سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۷)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ
آیات ۲۱ تا ۲۴یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَـقَـکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّــکُمْ تَـتَّقُوْنَ(۲۱) الَّذِیْ جَعَلَ لَــکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً ص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّــکُمْ ج فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲) وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖص وَادْعُوْا شُھَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّـقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُج اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ(۲۴)
دعوت وحکمت ِ قرآنی کا خلاصہ
سورۃ البقرہ کے تیسرے اور چوتھے رکوع کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ ان میںمکی قرآن کا ایک لحاظ سے لب ِلباب اور خلاصہ آگیا ہے۔ قرآن حکیم کی بنیادی دعوت کیا ہے؟ اس کے اساسی نظریات کیا ہیں؟ اس کا بنیادی فلسفہ کیا ہے؟ ان تین سوالات کے جوابات ان دو رکوعوں میںآئے ہیں۔ دعوت اور حکمت ِقرآنی کے مضامین اصلاً مکی قرآن کے ہیں۔ قرآن مجید کا جو حصہ ہجرت سے قبل نازل ہوا ہے ‘ اس کااصل مضمون ہے: ’’ ایمان‘‘۔ توحید کی دعوت ‘بندگی ٔربّ کی دعوت ‘معاد یعنی آخرت کو ماننے کی دعوت ‘نبوت ورسالت کو تسلیم کرنے کی دعوت ‘ یہ درحقیقت مکی قرآن کے بنیادی مضامین ہیں۔ ہر دعوت کے لیے کوئی نہ کوئی نظریاتی اسا س ہوتی ہے۔ اس کی کوئی حکمت‘ کوئی فلسفہ اور کوئی میٹا فزکس ہوتی ہے جس کے اعتبار سے انسان اور علم کی حقیقت کے بارے میں کچھ بنیادی تصورات کی بنیاد پر وہ دعوت کھڑی ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں کو قرآن کریم نے اصلاً مکی سورتوں میں بیان کیا ہے۔ یہاں بنی اسرائیل سے خطاب سے قبل اس دعوت و حکمت کا جامع ترین خلاصہ ان دورکوعوں کی انیس آیا ت کے اندر جمع کردیا گیا ہے۔
ترتیب ِنزولی اورترتیب ِمصحف میں فرق کی حکمت: اس حوالےسے ایک بڑا اہم سوال ہے کہ کیاوجہ ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب ِنزولی اور ترتیب ِمصحف میں بالکل عکسی ترتیب ہے‘ یا یوں سمجھیے کہ بالکل برعکس معاملہ ہے؟ سورۃ الفاتحہ کے بعد کی چاروں سورتیں سورۃ البقرہ ‘سورۂ آلِ عمران ‘سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ‘ قرآن کے سوا چھ پارے‘ یعنی پانچواں حصہ مدنی سورتوں پر مشتمل ہے‘ جبکہ قرآن کریم کا آخری حصہ زیادہ تر بالکل ابتدائی دور میں نازل ہونے والی مکی سورتوں پر مشتمل ہے۔ ان چار مدنی سورتوں کے فوری بعد بھی مکیات آجائیں گی لیکن بالکل ابتدائی دور کی مکی سورتیں اختتام پر ہیں۔ گویا اس اعتبارسے ترتیب ِنزولی اورترتیب ِمصحف ایک دوسرے کی بالکل ضد ہیں۔ اس کی حکمت کیا ہے؟
میرے مطالعہ کی حد تک اوّل تو اکثروبیشتر حضرات نے اس سوال سے اعتناء ہی نہیں کیا۔ کسی نے کیا بھی ہے تو میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی جسے صحیح اورقابلِ قبول توجیہہ قرار دیا جا سکے‘ سوائے اس وضاحت کے جو محمد مارماڈیوک پکتھال (۱۸۷۵۔ ۱۹۳۶ء) نے کی ہے۔ انہوں نے ''The Meanings of the Glorious Quran'' کے نام سے قرآن حکیم کا ترجمہ کیا تھا‘ جو ایک زمانے میں کثیر تعداد میں شائع ہوا اوربہت سے اداروں کی طرف سے مفت تقسیم بھی ہوا تھا۔ جس زمانے میں دنیا میں کمیونز م کی تائید بڑ ھ رہی تھی‘ اور یہ ضرورت محسوس ہورہی تھی کہ اس کے آگے بند باندھنے کے لیے کچھ مذہبی تصورات کو سامنے لایا جائے تو مغربی ممالک نے مختلف مذاہب کی مذہبی کتب کو کثرت کے ساتھ شائع کراکے بڑی تعدا د میں تقسیم کیا تھا کہ شاید کمیونزم کے اس طوفان کا مقابلہ اس روحانیت ہی کے ذریعے کیا جاسکے جو اِن مذاہب میں موجود ہے۔ اس ترجمے کا مقدّمہ میرے نزدیک بڑی ہی ذہانت پر مبنی ہے۔ مَیں نے محسوس کیاکہ مارماڈیوک پکتھال صاحب کا سیرت النبی ﷺ کے اعتبار سے بھی بڑا گہرا مطالعہ ہے کہ انہوں نے اس مقدّمے میں سیرت کا جو خلاصہ بیان کیا وہ بہت جامع ہے۔ حالات وواقعات کی بہت صحیح انداز میں تعبیر کی گئی ہے۔ وہیں مجھے مذکورہ بالا سوال کا جواب بھی ملا تھا۔
انہوں نے اس کی یہ توجیہہ بیان کی ہے کہ جب قرآن مجید نازل ہورہا تھا تو پہلے ایمان کی ضرورت تھی ‘اس کےبعد عمل کا معاملہ تھا۔ ابھی ایک نئی دعوت ‘نیا فلسفہ ‘نیا نظریہ ‘نئی فکر ‘نئی سوچ اور نئےعقائد کو متعارف کرانا تھا‘ تو وہاں ایمان کی اہمیت زیادہ تھی جبکہ قانون‘ احکام‘ اوامر ونواہی یعنی عمل کا معاملہ ثانوی درجہ میں تھا۔ البتہ جب اسلام نظام کی شکل میں عملاً قائم ہوگیا تو اب صورت برعکس ہوگئی۔ جب آئندہ نسلیں پیدائشی طور پر مسلمان ہوں گی تو ان کو اَوّلاً عمل کی ضرورت ہے۔ چنانچہ بچہ جب پانچ سات برس کا ہو جاتا ہے تو اسے نماز پڑھائی جاتی ہے ‘نو دس برس کا ہوجائے تو روزہ رکھنا شروع کردیتا ہے۔ یہ چونکہ ایک تمدن‘ تہذیب ‘کلچر‘ ایک نظام ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہو چکا‘ لہٰذا اب بنسبت ایمان کے احکام کی اہمیت زیادہ ہوگئی۔ ایمان تو گویا موروثی طور پر بھی لوگوں کو مل جاتا ہے ‘البتہ جیسے جیسے انسان کا شعور ترقی کرتاہے پھر وہ اس کا ادراک کرتا ہے ‘ اس کے حقائق کو اپنےباطن کےاندر realize کرکے عملی جامہ پہناتا ہے۔ بنیادی طور پر اس معاشرے میں پیدا ہونے والے لوگوں کا ایمان کے حقائق کو ماننے اور تسلیم کرنے کا معاملہ گویا ازخود ہو جائےگا۔ اس اعتبار سے اب ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ پہلے انہیں احکام و اعمال ‘ اوامر ونواہی سے متعارف کرا دیا جائے‘ جبکہ ایمان کے مباحث بعد میں ان کے سامنے لائے جائیں۔ اسی وجہ سے مصحف میں ترتیب ِنزولی کے برعکس صورت اختیار کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے مَیں یہ عرض کر رہا ہوں کہ چونکہ مصحف کے آغاز میں اصلاً مدنی سورتیں شروع ہورہی ہیں‘ لہٰذا ضرورت اس بات کی تھی کہ مکی قرآن مجید کا خلاصہ یہاں درج کردیا جائے۔ چنانچہ یہ ایک حکیمانہ ترتیب ہے۔
مولانا اصلاحی کا موقف: تاویل خاص کے اعتبار سے ایک خیال مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ظاہر کیا ہے کہ ان دو رکوعوں میں بھی بالواسطہ روئےسخن یہود کی طرف ہے۔ چوتھے رکوع میں یہ بات کچھ نکھر کر مزید واضح ہو جائے گی۔ اس لیے کہ اس میں ابلیس کا کردار سامنے آتا ہے اورابلیسیت کی اساس ہے تکبّر‘ عُجب‘ اپنے بڑے ہو نے کا گھمنڈ (اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ)۔ اس اعتبار سے گویا یہود کو آئینہ دکھایا جارہا ہے کہ آج جو تم محمد ٌ رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں استکبار کررہے ہو‘ اپنے آپ کو ان سے بالاتر سمجھتے ہوئے ان کی دعوت کو ردّ کررہے ہو‘ تو درحقیقت یہ شیطنت ہے۔ یہ وہی کردار ہے جو ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلے میں اختیار کیا تھا ‘ اور آج تم حضرت محمد ﷺ کے مقابلے میں اختیار کررہے ہو۔ یہ بات تو خاصی مربوط معلوم ہوتی ہے‘ البتہ تیسرے رکوع کے بارے میں مولانااصلاحی صاحب نے یہ بات کہی ہے کہ ہجرت سے قبل تک یہود یہ سمجھتے تھے کہ(حضرت) محمد (ﷺ) کی دعوت دُور کا معاملہ ہے۔ اس دعوت سے وہاں جو ایک مسئلہ پیدا ہوا ہے اسے مکہ والے جانیں ‘ہم سے اس کا براہ ِراست کوئی سروکار نہیں ہے۔ لیکن جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور یہود سے براہ ِ راست خطاب شروع ہوا تو اب انہیں احسا س ہوا کہ یہ ہمارے لیے ایک بالقوۃ خطرہ (potential danger) ہے۔ یہ ہماری قیادت‘ سیادت‘ چودھراہٹ اور مسند کے لیے ایک خطرہ ہے۔
اس اعتبار سے انہوں نے نہ صرف مدینہ میں براہ ِ راست نبی اکرم ﷺ کی شدید مخالفت اختیار کی ‘ بلکہ ریشہ دوانیاں اور سازشی کردار ادا کرنا بھی شروع کردیا ۔بنی اسماعیل یعنی مکہ والوں کو بھی ورغلانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح وہاں سے بھی اس دعوت کے قدم آگے بڑھنے نہ پائیں۔ جتنا کچھ بھی وہاں ہو چکا‘ سو ہوچکا‘ اور وہاں سے ہجرت کر کے جتنے لوگ بھی آگئے ہیں ‘سوآ گئے ‘لیکن اب وہاں بھی اس دعوت کا سد ِباب کیا جائے۔ مولانا اصلاحی صاحب کا موقف یہ ہے کہ اس رکوع میں بظاہر تو یٰاَیُّھَا النَّاسُ کہا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ خطاب بنی اسماعیل سے ہے۔ ان کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ یہود کی ریشہ دوانی سے اثرپذیر نہ ہوں اوراصل حقیقت کو کھلے دل اور ذہن کے ساتھ قبول کریں ‘ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بھلائی ہے۔ یہود تمہیں ورغلانے کے لیے جو کچھ کررہے ہیں وہ تکبّر اور حسد کی بنیاد پر ہے ۔
اگر ہم ان دو رکوعوں کو بھی ایک خاص سیاق وسباق (context)میں‘ سورۃ البقرہ کے نصف اوّل کےحوالے سے دیکھیں کہ جس میں روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہے تو یہ بات کچھ وزنی معلوم ہوتی ہے‘ اگرچہ میرےنزدیک اس تاویل میں تکلف کا انداز زیادہ ہے۔ زیادہ صحیح بات وہی ہے کہ ان دو رکوعوں کو تاویل عام ہی کے حوالے سے ذہن میں رکھا جائےکہ چونکہ اب مسلسل چار طویل مدنی سورتیں چلنی ہیں جن میں احکام اور اوامر ونواہی آئیں گے ‘لہٰذا شروع میں مکی قرآن کی دعوت اورحکمت کا خلاصہ ان دو رکوعوں میں بیان کردیا گیا۔
واقعہ یہ ہے کہ تیسرے رکوع کی پہلی پانچ آیات میں ایک طرف قرآن کی دعوت کا جوہر ‘ اس کا لب ِلباب اور خلاصہ آگیا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کے اساسی نظریات یعنی توحید ‘معاد (آخرت) اور رسالت بیان ہو گئے ہیں۔ یہ تین چیزیں ہیں جن کو ہم جمع کرتے ہیں تو لفظ ِ’’ایمان‘‘ وجود میں آتا ہے‘ جو اسلام کا اساسی نظریہ اور جڑ بنیاد ہے۔ الغرض وہ مضامین جو بڑی تفصیل ‘ تشریح اور شرح وبسط کے ساتھ مکی سورتوں میں آئے ہیں یہاں ان پانچ آیا ت میں بڑی خوب صورتی اور جامعیت کےساتھ ان کا ایک خلاصہ آگیا ہے۔ اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب مطالعہ شروع کرتے ہیں:
آیت۲۱ یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَـقَـکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّــکُمْ تَـتَّقُوْنَ(۲۱) ’’اے لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ(مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔‘‘
عبادتِ ربّ کی آفاقی دعوت
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ’’اے لوگو !‘‘ [لفظ ’’ناس‘‘ کےبارے میں لغوی بحث تفصیلاً عرض کی جا چکی ہے۔]یہاں پوری نوعِ انسانی سے خطاب ہورہا ہے۔ مولانا اصلاحی صاحب کے نزدیک تو تاویلِ خاص کے اعتبار سے یہاں بنی اسماعیل مراد ہیں ‘ لیکن میرے نزدیک یہ خطاب ِعام ہے‘ جو قرآن مجیدکی ابدی دعوت کا بنیادی خلاصہ ہے ۔ اس دعوت کا مخاطب کوئی قبیلہ یا قوم نہیں ہے‘ کسی ایک علاقے یا کسی خاص نسل سے متعلق لوگ نہیں ہیں‘ بلکہ پوری نسل ِانسانی مخاطب ہے۔ اسی لیے فرمایا: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اے بنی آدم ‘ اے نوعِ انسانی‘ اے لوگو‘ اے انسانو!
یہ بات بہت اہم ہے کہ دونوں اعتبارات سے جب تقابل کریں گے تو قرآن کریم اور اسلام کی یہ دعوت اُن دعوتوں سے منفرد نظر آئے گی جو دنیا میں نظر آتی ہیں۔ دُنیا میں مختلف دعوتی تحریکیں موجود ہیں۔ مختلف نظا م ہیں ‘ مختلف فکر ہیں‘ مختلف نظریات ہیں‘ ان کی طرف بلانے والے موجود ہیں۔ اب ایک طرف انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت اور دوسری طرف دنیا میں تمدنی قسم کی جو دعوتیں اٹھتی رہی ہیں‘ ان کا تقابل کرلیجیے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کا معاملہ بھی یہ ہے کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ سے قبل ہر نبی کی دعوت صرف اپنی قوم کے لیے تھی۔ قرآن حکیم میں ایک ایک رسول کا نام لے کر اس کی دعوت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:{یٰــقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَـکُمْ مِّنْ اِلٰـہٍ غَیْرُہٗ ط} ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو‘ اُس کے سوا تمہارا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔‘‘ کہیں بھی یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کے الفاظ نہیں ملیں گے۔ یہ پہلی اورآخری دعوت ہے کہ جس میں خطابِ عام ہے۔ لوگوںسے بحیثیت ِانسان خطاب ہے ‘کسی قوم او رنسل سے نہیں۔ کسی ملک سے نہیں ‘ کسی خاص علاقے سے نہیں ‘ کسی خاص طبقے سے نہیں ۔
سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے صر ف حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں یہ گمان ہوسکتاہےکہ ان کی دعوت بھی آفاقی اور بین الاقوامی ہوگئی۔ملکوں ‘ علاقوں اور نسلوں سے آگے پھیل گئی۔ درحقیقت سینٹ پال نے حضرت مسیح ؑکی تعلیمات میں جو ترامیم کی ہیں‘ یہ اس کا مظہر ہے‘ ورنہ قرآن مجید نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں صراحت کے ساتھ کہا ہے :{وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ط}(آل عمران:۴۹) کہ وہ رسول تھے بنی اسرائیل کی طرف۔ اسی طرح بائبل میں حضرت مسیحؑ کے اپنے الفاظ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں: ’’مَیں صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔‘‘ ایک اور جگہ‘ انداز تو ذرا نامناسب سا معلوم ہوتا ہے‘ حضرت مسیح ؑ کے الفاظ کچھ اور ہوں گے لیکن شاید کوئی ردّ وبدل ہوگیا ہو۔ جب آپ اپنے شاگردوں کو تبلیغ کے لیے بھیج رہے تھے تو انہیں جو ہدایات دی ہیں ان پر مشتمل بڑا طویل وعظ بائبل کے اندر موجود ہے۔ اس میں یہ بھی ہے : ’’دیکھو! کوئی شخص اپنے بچوں کے حصے کی روٹی کتوں کے آگے نہیں ڈالا کرتا۔ میرے پاس ایک پیغام ہے جو صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے۔‘‘ ان الفاظ میں یہود کا گوئمز(goyims) اور جینٹائلز (gentiles) والا تصوّر جھلکتا ہے کہ درحقیقت کامل انسان تو صرف ہم ہی ہیں ‘ باقی تو انسان نما حیوان ہیں جو ہم سے کم تر ہیں۔ بظاہر انسان ہیں‘ حقیقتاً نہیں ۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی ذہنیت یہاں بھی آگئی ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے صرف یہ کہا ہوگا کہ تمہاری ذمہ داری صرف بنی اسرائیل تک دعوت پہنچا دینے کی ہے‘ لیکن یہاں اس کے مرتب کرنے والے کی اپنی ذہنیت بھی شامل ہوئی ہے کہ ’’کوئی شخص اپنے بچوں کے حصے کی روٹی کتوں کے آگے نہیں ڈالتا۔‘‘
بہرحال قرآن مجید اور بائبل دونوں اس پر متفق ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت بھی صرف ایک قوم اور ایک نسل یعنی بنی اسرائیل کی طرف تھی۔صرف محمد ٌرسول اللہ ﷺ کی بعثت ہے جو پوری نوعِ انسانی کے لیے ہے۔ یہی بات سورئہ سبا میں واضح الفاظ میں کہی گئی :
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۸)}
’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوعِ انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
چنانچہ سابقہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی دعوت میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ پوری نوعِ انسانی سے خطاب ہوا ہو۔
بعثت ِ محمدیؐ کی اِتمامی وتکمیلی شان
مَیںنے اپنی کتاب ’’نبی اکرم ﷺ کا مقصد ِ بعثت‘‘ میں اس پر تفصیلاً بحث کی ہے کہ ایک بنیاد ی تصورِ رسالت ونبوت ہے اور ایک تکمیل ِرسالت کامرحلہ ہے جو محمدرسول اللہ ﷺ کو طے کرایا گیا۔ اس ضمن میں مقصد ِرسالت اور تکمیل ِرسالت میں جو بنیادی فرق و امتیاز ہے‘ اس اعتبار سے مَیں نے یہ باتیں بیان کی ہیں کہ اس کا تعلق انسان کی تمدنی ترقی‘ خاص طورپر سائنسی ترقی کے ساتھ ہے۔ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل عملی اعتبار سے یہ نا ممکن تھا کہ ایک دعوت پوری نوعِ انسانی کو پہنچائی جاسکے۔ ابھی رسل و رسائل اور اطلاعات و نشریات کے ذرائع اتنے تھے ہی نہیں۔ انسان ایک دوسرے سے اجنبیت لیے ہوئے دُور دُورمختلف علاقوں میں آباد ہو رہے تھے۔ ان کے درمیان فاصلے تھے۔ رابطے نہیں تھے‘ ذرائع مواصلات نہیں تھے۔ چنانچہ فزیکل اعتبار سے یہ ممکن بھی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پہلےجتنی نبوتیں آئیں وہ سب مختلف اقوام کے لیے تھیں۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {وَلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ (۷)}(الرعد) ’’اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی تھا۔‘‘ اور: { وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْہَا نَذِیْرٌ(۲۴)}(فاطر) ’’اور کوئی اُمّت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔‘‘ البتہ کسی بھی نبی کی دعوت اس طرح کی آفاقی نہیں تھی جس میں پوری نوعِ انسانی کو خطاب کیا جارہا ہو۔ یہ خاصہ ہے دعوت ِ محمدی ﷺ کا اوردعوتِ قرآنی کا!
اسی طرح یہ تقابل کیجیے کہ دنیا میں جودوسری دعوتیں ہوتی ہیں‘ تحریکیں اٹھتی ہیں‘ وہ کسی نہ کسی طبقے کو اپنا مخاطب ِ اوّلین بناتی ہیں ۔ان میں بنی آدم کو بحیثیت انسان خطاب کرنے والی کوئی دعوت نہیں۔ چنانچہ ملک کی عظمت کا نعرہ لگایا جاتا ہے‘ قوم کی برتری اور قوم کی عزّت کے حوالے سے لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آؤ اورجمع ہوجاؤ۔ اپنی عزت ‘ وجاہت ‘ حیثیت اور وقار کا دفاع کرو! بین الاقوامی سطح پر اگر کوئی دعوت اٹھی تھی تو وہ کمیونزم تھا‘ لیکن اس میں بھی طبقاتی تقسیم تھی۔ اس کا نعرہ تھا: ’’دنیا بھر کے مزدورو جمع ہوجاؤ!‘‘ ساری اپیل محنت کش طبقہ کے لیے جبکہ مِل مالکان اور کارخانہ داروں کے خلاف تھی۔ گویا ایک طبقاتی دشمنی اور نفرت پیدا کرنا مقصود تھا۔ عوام الناس سے کوئی تخاطب نہیں تھا‘ ان کے لیے کوئی کشش نہیں تھی۔ یہ دعوت صرف محمد ٌ رسول اللہ ﷺ کی ہے کہ اس میں کسی طبقہ ‘قوم‘ نسل ‘ علاقے سے خطاب نہیں‘ بلکہ پوری نوعِ انسانی سے اس کی ذاتی حیثیت میں مخاطبت ہے: یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ۔ دعوت کیا ہے؟ اعْبُدُوْا رَبَّکُم ’’اپنے ربّ کی عبادت کرو!‘‘
دعوتِ قرآنی کا نقطہ ٔ آغاز
یہ دونوں الفاظ (عبادت اور ربّ) سورۃ الفاتحہ میں آچکے ہیں اور وہاں ان کی لُغوی بحث بھی تفصیل کے ساتھ آچکی ہے۔ اس وقت چند چیزیں دوبارہ ذہن میں مستحضر کرلی جائیں۔ اوّل تو یہ کہ یہاں پہلی مرتبہ قرآن کی دعوت آرہی ہے۔ ترتیب ِ مصحف میں پہلے سورۃ الفاتحہ ہے لیکن اس کے اندر دعوت کا انداز نہیں ہے کہ ایمان لاؤ‘ یا یہ مانو‘ یہ کرو‘ یا یہ نہ کرو‘ بلکہ اُس میں ایک تو اعتراف ہے۔ ایک سلیم العقل اور سلیم الفطرت انسان جہاں تک خود پہنچ گیا ہے اس کا وہ اظہا ر کررہا ہے اورپھر ایک دعا‘ ایک استدعا کررہا ہے : {اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَo}۔ سورۃ البقرۃ کے دو رکوع بھی انشائیہ کلام نہیں ہیں کہ یہ کرو اوریہ نہ کرو‘ بلکہ سارا خبریہ کلام ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں‘ کچھ لوگ ایسے ہیں ‘اِن کا انجام یہ ہے‘ اُن کا انجام یہ ہوگا۔ چنانچہ قرآن کریم میں یہ پہلا مقام آرہا ہے جہاں کلام انشائیہ ہے: {یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ} ’’اے لوگو! بندگی کرو ‘پرستش کرو اپنے رب کی۔‘‘اس پہلو سے اگر قرآن کریم کی دعوت کو معیّن کیا جائے کہ وہ کیا ہے‘ تو اس کا نقطۂ آغاز یہی ہے۔ اس اعتبار سے سورۂ ہود کی ابتدائی آیا ت ذہن میں رہنی چاہئیں :
{الٓــــــرٰقف کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ(۱)}
’’ا ‘ل ‘ر۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات (پہلے) پختہ کی گئی ہیں ‘ پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے اُس ہستی کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے۔‘‘
اورکس لیے نازل ہوئیں :{اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اِیَّاہُ} ’’کہ اللہ کے سوا کسی اورکی بندگی مت کرو !‘‘ چنانچہ ایک ہی بات بیان ہوئی۔ یہاں مثبت اسلوب میں: {اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ} (البقرۃ)جب کہ وہاں {اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اِیَّاہُ} کے الفاظ میں کہ مت بندگی کرو اللہ کے سوا کسی کی۔ یہ گویا اسی کا منفی اسلوب ہے۔
مزید یہ کہ مکی سورتوں میں تفصیل سے تما م رسولوں کا تذکرہ آیا ہے کہ حضرت نوح‘ حضرت ہود‘ حضرت صالح اور حضرت لوط علیہم السلام کی دعوت کیا تھی! سورۃ الاعراف‘ سورۂ ہود اور سورۃ الشعراء میں جہاں ترتیب کے ساتھ انباء الرسُل بیان ہوئے ہیں‘ وہاں دعوت کے دو اسلوب ملیں گے۔ ایک: { اَنِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ} ’’یہ کہ اللہ کی بندگی کرو‘ تمہارا اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ اور دوسرا: {فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ} ’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اورمیری اطاعت کرو!‘‘ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت بایں الفاظ نقل ہوئی: {اَنِ اعْبُدُوا اللہَ وَاتَّـقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ(۳)} (نوح) ’’یہ کہ تم لوگ اللہ کی بندگی کرو‘ اُس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ گویا دعوتِ توحید کے ساتھ رسالت کو قبول کرنابھی لازم ہے‘ اس کے بغیر بات مکمل نہیں ہوگی۔ ہر رسول کی دعوت یہ تھی کہ مَیں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں‘ لہٰذا اُس کی پرستش اور بندگی ہوگی میری اطاعت کے ذریعہ سے۔
پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ بات کہ قرآن حکیم کی رو سے جنوں اور انسانوں کا مقصد تخلیق ہی ’’عبادتِ ربّ‘‘ ہے۔سورۃ الذاریات میں فرمایا گیا: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)} ’’اور مَیں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ لفظ عباد ت کا لُغوی مفہوم قبل ازیں بیان ہوچکا ہے۔ صرف یہ بات ذہن میں تازہ کرلیں کہ عربوں کے ہاں یہ لفظ تذلل کے لیے استعمال ہوتا تھا ‘ یعنی کسی کے سامنے بچھ جانا‘ کسی کا مطیع فرمان بن جانا۔ چنانچہ جو اونٹ پوری طرح سِدھا لیا جائے کہ اس پر سواری کی جاسکے اسے ’’اَلْبَعِیرُ الْمُعَبَّد‘‘ کہتے ہیں‘ اس لیے کہ اب وہ آپ کا حکم مانتا ہے ‘ آپ کے اشاروں پر حرکت کرتا ہے۔ وہ گھٹنے کی ذرا سی ایڑ سے سمجھ جاتا ہے کہ میراسوار چاہتا ہے کہ مَیں تیز دوڑوں‘ لگام کے ذرا سے اشارے کو سمجھتا ہے کہ اب مَیں رُک جاؤں۔ یہ تمام باتیں جانور کے ’’مُعَبَّد‘‘ ہونے کی علامات ہیں‘ گویا وہ پوری طرح مطیع ہوگیا ہے۔ اسی طرح وہ راستہ جو لوگوں کے مسلسل چلتے رہنے سے دب جاتا ہے‘ قدموں تلے پامال ہوجاتا ہے‘ مٹّی بیٹھ جاتی ہے اور اس اعتبار سے اس کے اندر ہمواری آچکی ہوتی ہے‘ کوئی اونچ نیچ نہیں رہتی تو یہ پامال شدہ راستہ ’’اَلطَّرِیْقُ المُعَبَّد‘‘ کہلاتا ہے۔
جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام فرعون کے دربار میںآئے اوردعوت پیش کی تو اُس نے بڑے استحقار کے انداز میں یہ پھبتی چست کی تھی: {وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ(۴۷)}(المؤمنون) ’’ان کی قوم تو ہماری عابد ہے۔‘‘ ہماری مطیع ہے‘ ہماری غلام ہے‘ ہمارے سامنے ذلیل وخوار ہے اور ہمارے زیر ِفرمان ہے۔ ان کو کیسے جرأت ہوئی کہ وہ ہمیں کوئی پیغام دینے یا ہم سے کوئی تقاضا اور مطالبہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ فرعون کے ساتھ مکالمہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی لفظ استعمال کیا۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ طعنہ بھی دیا تھا: {اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا} (الشعراء:۱۸) ’’کیا ہم نے ہی اپنے ہاں تمہیں پالاپوسا نہ تھا جب کہ تم چھوٹے سے تھے؟‘‘ ہمارے ہاں پل کر گویا ’’ہماری بلی اور ہم سے ہی میاؤں! ‘‘ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
{وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ(۲۲)} (الشعراء)
’’اور یہ وہ احسان ہے جو تم مجھے جتلا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے!‘‘
تم نے جو بنی اسرائیل کو اپنا غلا م بنا لیا ہے ‘انہیں جکڑ لیا ہے‘ ماتحت او ر زیر ِنگیں کیا ہوا ہے‘ تم اس کو تو بھول گئے ہو‘ اور مَیں تمہارے محل میں پلا بڑھا ہوں تو مجھ پر وہ احسان جتا رہے ہو!
عبادت: کامل اطاعت اور محبّت کا امتزاج
لفظ ’’عبادت‘‘ کا اصل مفہوم ’’تذلل‘‘ ہے۔ تقریباً تما م جمہور علماءِ لغت کا فیصلہ یہ ہے کہ: العبادۃ التذلل یعنی بچھ جانا ‘ گر جانا‘ عاجزی و انکساری اختیار کرنا‘ اپنی انانیت کو ختم کردینا‘ اپنی مرضی سے دست بردار ہو جانا‘ یہی عبادت ہے۔ البتہ اس کے اندر محبّت کی اصل روح جب پیدا ہوگی تو یہ دینی اعتبار سے عبادت ہوگی۔ خالص سیاسی تصور کے اعتبار سے عباد ت صرف غلامی ہے۔ اگر بنی اسرائیل فرعون کی اطاعت کررہے تھے تو ایسا اُس کی محبت یا اپنے دل سے اُس کی تعظیم کرنے کی بنا پر نہیں تھا‘ بلکہ یہ ان کی مجبوری تھی ‘ جیسے ہم انگریز کی اطاعت کرنے پر مجبور رہے۔ ہم اُس کے غلام تھے ‘ اُس نے ہمیں فتح کیا‘ وہ ہمارا حاکم تھا۔ البتہ اطاعت کے ساتھ جب محبت کی چاشنی شامل ہو جائے ‘کسی کی محبّت اور عظمت کا نقش قلب پر اتنا گہرا ہوجائے کہ انسان دلی آمادگی کےساتھ خود اُس کی اطاعت اختیار کرے ‘ اُس کے سامنے اپنے آپ کو بچھادے تو یہ اصل عبادت ہے جو مطلوب ہے۔ یہاں ’’عبادتِ ربّ‘‘ کی دعوت اسی معنی میں ہے: اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ’’اپنے ربّ کی بندگی اور پرستش کرو۔‘‘ شیخ سعدی ؒ نے کہا ہے ؎
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی!بندگی محض اطاعت اور غلامی ہے‘ جب کہ پرستش کے اندر کسی کی محبت ہوتی ہے ‘کسی کی عظمت کا نقش ہوتا ہے ‘کسی سے والہانہ عشق ہوتا ہے ‘ کسی کی احسان مندی کاجذبہ ہوتا ہے۔
اصل میں جذبۂ شکر ہی عبادت کے جذبے کی شکل اختیار کر تا ہے‘ اس لیے کہ فطرت ِ انسانی کی صحت کی ایک علامت یہ ہے کہ اس میں شکر کا جذبہ ہو‘ شکر کا مادّہ ہو۔ اگر کوئی اس کےساتھ بھلائی کرے ‘خیر کرے‘ اُس کی کسی ضرورت کو پورا کرے تو اس کی احسان مندی کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ صحت ِ فطرت کی علامت ہے‘ اور اگر نہ ہو تو گویا فطرت مسخ (pervert) ہوچکی ہے ‘ اس کے سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ اسی فطرت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ جس نے آپ کےساتھ بھلائی کی ہے ‘آپ بھی اس کے ساتھ کوئی بھلائی کریں ‘کسی درجہ میں اُس کو جزا دیں۔ کسی انداز میں اس کی کوئی خدمت کریں۔ والدین نے آپ کے ساتھ بھلائی کی ہے ‘ آپ بھی ان کی خدمت کریں۔ کسی پڑوسی نے کبھی آپ کے ساتھ کوئی بھلا کام کیا ہے تو آپ بھی تلاش میں رہیں کہ کوئی موقع ملے تو میں اس کے احسان کا بدلہ چکا دوں :{ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ(۶۰)} (الرحمٰن) ’’ احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہوسکتاہے۔‘‘ یہ بھی فطر ت کا تقاضا ہے۔
چنانچہ اگر کوئی ایسا محسن ہے کہ جس کے احسان کا آپ کچھ بدلہ دے سکیں تو ٹھیک ہے۔ عوضِ مُعاوضہ گلہ ندارد۔ آپ نے احسان کا بدلہ چکا دیا‘ اب آپ کے اعصاب پر کوئی بوجھ نہیں رہا کہ مَیں اس کا احسان مند اور اس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں۔ البتہ اگر کوئی ہستی اتنی بلند ہے کہ آپ تو اُس کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے‘ جیسے سورج کہ اس کی تمازت سے فصلیں پک رہی ہیں‘ ہواؤں کا نظام قائم ہے ‘بارشیں برس رہی ہیں‘ ہمارے بڑے کام چل رہے ہیں‘ لیکن ہم اس کی کیا خدمت بجالائیں ‘اس کو کیا بدلہ دیں؟ اگر انسان سورج کے خالق اور اُس کی قدرت سے ناواقف ہو توپھر اس کے لیے تو بس یہی رہ گیا کہ سورج کو دیوتا مان کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوجاؤ‘ ا س کی عظمت کا اقرار کرو ‘ اس کے گُن گاؤ‘ اس کی کچھ مدح و ستائش کرو‘ اس کے آگے سر جھکا دو ‘ سجدہ کرو ‘ ڈنڈوت کرو! اس اعتبار سے یہ جذبۂ شکر درحقیقت پھر جذبۂ عبادت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ ایسا جذبۂ عبادت درحقیقت مطلوب ہے اللہ تعالیٰ کے لیے کہ انسان یہ پہچان لے کہ ربّ حقیقت میں وہی ہے۔ میری ربوبیت چاہے کتنے مختلف گوشوں سے ہورہی ہے‘میری ضروریا ت کی بہم رسانی کا نامعلوم کتنا طویل نظام ہے‘ لیکن دراصل میرا ربّ ایک ہی ہے۔ ربوبیت کے یہ سارے سلسلے اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔جس نے اس حقیقت کو پہچان لیا اس کی ساری عبادت ‘پرستش اوربندگی کاجذبہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہوجائے گا۔ سورۃ الفاتحہ میں یہ سارے مضامین آچکے ہیں۔
محبت اور اطاعت دونوں میں نسبت معلوم کرنے کےلیے بہترین تشبیہ یہ ہے کہ جیسے ہمارے جسم کے اندر جان ہے۔ جان نظر نہیں آتی‘ اس کا وزن ہمیں معلوم نہیں‘ لیکن جسم کی حیات اسی کی بدولت ہے۔جان نکل جائے تو جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ((disintegrate ہوجائے گا‘ متعفن ہو جائے گا۔ چنانچہ جو کچھ نظرآرہا ہے وہ جسم ہے‘ لیکن اس کی حقیقت جان سے ہے۔ جان سے بھی آگے جایئے تو جسم کے اندر روح ہے‘ لیکن نظر آنےوالی چیز جسم ہی ہے۔ اسی طرح عبادت کا پیکر ‘ جو نظر آتا ہے وہ تو ہے اطاعت۔ ہمہ تن ‘ ہمہ وقت ‘ ہمہ جہت‘ ہر اعتبار سے اللہ کی اطاعت‘ لیکن اس کی اصل روح اور جان محبت ہے۔ اگر محبت موجود ہےتو یہ اطاعت پھر عبادت بن جائے گی۔ اگر محبت نہیں ہے تو نری اطاعت ہی رہ جائے گی۔ ایسی اطاعت توجبری بھی ہوتی ہے‘ مجبوراً بھی ہوتی ہے ‘دکھاوے اور ریاکاری کے لیے بھی ہوتی ہے۔ وہ پھر عبادت شمار نہیں ہوگی جب تک کہ محبت کی روح اور اصل جان اس کے اندر سرایت کیے ہوئے نہ ہو۔
اس حقیقت کو امام ابن تیمیہؒ نے بھی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’اَلعُبُوْدِیّۃُ یَتَضَمّن کَمَالَ الذُّلِّ وَکَمَالَ الْحُبِّ‘‘ یعنی عبودیت کا لفظ دوچیزوں کو جمع کردیتا ہے: آخری درجہ کا تذلل ‘ انکساری‘ اور اس کے ساتھ حد درجہ کی محبت۔ دونوں چیزیں اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوں تو لفظ عبودیت کا تقاضا پورا ہوگا۔ ان کے شاگرد رشید حافظ ابن قیم ؒجن پرکچھ متصوفانہ رنگ غالب ہے‘انہوں نے اس کی ترتیب بدل دی اور وہ محبت کو پہلے لا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’اَلْعِبَادَۃُ تَجْمَعُ اثْنَیْنِ: غَایَۃَ الْحُبِّ مَعَ غَایَۃَ الذُّلِّ وَالْخُضُوْعِ‘‘ یعنی عبادت دو اساسات (بنیادوں) کو جمع کرتی ہے: اللہ تعالیٰ سے انتہا درجہ کی محبت‘ اور اس کے ساتھ حددرجہ کی عاجزی وانکسار ی۔ عبادت کے لیے یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم ہیں۔
دورِ زوال میں محدود تصورِ عبادت
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عبادت اور عبادات کا اصل تعلق کیا ہے! بدقسمتی سے ہمارے دورِ زوال میں تصور ِ عبادت محدود ہوتا چلا گیا اور محض ’’عبادات‘‘ تک رہ گیا‘ یعنی نماز ‘روزہ ‘حج اور زکوٰۃ جو مراسم ِعبودیت (modes of worship) ہیں ‘ جو معیّن افعال ہم پر فرض کیے گئے ہیں۔ ان کو رسم کہا جائے تو کوئی حرج نہیںـ‘ کیونکہ رسم کا لفظی معنی کسی چیز کی ظاہری صورت ہو تا ہے‘ جیسے رسم الخط‘جس کے ذریعے ہم حروف کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم اگر انسان کی نگاہ صرف رسم ہی پر جم جائے‘ جسے رسم پرستی (ritualism) کہتے ہیں تو یہ طرزِ فکریقیناً غلط ہے۔البتہ بقول مرزا غالب: ع ’’لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی!‘‘ ہر لطیف حقیقت کو اپنے ظہور کے لیے کسی نہ کسی کثیف واسطے(medium) کی ضرورت ہوتی ہے‘ جس کے بغیر اس کی حقیقت سامنے نہیں آسکتی۔ اسی لیے عبادت کا جذبہ اپنے ظہور کے لیے کسی نہ کسی رسم کا محتاج ہے۔ ہمارے صدیوں کے زوال کے نتیجے میں دین نے جب مذہب کی شکل اختیار کرلی توپھر عبادت کا تصور محدود ہوکر انہی مراسم ِ عبودیت تک رہ گیا۔؎
رہ گئی رسمِ اذاں‘ رُوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا‘ تلقین غزالی نہ رہی!بحمدا للہ ! ہمارے اس دورمیں بہت سے اہل ِقلم حضرات ‘مصنّفین اور مفکرین سامنے آئے ہیں‘ جن کی اجتماعی جدّوجُہد کے نتیجے میں اب یہ حقیقت واشگاف ہوچکی ہے کہ عبادت سے مراد پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت ہے۔ یہ اس کا ایک لازمی حصہ ہے‘ وگرنہ تو درحقیقت ایک تناقض ہے۔ ایک تضاد یہ ہے کہ ہم نماز میں تو اللہ کی بندگی کررہے ہوں لیکن جب نماز سے فارغ ہو جائیں تو اپنی مَن مانی‘ اپنی نفس پرستی ‘اپنے معاشرے کا جو چلن ہے یاجو بھی سکہ رواںہے‘ اس کی پیروی شروع کردیں‘ تو یہ { لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲)}(الصف) ہے۔ ہم آہنگی اسی صورت میں ہوگی کہ ہماری زندگی کا بالکل ایک ہی رنگ ہو۔ یوں سمجھیے کہ نماز کی حالت میں وہ رنگ بہت گہرا ہے‘ اس لیے کہ ہمہ تن ‘ ہمہ وجوہ اسی پر ارتکاز ہے :
{اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَـآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ(۷۹) }(الانعام)
’’یقیناًمَیں نے تو اپنا رُخ کر لیا ہے یکسو ہو کر اُس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے‘ اور مَیں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔‘‘
ہرشے سے منقطع ہوکر ‘اپناتعلق توڑکر اپنی توجہ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف مرتکز کیا ہے۔ گویا اس عبادت کا رنگ یہاں گہرا ہے۔ باقی یہ کہ اس کے ساتھ ہم آہنگی ہونی چاہیے‘ پوری زندگی اسی رنگ میں رنگی ہونی چاہیے۔ اگر پوری زندگی کا طرزِ عمل (behavior) اور سارے معاملات اس سے ہم آہنگ نہیں ہیں تویہ تناقض ہے۔ یہی پھر منافقت کی طرف لےجانے والی شے ہے۔ اس اعتبار سے اگرچہ یہ تصوّر ِ عبادت اب بہت حدتک لوگوں کے سامنے آچکا ہے‘ البتہ اس میں یہ محبت والا پہلو چونکہ سابق زمانے میں صوفیاء کا موضوع رہا ہے‘ لہٰذا اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ بقول اقبال: ؎
اٹھائے کچھ وَرق لالے نے‘ کچھ نرگس نے‘ کچھ گُل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری!دین کی حقیقت ِواحدہ کو مختلف اجزاء میں تقسیم کر دیا گیا ‘جومختلف طبقات نے سنبھال لیے۔ وہ گویا ان کا اپنا اپنا ایک مخصوص دائرہ (exclusive domain) بن گیا۔ یعنی عشق ِحقیقی او رمحبّت ِ الٰہی کی بات کریں گے تو صرف صوفیاء۔ نماز ‘ روزے اور ان کے قوانین و قواعد کی بات علماء وفقہاء کریں گے۔ ہمارے جدید دینی مفکرین اور ان میں بھی جو دین کے داعی ہیں ‘ پھر احیائی تحریکات میں جو لوگ سرگرم ہیں‘ ان سب کو عام طورپر تصوف سےایک کد ہے‘ ایک بعد ہے۔ اس کے مختلف اسباب ہیں جن کی وجہ سے ان کے فکر اور approach کے اندر روحانیت سے اس طرح کی الرجی اور دُوری پیدا ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کمی کو پورے شدّومد کےساتھ ‘پورے زور (emphasis) کے ساتھ مکمل کیاجائے‘ اس لیے کہ جب تک محبت ِ الٰہی کی چاشنی شامل نہ ہو ‘ محض اطاعت عبادت نہیں ہے۔ اسی لیے مَیں نے حافظ ابن قیم اورامام ابن تیمیہ رحمہما اللہ‘ دونوں کی عبارات آپ کے سامنے رکھی ہیں۔ اس ایک آیت {یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَـقَـکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّــکُمْ تَـتَّقُوْنَ(۲۱)} پر مَیں نے ایک مکمل تقریرکی تھی جو ’’میثاق‘‘ کےاکتوبر اور نومبر ۱۹۹۱ء کے شماروں میں ’’دعوتِ بندگی ٔربّ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ جن حضرات کو دلچسپی ہو وہ ا س کا مطالعہ کریں۔
عبادت اور عبادات کا باہمی تعلق
عبادت مطلق‘ ہمہ وقت ‘ہمہ وجوہ اطاعت ہے‘ لیکن محبّت کے جذبہ سے سرشار ہوکر۔ اس ’’عبادت‘‘ کا ’’عبادات‘‘ کے ساتھ کیا تعلق ہے‘ اسے بھی اختصار کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے۔ یہ عبادت آسان نہیں ہے‘ اس میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا نفس ہے۔ پھر یہ کہ ذہول یعنی بھول جانا‘ اس لیے کہ اس دنیا میں انسان کے معاملات ہیں ‘ مصروفیات ہیں ‘ مشغولیات ہیں۔ اس پر ماحول کے جو مختلف اثرات پڑرہے ہیں‘ ان سے اپنے آپ کو بچا کررکھنا کہ انسا ن اپنے اس عہد پر کاربند رہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرنی ہے ‘ اللہ ہی کی اطاعت کرنی ہے۔ گویا بہت سے داخلی اور خارجی موانع ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا؎
چو می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را!یعنی مَیں جب یہ کہتاہوں کہ مَیں مسلمان ہوں تو مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے‘ اس لیے کہ مجھے معلوم ہے کہ لااِلٰہ اِلااللہ کہہ دینا اوراللہ کی بندگی کا اقرار کرلینا بہت آسان لیکن اس پر پورا اُترنا بہت مشکل ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے جو رکاوٹیں ہیں ان کی تسہیل ‘ ان کی تیسیر‘ ان کو آسان بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ چا ر عبادات عطا کی ہیں۔ نماز اس لیے ہے کہ مبادا آپ بھول جائیں کہ آپ اپنے ربّ کے بندے ہیں۔ جو لوگ نفلی نمازیں بھی پڑھیں ان کامعاملہ تو اور آگے کا ہے‘ لیکن فرض نمازیں پانچ ہیں۔ دن میں پانچ مرتبہ اپنی زندگی کے معمولات کو توڑ کر آؤ اور اپنے عہد ِبندگی کو تازہ کرو:{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo} بقول حفیظ جالندھری؎
سرکشی نے کردیے دھندلے نقوشِ بندگی
آؤ سجدے میں گریں‘ لوحِ جبیں تازہ کریں!ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْo }(طٰہٰ) ’’اور قائم رکھو نماز کو میری یاد کے لیے۔‘‘ کہیں بھول نہ جاؤ‘وہ کیفیت نہ ہوجائے کہ؎
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!اس کے لیے نماز گویا کہ ستون ہے: ((اَلصَّلاۃُ عِمَادُ الدِّین)) یہ معمولات کو جکڑ دے۔ زندگی کے تما م معمولات اس کے گرد گردش (revolve) کریں۔ یہی زندگی کا اصل عمود اور مرکز ومحور بن جائے۔ پھر یہ کہ نفس کے جو تقاضے ہیں‘ ان کی ڈھال کے طور پر ((اَلصَّومُ جُنَّۃٌ)) (صحیح البخاری: ۷۴۹۲) کے مصداق روزہ رکھو‘ تاکہ تم نفس کے منہ زور گھوڑے کو قابو کرسکو ‘ اس کو لگام دے سکو۔ وہ تم پر غالب نہ آجائے بلکہ تم اس پر غالب رہو۔ تمہاری خودی ‘انا‘ قوت ِارادی غالب رہے جبکہ نفس اور اس کے تقاضے مغلوب رہیں۔ اسی لیے فرمایا :
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَـبْلِکُمْ لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۸۳)}
’’اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘
تیسری سب سے بڑی رکاوٹ مال کی محبت ہے‘ جو درحقیقت دنیا کی محبت کی علامت ہے۔ دنیا کی محبت کا خلاصہ مال کی محبت ہے اور اس کے ازالے کے لیے انفاقِ مال ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو‘ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ زکوٰۃ‘ تزکیہ سے ہے اور تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا۔ تمہارے دل میں اگر مال کی محبت کی نجاست لگی رہے گی تو تم عبادت کے اس تقاضے کو پورا نہیں کر سکو گے‘ لہٰذا اس نجاست کو دھوؤ‘ اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں دو۔ زکوٰۃ بھی عبادت ہے۔ اسلام کا ایک اہم رکن حج ہے جو شعائراللہ میں سے ہے۔ اس میں یہ تینوں حکمتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ چنانچہ اس میں ذکر بھی ہے‘ تلبیہ بھی ہے۔ اس میں خرچ ہے‘ انفاق کامعاملہ ہے‘ اور پھر حالت ِاحرام میں روزے سے مشابہ پابندیاں بھی ہیں۔ اس اعتبار سے اصل ’’عبادت‘‘ کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ’’عبادات‘‘ کی صورت میں ہمیں یہ اعمال عطا فرمائے ہیں۔ یہ ہمارے اصل مقصد ِزیست{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)} کو پورا کرنے میں ممد ومعاون ہیں۔ چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کا مظہر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ان ’’عبادات‘‘ سے جدا کرنے کے لیے سورۃ البینہ کی یہ آیت ضرور ذہن میں رہنی چاہیے کہ دونوں کے درمیان میں واوِعطف آیا ہے۔ فرمایا:
{وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ۵ حُنَفَآئَ}
’’ا ورانہیں حکم نہیں دیا گیا تھا مگر اس کا کہ اللہ ہی کی بندگی کریں‘ اطاعت کو اُس کے لیے خالص کرکے‘ یکسو ہوکر‘‘
خالص اُسی کی بندگی کریں ‘اطاعت کو اُس کے لیے خالص کرتے ہوئے‘ حنیف ہوکر۔ کہیں بھی دوغلاپن پیدا نہ ہو۔وہ یکسو ہوں ‘یک رنگ ہوں‘ پوری زندگی میں اللہ ہی کی عبادت ہو۔
{وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ(۵)}
’’اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوٰۃ‘ اور یہی ہے دین قیم۔‘‘
اس سے گویا ’’عبادت‘‘ اور ’’عبادات‘‘ کا اصل مفہوم واضح ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو عبادات عطا فرمائی ہیں وہ دین کی بنیادیں ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ کے بعد صوم اورپھر حج ہے‘ لیکن ان میں سے دو اہم ترستون نماز اور زکوٰۃ کا یہاں ذکر فرمایا گیا۔
ربوبیت :تخلیق پر مقدّم کیوں؟
آیت زیر مطالعہ میں ارشاد ہوا:
{یٰٓـاَیـُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ}
’’اے لوگو! بندگی اور پرستش اختیار کرو اپنے اس رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔‘‘
قرآن مجید میں ربوبیت کو تخلیق پر مقدّم رکھا جاتا ہے‘ حالانکہ واقعہ کےاعتبار سے تخلیق ربوبیت پر مقدّم ہے۔ پہلے کسی شے کو پیدا کیا گیا ہے‘ اس کا وجود ہے۔ اب اس وجود کے لیے ترقی ہے ‘اس کے تقاضے ہیں ‘اس کی ضروریات ہیں ‘ اس کی پرورش ہے۔ چنانچہ عملاً ترتیب یہ ہے۔ جیسے قرآن حکیم کی ترتیب ِمصحف اور ترتیب ِنزولی میں فرق ہے‘ جو حکمت کی بنیاد پر ہے‘ اسی طرح اگرچہ تخلیق مقدّم ہے ربوبیت پر‘ البتہ قرآن ہمیشہ ربوبیت کا ذکرتخلیق سے پہلے کرتاہے :
{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(۱) }
’’پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
ربّ کا نام پہلے اور خَلَقَ بعد میں آیا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ انسان کے شعوری ارتقاء کی ترتیب یہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک چھوٹا سا بچہ ہے‘ اُسے بھی اپنی ضرورتوں کا احسا س ہے۔ بھوک لگتی ہے تو روتا ہے۔جب ماں نے دودھ پلایا تو اس کا ایک اثر‘ ایک تاثر اُس کی نفسیات پر قائم ہوگا۔ اسے ماں سے محبت اسی لیے ہے کہ اس کی ضرورت ماں سے پوری ہوئی ہے۔ ذرا اور بڑا ہوتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں سے کوئی خطرہ ہو ‘خدشہ ہو تو میر ا کنبہ قبیلہ ‘میر اخاند ان ‘میرے بہن بھائی ‘ یہ سب میرے محافظ ہیں۔ اپنی ضروریات اوراپنے تحفظ کا یہ شعور انتہائی بنیادی چیز ہے۔ اسے اپنے وجود اور اپنی ہستی کا احساس تو اس وقت ہو گا جب وہ جوان ہوگا اور اس کا شعور اپنی پختگی کو پہنچے گا۔ پھر یہ کہ وہ تخلیق کے کس کس مرحلہ سے گزرا ہے‘ یہ بہت بعد کی بات ہے۔ اس اعتبار سے شعور ِانسانی کےارتقائی عمل میں تصوّرِ ربوبیت مقدّم ہے۔ لہٰذا { یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ} میں دلیلیں بھی آگئیں۔ وہی تمہارا ربّ ہےجو تمہارا خالق ہے۔ ع’’وہی ذاتِ واحد عبادت کے لائق!‘‘ اُس کے علاوہ تم کسی اور کی بندگی کرتے ہو تو وہ نہ تمہارا ربّ ہے اور نہ تمہارا خالق۔ اپنے نفس کی بندگی کرو گے تو وہ نہ تمہارا خالق ہے نہ تمہارا ربّ ۔ اپنے والدین کی بندگی کرو گےتو وہ تمہارے خالق نہیں۔ کسے باشد! اس اعتبار سے ان دونوں الفاظ میں بہت بڑی دلیل مضمر ہے۔
آباء پرستی کی نفی
آگے فرمایا: {وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ} ’’اور اُن کو بھی (پیدا کیا) جو تم سے پہلے تھے۔‘‘یہ بات یہاں خاص طورپر کیوں لائی گئی؟ اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے‘ واللہ اعلم‘ کہ انسان کی ایک بہت بڑی گمراہی یہ رہی ہے کہ آباء و اَجداد کے جو بھی طور طریقے چلے آرہے ہوں ان کے ساتھ ایک عصبیت پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم انہیں کیسے چھوڑ دیں! یہ ہمارے قبیلے کی ریت ہے۔ ان بتوں کو پوجنا ہماری خاندانی روایات ہیں۔ اس طرح جو ایک تقدس پیدا ہوجاتا ہے‘ جسے آباء پرستی کہا جاسکتا ہے‘ یہ بات بھی ایک دلیل کی شکل اختیار کرلیتی ہے کہ ہمارے ہاں تو یہ بات اسلاف سے چلی آرہی ہے۔ یہاں درحقیقت اس کی جڑ کاٹی جارہی ہےکہ وہ بھی مخلوق تھے جیسے تم مخلوق ہو۔ جیسے تمہیں اللہ نے پیدا کیا‘ ویسے ہی انہیں بھی پیدا کیاتھا‘ لہٰذا ان کا کوئی فعل تمہارے لیے سند اور دلیل نہیں۔ یہی بات ہے جو مکی سورتوں میں‘ خاص طور پر سورۂ لقمان میں بڑی وضاحت کے ساتھ آئی ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک فطرت کا تقاضا ہے:
{وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ ج حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ ط اِلَیَّ الْمَصِیْرُ(۱۴) } (لقمان)
’’اور ہم نے وصیت کی انسان کو اُس کے والدین کے بارے میں۔ اُس کو اُٹھائے رکھا اُس کی ماں نے (اپنے پیٹ میں) کمزوری پر کمزوری جھیل کر‘ اور اُس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سال میں‘ کہ تم شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا! اور میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہو گا ۔‘‘
یہ تو فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ شکر کا بدلہ ہونا چاہیے۔انہوں نے تمہیں پالا پوسا‘ خاص طور پر ماں ‘ جو تمہاری پیدائش اور شیرخوری کے کٹھن مراحل سے گزری۔ اس اعتبار سے ان کےساتھ احسان ‘ حسنِ سلوک تو ایک قدرتی امر ہے ------ لیکن :
{وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ لا فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۵)}
’’اور اگر وہ تم پر دبائو ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک کرو اُس چیز کو جس کا تمہارے پاس کوئی علم نہیں تو اُن کا کہنا مت مانو‘ اور دنیا میں اُن کے ساتھ رہو بہتر انداز میں‘ اور پیروی کرو اُس شخص کی جو میری طرف رخ کر چکا ہے۔ پھرمیری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے ‘پھر مَیں تمہیں جتلا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘
اگر وہ شرک اور کفر کا حکم دیں ‘غلط بات کی تلقین کریں‘ حرام پر آمادہ کرنا چاہیں تو اُن کا کہنا مت مانو‘ یہ اُن کا حق نہیں ہے۔ گویا والدین کا اتباع ضروری نہیں۔ اطاعت ِمطلق اُن کی نہیں ہے۔ اُن کے ساتھ حسنِ سلوک‘ خیر کا رویہ‘ اُن کی خدمت ‘اُن کا ادب اپنی جگہ پر ہے‘ البتہ:{ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج } ’’اور اتباع اُس شخص کے راستے کا کرو جس نے اپنا رُخ میری طرف کرلیا ہو۔‘‘یہ ہے اصل میں فرق وتفاوت جو ملحوظ رہنا چاہیے‘ اوریہ توازن مطلوب ہے۔ نہ تو یہ طرزِ عمل کہ والدین کا سرے سے خیال ہی نہ ہو‘ کوئی پاس لحاظ ہی نہ ہو ‘ اُن کا ادب بھی نہ رہے‘ اُن کےساتھ حسنِ سلو ک بھی نہ ہو‘ اُن کی خدمت بھی نہ ہو۔ اور نہ یہ کہ اُن کی پرستش شروع کردی جائے‘ یہی دلیل بن جائے کہ ہمارے والدین کا فرمان یہ ہے‘ ہمارے آباء واَجداد کی رسومات یہ ہیں ‘ہم ان کو کیسے چھوڑیں! اس کے بین بین ایک روش کی ضرورت ہے جو سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع میں بیان ہوئی ہے۔
سیاقِ عبارت میں تقویٰ کا مفہوم
زیر مطالعہ آیت کے آخر میں فرمایا: {لَعَلَّــکُمْ تَـتَّقُوْنَ(۲۱)} ’’تاکہ تم بچ سکو!‘‘ اس لفظ (تقویٰ) کےبارے میں ’’ھُدًی لِّلْمُتَّقِین‘‘ کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے۔ اس وقت غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں اس کا موزوں ترجمہ کیا ہوگا! عام طور پر مترجمین نے ترجمہ کیا ہے: ’’تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے۔‘‘ لیکن یہ اس مضمون سے مناسبت رکھنے والی بات نہیں ہے کہ بندگی کرو اپنے رب کی تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو جائے‘ جب کہ یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم ہیں۔ انسان بندگی اُسی وقت کرے گا جب اُس کے اندر تقویٰ موجود ہو۔ یہ تواصل میں وہ روحِ باطنی ہے جو انسان کو بندگی پر آمادہ کرنے والی شے ہے۔ اس ضمن میں سورۃ المائدۃ کی آیت ۹۳ بڑی اہم اور جامع ہے :
{لَـیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّـقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاط وَ اللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۳)}
’’اُن لوگو ں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کوئی گناہ نہیں ہے اس میں جو وہ (پہلے) کھا پی چکے جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں ‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور درجۂ احسان پر فائز ہو جائیں۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبّت کرتا ہے۔‘‘
جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کررہے ہیں وہ پہلے جو کھا پی چکے ‘ اس کااُن پر کوئی الزام نہیں ‘کوئی گناہ نہیں ‘ کوئی جواب دہی نہیں۔ یعنی جب تک شراب کی آخری حرمت نہیں آئی تھی ‘ اُس سے پہلے جس نے بھی پی ہے اُس کا کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا‘ جب کہ ان کی روش یہ رہی ہے: {اِذَا مَا اتَّـقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} کہ انہوں نے اللہ کا تقویٰ اختیار کیا‘ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔{ ثُـمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُـوْا} پھر ان کے اندر مزید تقویٰ بڑھ گیا اور اُن کےایمان میں مزید ترقی ہوئی۔ قلب کے اندرون تک ایمان راسخ ہو گیا گہرائی اور گیرائی کے ساتھ۔ {ثُـمَّ اتَّـقَوْا وَّاَحْسَنُـوْا} پھر ان کے اندر مزید تقویٰ پیدا ہوا اور وہ مقامِ احسان پر فائز ہوگئے۔ {وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۳)} اوراللہ تعالیٰ محسنین کو پسند کرتا ہے ‘اُن سے محبت کرتا ہے۔
ایک اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حدیث ِجبریلؑ میں اسی آیت کی وضاحت ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے پہلا سوال کیا: اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ۔ دوسرا: اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ۔ تیسرا: اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ۔چنانچہ ایمان‘ اسلام اوراحسان تین مدارج ہیں اور ان کی طرف لے جانے والی روح تقویٰ ہے۔ انسان کے اندر موجود ایمان کی وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو آخرت کے عذاب سے بچائے‘ اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچائے۔ اس میں وہ آگے سے آگے بڑھتا چلاجائے گا کہ بقول حالی: ع ’’ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں!‘‘
قرآن حکیم کے بعض مقامات پر تو یہی ترجمہ موزوں ہے:نماز پڑھو تاکہ تقویٰ پید ا ہوجائے ‘روزہ رکھو تاکہ تقویٰ پیدا ہوجائے۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۸۳ میں لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ کا ترجمہ ’’تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘ عقلی اور منطقی اعتبار سے سیاقِ عبارت کے ساتھ پورا ربط رکھتا ہے‘ لیکن آیت زیر مطالعہ میں لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ کا ترجمہ اس کے لُغوی مفہوم کے اعتبار سے ہوگا: ’’تاکہ تم بچ سکو۔‘‘ کس چیز سے بچ سکو؟ اَوّل تو یہ کہ عذابِ اُخروی سے بچ سکو۔ پہلے آچکا ہے: وَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ اور وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ اس سے بچنے کی صورت یہی ہے کہ ہمہ تن‘ ہمہ وجوہ اور ہمہ وقت اللہ کی بندگی اختیار کرو اور اُس کی محبت سے سرشار ہوکر اُس کے سامنے اپنے آپ کو بچھا دو‘ تاکہ آخرت کے عذاب اور دردناک انجام سے بچ سکو۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس دنیا میں جو فسادِ تمدن ہے‘ اِفراط وتفریط کے جو دھکے ہیں ‘ اگر تم اللہ ربّ العالمین کی بندگی اختیا رنہیں کرو گے بلکہ اپنی عقل کی پیروی کرو گے‘ اپنے نفس کی بندگی کرو گے تو پھرلامحالہ تصادم ہوگا‘ مفادات ٹکرائیں گے ‘طبقاتی کشمکش ہوگی۔ حاکم اورمحکوم کے درمیان ‘سرمائے اور محنت کے درمیان ‘فرد اور اجتماعیت کے درمیان کھینچ تان اور رسہ کشی ہوگی۔ اِفراط وتفریط کے یہ دھکے نوعِ انسانی کا مقدّر بنے رہیں گے اور تمدنِ انسانی فساد کی آماج گاہ بنا رہے گا۔ لہٰذا اللہ کی بندگی ہی میں خیر کا‘ خیریت کا‘ بھلائی کا‘ امن اور سکون کا پیغام ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: { وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا}(الاعراف:۵۶) ’’زمین میں فساد مت مچاؤ اس کی اصلاح کے بعد‘‘ وہ اصلاح اسی شکل میں ہوگی کہ سب کے سب ہمہ تن اللہ کی بندگی اختیار کرلیں ‘اُسی کے مطیع وفرماں بردار بن جائیں ‘اُسی کے احکام پر چلیں ‘ اُسی کی ہدایت کو اپنی زندگی کا لائحۂ عمل بنالیں۔
عبادتِ ربّ: دین کی جامع ترین اصطلاح
زیر ِمطالعہ آیت قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ا س لیے کہ دین کے باقی سارے تقاضے درحقیقت اسی کی فروع (corollaries) ہیں۔ مَیں ’’فرائض دینی کاجامع تصور‘‘ ایک سہ منزلہ عمارت کے حوالے سے واضح کیا کرتا ہوں۔ اس عمارت کے اوپر کے دونوں حصے درحقیقت اسی ’’عبادتِ ربّ‘‘ کا منطقی نتیجہ ہیں۔ جب تم عملاً اللہ کی بندگی اختیار کررہے ہو تو اپنے وجود سے خود ایک داعی بن گئے ہو‘ اللہ کے دین کا مظہر بن گئے ہو‘ شہادت علی الناس قائم کر رہے ہو۔ دین کی دعوت دینا‘ لوگوں تک اللہ کا دین پہنچانا یہ بھی اللہ کاحکم ہے تو بندگی میں شامل ہے۔ پھر یہ کہ جب اللہ کی بندگی کرنی ہے‘ اُس کا حکم ماننا ہے تواُس کا سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ اُس کےدین کو قائم کرو:{ اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ}(الشوریٰ:۱۳)۔ اُس کا حکم ہے کہ اس مقصد کے لیے اپنا تن مَن دھن لگاؤ۔ اُس کا حکم ہے کہ جان بھی کھپاؤ اور مال بھی خرچ کرو:((لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا))(صحیح مسلم:۷۵۶۳)’’تاکہ اللہ کا کلمہ سب سے سربلند ہو جائے۔‘‘ گویا دین کے جتنے بھی عملی تقاضے ہیں وہ سب کے سب اس ’’عبادتِ ربّ‘‘ میں آگئے ‘جیسے ہم کہتے ہیں ’’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘‘۔ لہٰذا لفظ ِ ’’عبادت‘‘ اتنا جامع اور گہرا (profound) ہے کہ اس کے اندر دین کے سارے عملی تقاضے سمو دیے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے اس آیت مبارکہ پر توجہ مرکوز کریں: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)} ’’مَیں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پید اکیا مگراس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ اس ایک لفظ کے اندر دین کے سارےعملی تقاضےموجود ہیں۔ دعوت ِقرآنی کی تعبیر کے لیے جامع ترین لفظ یہی ہے: {اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ}۔ گویا ایک اصطلاح ’’عبادتِ ربّ‘‘ کے اندر دین کی دعوت کا خلاصہ اور لب ِ لباب آگیا۔
(جاری ہے)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026