلتوں سے امتیاز برتا جاتا ہے‘ اسی طرح یہودیوں کے ہاں کاہن اور لیوی طبقے کی مخصوص حیثیت اور غیر یہودیوں (Gentiles) سے سماجی دُوری کا تصور ملتا ہے۔
• تبلیغ سے گریز: یہ دونوں بنیادی طور پر نسلی مذاہب ہیں جو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنے یا تبلیغ کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔
(۳) مذہبی و ثقافتی علامات
• مقدّس دھاگا: دونوں میں مقدس دھاگا پہننے کی روایت مشترک ہے ۔یہودیوں میں ’’تزیتزت‘‘ اور سرخ دھاگا (کلائی پر) جبکہ ہندوؤں میں ’’جنئیو‘‘ اور ’’کلاوا‘‘ (سرخ دھاگا) مذہبی علامات ہیں۔
• جانوروں کی تقدیس: دونوں کے ہاں مخصوص جانوروں کو روحانی مقام حاصل ہے‘ جیسے اسرائیل میں سرخ بچھیا (Red Heifer) اور بھارت میں گاؤ ماتا (گائے)۔
• مقدس رنگ: صہیونیت میں سرخ بچھیا اور مخصوص نشانات‘ جبکہ ہندوتوا میں زعفرانی رنگ کو مذہبی بالادستی کی علامت مانا جاتا ہے۔
(۴) سیاسی اور تزویراتی اہداف
ث علاقائی توسیع: دونوں کے سیاسی اہداف جغرافیائی پھیلاؤ پر مبنی ہیں۔ صہیونیت کا ہدف ’’گریٹر اسرائیل‘‘ (نیل سے فرات تک) ہے‘ جبکہ ہندوتوا کا ہدف اکھنڈ بھارت (پورے برصغیر پرقبضہ) ہے۔
• مشترکہ دشمن اور ایٹمی پروگرام: دونوں اسلام اور مسلمانوں کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کی ایٹمی طاقت کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور اسے ختم کرنے کے مشترکہ ایجنڈے پر کاربند نظر آتے ہیں۔
• نسل کشی اور جارحیت: غزہ و فلسطین اور کشمیر و گجرات میں مسلمانوں کے خلاف منظم کارروائیاں‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اور نسل کشی کے طریقہ کار میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔
• فاشسٹ آئیڈیالوجی: دونوں کی بنیادیں جارحانہ قوم پرستی پر ہیں‘ اور ہندوتوا کے بانیان نازی ازم اور صہیونیت سے متاثر رہے ہیں۔
(۵)مذہبی جنون اور آخری معرکہ
• مسیحائی انتظار: دونوں اپنے نجات دہندہ کے منتظر ہیں: یہودی ’’مسیح‘‘ کے اور ہندوتوا کے حامی ’’کلکی اوتار‘‘ کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
• ہیکل بمقابلہ مندر: مسجد ِاقصیٰ کی جگہ تیسرا ہیکل بنانے کا صہیونی عزم اور بابری مسجد جیسی مساجد کو گرا کر وہاں مندر کی تعمیر ایک ہی طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔
• وطن سے پوجا کی حد تک وابستگی: ’’ارضِ مقدس‘‘ اور ’’پُنیا بھومی‘‘ (مٹی کی پوجا) کے تصورات وطن کو ایک الوہی حیثیت دیتے ہیں۔
ث• آخری عظیم جنگ: دونوں ایک آخری فیصلہ کن جنگ (Armageddon یا مہابھارت/ دھرم یدھ) پر یقین رکھتے ہیں‘ جس کے بعد وہ دنیا پر اپنی مکمل سیادت اور رام راجیہ یا صہیونی عالمی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اُمّت ِمسلمہ کے لیے لمحہ ٔ فکریہ
مذکورہ بالا تمام حقائق اور مشاہدات اس بات پر مہر ِتصدیق ثبت کرتے ہیں کہ یہود و ہنود محض دو جغرافیائی خطے یا سیاسی اکائیاں نہیں ‘ بلکہ ایک ہی سکے کے دو رُخ اور اسلام دشمنی کے عالمی محاذ کے دو متحرک بازو ہیں۔ ان کے نظریات‘ ان کی تاریخ اور ان کے حالیہ اقدامات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یہ دونوں گروہ مسلمانوں کو اپنا مشترکہ اور اوّلین دشمن تصوّر کرتے ہیں۔
تاریخ اور حالیہ جغرافیائی بساط پر نظر ڈالیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہود و ہنود کا یہ اتحاد دراصل ان دو بڑے معرکوں کی پیش بندی ہے جن کا ذکر احادیث ِمبارکہ میں ملتا ہے‘ اور اس پورے منظر نامے میں پاکستان کا مقام نہایت منفرد اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔
ا) غزوئہ ہند اور ’’ٹھنڈی ہوا‘‘ کی بشارت
پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ اس روحانی قوت کا مرکز ہے جس کی نوید چودہ سو سال قبل دی گئی تھی۔ احادیث ِمبارکہ میں مشرق کی سمت سے آنے والی جس ’’ٹھنڈی ہوا ‘‘کا ذکر ملتا ہے‘ اسے علامہ اقبال نے اُمّت کے لیے اُمید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا تھا: ؎
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے‘ میرا وطن وہی ہے!
یہ ٹھنڈی ہوا دراصل اس ایمانی جذبے اور عسکری قوت کی علامت ہے جو غزوئہ ہند میں اسلام کا ہراول دستہ بنے گی۔ احادیث کے مطابق‘ مشرق سے اٹھنے والا یہ لشکر ہند کے جابر حکمرانوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا اور پھر یہی لشکر شام کی سرزمین پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جا ملے گا۔ یوں پاکستان اس عظیم مہم کے لیے ایک لانچنگ پیڈ کی حیثیت رکھتا ہے‘ جو مشرق سے مغرب تک حق کی بالادستی کا راستہ ہموار کرے گا۔
ب)الملحمۃ الکبریٰ اور عالمی صہیونی محاذ
دوسری طرف‘ الملحمۃ الکبریٰ (The Great Slaughter) کا معرکہ ہے جو شام اور مشرقِ وسطیٰ کے میدانوں میں برپا ہوگا۔یہاں مسلمانوں کا مقابلہ دجالی فتنوں اور ان کے پیروکاروں (جن کی اکثریت یہودیوں پر مشتمل ہوگی) سے ہوگا۔ یہود و ہنود کا حالیہ گٹھ جوڑ دراصل اسی حتمی جنگ کی تیاری ہے جہاں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ (الملحمۃ کا فرنٹ) اور’’اکھنڈ بھارت‘‘ (غزوئہ ہند کا فرنٹ) ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں۔
ج)پاکستان: مشترکہ ہدف اور رکاوٹ
یہود و ہنود بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی قوت بشمول ایٹمی طاقت محض ایک ملک کا دفاع نہیں بلکہ پوری اُمّت ِمسلمہ کی امانت اور حفاظتی قلعہ ہے۔یہ قائم رہی تو ان کے توسیع پسندانہ خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکتے۔ ان کے نزدیک مسلم اُمّہ کی تباہی اور مقدسات پر قبضے کی راہ میں سب سے بڑی تزویراتی اور روحانی رکاوٹ پاکستان ہے۔ اسی لیے وہ پاکستان کو معاشی‘ سیاسی اور جغرافیائی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس ٹھنڈی ہوا کے مرکز کو اس طوفان میں بدلنے سے روکا جا سکے جو باطل کے ایوانوں کو تہس نہس کرنے والا ہے۔
وقت کی پکار اور ہماری ذمہ داری
آج اُمّت ِمسلمہ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں خاموشی اور غفلت کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ یہ وقت ہے کہ:
(۱) مسلمان اپنی ذمہ داری کو پہچانیں: دشمن ہمارے عقائد‘ ہماری نسلوں اور ہمارے دفاعی اثاثوں پر حملہ آور ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔
(۲) اتحادِ اُمّت: فرقہ واریت‘ نسلی تعصب اور جغرافیائی قید سے نکل کر {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْاص} کے تحت ایک سیسہ پلائی دیوار بُنیانٌ مرصوص بننا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب تک مسلمان تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرے رہیں گے‘ یہود و ہنود کی سازشیں کامیاب ہوتی رہیں گی۔
(۳) نظامِ حق کا قیام: باطل کے ان فاشسٹ نظریات (صہیونیت و ہندوتوا) کا مقابلہ صرف اور صرف ’’نظامِ حق‘‘ کے قیام ہی سے ممکن ہے۔ ایک ایسا نظام جو عدل و انصاف‘ توحید اور انسانیت کی فلاح پر مبنی ہو‘ جو باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُمّت کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔
آخری فتح حق کی ہے، بشرطیکہ ہم اپنے کردار اور عمل سے ثابت کریں کہ ہم اللہ کے دین کے سچے محافظ ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت اور مسلمانوں کا ایمانی جذبہ وہ اثاثہ ہے جو ان تمام عالمی سازشوں کو خاک میں ملا سکتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے ’’ڈی این اے‘‘ کو ایمانی حرارت سے گرمائیں اور باطل کے اس عالمی گٹھ جوڑ کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔