مسلم دنیا کی وحدتشجاع الدین شیخ
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کوئی نئی بات نہیں‘ مگر حالیہ جنگ نے اس تنازع کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے تجاویز پیش کرنا بظاہر معمولی سفارتی قدم ہو سکتا ہے‘ لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ تہران دباؤ کے تحت نہیں بلکہ برابری کی سطح پر بات چیت کا خواہاں ہے اور اس کے لیے وہ اسلام آباد پر اعتماد کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے میزبانی کی پیشکش اور دونوں فریقین کے ساتھ بیک وقت رابطے اس بات کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ وہ اِس بحران میں’’پُل‘‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ کردار محض رسمی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل کے راستے ’’آبنائے ہرمز‘‘ سے دوست اور غیر دشمن جہازوں کو گزرنے کی مشروط اجازت دینا‘ ایران کی جانب سے عالمی برادری کو دیا جانے والا واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی تزو یراتی (strategic) پوزیشن کو نہ صرف دفاعی بلکہ سفارتی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اِس تنازع کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی حدود سے نکل کر عالمی منڈیوں‘ توانائی کی قیمتوں اور اقتصادی استحکام تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان کا جائزہ لیا جائے تو واضح تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف امریکی بیانیہ ایران کو کمزور اور پسپا دکھارہا ہے‘ جبکہ زمینی حقائق کچھ اس طرح سے ہیں کہ ایرانی مزاحمت نہ صرف برقرار ہے بلکہ بعض حوالوں سے مؤثر بھی دکھائی دیتی ہے۔ ایرانی میزائلوں کی رسائی‘ اُس کی دفاعی حکمت عملی اور قیادت پر حملوں کے باوجود نظام کا فعال رہنا اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ جنگ محض طاقت کے بل پر جیتنا آسان نہیں ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں یہ تنازع ’’کثیرالجہتی جنگ‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک سطح پر یہ جنگ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے لڑی جا رہی ہے تو دوسری سطح پر میڈیا کے ذریعے بیانیے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ تیسری سطح پر سفارت کاری کے پردے میں خاموش مذاکرات بھی جاری ہیں اور چوتھی سطح پر معیشت کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس پیچیدہ صورتِ حال میں کسی ایک فریق کی واضح فتح کا تصور فی الحال حقیقت سے زیادہ خواہش معلوم ہوتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ نیٹو کے اندر پائے جانے والے اختلافات‘ یورپی ممالک کی محتاط پالیسی اور روس و چین کی خاموش یا محدود حمایت اِس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ دنیا نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کو پہلی مرتبہ یہ احساس ہو رہا ہے کہ عالمی قیادت صرف عسکری طاقت سے قائم نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے لیے اعتماد اور شراکت داری بھی ضروری ہے‘اور یہی عناصر تیزی سے کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔اِس تمام تر صورت حال میں افسو س ناک ترین پہلو اقوامِ متحدہ کی بے بسی ہے۔ جب عالمی امن کا ضامن ادارہ محض اپیلوں اور بیانات تک محدود ہو جائے تو اس کی افادیت پر سوال اُٹھنا فطری امر ہے۔ سیکرٹری جنرل کی جانب سے جنگ ختم کرنے کی اپیل دراصل اِس حقیقت کا اعتراف ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی تنازعات کے بروقت حل پیش کرنے میں ناکام ہو رہا ہے ۔تاہم اس بحران کا ایک نہایت اہم پہلو مسلم دنیا کی داخلی کیفیت ہے۔ طاغوتی قوتیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم ممالک کے پاس نہ افرادی قوت کی کمی ہے اور نہ ہی اسلحہ و ٹیکنالوجی کی‘ لیکن اِس کے باوجود وہ آپس کی ناچاکی کا شکار ہیں جبکہ دشمن متحد ہے۔ پھر یہ کہ مسلم ممالک میں سے اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے خام تیل و زرعی پیداوار سمیت بے تحاشا قدرتی وسائل سے نوازا ہے تو کسی کو بہترین فوج‘ ایٹمی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی عطا کی ہے۔ عسکری صلاحیت کے جدید ترین ہتھیار مثلاً ڈرون‘ جامرز‘ دفاعی شیلڈز‘ سیٹلائٹ ٹارگٹنگ کے نظام اور سائبر جنگ کے وسائل بھی اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کو چھپر پھاڑ کر دیے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان انتہائی پستی کے عالم میں ہیں اور تتربتر دکھائی دیتے ہیں جبکہ طاغوتی قوتیں ایک ایک کرکے سب کو شکار کررہی ہیں۔
مسلمانوں کے ازلی دشمنوں یعنی اسرائیل‘ امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحادِ ثلاثہ جب کسی ایک مسلم ملک پر حملہ کرتا ہے تو کئی مسلم ممالک مظلوم کی مدد کرنے کی بجائے حملہ آوروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں‘ جس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ طاغوتی قوتوں کے فوجی اڈے اُن مسلم ممالک کی سرزمین پر موجود ہیں۔ درحقیقت اِس وقت مسلم ممالک ’’وہن‘‘ کی اُس بیماری کا شکار دکھائی دیتے ہیں‘ جس کی تشخیص کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺنے چودہ سو سال قبل فرما دیا تھا کہ یہ ذلت و رسوائی دنیا کی محبت اور موت سے خوف کے باعث ہوگی۔ مسلم ممالک کے چھوٹے چھوٹے ذاتی اور مادی مفادات کے حصول کی تگ و دو کا دشمن فائدہ اُٹھا رہا ہے۔
در حقیقت جب تک مسلم دنیا اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کر کے ایک مشترکہ لائحۂ عمل اختیار نہیں کرتی‘ اُس وقت تک وہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ منتشر قوتیں ہمیشہ منظم قوتوں کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہیں‘ چاہے اُن کے پاس وسائل کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ اگر آج بھی مسلم ممالک قرآن و سُنّت کی طرف لوٹ آئیں‘ اپنے اصل دشمنوں کو پہچان کر آپس کی لڑائیاں ختم کریں اور متحد ہوکر طاغوتی قوتوں کو للکاریں تو اللہ تعالیٰ کی مدد اُن کے شاملِ حال ہوگی۔ اِسی صورت میں باطل قوتوں کے مذموم مقاصد کو بھی ناکام بنایا جا سکے گا اور ایک بڑے مقصد کے حصول کی خاطر علاقائی و مسلکی انتشار بھی پس پشت چلا جائے گا‘ جس سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسلم ممالک کے حکمرانوں‘ ریاستی اداروں اور عوام کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026