(ظروف و احوال) حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست! - ایوب بیگ مرزا

8 /

حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست!ایوب بیگ مرزا

ایک زمانہ تھا جب رضا شاہ پہلوی ایران کا بادشاہ تھا۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات مثالی تھے۔ امریکہ اور سوویت یونین دو حقیقی عالمی قوتیں تھیں۔ دنیا کے اکثر ممالک ان دو سپرقوتوںکے حلیفوں میں بٹے ہوئے تھے۔ امریکہ کا پلہ اُس وقت بھی قدرے بھاری تھا لیکن سوویت یونین کی پھنکار سے بھی اکثر ممالک سہمے رہتے تھے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کا جھکاؤ سوویت یونین کی طرف تھا لیکن اس نے غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ پاکستان کے امریکہ سے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ وہ ’’سیٹو‘‘اور ’’سینٹو‘‘ کا رُکن بھی تھا ‘لیکن امریکہ کی قربت کے حوالے سے جو حیثیت ایران کو حاصل تھی وہ کسی کو نہ تھی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اس خطے کی چودھراہٹ ایران کو دے رکھی تھی۔ گویا وہ خطے میں امریکہ کا نمائندہ اوراس کا مقررکردہ تھانیدار تھا۔داخلی سطح پر رضا شاہ پہلوی کاایران پر مکمل اور غیر متنازعہ کنٹرول تھا۔ ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خمینی کی حیثیت اپوزیشن لیڈر کی تھی لیکن ان کا ایران میں رہنا مشکل ہو گیا تھا تو وہ فرانس ہجرت کر گئے اور وہاں سے اسلام اور اسلامی انقلاب کے حوالے سے اپنی تقاریر ریکارڈ کر کے خفیہ طور پر ایران بھجواتے رہے۔
رضا شاہ کے تکبر کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی کو گھاس ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ داخلی طور پر ملک میں اپنے کنٹرول اور بیرونی دنیا میں امریکہ کی سرپرستی اور کھلی حمایت نے اُس کی رعونت بلکہ فرعونیت میں بڑا اضافہ کر دیا تھا۔ وہ اپنا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ سائرس اعظم سے جوڑتے ہوئے اپنی حکومت کو اس شہنشاہیت سے منسلک کرتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب اسلامی سربراہانِ مملکت کا لاہور میں اجتماع بلایا تو امریکہ کے اشارے پر رضا شاہ پہلوی نے شرکت سے انکار کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ذاتی رابطہ کر کے پاکستان آنے کا بڑا اصرار کیا لیکن رضا شاہ پہلوی راضی نہ ہوا۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے اس نے ڈھائی ہزار سالہ ایرانی شہنشاہیت کا جشن منایا تھا‘جس میں  دنیا کے تمام سربراہوں کو مدعو کیا۔اس مقصد کے لیے تہران کے قریب خاص طور پر ایک نیا شہر بسایا گیا۔ پاکستان کی طرف سے اس وقت کے صدر یحییٰ خان شریک ہوئے۔اس فنکشن میں شراب و کباب اور عیش و عشرت کا بھرپور سامان کیا گیا۔ پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا۔ امریکہ کے نائب صدر بھی ایک بڑے وفد کے ساتھ شریک ہوئے۔ دنیا کے سامنے ایرانی شہنشاہیت کا بھرپور اظہار کیا گیا۔
رضا شاہ پہلوی نہیں جانتا تھا کہ امام خمینی کے فرانس سے ایران آنے والے کیسٹ ایرانی عوام کے اذہان و قلوب میں کس قدر رچ بس گئے ہیں‘ اور ان کے اندر ایک ایسا جذبہ مچل رہا ہے جو کسی وقت بھی طوفان کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پھر وہی ہوا۔ عوام ظاہری طور پر ایرانی حکومت اور حقیقی طور پر رضا شاہ پہلوی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ شاہ نے بدترین ظلم و تشدد کیا۔ ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ بار بار وزیر اعظم بدل رہا تھا اور ظلم کو ناقابل بیان حد تک بڑھا رہا تھا۔ لوگ گولیاں کھا کر بھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے اکثر عدم تشدد کا مظاہرہ ہوا۔ امریکہ نے جب دیکھا کہ ہمارا گھوڑا بری طرح پٹ رہا ہے اور اس کے بچنے کے امکانات محدود ہو چکے ہیں تو اس نے بھی اپنی سرشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ کو دھتکار دیا۔ یہاں تک کہ جب رضا شاہ پہلوی ایران سے جان بچا کر بھاگا تو امریکہ نے اپنے اس وفادار غلام کو پناہ دینے سے بھی انکار کر دیا۔ چنانچہ اس نے مصر میں پناہ لی۔ شاہ بیمار پڑ گیاتو امریکہ نے علاج کے لیے بھی اسے اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دی۔وہ مصر کے ایک ہسپتال میں بے بسی کے عالم میں دم توڑ گیا۔
ایران اور امریکہ کی جنگ کے حوالے سے لکھنے سے پہلے راقم نے یہ ابتدائیہ اس لیے لکھا ہے کہ قارئین کے سامنے ان حکمرانوں کا انجام بھی آ جائے جو اپنے عوام پر ظلم و ستم توڑتے ہیں‘ اور ایران کے عوام کا عزم بھی سامنے آ جائے کہ جب وہ کسی بات پر ڈٹ جائیں تو کس طرح اپنی جان قربان کر دیتے ہیں لیکن پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ حقیقت میںیہ غلط ہے یا درست‘ ایرانی بہرحال قوم پرست ہیں۔ مناسب ہوگا کہ ایران کی قوم پرستی کی ایک دو اور مثالیں قارئین کے سامنے رکھی جائیں۔ پہلی یہ کہ اس جنگ سے پہلےآیت اللہ خامنہ ای کی مذہبی حکومت کے خلاف مظاہرےاتنی بڑی سطح پر ہو رہے تھے کہ شاہ کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی یاد تازہ ہو گئی تھی۔جونہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا بلکہ حملے کے آثار ہی پیدا ہوئے تھے تو مخالفانہ مظاہرے حکومت کے حق میں تبدیل ہو گئے ۔ ایرانی عوام نے متحد ہو کر بیرونی حملہ آور کے خلاف محاذ بنا لیا اور ریاست کے لیے ایک حفاظتی قلعہ کی صورت اختیار کر لی۔ پھر جب سیز فائر سے پہلےصدر ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھر اور پل تباہ کرنے کی دھمکی دی تو ایرانی اپنے بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہو گئے کہ آؤ پہلے ہمیں مارو۔ قصہ کوتاہ‘ امریکہ کے خطرناک و تباہ کن اسلحہ بارود کو ایرانیوں نے اپنے جذبے سے پسپا کر دیا۔ نیتن یاہو نےصدر ٹرمپ کو جو یہ سبق پڑھایا تھا کہ زبردست بمباری کے پہلے ہی ہلے میں اگر موجودہ ایرانی سیاسی اور عسکری لیڈرشپ کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا تو ایرانی فوراًاپنی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم ایران کو ترنوالہ بنا کر نگل جائیں گے‘ یہ اندازہ اتنا غلط ثابت ہوا کہ لفظ غلط بھی اتنا غلط نہیں جتنا یہ فلسفہ غلط ثابت ہوا۔ امریکہ کی پسپائی اور اسرائیل کی دھلائی تو ہوئی‘ بےچارے عرب جو جنگ کے نام سے ہی بستر میں گھس جاتے ہیں ان کی بھی ایران کے ہاتھوں ایسی درگت بنی کہ دنیا نے خوب تماشا دیکھا۔
امریکہ نے تو اپنے وفادار رضا شاہ پہلوی کو دھتکار کر ایران کی نئی انقلابی حکومت کو ایک مثبت پیغام دیاتھالیکن امام خمینی کے وزیر ابراہیم یُز دی نے القدس ریلی نکال کر فلسطینیوں کی حمایت کر ڈالی‘ جس پر اسرائیل غصے سے بے قابو ہو گیا ۔ یوں امریکہ بھی اپنے اس لے پالک کی وجہ سےامام خمینی کی حکومت کا شدت سے مخالف ہو گیا۔ یہ ہے وہ کشیدگی جو۱۹۷۹ ء سے اب تک نہ صرف ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں دوسری مرتبہ جنگ کا میدان گرم ہوا ہے۔ نیتن یاہو نےسابق امریکی صدور خاص طور پر بارک اوباما کے سامنے اس انداز میں یہ بات رکھی تھی اور انہیں طویل لیکچر دیے تھے کہ ایران پر حملہ کرناکیوں بہت ضروری ہے‘ لیکن ٹرمپ سے پہلے کوئی صدر اس حماقت پر آمادہ نہ ہوا۔ یہ توایک کھلا راز ہے کہ امریکہ میں صدارت کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار ہو یا ر ی پبلکن ‘جب تک وہ اسرائیل سے اپنی صدارتی امیدواری کی سند حاصل نہ کر لے اس کے امریکی صدر منتخب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ٹرمپ جب ر ی پبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بنا تو اس نے اسرائیل کا ایک خفیہ دورہ کیا۔ دنیا کی خبر رساں ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ آج جو کچھ صدر ٹرمپ اسرائیل کے لیے کر رہا ہے یہ سب کچھ اُس دورے میں طے ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی تنظیم جو ۱۹ویں صدی کے آخر میں اسرائیل کے قیام کے حوالے سے متحرک ہوئی تھی اور جس نے دو عالمی جنگیں کروا کر طاقت کے مرکز کو لندن سے واشنگٹن منتقل کیا تھا‘ اس کا اب ہدف گریٹر اسرائیل کے قیام اور واشنگٹن سے عالمی طاقت کے مرکز کو تل ابیب بلکہ یروشلم منتقل کرنا ہے۔ لہٰذا اس وقت دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ مثلاً امریکہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا‘پاک بھارت جنگ‘ بھارت کے وزیراعظم مودی کا اسرائیل کا دورہ‘یہ سب کچھ ایک پلان کے تحت ہو رہا ہے تاکہ صہیونی تحریک اپنے طے شدہ اہداف کو حاصل کر سکے۔ ٹرمپ صدر تو امریکہ کا ہے لیکن صہیونیوں کے کنٹرول میں ہے۔ وہ بندوق کی نوک پر صدر ٹرمپ کو اس راستے پر چلا رہے ہیں۔یہ سفر طے کرنے میں ان کے سامنے فوری رکاوٹ ایران ہے۔ یہاں انہیں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ غلطی ایران کی جنگی صلاحیت کو سمجھنے میں ہوئی‘ جبکہ اصل اور بڑی غلطی ایرانیوں کے جذبہ حریت کو سمجھنے اور تولنے میں لگی۔
پھر یہ کہ یورپ جو امریکہ کا فطری اتحادی سمجھا جاتا ہے‘اس نے نہ صرف امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیابلکہ امریکی اور اسرائیلی حملے کو ناجائز قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے ’’نیٹو‘‘ کو بھی پکارا لیکن اس نے بھی ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر وہ طعن کرنے پر اُتر آیا اور کہا کہ نیٹو ممالک نے ہمارا اتنا مال کھایا ہے لیکن وقت پڑنے پر ہمارا ساتھ نہیں دیا۔اس نے سب سے عجیب و غریب حرکت یہ کی کہ پوپ جس کا امریکہ سے تعلق ہے‘ اسےبھی بے نقط سنا دیں‘ حالانکہ عیسائی دنیا میں اسے ایک مقدس شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جنگ کے نتائج چونکہ صدر ٹرمپ کی توقعات کے مطابق نہیں آرہے تھے‘ لہٰذا وہ بری طرح بوکھلا گیا اور ایسی غلیظ زبان کا استعمال کیا جوکسی مملکت کے صدر کو تو کیا‘ کسی عام شخص کو بھی زیب نہیں دیتی۔ بالآخر ایران کو الٹی میٹم دے دیا گیا کہ اگر اس نے سات اپریل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کا انفراسٹرکچر اور بجلی کا نظام تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔ البتہ الٹی میٹم ختم ہونے سے پہلے پاکستان کی کوششوں سے یہ اعلان ہو گیا کہ دو ہفتے کی سیز فائر ہوگی اور اس دوران اسلام آباد میں فریقین کے مذاکرات ہوں گے ۔یہ پاکستان کے لیےیقیناً بہت بڑا اعزاز تھا۔ مذاکرات کے حوالے سے امریکہ نےپانچ نکات اور ایران نے دس نکات پیش کیے:
(۱) جوہری پروگرام پر پابندیوں کو قبول کیا جائے ۔
(۲) معاشی پابندیاں برقرار رہیں گی ۔
(۳) چین کے ساتھ تعلقات محدود رکھے جائیں ۔
(۴) افغان طالبان کے ساتھ تعاون نہ کیا جائے ۔
(۵) میزائل پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر پابندیاں
ایران کی شرائط :
(۱) تمام فریقین کی جانب سے فوری ‘ غیر مشروط اور مکمل جنگ بندی تاکہ مزید جانی و مالی نقصان نہ ہو ۔
(۲) امریکہ خطے خصوصاً مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجی موجودگی ختم یا نمایاں حد تک کم کرے ۔
(۳) ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیوں کو مکمل طور پر اٹھایا جائے تاکہ اس کی معیشت بحال ہوسکے ۔
(۴) پُر امن جوہری پروگرام کے حق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے جوکہ IAEA کے اصولوں کے تحت ممکن ہے ۔
(۵) امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ مستقبل میں ایران پر حملہ نہیں ہوگا ۔
(۶) اسرائیل کو ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں سے روکا جائے ۔
(۸) آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی محفوظ اور بلارکاوٹ آزادی کو یقینی بنایا جائے ۔
(۹) فریقین کے درمیان قیدیوں اور زیرحراست افراد کا تبادلہ کیا جائے ۔
(۱۰) خطے کے ممالک کی خودمختاری اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو یقینی بنایاجائے ۔
(۱۰) ایک باقاعدہ اور مستقل سفارتی مذاکراتی نظام قائم کیا جائے ‘ جس میں ثالثی کردار پاکستان جیسے ممالک ادا کرسکیں تاکہ مستقبل کے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکے ۔
مذاکرات شروع ہوئے۔ امریکہ کی طرف سے نائب صدر جےڈی وینس ‘وزیر جنگ وٹکاف اور ٹرمپ کا داماد جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔ایران کی طرف سے سپیکر اسمبلی محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔وقفوں کو نکال دیں تو۱۵گھنٹے مسلسل مذاکرات ہوئے۔۱۲ اپریل صبح۵۰:۳ پر امریکی نائب صدر نے امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ہم ایک میز پر بیٹھے اور بات چیت ہوئی‘ بعض نکات پر اتفاق ہوا‘لیکن بری خبر یہ ہے کہ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا‘کیونکہ ایران ہمیں کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکا کہ وہ ایٹم بم نہیں بنائے گا۔ لہٰذا مذاکرات ختم کر دیے گئے۔اس کے بعد وہ اپنے جہاز کے ذریعے امریکہ واپس روانہ ہو گئے۔امریکیوں کے اس طرز عمل اور بعض دوسرے عوامل نے ان مذاکرات کے انعقاد کے حوالے سے پھر سے چند سوالات اٹھا دیے ہیں ‘جو ہم قارئین کے سامنے لانا چاہیں گے:
(۱) جنگ سے پہلے عمان میں مذاکرات ہو رہے تھے‘لیکن اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔مذاکرات کے بارے میں عمان نے واشگاف الفاظ میں بتایا کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے حوالے سے ایران امریکہ کے مطالبات پر بڑا مثبت جواب دے رہا تھا‘ یہاں تک کہ یورینیم کی مزیدافزودگی نہ کرنے پرمتفق جبکہ موجودہ ذخائرکسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا تھا۔
(۲) اگر مذاکرات یوں آگے بڑھ رہے تھے اور ایران اکثر مطالبات مان رہا تھا تو پھر مذاکرات کے درمیان ہی ایران پر حملہ کیوںکر دیا گیا؟
(۳) امریکی صدر کہتے ہیں کہ باقی معاملات پر تو اتفاق ہو رہا تھا اور یورینیم افزودہ کرنے کے بارے میں ایران جنگ سے پہلے ہی اتفاق کر رہا تھا تو اسلام آباد مذاکرات میں یہ کہنے کا جواز کیسے پیدا ہو گیا کہ چونکہ ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے ایران مطالبہ تسلیم نہیں کر رہا لہٰذا مذاکرات ناکام ہو گئے؟
(۴) اسلام آباد مذاکرات کے دوران ہی سعودی عرب نے یہ انکشاف کیوں کر دیا کہ پاکستان کے جنگی جہاز اور فوجی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور انہیں سعودی عرب کے مشرق میں العزیز ایئر بیس میں متعین کیا گیا جس کا رخ ایران کی سرزمین کی طرف ہے؟ گویا اسلام آباد مذاکرات کے شروع ہوتے ہی سعودی عرب اور پاکستان کو معلوم تھا کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔ اگر یہ روٹین کا مسئلہ تھا تو ایک دن انتظار کرکے اور مذاکرات کے ختم ہونے کے فوری بعد کیا جا سکتا تھا۔ پھر یہ کہ ساتھ ہی ایک خبر رساں ایجنسی نے یہ خبر دے دی کہ سعودی عرب سٹیٹ بنک آف پاکستان میں مزید پانچ ارب ڈالر بطور امانت رکھوائے گا۔ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات کا اس سطح پر پہنچنا کہ پاکستان وہاں زمینی اور فضائی فوج بھیجے ‘ اگرچہ بڑا مثبت اور فائدہ مند نظر آتاہے لیکن اس میں بعض خطرات بھی پنہاں ہیں‘ جن کا فی الحال ذکر کرنا مناسب نہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوںبرادر ممالک کے لیے اس سے خیر برآمد کرے۔ آمین!
راقم کی رائے میں مذاکرات کا کامیاب نہ ہونا ایک طے شدہ مسئلہ تھا۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کا یہ ڈھونگ رچانے کی آخر ضرورت کیا تھی؟راقم کی رائے میں دو وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کہ اسے جنگ میں کچھ وقفے کی ضرورت تھی۔ اس نے سیز فائر کر کے اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کروا کے مطلوبہ وقفہ حاصل کر لیا تاکہ وہ نئی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف پیش رفت کر سکے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے پر اندرونِ ملک ٹرمپ حکومت سخت تنقید کی زد میں تھی۔ مذاکرات سے یہ تاثر دینا مطلوب تھا کہ ہم تو ابھی بھی پُرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اضافی کام یہ کیاگیا کہ مذاکرات کی ناکامی کا سبب خوا مخواہ ایران کا ایٹم بم قرار دے دیا۔یہ گویا یورپ کو ساتھ ملانے کی ایک کوشش ہے‘ اس لیے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت یورپ کو بھی کسی طرح قبول نہیں۔ اب امریکہ ایک طرف یہ جھوٹی بات پھیلا رہا ہے کہ امن کی بات چیت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی جبکہ دوسری طرف جس آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے دن رات دعوے کر رہا تھا‘ اس کو خود اس طرح بند کر دیا ہے کہ ایران کے لیے بھی اپنا تیل فروخت کرنا شاید ناممکن ہو جائے۔ اب ایران اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے یا اپنے دوستوں کے جہاز گزارنا چاہے گا تو جنگ ہوگی اور امریکہ اس کا الزام ایران پر لگائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کے حوالے سے سمجھوتا یا جنگ کو مستقل ختم کرنا کسی طرح بھی امریکہ کے ایجنڈے پر موجود نہیں۔ وہ ہر صورت ایران کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ یہی صہیونیوں کا بھی اصل پروگرام ہے جو وہ امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ہر قسم کے مذاکرات محض ڈھکوسلا تھے‘ کسی صورت امریکہ کو مطلوب ہی نہ تھے۔
تازہ ترین حالات نے معاملات کا ایک اور زاویہ واضح کر دیا ہے۔ ایران نے جب آبنائے ہرمز کو بند کیا تھا توچین کو یہ سہولت حاصل تھی کہ اس کے جہاز آ جا رہے تھے۔ اب امریکہ اسے مکمل طور پر بند کر کے چین کو بھی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ماضی میںبھی مختلف اوقات میں امریکہ چین کو اشتعال دلا کر جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ ہر مرتبہ یہ کوشش ناکام بنا دیتا تھا۔ امریکہ بار بار چین کو جنگ میں کیوں گھسیٹنا چاہتا تھا؟ امریکہ سمجھتا تھا کہ چین جو اقتصادی اور معاشی جِنّ بن چکا ہے اور عسکری معاملات میں بھی بڑی روانی سے آگے بڑھ رہا ہے‘ اسے فوری طور پر اگر نہ روکا گیا تو بعد میں ایسا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا عین ممکن ہے کہ امریکہ اپنے اہداف اسی جنگ کو بہانہ بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہو۔ راقم کی رائے میں اگر حالیہ جنگ میں امریکہ اور اس کی راہنمائی کرنے والے صہیونیوں کو بڑا دھچکا لگ گیا اور انہیں محسوس ہوگیاکہ فی الحال وہ جنگ کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکتے تو دوبارہ مذاکرات کا ڈول ڈالا جاسکتا ہے‘ جن میں امن کے حقیقی قیام کی کوشش کی جائے گی ۔ اسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ وہ اس آگ کو پھیلانے سے باز رہیں‘ وگرنہ صہیونی اپنی خواہشات کی تکمیل میں دنیا کو بھسم کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔
یہ تحریر اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی کہ میڈیا میں صدر ٹرمپ کا بیان سامنے آیا کہ ایران نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں اور قوی امکان ہے کہ ڈیل ہو جائے گی‘ تب میں(ٹرمپ) ڈیل پر دستخط کرنے پاکستان جاسکتا ہوں۔ اگرچہ امریکی صدر کی کسی بات پرپوری طرح یقین تو نہیں کیا جا سکتا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اب کوئی ڈیل ہوجائے گی ۔البتہ راقم کو اس بات پر اصرار ہےکہ یہ جنگ میں ہفتوں کے بجائے کچھ ماہ کے وقفہ کا معاملہ ہوگا کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ میں غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ آئندہ ان سارے حالات اور معاملات کو مدّ ِنظر رکھ کراپنے جنگی اہداف کوحاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔ بہرحال اس وقت جو صورت حال راقم کو نظرآتی ہے‘ اس پر خاموشی ہی لازم ہے کہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست!