بیسویں صدی کا ایک عظیم داعی ٔ قرآنحافظ طاہر عبد اللہ صدىقى‘ ناصر الدىنخلاصہ
اس تحقیقی مقالے میں پاک و ہند کے عظیم اسلامی سکالر اور مدرس و داعیٔ قرآن ڈاکٹر اسراراحمد رحمہ اللہ کی شخصیت و خدمات کا جائزہ لیاجائے گا۔
ڈاکٹراسراراحمدؒ ایک عظیم مفکر‘مصلح(reformer)اورعبقری (intellectual) تھے۔ آپ غیر تقسیم ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تحریک پاکستان کے چشم دیدگواہ اور سرگرم کارکن رہے۔پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعداس کی طرف اوّلین ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے۔میڈیکل کی تعلیم کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن رہے اور ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد مولانا مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت اسلامی پاکستان میں شامل ہوئے۔ بعد میں جماعت اسلامی سے علیحدہ ہوگئے۔
ڈاکٹرصاحبؒ فکری لحاظ سے علامہ اقبال ‘ ڈاکٹر رفیع الدین ‘ سید ابوالاعلیٰ مودودی ‘ حمیدالدین فراہی ‘ امین احسن اصلاحی ‘ شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا شبیر احمد ٕعثمانی nسے بہت متاثر تھے۔ چنانچہ موصوف کے فکرو منہج پر ان حضرات کا بڑا اثر رہا۔
دینی خدمات کے لیے ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے تین ادارے قائم کیے : (١) مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور (٢) تنظیم اسلامی (٣) تحریک خلافت پاکستان۔ یہ ادارے اپنے مقاصد اور عزائم کو سامنے رکھتے ہوئےملک میں بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ برسرکار ہیں۔
ڈاکٹر صاحبؒ نے تحریر اور تقریر کی سطح پر بہت کام کیاہے۔ ایک عظیم موادتحقیق وجستجو اورراہنمائی کے لیے دستیاب ہے۔ ڈاکٹراسراراحمدؒ کی اپنی تصانیف ایک صد کے قریب ہیں۔ علاوہ ازیں‘ان کے جاری کردہ تین جرائد بھی ہیں: (١)ماہ نامہ ’’میثاق‘‘ (٢) سہ ماہی ’’حکمت ِقرآن‘‘ (٣) ہفت روزہ ’’ندائے خلافت‘‘۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے آڈیو/ ویڈیو خطابات بزبانِ اردو اورانگریزی کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے۔
ڈاکٹراسراراحمدؒ کی انہی خدمات کو دیکھتے ہوئے علمی اختلافات سے قطع نظر موصوف کو بلاشبہ بیسویں صدی عیسوی کے تحریر و تقریر بالخصوص درسِ قرآن کے میدان کا ’’مجدد‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
تعارف
ڈاکٹراسراراحمدؒ کے آباء واجداد کا تعلق یوپی کے ضلع مظفر نگر سے تھا اور وہ وہیں آباد تھے۔ ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے آپ کے دادا کو انگریز سرکار کی طرف سے عتاب کا اندیشہ تھا‘ لہٰذا وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے مشرقی پنجاب آگئے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی ولادت ۲۶ اپریل ۱۹۳۲ء کو مشرقی پنجاب کے ایک قصبہ حصار میں ہوئی۔
ڈاکٹر صاحبؒ بچپن ہی سے انتہائی حساس مزاج کے حامل تھے اور اللہ نے انہیں کم عمری میں ہی شعور کی دولت عطافرمائی تھی۔ چنانچہ ۱۹۳۸ء میں جب اُنہیں علامہ اقبال کے وصال کی خبر ملی تو اُنہوں نے اسے ایک ذاتی صدمے اور قومی نقصان کے طورپر محسوس کیا جبکہ ان کی عمر صرف چھ برس تھی۔علامہ اقبال سے دلی لگاؤ کا عالم یہ تھا کہ محض ۱۰ برس کی عمر میں اُن کی اردو شاعری کے پہلے مجموعہ ’’بانگ درا‘‘ کا مطالعہ مکمل کرلیا۔ علامہ اقبال کے اُن اشعار نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا جن میں اُمّت کے پھر سے عروج کے لیے امید افزا پیغام ہے۔ مثلاً: ؎
کتابِ ملّت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
سبق پھر پڑھ صداقت کا‘عدالت کا‘ شجاعت کا
لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا!البتہ’’ جوابِ شکوہ‘‘ کےایک شعر نے ڈاکٹر صاحبؒ کو ہلاکر رکھ دیا:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر!اس شعر سے یہ حقیقت آپ پر واضح ہوگئی کہ اُمّت کے زوال کا اصل سبب قرآن حکیم سے دوری ہے ۔یوں گویا اوائل عمر ہی سے خدمت ِقرآن کا جذبہ آپ کی سوچ میں سرایت کرگیا۔ اس کے بعد اسلام کو پھر سے غالب کرنے کا ولولہ بڑی شدت سے موجزن ہوگیا جب ۱۳ برس کی عمر میں حفیظ جالندھری کا ’’شاہنامہ اسلام‘‘ پڑھا ‘جس کا عنوان یہ شعر ہے : ؎
کیا فردوسیٔ مرحوم نے ایران کو زندہ
خدا توفیق دے تو میں کروں ایمان کو زندہ!خدمات
ڈاکٹراسرار احمدؒ کی دینی خدمات کے کئی پہلو ہیں‘ ان کے فکر کی بے شمار جہات ہیں جو وقت کے ساتھ کھلتی چلی جائیں گی۔ان کی فکری تشکیل میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے تصوراتِ دین نے اگرچہ بنیادی کردار اداکیا لیکن خود ڈاکٹر صاحبؒ نے یقینی طورپر اس فکر کے بہت سے خلا پُر کیے اور بہت سے نئے گوشے آشکار کیے۔ ان کی تمام جدو جہد‘ حرکت و عمل اور تنظیم و تحریک کامحور قرآن مجید اور سُنّت ِرسول ﷺ ہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تفہیم کے لیے ان کی زبان کی گرہیں کھول دی تھیں‘ گویا قرآن کو ان کی زبان پر آسان کردیاتھا۔ ان کے دروسِ قرآن کا غلغلہ نصف صدی سے زائد عرصے تک پوری دنیا میں برپا رہا ۔ قرآن حکیم کے بیان میں بلاشبہ ان کا کوئی ثانی اور مدّ ِمقابل نہ تھا۔ ان کے فکر کا منبع و ماخذ کلی طورپر قرآن مجید تھا۔
ڈاکٹرصاحب ؒ کے فکر کا ایک مستقل نظریہ یہ تھا کہ کو ئی بھی اسلامی تحریک اُس وقت تک کسی قسم کی اجتماعی اور مؤثرتبدیلی نہیں لاسکتی جب تک اس کے ارکان’’ایمانِ حقیقی‘‘ کی نعمت سے سرفراز نہ ہوں‘ اپنی انفرادی زندگی میں اسلام کے احکام پر مکمل طورپر عمل پیرانہ ہوں اور اپنی معاشرت و معیشت کو اسلامی خطوط پر ڈھال نہ چکے ہوں۔ اس نظریے کا اگلاجزو یہ ہے کہ ’’ایمانِ حقیقی‘‘ کے حصول کے ذرائع تو بہت ہیں ‘ یہ نعمت عمل صالح سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے اور صالحین کی صحبت سے بھی‘ لیکن اس کا مؤثرترین ذریعہ قرآن حکیم ہے۔ یہ ’’صالحین‘‘ بھی قرآن حکیم ہی پیدا کرے گا۔ لہٰذا قرآن کی طرف حقیقی رجوع کے بغیر صالحین کی ایسی جماعت پیدا نہیں ہوسکتی جو اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ ثابت ہو۔
ڈاکٹر صاحب ؒ کو اس با ت کا بھی شعوری ادراک تھا کہ اُمّت ِمسلمہ کے زوال کی اصل وجہ قرآن حکیم سے دُوری ہے۔ جب اُمّت نے قرآن کےپیغام کو فراموش کردیا تووہ فقہی‘ مسلکی اور فروعی مسائل میں اُلجھ کر رہ گئی۔ یو ں اختلافات کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔ قرآن سے اُمّت کا تعلق محض اسے پڑھنے ‘ حصولِ ثواب اور ایصالِ ثواب تک محدود ہوکر رہ گیا۔ چنانچہ ڈاکٹرصاحبؒ نے عظمت قرآن کو اُجاگر کیا اور اس بات کو باور کرایا کہ قرآن مجید کی صورت میں اُمّت ِمسلمہ کے پاس ایک عظیم نعمت موجود ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کا زندئہ جاوید معجزہ ہے۔ پھر انہوں نے تفصیل سے’’ مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کے عنوان سےتقریر کی‘ جو بعد میں باقاعدہ کتابی شکل میں وسیع پیمانے پر شائع کی گئی۔ اس اشاعت ِعام کا مقصد اُمّت کو قرآن حکیم کے ہر پہلو کی طرف راغب کرناتھا تاکہ وہ کلامِ الٰہی کی تلاوت کے ساتھ اس کو سمجھنے کی طرف بھی متوجہ ہو۔ یہ بلاشبہ ایک لاجواب تحریر ہے۔اس کتابچے کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قرآن کی طرف راغب کرنےکے لیے ڈاکٹرصاحبؒ نے حضور ﷺ کے اس قول مبارک کو عام کیا کہ ((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) (صحیح البخاری) ’’تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو خود قرآن کا علم حاصل کریں اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیں۔‘‘
ڈاکٹرصاحبؒ نے چودھویں صدی ہجری کے عظیم مجدد اور مجاہد شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے درج ذیل قول سے تقویت حاصل کی اور اسے بہت عام کیا۔ حضرت شیخ الہندؒ فرماتے ہیں:
’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دُنیوی ہرحیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں‘ تو اس کے دوسبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑدینا‘ دوسرا آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیاہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیاجائے‘بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی عام کیے جائیں‘ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیاجائے‘ اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیاجائے۔‘‘
ڈاکٹرصاحبؒ کو اس تشخیص پر کامل یقین تھا‘ لہٰذا انہوں نے اپنی زندگی قرآن کریم کی نشرو اشاعت کے مبارک کام میں کھپادی۔ان کی اس تشخیص کو مزید تقویت بیسوی صدی عیسوی کے عظیم فلسفی علامہ اقبال ؒ کے افکار سے حاصل ہوئی۔ وہ زمانہ ٔ طالب علمی ہی سے علامہ اقبال ؒ کے فکر سے متاثرتھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ علامہ اقبال ؒ کے افکار آپ پر آشکارا ہوتے گئے۔ ان کی عظمت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’چنانچہ ان کےاشعار توایمان و یقین کےکیف و سرور‘ محبت ِالٰہی اورعشق رسول ﷺ کےسوز وگداز اور جذبۂ جوش ملی سے مملوہیں ہی‘ ان کے 'خطبات بھی درحقیقت وقت کی اعلیٰ ترین علمی سطح پر مطالعۂ قرآن حکیم ہی کی ایک کوشش کا مظہر ہیں جس کے ذریعے علامہ مرحوم نے جدید ریاضیات و طبیعیات اور فلسفہ و نفسیات کا رشتہ قرآن حکیم کی اساسی تعلیمات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے بغیر دور ِحاضر میں دین و مذہب کی گاڑی کا آگے چلنا محالِ مطلق ہے۔‘‘
علامہ اقبالؒ کے اشعار کے ذریعے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو وہ یہ پیغام بھی دینا چاہتے تھے کہ قرآن کی قوت ِتسخیر اس قدر شدید ہے کہ مغرب و مشرق کے فلسفوں کا ماہر بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ یہ فقط مذہبی ذہن کے لوگوں ہی کومتاثر نہیں کرتا بلکہ علامہ اقبال جیسا مغربی دنیا کے علوم سے فیض یاب ہونے والا فلسفی بھی قرآن کی عظمت کا قائل ہے۔ وہ علامہ اقبال کو بہت بڑا ترجمان القرآن سمجھتے تھے۔ فرماتے ہیں:
’’واقعہ یہ ہے کہ میرے نزدیک اس دور کا سب سے بڑا ترجمان القرآن اور سب سے بڑا داعی الی القرآن علامہ اقبال ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجیدکی عظمت کا جس گیرائی اور گہرائی کے ساتھ احساس علامہ اقبال کو ہوا‘ میری معلومات کی حدتک اس درجے عظمت کا انکشاف کسی اور انسان پر نہیں ہوا۔ جب وہ قرآن مجید کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ ان کی دید اور ان کا تجربہ ہے۔‘‘
انجمن خدّام القرآن کا قیام
ڈاکٹرصاحب ؒ کی قرآنی خدمات کے ضمن میں اولیت تو ان کے دروسِ قرآن کو حاصل ہے۔ زمانۂ طالب علمی ہی میں ان کے دروسِ قرآن کا چرچا تھا۔ ان کے ذریعے انہوں نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیاا ور ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوا۔ ۱۹۵۴ء میں ایم بی بی ایس کرنے کے بعد جب وہ ساہیوال میں سکونت پذیر ہوئے تو وہاںاور گردو نواح میں حلقہ ہائے دروسِ قرآن قائم کیے۔ یہ دروس انتہائی مقبول ہوئے۔ جب ۱۹۵۸ء میں کراچی تشریف لائے تو یہاں بھی آپ کے دروسِ قرآنی کا سلسلہ جاری رہا۔ ۱۹۶۵ء میں لاہور میں مستقلاً رہائش پذیر ہوئے تو دروسِ قرآ نی کے حلقے وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے۔ خود لکھتے ہیں:
’’۱۹۶۵ء ہی کے وسط میں راقم الحروف غلبہ و اقامت ِدین کی جد و جہد کے پختہ ارادے ‘ اور تعلّم وتعلیم قرآن کی منظم منصوبہ بندی کے عزم مصمم کے ساتھ دوبارہ وارد ِ لاہور ہوا۔ چنانچہ وہ دن اور آج کا دن‘ یہی دو کام میری زندگی کا مرکزو محور رہے ہیں اور ان پچیس سالوں کے دوران الحمد للہ ثم الحمدللہ کہ میرے اوقات اور میری صلاحیتوں اور میری توانائیوں کا اکثر و بیشتر حصہ اصلاً غلبہ و اقامت ِدین کی جدوجہد اور عملاً تعلّم و تعلیم قرآن کی مساعی میں صرف ہوا ہے۔‘‘
ڈاکٹر صاحبؒ کی مندرجہ بالا تحریر ۱۹۹۰ء کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹرصاحبؒ نے اپنی حیاتِ دُنیوی کا آخری لمحہ بھی اسی کام میں صرف کیاہے۔
لاہورمیں مسجد خضراء اور مسجد شہداء کے ہفتہ وار دروسِ قرآن کو بہت شہرت ملی۔ جو لوگ ان دروسِ قرآن میں شریک رہے ہیں وہ ان روح پرور مناظر کے چشم دید گواہ ہیں۔ ڈاکٹرصاحبؒ کے دروسِ قرآن کا یہ سلسلہ لاہور اور اس کے مضافات ہی تک محدود نہ رہابلکہ دوسرے بڑے شہروں میں بھی ماہانہ دروسِ قرآن کی محافل منعقد ہونے لگیں۔ چنانچہ کراچی میں تاج محل ہوٹل کی ’’شامِ الہدیٰ‘‘ اور اسلام آباد کے کمیونٹی سینٹر‘ آب پارہ کے ماہانہ درسِ قرآن سے ہزاروں تشنگانِ علم سیراب ہوئے۔ ان سطور کا ایک راقم بھی ۱۹۸۴ء/۱۹۸۵ء میں تاج محل ہوٹل کے ماہانہ درسِ قرآنی ہی سے ڈاکٹرصاحبؒ کے فکر اور شخصیت سے متعارف ہوا۔
ڈاکٹرصاحبؒ کے ان دروسِ قرآنی کے سامعین کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اہل ثروت طبقے پر مشتمل ہوتی تھی‘ کیونکہ ان کا معیار انتہائی اعلیٰ علمی سطح کا ہوتاتھا۔ وہ خود فرماتے ہیں:
’’ میرے مخاطبین یہی لوگ ہیں‘ اگر سوسائٹی کا یہ طبقہ تبدیل ہوجائے تو یہ تبدیلی خود بخود نچلی سطح تک پہنچے گی‘ کیونکہ یہی لوگ معاشرے کا رجحان بنانے اور بگاڑنے والے ہوتے ہیں اور عام لوگ انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔‘‘
۱۹۷۲ء میں مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے قیام کےساتھ ہی محترم ڈاکٹر صاحبؒ نے دستورِانجمن میں اپنا یہ عزم ظاہر فرمادیاتھا کہ وہ انجمن کے قیام ہی کو اپنی منزل نہیں سمجھتے بلکہ ان کے پیش نظر اصل کام ایک ایسا تحریکی قافلہ تشکیل دینا ہے جو غلبہ و اقامت ِدین کی جد و جہد کے لیے اپنا تن من دھن نچھاور کرسکے۔ ۱۹۶۶ء تا ۱۹۷۴ء حلقہ ہائے دروسِ قرآن کے ذریعے شہر لاہور میں قرآن کے انقلابی پیغام کو پہنچانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پڑھے لکھے طبقات پر مشتمل ایک حلقہ ٔ احباب وجود میں آگیا‘ جو اپنی تمام دینی ذمہ داریوں بالخصوص اقامت ِدین کی جدوجہد کے لیے قلباً اور ذہناً آمادہ ہوچکے تھے۔۱۹۷۴ء کی قرآنی تربیت گاہ کے اختتام پر ڈاکٹر صاحبؒ نے اعلان کردیا کہ وہ مذکورہ بالا مقصد کی خاطر ایک اجتماعیت تشکیل دینے کاپختہ ارادہ رکھتے ہیں۔
تنظیم اسلامی کا قیام
ڈاکٹر صاحبؒ نے ۱۹۷۵ء میں دین اسلام کے غلبے اور اقامت ِدین کی جدوجہد کے لیے اپنے حسبِ عزم ’’تنظیم اسلامی‘‘ قائم کی لیکن ابتدامیں اس جماعت کی امارت کی ذمہ داری قبول نہیں کی بلکہ کنوینر کے طورپر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی سے علیحدہ ہونے والے اُن بزرگ حضرات کے لیے جو ۱۹۶۷ء میں تنظیم اسلامی کے قیام پر متفق ہوئے تھے‘ اس نئی اجتماعیتکے دروازے کھلے رکھے جائیں‘اور انہی میں سے کوئی بزرگ اِس جماعت کی امارت کا منصب سنبھالیں۔ ڈھائی سال کے انتظار کے باوجود کوئی بزرگ اِس کے لیے تیار نہ ہوئے۔بالآخر اگست ۱۹۷۷ء میں تنظیم اسلامی کے تیسرے سالانہ اجتماع کے موقع پر ڈاکٹر صاحبؒ نے تنظیم اسلامی کی امارت کی ذمہ داری قبول کی۔اس موقع پر یہ طے کیا گیا کہ اس جماعت کی اساس قرآن وسُنّت اور سلف صالحین کے آثار سے ماخوذ بیعت سمع و طاعت کے اصول پر ہوگی۔
اَسفار
ڈاکٹرصاحبؒ کا فکر ِقرآنی جغرافیائی حدود سے نکل کر دوسرے ممالک تک پہنچ گیا۔ چنانچہ انہوں نے۱۹۷۹ء میں امریکہ کا پہلا دعوتی و تبلیغی دورہ کیا‘ جو بعد میں مختصر وقفوں کے ساتھ مسلسل جاری رہا۔ امریکہ کی سرزمین آپ کی دعوتِ قرآنی کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہوئی۔ ۱۹۸۴ء میں مکہ مسجد‘ حیدرآباددکن (بھارت) میں مسلسل تین دن ہزاروں خواتین و حضرات نے آپ کے کئی کئی گھنٹوں پر محیط دروسِ قرآن سنے۔۱۹۸۵ءمیں ابوظبی کا دورہ کیا اور مختلف موضوعات پر بھرپور دروسِ قرآن دىے‘ جن کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ یہاں ڈاکٹرصاحبؒ کے صرف ابتدائی بیرونی اسفار کاذکر کیا گیاہے‘ اگر اس داستان کو مرتب کیاجائے توعلیحدہ سے ایک کتاب اس کی متقاضی ہو گی۔
پاکستانی میڈیا
ڈاکٹرصاحبؒ کے قرآنی فکر کو اُس وقت ایک نئی جہت ملی جب پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ ان دروس نے آپ کے فکر اور شخصیت دونوں کو خوب متعارف کرایا۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ’’بیان القرآن‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام شروع ہوا‘ جو چار سال تک مسلسل چلتا رہا۔ اس کے علاوہ تین سال تک ہر رمضان المبارک میں پی ٹی وی پر آپ کے پروگرام ’’الکتاب‘‘ ’’الٓمّ‘‘ اور’’حکمت و ہدایت‘‘ جاری رہے۔ ربیع الاوّل میں فلسفہ ٔ رسالت کے بارے میں آپ کا پروگرام ’’رسولِ کامل ﷺ ‘‘ بھی پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوا۔ اس پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔
پی ٹی وی کے جس پروگرام نے ڈاکٹر صاحب ؒ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچادیا وہ درسِ قرآن کا ہفتہ وار پروگرام ’’الہدیٰ‘‘ ہے‘ جو پندرہ ماہ تک جاری رہا۔ پھر اس پروگرام کو مخالفین کے اعتراضات کی وجہ سے صاحبانِ اقتدار نے بند کرا دیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے تو اپنے دروازے ڈاکٹرصاحبؒ پربند کردیے لیکن قرآنی فکر کے اِفشا کے لیے اللہ تعالیٰ نئے نئے راستے کھولتا رہا۔ جب الیکٹرانک میڈیا آزاد ہوا اور پرائیویٹ سیکٹر میں نئے چینلز کھلنے لگے تو ڈاکٹرصاحبؒ کےدروسِ قرآنی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا۔ چنانچہ ترجمہ و تفسیر قرآن کا پروگرام ’’ بیان القرآن‘‘ Qtvسمیت مختلف چینلز پر لاکھوں انسانوں کے قلوب و اذہان کو مسخر کرنے کا ذریعہ بنا۔البتہ ڈاکٹرصاحبؒ کے زوردار قرآنی فکر نے پھر کچھ لوگوں کو پریشان کردیا۔ ان شرپسند عناصر نے اپنی مسلکی تنگ نظری کے باعث اس فکر انگیز پروگرام کو بند کرادیا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک اور راستہ نکال دیا۔ چنانچہ محترم ڈاکٹر عبدالکریم ذاکر نائیک کے Peace TV کے ذریعے آج بھی لاکھوں لوگ نورِ قرآنی سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
دورۂ ترجمۂ قرآن مجید
ڈاکٹرصاحبؒ کی خدماتِ قرآنی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت نماز تراویح کے ساتھ دورۂ ترجمہ ٔ قرآن کو حاصل ہے۔ اس طرح کے طویل دورانیے کے پروگرام کی کوئی دوسری مثال ڈاکٹر صاحبؒ سے پہلے نہیں ملتی۔ اس کا آغاز ۱۴۰۴ھ (۱۹۸۴ء) کے رمضان المبارک میں مسجد جامع القرآن ‘قرآن اکیڈمی‘ لاہور سے ہوا۔ صلوٰۃ التراویح کی ہر چار رکعات میں قرآن مجید کے جتنے حصے کی تلاوت کی جاتی‘ پہلے اس کا ایک رواں ترجمہ اور مختصر تشریح بیان کردی جاتی۔ پھر قاری جب قرآن کی تلاوت شروع کرتا تو سامعین پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی۔
یہ روح پرور پروگرام رات دو اڑھائی بجے تک جاری رہتا۔ اللہ تعالیٰ نےاس پروگرام کو اس قدر پذیرائی بخشی کہ ہررمضان المبارک میں مسجد جامع القرآن میں ایک عجیب ایمان پرور منظر دیکھنے کو ملتا۔ مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی‘جن کا انہماک بھی دیدنی ہوتا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں دورۂ ترجمۂ قرآن کے پروگرام شروع ہوگئے‘ جو آج تک جاری ہیں۔ بلامبالغہ‘ ملک بھر میں سینکڑوں مقامات پرڈاکٹر صاحبؒ کے تلامذہ بنفس نفیس دورہٴ ترجمۂ قرآن کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ ان سطور کا ایک راقم بھی انہی میں سے ہے۔ فللّٰہ الحمد!
بیان القرآن (ترجمہ ومختصر تفسیر)
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے شہرئہ آفاق دورئہ ترجمہ قرآن کو قرآن اکیڈمی لاہور کے شعبہ مطبوعات نے تسوید و تبییض‘ ترتیب و تدوین اور تحقیق و تدقیق کے مراحل سے گزار کر کتابی صورت میں شائع کیا ہے‘ جسے دعوت رجوع الی القرآن کے ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا پہلا حصہ ڈاکٹر صاحب کی حیاتِ مستعار ہی میں (۲۰۰۸ء میں) شائع ہو گیا تھا اور اس کی غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی نے انہیں اس کے بقیہ کام کے بارے میں ایک خوش گوار اضطراب سے دوچار کر دیا تھا۔ ۲۰۱۰ء میں اس کا دوسرا حصہ اشاعت کے لیے تیار تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو مالک ِ حقیقی کی جانب سے بلاوا آ گیا۔ بہرحال ’’بیان القرآن‘‘ کا سال بہ سال ایک حصہ منصہ شہود پر آتا رہا‘ تاآنکہ جون ۲۰۱۵ء کے آغاز میں یہ کٹھن کام سات حصوں میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ۲۰۲۱ء میں ’’بیان القرآن‘‘ کو ایک نئی ترتیب و تقسیم کے ساتھ تقریباً برابر ضخامت کی چار جلدوں میں ’’طبع جدید‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا‘ جو متعدد ظاہری و باطنی خوبیوں کا حامل ہے۔ فروری ۲۰۲۵ء میں ’’بیان القرآن‘‘ ہی کے ترجمہ اور منتخب حواشی کے ساتھ ’’مختصر بیان القرآن‘‘ نذر ِقارئین کیا گیا۔ حواشی کے انتخاب میں ڈاکٹر صاحبؒ کے قرآنی فکر کو مقدم رکھا گیا ہے۔ (اضافہ از مدیر ’’میثاق‘‘)
مطالعہ ٔ قرآن حکیم کا منتخب نصاب
دروسِ قرآن کے ضمن میں ’’مطالعۂ قرآن حکیم کا منتخب نصاب‘‘ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ اس کی بنیاد تو سورۃ العصر ہے‘ پھر اس کے پانچ حصے ہیں‘ جو سورۃ العصر کے مضامین ہی کو کھولتے ہیں۔ اس میں تصورِ دین کو واضح کرنے کے ساتھ ایک مؤمن کے دینی فرائض کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔اس منتخب نصاب کو ڈاکٹر صاحبؒ نے مختلف مواقع پر بیان کیا ہے۔ بعض دروس مختصر جبکہ بعض بہت مفصل اور علمی سطح کے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب ؒ نے ’’منتخب نصاب (حصہ دوم)‘‘ بھی مرتب فرمایا۔ یہ بھی بہت اہم ہے۔ اس حصہ میں قرآن حکیم کی روشنی میں ایک اسلامی تحریک کے رفقاء کے باہمی تعلقات ‘ امیر و مامور کا باہمی تعلق‘ تحریکی کام کے تقاضے اور اہمیت کو واضح کیاگیاہے۔ اس میں بہت سے علمی مباحث شامل ہیں‘ جن کی مدد سے حضور ﷺ کی برپا کردہ اسلامی تحریک کوسمجھنے میں مددملتی ہے۔
قرآن کانفرنسز
ڈاکٹرصاحبؒ کی قرآنی خدمات میں ’’قرآن کانفرنسوں‘‘ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ان کو بہت شہرت ملی۔قرآن حکیم کے علوم و معارف کو عام کرنے میں ان کانفرنسوں نے اہم کرداراداکیا‘جن میں مختلف مکاتب ِفکر کے علماء اور اہل فکر و دانش کو مدعو کیاجاتا۔ ہر کانفرنس کا ایک خاص موضوع ہوتا‘ جس پر علماء کرام مقالے پڑھتے اور تقاریر کرتے۔ پاکستان کے علاوہ بھارت سے جید علماء ‘ جیسے مولانا اخلاق حسین قاسمی‘ مولانا سعید احمد اکبرآبادی‘ مولانا عبدالکریم پاریکھ اور مولانا وحید الدین خان و غیرہم کو بھی مدعو کیا گیا۔ بعد میں ان کی جگہ ’’محاضرات ِقرآنی‘‘ کا سلسلہ شروع کیاگیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحبؒ وضاحت کرتے ہیں:
’’مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کا قیام اسی بنیاد پر عمل میں آیا تھا‘ چنانچہ اس کے زیراہتمام دسمبر۱۹۷۳ء سے مسلسل سات سال تک قرآن کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رہا۔ لاہور اور کراچی میں بفضلہ تعالیٰ ہم نے سات نہایت عالی شان سالانہ قرآن کانفرنسیں منعقد کیں۔ اس کے بعد بعض اسباب سے ہم نے عنوان بدلا‘ جن میں سب سے بڑا سبب جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے باعث ِمسرت اور بارگاہ ربّ العزت میں ہماری ان حقیر کوششوں کے مقبول ہونے کا کسی درجہ میں سہی ایک مظہر بھی ہے‘ یہ تھا کہ’’قرآن کانفرنس‘‘ کا لفظ اتنا مقبول ‘ اتنا معروف اور اتنا مشہور ہوا کہ جابجا دوسرے اداروں کی طرف سے نہ صرف متعدد قرآن کانفرنسیں ‘ جنہیں بجاطورپر قرآن کانفرنسیں قراردیاجاسکتاہے‘ منعقد ہوئیں‘ بلکہ بات یہاں تک جاپہنچی کہ اگر کسی تجوید کے مدرسے کے سالانہ جلسۂ تقسیم اسناد کاانعقاد ہوا تو اس کا عنوان بھی ’’قرآن کانفرنس‘‘ قراردیاجانے لگا‘ تو ہم نے پھر اس کو چھوڑکر ’’محاضراتِ قرآنی‘‘ کی اصطلاح سے ان مجالس کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا۔‘‘
محاضراتِ قرآنی
ان کا آغاز ۱۹۸۹ء سے ہوا۔ یہ محاضرات کراچی میں بھی منعقد ہوئے اور لاہورمیں بھی۔ چنانچہ ایک موضوع کا انتخاب کیاجاتا‘ اس پر ڈاکٹرصاحبؒ متعدد قرآنی لیکچر دیتے۔ ہر لیکچر کے بعد اہل فکر و دانش کا ایک پینل اس علمی موضوع سے متعلق سوالات کرتا‘ ڈاکٹرصاحبؒ ان کی وضاحت کرتے۔ یہ پینل مختلف مکاتب فکر کے جید علماء‘ جدید فکر کے حامل اہل فکر‘ وکلاء اور صحافیوں پر مشتمل ہوتا۔ ۱۹۸۹ء میں منعقد ہونے والے محاضراتِ قرآنی کا موضوع ’’اسلام کا نظامِ حیات‘‘ تھا۔ ڈاکٹرصاحبؒ نے اسلام کا روحانی و اخلاقی نظام‘ اسلام کا معاشرتی نظام‘ اسلام کا سیاسی نظام اور اسلام کا معاشی نظام پر اڑھائی اڑھائی گھنٹے خطاب فرمائے‘جن کے بعد تیکھے اور چبھتے ہوئے سوالات کے جواب دىے۔ ۱۹۹۱ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے محاضراتِ قرآنی کاموضوع ’’حقیقت ِایمان‘‘ تھا۔ اس موضوع کو پانچ ذیلی موضوعات میں تقسیم کیاگیا۔ یہ محاضراتِ قرآنی اب کتابی شکل میں موجود ہیں۔
تحریک ِخلافت پاکستان
۱۹۹۱ء میں ’’تحریک ِخلافت پاکستان‘‘ کا آغاز کرنےکے بعد محترم ڈاکٹرصاحبؒ نے پورے پاکستان کا مفصل دورہ کیا‘ جس کے دوران تمام بڑے شہروں میں عوامی جلسوں سے خطاب فرمایا۔بعدازاں کراچی‘ لاہور‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ کوئٹہ اور ملتان میں ہالز اور آڈیٹوریمز کے پُرسکون ماحول میں ’’خطباتِ خلافت‘‘ کی صورت میں خالص علمی اور عقلی استدلال کے ساتھ نظامِ خلافت سے متعلق ان جملہ مسائل و مشکلات کا حل پیش کیا جو بالعموم نہ صرف مخالفین بلکہ موافقین کے ذہن میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ پانچ خطبات اب ’’خلافت کی حقیقت اور عصر حاضر میں اس کا نظام‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا محاضرات اعلیٰ علمی سطح کے حامل ہیں۔ ان کے ذریعے اہلِ علم و دانش تک قرآن حکیم کی دعوت کو پہنچایا گیا۔
رفقاء کار
ڈاکٹر صاحبؒ اس اعتبار سے انتہائی خوش قسمت انسان تھے کہ انہیں ایسے رفقاء کا ر میسر آئے جو آپ کے کا م کو جدید انداز میں محفوظ کرتے رہے۔چنانچہ ڈاکٹرصاحبؒ کے دروسِ قرآنی آڈیو‘ ویڈیو‘ کیسٹس‘ سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز میں محفوظ ہیں۔ دعوتِ قرآنی کی نشرواشاعت میں ان کیسٹس اور سی ڈیز نے انتہائی اہم کردار اداکیاہے۔ ان کی مدد سے لاکھوں انسان نورِ قرآنی سے مستفید ہورہے ہیں۔ ڈاکٹرصاحبؒ اگرچہ اب ہمارے درمیان میں موجود نہیں ‘ لیکن جدید سائنس کا یہ کرشمہ ہے کہ ان کی آڈیو‘ ویڈیو‘ اور سی ڈیز سے ہم ایسے مستفید ہوسکتے ہیں جیسے کہ وہ ہمارے سامنے درس دے رہے ہوں!
تحریک رجوع الی القرآن
ڈاکٹرصاحبؒ کو اس بات کا کامل ادراک تھا کہ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پرکام کرنے کی ضرورت ہے‘ چنانچہ انہوں نے اس کام کو ادارتی شکل میں منظم کرنے کا خواب دیکھا۔ ان کے بہت سے خواب ان کی زندگی میں شرمندۂ تعبیر ہوئے جبکہ کچھ کام وہ ادھورے چھوڑ گئے جو ان کے فکری وارثوں کے کرنے کے ہیں۔
سب سے پہلے انہوں نے اپنے قیام ساہیوال کے دوران ایک ’’قرآنی دارالمقامہ‘‘ قائم کیا‘جہاں کالج میں زیر تعلیم طلبہ کو رہائش فراہم کرکے ‘ انہیں عربی زبان اور قرآن حکیم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ نوجوانوں کو قرآن حکیم کی طرف لانے کی یہ اولین کوشش تھی۔
۱۹۶۵ء میں ڈاکٹر صاحبؒ نے ایک اشاعتی ادارہ ’’دارالاشاعت الاسلامیہ‘‘ قائم کیا‘ جس کا مقصد قرآنی مطبوعات کی اشاعت تھا۔ یہ ادارہ ڈاکٹرصاحبؒ نے اُس رقم سے قائم کیا جو انہیں اپنے بھائیوں سے کاروباری علیحدگی کے باعث حاصل ہوئی۔ اس ادارے نے مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کی تصانیف اور ان کی معرکۃ الآراء تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کی ابتدائی جلدیں شائع کیں۔ ماہ نامہ’’میثاق‘‘جو پہلے مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کی زیر ادارت نکلتاتھا اور کچھ عرصہ سے بند تھا‘ وہ بھی دوبارہ شائع کرنا شروع کیا۔
ڈاکٹرصاحبؒ نے ۱۹۷۲ء میں ’’مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور‘‘ قائم کی۔ اس کے قیام کے مقاصد میں علومِ قرآنی کی اشاعت اور مختلف تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے وسائل مہیا کرناتھا۔ انہوں نے ۱۹۶۷ء میں ایک قرآن اکیڈمی کا خواب دیکھاتھا۔ چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:
’’……ایک قرآن اکیڈمی کا قیام عمل میں لایاجائے‘ جو ایک طرف علومِ قرآنی کی عمومی نشرواشاعت کا بند وبست کرے تاکہ قرآن کا نور عام ہو اور اس کی عظمت لوگوں پر آشکارا ہو اور دوسری طرف ایسے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے جو بیک وقت علوم جدیدہ سے بھی بہرہ وَر ہوں اور قرآن کے علم و حکمت سے بھی براہ راست آگاہ ہوں تاکہ متذکرہ بالا علمی کاموں کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔ علومِ قرآنی کی عمومی نشرواشاعت کا اہم ترین نتیجہ یہ نکلے گا کہ عام لوگوں کی توجہات قرآن حکیم کی طرف مرکوز ہوں گی‘ ذہنوں پر اس کی عظمت کا نقش قائم ہوگا‘ دلوں میں اس کی محبت جاگزیں ہوگی اور اس کی جانب ایک عام التفات پیدا ہوگا۔ نتیجتاً بہت سے ذہین اور اعلیٰ صلاحیتیں رکھنے والے نوجوان بھی اس سے متعارف ہوں گے۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ ان میں سے اچھی بھلی تعداد ایسے نوجوانوں کی نکل آئے جو اس کی قدروقیمت سے اس درجہ آگاہ ہوجائیں کہ پوری زندگی کو اس کے علم و حکمت کی تحصیل اور نشرواشاعت کے لیے وقف کردیں۔ ایسے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اس اکیڈمی کا اصل کام ہوگا اوراس کے لیے ضروری ہوگا کہ ان کو پختہ بنیادوں پر عربی کی تعلیم دی جائے‘ یہاں تک کہ ان میں زبان کا گہرا فہم اور اس کے ادب کا ستھرا ذوق پیداہوجائے۔ پھر انہیں سبقاً سبقاً قرآن پڑھایاجائے اور ساتھ ہی حدیث نبویﷺ ‘ فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم دی جائے۔‘‘
ڈاکٹرصاحبؒ نے قرآن اکیڈمی کا خواب کیوں دیکھا؟ اس کی وضاحت بھی انہوں نے کردی۔ انہیں اس بات کا بھی ادراک تھا کہ دینی مدارس میں قرآن کی طرف رجوع بہت کم ہے۔ پھر اس بات کی نہ کوئی ترغیب ہے‘ نہ اہتمام کہ عوام الناس تک قرآنی علوم پہنچائے جائیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
’’یہ عرض کرنا غالباً خارج از محل شمار نہیں ہوگا کہ خو د علماء کے حلقوں میں تاحال قرآن حکیم پر توجہ اس درجہ مرکوز نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ راقم الحروف نے ایک بار مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے دریافت کیاکہ اس کا کیا سبب ہےکہ اصولِ حدیث اور اصولِ فقہ پر تو ہمارےیہاں ضخیم تصانیف موجودہیں لیکن اصولِ تفسیر پر کل دو مختصر رسالے ملتے ہیں: ایک امام ابن تیمیہ ؒ کا اور دوسرا شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا؟ اس کا جواب تو مولانا نےقدرے توقف سے یہ دیا کہ اصل میں اصولِ فقہ کی کتابوں میں اصولِ تفسیر بھی زیر بحث آجاتے ہیں لہٰذا علیحدہ تصانیف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ لیکن جب میں نے یہ دریافت کیا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ آپ کے دارالعلوم میں تخصص فی الحدیث کا شعبہ بھی ہے اور تخصص فی الفقہ کا بھی ‘ لیکن تخصص فی التفسیر کا شعبہ موجود نہیں‘ تو اس پر مولانا نے پوری فراخ دلی کے ساتھ تسلیم فرمایا کہ یہ ہماری کوتاہی ہے۔‘‘
قرآن اکیڈمی کا قیام
چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۶ء میں قرآن اکیڈمی قائم کی تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان قرآن حکیم پر غوروفکر ‘ بحث و تحقیق اور نشرو اشاعت کا بیڑا اٹھائیں اور یہ ان کی زندگی کا مقصد ٹھہرے۔ قرآن اکیڈمی کے قیام کے ساتھ ہی ایسے نوجوانوں کی تیاری کا کام شروع کردیاگیا۔ ابتداء ً جب دوسالہ دینی کورسز کا اجراء ہواتو نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے باقاعدہ وظائف بھی دیے جاتے‘ مفت رہائش اور خوراک کا اہتمام بھی کیاجاتا ۔ الحمدللہ‘ نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس کام کے لیے تیارہوگئی۔ بعدازاں‘ ایک سالہ ’’رجوع الی القرآن کورس‘‘ متعارف کرایا گیا جو اب تک باقاعدگی سے جاری ہے۔ اس میں خواتین بھی شریک ہوتی ہیں۔ چنانچہ حلقۂ خواتین میں قرآنی فکر پہنچانے کے لیے اچھی خاصی تعداد خواتین مدرسین کی بھی تیار ہوچکی ہے جن میں حضرت ڈاکٹرصاحبؒ کی صاحب زادیاں بھی شامل ہیں۔
پہلی قرآن اکیڈمی لاہور میں قائم ہوئی۔ الحمدللہ اب تمام بڑے شہروں کراچی‘ فیصل آباد‘ ملتان اور جھنگ میں قرآن اکیڈمیز معرض وجود میں آچکی ہیں۔ لہٰذا تمام جگہوں پر اس نوعیت کے کورسز کا اجراء کیا جاتاہے۔ طویل کورسز کے ساتھ مختصر دورانیے کے عربی زبان کی تفہیم کے کورسز بھی تمام جگہوں پر جاری رہتے ہیں۔ اس ضمن میں قرآن اکیڈمی کراچی اور جھنگ بہت وقیع اور عمدہ کام کررہی ہیں۔
قرآن کالج کا قیام
قرآن اکیڈمیز کے علاوہ ۱۹۸۹ء میں قرآن کالج کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اس کا مقصدبھی عصری علوم کے ساتھ دینی علوم خصوصاً قرآن حکیم کی تفہیم کا اہتمام کرناہے۔ اب قرآن کالج کو ’’کلیۃ القرآن‘‘ میں بدل کر ایک جدید اسلامی مدرسے کی شکل دی گئی ہے‘ جہاں درسِ نظامی کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ قرآن کالج ‘ یعنی کلیۃ القرآن کے ساتھ ایک شاندار قرآن آڈیٹوریم بھی قائم ہے جہاں ڈاکٹرصاحبؒ ہفتہ وار درسِ قرآن دیاکرتے تھے۔ اب یہاں ان کے خلَف الرشید ڈاکٹر عارف رشیدہفتہ وار درس کی ذمہ داری اداکرتے ہیں۔ نیز دیگر پروگرام ‘ سیمینارز وغیرہ کا انعقاد بھی یہیں ہوتاہے۔ اس سے ایک بہت بڑی ضرورت پوری ہوگئی ‘ ورنہ اس طرح کے پروگراموں کے لیے شہر کے وسط میں ہال کرائے پر لینا پڑتے تھے۔
قرآن یونیورسٹی کا خواب
ڈاکٹرصاحبؒ نے ۱۹۶۸ء میں ایک قرآن یونیورسٹی کا خواب بھی دیکھا تھا‘ جس میں تمام علوم قرآن حکیم کے گرد گھومتے ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ کام ظاہر ہے کہ اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک عالم اسلام میں جابجا ایسی یونیورسٹیاں قائم نہ ہوں جن میں ہر ایک کا اصل مرکزی شعبہ ’’تدبر قرآن‘‘ کا ہو اور اس کے گرد تمام علومِ عقلی جیسے منطق‘ مابعد الطبیعیات‘ اخلاقیات‘ نفسیات ‘ الٰہیات اور علومِ عمرانی جیسے معاشیات‘ سیاسیات‘ قانون‘ اور علومِ طبیعی جیسے ریاضی‘ کیمیا‘ طبیعیات‘ ارضیات اور فلکیات وغیرہ کا ایک حصار قائم ہو‘اور ہر ایک طالب علم ’’تدبرقرآن‘‘ کی لازماً اورایک یا اس سے زائد دوسرے علوم کی اپنے ذوق کے مطابق تحصیل کرے اور اس طرح ان شعبہ ہائے علوم میں قرآن کے علم وہدایت کو تحقیقی طورپر اخذکرکے مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔‘‘
حضرت ڈاکٹرصاحبؒ کا یہ خواب تاحال پورا نہیں ہوا۔ ان کے تلامذہ اور فکری ورثاء پر بہت سے قرض باقی ہیں جو انہوں نے چکانے ہیں۔ان کے فکر کی بہت سی تہیں ابھی کھلنی ہیں‘ کئی فکر ی گوشوں کو اُجاگر ہوناہے۔ ان کا بہت سا فکری کام ماہ نامہ ’’میثاق‘‘ اور سہ ماہی ’’حکمت قرآن‘‘ کےصفحات میں بکھرا پڑاہے جسے مرتب و مدوّن کرنے کی ضرور ت ہے۔ اسی طرح ڈاکٹرصاحبؒ کے قرآنی افکار ہزاروں کی تعدادمیں آڈیو /ویڈیو خطابات کی صورت میں محفوظ ہیں‘ جنہیں کتابی شکل میں لانا باقی ہے۔ خطابات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے‘ یہ دعوت کا انتہائی مؤثر ذریعہ ہیں لیکن ان کی اہمیت وہ نہیں جو کتاب کی ہوتی ہے۔ کسی بھی بڑے مفکر‘ دانشور‘ ادیب اور اسکالر کے افکار کا حوالہ کتب ہوتی ہیں‘ لہٰذا ڈاکٹرصاحبؒ کے قرآنی افکار کا کتابی شکل میں مدون ہونا باقی ہے۔ اگر ڈاکٹرصاحبؒ فرد واحد کی حیثیت سے کام کا آغاز کرکے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کی اتنی عظیم تحریک برپا کرسکتے ہیں تو کیا اتنے سارے ادارے ‘ افراد اور وافر وسائل اس کام میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے؟ یہ ایک سوال ہے جو مجھ سمیت ان تمام لوگوں کو دعوتِ فکر دیتاہے جو ڈاکٹر صاحبؒ کے فکر کے امین اور خوشہ چیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹرصاحبؒ کی مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطافرمائے اور انہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین!
وفات
۱۳/اپریل کورات ساڑھے گیارہ بجے ڈاکٹر عارف رشید نے محسوس کیا کہ والد محترم کی طبیعت مضمحل ہے اور کمر کی تکلیف شدت اختیار کرگئی ہے۔ چنانچہ ڈاکٹرصاحبؒ کے معالج ملک کے نامور سرجن ڈاکٹر عامر عزیز سے رابطہ کیا گیا۔ وہ تشریف لائے اور ضروری ادویات تجویز کیں۔ طبیعت مزید مضمحل ہوئی تو ہسپتال لے جانے کا سوچا گیا‘ لیکن ڈاکٹر صاحبؒ نے منع کردیا۔ رات ڈھائی بجے ڈاکٹر صاحبؒ کے خادم نے محسوس کیا کہ آپ کی سانس کی آواز نہیں آرہی۔ قریب جاکر دیکھا تو آپ ساکت و ساکن تھے۔ خادم نے فوری طور پر ڈاکٹر عارف رشید کو اطلاع دی ۔ اُنہوں نے ڈاکٹر صاحبؒ کا معائنہ کیا اور بتایاکہ اللہ کےدین کا خادم اللہ کے پاس پہنچ گیا ہے۔ انا للّٰه و انا اليه راجعون۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندے پر کرم کیا اور اُس پر موت کی سختیوں کو آسان فرمادیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی خدمت والی زندگی اور راحت والی موت عطافرمائے۔آمین!
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی نماز جنازہ بعد نماز عصر وسیع و عریض ماڈل ٹائون پارک میں ادا کی گئی‘ جس میں مولانا محمد رفیع عثمانی‘ مولانا سمیع الحق‘ مولانا فضل رحیم‘ مولانا زاہد الراشدی‘ مولانا عبدالمالک‘ حافظ حسین احمد‘ مولانا محمد حنیف جالندھری‘ مولانا طاہر اشرفی سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔ قاضی حسین احمد‘ سید منور حسن اور جماعت اسلامی کے دیگر قائدین اور ارکان کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ نماز جنازہ کا اجتماع لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ نماز جنازہ آپ کے فرزند ارجمند حافظ عاکف سعید نے پڑھائی۔
عظیم شخصیت کے بارے میں عظیم شخصیات کے تاثرات
ڈاکٹراسراراحمدؒ کے بارے میں ملکی اور غیرملکی معروف شخصیات کے کیا تاثرات ہیں‘ آىئے جائزہ لیتے ہیں:
فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال کہتے ہیں:
’’میری ڈاکٹراسراراحمد سے گہری وابستگی رہی ہے۔ ہم اکثر ٹی وی چینلز پر اظہارِ خیال کے لیے اکٹھے مدعو کیے جاتے تھے۔وہ مجھ سے بہت ہی محبت اور شفقت سے پیش آتے۔میں نے ایک دو دفعہ قرآن اکیڈمی میں بھی ان سے ملاقات کی۔ وہ احیائے خلافت کے حوالے سے بہت ہی ’’کلیئرہیڈڈ‘‘ تھے۔وہ کہاکرتے تھے کہ نظامِ خلافت لازمی رائج ہوکررہے گا۔جب ایک فریق اپنے موقف پر اتنا convincedہوتو اس پر بات کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔وہ قرآن کی تفسیر کو عام فہم انداز میں بیان کرتے تھے۔ خلافت کا تصوران کا پسندیدہ موضوع رہاہے جبکہ میرا موضوع اسلام کا سیاسی فلسفہ رہاہے۔ان موضوعات پر اکثر ہمارے بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔‘‘
معروف اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی فرماتے ہیں:
’’ڈاکٹر اسرار احمد اسلام اور مسلمانوں کی متاعِ عزیز تھے۔ وہ ایک وسیع المطالعہ شخصیت تھے۔ انہوں نے جس انداز میں اپنی زندگی کا ایک مقصد متعین کیا اور پھر پوری استقامت اور عزیمت کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی پوری زندگی بسر کی وہ ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ وہ جدید و قدیم علوم پر گہری نظر رکھتے اور اپنی بات بڑے سلیقے سے کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ اتنے شائستہ اور اتنے اعلیٰ اسلوب میں اپنا مدعا بیان کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹرصاحب کو دی تھی۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ جس دینی تصور کو وہ درست سمجھتے تھے اِسے لوگوں کے ذہن میں اتاریں‘ اس کے مطابق ان کی تربیت کریں۔اس کے لیے انہوں نے ایک بڑی تنظیم بھی قائم کی۔اس لحاظ سے وہ بڑی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی عظیم مقصد کی نذر کر دیا۔ ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی تھى کہ وہ جو کچھ صحیح سمجھتے تھے اسے برملا کہتے تھے۔ اس میں ادنیٰ درجے کی بھی کوئی مداہنت نہیں کرتےتھے۔ انہوں نے اپنے بچوں اور اہل خاندان کو بھی اسی مسلک کا پابند کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے رجوع الی القرآن کی ایک تحریک برپا کیے رکھی۔ بلکہ مجھے تو یاد پڑتاہے کہ جس زمانے میں ہم لوگ طالب علم تھے‘ یہ معلوم ہوتاتھا کہ قرآن مجید کی منادی کرنے والا ایک شخص پیدا ہوگیاہےجو صبح شام اس کی جانب لوگوں کی توجہ دلاتاہے کہ لوگو‘ اللہ کی کتاب کی طرف آؤ‘ اللہ کی کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو‘ اس کو سمجھو‘ اس میں تدبر کرو‘ اپنی زندگی اس کے مطابق تبدیل کرنےکی کوشش کرو۔ ان کا ایک بہت ہی اچھا کتابچہ ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کیاہیں۔میرے نزدیک ان کی تحریروں میں وہ بہترین تحریر ہے۔اس میں انہوں نے بڑی جامعیت کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر بیان کیا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ مجھے ان کےنقطہ ہائے نظر سے شدید اختلاف رہاہے‘ لیکن یہ بالکل الگ چیز ہے۔اپنے نقطۂ نظر پر استقامت میں وہ ایک بے نظیر شخصیت تھے۔ میرا خیا ل یہ ہے کہ ہم اسلام اور مسلمانوں کی ایک متاع عزیز سے محروم ہوچکے ہیں۔ ان کی محرومی ہم سب کی محرومی ہے اور ان کا غم ہم سب کا غم ہے۔ میں ملک سے باہر تھا‘ جس کى وجہ سے ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا۔ اس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔ میرے د ل میں ان کی بے پناہ عزت ہے۔ وہ میرے محسن اور بزرگوں میں سے تھے۔ میں ان سے بڑی محبت رکھتاتھا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو مثال کے طورپر پیش کیاجاسکتاہے کہ ایک آدمی اپنے نقطۂ نظر سے کتنی محبت رکھتا تھا۔ اس کی صحت پر اسے کیسا یقین و ایمان تھا۔ اس مقصد کےلیے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ ان کا بغض اور ان کی محبت سب اسی نقطۂ نظر کے تحت ہوتی تھی۔‘‘
ڈاکٹرعبدالکریم ذاکرنائیک فرماتے ہیں:
’’میرے نزدیک ڈاکٹراسراراحمد اردو زبان کے سب سے بہترین مفسر قرآن تھے۔ میں ان کی اردو تقریر کا بڑا فین ہوں۔ میرے نزدیک ’’پیس‘‘ ٹی وی پر جتنے اردو مقررین ہیں ان سب سے بہترین ڈاکٹراسراراحمدؒ تھے۔ میں الحمدللہ ۱۹۹۱ ءمیں ان سے ملاتھا۔ اس وقت سے ہمارے ان کے ساتھ تعلقات ہیں اور میں ان کی بہت عزت کرتاہوں۔ میں شیخ احمد دیداتؒ اور ڈاکٹراسراراحمد ؒسے متاثر ہوکر دعوت کے میدان میں آیاتھا۔ ڈاکٹرصاحب نے مجھے ہدایت کی تھی کہ آپ میڈیسن اور دعوت میں سے کسی ایک فیلڈ کو اپنے لیے چن لیں۔ آپ بیک وقت دونوں میں اسپیشلائز نہیں کرسکتے۔ میں نے سوچا کہ دعوتی میدان میں اسپیشلائز کرنا بہتر ہے۔ ہم نے ۲۰۰۵ء میں محترم ڈاکٹر صاحب کو بمبئی بلایاتھا اور ہمارے پاس جو وسائل اور ٹیکنالوجی میسر تھی اس سے ڈاکٹرصاحب کے لیکچرز کی ریکارڈنگ کی تھی۔ ۲۰۰۸ء میں ہم ’’پیس‘‘ ٹی وی کے لیے پورے قرآن پاک کی ریکارڈنگ کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس کہ ملکی حالات اچھے نہ ہونے کے سبب وہ پروگرام کینسل ہوگیا اور اب جولائی ۲۰۱۰ء میں پورا ایک مہینہ ڈاکٹرصاحب کے لیکچرز ریکارڈ کرنے کا پروگرام تھا‘ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ایسا منظور نہیں تھا۔ہم پوری کوشش کریں گے کہ ہمارے پاس جتنی بھی پرانی ریکارڈنگز موجود ہیں اس کو جدید ٹیکنالوجی سے improveکرکے Peace TVپر لائیں۔‘‘
اخبارات اور تعزیتی بیانات
’’ممتاز عالم دین ‘ معروف اسکالر اور تنظیم اسلامی کےبانی ڈاکٹر اسرار احمد لاہور میں انتقال کرگئے۔ مرحوم طویل عرصے سے کمر کے درد اوردل کے عارضہ میں مبتلا تھے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو ان کی کمر میں شدید درد ہوا جس پر انہیں ہسپتال لے جانے کا کہا گیا‘ لیکن ڈاکٹر اسراراحمد نے منع کردیا جس پر ڈاکٹر عامر عزیز نے گھر پر آکر ان کا چیک اَپ کیا۔ صبح ساڑھے تین بجے کے قریب ڈاکٹر صاحب اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ڈاکٹر صاحب کےدروس اور فہم قرآن دنیا میں شہرت رکھتے ہیں۔ وہ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے اور اس کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔ بعدازاں وہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے‘ تاہم بعض اختلافات کے بعد وہ جماعت سے علیحدہ ہوگئے اور تنظیم اسلامی کے نام سے اسلامی انقلابی جماعت کی بنیاد ڈالی۔ ان کی نماز جنازہ بعداز نماز عصر سنٹرل پارک ماڈل ٹاؤن میں اداکی گئی‘جس میں اہم سیاسی و مذہبی شخصیات‘ تنظیم اسلامی کےکارکنوں اور ان کے ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ صدرآصف علی زرداری‘ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف‘ چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک‘ ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی‘ اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا‘ ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے ڈاکٹراسراراحمد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔‘‘ (ثناء نیوز‘لاہور)
’’بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹراسراراحمد کے انتقال پر ان کے بیٹوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کے لیے قرآن اکیڈمی میں زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد کا تانتا بندھا رہا۔ وفات کے دوسرے روز تعزیت کے لیے آنے والے نمایاں لوگوں میں میاں محمد شہباز شریف‘ مولانا امیر حمزہ‘ کے ایم اعظم‘ قاضی محمد یونس انور‘ حافظ عبدالرحمٰن مدنی‘ ارشاد احمد عارف‘ عطاء الحق قاسمی‘ مصطفیٰ صادق‘ جمیل اختر اور مولانا عبداللطیف شامل ہیں۔‘‘ (پریس ریلیز‘ تنظیم اسلامی)
’’سینیٹ میں معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے لیے دعائے مغفرت کروائی گئی۔ جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ عالم اسلام کےمعروف اسکالر او رمبلغ ڈاکٹراسراراحمد کا انتقال ہواہے‘ سینٹ میں ان کے لیے دعائے مغفرت کرائی جائے۔ اس پر سینیٹر عبدالغفور حیدری نے ان کے لیے دعا کرائی۔‘‘ (ثناء نیو ز ‘ اسلام آباد)
"One of the greatest scholars of Islam is physically no more with us in this world, but his eloquent and deeply impacted ideas, talks, writings and unmitigated work for Islam will always live on, forever with us, guiding, motivating and inspiring us to carry on his great work. His straight forward and yet articulate public talks and writings for a proper Islamic Renaissance have been a class apart, full of introspection and wisdom with deep insight. He was a rare scholar indeed! (Dr. Zakir Abdul Kareem Naik, IRF, Mumbai (India)
"I was deeply grieved to learn of the sad demise….. It is a very painful and sad moment…..’’ (Waseem Sajjad, Leader of the opposition, Senate of Pakistan)
حرفِ آخر
ہم نے اس مطالعہ میں ملک کے معروف اسلامی اسکالر کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈاکٹراسرار احمد ؒ جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹرصاحب ؒ تو اس وقت ہم میں موجود نہیں ہیں مگر ان کی تحاریر و تقاریرکا سرمایہ کثیر تعداد میں ہمارے پاس موجود ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ ایک عبقری شخصیت اور اپنی ذات میں انجمن تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی ایک صد سے زیادہ تصانیف ہیں۔ علاوہ ازیں لاتعداد آڈیو/ویڈیو خطابات کی شکل میں قیمتی اثاثہ ڈاکٹر صاحبؒ کی اصل میراث ہے۔
۱۹۹۴ ء میں ڈاکٹر صاحبؒ کے قلم سے نکلنے والی کتاب ’’حسابِ کم و بیش‘‘ کی روشنی میں انہوںنے دُنیوی اعتبار سے کوئی میراث نہیں چھوڑی۔ جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی وہ سب بھی انجمن خدام القرآن اور تنظیم اسلامی کے قیام سے قبل یا متصل بعد دین کےلیے وقف کردی۔ ایسے مذہبی اسکالر‘ عالم‘ مہتمم‘ لیڈر خال خال ہی ملیں گے کہ جو پورے اعتماد کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں کہ انہوں نے دنیا میں کیا کمایا اور کیا خرچ کیا۔ یہ ڈاکٹرصاحبؒ کاخاصہ تھا کہ جب بھی بات کی‘ پورے اعتماد اور دلائل کےساتھ کی اور کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ وقت کے حکمرانوں نے ہردور میں ان کو خریدنے کی بھرپور کوشش کی مگر ہمیشہ ناکام رہے۔
ڈاکٹرصاحبؒ کا شمار کلمۂ حق ببانگ دہل کہنے والوں میں سرفہرست رہے گا۔ وہ قدامت پسندی اور جدیدیت کی اعلیٰ مثال تھے۔ تاریخ ہمیشہ انہیں ایک متوازن شخصیت کے طورپر یاد رکھے گی۔مرزا غالب نے درست کہا کہ: ع ’’ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے!‘‘
زیر نظر مطالعہ سے درج ذیل بنیادی مفروضات میں حقیقت کا رنگ بھرجاتا ہے :
ا: ڈاکٹر اسرار احمدؒ پاکستان و ہندوستان کے روایتی معاشرے اور اسلامی علوم کے ساتھ مغربی فکر و فلاسفہ کی آدرشوں کی تفہیم بھی رکھتے تھے۔
ب: ڈاکٹراسرار احمدؒ اسلامی نشا ٔةِ ثانیہ کو جدید دو ر میں ممکن سمجھتے تھے۔
ج: ڈاکٹر اسراراحمدؒ اسلامی اخلاق اور روحانیت کو برقرار رکھتے ہوئے سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید سماجی علوم کی تحصیل کے ذریعہ اسلام کی نشا ٔ ةِ ثانیہ کے حصول کے خواہش مند تھے۔
د: ڈاکٹر اسراراحمدؒ کا خیال تھا کہ اسلام نے اندلس میں علمی و سائنسی علوم کے فروغ کے ذریعے مغرب کو ترقی کی راہ دکھائی ۔بعد کے ادوار میں مسلم اُمہ اپنے اس ورثے کی حفاظت نہ کرسکی۔ ترقی‘ آزادی اور مساوات دراصل اسلامی معاشرت و سیاست کی وہ صفات ہیں جنہیں مغرب نے اپنا کر عروج حاصل کرلیا۔
ہ: ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کا خیال تھا کہ ترقی کے مغربی راستے کو اختیار کرنا اس کی تقلید نہیں بلکہ مسلم اُمہ کی اپنی ہی متاعِ گم شدہ میراث کے حصول کی جستجو ہے۔ اقتدار و اختیار حاصل کیے بغیر ایسا ممکن نہیں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحبؒ پر بے مثال عنایات کی بارش کردی تھى۔ ان کی شخصیت قول و فعل میں مطابقت ‘ اصولوں پر سختی سےعمل‘ کلمۂ حق کہنے کی زبردست جرأت‘ خودداری‘ قناعت‘ سادگی‘ استقامت‘ بےپناہ قوتِ عمل اور نیک مقاصد کےساتھ سچی لگن سے آراستہ تھی۔ اُن کی زندگی پاکیزگی کا ایک انمول نمونہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ بچپن سے بڑھاپے تک قرآن حکیم و دین متین کی خدمت کی لائق تحسین داستان بنے رہے۔ زندگی کے آخری ساعتوں تک اللہ کی کتاب کی تبلیغ اور اللہ کےدین کے غلبہ کی جدوجہد ایک بہت بڑی سعادت ہے جو ڈاکٹر صاحبؒ کے حصہ میں آئی۔ ایسی زندگی بلاشبہ شیرازی کے اس شعر کا مصداق نظرآتی ہے:
حاصل عمر نثارِ رہِ یارے کردم
شادم از زندگی ٔ خویش کہ کارے کردم!’’میں نے اپنی زندگی کاکُل سرمایہ محبوب کی راہ میں نچھاور کردیا۔ میں خوش ہوں اپنی بیتی ہوئی زندگی سے کہ میں نے وہی کیا جو مجھے کرناچاہیےتھا۔‘‘
سفارشات (Recommendations)
i) ڈاکٹر اسراراحمد ؒ کے پیش کردہ مختلف نظریات میں اتنی جان ہے کہ ایک ایک نظریہ کو لے کر اُس پر تحقیق کی جائے۔
ii) ڈاکٹر اسراراحمدؒ واقعتاً اپنی ذات میں انجمن تھے۔ لہٰذا ان کی شخصیت کو زیر تحقیق لایاجائے۔
iii) ڈاکٹرصاحب سے متعلق معاشرے میں جو غلط فہمیاںموجود ہیں انہیں اس مقالے کے ذریعہ دور کیاجاسکتاہے۔
iv) جو قومیں اپنے لیڈرز کی قدر نہیں کرتیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہواکرتیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے فرمایا تھا :’’اے ہندوالو! تم نے میری قدر نہیں کی۔‘‘ لہٰذا ایسے عظیم لیڈر کی قدرکرنے کی طرف بھی پیش نظر مطالعہ میں اشارہ موجود ہے۔
مصادر و مراجع
(۱) مطبوعات مرکزی انجمن خدام القرآن
(iتحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ
(iiجماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی
(iiiفہرست مطبوعات
(ivعزم تنظیم
(vدعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر
(viوحدتِ اُمّت
(viiبیان القرآن
(viiiتعارف تنظیم اسلامی
(ixمطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب
(xحزب اللہ کے اوصاف
(xiجہاد بالقرآن
(xiiپاکستان میں نظامِ خلافت : کیا‘ کیوں‘ کیسے؟
(xiiiاسلام کی نشا ٔۃثانیہ : کرنے کا اصل کام
(xivمسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق
(xvتنظیم اسلامی کا تاریخی پس منظر
۲) سالانہ رپورٹ (۲۰۱۰ء / ۲۰۱۱ء) انجمن خدام القرآن ‘سندھ ‘کراچی
۳) تعارف قرآن کالج
۴) ہفت روزہ ’’ندائے خلافت‘‘
[تشکر:مجلہ الایضاح‘ شیخ زاید مرکز اسلامی‘ جامعہ پشاور‘ جون ۲۰۱۸ء]
http://www.al-idah.pk/index.php/al-idah/issue/view/18
tanzeemdigitallibrary.com © 2026