(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ  الْبَقَرَۃ (۸) - ڈاکٹر اسرار احمد

10 /

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۸)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒآیت۲۲ الَّذِیْ جَعَلَ لَــکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً ص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّــکُمْ ج فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲) ’’جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنا یا‘ اور آسمان سے پانی برسایا‘پھر اُس (پانی) کے ذریعے سے (زمین سے) ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ تو ہرگز اللہ کے مدّ ِمقابل نہ ٹھہرائو جانتے‘ بوجھتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی خلّاقیت کے چار جامع مظاہر
یہ ’’الَّذِیْ۔۔۔‘‘ گویا ’’الَّذِیْ خَلَقَکُمْ‘‘ کا بدل ہے۔فرمایا: {الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا}’’ (تمہارا وہی ربّ جس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا) اُسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔‘‘ {وَّ السَّمَاۗءَ بِنَاۗءً} ’’اورآسمان کو ایک چھت (کی مانند) بنایا‘‘ {وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً} ’’اور اُتارا آسمان (بلندی) سے پانی‘‘ {فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ} ’’پھر نکالا اس کے ذریعے سے میووں کی شکل میں تمہارے لیے رزق۔‘‘
یہ جو چار مظاہر بیان ہوئے ہیں‘ یہ ایک خلاصہ ہے‘ وگرنہ مکی سورتوں میں تو مظاہر فطرت (phenomena of the nature) بڑی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً:
{اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا(۶) وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا(۷) وَّخَلَقْنٰـکُمْ اَزْوَاجًا(۸) وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا(۹) وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا(۱۰) وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا(۱۱)} (النبا)
’’کیا ہم نے نہیں بنا دیا زمین کو بچھونا ؟ اور پہاڑوں کو میخیں؟ اور ہم نے تمہیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ۔ اور تمہاری نیند کو بنا دیا ہم نے تھکان دور کرنے والی۔ اور رات کو ہم نے بنا دیا ڈھانپ لینے والی۔ اور دن کو ہم نے بنا دیا معاش (کی جدّوجُہد) کے لیے۔‘‘
{اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا(۲۵) اَحْیَآئً وَّ اَمْوَاتًا(۲۶) وَّجَعَلْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّاَسْقَیْنٰـکُمْ مَّآئً فُرَاتًا(۲۷) } (المرسلات)
’’کیا ہم نے زمین کو نہیں بنا دیا سمیٹ لینے والی؟زندوں کو بھی اور مُردوں کو بھی! اور ہم نے اس کے اندر بنا دیے خوب جمے ہوئے اونچے اونچے پہاڑ‘ اور ہم نے تمہیں پلایا (اس میں سے) تسکین بخش پانی۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور خلاقیت کی مثالیں‘ اُس کی نشانیاں اور اُس کی شانیں کائنات کے ایک ایک ذرّے میں موجود ہیں‘ لیکن یہاں زیر ِمطالعہ آیت میں بڑی خوبصورتی سے جو چار مظاہر بیان ہوئے ہیں‘ ان میں بڑی جامعیت ہے۔
زمین کو بنادیا تمہارے لیے ایک فرش‘ بہترین بچھونا‘ ماں کی گود کی مانند حیات بخش۔ جیسے ماں کی گود حیات کے لیے گہوارہ ہے ایسے ہی نہ صرف انسانی زندگی کے لیے‘ بلکہ حیواناتی اور نباتاتی زندگی یعنی کُل حیاتِ ارضی کے لیے یہ زمین ماں کی گود کے مانند ہے۔
اس کے بعد آسمان (سَماء) چھت کی مانند ہے۔ یہاں آسمان سے کیا مراد ہے؟ ’’سمو‘‘ بلندی کو کہتے ہیں اور ’’سماء‘‘ بلندی کی کوئی شے۔ اس سے آگے قرآن مجید نے آسمانوں کی حقیقت کے بارے میں تفصیل سے کچھ بیان نہیں کیا۔ آسمانوں کے ساتھ ’’سبع‘‘ (سات) کا لفظ بار بار آیا ہے اور یہاں اس رکوع میں بھی آئے گا‘ لیکن اس کی بھی کوئی وضاحت قرآن مجید میں نہیں ہے۔ ابھی تک ہمارا علم فلکیات (Astronomy) بھی یہاں تک نہیں پہنچا کہ ہم حتمی طور پر یہ کہہ سکیں کہ ’’سماء‘‘ سے کیا مراد ہے اور ’’سبع سماوات‘‘ سے کیا مراد ہے! جیسے جیسے یہ علم آگے بڑھے گا‘ ان شاء اللہ‘ یہ حقیقتیں منکشف ہوتی چلی جائیں گی۔ البتہ یہ انسان کا مشاہدہ ہے‘ جیسے کہ سورۃ الغاشیہ میں آیا ہے :
{اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ(۱۷) وَ اِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ(۱۸)وَ اِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ(۱۹) وَ اِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ(۲۰)}
’’تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کو کہ انہیں کیسے بنایا گیا ہے! اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا ہے!اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑ دیے گئے ہیں! اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) زمین کی طرف کہ کیسے بچھا دی گئی ہے!‘‘
اہل عرب جب حجاز میں سفر کرتے تھے تو ان کا مشاہدہ ہوتا تھا کہ اِدھر بھی پہاڑ ہیں‘ اُدھر بھی پہاڑ ہیں‘ درمیان میں راستے بنے ہوئے ہیں‘ وادیاں ہیں۔ اوپر آسمان ہے‘ نیچے زمین ہے۔ اونٹوں پرسوار چلے جارہے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص کے مشاہدے میں مسلسل یہی چار چیزیں ہوتی تھیں: اونٹ‘ جس پر وہ سوار ہے۔ اوپر آسمان ہے۔ دائیں بائیں پہاڑہیں جمے ہوئے‘ اور نیچے زمین ہے۔ اسی طور سے یہاں پر چار چیزیں آئی ہیں۔ یہ انسان کا بڑا گہرا مشاہدہ ہے۔ زمین پستی کی اور آسمان بلندی کی علامت ہے۔ ایک پستی کی انتہا ہے اور ایک بلندی کی۔ یہ دونوں چیزیں بظاہر متضاد ہیں‘ ایک دوسرے کی ضد ہیں‘ لیکن اِن دونوں میں موافقت ہے۔ یہ موافقت توحید کی دلیل ہے۔ آسمان سے پانی برستا ہے‘ جو زمین میں سے نباتات کو نکال کر لاتا ہے۔ یہ ان دونوں کا انٹرایکشن ہے: {وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً} ’’اور اُتارا آسمان (بلندی) سےپانی‘‘ {فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّکُمْ ۚ} ’’پھر نکالا اس کے ذریعے سے میووں کی شکل میں تمہارے لیے روزی کا سامان۔‘‘ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو تعداد کے اعتبار سے کم از کم الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے لیے انسان کی immediate observation ہے۔ جیسا کہ تعارفِ قرآن کے ضمن میں عرض کیا گیا تھا کہ قرآن کا انداز منطقی اور فلسفیانہ نہیں بلکہ بڑا فطری استدلال ہے۔ قرآن مجید اپنے استدلال کا سارا تانا بانا سب کے سامنے ظاہر حقائق سے تیار کرتا ہے۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس دنیا میں جو فسادِ تمدن ہے‘ اِفراط وتفریط کے جو دھکے ہیں ‘ اگر تم اللہ کی بندگی اختیا رنہیں کرو گے ‘اپنی عقل کی پیروی کرو گے‘ اپنے نفس کی بندگی کرو گے تو تصادم ہوگا‘ مفادات ٹکرائیں گے ‘طبقاتی کشمکش ہوگی۔ ایک طرف حاکم اورمحکوم کے درمیان رسہ کشی ہوگی‘ ایک طرف سرمائے اور محنت کے درمیان اور ایک طرف فرد اور اجتماعیت کے درمیان کھینچ تان ہوگی۔ یہ گویا اِفراط وتفریط کے دھکے نوعِ انسانی کا مقدّر بنے رہیں گے اور تمدنِ انسانی فساد کی آماج گاہ بنا رہے گا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی بندگی ہی میں خیر کا‘ خیریت کا‘ بھلائی کا‘ امن اور سکون کا پیغام ہے۔ اس دنیا میں ’’اصلاح‘‘ جسے کہتے ہیں‘  ازروئے الفاظِ قرآنی:{وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا} (الاعراف:۵۶) ’’اور زمین میں فساد مت مچاؤ اس کی اصلاح کے بعد‘‘ وہ اصلاح اسی شکل میں ہوگی کہ سب کے سب ہمہ تن اللہ کی بندگی اختیار کرلیں ‘اُسی کے مطیع وفرماںبردار بن جائیں ‘اُسی کے احکام پر چلیںاور اُسی کی ہدایت کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنالیں۔
شرک فی الذات اور شرک فی الصفات کی نفی
زیر ِمطالعہ آیت کے آخر میں فرمایا: {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)} ’’تو ہرگز اللہ کے مدّ ِمقابل نہ ٹھہرائو جانتے ‘بوجھتے۔‘‘ اَنْدَادًاجمع ہے نِدّ کی۔ دین کی نظریاتی اساس ’’توحید‘‘ ہے‘ اور توحید کاعملی پہلو اِن الفاظ میں بیان ہو چکا: {اعْبُدُوْا رَبَّــکُمُ الَّذِیْ خَلَـقَـکُمْ}۔ یہ توحید ِعملی ہےکہ بندگی ‘ اطاعت‘ پرستش صرف اللہ کی‘ اُس کے سوا کسی کی نہیں۔ {اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ}(بنی اسرائیل:۲۳) ’’کہ اللہ کے سوا کسی اورکی بندگی مت کرو !‘‘ {وَلَاتَدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ}(القصص:۸۸) ’’اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو!‘‘ جب کہ یہاں توحید ِعلمی ‘ توحید ِنظری اور توحید فی العقیدہ کا بیان ہے کہ اللہ کا مدّ ِمقابل کسی کونہ ٹھہرائو! اُس کا کوئی ساجھی نہیں ‘کوئی شریک نہیں۔ اُسی کا اختیارِ مطلق ہے ‘ اُسی کی قدرتِ کاملہ ہے جس کا یہ سارا ظہور ہے۔ کوئی اُس کا ہمسر یا مدّ مقابل نہیں ہے ۔
نِدّ کہتے ہیں کوئی ایسی ہستی جو کسی کے ہمسر ہو‘ ہم پلہ ہو ‘مدّ ِمقابل ہو۔ چنانچہ ہمارے ہاں خطبات میں بعض علماء کرام ان الفاظ کی تکرار کرتے ہیں: فلَا ضِدَّ لہُ وَ لا نِدَّ لہُ وَلا مِثْلَ لہُ وَلا مِثالَ لہُ ولا مَثِیل لہُ ! ضد اور نِد گویا ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ نِدّ وہ ہے کہ جو صرف ہمسر ہو‘ جب کہ ضد وہ ہے جو کسی کے مدّ ِمقابل آجائے‘ ہمسر ہو اور پھر اس سے بھی مقابلہ کرے۔ یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ یہاں فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو ہمسر نہ بنادیں! یہ توحید ہے۔ یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات میں‘ اُس کی صفات میں‘ کسی بھی اعتبار سے ‘کسی بھی پہلو سے کسی کو اُس جیسا یا اُس کا ہمسر یا اس کا ہم پلہ یا اُس کا ہم رتبہ نہ بنا دیا جائے۔
اس ضمن میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ شرک کی کون کون سی اقسام ہیں۔ شرک فی الذات کیا ہے ؟شرک فی الصفات کیا ہے؟ جہاں تک شرک فی الحقوق یعنی شرک عملی اور توحید ِعملی کا تعلق ہے وہ تو اس رکوع کی پہلی آیت میں بیان ہوچکا۔ توحید ِعملی کا اثبات یعنی شرکِ عملی کی نفی آگئی۔ جیسے کہ سورۃ الکہف کی آخری آیت میں فرمایا گیا:
{قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَ نَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌج فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا(۱۱۰)}
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ مَیں تو بس تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں‘ مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبودہے۔ پس جو کوئی بھی اُمید رکھتا ہواپنے رب سے ملاقات کی تواُسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ ‘‘
{فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا} یہ عقیدہ کی توحید ہے کہ کسی ہستی کو‘ کسی شے کو‘کسی شخصیت کو‘ کسی ذات کو‘ ملائکہ میں سے‘ جِنّات میں سے ‘ انسانوں میں سے‘ اولیاء اللہ میں سے یا انبیا ء ورُسل میں سے‘ کسی کو کسی بھی اعتبار سے اللہ کا مثل‘ مثال‘ مثیل‘ مشابہ اور اس کی ضد یا ند نہ بنا لیا جائے۔ [’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘ کے موضوع پر میرے چھ تفصیلی خطبات ہیں۔ الحمد للہ وہ کافی معروف بھی ہوئے‘ مقبول بھی ہوئے۔ ان لیکچرز پر مشتمل کتاب ’’حقیقت و اقسامِ شرک‘‘کے عنوان سے موجود ہے۔]
اس مقام پر شرک فی الذات اور شرک فی الصفات دونوں کی نفی آئی ہے۔ شرک فی الذات یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی قرار دے دینا۔ دنیا میں ضد اور ند کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ یاتو اللہ تعالیٰ کو اُس کے مقامِ رفیع سے گرا کر کہیں مخلوقات کی صف میں لا کے کھڑا کر دیا جائے‘ یا مخلوق میں سے کسی کو اُٹھا کر اسے کسی اعتبار سے اللہ کے برابر کر دیا جائے۔ اسی لیے فرمایا گیا: { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳) }(لقمٰن) ’’یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس لیے کہ ظلم کی تعریف ہی یہ ہے: وضع الشی ء فی غیر محلہ یعنی کسی شے کو اُس کے اصل مقام سے ہٹا کر کہیں اور رکھ دینا ۔ اللہ ربّ العزت کا وہ مقامِ رفیع اور اس کی یکتائیت جو بایں الفاظ بیان ہوئی ہے:
{قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ(۱) اَللہُ الصَّمَدُ(۲) لَمْ یَلِدْ لا وَلَمْ یُوْلَدْ(۳) وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَ حَدٌ(۴)}
’’کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے۔ اللہ سب کا مرجع ہے۔نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔اور کوئی بھی اُس کا کفو نہیں ہے۔‘‘
اُسے اس مقام سے گرا کر کسی بھی اعتبار سے کسی پہلو سے مخلوق میں سے کسی کے مشابہ کردینا‘ یا مخلوق میں سے کسی کو اٹھا کر اس کو کسی بھی اعتبار سے کسی بھی پہلو سے اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور ضد یا ند بنا دینا‘ یہ دونوں بدترین ظلم ہیں۔
لفظ ’’نِدّ‘‘ احادیث میں بھی آیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ((اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَھُوَ خَلَقَکَ))(۱) ’’یہ کہ تُو اُس کا کوئی مدّ ِمقابل ٹھہرائے حالانکہ اُس نے تجھے پیدا کیا ہے۔‘‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کسی درجے میں کوئی شریک یا مدّمقابل نہیں ہے۔ اس ضمن میں رسول اللہﷺ اُمّت کو اِس درجے توحید کی باریکیوں تک پہنچا کر گئے ہیں کہ ایسے تصورات کی بالکل جڑ کٹ جاتی ہے۔ ایک دفعہ رسول اللہﷺ کے حضور ایک صحابی کی زبان سے ایسے ہی روا روی میں نکل گیا: مَا شَاءَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ! ’’جو اللہ چاہے اور جو آپؐ چاہیں۔‘‘ آپ ﷺ نے فوراً ٹوک دیا: ((اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا؟ مَا شَاءَ اللّٰہُ وَحْدَہُ))(۲) ’’کیا تم نے مجھے اللہ کا مدّ ِمقابل بنا دیا ہے؟ (بلکہ وہی ہو گا) جو تنہا اللہ چاہے۔‘‘ ظاہر بات ہے کہ ان صحابی کی یہ مراد نہیں ہوسکتی تھی لیکن الفاظ ایسے تھے کہ ایک شائبہ پیدا ہوا جس پرحضورﷺ نے ٹوک دیا۔ آپ ﷺ نے اس قدر احتیاط کا عالم ملحوظ رکھا کہ اس طرح تم نے مشیت میں اللہ تعالیٰ اور مجھے بریکٹ کر دیا! مشیت توصرف اللہ کی چلتی ہے‘ اور ہر کسی کی مشیت اللہ کے تابع ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہُ ط} (الدھر:۳۱) ’’تمہارے چاہے کچھ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔‘‘ اور جیسے کہ فرمایا گیا:
{اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ(۵۶) } (القصص)
’’(اے نبیﷺ!) آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہیں‘ بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے‘ اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔‘‘
معلوم ہوا یہ توحید فی المشیت ہے۔ مشیت تو صرف ایک اللہ کی ہے۔ ہم اپنی مشیت کو اللہ کی مشیت میں گم کردیں ‘ ہماری کوئی پسند ہی نہ رہے‘ یہ دوسری بات ہے۔ جو اللہ کوپسند ہے وہی ہماری پسند بن جائے۔ یہ ہماری روحانی ترقی کا ایک مقام ہو گا۔ لیکن ضد اور ند کے اندر اس اعتبار سے اتنی باریک بینی ہے کہ جہاں کہیں ذرا سا بھی مغالطہ کا امکان پیدا ہو سکتا تھا تو حضورﷺ نے بڑے اہتمام سے اس کا بھی سد ِباب کر دیا۔
وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کے دو مفہوم
یہاں آیت کے آخر میں جو الفاظ آئے ہیں: {وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)} ’’دراں حالیکہ تم جانتے ہو!‘‘اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک مفہوم جوعام طور پر لیا گیا ہے وہ تو یہ ہے کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ آسمان سے پانی برسانے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ‘زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ یہ حقائق تمہیں معلوم ہیں! لیکن تاویل خاص کی طرف رجوع کریں تو مشرکین ِعرب کاشرک اس نوعیت کا نہیں تھا کہ وہ تخلیق کائنات میں اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی سمجھتے ہوں‘ یا انتظامِ کائنات میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھتے ہوں۔ ان کا شرک اس نوعیت کا تھاکہ کچھ ہستیاں ہیں جو مقربین بارگاہِ الٰہی ہیں۔ وہ اللہ کے لاڈلے اور چہیتے ہیں‘ اُن کی سفارش کام دے جائے گی: {ہٰٓؤُلَآئِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللہِ ط } (یونس:۱۸) یہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہیں ‘ہمارے سفارش کرنے والے ہیں‘ ان کے ذریعے سے ہم اللہ کاتقرب حاصل کرسکتے ہیں:{مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لَیُقَرِّبُوْنَا اِلَی اللہِ زُلْفٰی} (الزمر:۳) ہم ان کی جو بھی پرستش کرتے ہیں ‘ ڈنڈوت کرتے ہیں ‘ سجدے کرتے ہیں ‘ چڑھاوے چڑھاتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں ۔ یہ چونکہ اللہ کے قریب تر ہیں تو ہم ان کے ذریعے سے اللہ سے قریب ہو جائیں گے۔ ان کا شرک یہ تھا۔
شرک کی اور قسمیں بھی دنیا میں رائج ہیں۔ مثلاً ایک تصور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ہستیوں کو تقسیم کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ یہ جو دیوی اور دیوتائوں
(gods and godesses) کا تصور ہے اس میں یہ پہلو بھی شامل ہے‘ لیکن جن کوعرب الٰہ بنائے بیٹھے تھے وہ صرف اس اعتبار سے کہ یہ اللہ کے چہیتے لوگ ہیں۔ چنانچہ حضرت نوحؑ کی قوم کے جوبُت تھے وہ بھی درحقیقت پرانے گزرے ہوئے بہت نیک ‘ عابدوزاہد‘ اولیاء اللہ کے ناموں پر بنائے گئے تھے اور ان کی پرستش ہوتی تھی۔ چنانچہ اس اعتبار سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے: {وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)} کہ تم خوب جانتے ہو کہ آسمان کا پیدا کرنے والا‘زمین کابنانے والا‘ آسمان سے بارش برسانے والا‘ اور زمین سے نباتات کی صورت میں تمہارے لیے ہر طرح کا رزق برآمد کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں۔
میرے نزدیک اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ توحید اور شرک کے معاملے میں یقیناً جلی (واضح) اور خفی (پوشیدہ) کےمابین بہت سے shades ہیں‘ بہت براڈ سپکٹرم ہے۔ ان الفاظ میں گویا اپیل ہے کہ کم سے کم شرک جلی سے تو بچو! جہاں تمہارا شعور کام کر رہا ہو ‘تمہارا فہم ‘ تمہاری سوچ ‘ تمہارا ارادہ‘ تمہاری اپنی چوائس کام کر رہی ہو وہاں تو کسی کو اللہ کا مدّمقابل نہ بناؤ۔ بسا اوقات انسان تحت الشعور میں ‘بے شعوری کی کیفیت میں بلا سوچےسمجھے‘ جانے بوجھے بھی اللہ کا مدّمقابل بنا بیٹھتا ہے‘ جس کوہم ’’ریا کاری‘‘ کہتے ہیں۔اسے حدیث میں ’’شرکِ خفی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
((اَلشِّرْکُ الْـخَفیُّ ان یَقُومَ الرَّجُلُ یُصَلِّیْ فَیُزَیِّنُ صَلَاتَہُ لِمَا یَرَی مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ)) (سنن ابن ماجہ:۴۲۰۴)
’’یہ شرکِ خفی ہے کہ آدمی کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور کسی شخص کو اپنی طرف دیکھتا ہوا محسوس کرے تو اپنی نماز کو اور سنوار لے۔‘‘
ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے اور جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اس نے سجدہ لمبا کر دیا۔ اگرچہ یہ اس کاشعوری فیصلہ نہیں ‘ اُس نے یہ حرکت سوچ سمجھ کر نہیں کی کہ میں اِس شخص کو دکھانا چاہتا ہوں اور اس پراپنے زہد‘ تقویٰ اور دین داری کا رعب گانٹھنا چاہتا ہوں‘ لیکن یہ بھی شرک ہے۔ یہ شرکِ خفی ہے‘ اس لیے کہ اس ایک سجدے کے دو مسجود ہو گئے۔ ایک تو اللہ جس کے لیے وہ سجدہ کر رہا تھا‘ لیکن اُس نے اپنے سجدے میں اگر دو سیکنڈ کا بھی اضافہ کر دیا تو اس میں دوسرا مسجودِ معنوی گویا وہ شخص ہے جس کی خاطر اُس نے اپنے سجدے کو طول دیا۔ اس ضمن میں حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا: ((لَلشِّرْکُ اَخْفَی مِنْ دَبیْبِ النَّمَلِ))(۳) ’’یقیناً شرک تو چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ پوشیدہ طریقے سے داخل ہو جاتا ہے۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ’’اَنْداد‘‘ کی تعریف ’’شرکاء‘‘ سے کی ہے‘ اور شرک کا شکار ہونے کی مثال یہ بیان کی ہے کہ یہ تاریک شب میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی کی چال سے بھی مخفی ہے ۔ چنانچہ {وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)} کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جانتے بوجھتے تو اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائو۔
البتہ یہ نوٹ کرلیجیے کہ اس دور کاجتنا بھی شرک ہے وہ سارا شعوری شرک ہے‘ اجتماعی سطح پر شرک ہے۔ یہ توایک فلسفہ ہے‘ ایک نظام ہے‘ انسٹیٹیوشن ہے ۔ اس میں غیرشعوری کا کوئی سوال نہیں۔ چنانچہ اس وقت غیر اللہ کی حاکمیت سب سے بڑا شرک ہے۔ انسانی حاکمیت (Human Sovereignty) خواہ فردِ واحد کی ہویا عوام کی‘ یہ شرک ہے۔ اسی طریقے سے مادّہ پرستی‘ دنیا پرستی ‘وطن پرستی‘ یہ ساری چیزیں نظریاتی ہیں۔ یہ انسان کے شعور اور فلسفہ وفکر سے متعلق ہیں۔ دور ِحاضر میں یہ سب گویا ’’اَنْدَاد‘‘ ہیں‘ اور الفاظِ قرآنی ان سب کا احاطہ کرتے ہیں: {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)} کہ کم سے کم شعوری طور پر‘ جانتے بوجھتے تو کسی ہستی کو‘ کسی ادارے کو‘ کسی شے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک‘ اس کا مدّمقابل اور اس کے برابر کا نہ بنا دینا۔ ان دو آیات میں توحید کامضمون مکمل ہو گیا۔ پہلی میں توحید عملی‘ دوسری میں توحید نظری‘ توحید عقیدہ!
آیت۲۳ وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ص وَادْعُوْا شُھَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳) ’’اور اگرتم واقعتاً شک میں ہو اِس کلام کے بارے میں جو ہم نے اتارا اپنے بندے پر (کہ یہ ہمارا نازل کردہ ہے یا نہیں) تو لے آئو ایک ہی سورت اِس جیسی‘ اور بلا لو اپنے سارے مددگاروں کو اللہ کے سوا اگر تم سچّے ہو۔‘‘
یہاں لفظ نَزَّلْنَا آیا ہے‘ اَنْزَلْنَا نہیں ۔ یعنی حضورِ اَقدس ﷺ پر قرآن مجید کا نزول بصورت تنزیل ہوا ہے۔ قرآن رفتہ رفتہ ‘جستہ جستہ‘ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ بڑا ہی متجسسانہ(searching) انداز ہے کہ واقعتاً اگر تم کسی شک میں ہو! اصل بات یہ ہے کہ تم شک میں نہیں ہو! یہ تمہاری ڈھٹائی ہے ‘ تمہاری ضد اور تعصب ہے ‘ حقیقتاً تم شک میں نہیں ہو۔ تم پہچان چکے ہو کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ البتہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اتمامِ حُجّت کے طور پر فرمایا: {وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا.....} اگر واقعتاً تمہیں ذرا سا بھی شک ہے اس کلام کے بارے میں جوہم نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ) پر نازل فرمایا ہے....
نسبت ِعبدیت: کمال شفقت وعنایت
نوٹ کیجیے کہ یہاں ’’عبد‘‘ کی نسبت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی شفقت اور عنایت کا نزول ہے ‘ لہٰذا جہاں بھی حضورﷺ پر نزولِ قرآن کا تذکرہ آتا ہے وہاں شفقت اور عنایت کا خاص انداز ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں بھی حضورﷺ کی نسبت ِعروجی بیان کرنا مقصود ہوتی ہےیا مقامِ مدح ہوتا ہے ‘وہاں حضورﷺ کی نسبت ِعبدیت کو نمایاں کیا جاتاہے ۔ سورۂ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف دونوں کے آغاز میں آپﷺ کی نسبت ِعبدیت کو نمایاں کیاگیا:
{سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا.......} (آیت۱)
’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی راتوں رات اپنے بندے (ﷺ) کو مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ (دُور کی مسجد) تک ۔‘‘
{اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا(۱)}
’’کُل حمد و ثنا اور کُل شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور اس میں اُس نے کوئی کجی نہیں رکھی۔‘‘
بہت سے مواقع پر خا ص طورپر مولانا روم کے حوالے سے مَیں عروجی اور نزولی کیفیات پر تفصیلی گفتگو کر چکا ہوں۔ عبدیت میں چونکہ بندہ اللہ عزّوجل کی طرف رُخ کرکے کھڑاہے تو یہ عروجی کیفیت ہے۔ جب بندہ رسالت کا فرضِ منصبی ادا کرنے کے لیے جارہا ہے تو اس کا رُخ خلق کی طرف ہے‘اس اعتبار سے یہ نزولی کیفیت ہے۔ گویا حضور ﷺ جبل نور سے اُتر رہے ہیں تو یہ نزولی نسبت ہے۔ آپ ﷺ نے جا کر لوگوں کو خبردار کرنا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ ِطور سے اُتر رہے ہیں تو یہ نزولی کیفیت ہے۔ ا سی لیے فرمایا گیا: {اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی(۲۴) }(طٰہٰ)۔ البتہ جب حضرت موسیٰ ؑ کوہ ِ طورپر تھے یا حضور ﷺ جبل نور پر تھے تو یہ عروجی کیفیت ہے۔
قرآن کریم کا دعویٰ اور چیلنج
فرمایا: اگر واقعتاً تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جوہم نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے {فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ} ’’تو لے آئو اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر۔‘‘ اس کے مثل فصاحت میں ‘ بلاغت میں‘ عذوبت میں ‘ مٹھاس میں ‘ صوتی آہنگ میں‘ ہراعتبار سے ‘ جوبھی تمہارے معیارات ہیں انہی کے مطابق تم دعویٰ کرسکو کہ یہ چند الفاظ پر مشتمل ہم ایک کلام موضوع کرکے لائے ہیں جو قرآن جیسا ہے! {وَادْعُوْا شُھَدَآءَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} ’’اور پکار لو اپنے تمام حمایتیوں کواللہ کے سوا۔‘‘ وہ مشرک تھے‘ اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ اللہ کو بھی پکارتے تھے اور ان کی دعائیں ’’اَللّٰھُمَّ‘‘ سے شروع ہوتی تھیں۔ لہٰذا فرمایا کہ اللہ کوچھوڑ کر تم اپنے سارے معبودوں کو پکار لو‘ جِنّات کو پکار لو ‘اپنے دیوتاؤں اور دیویوں کو پکار لو‘ اپنے خطیبوں اور شعراءکوجمع کر لو‘ جس کو پکارنا ہے پکار لو!
شہید کا مفہوم:یہاں شُھَدَاء کے لفظ کو بھی سمجھ لیجیے۔ فعل شَھِدَ یَشْھَدُ اصل میں آتا ہے موجودگی کے لیے۔ ’’شاھد‘‘ وہ ہے جوموجود ہے ‘لیکن یہیں سے اس میں د و اضافی مفہوم پیدا ہوئے۔اوّلاً یہ کہ گواہی بھی دراصل اُسی کی ہوتی ہے کہ جو وقوعہ پر موجود ہو۔ جو شخص خود موجود تھا وہی گواہی دینے کا اہل ہے۔ وہ چشم دید گواہ ہے‘ اس نے دیکھا ہے کہ واقعہ کیسے ہوا۔ دوسرے یہ کہ مددگار بھی وہی ہو سکتا ہے جو موجود ہو۔ آپ کا کوئی بڑا حمایتی ہے لیکن وقوعہ کے وقت موجود نہیں ہے تو اُس کی مدد آپ کے لیے مفید نہیں ہو گی۔ تو ’’شہید‘‘ کے یہ دونوں ترجمے ’’گواہ‘‘ اور ’’مددگار‘‘ ثانوی ترجمے ہیں‘ جبکہ اس کا اصل مفہوم ’’موجود‘‘ کا ہے۔ چنانچہ فرمایا: {وَادْعُوْا شُھَدَآءَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳)} ’’اور پکار لو اللہ کے سوا اپنے تمام حمایتیوں (اور مددگاروں) کواگر تم سچے ہو!‘‘ میں پھر یہاں زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ میرے نزدیک ’’اگر تم سچے ہو!‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ تم شک کرنے میں بھی سچے نہیں ہو! یہ بھی تمہارا تصنع ہے‘ تمہاری ہٹ دھرمی ہے‘ حقیقتاً تمہیں کچھ شک نہیں ہے۔ تم اسے صرف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہو۔ باقی اس کا یہ مفہوم بھی ہوجائے گا کہ اگر تمہیں ذرا سا بھی شک ہے تو اس کا ازالہ ہو جائے گا‘ سب دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہوجائے گا ۔اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ کلام محمد(ﷺ) نے خود موضوع کرلیا ہے ‘ خود گھڑ لیا ہے‘ خود بنا لیا ہے تو پھر ٹھیک ہے‘ تمہارے ہاں بڑے بڑے فصحاء ‘بلغاء‘ ادباء ‘ شعراءاور خطباء موجود ہیں‘ تو تم انہیں بلا کر ایک مقابلہ کر لو!
یہ چیلنج مکی قرآن میں چار مرتبہ پہلے آچکا ہے۔ دو مرتبہ ان سے پورے قرآن کریم کی نظیر کے لیے مطالبہ کیا گیا۔ سورۃ الطور میں فرمایا:
{اَمْ یَـقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَـہٗ ج بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَ (۳۳) فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِہٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ(۳۴)}
’’کیا ان کاکہنا ہے کہ یہ اس (حضرت محمدﷺ) نے خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) یہ ماننے والے نہیں ہیں۔ تو وہ لے آئیں اس جیسی کوئی ایک بات اگر وہ سچّے ہیں۔‘‘
اسی طرح سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا:
{قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّـاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا(۸۸)}
’’آپؐکہہ دیجیے کہ اگر جمع ہو جائیں تمام انسان اور تمام جِنّ اس بات پر کہ وہ اِس قرآن کی مانند لے آئیں تو وہ نہیں لا سکیں گے اس کی مانند‘ اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔‘‘
یہ تو بحیثیت مجموعی پورے قرآن مجید کی نظیر پیش کرنے سے مخلوق کے عاجز ہونے کا دعویٰ ہے جو قرآن مجید نے دو مقامات پر کیا ہے۔ سورئہ ہود میں اس سے ذرا نیچے اُتر کر‘ جسے برسبیل تنزّل کہا جاتا ہے‘ فرمایا کہ پور ے قرآن کی نظیر نہیں لا سکتے تو ایسی دس سورتیں ہی گھڑکر لے آئو! ارشاد ہوا:
{اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ ط قُلْ فاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۳)} (ھود)
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن خود گھڑ کر لے آیا ہے؟ (اے نبیﷺ! ان سے ) کہیے: پس تم بھی دس سورتیں بنا کر لے آئو ایسی ہی گھڑی ہوئی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو!‘‘
اس کے بعد دس سے نیچے اتر کر ایک سورۃ کا چیلنج بھی دیا گیا:
{اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ ط قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۸)} (یونس)
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن خود بنا کر لے آیا ہے؟ (اے نبیﷺ !ان سے) کہیے: پس تم بھی ایک سورت بنا کر لے آئو ایسی ہی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو!‘‘
دس سورتیں نہ سہی‘ ایک سورت ہی لے آئو! قرآن مجید کی مختصر ترین سورتیں تین تین‘ چار چار آیات پر مشتمل ہیں۔ سورۃ النصر‘ سورۃ العصر اور سورۃ الکوثرکُل تین تین آیات کی ہیں۔ سورۃ الاخلاص کی کُل چار آیات ہیں۔ یہ اعجازِ قرآنی کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ بدترین دشمنوں نے بھی اُس وقت یہ جرأت نہیں کی کہ ان میں سے کوئی اپنا منظوم کلام یا گھڑا ہوا کلام لا کر جھوٹ موٹ ہی دعویٰ کر دیتا کہ یہ اس قرآن جیسا ہے‘ قرآن کے ہم پلہ یا قرآن کے مثل ہے۔ ایک اعتبار سے میں ان کی تعریف اور تحسین کرتا ہوں کہ ان میں اس درجے ڈھٹائی نہیں تھی۔ یعنی انہیں بھی اندازہ تھا کہ ہمارے اپنے لوگ بھی اسے قرآن کے مثل تسلیم نہیں کریں گے۔ گویا معاشرے کے اندر عمومی طور پر اتنا شعور تھا کہ کسی کوجرأت نہیں ہوئی کہ وہ قرآن کے مقابلے میں اپنا کوئی کلام پیش کرنے کی جسارت کرسکے۔ بہرحال واقعہ یہی ہے کہ قرآن کریم کے اس چیلنج کو کسی نے قبول نہیں کیا۔ مذکورہ بالا چار مکی مقامات کے بعد یہاں سورۃ البقرہ میں بڑے اہتمام سے یہ دعویٰ اور چیلنج دہرایا گیا۔ آگے فرمایا:
آیت۲۴ {فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّـقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُج اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ(۲۴)} ’’پھر اگر تم ایسا نہ کر سکو‘ اور ہرگز نہ کرسکوگے!تو پھر بچو اُس آگ سے جس کا ایندھن ہوں گے انسان اور پتھر۔ تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔‘‘
کلام میں انتہائی زور ہے: ’’پھر اگر تم نہ کر پائو‘ اور ہرگز نہیں کر پائو گے!‘‘ یہ ہے اصل میں وہ اِدّعا اور چیلنج۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ کا کلام ہے‘اور یہ دعویٰ اور اِدّعا اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے‘ جو المتکبر ہے‘ المتعال ہے۔ ’’تم ہرگز نہیں کر پائو گے!‘‘ یہ بھی چیلنج کی انتہا ہے۔ یعنی اس کا ردّ کرنے کی بھی کسی کے اندر جرات نہیں ہوئی کہ جھوٹ موٹ ہی سامنے آجاتا کہ یہ لیں‘ ہم نے کر کے دکھایا ہے۔ چاہے بعد میں فیصلہ ہو ہی جاتا کہ تمہارا یہ کلام قرآن کے ہم پلہ نہیں ہے‘ برابر نہیں ہے‘ اس کی مثل یا نظیر نہیں بن سکتا‘ لیکن ایک دفعہ تو کوئی جھوٹ موٹ کا دعوے دار بن کر ہی سامنے آجاتا۔ لیکن قرآن کا دو ٹوک انداز یہ ہے: {فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا} ’’پھر اگر تم نہ کر پائو‘ اور ہرگز نہیں کر پائو گے!‘‘
جہنم کی شدّت و حدّت
{فَاتَّـقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ} ’’تو پھر تم ڈرو اُس آگ سے جس کاایندھن بنیں گے انسان اور پتھر۔‘‘ تم اس آگ کاایندھن بنو گے۔ نہ صرف تم بلکہ تمہارے معبود‘ یہ پتھر جنہیں تم پوجتے ہو‘ چومتے ہو‘ چاٹتے ہو‘ دھوتے ہو‘ نہلاتے ہو ‘ ان کادھوون پیتے ہو تبرک کے طور پر‘ ان سب کو بھی تمہاری حسرت میں اضافے کے لیے تمہارے ساتھ ہی جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ اس میں آگ کی شدّت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ ایک آگ لکڑی سے جلتی ہے‘ اور ایک آگ وہ ہے جس میں ایندھن کے طور پر پتھر ڈالے جائیں گے۔ اس کی جوبھی شدّت‘ تمازت اور حدّت ہوگی اس کا اندازہ کیجیے۔ جب قرآن مجید نازل ہو رہا تھا اُس وقت تک انسان کو لکڑی کی آگ کے سوا کسی اورآگ کا ابھی تجربہ نہیں تھا۔ آج تو آگ کی جو اقسام ہمارے علم میں ہیں انہی کی شدّت وحدّت کا ہم کوئی تصوّر نہیں کرسکتے۔اب جب بیان کیا جاتا ہے کہ سورج کے اندر جو آگ شعلہ زن ہے اس کی کیا شدّت و حدّت ہے اور اس میں جو ایٹمی دھماکے ہوتے ہیں ان کا درجہ حرارت کیا ہے‘ تو لاکھوں درجے کی بات ہوتی ہے۔ چنانچہ جہنم کی آگ کی کیا کیفیت ہوگی! اعاذنا اللّٰہ منھا(۴)
آخر میں فرمایا: {اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ(۲۴)} ’’جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔‘‘إعداد کہتے ہیں کسی چیز کوتیار کر دینا‘ فراہم کر دینا‘ کسی مقصد کے لیے پوری طرح آراستہ پیراستہ کر دینا۔ اس کے اندر اس کے سارے تقاضوں کو پورا کرنے کاسامان ودیعت کردیا جانا۔ چنانچہ وہ آگ تیار کردی گئی ہے کافروں کے لیے۔ جو بھی انکار کریں گے اور کفر کریں گے ان کاوہ استقبال کرے گی۔ اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ!
چند مباحث کا اعادہ
اس رکوع کی پہلی پانچ آیا ت میں قرآن کریم کی دعوت کا لب ِلباب بھی آگیا ہے اور اس کے اساسی نظریات کا خلاصہ بھی۔ دعوت تو ایک ہی آیت کے اندر مکمل آگئی :
{یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (۲۱)}
تمام انبیاء ورُسل علیہم السلام کی دعوت یہی عباد تِ ربّ ‘ بندگی ٔربّ رہی‘ اور یہی قرآن حکیم کی بنیادی دعوت ہے۔ قرآن اپنی دعوت کا آغاز اسی لفظ ’’عبادت‘‘ سے کررہا ہے۔یہی انسانوں اور جِنّات کی غایت ِتخلیق ہے۔ اس اعتبارسےدعوت تو پہلی آیت میں آگئی‘ لیکن اگر پہلی دو آیات کو جمع کریں تو ان میں اسلام کے اساسی نظریہ یعنی توحید کی تکمیل ہو گئی۔ توحید ِعملی: {اُعْبُدُوْا رَبَّکُمْ} اور توحید ِ صفاتی‘ توحید ِنظری یا توحید فی العقیدہ: {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۳۲)}
یہ بڑا حسین توازن پیدا ہوا ہے۔ سورۃ البقرہ کے دو رکوعوں میں کلام انشائیہ نہیں بلکہ کلام خبریہ آیا ہے‘ لیکن یہاں ان آیات میں کلام انشائیہ آیا ہے‘ اس توازن کے ساتھ کہ ایک امر ہے اور ایک نہی ہے۔ {اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ} امر ہے‘ جب کہ {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا} نہی ہے۔ کلام انشائیہ امر اور نہی دونوںپر ہی مشتمل ہوتاہے۔
اس کے بعد کی تین آیات میں تقسیم دیکھیےکہ ڈیڑھ آیت میں رسالت کا ذکر ہے اور ڈیڑھ آیت میں آخرت کا ۔ چنانچہ یہی ہمارے دین کے اساسی نظریا ت ہیں اور یہی ایمان ہے۔ ایمان کی اصل جڑ اور بنیاد تو ہے ایمان باللہ‘ توحید کے ساتھ ‘ دوآیات میں اس کا بیان ہوگیا۔ اس کےبعد ہے ایمان بالرسالت۔ حضور ﷺ کی رسالت کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن اللہ کاکلام ہے جو آپؐ پر نازل ہوا۔ مشرکین ِمکہ انکار محمد بن عبداللہ کا نہیں ‘ بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا کرتے تھے۔ گویا اصل انکار تو قرآن کا تھا۔ اس اعتبار سے نبوت ورسالت کا مضمون آگیا: {وَ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا .......}
پھرچوتھی آیت کے وسط سے ہی آخرت کا ذکر شروع ہوگیا ہے۔ آخر ت کا بیان یہاں فلسفیانہ انداز میں نہیں ہو رہا۔ جہنم اور جنت کا تذکرہ ہی معاد یعنی آخرت ہے۔ یہ اسلام کے اساسی نظریات میں سے تیسرا بنیادی نظریہ ہے۔ آخرت کی زندگی کی دو کیفیات ہیں: اِنَّھا لَجَنَّۃٌ ابدًا او لَنارٌ ابدًا ’’ہمیشہ ہمیش کی جنت یا ہمیشہ ہمیش کی جہنم۔‘‘ چنانچہ فرمایا: {فَاتَّـقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُج اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ(۲۴)} ’’تو بچواور ڈرو اُس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر۔ وہ تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔‘‘ پوری طرح آراستہ پیراستہ کی گئی ہے‘ تم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تمہیں کیفرکردارتک پہنچانے کا پورا اہتمام کرلیا گیا ہے۔ اس کے بعد پانچویں آیت میں اسی معاد کا دوسرا رُخ ہے:
آیت۲۵ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُط کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا لا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ لا وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًاط وَلَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ ق وَّھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ(۲۵) ’’اور بشارت دے دیجیے (اے نبیﷺ!) ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیےکہ اُن کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔ جب بھی انہیں دیا جائے گا وہاں کا کوئی پھل رزق کے طور پر (یعنی کھانے کے لیے) وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی ملتا تھااور دیے جائیں گے ان کو پھل ایک صورت کے۔ اور ان کے لیے اُس (جنّت) میں نہایت پاک باز بیویاں ہوں گی‘ اور وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘
’’عمل صالح‘‘ کا مفہوم
{وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} ’’اور (اے نبی ﷺ !) بشارت دیجیے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔‘‘ ’’عمل صالح‘‘ کے حوالے سے ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں اپنے تصور کے مطابق کوئی نہ کوئی ہیولا موجود ہے۔ اکثروبیشتر جب اس کا ذکر آتا ہے تو اسے ’’عبادات‘‘ تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ’’عمل‘‘ کا لفظ ’’ فعل‘‘ کے مقابلے میں آتا ہےاور’’ فعل‘‘ کا اطلاق ہر کام پر ہو جاتا ہے جو انسان بالارادہ کرے یا غیر ارادی طور پر اُس سے سرزد ہوجائے۔ پھر وہ کام خواہ آرام سے ہوجائے یا مشقت طلب ہو‘ وہ فعل ہے۔ البتہ جو کام مشقت طلب ہو اور پورے اہتمام‘ ارادے اور پوری توجہ کے ساتھ کیا جارہا ہو وہ ’’عمل‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’صالح‘‘ وہ کام ہے جس میں نشوونما کی صلاحیت ہے۔ درحقیقت انسان کو اللہ تعالیٰ نے خلافت ِ ارضی کے لیے پیدا کیا ہے‘ جو اگلے رکوع کا مضمون ہے۔ ’’خلافت‘‘ کے اس مرتبے کے تعین کے لیے انسان میں جو potential ودیعت کیا گیا ہے اس کو realize کرنے اور اس کو حاصل (achieve) کرنے کے لیے بھرپور محنت کرنی پڑتی ہے۔ بقول حالی ؎
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ!
یہ محنت و مشقت ہی دراصل عمل صالح ہے۔ جس انسان میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنے اصل منصب یعنی خلیفۃ اللہ ہونے کی تحصیل کرسکے‘اس کے لیے اسے چڑھائی چڑھنی پڑے گی۔ اس کے لیے محنت کرنا پڑے گی‘ مشقت کرنا ہوگی۔اس کے لیے اپنی خواہشات پر قدغنیں لگانا ہوں گی‘ اپنا آرام تج دینا ہوگا ۔اُس کے لیے اپنے بہت سے مفاد ات قربان کرنا ہوں گے‘ اپنی بہت سی محبوب چیزوں کی قربانی دینا ہوگی۔ ان سب کا مجموعہ عمل صالح ہے۔چنانچہ آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبی ﷺ! بشارت دے دیجیے اُن کو جو ایمان لائے اللہ کی توحید پر‘ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ‘قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر‘ بعث ِبعدالموت پر‘انہوں نے مانا جنت اور دوزخ کو‘ اور وہ اپنے ربّ کے مطیع فرمان بندے بننے کے لیے مسلسل محنت اور مشقت کرتے رہے {اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ} کہ اُن کے لیے ہوں گےوہ باغات جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔
لفظ ’’جنت‘‘ کا معنی ومفہوم
جنت کے لفظ کوپہچان لیجیے۔ ’’ج ن ن‘‘ کا مادّہ عربی زبان میں کسی چیز کے چھپ جانے یا چھپا دینے کے معنی میں آتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں آتا ہے: {فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا} (الانعام:۷۶) ’’توجب اُن پر را ت (کی تاریکی) کا پردہ چھا گیا تو انہوں نے دیکھا ایک ستارہ۔‘‘ اسی لیے جنین کہتے ہیں اُس بچے کو جو رحم مادر میں ہے۔ معلوم تو ہے کہ بچہ ہے لیکن نظر نہیں آرہا‘ چھپا ہوا ہے‘ مخفی ہے۔ ’’جِنّ ‘‘ وہ مخلوق ہے جو نظر نہیں آتی۔ ایک رائے ہے کہ انسان اَنَس سے بنا ہے جو نظر آتاہے‘ مرئی ہے‘ جبکہ جِنّات وہ ہیں جو نظر نہیں آتے‘ مخفی ہیں‘ غیر مرئی ہیں۔ باغ کو جنّت اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین کو اُس کے اوپر کا سبزہ ڈھانپ لیتا ہے۔ یہ بہت خوب صورت انداز ہے۔ ہوائی جہاز کے سفر میں ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں لق ودق صحرا ہے‘ زمین عریاں نظر آرہی ہے۔ جہاں کوئی نباتات ہے‘ جنگل ہے یا کہیں کھیت ہیں‘ ہریالی ہے تو زمین نظر نہیں آئے گی‘ وہ چھپ گئی ہے۔ قرآن کریم میں ہے: {حتّٰیٓ اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ} (یونس:۲۴) ’’یہاں تک کہ جب زمین اچھی طرح اپنا سنگھار کر لیتی ہے اور خوب مزین ہو جاتی ہے ۔‘‘ درحقیقت یہ ساری ہریالی اُس کا تزین ہے۔ اس نے اس کے ذریعے سے خود کو مزین کرلیا ہے‘ زینت اختیار کرلی ہے اور خود چھپ گئی ہے۔
{ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ} ’’ایسے باغات جن کے دامن میں ندیاں رواں ہوں گی۔‘‘ مَیں یہ ادبی ترجمہ کررہاہوں‘ لفظی ترجمہ ہوگا: ’’جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی۔‘‘ اس لیے کہ تحت کے معنی ’’نیچے‘ ‘ کے ہیں۔ تحت اور فوق ظرف کے لیے آتے ہیں۔ تحت کسی شے کے نیچے اور فوق کسی چیز کے اوپر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ تصور ذہن میں رکھیے کہ کہیں natural vegetation ہوتو وہاں ایسا ہی ہوتا ہے‘ خاص طورپر عرب میں جہاں قرآن کریم نازل ہورہاتھا‘ کہ اونچی نیچی زمین ہے ‘پہاڑی علاقہ ہے۔ نیچے وادی میں ندی رواں دواں ہے تواس سے خودبخود سیرابی ہورہی ہے۔ دونوں  طرف اونچی جگہ کے لیے گویاآب پاشی کا ایک فطری بندوبست ہے۔ درختوں کی جڑوں میں خودبخود پانی پہنچ رہاہے۔ چنانچہ اس کی صحیح تعبیر یہی ہوگی کہ دامن میں ندیاں بہتی ہیں۔ یہاں مجھے علامہ اقبال کی نظم ’’ایک آرزو‘‘ کے اشعار یاد آرہے ہیں ‘ اس میں بھی لفظ ِدامن ہے: ع ’’دامن میں کوہ کے اِک چھوٹا سا جھونپڑا ہو !‘‘ اسی میں ندی کا تذکرہ بھی موجود ہے کہ اُس کا ع ’’پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتاہو!‘‘
’’نَہَرَ یَنْھَرُ(ف) نَھْرًا‘‘ یہ فعل دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو پانی کے بہنے یا بہانے کے لیے‘ نہر جاری کرنا وغیرہ۔ اس معنی میں نہر‘ دریا ‘ ندی ‘نالہ سب ’’اَنہار‘‘ کے تحت آجائیں گے۔ یہی فعل (سائل کو) جھڑکنے اور ڈانٹنے کے لیے بھی آتا ہے:{وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ(۱۰)} (الضحیٰ) ’’اور آپ کسی سائل کو نہ جھڑکیں!‘‘
جنّت کی نعمتوں کی کیفیت
{ کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا} ۔ کُلَّمَا: جب جب بھی ‘ جب بھی کبھی۔ رُزِقُوْا: دیے جائیں گے۔ مِنْھَا: اس میں سے۔ مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا: پھلوں کی صورت میں رزق۔ ثمر اگر بغیر’’ ۃ‘‘ کے آئے تو یہ جنس ہے۔ شجر‘ پودا یا درختوں کی جنس۔ اس میں ’’ۃ‘‘ تائے تانیث نہیں بلکہ تائے وحدت ہے۔ شَجَرَۃ: ایک درخت‘ شَجَر: بہت سے درخت۔ اسی طرح ثَمَر: بہت سے پھل‘ میوے یا میوے کی جنس‘ اور ثَمَرَۃ : کوئی پھل‘ کوئی ایک میوہ۔ تو بامحاورہ ترجمہ یوں ہوگا: ’’جب جب بھی دیا جائے گا انہیں ان (باغات) میں سے کوئی پھل بطور رزق۔‘‘ رِزْقًا یا تو رُزِقُوْا کا مفعول مطلق ہے‘ یا یہ تمیز ہے‘ یا حال کے طور پر آیا ہے۔ {قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ} ’’وہ کہیں گے: یہ تو وہی شے ہے جو دی گئی تھی ہمیں پہلے۔‘‘ یہ تو ہمیں پہلے بھی دیا جاتا رہا ہے۔ {وَ اُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا} ’’اور دیے جائیں گے ان کو (پھلوں یا رزق کی شکل میں) وہ چیزیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گی۔‘‘ ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں گی ‘ایک دوسرے سے مماثل ہوں گی۔
یہ مقام مشکلاتِ قرآن میں سے ہے ‘اور اگلی آیت کے ساتھ بھی اس کا ایک ربط وتعلق ہے۔ یعنی جب بھی جنتیوں کو پھل عطا ہوں گےتو وہ پکار اُٹھیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی ملا تھا۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جنت میں اہل ِجنت کو جو پھل ملیں گے وہ شکل وصورت کے اعتبار سے دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ قرآن کریم میں بھی کئی پھلوں کا ذکر آیا ہے‘ مثلاً رُمان‘ نخل‘ اعناب۔ وہ سارے کے سارے پھل جو یہاں زمین پر ہیں وہاں جنت میں بھی ہوں گے ‘لیکن ذائقے کے اعتبار سے زمین آسمان کافرق ہوگا۔ جنت کی نعمتوں کی اصل حقیقت کے بارے میں ایک حدیث قدسی میں آیاہے :
((أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ )) [متفق علیہ]
’’میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا‘ اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا گمان تک گزرا۔‘‘
یعنی کسی انسان کے قلب پر اس کا احساس ‘شعور اور ادراک بھی وارد نہیں ہوا ۔ اس کے باوجود کچھ نہ کچھ مماثلت بھی ضروری ہے۔دوسرے یہ کہ جب تک اُن چیزوں سے تشبیہ اور تمثیل نہ دی جائے جنہیں ہم پہچانتے ہیں تو جنت کی نعمتوں کا تذکرہ آخر کیسے کیا جائے؟ وہ چیز جو ہمارے لیے ناقابلِ تصوّر (unimaginable) ہے‘ اس کے لیے تشبیہ اور تمثیل تو ان ہی چیزوں سے دینی ہوگی جو ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں۔ اس اعتبار سے شکل و صورت میں وہ اُن سے مشابہ ہوں گی جو انسان دنیا میں کھاتا رہا۔
اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جنت میں وہ پھل جب انہیں بار بار ملیں گے تو دیکھنے میں تو ایک سے ہوں گے لیکن ہر مرتبہ اُن کی لذت الگ ہوگی۔ اس لیے کہ یکسانیت (monotony) سے انسان کی طبیعت اُکتا جاتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی چیز مسلسل ایک ہی ذائقہ میں نہیں ملے گی۔ اگرچہ وہ رُمان رُمان ہی رہے گا لیکن ہر بار اس کا ذائقہ بدلتا رہے گا۔ اس میں نئی رعنائی‘ نئی کیفیت اور نئی لذت پیدا ہوتی رہے گی۔
اس کا ایک صوفیانہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ درحقیقت انسان اس دنیا میں جو بھی عمل کرتاہے اُس کا ایک روحانی ذائقہ ہے۔ آپ نے کوئی نیکی کی تو اس سے مسرت حاصل ہوتی ہے‘ انبساط ہوتا ہے‘ طبیعت میں خوشی ہوتی ہے۔ گویا ایک لذ ت حاصل ہوتی ہے۔ آخرت میں ملنے والی لذت اس لذت سے مشابہ ہوگی۔جب اہل جنت کو نیکیوں کی جزا میں نعمتیں ملیں گی تو اُس وقت یاد آئے گا کہ یہ وہ لذت ہے جس کا احساس ہمیں دنیا میںہوا تھا جب ہم نے فلاں نیکی اور خیر کا کام کیا تھا۔ اسی طریقے سے گناہ اور بُرے اعمال کی تلخی کو فطرت ِانسانی محسوس کرتی ہے‘ ان سے اِبا کرتی ہے اور انسان کا ضمیر ملامت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے عمل چاہے نیکی کا ہو یا بدی کا‘ اُس کا ایک ذائقہ ہے۔اہل جنت کو احساس ہوگا کہ یہ وہی لذت ہے جس کا تجربہ ہمیں دنیا میں ہوچکا ہے جب ہم نےاللہ کی توفیق سے نیکی اور خیر کے کام کیے تھے۔
مولانا اصلاحی صاحب کا مزاج اگرچہ متصوفانہ نہیں ہے‘ لیکن انہوں نے بھی یہاں ’’رزق‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’یہ لفظ عربی زبان میں بھی اور قرآن میں بھی رزقِ مادّی اور رزقِ روحانی دونوں ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ صرف کھانے پینے کی چیزوں ہی کو رزق نہیں سمجھنا چاہیے‘ بلکہ اصلی رزق وہ علم ومعرفت ہے جو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وحی کو قرآن نے رزق سے تعبیر فرمایا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ آدمی صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔‘‘
’’ازواجِ مطہرہ‘‘ کا مفہوم
{وَ لَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ} ’’اور ان کے لیے ہوں گی اُس میں نہایت پاک باز بیویاں۔ ‘‘ نہایت پاکیزہ‘ انتہائی پاک کی ہوئیں ۔ مُطَھَّرَۃٌ ’’تطہیر‘‘ سے اسم مفعول ہے۔ طَھَّرَ یُطَھِّرُ تَطھیرًا: بڑے اہتمام اوربڑی جدّوجُہد سے کسی شے کو پاک کردینا‘ صاف کر دینا بایںطور کہ اس میں کسی قسم کی کثافت‘ گندگی یا آلائش باقی نہ رہنے دینا۔ جیسا کہ سورۃ الاحزاب میں الفاظ آئے ہیں:
{اِنَّمَا یُرِیْدُ اللہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا(۳۳) }
’’اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبیؐ کے گھر والو! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک صاف کر دے۔‘‘
جو بات کسی درجے میں بھی تمہارے مقام و مرتبہ اور منصب سے مناسبت رکھنے والی نہیں ہے ‘ وہ تمہاری شخصیت اور سیر ت وکردار میں باقی نہ رہے۔ اسی لیے اُمہات المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو ’’ازواجِ مطہرات‘‘ کہا جاتا ہے۔
’’زوج‘‘ کا لفظ عربی زبان میں جوڑے کے لیے آتا ہے۔ شوہر کے لیے بیوی زوج ہے اور بیوی کے لیے شوہر زوج ہے۔ تائے تانیث کے ساتھ ’’زوجہ‘‘ کا لفظ قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا‘ بلکہ عربی زبان میں بھی صرف نجد کے علاقے کی ایک بولی (colloquial language) میں ’’زوجہ‘‘ اور اس کی جمع ’’زوجات‘‘ آتی ہے‘ باقی پورے عرب میں کہیں بھی تائے تانیث کے ساتھ ’’زوجہ‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ جوڑے کے دونوں افراد میں سےہر ایک فرد (spouse)کو ’’زوج‘‘ کہاجائے گا اور دونوں کو ’’زوجین۔‘‘ واضح رہے کہ ’’زوجین‘‘ سے مراد دو جوڑے نہیں ہوتے‘ بلکہ ایک جوڑے کے دو فرد یعنی بیوی اور شوہر‘ مرد اورعورت۔ قرآن کریم میں ’’زوجین‘‘ کا لفظ آٹھ مرتبہ آیا ہے۔ لفظ ’’زوج‘‘ تین مرتبہ شوہروں یا خاوندوں کے لیے بھی آیا ہے جب کہ پچاس سےزائد مرتبہ خواتین (بیویوں) ہی کے لیے آیا ہے۔ یہاں پر چونکہ مذکر کی ضمیر (لَھُمْ) ویسے ہی قرینہ ہے لہٰذا یہاں ’’ازواج‘‘ کا ترجمہ ’’بیویاں‘‘ ہی کرنا ہوگا‘ اگرچہ اس بات کا احتمال موجود ہے کہ مذکرکا صیغہ قرآن مجید میں برسبیل تغلیب آجاتا ہے۔یعنی اگر کوئی مجمع ہو جس میں عورتیں بھی ہوں اور مرد بھی ہوں‘ انہیں خطاب کرنا ہو تو صیغہ خطاب مذکر کا ہوگا اور وہ گویا دونوں پرمحیط ہوجائے گا۔ اس لیے کہ اس میں غالب عنصر مرد ہے ‘تو جب مرد کو خطاب کرلیا تو عورت اس میں ازخود داخل ہوگئی۔ البتہ اصلاً ’’زوج‘‘ کا لفظ چونکہ دوطرفہ ہے اور مَردوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مطہر ازواج رکھی ہیں تو اللہ تعالیٰ نیک بیویوں کے لیے یقیناً نیک شوہرعطافرمائےگا۔
{ وَّ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ} ’’اور اُس (جنت) میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘ اُس زندگی کے لیے کوئی انقطاع نہیں ہے‘ کوئی خاتمہ نہیں ہے ۔اللھم رَبَّنا اجعلنا منھم!
(جاری ہے)
حواشی
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ تعالٰی:{فَــلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ}۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب کون الشرک اقبح الذنوب… الخ۔
(۲) ان الفاظ میں یہ حدیث علامہ محمد بن عبدالوہاب نے ’’کتاب التوحید‘‘ میں نسائی کے حوالے سے درج کی ہے۔مسند احمد میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں : ((اَجَعَلْتَنِیْ وَاللّٰہَ عَدْلًا؟))’’کیاتم نے مجھے اور اللہ کو برابر کر دیا؟‘‘ (مرتب)
(۳)حدیث کا مکمل متن اور ترجمہ :
عن مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا بَكْرٍ، لَلشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ))، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَلِ الشِّرْكُ إِلا مَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلشِّرْكُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ، أَلا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا قُلْتَهُ ذَهَبَ عَنْكَ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ؟)) قَالَ: ((قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لا أَعْلَمُ.)) [الادب المفرد: ۷۱۶]
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا: ’’اے ابو بکر! یقیناً شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی پوشیدہ ہو کر آتا ہے۔‘‘ سیدنا ابو بکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے علاوہ بھی شرک ہوتا ہے؟ نبیﷺ نے فرمایا: ’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ پوشیدہ طریقے سے داخل ہو جاتا ہے۔ کیا میں تمہاری راہنمائی ایسے کلمات کی طرف نہ کروں کہ جب تم وہ کہہ لو تو چھوٹا بڑا تمام شرک تم سے ختم ہو جائے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم کہو: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے تیرے ساتھ شرک کروں ‘اور جو میں نہیں جانتا اس کے بارے میں استغفار کرتا ہوں۔‘‘
(۴) آتش فشاں سے نکلنے والے lava کا درجہ حرارت 700 سے 1200 ڈگری سنٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔ سورج کی سطح (surface) کا درجہ حرارت 5,500 سے 5,800 ڈگری سنٹی گریڈہے‘ جب کہ سورج کے مرکز (core) کا درجہ حرارت انتہائی زیادہ‘ تقریباً 1.5کروڑ سینٹی گریڈ ہے‘ جہاں شدید ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے روشنی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔ صحیح حدیث کے مطابق سورج اور چاند جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ ثوران مُکَوَّران فی النَّارِ یَوْمَ الْقِیامۃ))[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۴۰۰۸]
’’قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں کو لپیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ ‘‘
(حاشیہ از مرتّب)