حقیقت ِعمل صالحڈاکٹر اسرار احمدؒ
خطبہ مسنونہ کے بعد سورۃ الحجرات (آیت ۱۴)‘ سورۃ الحج (آیات ۷۷ و۷۸) اور سورۃ المومنون کی ابتدائی گیارہ آیات کی تلاوت کی گئی۔ ادعیہ ماثورہ کے بعد خطاب کا آغاز فرمایا۔
تمہیدی گفتگو
میں نے جو تحریک ِقرآنی شروع کی ہے‘ اس کا آغاز ۱۹۶۵ ءمیں لاہور سے ہوا ۔ اب تک مَیں اپنی زندگی کے ۲۰ برس اس میں کھپا چکا ہوں۔اس تحریک کے لیے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب کو ابتدائی ذریعہ بنایا گیاہے۔ اگرچہ مصحف میں سورۃ الفاتحہ سے سورۃ الناس تک جو ترتیب ہے وہی اصل اور مکمل قرآن ہے لیکن اس پورے قرآن کو تسلسل‘ غوروفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھنے کے لیے ایک بڑی مضبوط قوتِ ارادی اور عزم کی ضرورت ہے ۔اس کے لیے میں نے یہ مفید پایا کہ اگر قرآن مجید کے منتخب مقامات کا تعارف کروادیا جائے تو اس طرح قرآن مجید کے اہم مضامین سے ذہنی مناسبت پیدا ہوتی ہے اور مطالعہ کا شوق بڑھتا ہے۔پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو انسان میں ایساارادہ پیدا ہوجاتا ہےکہ وہ پورے قرآن حکیم پر بھی غوروفکر کرلے ۔
مطالعہ قرآن حکیم کے اس منتخب نصاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اولاً تو دین کی جامعیت سامنے آجائے ‘یعنی دین اسلام معروف معنی میں مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ آج زیادہ تر یہی کہا جاتا ہے کہ ہمارا مذہب اسلام ہے‘حالانکہ لفظ ’’مذہب‘‘ پورے قرآن حکیم میں کہیں نہیں آیا ۔ حدیث کا پورا ذخیرہ تو بہت وسیع و عریض ہے‘ اس کے مطالعہ کا تومیں دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن جتنی بھی احادیث میری نظر سے گزری ہیں‘ لفظ ’’مذہب‘‘کسی حدیث میں نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف ’’مذہب‘‘ کا لفظ محدود معنی میں استعمال کرتے تھے۔ مذہب ِحنفی‘ مذہب ِشافعی‘ مذہب ِمالکی‘ مذہب ِحنبلی‘ مذہب ِاہل حدیث؛یہ سب مذاہب ہیں جب کہ اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ {اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ قف} (آل عمران:۱۹)
دین دراصل مکمل نظامِ اطاعت کو کہتے ہیں جو پوری زندگی پر حاوی و مسلط ہو۔ یہ پوری انسانی زندگی کو اپنے حیطہ اقتدار میں لینے والی شے ہے‘ جس کے لیے جدید اصطلاح ’’نظام‘‘ کی ہے۔ ’’نظام‘‘ کا لفظ بھی قرآن حکیم میں نہیں آیا لیکن اگر دین کے مفہوم کو کسی جدید لفظ میں ادا کیا جائے تو وہ یہی ہے۔ دین اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نظامِ زندگی ہےجس میں انفرادی و اجتماعی پہلو‘ سیاسیات ‘ اقتصادیات‘ عائلی معاملات‘ سماجیات ‘قانون اور ا س کے جملہ گوشے فوجداری‘ دیوانی‘ شہادت‘ وراثت ہر شے موجود ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو دین کے اندر موجود نہ ہو۔چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس دین کا حصہ ہے۔ یہود کے اعتراض پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوفرمایا کہ تم ان کو جواب دو کہ ہاں‘ ہمارے نبیﷺ نے توہمیں استنجا کرنا بھی سکھایا ہے‘ ہمیں تو اس پر فخر ہے۔ انسان کے لیے طہارت و پاکیزگی ایک نہایت ضروری عمل ہے تو ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں اس کی تعلیم بھی دی ہے۔ گویا دین چھوٹی چھوٹی باتوں سے نظامِ حکومت کے چوٹی کے معاملات تک پر مشتمل ہے۔ لہٰذا سب سے اہم بات اچھی طرح ذہن نشین کرنا یہ ضروری ہے کہ اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ہے۔ چھ امور مل کر دین بناتے ہیں۔ ان میں سے پہلی تین چیزیں جمع ہو کر مذہب بنتا ہےیعنی عقائد‘ عبادات اور کچھ معاشرتی رسومات (پیدائش‘ شادی ‘ موت وغیرہ سے متعلق)۔ دنیا میں مذہب کا تصور یہیں تک ہے۔اس سے آگے کی تین چیزیں معاشرتی نظام‘ اقتصادی نظام‘ سیاسی نظام ہیں جو اجتماعیت سے متعلق ہیں۔ان چھ چیزوں کو جمع کریں تو دین بنے گا۔ چنانچہ دین اسلام میں عقائد‘ عبادات‘ رسومات‘ سیاسی نظام‘ معاشی نظام‘سماجی نظام سب شامل ہیں۔
دوسری اہم بات یہ کہ اس منتخب نصاب میں زیادہ تر پیشِ نظر یہ واضح کرنا ہے کہ ہمارے دینی فرائض کیا ہیں! دین ہم سے کیا چاہتا ہے؟ از روئے قرآن ‘انسان کی نجات کی شرائط کیا ہیں؟ فرائض کے حوالے سے انسان کا شعور اگر محدود ہو جائے تو اس کا عمل بھی محدود ہو جاتا ہے۔ سادہ سی مثال ہے کہ کسی شخص کو ایسی ملازمت پر رکھا گیا جہاں اسے گِن کر دس کام روزانہ کرنے کو دیے گئے۔ اب اگر کسی حادثہ کی وجہ سے اس کو سات کام بھول گئے اور تین ہی یاد رہے تو چاہے وہ کتنا ہی مخلص و محنتی آدمی ہو لیکن بھول جانے کی وجہ سے اس کا سارا اخلاص و محنت ان ہی تین کاموں تک محدود رہے گا۔ نتیجتاً وہ تین کام تو بڑی جان مار کر کرے گا لیکن باقی سات کام میں وہ زیرو ہو جائے گا ‘کیونکہ وہ تو اس کے سامنے ہی نہیں رہے۔ اس طرح وہ اپنے مالک کے نزدیک توناکام ہی ٹھہرے گا۔ چاہے اس کا خلوص اور محنت صد فیصد ہو لیکن پھر بھی کامیاب نہ ہوا ‘کیونکہ اس کو اپنے سات فرائض تو یاد ہی نہیں رہے۔ اب خدانخواستہ کہیں ایسا معاملہ ہمارے ساتھ ہو کہ ہمیں دین کے بہت سے فرائض یاد ہی نہ ہوں تو جو تھوڑے سے معلوم ہیں ‘ ان پرہی اپنا زور لگا رہے ہوں گے‘ چاہے کتنے ہی خلوص سے کر رہے ہوں ۔ ایسے میں یہ اندیشہ ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناکام نہ قرار پائیں۔لہٰذا اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ یہ واضح ہو جائے کہ دین ہم سے کیا چاہتا ہے! دین کے فرائض کا جامع تصور کیا ہے؟ اسی کے لیے منتخب نصاب مرتب کیا گیا ہے جس کا نقطہ آغاز ’’راہِ نجات‘‘ کے عنوان سے سورۃ العصر ہے۔
ایمان اور عملِ صالح کا ربط و تعلق
پچھلی نشستوں سے قرآن حکیم کے اہم موضوعات کا بیان ایک معنوی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اس سے پہلے ایمان کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی گئی تھی۔اس ضمن میں آج ایمان اور عملِ صالح کا ربط وتعلق اور عمل صالح کی حقیقت کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایمان کے دو درجے ہیں:
(۱)قانونی ایمان یعنی اسلام:اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں کسی کو مسلمان سمجھا جائے اوراس کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کیا جائے۔
(۲) حقیقی ایمان کا حاصل یہ ہے کہ آخرت میں اسے مومن سمجھا جائے اور اس کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے صاحب ِایمان کے لیے بیان فرمایا ہے۔
اس حوالہ سے سورۃ الحجرات کی آیت ۱۴ بہت اہم ہے ‘جس کی ابتدا میں تلاوت کی گئی۔ فرمایا گیا:
{قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)}
’’بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ (اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے: تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہولیکن یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے‘ اور ابھی تک ایما ن تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اوراگر تم (اس حال میں بھی) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ (اللہ تعالیٰ) تمہارے کسی عمل میں کوئی کمی نہ کرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
اس آیت میں الاعراب کا ’’ال‘ ‘لامِ حصر نہیں بلکہ کچھ خاص لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کے اسلام کوتو تسلیم کیا جا رہا ہے لیکن اُن کے ایمان کی نفی کی گئی ہے (گویا واضح ہو ا کہ ایمان اور اسلام الگ شےہیں )۔ ایک گروہ کے ایمان کی کلی نفی کی جا رہی ہے لیکن ان کے اسلام کو قبول کیا جا رہا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا علم کامل ہے ‘وہ ہر ایک کے بارے میں جانتا ہے کہ کس کا ایمان صرف اقرار باللسان ( tip of the tongue) کے درجہ پر ہے یا دل میں داخل ہو گیا ہے۔ زبان سے تو کہہ رہے ہیں :
اَشۡھَدُ اَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشۡھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبۡدُہُ وَ رَسُوۡلُہُ۔ آمَنۡتُ بِاللّٰہِ وَ مَلائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ الۡقَدۡرِ خَیۡرِہِ وَ شَرِّہِ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَ الۡبَعۡثِ بَعۡدَ الۡمَوۡتِ۔ آمَنۡتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسۡمَائِہِ وَ صِفَاتِہِ وَ قَبِلۡتُ جَمِیۡعَ اَحۡکَامِہِ اِقۡرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصۡدِیۡقٌ بِالۡقَلۡبِ
لیکن اگر ایمان دل میں داخل نہ ہوا ہو تواللہ تعالیٰ کی نظر میں مومن نہیں سمجھا جائے گا۔ ایمان کا دعویٰ درحقیقت اُسی وقت تسلیم ہوگا جب وہ دل میں راسخ اور جاں گزیں ہوجائے۔ یہاں پر اِس بات کو منفی اسلوب میں کہا گیا ہے ‘جبکہ اسی بات کو مثبت انداز میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حوالہ سے یوں کہا گیا کہ:
{ وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ} (الحجرات:۷)
’’لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لیےمحبوب کر دیا اور اِسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا۔‘‘
یعنی ان کا ایمان محض زبانی اقرار نہیں تھا بلکہ دل میں جاں گزین ہو چکا تھا۔اس سے پہلے جن لوگوں کے بارے میں ذکر کیا جا رہا تھا‘ اُن کی زبان پر تو ایمان تھا لیکن ان کے دل میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اُن سے یہ کہا گیا کہ تم اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہو مگر مؤمن نہیں۔
ہمارے اسلاف میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد جو چوٹی کی شخصیات سامنے آئیں ‘ ان کی دو بنیادی قسمیں محدثین کرام اورفقہاء کرام کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں جمع فرمایا اور حضورﷺ سے سینکڑوں صحابہ کرامؓ نے سن کر حفظ کر لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَور میں قرآن مجید کتابی شکل میں جمع کر دیا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں قرآن مجید کےلیے ایک ہی طرزِکتابت رائج کر دیا گیا اور اس طرح دورِ خلافت ِراشدہ میں قرآن مجید کی حفاظت کا عمل آخری درجہ پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد اصل مرحلہ حضورﷺ کے اقوالِ مبارک کو جمع کرنے کا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رفتہ رفتہ مدینہ سے منتشر ہو گئے تھے۔ کچھ دمشق میں‘ کچھ کوفہ‘ کچھ قسطنطنیہ کی طرف چلے گئے۔ اِ ن سب کے پاس احادیث نبویﷺ موجود تھیں۔ ان احادیث ِمبارکہ کے جمع کرنے‘ ان کی چھان پھٹک کرنے‘ ان کو مرتب کرنے کے لیے محدثین کرام نے اپنی پوری زندگی لگائی۔ یہ لوگ اس اُمت کے بہت بڑے محسن ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک صحابی ؓکے پاس کوئی حدیث دو راویوں کے ذریعہ پہنچی جبکہ اس حدیث کے دراصل تین راوی تھے ۔ان کو معلوم ہوا کہ اس کے تیسرے راوی دمشق میں ہیں ۔چنانچہ وہ مدینہ سے سفر کر کے اُن صحابی سے ملنے دمشق گئے اوراُن سے پوچھا کہ کیا آپؓ حضورﷺ کی اس حدیث کو روایت کرتے ہیں! انہوں نے کہا‘ جی ہاں اور وہ حدیث سنا دی ۔ ان صاحب نے حدیث سنی اور ا پنی سواری سے اُترے بھی نہیں‘واپس مدینہ کی طرف چل دیے ۔جب اُ ن سے کہا گیا کہ آرام کے لیے یہاں کچھ قیام کر لیں تو کہنے لگے کہ نہیں‘مَیں اپنے اس سفر میں کوئی اورمقصد جمع کرنا نہیں چاہتا‘میں صرف اِس حدیث ِرسولؐ کو سننے کےلیے ہی آیا تھا۔ بہرحال یہ ایک ہلکی سی جھلک تھی کہ محدثین کرام نے احادیث ِرسولﷺ جمع کرنے کے لیے کس قدر مشقتیں جھیلیں ہیں‘ جب کہ جدید دور میں انکارِ حدیث کا فتنہ اُٹھا دیا گیاہے ۔ ان محدثین کرام میں امام مسلم‘ امام مالک‘ امام ترمذی‘ امام احمد بن حنبل‘ امام ابن ماجہ‘ امام ابو داؤد رحمہم اللہ وغیرہ کے نام شامل ہیں لیکن چوٹی پررئیس المحدثین امام بخاری ؒکو مانا جاتا ہے۔
اسلاف میں دوسرا اہم طبقہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کا ہے‘ جن کا کردار اس وقت سامنے آیا جب قرآن مجیدکتابی شکل میں جمع ہو گیا اور پھر تدوین حدیث بھی ہو گئی۔ اب زندگی میں پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے قرآن و احادیث سے احکامات نکالنا اور جہاں پر کوئی براہِ راست حکم نہ مل رہا ہو تو اس کے لیے استدلال کرنا‘اگر ایک ہی موضوع پر مختلف احادیث مل رہی ہوں تو اس کی تطبیق کرنا‘ قرآن حکیم کے ساتھ حدیث مبارک کا ربط تلاش کرنا ‘یہ سارے کام فقہاء کرام ؒنے انجام دیے ۔اِ ن میں امام شافعی ‘ امام مالک ‘ امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں لیکن چوٹی پر سیدالفقہاء امام اعظم ابو حنیفہؒ کا نام آتا ہے۔ پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ دینی احکامات کے قانونی پہلو کا فہم( legal sense ) امام ابوحنیفہؒ کوسب سے بڑھ کر تھا۔ انبیاء و رُسل علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے استثناء کے بعد باقی نوعِ انسانی میں سے دنیا کا کوئی بھی شخص اس حوالے سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
ایک شے کا قانونی تقاضا کچھ اور ہوتا ہے اور اخلاقی تقاضا کچھ اور۔ یہ دونوں متضاد ہیں۔ اگر کوئی ہمیں تھپڑ مار دے تو اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ معاف کر دیا جائے لیکن قانونی تقاضا یہ ہے کہ اُسے بھی ویسا ہی تھپڑ مارا جائے ورنہ اس کی ہمت افزائی ہو گی ۔ قانون کا تقاضا تو یہ ہے کہ{وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ}(المائدۃ:۴۵) دانت کے بدلے دانت‘ کان کے بدلے کان‘ جبکہ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ { وَاِنْ تَـعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)}(التغابن) ’’اور اگر تم معاف کردواور درگزر کر و اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بھی غفورو رحیم ہے۔‘‘پس کسی معاملہ کے اخلاقی پہلو پر نظر رکھنا ایک الگ مزاج ہے جبکہ اس کے قانونی پہلو کی گہرائی میں اُترنا اور بات ہے۔بہر حال اس اعتبار سے امام ابوحنیفہؒ کا کوئی ثانی نہیں ۔
قانونی اور حقیقی ایمان کا فرق
یہ ساری تمہید بیان کرنےکی وجہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ایمان جیسی بنیادی بات کے بارے میں رئیس المحدثین امام بخاریؒ اور سید الفقہاء امام ابوحنیفہؒ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الایمان قول و لا یزید و لا ینقص۔ ایمان قول کا نام ہے( جس کا عمل سے کوئی تعلق نہیں) اور یہ نہ بڑھتا ہے اور نہ ہی گھٹتا ہے۔ اس کے برعکس‘ امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے: الایمان قول و عمل یزید و ینقص۔ ایمان قول اور عمل کے مجموعہ کا نام ہے ‘یہ بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔ اِن دونوں باتوں میں بظاہربُعد المشرقین ہے لیکن درحقیقت یہ دونوں باتیں صد فیصد درست ہیں۔ درحقیقت امام ابو حنیفہ ؒقانونی ایمان سے متعلق بات کہہ رہے ہیں جبکہ امام بخاریؒ حقیقی ایمان کے حوالہ سے اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔قانونی ایمان کے اعتبار سے یہ بات صد فیصد درست ہے کہ یہ صرف قول ہے اور اس کے ضمن میں عمل زیرِ بحث نہیں آتا۔ نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی نہ کرنے والا کافر نہیں ہو جاتا ‘البتہ اگران کا انکار ہی کردے تو پھر کا فر کہلا ئے گا۔ قانونی ایمان جس پر کفر اور اسلام کا دارومدار ہے‘ ا س کی بنیادمحض قول پر‘ ماننے پر یعنی اقرار باللسان پر ہے ۔امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا ۔پس تکفیر اور شے ہے جبکہ فسق و فجور الگ شے ہے ‘ جن کے درمیان حد ِفاصل انسان کا اقرار باللسان ہے۔البتہ حقیقی ایمان کے حوالہ سے زمین آسمان کا فرق ہو جائے گا۔اگر ایمان دِ ل میں اُتر جائے تو لازماً عمل پر بھی اثر انداز ہوگا۔ دل میں جیسا یقین ہوتا ہے ‘عمل اُسی کے مطابق ہوگا۔ ہمارا یقین ہے کہ آگ جلاتی ہے تو کوئی شخص بھی جان بوجھ کر اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا ۔دنیا کے معاملات میں یقین تو کیا ‘ اگر ہمیں گمان بھی ہو تو اس کا نتیجہ ہمارے عمل میں نظر آتا ہے۔ مثلاً ہمیں معلوم ہے کہ تمام سانپ زہریلے نہیں ہوتے لیکن کوئی بھی سانپ ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے کہا: ؎
یقیں پیدا کر اے ناداں ‘یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفورییقین واقعتاًبہت اہم چیز ہے۔ یہ اگر پیدا ہو جائے تو انسان توکّل‘ راضی برضائے رب‘ زوالِ خوف و حُزن کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرا رب ہی میرا محافظ ہے۔ اگر اُس نے ہی میرے لیے کچھ لکھ دیا ہو تو پھر بچانے والا کوئی نہیں۔ ہم اُس کی طرف سے مقرر کردہ کسی چیز سے بھاگ ہی نہیں سکتے۔ بھاگیں بھی کیوں؟ وہ اللہ تو ہمارا اصل محبوب ہے ۔اُس کی رضا جس چیز میں ہے‘اس کے لیے تو ہم حاضر ہیں‘ کیونکہ اس کی طرف سے آنے والے ہر فیصلہ میں خیر ہی خیر ہے۔ سو کسی غم یا خوف کا کوئی مقام ہوہی نہیں سکتا ۔
{اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲)} (یونس)
’’آگاہ ہو جائو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘
دراصل اگر دل میں یقین ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے حضور حاضری دینی ہے تو انسان گناہ کا ارتکاب کر ہی نہیں سکتا۔غفلت کے پردوں کی وجہ ہی سے یقین زائل ہوتا جاتا ہے اور پھر انسان سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کسی چوراہے پر ٹریفک سارجنٹ کھڑا ہو تو ہم گاڑی کو بالکل صحیح جگہ پرروکیں گے‘ ورنہ عموماًدائیں بائیں دیکھ کر گاڑی نکال لیتے ہیں۔پس اگر یہ یقین ہو کہ اللہ دیکھ رہا ہے تو اس کا قانون ہرگز توڑا نہیں جا سکتا۔یقین والے ایمان کے ساتھ معصیت ممکن ہی نہیں۔قانونی ایمان کے ساتھ معصیت کے ڈھیر بھی ہو سکتے ہیں لیکن حقیقی ایمان اورمعصیت اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ہماری اُمّت کی اکثریت کا حال یہی ہے کہ قانونی ایمان کے باوجود معصیت کے انبار ہیں۔ اسی لیے وہ الفاظ آتے ہیں کہ:
{یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) }(الصف)
’’اے ایمان والو! تم وہ کہتے کیوں ہو جو تم کرتے نہیں؟ اللہ کے نزدیک سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔‘‘
حقیقی ایمان کے ساتھ معصیت کا وجود نہیں ہو سکتا۔ اس حوالہ سےکچھ احادیث ِمبارکہ پر غور کرتے ہیں:
• متفق علیہ حدیث ہے ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک مرتبہ تین بار قسم کھا کر فرمایا:
((وَاللّٰهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللّٰهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللّٰهِ لَا يُؤْمِنُ)) قِيْلَ: وَمَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: ((الَّذِيْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ))
’’اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ‘ اللہ کی قسم!وہ شخص مومن نہیں ‘ اللہ کی قسم!وہ شخص مومن نہیں!‘‘عرض کیا گیا: کون اے اللہ کے رسول؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جس کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں۔‘‘
ہم تو اس کو شاید کبیرہ کیا ‘صغیرہ گناہ بھی نہ سمجھتے ہوں‘ زیادہ سے زیادہ بد اخلاقی شمار کریں لیکن رسول اللہﷺ تین بار قسم کھا کر ایسے شخص کے ایمان کی نفی فر مارہے ہیں۔ پس ایمان اور عمل صالح کا علیحدہ ہونا ممکن ہی نہیں۔
• حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تقریباً دس برس حضورﷺ کے ساتھ خادمِ خاص کے طور پررہے‘روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے شاید ہی کوئی خطبہ دیا ہو جس میں یہ الفاظ نہ فرمائے ہوں :
((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ))(مشکاۃ المصابیح:۳۵)
’’جس شخص میں امانت داری نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں ‘اور جس میں ایفائے عہد نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘
• ایک اور متفق علیہ حدیث ہے ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:
((لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ))
’’کوئی شخص حالت ِایمان میں زنا نہیں کرتا‘ کوئی شخص حالت ِایمان میں چوری نہیں کرتا‘کوئی شخص حالت ِایمان میں شراب نہیں پیتا۔‘‘
گویا ایمان اور اخلاق لازم و ملزوم ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ایمان انسان کے کردار پر اثر انداز نہ ہواور عمل میں تبدیلی پیدا نہ کرے۔ یہاں پر مغالطہ پیدا ہوجاتا ہے کہ شاید یہ قانونی ایمان کی بات ہو رہی ہے ‘جبکہ درحقیقت یہ حقیقی ایمان(قلبی یقین) کا ذکر ہے۔اگر قانونی ایمان کی بات ہو تو ایسے گناہوں کا مرتکب کافر قرار پائے گا‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ قانونی ایمان کا دارومدارمحض قول پر ہے۔گناہ اسی وقت سرزدہوتا ہے جب حقیقی ایمان دِل سے نکل جائے ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کا ایمان دل سے نکل کر اُس کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے‘ اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو ایمان واپس آجاتا ہے ورنہ رخصت ہوجاتا ہے۔
دو انتہائیں
اس معاملہ میں دو انتہاؤں سے اپنے آپ کو بچانا بہت ضروری ہے۔ایک انتہا پر خوارج تھے جنہوں نے ایسی احادیث کی بنیاد پریہ فیصلہ کر دیا کہ جس کے پاس ایمان نہیں‘ وہ کافر ہے ۔پھر وہ ایسے کافر کو مرتد ٹھہراتے اور واجب القتل قرار دے دیتے۔یہ بہت بڑی غلطی‘بہت بڑی گمراہی تھی۔ دوسری طرف یہ انتہا ہے کہ جنت و دوزخ اور آخرت کے فیصلے قانونی اسلام ہی کی بنیاد پر کر دیے جاتے ہیں‘ حالانکہ قانونی اسلام دنیا کے فیصلوں کےلیے مفید ہے جبکہ آخرت میں تو قلبی یقین والا ایمان ہی مفید ہوگا۔ہم اہلِ سُنّت عوام کی اکثریت کے ذہن میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں تو صاحبِ ایمان بھی ہیں‘ اور اسی بنیاد پر جنت ہم پر واجب جبکہ دوزخ ہم پر حرام ہے۔جب دل میں یہ سوچ ہوگی تو اس کے بعد کوئی کیوں گناہ گاری ‘ حرام خوری‘ بد دیانتی سے بچے گا؟ذہن میں تو جنت کا سرٹیفکیٹ حاصل کر ہی لیا ہے۔یہ اصل میں مُرجئہ کا عقیدہ تھا۔ سو اِن دونوں غلطیوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔
اسی طرح اہل ِتشیع نے غلطی کی کہ ایمان اور اسلام کے فیصلے دنیا میں کرنے لگے جس کا اختیار کسی کو نہیں۔ دُنیامیں قانونی سطح پر صرف مسلم اور کافر کی تقسیم ہی ممکن ہے‘کوئی تیسری قسم نہیں بنائی جا سکتی ۔دنیا میں کوئی شخص یا تو مسلمان کہلائے گا یا کا فر ۔ اب یہ مسلمان یا تو مؤمن ہو سکتا ہے یا منافق‘ لیکن دنیا میں کسی کو بھی منافق نہیں کہا جا سکتا ‘وہ تو آخرت میں ہی ثابت ہو سکے گا ۔حضورﷺ نے بھی کسی شخص کے بارے میں یہ اعلان نہیں فرمایا کہ وہ منافق ہے۔یہاں تک کہ عبداللہ بن اُبی جیسے شخص کی بھی نماز جنازہ پڑھائی‘ گویا آخری وقت تک اس کو مسلمان تسلیم کیا ۔ایک مسلمان کے قانونی حقوق کے لحاظ سے منافق بھی مسلمان ہی ٹھہرایا جائے گا ۔اس بات کی وضاحت ایک گراف سے کی جا سکتی ہے۔ ایک خط مستقیم کے درمیان میں زیرو ہے‘دائیں طرف مثبت اعداد اور بائیں جانب منفی اعداد لکھے ہیں۔ مثبت اعداد ایمان کے درجات کو ظاہر کر رہے ہیں‘ جن کی انتہائی شکل (infinity) کوحضرت ابو بکر ;صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان کا درجہ سمجھا جا ئے گا۔ اسی طرح منفی اعداد نفاق کے درجات کو ظاہر کر رہے ہیں ‘جس کا انتہائی درجہ عبداللہ بن اُبی کا ہوگا۔ درمیان میں جو زیرو ہے‘ وہ دراصل تیسری شکل ہے‘ یعنی ایک مسلمان شخص جو مومن اور منافق کے درمیان کی کیفیت میں ہو۔ اگر ظاہر میں اسلام ‘ باطن میں ایمان ہوتو یہ مطلوب کیفیت ہے۔اگر ظاہر میں اسلام‘ باطن میں نفاق ہو تو یہ منافق کی کیفیت ہے۔ اگر ظاہر میں اسلام ‘ باطن میں نہ ایمان اور نہ نفاق ہو تو یہ شخص محض مسلم ہے جو کہ ہم میں سے اکثر و بیشتر کی کیفیت ہے‘ اِلا ماشاء اللہ۔ یعنی ایسی کیفیت کہ بباطن نفاق تونہ ہو لیکن حقیقی ایمان بھی نہ ہو ۔اگر حقیقی ایمان موجود ہوگا تو عمل میں ضرور نکھار آئے گا۔ پس ہم میں سے اکثر کا ایمان بھی مومن اور منافق کے درمیان جیساہی ہے۔ منافقانہ طرزِ عمل تو نہیں لیکن ایمانی کیفیات بھی پوری طرح نظر نہیں آتی ہیں۔
زیر ِمطالعہ آیت جس سے گفتگو کا آغاز کیا گیا تھا ‘اس کے مخاطب بھی ایسے ہی لوگ ہیں۔ اس آیت میں کچھ لوگوں کے ایمان کی نفی کی جا رہی ہے{قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا} یعنی مثبت طور پر ایمان موجود ہونے کی نفی کی جارہی ہے ۔{وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا }’’ لیکن یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے‘‘ یعنی درمیان میں جو اسلام کی حالت ہے اس کا اقرار کیا جا رہا ہے۔ {وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط}’’اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔‘‘ ایمان کے دلوں میں داخل نہ ہونے کی مزید تاکید ہو گئی۔ آگے فرمایا گیا:
{وَاِنْ تُطِیْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًاط}
’’( اگر چہ تاحال تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا لیکن ) اس حال میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔‘‘
گویا یہاں پرمنافق کا ذکر نہیں کیا جا رہا‘کیونکہ منافق کا تو کوئی عمل قبول ہی نہیں ۔ نفاق تو منفی کیفیت ہے ۔رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے رسول اللہﷺ کی امامت میں نمازیں پڑھیں لیکن ان کے قبول ہونے کی کوئی امید نہیں ۔اس کی موت پر اُس کےصالح بیٹے عبداللہ بن عبد اللہ بن اُبی‘ جو ایک مؤمن صادق صحابی تھے ‘ نے باپ کی محبت کی وجہ سےحضورﷺ سے کُرتا مانگا تاکہ اس میں اپنے باپ کو کفن دے سکیں۔ حضورﷺ نے اپنا کرتا عنایت فرما دیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اعتراض ہو ا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’عمر! میرا کُرتا اسے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔‘‘
قانونی ایمان کی تین حالتیں
بہر حال‘ اگر قانوناً ایک شخص مسلمان ہے تو حقیقت کے اعتبار سے اس کی تین شکلیں ہو سکتی ہیں:
(i) مثبت طور پر مومن ہوگا۔
(ii) منفی طور پر منافق
(iii) دل میں نہ نفاق ہو اور نہ ہی ایمان ‘ محض مسلمان ہوجس کے بارے میں زیرمطالعہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ اگر تم اطاعت کی روش پر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا یعنی تم کو اجر و ثواب سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
بظاہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ ایمان کے بغیر بھی عمل قبول کر لیا جائے ۔ قرآن حکیم کی آیات عموماً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ایسے اسماء و صفات پر ختم ہوتی ہیں جن کی مضمون کے ساتھ ضرور کوئی مناسبت ہوتی ہے ۔یہاں آیت کے اختتام پر ’’غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں‘ گویا یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شانِ غفاری و رحیمی کا مظہر ہے کہ حقیقی ایمان نہ ہونے کے باوجود اگر اطاعت کرتے رہو گے تو بھی وہ اجر و ثواب عطا فرمائے گا‘ورنہ منطقی بات تویہی ہے کہ ایمان کے بغیر اطاعت قبول نہ ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑی نوید ِجاں فزا ہے کہ وہ اس حالت میں کی گئی اطاعت قبول فرمائے گا۔البتہ اس حوالہ سے چار اہم نکات کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس آیت کے اوّلین مخاطب کون لوگ تھے؟ مکہ میں اسلام کمزور تھا‘ کفر غالب تھا۔جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا تو اس کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا ہوتا ۔پس اُس وقت وہی شخص کلمہ شہادت پڑھتا جس کے دل میں یقین کامل پیدا ہو چکا ہوتا تھا۔تبھی وہ اس کلمہ کے نتیجہ میں آنے والے مصائب پر ثابت قدم رہتا۔ اس کا ایمان ایسا ہوتا کہ جیسے اس کو جنت اور دوزخ سامنےنظر آرہے ہوں۔ ایک روز فجر کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے ایک انصاری صحابی سے جب پوچھا: کَیْفَ اَصْبَحْتَ یَاحَارِثَۃ؟ ’’اے حارثہ!تم نے آج کیسی صبح کی؟‘‘ تو انہوں نے غیر معمولی جواب دیا: اَصْبَحْتُ مُؤمِنًا حَقًّا ’’میں نے حقیقی ایمان کی حالت میں صبح کی ہے۔‘‘حضورﷺ نے فرمایا: ’’دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ ہر بات کی ایک حقیقت ہوتی ہے (تمہارے ایمان کی کیا کیفیت ہے؟)‘‘ انہوں نے کہا کہ گویا میں اپنے ربّ کےعرش کے سامنے ہوں‘ جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور جہنم میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ یعنی یقین کامل کی کیفیت میں تھے۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا:((اَبْصَرْتَ فَالْزم))’’تم نے (عالم ِ آخرت کا) مشاہدہ کر لیا ہے ‘ اس حالت کو لازم پکڑو۔‘‘ پھر دوسروں کو مخاطب کر کے فرمایا: ((عَبْدٌ نَوَّرَ اللّٰہُ الْاِیْمَانَ فِیْ قَلْبِہِ)) ’’یہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ نے اس کےدل میں ایمان کو روشن کر دیاہے۔‘‘حدیث ِجبریل ؑمیں بھی جب حضورﷺ سے احسان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے یہی فرمایا کہ اللہ کی بندگی اِس طرح کرو جیسے تم اُسے دیکھ رہے ہو‘ اگر یہ نہ ہو تو کم از کم یہ سوچو کہ اللہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔
بہر حال مکہ میں ایمان لانے والوں کی یہ کیفیت تھی کہ پہلے ایمان جبکہ اسلام بعد میں۔ مدینہ میں آکر یہ صورتِ حال بدلنا شروع ہوئی‘ کیونکہ وہاں اگر کسی قبیلہ کاسردار ایمان لے آتا تو سب اسلام لے آتے ۔ان کے دل میں دھوکا دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن جو یقین درکار ہے‘ وہ ابھی پیدا نہیں ہواتھا ۔ مدینہ میں ایسے لوگ بھی تھے جو یقین کامل کے بعدہی اسلام لاتے تھے ۔ اسی بات کو یوں کہا گیا:
{اِذَا جَآئَ نَصْرُاللہِ وَ الْفَتْحُ(۱) وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ اَفْوَاجًا(۲) }
’’جب اللہ کی مدد آگئی اور فتح حاصل ہو گئی ۔ اور آپ نے لوگوں کو فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے دیکھ لیا۔‘‘
اب جو لوگ ایمان لائے ان میں سے اکثر میں کوئی منفی پہلو نہیں تھا ‘لیکن مثبت طور پر یقین والی کیفیت بھی نہیں تھی۔ ایسے لوگوں کے لیے بھی یہ رعایت دی جا رہی ہے:
{قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط ............}
ہمارا حال اکثر و بیشتر اسی آیت کامصداق ہے ۔اپنی حالت پر غور کریں تو ہمارے ہاں وراثتی مسلمان ( by birth ) کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ ہم میں سے اکثرنے غور و فکر کرکے ایمان قبول نہیں کیا۔ البتہ اب بھی شعوری ایمان کے لیے کوشش کی جا سکتی ہے‘ کیونکہ نسل در نسل مسلمان ہوجانے کی وجہ سے اسلام تو آجاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایمان بھی ہو۔
جزوی اطاعت قابل قبول نہیں!
ہمارے لیےیہ بہت بڑی خوش خبری ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنےفضل سے حقیقی ایمان کے بغیر بھی ہماری اطاعت کو قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ہم پر اس قدر رحمت فرمائی کہ اس حالت میں بھی اطاعت کرو گے تواللہ نیک اعمال کا اجر و ثواب عطا فرمائےگا۔تاہم‘ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جو اطاعت مطلوب ہے وہ کُلی ہے‘ جزوی نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کے دس احکامات میں سے پانچ مان لیے اور پانچ سے چشم پوشی اختیار کرلی تو یہ جزوی اطاعت کہلائے گی اور اس پر تو اللہ کاغضب بھڑکتا ہے۔ جزوی اطاعت دراصل اطاعت ہے ہی نہیں۔یہ تو تمسخر‘ ڈھٹائی‘ استہزاء(مذاق اُڑانا) کہلائےگی۔ سورۃ البقرۃ میں یہود سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا:
{اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۸۵)} (البقرۃ)
’’کیا تم اللہ کی کتا ب (اور اس کی شریعت) کے کچھ حصوں کو مانتے ہو اور کچھ کا انکار کر دیتے ہو ؟ تو جو کوئی تم میں سے اس طرزِ عمل کا مرتکب ہوا اس کی سزا دنیا کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ اور قیامت کے روز انہیں شدید ترین عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ ‘‘
حدیث نبوی کے مطابق اللہ تعالیٰ ہماری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ ہمارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے:
((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَ اَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ))(صحیح مسلم:۶۵۴۳)
اگر اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام مانے جا رہے ہوں اور کچھ احکام کی جانب مستقل بے توجہی ہو تو جو مانے جا رہے ہیں کیااس لیے کہ وہ نفس کے لیے آسان ہیں اور جو نہیں مانے جا رہے وہ کیااس لیے کہ وہ نفس کو پسند نہیں؟دونوں صورتوں میں نفس ہی کی اطاعت ہوئی ۔ ایسی صورت میں بظاہر اللہ کا کوئی حکم مانا بھی جا رہا ہو تو حقیقت میں نفس کی اطاعت ہی کی جا رہی ہوگی ۔اگر اللہ تعالیٰ کی بات ماننا مقصود ہو تب تو سارے ہی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سےہیں ۔ پس مطلوب یہی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کُلی اطاعت کی جائے‘ اُس کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کیا جائے۔ وقتی طور پر خطا ہوجانا‘ جذبات کی رَو میں کوئی غلطی ہو جانا ایک الگ بات ہے۔ ایسا ہوجائے تو انسان فوراً توبہ کرلیتا ہے۔ ایسے شخص کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ قرار دیاہے جو کبھی جہالت‘ نادانی یا جذبات میں گناہ کر بیٹھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللہُ عَلَیْہِمْ ط } (النساء:۱۷)
’’اللہ کے ذمہ ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بُری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں‘ پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں ‘ تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا۔‘‘
اس کے برعکس جان بوجھ کر ‘سوچ سمجھ کر گناہ کرنا‘ مثلاً یہ کہنا کہ آج کے دور میں سود کے بغیر کاروبار کرنا ممکن نہیں ‘یہ محض جذباتی بات نہیں بلکہ سوچی سمجھی رائے ہے۔ اگر اس طرزِ عمل پر مستقل قائم رہے تو یاد رہے کہ ایسا ایک گناہ ساری نیکیوں کو برباد کردیتا ہے:
{بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْٓـئَتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ(۸۱)} (البقرۃ)
’’کیوں نہیں‘ جس شخص نے جان بوجھ کر ایک گناہ کمایا اور اُس کا گھیرائو کر لیا اُس کے گناہ نے‘ پس یہی ہیں آگ والے‘ وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
جان بوجھ کر کسی ایک بھی بڑے گناہ کو مستقل طور پر اپنی زندگی میں قائم کر لینا اپنے تمام اعمال کی تباہی ہے۔
حاصل ِکلام
بہر حال‘ سورۃ الحجرات (آیت ۱۴) کے بارے میں چار اہم باتیں ہمارے سامنے آ گئیں:
(۱) یہ آ یت مدینہ میں اسلام لانے والے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
(۲) یہ آیت صد فیصد ہم پر منطبق ہوتی ہے۔
(۳) اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس حال میں بھی اُس نے ہماری اطاعت کو قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
(۴) اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو کُلی اطاعت مطلوب ہے‘ جزوی نہیں۔
آخر میں امام بخاری ؒاور امام ابو حنیفہ ؒکے اقوال کے حوالے سے پھر گفتگو کرتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے: اَلْاِیْمَانُ قَوْلٌ وَلَا یَزِیْد وَلَا یَنْقُصُ ’’ایمان قول کا نام ہے ‘اور یہ نہ بڑھتا ہے اور نہ ہی گھٹتا ہے۔‘‘ دوسری طرف امام بخاریؒ کا قول ہے: اَلْاِیْمَانُ قَوْلٌ وَ عَمَلٌ یَزِیدُ وَ یَنْقُصُ ’’ایمان قول اور عمل کے مجموعہ کا نام ہے ‘یہ بڑھتا بھی ہے اور گھٹتا بھی ہے۔‘‘
اِن دونوں باتوں میں بظاہر تضاد نظر آرہا ہے لیکن درحقیقت یہ دونوں صد فیصد درست ہیں‘ کیونکہ امام ابوحنیفہ ؒدراصل قانونی ایمان کے بارے میں رائے دے رہے ہیں جس کی بنیاد پر اسلام اور کفر کے فیصلے ہوتے ہیں جبکہ امام بخاریؒ حقیقی ایمان کے حوالہ سے اپنی رائے پیش کر رہے ہیں جس کی بنیاد پر آخرت میں فیصلہ ہوگا۔
قانونی ایمان کی بنیاد پر کسی شخص کو دنیا میں مسلمان کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً اسلامی ریاست میں ووٹ کا حق‘اسلامی ملک کا اہم عہدے دار بننا‘ مسلمان عورت کامسلمان مرد سے نکاح ہونا‘ مسلمان باپ کی وراثت کا حق دار ہونا وغیرہ ۔ان معاملات میں ہر مسلمان کا قانونی حق برابر رہتا ہے چاہے وہ متقی ہو یا فاسق و فاجر۔ایسا نہیں ہوتا کہ جو ایک نماز پڑھتا ہو اسے ایک ووٹ کا حق ملے اورجو پانچ نمازیں پڑھتا ہو ‘اس کو پانچ ووٹ کا حق حاصل ہوجائے‘ اور جو تہجد پڑھتا ہو وہ دس ووٹ دے سکے ۔قانونیstatus یقیناً جامد ہے ‘نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے۔تکفیر کا معاملہ الگ ہے‘ ورنہ قانونی لحاظ سے متقی و فاسق سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ اگربالفرض حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن اُبی ایک ہی باپ کے بیٹے ہوتے تب بھی وراثت میں برابر حصہ پاتے۔اس اعتبار سے امام ابو حنیفہؒ کا قول بالکل درست ہے کہ قانونی ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ ہی گھٹتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گہرا قانونی فہم عطا فرمایا تھاجس کا کوئی ثانی نہیں۔
اس کے برعکس امام بخاریؒ کا قول کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے‘ حقیقی ایمان کے اعتبار سے بالکل درست ہے ۔یہ توقرآن حکیم سے بھی ثابت ہے:{وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا}(الانفال:۲) ’’اور جب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘{لِیَزْدَادُوْا اِیْمَانًا مَعَ اِیْمَانِھِمْ}(الفتح:۴) ’’تاکہ وہ اضافہ کر لیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا۔‘‘{وَ مَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًا(۲۲) }(الاحزاب) ’’اور اس (واقعہ) نے ان میں ایمان اور فرماں برداری ہی کا اضافہ کیا۔‘‘یعنی ایمان کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ اگر کسی صاحب ِایمان کےپاس بیٹھیں گے تو لازماً اپنے اندرایمان کی حرارت میں اضافہ ہو گا‘ دین کی لگن اور جذبہ بڑھے گا ۔ ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ اللہ کے دوست وہ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آجائے۔ آوارہ‘ فحش گو‘ لطیفہ گو لوگوں کے پاس بیٹھنے سے ایمان میں کمی آتی ہے۔ قرآن پڑھنے سے یقیناً ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ فحش ناول پڑھنے سے ایمان میں لازماً کمی ہوتی ہے ۔قلب کا مطلب ہی بدلنا ہے ‘انقلاب کا مطلب نظام کی تبدیلی۔قلب کو کسی حالت پر قرار نہیں ہوتا۔ انسان کے جسم کا ہرحصہ(دماغ‘ گردے‘ معدہ) آرام کر لیتا ہے لیکن دل کے لیے آرام نہیں‘اس کوکسی لمحہ قرار نہیں ۔ دل اگر کام کرنا چھوڑ دے تو یہ موت کی کیفیت ہوگی۔اسی طرح قلبی ایمان ہر لحظہ گھٹ رہا ہوتا ہے یا بڑھ رہا ہوتا ہے ۔ایک حدیث کا مفہوم بھی ہے کہ جس شخص کے دو دن برابر ہوگئے‘ وہ نقصان میں رہا۔یعنی جتنا ایمان آج ہے‘ اتناہی اگلے دن بھی رہاتو یہ خسارہ ہو گیا۔ایسا نہیں ہے کہ نفع نہ ہو سکا بلکہ کمی واقع ہو گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے اگلا دن تو اس لیے دیا تھا کہ ایمان کی پونجی میں اضافہ ہو سکے ۔یہی بات سورۃ العصر میں فرمائی گئی: {وَالْعَصْرِ (۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)}
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی!پس ثابت ہوا کہ امام بخاری ؒاور امام ابو حنیفہ ؒدونوں کے اقوال بالکل درست ہیں۔ دراصل ایمان اورعمل صالح ایک حیاتیاتی وحدت (organic whole) کی طرح لازم و ملزوم ہیں‘ جن کو علیحدہ کرنا ممکن ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم میں ایمان اور عملِ صالح کا ذکر ہمیشہ جوڑے کی شکل میں آیا ہے۔ مثلاً:
{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ(۶)} (التین)
{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۵ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)} (العصر)
’’تواصی بالحق‘‘ اور ’’تواصی بالصبر‘‘ بھی اپنی اپنی جگہ پر نیک عمل ہیں ‘ یعنی عمل صالح ہی میں شامل ہیں‘ لیکن ان کی اہمیت کی وجہ سے سورۃ العصر میں ان کا ذکر الگ سےکیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ایسا کوئی وعدہ نہیں کہ نجات کے لیے محض ایمان کافی ہے۔ البتہ وہ نجات مراد ہو سکتی ہے جو دوزخ کی شدید آگ میں اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد وہاں سے نکال لینے کی صورت میں ہو۔ وہ نجات کہ جس کے بارے میں جہنم کی آگ سے بچا لینے کا میدانِ حشر ہی میں اعلان کر دیا جائے:{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط }(آل عمران:۱۸۵) ’’تو جو کوئی بچا لیا گیا جہنّم سے اور داخل کر دیا گیا جنّت میں تو وہ کامیاب ہو گیا ‘‘وہ کامیابی محض ایمان سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عمل صالح بھی انتہائی ضروری ہے۔پس ایمان اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں‘ جن کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس موضوع سے متعلق احادیث ِمبارکہ بھی بیان کردی گئی ہیں۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنا مِنْھُمْ!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026