حقیقت ِایمانڈاکٹر اسرار احمدؒخطبہ مسنونہ کے بعد:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ --------- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
{اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَـیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ قف لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖقف وَقَالُـوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاق غُفْرَانَکَ رَبَّـنَا وَاِلَـیْکَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵)}(البقرۃ)
{ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۱) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ(۸۶)} (الانعام)
{ وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ(۷)} (الحجرات)
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵)} (الحجرات)
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ o وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ o وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیo
یَفْقَھُوْا قَوْلِیo
اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنَا رُشْدَنَا وَ اَعِذْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، اَللّٰھُمَّ
حَبِّبْ اِلَیْنَا الْاِیْمَانَ وَزَیِّـنْہُ فِی قُلُوْبِنَا وَ کَرِّہْ اِلَیْنَا الْکُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ
وَ الْعِصْیَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِیْن۔ آمِیْن یَا رَب الْعَالَمِیْن!!
آج دین کے انتہائی اہم اورسب سے زیادہ بنیادی موضوع پر گفتگو کی جائے گی۔ ہمارے دین کا اہم ترین لفظ ’’ایمان‘‘ ہے لیکن اکثر و بیشتر پڑھے لکھے لوگ بھی اس لفظ کے اصل معنی سے ناواقف ہیں۔بعض الفاظ کو ہم کثرت سے استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی غور ہی نہیں کرتے کہ اس کے معنی کیا ہیں!آج ایمان کے بارے میں بنیادی حقائق ہمارے سامنے آئیں گے۔ یہ گویا ’’کتاب الایمان‘‘ کا ایک مطالعہ ہے جو کہ دس ابواب پر مشتمل ہے:
(۱) ایمان کے لُغوی معنی (۲) ایمان کے اصطلاحی معنی
(۳) ایمان کا موضوع (۴) ایمانیاتِ ثلاثہ کی تفصیل
(۵) ایمانیاتِ ثلاثہ کی تقابلی اہمیت (۶) ایمان کے دو درجے
(۷) ایمان اور عمل کا تعلق (۸) ایمان اور جہاد کا تعلق
(۹) ایمان اور امن کا تعلق (۱۰) ایمانِ حقیقی کے حصول کے ذرائع
۱) ایمان کے لُغوی معنی
قرآن حکیم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام ہے لیکن یہ ایک انسانی زبان یعنی عربی میں نازل ہوا جو کہ پہلے سے موجودتھی‘ جیسے تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی جو اُس وقت پہلے سے بولی جاتی تھی ۔قرآن مجید میں جوالفاظ استعمال ہوئے ‘ وہ اگرچہ سب کے سب اہلِ عرب کی گفتگو میں شامل تھے لیکن جب وہ منتخب ہو کر کلامِ الٰہی کا حصہ بنے تو ان میں ایک اضافی مفہوم شامل ہو گیا اور پھر وہ ایک اصطلاح کی صورت میں سامنے آئے۔ فزکس‘ کیمسٹری‘ فلسفہ غرض کہ ہر مضمون کی اپنی اصطلاحات (terminology) ہوتی ہیں ۔ اگر ہم ان اصطلاحات کو نہیں سمجھیں گے تو اُس علم کو بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح ہمارے دین کی بھی بنیادی اصطلاحات ہیں جو کہ عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لیے دو پہلوؤں سے غور کرنا ضروری ہے۔اوّل یہ کہ اس کے لغوی معنی کیا ہیں ‘یعنی قرآن مجید کے نزول سے پہلے اہل عرب اس لفظ کو کن معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ دوم یہ کہ قرآن مجید میں استعمال ہو کر کسی عربی لفظ میں کیا اضافی مفہوم شامل ہوااور اُسے ایک اصطلاح کی صورت دی۔
عربی کے اکثر و بیشتر الفاظ ایک سہ حرفی مادہ سے بنتے ہیں۔ مثلاً ع ل م سے بے شمار الفاظ بنتے جاتے ہیں۔ عالم (علم رکھنے والا) ‘ معلم(علم سکھانے والا)‘ معلوم(جوبات علم میں ہو)‘ علامہ (بہت زیادہ علم رکھنے والا)‘ متعلّم(علم سیکھنے والا) وغیرہ ۔ ان تمام الفاظ کا علم سے رشتہ برقرار رہتا ہے لیکن اضافی مفہوم شامل ہوتا جاتا ہے۔
ایمان کا لفظ ’’امن‘‘ سے بنا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں کوئی اندیشہ ‘ خطرہ ‘ خوف نہ ہو۔ کوئی غم‘ فکر ‘پریشانی و بے چینی نہ ہو۔ گویا ان سب کی نفی سےجو کیفیت وجود میں آئےگی‘ وہ امن ہے۔ اَمِنَ یَاْمَنُ: امن میں ہونا ‘ آمِنٌ: وہ جو امن میں ہو‘ مَاْمُوْنٌ: وہ جس سے امن حاصل کر لیا گیا ہو‘ مَاْمَن : امن کی جگہ‘ اِیْمَانٌ: امن دینا ‘ مُؤْمِنٌ:امن دینے والا۔ عربی زبان میں جب کسی فعل کے بعد حرفِ جار کا بطور صلہ (preposition)اضافہ ہو جائے تو معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آمَنَ بِہِ : کسی کی تصدیق کرنا۔ آمَنَ لَہُ: کسی کی بات مان لینا ۔ لفظ ایمان پر حرف ’’ب‘‘ یا’’ لام‘‘ کا اضافہ ہوتا ہے تو مفہوم بدل جاتا ہے۔ایک شخص کوئی خبر لے کرآئے اور اس کی بات مان لی جائے تو ا س صورت میں امن کی کیفیت ہے جبکہ کسی دوسرےشخص کی لائی ہوئی خبر کو نہ مانا جائے تو جھگڑا و فساد ہوگا ۔گویا جب سامنے والے کا دعویٰ قبول کر لیا گیا تو امن و سکون ہے اور اگر تسلیم نہیں کیاگیا تو بحث مباحثہ کا آغاز ہوگا ‘ یعنی بد امنی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زبان کے ساتھ ہاتھ اُٹھنے کی نوبت بھی آجائے ۔
۲) ایمان کے اصطلاحی معنی
قرآن و حدیث میں جب بھی ایمان کا لفظ اصطلاح کے طور پر آتا ہے تو ’’بِ‘‘ کے اضافہ کے ساتھ آتا ہے ۔ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ، کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ، اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ ۔ ایمان کے اصطلاحی معنی نبیﷺ کی بات کی تصدیق کرنا ہیں۔ وہ یہ خبر دیتے ہیں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر فرشتہ آیا اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ مجھ پر وحی نازل ہو رہی ہے‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ یہ ایک خبر اور دعویٰ ہے‘ جس کو مان لینا ہی اصطلاحاً ایمان لے آنا ہے ۔گویا ایمان دراصل تَصْدِیْقٌ بِمَا جَاءَ بِہِ النَّبِیُّﷺ ہے ‘یعنی ہر اُس بات کی تصدیق کرنا جو نبی اکرمﷺ لے کر آئے ہیں۔ اسی لیے کوئی بڑے سے بڑا مؤحد ہو لیکن اگر حضرت محمدﷺ کو نہ مانے تو مؤمن نہیں کہلائے گا۔ کوئی انتہائی نیک ہو لیکن جب تک حضورﷺ کی تصدیق نہ کرے ‘ مؤمن نہیں مانا جائے گا۔ایمان حقیقتاً اور اصطلاحاً یہی ہے کہ حضرت محمدﷺ کی لائی ہوئی ہر بات کی تصدیق کی جائے۔
۳) ایمان کا موضوع (Subject matter)
ایمان کا موضوع وہی ہے جو فلسفہ کا موضوع ہے۔ ایک انسان جب شعور کی آنکھ کھولتا ہے یعنی ذہنی طور پر بالغ (intellectually mature) ہو جا تا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ سوالات آتے ہیں‘ جن پر اُسے ضرور غور کرنا چاہیے ۔ اکثر لوگ چونکہ تقلیدی ذہن رکھتے ہیں اس لیے وہ غور نہیں کرتے ۔ جو باتیں معاشرہ میں تسلیم شدہ ہوتی ہیں یا جو والدین و بزرگ تلقین کر تے ہیں ‘ان کو آنکھ بند کرکے مان لیتے ہیں ۔ نہ سوالات کرتے ہیں اور نہ تجزیہ ‘لہٰذا اس سے آگے سوچتے ہی نہیں۔ کسی مسلمان کے گھر میں پیدا ہو گئے تو اللہ‘ رسول ‘ آخرت ‘وحی‘ فرشتوں کو مانتے ہیں۔ اگر ہندو کے گھر پیداہوتے تو رام‘ کرشن کو مانتے۔ اگر عیسائی کے گھر پیدا ہوتے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ۔ دنیا میں انسانوں کی اکثریت تقلیدی ذہن کی ہوتی ہے لیکن ہر دور اور ہر معاشرہ میں ایسے لوگ بھی ہمیشہ موجود رہے ہیں ‘خواہ وہ نہایت ہی قلیل اقلیت میں ہوں ‘جنہوں نے غورو فکر سے کام لیااوراہم موضوعات کے بارے میں خود سوچا۔ مثلاً:
(i) اس کائنات کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ؟یاکسی خاص وقت میں وجود میں آئی اور کسی خاص وقت میں ختم ہو جائے گی؟ یہ از خود وجود میں آگئی یا کسی نے پیدا کی؟ آیا یہ خود بخود چل رہی ہے یا کوئی اس کا حاکم ہے؟
(ii) میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ میرے اس دنیا میں آنے سے قبل بھی میری کوئی ہستی تھی یا نہیں ؟ اگر تھی تو کیا تھی؟ اس دنیا میں آنے والی موت کیا میرے سفرِ حیات کا خاتمہ ہے یا میرے وجود کا تسلسل اس کے بعد بھی ہوگا؟ اگر ایسا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟
(iii) خیر اورشر کیا ہے؟ آیا خیر اورشر کی اقدار مستقل ہیں یا بدلتی رہتی ہیں ؟ کون سی چیز اس ضمن میں فیصلہ کن ہے جو طے کر سکے کہ خیر اورشر کیا ہیں؟
(iv) انسانی علم کی حقیقت کیا ہے؟ کچھ معلومات تو ہمیں حواسِ ظاہری سے یعنی دیکھ کر‘ چکھ کر ‘ سونگھ کر‘ چھو کر یا سن کر معلوم ہوتی ہیں۔ پھر ہمارے اندر یہ صلاحیت بھی ہے کہ ہم اپنے حواس سے حاصل کردہ sense data کو جمع‘ تفریق کرکے نتیجہ اخذ کرتے ہیں‘ یعنی استدلال کرتے ہیں۔ مثلاًہم نے دھواں دیکھا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ آگ لگی ہوئی ہے۔ اگرچہ ہم نے آگ کو براہِ راست نہیں دیکھا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ جہاں آگ لگتی ہے ‘ وہاں پر دھواں ہوتا ہے ۔ یہ بات تو ہماری عقل کے دائرہ کے اندر آجاتی ہے مگر کیا حواس اور عقل سے بالاتر بھی علم کا کوئی ماخذ (source)ہے؟
(v) بھوک کی وجہ سے انسان معاش کی جدّ وجُہد کرتا ہے۔جنسی خواہش(sexual urge) کی وجہ سے شادی کرتا ہے۔اگر محرکاتِ عمل صرف یہی ہیں تو کیا ہم میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں؟ ان حیوانی داعیات (instincts) کے علاوہ بھی کیا اورکوئی ایسا داعیہ ہے جس کی وجہ سے ہم حیوان سے ممیز ہو جائیں ؟
جنہوں نے فلسفہ کا مطالعہ کیا ہو‘ وہ جانتے ہیں کہ یہ سوالات دراصل فلسفہ کی مختلف شاخیں ہیں۔ مثلاً مابعد الطبیعیات( Metaphysics )کائنات کی حقیقت سے متعلق ہے۔ Ethics خیر و شر یا اخلاقیات سے بحث کرتی ہے۔ Epistemology علم کی حقیقت سے متعلق اُمور کا احاطہ کرتی ہے ۔ Psychology انسانی نفس کے داعیات اور محرکات ِعمل کے بارے میں علم کا نام ہے۔
ان سوالات کے حتمی جواب دنیا میں نہیں ملتے۔ یہاں تو ایک کہتا ہے کہ یہ کائنات خود بخود بن گئی‘ دوسرا کہتا ہے کہ ایک خدا ہے ‘تیسرا کہتا ہے کہ بہت سارے خدا ہیں‘ چوتھا کہتا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں ان سوالات کے تسلیم شدہ جوابات کو تقلیدی ذہن سے تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنی عقل ‘ غور و فکر‘ سوچ بچار سے حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ان لوگوں کو فلاسفہ وحکماء کہتے ہیں۔ جیسے گوتم بدھ کے اندر سچائی کی تلاش (search for truth) کا داعیہ اتنا شدید ہوا کہ تیس برس کی عمر میں عین اپنی جوانی کے عروج کے وقت ‘ایک بڑی ریاست کپل وستو کا شہزادہ ہونے کے باوجود جوان بیوی اور شیر خوار بچے کو چھوڑ کر نکل جاتا ہے۔ در در کی خاک چھانتا ہے تاکہ کوئی ایسا صاحب ِبصیرت (enlightened person) مل جائے جسے حقیقت کا سُراغ مل گیا ہو۔ جو کچھ آج گوتم بدھ کی جانب نسبت کیا جا تا ہے‘ وہ صحیح ہو یا نہیں‘ البتہ یہاں پر صرف یہ مثال دی جارہی ہے کہ ایسا داعیہ کتنا شدید ہوتاہے۔ یہ جب انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے لیے دنیا کی کوئی چیز اہم نہیں رہتی۔ اصل حقیقت جاننے کے لیے وہ اپنا سب کچھ لگا سکتا ہے۔
اسی طرح سقراط ایک فلسفی تھا ۔ اُس وقت یونان میں جو باتیں مانی جا رہی تھیں ‘ اُس نے ان کو تسلیم نہیں کیا اور غورو فکر کر کے اپنے خیالات پیش کرنے شروع کیے۔ کچھ نوجوان اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ معاشرے کو خطرہ محسوس ہوا کہ اس شخص کی وجہ سے تسلیم شدہ نظریات کے خلاف باتیں پھیل رہی ہیں اور نوجوان گمراہ ہو رہے ہیں۔ لہٰذا سقراط کو دو options پیش کیے گئے : یا تو اپنی زبان بند کرلو ‘ یا زہر کا پیالہ پی لو ۔اس نے زہر پینا ہی پسندکیا ‘کیونکہ اس کے خیال میں جو حقیقت اُس پر منکشف ہوئی ‘اس کو بیان کیے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ گویا انسان زندگی جیسی قیمتی شے کو بھی اپنے فکر اور نظریہ کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
تیسری مثال حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔ ان کے والد ایک بہت بڑے آتش کدہ کےسینئر پجاری تھے اور باپ کے بعد یہ درجہ ان ہی کوملنا تھا۔ ان کو خیال آیا کہ یہ بات تو عقل کے بالکل منافی ہے کہ جس آگ کو ہم خود جلاتے ہیں ‘اُسی کے آگے ہاتھ جوڑ کر مانگیں ۔یہ سوچ کر انہوں نے ایران چھوڑ کر شام کا رُخ کیا۔چونکہ بعثت ِنبویﷺ سے قبل دین عیسوی تھا‘ اس لیے وہ حقیقت کی تلاش میں عیسائی راہبوں کے پاس پہنچے۔ وہاں کافی وقت گزارا۔ پھر ایک زاہد و عارف راہب کے پاس پہنچے۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس سے پوچھا :’’ اب آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں؟‘‘اس نے بتایا کہ میرے علم کے مطابق جنوب کی طرف کھجوروں کی سرزمین میں نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت اب قریب ہے۔ان ہی کے دامن میں پہنچ کر تمہارے علم کی پیاس کو سیری حاصل ہو سکے گی‘ لہٰذا تم اُدھر کا رُخ کرو۔ا س کے انتقال کے بعد حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک قافلہ کےساتھ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔قافلہ پر ڈاکوؤں کاحملہ ہوا اورغلام بنا لیے گئے۔ مدینہ کے ایک یہودی نے ان کو خریدلیا۔ یہ تھی طلبِ صادق کہ مدینہ پہنچ گئے۔ابھی نبیﷺ کی مدینہ تشریف آوری نہیں ہوئی تھی لیکن خبریں آرہی تھیں کہ مکہ میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ چونکہ غلام تھے‘ تو اپنی مرضی سے مکہ نہیں جا سکتے تھے۔بہر حال نبی اکرمﷺ کی مدینہ آمد ہوتی ہے۔اب سوچتے ہیں کہ کیسے معلوم کروں کہ یہ سچے نبی ہیں یا نہیں!راہب نے یہ پہچان بتائی تھی کہ وہ صدقہ و خیرات قبول نہیں کریں گے‘ البتہ ہدیہ قبول کرلیں گے۔ چنانچہ کچھ کھجوریں لے کر حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں پہنچے اور پیش کیں۔رسول اکرمﷺ نے پوچھا:’’یہ کیا ہے؟‘‘کہا:یہ صدقہ ہے‘ آپ کی خدمت میں لایا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ غرباء کا حق ہے‘اُن میں تقسیم کردو۔ میں صدقہ قبول نہیں کرتا۔‘‘ کچھ دِنوں بعد کھجوریں لےکر پھر حاضر ہوئے اور کہا: ’’یہ ہدیہ ہے ‘ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔‘‘ حضورﷺ نے قبول فرمالیا۔پس حضرت سلمان فارسی ؓ نے فوراً اسلام قبول کر لیا ۔ اگروہ اپنے معاشرہ کی تسلیم شدہ باتوں کو مان کر ہی زندگی گزار دیتے تو ان کواسلام و ایمان کی دولت کبھی نصیب نہ ہوتی۔
اسی طرح ورقہ بن نوفل تھے جو بتوں کی پرستش سے بیزار ہوکر مکہ سے شام گئے اور اُس وقت کے آسمانی دین یعنی عیسائیت کو قبول کیا۔ عبرانی زبان میں اس قدر مہارت حاصل کی کہ تورات کو لکھا کرتے تھے جبکہ مکہ میں عربی لکھنے والے ہی گنتی کے لوگ تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پہلی وحی آنے کے بعد حضورﷺ کو ان کے پاس ہی لےکر گئی تھیں۔ جب حضورﷺ نے غارِ حرا میں حضرت جبریل علیہ السلام کی آمد کا واقعہ ان کو سنایا تو کہنے لگے: ’’ یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ کاش کہ میں اُس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی‘ تاکہ میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں۔‘‘ حضورﷺ حیران ہوئے کہ کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے جو مجھے صادق اور امین کہتے ہیں! جناب ورقہ نے کہا کہ ہاں‘ یہ اللہ تعالیٰ کا پرانا قانون چلا آرہا ہے کہ جو کوئی حق کی دعوت دیتا ہے تو اس کی قوم اس کی دشمن ہو جاتی ہے۔
اسی طرح کا معاملہ حضرت زید کا بھی تھا ‘جو کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر کہتے تھے: اے اللہ! میں اِن بتوں کو پوجنانہیں چاہتا‘ صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے نہیں معلوم کہ تیری پرستش کیسے کروں!ان کا انتقال حضورﷺ پر وحی کے آغاز سے پہلے ہی ہو گیا تھا۔ ان کے بیٹے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے‘ جو حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہنوئی تھے اورجنہوں نے حضورﷺ کی فوراً تصدیق کی ‘ عشرہ مبشرہ میں شامل ہوئے۔ یہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے کا ذریعہ بنے۔
ان چند مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ کائنات کے بنیادی حقائق سے متعلق سوالات پر غور کرتے ہیں ‘اللہ تعالیٰ ضرور انہیں حقیقت تک پہنچا دیتا ہے۔
دراصل اِن سوالات کے جواب حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں جوایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ایک راستہ اپنی عقل‘ سوچ‘ غور و فکر اورمنطق سے نتائج نکالنے کا ہے۔ جو لوگ اس طرح ان سوالات کے جواب دیتے ہیں‘ ان کو فلسفی کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف تاریخ میں کچھ ایسے لوگ ملتے ہیں جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان سوالات کے جواب ہمیں اپنے غوروفکر سے نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں ۔ ان لوگوں کو نبی کہا جاتا ہے۔ایک فلسفی اور نبی میں یہی فرق ہے۔جب کوئی فلسفی اپنی ذہنی صلاحیتوں سے کوئی نتیجہ پیش کرتا ہے تو یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہی حق ہے‘ بلکہ وہ کہتا ہے کہ ہم یوں سمجھتے ہیں‘ لیکن نبی دعویٰ کےساتھ کہتے ہیں کہ جو بات ہم تک پہنچی ہے‘ وہی صحیح ہے ‘اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔جیسا کہ قرآن مجید کے آغا ز میں ہی کہا گیا: {ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ج فِیْہِ ج }(البقرۃ:۲) ’’یہ الکتاب ہے‘ اس میں کچھ شک نہیں۔‘‘جب نبی مکرمﷺ سے قرآن مجید میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو یہی جواب دِلوایا گیا کہ میں تو خود سب سے پہلے اس کا پابند ہوں جو مجھ پر وحی کیا جا رہا ہے۔ یہ میرا قول و کلام ہی نہیں کہ میں الفاظ بدل سکوں۔اگر یہ میرا فکر و فلسفہ ہوتا تو شاید کوئی ترمیم کر دیتا۔ اس ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بہت پیارا قول سورئہ مریم میں نقل کیا گیا ہے:
{یٰٓــاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِکَ فَاتَّبِعْنِیْٓ اَہْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا(۴۳) }
’’اباجان ! میرے پاس علم (وحی)آچکا ہےجو آپ کے پاس نہیں آیا‘ لہٰذا آپ میری پیروی کیجیے‘ میں آپ کی راہنمائی کروں گاسیدھے راستے کی طرف۔‘‘
اس صورت حال میں باپ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا بیٹا جو حواسِ خمسہ‘ عمر‘عقل اور تجربہ کے لحاظ سے مجھ سے کم ہے‘ کیسے تقاضا کر رہا ہے کہ میں اس کی پیروی کروں۔ اس کی دلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دی کہ حصولِ علم کا ایک ذریعہ وحی ہے جو کہ آپ کے پاس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس بھیجی ہے اور اس کی بنیاد پر والد سے یہ مطالبہ کرنا درست ہے ۔
ایمان کا موضوع دراصل وہی بنیادی سوالات ہیں جو فلسفہ کے مضمون میں زیر ِ بحث آتے ہیں لیکن وہاں ان کے جواب انسانی سوچ بچار‘غور و فکر‘منطق‘ تعقل و تفکر کے ذریعہ حاصل کرنے کی کو شش کی جاتی ہے جبکہ ایمانیات کے ضمن میں ہم اِن جوابات کا ماخذ وحی الٰہی کو مانتے ہیں۔
۴) ایمانیاتِ ثلاثہ کی تفصیل
حضرت آدم ‘حضرت نوح‘حضرت صالح‘ حضرت موسیٰ‘حضرت عیسیٰ‘حضرت ابراہیم علیہم السلام اورحضرت محمدﷺنے جس ایمان کی دعوت دی‘ اُس میں کوئی فرق نہیں۔ شریعت کے احکامات‘ حلال حرام میں تو فرق ہوا ہے لیکن جہاں تک ایمان کا تعلق ہے از آدم تا ایں دم (آج تک)ایمان میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ہے۔ ایمانیات کی تفصیل دراصل ان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے جو کہ انبیاء کرامؑ نے دیے۔ اس کی تفصیل کے لیے تین عنوانات قائم کیے گئے ہیں:
(ا) ایمان باللہ (توحید) (ب) ایمان بالآخرت (معاد)
(ج) ایمان بالرسالت
(ا)ایمان باللّٰہ : یہ وسیع و عریض کائنات جو تاحد ِنگاہ پھیلی ہوئی ہے ‘اس کی وسعت سے آج تک ہم لاعلم ہیں۔ کائنات کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا انبیاء کرام علیہم السلام نے یہ جواب دیا کہ:یہ کائنات نہ ہمیشہ سے ہے اور نہ ہمیشہ رہے گی۔ یہ حادث اور فانی ہے۔ ایک خاص وقت میں اس کی تخلیق ہوئی ہے جو ایک خاص وقت تک کے لیے (اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمّٰی) ہے ۔
• یہ خود بخود نہیں بنی‘خود بخود نہیں چل رہی اور نہ ہی خود بخود ختم ہو گی ۔اس کا ایک خالق و مدبر ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔جب وہ چاہے گا تو ہی قیامت واقع ہوگی۔ اس کو پیدا کرنے والی‘ چلانے والی اور ختم کرنے والی ایک ہی ہستی ہے۔
• ذات وصفات‘ اختیار ات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ جیسا کوئی اور نہیں ۔جو صفات بھی اس ہستی میں موجود ہیں ‘وہ بتمام و کمال ہیں ۔ وہ بِکُلِّ شَیءٍ عَلِیْم، عَلیٰ کُلِّ شَیء ٍقَدِیر، اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم ہے۔اس کی تمام صفات ذاتی‘ لا محدود اور ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ان تمام تفصیلات کو ایمان باللہ یا توحید کہا جاتاہے ۔
(ب) ایمان بالآخرۃ: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مخلوقات کا نقطۂ عروج انسان ہے۔ انسان کی زندگی محض اس دنیا تک محدود نہیں بلکہ بہت طویل ہے۔بہادر شاہ ظفر سے منسوب ایک شعر ہے: ؎
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں!اِس دنیا میں انسان کو جو زندگی ملتی ہے ‘اس کا شروع کا حصہ تونا سمجھی کا ہوتا ہے جبکہ آخری حصہ میں دماغی صلاحیتیں اکثر و بیشتر ختم ہونے لگتی ہیں۔اس طرح عمل کے لحاظ سے مہلت ِعمر تو بہت کم ہی رہ جاتی ہےجس میں کسی نقشہ کار کے مطابق کام کیا جا سکے۔ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ اس وسیع و عریض کائنات کی کمال کی مخلوق کی حقیقت محض یہی ہو۔ اصل میں ہماری زندگی کے تین حصے ہیں۔حیاتِ دُنیوی اور حیاتِ اُخروی سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن ہماری زندگی کا آغاز اُس وقت ہوا جب ازل میں اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو تخلیق کیا اور اُن سے عہدِ الست لیا گیا: {اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَاج}(الاعراف:۱۷۲) ’’کیا مَیں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟‘‘سب نے کہا :’’کیوں نہیں! ہم اِس پر گواہ ہیں(اے اللہ! تُو ہی ہمارا رب ہے)۔‘‘یہ زندگی کا وہ حصہ تھا جسے ہم گزار کر آئے ہیں مگر اُس وقت ہماری صرف روح تھی ‘ جسد نہیں تھا۔ پھر ہماری روح کو جسم کے ساتھ شامل کر کے اِس دنیا میں بھیج دیا گیا جو کہ ہماری حیاتِ دُنیوی ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آئے گا جب جسم تو زمین میں دفن کر دیا جائے گا اور روح جہاں سے آئی تھی وہیں واپس لوٹ جائے گی ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! انسانی زندگی کی اصل حقیقت جسم نہیں بلکہ روح ہے۔ {مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ و مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی(۵۵)}(طٰہٰ) ’’اسی (زمین) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میںہم تمہیں لوٹائیں گے‘ اور اسی میں سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیںگے۔‘‘
ہماری طویل زندگی کے درمیان میں موت کا ایک سلسلہ رکھا گیا ہے تاکہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ہمیں جو دُنیاوی زندگی ملتی ہے وہ دراصل ایک امتحانی وقفہ ہے۔ جس طرح سے ہم تعلیم کے حوالہ سےتین گھنٹہ کے امتحان سے واقف ہیں‘ اِن دونوں امتحانوں میں quantitative فرق تو ہے لیکنqualitative فرق نہیں۔ہم اپنی زندگی کے پرچہ کو اپنے افعال‘ اعمال‘اقوال ‘سعی و جُہد سے بھر رہے ہیں۔
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط}(الملک:۲)
’’اُس نے پیدا کیا موت کو اور زندگی کو تاکہ وہ تمہیں جانچے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے اچھا ہے۔‘‘
علامہ اقبال نے انسانی زندگی کی بہت خوب صورت ترجمانی ان قیمتی اشعار میں کی ہے: ؎
بر تر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
تو اِسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں‘ پیہم دواں‘ ہر دم جواں ہے زندگی!
قلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!
ہرامتحان کا نتیجہ بھی ضرور نکلتا ہے۔ سو ہمارے لیے وہ دن ہے یوم القیامۃ (Day of Judgment) ۔ وہی دن ہوگا ہار اور جیت کے فیصلہ کا دن {ذٰلِکَ یَوْمُ التَّـغَابُنِ ط} کہ کون زندگی کے امتحان میں کامیاب ٹھہرا اور کون ناکام!اصل کامیابی یہی ہے کہ ہمیشہ کے لیے جنت نصیب ہو جائے اور ناکامی یہ ہے کہ جہنم کا ٹھکانا مقدر بنے۔ انسانی زندگی کے حوالے سے ان تمام تفصیلات کو ایمان بالآخرت یا معاد کا نام دیا جاتا ہے۔
(ج) ایمان بالرسالت:ایک بہت اہم سوال علم سے متعلق ہے ۔انسان کو حواس و عقل کے ذرائع سے جو علم حاصل ہوتا ہے ‘وہ یقیناً درست ہے اور اس سے وہ حقیقت کے قریب بھی پہنچ جاتا ہے لیکن محض عقل سے یقین کی دولت حاصل نہیں ہو سکتی ۔اس عقل سے انسان خالق کو تو پہچان سکتا ہے ‘یہ بھی جان سکتا ہے کہ زندگی یونہی ختم نہیں ہوگی بلکہ جزا و سزا اور حساب کتاب ہونا چاہیے تاکہ خیر اور شر کا تصور قائم رہے ‘لیکن علم کا یہ ذریعہ اس کی پوری زندگی گزارنےکے لیے اصل ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔اس بات کا اعتراف ایک مغربی فلسفی کانٹ نے بھی کیا۔اُس نے کہا : ’’انسانی اخلاقیات کے لیے کوئی بنیاد نہیں جب تک خداکو نہ مانا جائے۔‘‘انسان نیکی کو تو پہچانتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ :نیکی کیوں کی جائے؟ سچ بولنا اچھا ہے لیکن اس میں نقصان ہے ‘تو پھر سچ کیوں بولا جائے؟جھوٹ بولنا بُرا ہے لیکن انسان کیوں جھوٹ نہ بولے جبکہ اس میں فائدہ ہے؟ اس ’’کیوں‘‘ کا کوئی جواب دنیاوی علم سے نہیں مل سکتا ۔ انسان کو نیکی کرنے اور بُرائی سے روکنے والی ایک ہی شے ہے‘ اور وہ ہے اللہ پر ایمان۔یعنی جو بات کانٹ نے کہی‘وہ یقیناً درست ہے کہ خدا پر ایمان کے بغیر اخلاق کی واقعی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
قرآن مجید انسان کو اپنے حواس سے علم حاصل کرنے کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے اس جانب متوجہ کیا گیا ہے:
{اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ(۱۷) وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ(۱۸) وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ(۱۹) وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ(۲۰) } ( الغاشیہ)
’’کیا وہ نہیں دیکھتے اونٹ کی طرف کہ اس کو کیسے بنایا گیا ہے؟ اور (کیا وہ نہیں دیکھتے) آسمان کی طرف کہ اسے کیسے بلند کیا گیا ہے؟ اور (کیا نہیں دیکھتے) پہاڑوں کی طرف کہ انہیں کیسے جما دیا گیا ہے؟ اور زمین کی طرف کہ اسے کیسے بچھا دیا گیا ہے؟‘‘
بقولِ اقبال: ؎
کھول آنکھ‘ زمیں دیکھ‘ فلک دیکھ‘ فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!اسی طرح قرآن مجید میں بار بار تعقل اور تفکر کی دعوت دی گئی ہے: اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ، اَفَلَاتَتَفَکَّرُوْنَ، اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ ۔ گویا علم کا یہ source یقیناً صحیح ہے لیکن اس کی کچھ حدود ہیں۔یہ حقیقت کے دروازے تک تو پہنچا دیتا ہے لیکن اندر داخل نہیں کر سکتا۔ اس کی ترجمانی علامہ اقبال نے بہت خوب صورت انداز میں یوں کی: ؎
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے‘ منزل نہیں ہے!
اور : ؎
عقل گو آستاں سے دور نہیں
اس کی تقدیر میں حضور نہیں!
حقیقت کے حضورمیں انسان کی حاضری اورعلم الیقین کا حصول صرف وحی کے ذریعے ممکن ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہےکہ اس نے انسان کو محض عقل اور حواسِ ظاہری کے حوالے کر کے نہیں چھوڑا بلکہ اس کی ان تمام صلاحیتوں کی مزید جِلا کا اہتمام بھی کیا۔ وہ یوں کہ سیرت و کردار کی معراج پر فائزاپنے چنے ہوئے بندوں پر وحی نازل کر کے ان کے ذریعہ ہدایت بھیجی ‘جنہوں نے تمام تر مخالفتوں کے باوجود خلقِ خدا کو حقیقت کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری اداکی۔ ان لوگوں نے نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نظام قائم کر کے دکھایا ۔ نسلِ آدم کی یہ جلیل القدر ہستیاں انبیاء کرام علیہم السلام کہلاتی ہیں۔
{اَللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط } ( الحج:۷۵)
’’اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے اورانسانوں میں سے رسول ۔‘‘
حضرت جبریل علیہ السلام نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے وحی لےکر حضرت محمدﷺ تک پہنچائی‘ جسے آپﷺ نے انسانوں تک پہنچایا۔ رسالت کی یہ دو کڑیاں رسولِ مَلک اور رسولِ بشر ہیں ۔ ان دونوں کے اتصال سے وحی کا عمل مکمل ہوا۔ اصل میں تو وحی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جبکہ حضرت جبریل علیہ السلام اور حضرت محمدﷺ تو اس کو پہنچانے کاذریعہ بنے۔ رسول اکرمﷺ کی سوچ‘ فکر اور عقل وحی کا منبع نہیں۔ انہوں نے تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت وصول کر کے لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا فرمائی ۔نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ اپنے نقطۂ عروج (zenith) پر پہنچا خاتم النبیین حضرت محمدﷺ پر جو کہ آخرالمرسلین و رحمۃ للعالمین ہیں۔ ان کو جو ہدایت عطا کی گئی ‘وہ ہے القرآن یا الہدیٰ
(The Complete Guidance) ۔ ان تمام حقائق کو مان لینا ایمان بالرسالت ہے۔
۵) ایمانیاتِ ثلاثہ کی تقابلی اہمیت (Relative Importance)
یہ تینوں ایمان ایک ایک اعتبار سے اپنی جگہ پر اہم ترین ہیں۔اُصولی‘ علمی‘نظری اعتبار سے اہم ترین ایمان باللہ ہی ہے۔اصل میں ایمان‘ ایمان باللہ ہی ہے۔ اسی میں سارے ایمان موجود ہیں۔ایمان باللہ کی وضاحت ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل کے الفاظ سے ہوجاتی ہے۔ میری تعلیم کا آغاز ‘الحمدللہ‘ نورانی قاعدہ اور ’’تعلیم الاسلام‘‘ (از مفتی کفایت اللہ) سے ہوا تھا۔آج تو بہت مایوس کن صورت حال ہے۔ہمارے دور میں بچوں کو یہ کلمات ان کی تعلیم کے آغاز ہی پر یاد کرا دیے جاتے تھے‘ جبکہ آج بچے کو سب سے پہلے کنڈر گارٹن بھیجا جاتا ہے جہاں وہ انگریزی کے الفاظ بولنا تو سیکھ جاتا ہے مگر کلمات اور ایمانیات اُسے یاد نہیں ہوتے ۔ حفیظ جالندھری نے ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کے شروع میں اپنے بارے میں یہ شعر لکھا: ؎
مجھے مسجد سے مکتب کی طرف تقدیر نے کھینچا
تنازع للبقا کی آہنی زنجیر نے کھینچایعنی ان کے والدین نے ان کو زمانہ کے رواج کے مطابق مسجد سے اسکول میں داخل کروا دیا تاکہ وہ ایسا علم حاصل کر سکیں جس کی دنیا میں قدر و قیمت ہے ۔دراصل اس تنازع للبقاء (struggle for existence) ہی نے نظامِ تعلیم کو بدل ڈالا ہے۔ بہرحال ایمانِ مجمل اور ایمانِ مفصل کے کلمات حدیثِ مبارکہ میں تو نہیں لیکن جس عالم یا امام نے بھی یہ منتخب کیے ہیں‘ انتہائی جامع الفاظ ہیں۔
ایمان مجمل: آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَ صِفَاتِہٖ وَ قَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ
ایمان مفصل: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ
اجمالاً ایمان تو ایمان باللہ ہے جبکہ باقی ایمانیات اسی کی تفصیل ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفت ہے الھادی اور اسی کی توسیع یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا اہتمام کیا گیا ۔اس کی صفتِ ہدایت کا ظہور وحی‘ نبوت و رسالت کی شکل میں ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی صفت ہے العادل یعنی انصاف کرنے والا ۔اس صفت کا ظہور آخرت میں یوں ہوگا کہ نیکو کار کو اس کی نیکی کی جزا اور بد کار کو اس کی بدی کی سزا مل کر رہے گی‘ اور یہی ایمان بالآخرت ہے۔ گویا یہ دونوں ایمانیات دراصل ایمان باللہ ہی کی شاخیں ہیں۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی جامع بات بتایئے کہ آپؐ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ)) (صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ ح:۱۵۹) ’’کہو: میں ایمان لایا اللہ پر‘پھر اس پر ثابت قدم ہو جائو!‘‘
قانونی‘ شرعی‘ فقہی اعتبار سے اصل ایمان‘ ایمان بالرسالت ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی اللہ کو مانے‘ کتنا ہی موحد ہو‘ متوکل ہولیکن مومن نہیں کہلائے گا جب تک حضرت محمدﷺ کو نہ مانے۔قانونی طور پر ایک مسلم اور غیر مسلم میں یہی فرق ہے‘ جس کا سارا دارومدار ایمان بالرسالت پر ہے۔ ایمان بالرسالت کے ضمن میں ختم نبوت پر ایمان بھی لازمی ہے۔ کوئی کتنا ہی با اخلاق‘ پاک باز‘ سچا‘ دیانت دار‘ ملن سار‘خادمِ خلق ہو لیکن اگر نبی آخر الزماںحضرت محمدﷺ کی رسالت کا اور ختم نبوت کا انکار کر دے تو وہ قانونی لحاظ سے مسلمان نہیں ۔ یہ ایمان بالرسالت کی قانونی اہمیت ہے۔
عملی اور اخلاقی اعتبار سے اہم ترین ایمان‘ ایمان بالآخرت ہے۔اگر آخرت کا خوف اور جواب دہی کا احساس ہوگا تو انسان ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے گا کہ میں اپنے عمل کو اللہ کے حضورjustifyبھی کر سکوں گا یا نہیں ۔دراصل آخرت کا خوف ہی انسان کے عمل کو درست رکھ سکتا ہے ‘ورنہ ایمان باللہ محض ذات و صفات کی بحث یا علمِ کلام کا معاملہ بن جاتا ہے‘جیسا کہ علامہ اقبال کا یہ شعر اس دینی حقیقت کی بھرپور تعبیر کرتا ہے: ؎
زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے؟ فقط اِک مسئلہ علم کلام!یعنی وہ توحید جو انسانی کردار کو تبدیل کرنے اور اللہ کا رنگ اختیار کر دینے پر مجبور کر دیتی تھی ‘ آج وہ محض چند مسائل کی بحث میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں ایمان بالرسالت محض عشقِ رسولؐ کے بلند بانگ دعوے کی وہ شکل اختیار کر لیتا ہے جو آج ہمارے معاشرہ میں نظر آتی ہے۔ جلسے‘ چراغاں ‘ نعتیں سب کچھ ہورہا ہے لیکن حقیقی اور عملی اعتبار سے اتباعِ رسولﷺ موجودہ نہیں ۔
آج ہم آخرت کو مانتے تو ہیں لیکن اپنی تاثیر کے لحاظ سے آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ تو ہماری وہ سوچ ہے جو یہودیوں کا تصور تھا کہ {نَحْنُ اَبْنَٰؤُا اللہُ وَاَحِبَّاءَہٗ ط}(المائدۃ:۱۸)’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ اور {لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃًط} (البقرۃ:۸۰)’’ آگ ہمیں نہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔‘‘ یعنی اب ہمیں کسی بات کا کوئی ڈر اور خوف نہیں‘ جہنم ہوگی بھی تو دوسروں کے لیے ہوگی۔ یہی بات ہمارے ذہن میں بھی بیٹھی ہوئی ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں مگر تیرے محبوبؐ کے اُمتی ہیں‘ اس لیے اس بات کے دعوے دار ہیں کہ جنت ہمارا پیدائشی حق ہے ‘ ہمیں اس سے کوئی محروم کر ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا آخرت پر ایمان کا ہمارے کردار‘ اخلاق اور عمل پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا‘ اس لیے کہ اس نظریہ نے آخرت کے خوف کی نفی کر دی ہے جس کی وجہ سے عمل درست نہیں ہوتا۔ ہم قرآن مجید پر ایمان کے دعوے دار ہیں مگر اس میں جس شے کو حرام ٹھہرایا گیا‘ اسے اپنے لیے جائز کر رکھاہے ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ)) (سنن الترمذی:۲۹۱۸)
’’جو قرآن مجید کے حرام کردہ امور کو اپنے لیے حلال ٹھہرا لے‘ اس کا قرآن پر کوئی ایمان نہیں۔‘‘
دوسری وجہ سورۃ العلق میں بیان ہوئی:
{کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی(۶) اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی(۷) اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی(۸)}
’’ہرگز نہیں‘ بے شک انسا ن یقیناً سرکشی کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہ دیکھتاہے اپنے آپ کو بے پروا۔( اے نبیؐ !) بےشک آپ کے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے۔‘‘
انسان بغاوت‘ سرکشی‘دست درازی ‘حق تلفی کر بیٹھتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ دنیا میں کوئی پکڑ نہیں ۔ جھوٹ بولنے ‘حرام خوری کرنے پر فوری سزا نہیں اور اس کے باوجود بھی لوگ میری عزت کر رہے ہیں تو پھر میں اس کو کیوں چھوڑ وں! اس طرح انسان ظلم و تعدی‘ سرکشی و غلط کاری میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔دنیا میں اگرچہ فوری سزا نہیں ملتی لیکن جان لینا چاہیے کہ ایک دن رب کی طرف واپسی ہو کر رہے گی جہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا پورا پورابدلہ مل جائے گا ۔رسول اللہﷺ نے ایک خطبہ میں ایمان بالآخرت پر کس قدر زور دیا ہے‘ ملاحظہ کیجیے:
((وَاللّٰهِ لَتَمُوْتُنَّ كَمَا تَنَامُوْنَ، وَلَتُبْعَثُنَّ كَمَا تَسْتَيْقِظُوْنَ، وَلَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ، وَلَتُجْزَوُنَّ بِالْإحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْءِ سُوْءًا، وَاِنَّهَا لَجَنَّةٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا))
’’اللہ کی قسم! تم سب یقیناًمرجاؤ گے جیسے روزانہ رات کو سو جاتے ہو ۔پھر یقیناً اُٹھائے جاؤ گے جیسے صبح بیدار ہوتے ہو۔ پھرلازماً تمہارا حساب لیا جائے گا تمہارے اُن اعمال کا جو تم کرتے ہو ‘اورپھر تمہیں لازماً بدلہ مل کر رہے گا ‘ بھلائی کا اچھا بدلہ اور بُرائی کی بری سزا ‘اور وہ ہے ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت یا ہمیشہ ہمیش کے لیے نارِ جہنم۔‘‘
قرآن مجید کی آخری پارہ کی سورتوں میں سارا زور آخرت ہی پر ہے: { اَلْحَآقَّۃُ(۱) مَا الْحَآقَّۃُ(۲)}(الحآقۃ)’’وہ حق ہو جانے والی!کیا ہے وہ حق ہو جانے والی؟‘‘ ----- {اَلْقَارِعَۃُ(۱) مَا الْقَارِعَۃُ(۲)}(القارعۃ)’’وہ کھٹکھٹانے والی !وہ کھٹکھٹانے والی کیا ہے !‘‘---- {عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ(۱) عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ (۲)}(النبا)’’کس چیز کے بارے میں یہ لوگ آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟اُس بڑی خبر کے بارے میں۔‘‘ انسان کے کردار کی بلندی اور عمل کی درستگی کا دارومدار ایمان بالآخرۃ ہی پر ہے ۔
پس ایمانیاتِ ثلاثہ کے ایک دوسرے کے اعتبار سے نسبت و تناسب کو الجبرا کے فارمولے کے طریقہ سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ضروری ہےکہ اُصولی‘ علمی‘نظری اعتبار سے اہم ترین ایمان ‘ایمان باللہ ہے۔ قانونی‘ شرعی‘ فقہی اعتبار سے اصل اہمیت‘ ایمان بالرسالت کی ہے۔ عملی اور اخلاقی اعتبار سے اہم ترین ایمان‘ ایمان بالآخرت ہے ۔
۶) ایمان کے دو درجے
یہ اہم ترین موضوع ہے۔ایمان کے یوں تو بے شمار درجات ہیں۔ ایک میرا‘آپ کا ایمان ہے۔ پھرحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان کی سطح ہے۔ ان کے درمیان کتنے ہی درجے ہوں گے جن کو گننا ناممکن ہے‘کوئی نسبت و تناسب ہے ہی نہیں ۔ البتہ ہم یہاں پر ایمان کو دو درجوں میں تقسیم کریں گے:
(ا) قانونی ایمان (اسلام) (ب) حقیقی ایمان(یقین)
ایمان کا لفظی مطلب ماننا ہے ۔یعنی اللہ‘ اُس کے اَسماء و صفات‘ آخرت‘ قیامت‘ بعث بعد الموت کو زبان سے مان لیا جائے ۔ یہ پہلا درجہ ہے کہ ایک شخص کلمہ شہادت پڑھ لے‘یعنی اقرار باللسان کرے تو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ‘دنیا میں اب مسلمان مانا جائے گا ۔ اگر بعد میں وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے کسی بات کا منکر ہو‘مثلاً ختم نبوت کا انکار کرے‘تو پھر اس کی تکفیر کی جائے گی۔بہر حال ا سلام کا تعلق اقراربا للسان سے ہے‘یعنی زبان سے تصدیق کی ہو۔ اگر دل سے تصدیق نہ کرے تو اسلام تو ہوگا مگر حقیقی ایمان نہیں ۔
دوسرا درجہ حقیقی ایمان کا ہے جو دل کی تصدیق سے تعلق رکھتا ہے۔ البتہ آج تک دنیا میں کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوسکا جس سے دل کا ایمان جانچا جاسکے۔ اس لیے قانونی طور پر مسلمان ہونے اور دیگر دنیاوی معاملات(وراثت‘ اسلامی شہریت کی بنیاد پر حقوق) کےلیے صرف اقرار باللسان کافی ہے۔حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک کافر نے عین حالت ِجنگ میں اُس وقت کلمہ پڑھ لیا جب وہ ان کی تلوار کی زد میں تھا۔انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ شخص محض جان بچانے کےلیے حیلہ کر رہا ہے‘ اس لیے اس کو قتل کر دیا۔ جب یہ واقعہ حضورﷺ سے بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’اے اسامہ! تم روزِ قیامت کیا جواب دو گے اگریہ کلمہ تمہارے خلاف گواہی دے گا؟‘‘ یہ قانونی ایمان(شہادت) کی اہمیت ہے۔
اسی طرح کا معاملہ اُس وقت ہوا جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے خلاف محاصرہ کیا گیا ۔۵۰ دن گزر گئے‘ ان تک پانی بھی نہیں پہنچ پا رہا تھا ۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ فتنہ برپا کر رہے ہیں لیکن انہوں نے کلمہ شہادت کو ڈھال بنایا ہوا تھا۔معاذاللہ‘ ثم معاذ اللہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمزوری نہیں دکھائی بلکہ صرف اس خیال سے کہ وہ اپنی تلوار سے کسی کلمہ گو کا خون نہیں کر سکتے‘ اُن لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی‘ کیونکہ اُس وقت تک ان کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا تھا ۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ لوگ اگر مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں‘ لیکن میں اپنی جان کی حفاظت کےلیے کسی کلمہ گو کا خون نہیں بہاؤں گا۔
یہ قانونی ایمان دنیا میں تو کام آجائے گا لیکن آخرت میں ہمارا معاملہ اُس ہستی کے سامنے پیش ہوگا جو عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ہے‘جس کی شان یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ہے۔لہٰذا اگر اقرار باللسان ہے لیکن تصدیق بالقلب نہیں تو یہ ایمان اگرچہ دنیا میں تو معتبر ہو جائے گا لیکن آخرت میں معاملہ حقیقی ایمان کی بنیاد پر ہی ہوگا۔ جس کے پاس یہ دولت ہے ‘وہی مومن تسلیم کیا جائے گا۔ اگر قلبی تصدیق نہ ہوئی تو دنیا میں چاہے وہ مسلمانوں کا بڑا قائد و رہنماسمجھا جاتا ہو ‘بڑی سے بڑی سند اس کے پاس ہو لیکن سب بے کار ہوگا۔ وہاںمحض اقرار باللسان کام نہ آسکے گا بلکہ اصل شے تصدیق بالقلب ہوگی۔ اسی لیے ایمان مجمل میں ان دونوں کی اہمیت واضح کر دی گئی ۔
اس حوالہ سے ایک انتہا پر خوارج تھے‘ جو گناہِ کبیرہ کاارتکاب کرنے والے کو مرتد کہتے اور پھر تکفیر کی وجہ سے اس کو واجب القتل قرار دے دیتے۔یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی‘ کیونکہ دنیا میں تو مسلمان ہونے کے لیے اقرار باللسان ہی کافی ہوتا ہے۔اگر کوئی نماز نہ پڑھے‘روزہ نہ رکھے‘ زکوٰۃ کا اہتمام نہ کرے تو یہ گناہ تو ہے لیکن کافر اس وقت شمار ہوگا جب نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ یا دین کے کسی بنیادی حکم کا انکاری ہو جائے۔ دوسری انتہا پر ہم اس اعتبار سے پہنچ گئےہیں کہ جو بھی بد عملی کرتے رہیں مگر قانونی طور پر مسلمان ہونے پر مطمئن ہیں۔آخرت میں کامیابی کےلیے جو اصل شے مطلوب ہے یعنی تصدیق بالقلب‘ اس کے حصول کے لیے فکر نہیں کرتے ۔
۷) ایمان اور عمل کا تعلق
اِس موضوع کو بانی محترم نے ’’عملِ صالح‘‘ کے عنوان سے خطاب میں بیان کیا ہے۔
(۸) ایمان اور جہاد کا تعلق
اِس موضوع کوبانی محترم نے ’’تواصی بالحق‘‘ کے عنوان سے خطاب میں بیان کیا ہے۔
۹) ایمان اور امن کا تعلق
اگرحقیقی ایمان موجود ہو تو باطنی سکون اور قلبی اطمینان ضرور حاصل ہوتا ہے۔ سورۃ الانعام میں فرمایا گیا:
{ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۱) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ(۸۲)}
’’تو بتاؤ مجھے دونوں فریقوں(مؤمن/ مشرک) میں سے کون سا فریق امن کا زیادہ حق دار ہے‘ اگر تم جانتے ہو۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنی جان کے ساتھ کسی ظلم کوملوث نہیں کیا‘انہی کے لیےامن ہو گا اور وہی ہدایت پر ہیں۔‘‘
اسی طرح نیا چاند نکلنے پر مسنون دعا ہے:
اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَ السَّلَامَۃِ وَ الْاِسْلَامِ
’’اے اللہ! اس (چاند) کو ہمارے لیے امن و ایمان اور سلامتی اور اسلام کا ذریعہ بنا دے۔‘‘
سورۃ الانعام کی اس آیت اور مذکورہ دعائے مسنو نہ کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان اور امن کا تعلق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کو چلانے والی ہستی السَّمِیْع و الْبَصِیْر ہے ۔اُس کے اِذن کے بغیر ایک پتّا بھی نہیں ہِل سکتا۔ اُس کی ربوبیت پر اگر ایمان کامل ہو جائے تو انسان کو کوئی خوف نہیں رہتا۔ سورئہحٰمٓ السجدہ میں فرمایا گیا:
{ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا} (آیت۳۰)
’’بےشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت ِقدم رہے اُن پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو۔‘‘
اگر انسان کویہ یقین ہوجائے کہ اللہ میرا مددگار‘ دوست‘ پشت پناہ‘ محافظ‘ حمایتی ہے تو اُسے کوئی ڈر‘خوف ‘غم نہیں رہ سکتا‘کیونکہ اللہ تعالیٰ واقعی اہلِ ایمان کا ولی ہے۔ سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا:{اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ} (آیت۲۵۷) ’’اللہ ولی ہے اہل ِایمان کا‘ وہ انہیں نکالتا رہتا ہے تاریکیوں سے نور کی‘طرف۔‘‘لہٰذا انسان یہ تصور کرلے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے بڑھ کر بالا تر قوت تو کوئی ہے ہی نہیں ‘ اس کے ارادہ و مشیت کے خلاف تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔یہی بات رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرمائی ‘جس کو ایمان کا حاصل قرار دیا جاسکتا ہے:
((وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ)) (سنن الترمذی:۲۵۱۶)
’’جان لو!اگر تمام انسان مل کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچا سکتے مگر جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ‘اور تمام انسان مل کر تمہیں کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ۔‘‘
اگر اس حدیث ِنبوی ﷺ پر دل کی گہرائیوں سے ہمارا ایمان ہو تو دُنیاوی خوف خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔ کسی شخص میں یہ صلاحیت نہیں کہ کسی دوسرے کا نقصان کروا سکے یا اس کی ضرورت پوری کر دے۔ پھر انسان کیوں کسی کی خوشامد کر ے جبکہ سامنے والے کے ہاتھ میں توکچھ بھی نہیں ۔
اگر غیر اللہ میں نفع و نقصان کی طاقت سمجھ لی تو یہ شرک ہو گیا ۔اسی لیے ہمیں یہ کلمہ بتایا گیا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔ یعنی گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیک اعمال کرنے کی قوت صرف اللہ بزرگ و برتر کی طرف سے ہے۔حضرت عبد القادر جیلانیؒ نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے یہی کہا تھا: لَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَۃِ وَ لَا مُؤَثِّرَ اِلَّا اللّٰہُ اس کائنات میں نہ کوئی فاعلِ حقیقی ہے اور نہ کوئی مؤثراصلی سوائے اللہ کے۔‘‘حقیقتاً کسی شے میں کوئی تاثیر نہیں ہے جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔ آگ جلا نہیں سکتی ‘پانی ڈبو نہیں سکتا ‘ زہر ہلاک نہیں کر سکتا ‘کوئی شے فائدہ نہیں دے سکتی ‘جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔ چنانچہ انسان دَر دَر پر نہ جائے ‘ہر ایک کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے سوائے اللہ کے ۔ نظر تو یہ آرہا ہوتا ہے کہ پانی پیاس بجھا دیتاہے ‘ کھانا بھوک مٹا تاہے لیکن دراصل یہ صلاحیت پانی اور کھانے میں نہیں بلکہ اِذنِ ربّ میں ہے ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سمندر کے سامنے آکھڑی ہوئی اور دیکھا کہ پیچھے فرعون کا لشکر قریب آگیا ہے تو کہنے لگے کہ اب تو ہم پکڑے گئے۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام ایمان افروز جواب دیتے ہیں: {کَلَّاج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ(۸۶)} (الشعراء) ’’ ہر گز نہیں! یقیناً میرے ساتھ میرا رب ہے ‘وہ ضرور میرے لیے کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔‘‘بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا لیکن یہی ایمان بالغیب ہے کہ میرا اللہ میری مدد ضرور کرے گا۔ جب وسائل و ذرائع میسر نہ ہوں تو پھر بھی یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مسبّب الاسباب ہے ‘وہ اسباب کا نہ پابند ہے اور نہ ہی محتاج ‘بلکہ اسباب اُس کے محتاج ہیں ۔اگر یقین کی یہ کیفیت ہو تو ہی ایمان اللہ پر ہے ۔اگر ایسا یقین حاصل نہیں تو ایمان اسباب و ذرائع اور مادیت پر ہوگیا۔
جب غارِ ثور میں نبی کریمﷺ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے اور کُفّار ڈھونڈتے ہوئے غار کے دہانے تک پہنچ گئے تو آپﷺ نے فرمایا : { لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَاج} (التوبۃ:۴۰) ’’غم نہ کرو‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ‘‘یہ ہے ایمان باللہ کہ میرا مالک‘ رازق‘ محافظ‘ مدد گار‘ پشت پناہ‘ دوست‘ ساتھی‘ میرا اللہ ہی ہے۔ اللہ کی یہ دوستی ہی ایمان کا اصل حاصل ہے۔ اولیاء اللہ کی کوئی ظاہری نشانی ہونا ضروری نہیں۔جس کے دل میں ایمان راسخ ہو چکا ہو ‘یقین پختہ ہو جائے وہی اللہ کا ولی ہے۔ جسے یہ یقین ہو کہ اللہ ہر آن میرے ساتھ ہے‘ میرا محب اور محبوب وہی ہے‘اُسے ولایت کا رشتہ حاصل ہو جاتا ہے۔اللہ ایمان والوں کو محبوب رکھتا ہے جبکہ ایمان والے اللہ تعالیٰ ہی سے محبت کرتے ہیں۔{اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲)} (یونس) ’’آگاہ ہو جائو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ زوالِ خوف و حزن کی یہ کیفیت ہی امن ہے۔یعنی نہ ہر وقت مستقبل کے اندیشوں میں رہیں کہ اب کیا ہوگا اور نہ ماضی کی فکر میں ڈوبے ہوں کہ یہ کیوں ہوا تھا‘ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جو اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان رکھتا ہےوہ اس حقیقت کو جانتا ہے۔سورۃ الحدید میں فرمایا گیا:
{مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَاط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیْرٌ(۲۲) }
’’نہیں آتی کو ئی بھی مصیبت نہ ہی زمین میں اور نہ ہی تمہارے اوپرمگر وہ پہلے سے ایک کتاب میں ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو ظاہر کریں ۔یہ چیز اللہ پر بہت آسان ہے ۔‘‘
اسی طرح سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا:
{وَعَسٰٓی اَنْ تَـکْرَہُوْا شَیْئًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْ ج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّـکُمْ ط وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۱۶)}
’’ممکن ہے تم کسی چیز کو نا پسند کر تے ہو حالا نکہ وہ تمہا رے لیے بہتر ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسندکر تے ہو اور وہ تمہا رے لیے شر ہو۔اور اﷲ تعالیٰ جانتا ہے ‘ تم نہیں جا نتے ہو ۔‘‘
اس کے بعد تو بس یہی کیفیت ہونی چاہیے کہ مؤمن اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرکے راضی برضائے رب ہو جائے۔اگر مالک ِحقیقی کے ساتھ دوستی ہے تو اس کا تقاضا یہی ہے: ع ’’سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے!‘‘ جو ہوگا‘وہ اُس کے ا ِذن کے بغیر نہیں ہوگا‘اور جو کچھ بھی اُس کی مرضی سے ہوگا‘ اس میں خیر ہی خیر ہوگی۔ چاہے وہ شے بظاہر مجھے اچھی نہ لگ رہی ہو‘ میری کوتاہ نظری ( short sightedness ) کی وجہ سے مجھے وہ پسند نہ آرہی ہو لیکن ع ’’ہر چہ ساقی ٔ ما ریخت عین الطاف است!‘‘ہمارا ساقی جو بھی ہمارے پیالے میں ڈال دے وہ اس کا لطف و کرم ہے۔اس پرمجھے کوئی رنج و صدمہ‘ کوئی شکوہ و شکایت نہیں۔ جب میری پسند‘ مرضی‘ خواہش اللہ کے حکم سے بڑھ کر ہو جائے تو یہ شرک کی صورت بن سکتی ہے۔ مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ ’’جو اللہ نے چاہا‘ وہ ہوا‘جو اُس نے نہیں چاہا‘ نہیں ہوا۔‘‘اختیار اُسی کا ہے‘میرا نہیں۔اکبر الٰہ آبادی نے کہا: ؎
رضائے حق پہ راضی رہ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا
خدا خالق‘ خدا مالک‘ خدا کا حکم‘ تُو کیسا!پس جا ن لیجیے ‘راضی برضائے رب ہونے کی اسی کیفیت کا نتیجہ ہے زوالِ غم و حزن‘ اوریہی امن ہے جو کہ ایمان کا لبّ ِلباب ہے۔
۱۰) ایمانِ حقیقی کے حصول کے ذرائع
اس ضمن میں مختلف طبائع کا معاملہ الگ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہیں جبکہ کچھ جذباتی‘کچھ غور و فکر والےجبکہ کچھ متحرک زیادہ ہوتے ہیں۔حقیقی ایمان کے حصول کا اہم ترین ذریعہ آیاتِ الٰہیہ پر غور و فکر ہے۔
آیاتِ الٰہیہ دراصل آیاتِ آفاقی‘ آیاتِ انفسی اور آیاتِ قرآنی پر مشتمل ہیں اور ان تینوں میں گہرا ربط ہے۔ قرآن مجید میں جن کو ’’اولو الالباب‘‘ کہا گیا ہے‘ جو عقل مند ہیں‘ غور و فکر کرتے ہیں‘ صدیقین میں سے ہیں‘ اصحابِ دانش و بینش (intellectuals) ہیں‘ان کے ایمان کا اصل ذریعہ یہی ہے ۔ان نشانیوں پر غور و فکرکر کے انسان اعلیٰ درجہ کا شعوری ایمان حاصل کر سکتا ہے جو کہ دراصل مطلوب ہے۔ آیاتِ آفاقی یعنی چاند‘ سورج ہواؤں کو دیکھ کر۔پھر آیاتِ انفسی کہ اپنے اندر جھانکا جائے۔ ع ’’ اپنے مَن میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی ‘‘اسی طرح قرآن مجید کی آیات میں ایمان رچا بسا ہوا ہے‘ اس سے استفادہ کیا جائے: ع ’’ قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں!‘‘
غیر شعوری ایمان کی تحصیل عوام کے لیے ہے ‘یعنی جن کے پاس غور و فکر کے مواقع یا صلاحیت نہیں ۔اس کے لیے دو راستے ہیں:
(الف)یقین بذریعہ صحبت : صاحبِ یقین کی صحبت سے فائدہ اُٹھا یا جائے ۔جن لوگوں کے اندر ایمان نظر آتا ہو ‘ان کے ساتھ رہیں۔ جیسے کمرہ میں اگر برف رکھی ہوگی تو کمرہ ٹھنڈا ہوگا اور آگ کے قریب جائیں گے تو حرارت محسوس ہوگی‘ اسی طرح ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنے سے ایمان میں یقیناًاضافہ ہوتا ہے۔ سورۃ التوبہ میں بھی ارشاد پاک ہے: {وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹) }’’اور راست باز لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘
(ب)یقین بذریعہ عمل: غیر شعوری ایمان کے حصول کی دوسری صورت اعمالِ صالحہ پر مداومت بھی ہے‘ کیونکہ جیسے انسان کا یقین اس کو عمل کی جانب لے جاتا ہے ویسے ہی عمل کرنے سے بھی یقین کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے ۔سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمایا گیا:
{ وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ(۷)}
’’لیکن (اے نبیﷺ کے ساتھیو!) اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے‘ اوراُس نے تمہارے نزدیک بہت ناپسندیدہ بنا دیا ہے کفر‘ فسق اور نافرمانی کو۔ یہی لوگ ہیں جو صحیح راستے پر ہیں۔‘‘
آخر میں ایمان کے حوالے سے ہمارے لیے ایک انتہائی خوش کُن حدیث مشکوٰۃ شریف سے پیش ہے:
ایک مرتبہ حضورﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا: ((أيُّ الخَلْقِ أَعْجَبُ اِلَیْکُمْ إيمانًا؟)) ’’تمہارے نزدیک مخلوقات میں سے اَعجب (سب سے زیادہ دل فریب) ایمان کے حامل کون ہیں؟ [عربی میں عجیب دراصل خوب صورت یا دل کو لبھانے والی چیز کو کہتے ہیں جبکہ اردو میں عجیب کا مفہوم غیرمعمولی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔]صحابہ ؓ نے عرض کیا: الملائكةُ ’’فرشتے!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ((وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟)) ’’وہ کیسے ایمان نہ لائیں جبکہ وہ تو اپنے رب کے پاس ہی ہیں؟‘‘ دوسری مرتبہ صحابہؓ نے عرض کیا : فَالنَّبِيُّوْنَ ’’پھر انبیاء ورُسل!‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ((وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يُنَزِّلُ عَلَيْهِمْ؟)) ’’وہ کیسے ایمان نہ لائیں ‘اُن پر تو وحی نازل ہوتی ہے!‘‘ پھر صحابہ کرام ؓنے بڑی جرأت کر کے عرض کیا: ((فَنَحْنُ))’’پھر ہم ہیں!‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ((وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُم)) ’’تم کیسے ایمان نہ لاتے جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں !‘‘ پھر آپﷺ نے فرمایا: ((إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَانًا لِقَوْمٍ يَكُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ يَجِدُوْنَ صُحُفًا فِيْهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَا)) ’’میرے نزدیک مخلوق میں خوب صورت ترین ایمان اُن لوگوں کا ہوگا جو میرے بعد آئیں گے۔وہ اللہ کی کتاب کو اوراق میں درج پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے۔‘‘
[رواہ البیھقی فی ’’دلائل النبوۃ‘‘ بحوالہ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب المناقب‘ باب ثواب ھذہ الامۃ]
افضل ایمان تو یقیناً صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہی کاہے لیکن اس حدیث میں بعد والوں کے ایمان کی قدر افزائی اَعْجَبکہہ کر کی گئی ہے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آج ایمانی حقائق سے متعلق جو کچھ بھی بیان ہوا ہے‘ ہمیں بھی اُس کے اعتبار سے کچھ حصہ عطا فرمائے۔آمین!
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْاِیْمَانَ وَزَیِّنْہُ فِیْ قُلُوْبِنَا وَکَرِّہْ اِلَیْنَا الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَان، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِیْنَ
[آج کی نشست میں سات ابواب سے متعلق گفتگو مکمل کی گئی۔ دو ابواب (۷‘۸) تفصیل طلب ہیں جوبعد میں زیر بحث آئیں گے ۔ ان شاء اللہ!]
tanzeemdigitallibrary.com © 2026