(تذکرہ و تبصرہ) مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کا امتحان - شجاع الدین شیخ

10 /

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کا امتحانشجاع الدین شیخ‘امیر تنظیم اسلامیمشرقِ وسطیٰ ایک عرصے سے آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کی جنگ نے پورے خطے کو شدید اضطراب میں مبتلا کررکھا ہے۔ جنگ اور امن کے درمیان حد ِفاصل مسلسل دھندلا رہی ہے اور دنیا ایک ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جس کے اثرات صرف چند ممالک تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ پوری انسانیت کو اِس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ایسے نازک مرحلے میں پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال ایک کڑا امتحان بھی ہے‘ اور ایک بہترین موقع بھی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور ایسا موقع فراہم کردیا ہے کہ پاکستان ایک مؤثر ثالث اور مصالحت کنندہ کے طور پر سامنے آئے ۔
اس پورے بحران میں آبنائے ہرمز کی حیثیت مرکزی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں اگر کشیدگی ہے تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں سے دنیا کی اقتصادیات تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کا طرزِ عمل ابتدا ہی سے شکوک پیدا کرنے والا رہا ہے۔ ایک طرف سخت بیانات تو دوسری طرف بحری نقل و حرکت‘ عسکری نگرانی اور اب بحری ناکا بندی‘ یہ سب اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی حکمت عملی وقتی ردِعمل نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔
ایران نے جنگ بندی کے بعد خیرسگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا‘ مگر عملی صورتِ حال اس کے برعکس رہی۔ امریکی بحری سرگرمیوں کے تسلسل نے واضح کر دیا کہ باہمی اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی۔اسی لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ بندی حقیقی امن کی تمہید ہے یا صرف وقتی دباؤ کا نتیجہ؟یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ کسی ایک فریق سے مکمل یک طرفہ عمل کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ اگر کسی جانب سے محدود نوعیت کی خلاف ورزیاں ہوں تو اُنہیں سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکتا ہے‘ لیکن طاقت کے بل پر معاملات کو سلجھانے کی کوشش ہمیشہ مزید فساد کو جنم دیتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے دباؤ میں اضافہ مذاکراتی عمل کی روح کے منافی محسوس ہوتا ہے اور مذاکرات کے ظاہری تعطل کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔ادھر غزہ اور لبنان مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اسرائیلی جارحیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگ بندیوں کا دائرہ محدود رکھا جا رہا ہے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں مفقود ہیں۔ ایران کا یہ مطالبہ کہ جنگ بندی مستقل اور پورے میدانِ جنگ پر نافذ ہونی چاہیے‘ اصولی طور پر درست ہے ‘ مگربد قسمتی سےاسے مطالبے کو پذیرائی نہ مل سکی۔
صدر ٹرمپ کے بیانات میں تضاد اور عدمِ تسلسل نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کبھی مذاکرات کی بات‘ کبھی دھمکیوں کی زبان‘ کبھی نئی شرائط ‘یہ طرزِ عمل اعتماد سازی کے بجائے بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ ایک عالمی طاقت کے سربراہ سے وقار‘ تدبر اور ذِمّہ داری کی توقع کی جاتی ہے‘ مگر جب قیادت غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرے تو عالمی امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس سے بھی اہم اس جنگ کے اصل ماسٹر مائنڈ اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ جنگ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی‘ جغرافیائی اور ثقافتی روابط رکھتا ہے‘ جبکہ عالمِ اسلام میں بھی اس کی ایک منفرد حیثیت ہے۔ اس لیے پاکستان ثالثی کے لیے موزوں ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم صرف مذاکرات کی میز سجانا کافی نہیں‘ بلکہ فعال‘ باوقار اور اصولی سفارت کاری ناگزیر ہے۔ اگر ثالث محض سہولت کار بن جائے اور طاقتور فریق کے دباؤ کو چیلنج نہ کرے تو اُس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کو واضح انداز میں یہ باور کرانا ہوگا کہ یک طرفہ دباؤ‘ عسکری جارحیت اور طاقت کی سیاست پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی دوہرا معیار نمایاں ہے۔ اگر بعض ممالک کو وسیع عسکری قوت اور جوہری صلاحیت رکھنے کی آزادی حاصل ہے تو دوسروں کے لیے دفاعی حق کیوں مشکوک بنا دیا جاتا ہے؟ یوکرین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ بین الاقوامی ضمانتیں ہمیشہ حقیقی تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔ لہٰذا ہر ریاست اپنے دفاع کے حق کو اہم سمجھتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ سبق نہایت اہم ہے کہ قومی سلامتی‘ عسکری قوت اور داخلی استحکام پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ان تمام حالات میں مسلم دنیا کے لیے اصل سبق اتحاد‘ خود اعتمادی اور باہمی تعاون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک مسلمان ممالک منتشر‘ کمزور اور بیرونی قوتوں کے محتاج رہیں گے‘ اُن کے مسائل دوسروں کے ایجنڈے اور مفادات کے مطابق ہی حل ہوتے رہیں گے۔ پاکستان سمیت ہر مسلم ملک کو نظریاتی‘ سیاسی‘ معاشی اور عسکری سطح پر مضبوط ہونا ہوگا۔عالمی سیاست کے تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا دفاع کا حق صرف چند طاقت ور ممالک تک محدود ہے؟ اگر کچھ ریاستیں وسیع پیمانے پر ہر طرح کا اسلحہ رکھ سکتی ہیں‘ تو دیگر ممالک کو اپنے دفاع کے لیے اقدامات سے کیوں روکا جائے؟یوکرین کئی سال سے اپنی اسی غلطی کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
ایران کے معاملے میں بھی یہی بحث سامنے آتی ہے۔ اگر اس پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنے دفاعی یا جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ترک کر دے‘ تو یہ اس کے لیے یک طرفہ کمزوری اختیار کرنے کے مترادف ہوگا۔ اسی تناظر میں پاکستان کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ کیا وہ اپنے دفاعی حق سے دستبردار ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں!ہرگز نہیں!! حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کا توازن ہی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔اِن تمام حالات میں مسلم دنیا کے اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ملک‘ خصوصاً پاکستان کو نظریاتی سطح پر بہت زیادہ مضبوط ہونا ہو گا۔ معیشت میں اونچ نیچ تو وقت کے ساتھ ساتھ ہوتے رہنا گوارا کیا جاسکتا ہے مگر نظریہ سے انحراف ہو گا توحقیقت میں کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔سوویت یونین کا نظریہ ختم ہوا تو وہ ملک بھی ختم ہو گیا ۔
جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور وقتی جنگ بندیوں سے کشیدگی کم ضرورہو سکتی ہے‘ مگر اصل ضرورت ایک جامع‘ منصفانہ اور دیرپا حل کی ہے‘ جس میں تمام فریقوں کے تحفظات کو دیانت داری سے سنا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر مشکل اور ناموافق معاہدے بھی مستقبل میں عظیم خیر کا سبب بنتے ہیں۔