بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
روحِ قربانی اور اُمّت کی نشا ٔۃِ ثانیہ: کیسے؟جون کا مہینہ اِس سال بھی اُمّت ِمسلمہ کے لیے کئی گہرے سوالات کے ساتھ آرہا ہے۔ دنیا بھر کی توجہ امریکہ اور اسرائیل کی زیادتیوں پر ہے ۔پاکستانی عوام انتظار کررہے ہیں کہ حکومت اس مہینے سالانہ بجٹ کے نام پرمزید کون کون سے نئے ٹیکس لگائے گی اور انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ادا کرنا پڑیں گے۔ گھر کا بجٹ کیسے پورا ہوگا؟ چند روز پہلے ہی لاکھوں مسلمانوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں نے سُنّت ِ ابراہیمی علیہ السلام کو ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانوروں کی قربانی پیش کی‘ تکبیرات کی صدائیں فضا میںبلند ہوئیں اور شاید ایثار و بندگی کے جذبات تازہ ہوئے ہوں۔ حج و قربانی کے اِن ایام میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا اسلام کے یہ اراکین و شعائر صرف رسمی عبادات بن کر رہ گئے ہیں یا ان کی حقیقی روح بھی ہماری اجتماعی زندگی میں اُتر رہی ہے؟ یہی وہ بنیادی و جوہری سوال ہے جو آج پوری اُمت کو در پیش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قربانی کا اصل فلسفہ محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت‘ ایثار اور اپنی محبوب ترین شے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کے جذبے کو بیدار کرنا ہے۔ سُنّت ِابراہیمیؑ دراصل بندۂ مؤمن کو یہ سبق دیتی ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو انسان اپنی خواہشات‘ مفادات اور جذبات کو اس کے دین کے تابع کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔ قربانی کی عبادت اُمّت ِمسلمہ کو جہاد‘ اقامت ِدین اور دین کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی قربانی پر تیار کرنے کی ایک عملی تربیت ہے۔ قربانی اگرصرف رسم بن کررہ جائے اور انسان کی زندگی میں اطاعت‘ تقویٰ اور دین کے لیے ایثار پیدا نہ کرے تو اس کی حقیقی روح ہی فوت ہو جاتی ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت بھی ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ اللہ کی رضا کے سامنے سب کچھ قربان کر دیا جائے۔ تاریخ ِاسلام کا ہر روشن باب اِسی جذبۂ قربانی سے عبارت ہے۔ بدر سے اندلس تک‘ خلافت ِراشدہ سے تحریک ِآزادیٔ پاکستان تک‘ اُمّت نے جب بھی ایثار‘ صبر اور جدّوجُہد کا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے اُسے عزت و غلبہ عطا فرمایا۔ آج اُمّت ِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی اِس روح سے بڑی حد تک خالی دکھائی دیتی ہے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ ہماری انفرادی عبادات میں شاذ ہی سہی‘ جوش تو دکھائی دیتا ہے مگر اجتماعی معاملات میں کمزوری‘ خوف اور مصلحتیں حد سے زیادہ غالب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں اور اُن کی آواز مؤثر قوت میں تبدیل نہیں ہو پا رہی۔ اِس تناظر میں سب سے نمایاں اوردردناک منظرغزہ کا ہے۔ فلسطین کے نہتے مسلمان گزشتہ کم و بیش ڈھائی سال سے جس ظلم‘ محاصرے اور نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں‘ وہ جدید دنیا کے ضمیر پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ معصوم بچوں‘ خواتین اور بوڑھوں کی شہادتیں‘ تباہ حال بستیاں‘ بھوک اور بے گھری ‘یہ سب کیااہل ِفلسطین کا ہی مسئلہ ہے؟ کیا ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں؟ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا مقصد کیا صرف فلسطین خصوصاً غزہ کے مسلمانوں کو ہی ’’پیسنا‘‘ ہے؟
ہمارے نزدیک یہ پوری اُمت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔غزہ کے مظلوم مسلمانوں نے قربانی کی حقیقی روح کو زندہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے دنیا کودکھا دیا ہے کہ ایمان‘ صبر اور استقامت کیا ہوتاہے۔محدود وسائل کے باوجوداُن کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔اُن کے گھروں کو ملبے میں بدلا گیا مگراُن کے عزم کو شکست نہیں دی جا سکی۔ اِس کے برعکس مسلم دنیا کی سیاسی قیادت کا بڑا حصّہ بے بسی‘ بے حسی‘ مصلحت یا خاموشی کا شکارنظرآرہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارے بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اُن جیسوں کے’’انسانی حقوق‘‘ کے بلند بانگ دعوے کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں۔ غزہ کا بحران صرف ایک جنگ نہیں بلکہ یہ موجودہ عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کررہا ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح ہورہی ہے کہ اُمّت ِمسلمہ جب تک فکری‘ تہذیبی اور سیاسی طور پر متحد نہیں ہوگی‘ اِس کے مسائل محض قراردادوں اور بیانات سے حل نہیں ہوں گے۔
ضرورت اِس امر کی ہے کہ اُمّت اپنے اصل مرکز یعنی قرآن و سُنّت ِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کرے‘ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے اور محض جذباتی ردّ ِعمل کے بجائے منظم انقلابی جدّوجُہد کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاںبانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا تصوّرِ ’’عروجِ ثانی‘‘غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اُنہوں نے مسلمانوں کو بارہا اِس حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ اُمّت ِمسلمہ کا زوال محض سیاسی یا عسکری شکست کا نتیجہ نہیں بلکہ قرآن سے دوری‘ دینی شعور کی کمزوری اور اجتماعی نظم کے فقدان کا انجام ہے۔
اُن کے نزدیک اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ محض مروجہ معنوں میں سیاسی تبدیلی یا مسلمانوں کے دوبارہ اقتدار حاصل کر لینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر دینی وفکری انقلاب کاعمل ہے‘جس کی بنیاد ایمان کی تجدید‘ قرآن سے عملی تعلق اور کسی دینی اجتماعیت کے ساتھ جُڑ کر منہج ِ نبویﷺ کی بنیاد پر منظم جدّوجُہد ہے۔ وہ بارہا کہتے تھے کہ اُمّت ِمسلمہ کا زوال اُس وقت شروع ہوا جب قرآن زندگی کے مرکز سے ہٹ گیااوردین محض چند عقائد‘ عبادات اور رسومات تک محدود ہوکررہ گیا۔ اُن کے نزدیک احیائے اسلام کا آغازفرد کے اندر ایمان کی حرارت پیدا کرنے‘پھر ایک صالح اور منظم جماعت کی تشکیل‘ اوربالآخر اقامت ِدین کی اجتماعی جدّوجُہد سے ہوگا۔ وہ اِس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ جیسے عہدِنبویﷺ میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک ایک انقلابی جدّوجُہد کے ذریعے اسلامی نظام قائم ہوا تھا‘ ویسے ہی آج بھی صبر‘ تقویٰ‘ قربانی‘ دعوت اور اقامت ِدین کی جدّوجُہد کے مراحل سے گزر کرخلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دوبارہ ظہور ممکن ہے۔
اللہ کی محبت بھی اپنے بندوں کے لیے نقطۂ عروج کو تب ہی پہنچتی ہے جب بندوں کی اپنے ربّ کے لیے محبت نقطہ عروج پر نظر آئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’بے شک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے‘اُن لوگوں سے جو لڑتے ہیں‘اُس کی راہ میں صفیں باندھ کر گویا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارہوں۔‘‘ (الصف:۴)
دوسری طرف اللہ سے اُن کی محبت کا مطالبہ ان الفاظ میں آتا ہے کہ:
’’اور ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ:۱۶۵)
پھر سورۃ المجادلہ میں فرمایا:
’’تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اورآخرت پرایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوںجنہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کی ہے‘ خواہ وہ اُن کے باپ ہوں یا اُن کے بیٹے یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہلِ خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اوراپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ اور وہ اُن کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔وہ اللہ کی جماعت کے لوگ ہیں۔ خبر دار رہو! اللہ کی جماعت والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (آیت:۲۲)
سورۃ المائدۃ میں ایسے ایمان و تقویٰ والوں کے بارے میں فرمایا:
’’اور جو اللہ اور اُس کے رسول اوراہل ِ ایمان کو اپنارفیق بنائے تو (اسے معلوم ہو کہ ) یقینا ًاللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔‘‘ (آیت:۵۶)
اللہ کی جماعت (حزب اللہ) میں شمولیت کے لیے اِن اوصاف کی اہمیت اس حقیقت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حقیقی طور پر اللہ کی جماعت میں شامل کسی فرد میں یہ مطلوبہ اوصاف نہ ہوں تو اُسے حقیقی ایمان کے حصول کے لیے ابھی بہت محنت کرنا ہوگی۔
امریکی صدر ٹرمپ کا بھاری بھرکم تجارتی اور حکومتی شخصیات کے ساتھ دورۂ چین جاری ہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق چین کے صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداران نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ تائیوان کے معاملے پر اگر امریکہ نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو چین جنگ کرنے سے نہیں کترائے گا۔ میڈیامیں امریکی صدر کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ چین نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ ہمارے نزدیک خطے میں جنگ اور بدامنی پیدا کرنے کا ظاہری ذمہ دار تو امریکہ ہے‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسرائیل ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کےاپنے ابلیسی منصوبے کو جلد از جلد آگے بڑھانے کے لیے امریکہ کے ذریعے جنگ کے شعلے بھڑکا رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے اِس کھیل میں نقصان صرف مسلم ممالک کا ہو رہا ہے۔ امریکہ کو اپنے ملکی مفادات سے زیادہ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے مفادات عزیز ہیں۔ دوسری طرف چین سرمایہ اور تجارت کو عالمی قوت بننے کے لیے استعمال کرتاہے اور اُسے ایران‘ پاکستان یا عرب ممالک سے زیادہ دنیا میں اپنی اجارہ داری عزیز ہے‘ جس کے لیے وہ کسی نوع کا بھی سمجھوتا کرسکتاہے۔ دوسری طرف مغربی کنارے کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی اطلاعات کہ اسرائیل فلسطین کے اِس علاقہ پر بھی باقاعدہ قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘ انتہائی تشویش ناک ہیں۔ درحقیقت اسرائیل مسجد ِاقصیٰ کو (معاذ اللہ!) شہید کرکے اُس کی جگہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کی تیاری کر رہا ہے اور ہمارے نزدیک یہ معاملہ بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مسلم ممالک کے حکمران دشمن کی چالوں کا صحیح ادراک کرکے آپس میں متحد ہوں تاکہ طاغوتی قوتوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملایا جاسکے؟
حکومت ِپاکستان سے ہماری خصوصی اپیل ہے کہ ایک سرحدی دشمن کو شکست دینے کی یاد میں عوام کے اربوں روپے برباد کرکے یادگار تعمیر کرنے کی بجائے ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف توجہ دیں تاکہ مستقبل میں وطنِ عزیز عالم ِاسلام کی امامت کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے دشمن کے خلاف معرکوں میں ہر اول دستہ کا کردار ادا کر سکے۔ البتہ اِس حوالے سے دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ آج غزہ کے حالات‘ عالم ِاسلام کی بے سمتی اور عالمی طاقتوں کی بدلتی صف بندیاں اِس اَمر کی متقاضی ہیں کہ مسلمان وقتی نعروں اور جذباتی وابستگیوں سے نکل کرآگے بڑھیں۔ قربانی کی روح اگر واقعی زندہ ہو جائے اور اللہ کی جماعت (حزب اللہ) میں شامل ہونے کا جذبہ دل میں جاگزیں ہو جائے تو اُمت اپنے مفادات‘ تعصبات اور خوف کو اللہ کے دین کے تابع کر دے گی۔حقیقت یہ ہے کہ یہی جذبہ اُمّت کو دوبارہ عزّت و وقار کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔اُمت ِمسلمہ کے عروجِ ثانی کا خواب محض ایک رومانوی تصوّر نہیں بلکہ ایک دینی وعدہ اور احادیثِ مبارکہ کے مطابق ’’تقدیر مبرم‘‘ ہے۔البتہ اِس کے لیے قربانی بھی درکار ہے‘ بصیرت بھی‘ تنظیم بھی اور مسلسل جدّوجُہد بھی۔
اللہ تعالیٰ اُمّت ِمسلمہ کو یہ اہم ترین دینی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026