مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
تنظیم اسلامی کی جدّوجُہد اور نظم
مفتی طارق مسعود صاحب نے انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دس پندرہ سال قبل نارتھ کراچی میں نوجوان انہیں بتایا کرتے تھے کہ وہ جمعہ جناب شجاع الدین شیخ کے ہاں پڑھنے جاتے ہیں۔ ان کے بیانات بہت معلوماتی اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ تب سے ان کے دل میں شجاع الدین شیخ کے لیے محبت بیٹھ گئی تھی کہ ما شاء اللہ ایک مؤثر کام کر رہے ہیں۔ بعد میں معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ تنظیم اسلامی سے وابستہ ہیں اور بے حیائی‘ سود‘ اور
آزادیٔ نسواں (feminism)جیسے مسائل کے خلاف ان کا کام نمایاں ہے۔ مفتی صاحب نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنا تعارف‘ تعلیمی پس منظر‘ ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق‘ اور تنظیم اسلامی میں شمولیت کے بارے میں بتائیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کی رہائش کراچی کے قدیم علاقے برنس روڈ میں رہی ہے‘ اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے کامرس کی تعلیم حاصل کی اور چارٹرڈاکاؤنٹنسی کی فیلڈ میں پاکستان کی معروف فرم ایئرفرگوسن سے ٹریننگ مکمل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (اسلامیات) بھی کیا۔ اسکول میں چند اساتذہ ایسے ملے جنہوں نے انہیں عربی سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ کالج کے دورمیں انہوں نے مفتی تقی عثمانی‘ مفتی رفیع عثمانیؒ اور مفتی عبدالرؤف سکھرویؒ جیسی جید شخصیات سے استفادہ کیا۔ مفتی زرولی خانؒ کا دورئہ تفسیر بھی ان کے لیے فیض رساں رہا۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق اور تنظیم اسلامی میں شمولیت
انہوں نے ۹۲ - ۱۹۹۱ء سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو سننا شروع کیا اور ۱۹۹۸ء میں تنظیم اسلامی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ مفتی طارق مسعود کے اس سوال پر کہ کیا داڑھی شروع سے رکھی تھی‘ انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ ‘شروع سے ہی داڑھی ہے اور کبھی صاف کرنے کا موقع نہیں آیا۔ اپنے والدین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد اور دادا دونوں پاکستان کسٹمز میں تھے اور انتہائی درجے کےایمان دار تھے۔ دین کی طرف آنے کی توفیق ملنے میں والدین کی تربیت اور حلال رزق کا بہت بڑا حصہ ہے۔
شجاع الدین شیخ نے اپنے علمی سفر میں چند دیگر اہم شخصیات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے محلے میں ایک استاد تھے جو بیک وقت جماعت ِاسلامی سے بھی وابستہ تھے اور جام شورو کے ایک بزرگ کے ساتھ تصوف کے حوالے سے بھی وابستہ تھے۔ اسی طرح مفتی نظام الدین شامزیؒ نے دس سال تک ان کے محلے میں درس دیا جس میں شرکت کا انہیں موقع ملا۔ ان تمام اساتذہ سے استفادہ کا تعلق رہا ۔
تنظیم کی جدّوجُہد کے مرکزی دائرے
مفتی طارق مسعود نے ابن تیمیہؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق اور باطل کا اندازہ باطل کے تیروں کے رخ سے لگایا جا سکتا ہے۔ اسلام دشمن قوتیں دو چیزوں کو فوکس کر رہی ہیں: سودی نظام اور بے حیائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم اسلامی کا ان دونوں میدانوں میں کام نمایاں ہے۔ وہ شجاع الدین شیخ سے اس لیے عقیدت رکھتے ہیں کہ ان کا کام صرف باتوں تک محدود نہیں بلکہ سائن بورڈز‘ مظاہروں اور تقریروں کی صورت میں ان کا کام سامنے آتا رہتا ہے۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم اسلامی کی جدّوجُہد کے مرکزی دائرے یہ ہیں:
• معاشرت کی سطح پر بے حیائی کے خلاف مہم
• معیشت کی سطح پر سود کے خلاف کام
• سیاست کی سطح پر سیکولرازم کے خلاف محنت
ہر تین ماہ بعد پورے پاکستان میں ’’منکرات آگاہی مہم‘‘ چلائی جاتی ہے جس میں عوامی سطح پر گفتگو کی جاتی ہے اور لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ مہمات کبھی معیشت پر‘ کبھی معاشرت پر‘ کبھی سیاست پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ججز‘ وکلاء‘ اسمبلی ممبران‘ صدر اور وزراء‘ سب کو لٹریچر بھیجا جاتا ہے اور انہیں ان کی دینی ذمہ داری یاد دلائی جاتی ہے۔
ختم نبوت جیسی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے شجاع الدین شیخ نےکہا کہ جب تک ایسا پبلک پریشر نہیں ڈالیں گے‘ منکرات کے خلاف بات بننے والی نہیں ہے۔ انہوں نے مفتی تقی عثمانی کا ۲۰۱۸ء کا کلپ یاد کروایا جس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ انگریز کے دور سے حکومتوں کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ جب تک کوئی ’’جوتا لے کر نہیں آئے گا‘‘ بات نہیں ماننی۔ شجاع الدین شیخ نے واضح کیا کہ پریشر ڈالنے کا مطلب توڑ پھوڑ یا گاڑیاں جلانا نہیں بلکہ عوامی دبائو اور مزاحمت کا ماحول قائم کرنا ہے۔
مفتی طارق مسعود نے عدالتی خلع کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فیملی سسٹم تباہ کر دیا ہے جبکہ نہ منبر سے اس پر بات ہو رہی ہے نہ اسلامی نظریاتی کونسل اس پر سوچ رہی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کسی ’’متفق علیہ منکر‘‘ کے خلاف چلنی چاہیے۔ شراب‘ جوا‘ سود‘ بے حیائی جیسے مسائل پر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
دعوت کا طریقہ کار اور نئی نسل کی شمولیت
مفتی طارق مسعود نے پوچھا :تنظیم اسلامی نوجوانوں کو کیسے راغب کرتی ہے اور جدّوجُہد کا حجم کیسے بڑھاتی ہے؟ شجاع الدین شیخ نے پہلے تبلیغی جماعت کے حضرات کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ علمی اختلافات اپنی جگہ لیکن ان کی قربانیاں قابلِ تعریف ہیں۔ تنظیم اسلامی میں دعوت کے حوالے سے انہوں نے دو بنیادی نکات بیان کیے:
(۱) ’’قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلَیْکُمْ نَارًا‘‘ (التحریم) کے تحت پہلی ذمہ داری اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ دعوت کی بات باقی تمام جگہوں پر تو ہو رہی ہوتی ہے لیکن اکثر اپنے گھر والے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہم پہلے اپنے بچوں اور بچیوں پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔
(۲) ہر ساتھی کو بتایا جاتا ہے کہ مدرس اور خطیب تو ہر کوئی نہیں بن سکتا لیکن داعی ہر ایک کو بننا ہے۔ کالج ہو‘ یونیورسٹی ہو‘ یا پیشہ ورانہ زندگی ہو‘ دعوت کا کام ہر جگہ جاری رکھنا ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیانات کی مقبولیت بھی ایک مثبت اور موثر کردار اداکرتی ہے۔ ہر اردو بولنے والا جو دین سننا چاہتا ہے وہ ڈاکٹر صاحبؒ کو سنتا ہے‘ جس سے ہمارے لیے گفتگو کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم اصل چیز مستقل محنت‘ ذاتی رابطہ‘ دروس میں شرکت کی ترغیب دینا ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کی خوشی اور غم میں ان کے ساتھ شریک ہونا ہے‘ کیونکہ اگر ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو اگرچہ داعی کا ٹیگ لگ جائے گا لیکن بات دوسرے کے دل میں نہیں اُترے گی۔
مدرّس بننے کے معیارات
دریافت کیا گیا: تنظیم اسلامی میں درس دینے کے لیے کیا معیارات ہیں‘ کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ وہاں ہر ایک کو درس کی اجازت نہیں ہوتی؟ شجاع الدین شیخ نے اس سوال کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ تنظیمِ اسلامی میں درس دینے کے لیے چار بنیادی معیارات ہیں:
(۱) تنظیم میں شامل ہونے والے کو پہلے ’’ملتزم‘‘ کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے یعنی وہ پختہ کار ہو جائے۔
(۲) تجوید کے امتحان سے گزرنا ہوتا ہے جس میں لحن جلی کی غلطیوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ یہ ٹیسٹ مقامی سطح پر لیکن مرکزی نظم کے تحت ہوتا ہے۔
(۳) عربی گرامر کا امتحان بھی مرکز کے تحت پورے پاکستان میں ہوتا ہے۔ اس میں۸۰ فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔
(۴) مدرّسین کے لیے سالانہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں فہمِ قرآن کے آداب‘ اصولِ تفسیر‘ اصولِ حدیث‘ معروف تفاسیر کا تعارف‘ تفسیر بالرائے سے اجتناب جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کی تجوید بچپن ہی سے بہتر تھی اور انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی قائم کردہ قرآن اکیڈمیوں میں ہونے والے دس ماہ کا ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورس بھی کیا ہوا تھا۔ چنانچہ جب وہ تنظیم میں شامل ہوئے تو مذکورہ معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے انہیں فوراً ہی درس کی ذمہ داری مل گئی تھی۔
مفتی طارق مسعود نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے جاندار اور انذار پر مبنی انداز کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ان کا انداز بھی وہی ہے! شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے چہرے پر جو جلال اور رعب تھا وہ اُمّت کے بگاڑ اور منکرات کے بڑھتے چلے جانے پر ان کے رنج کا عکاس تھا۔ ڈاکٹر صاحبؒ سے ذاتی طور پرملنے والے جانتے ہیں کہ وہ بالکل مختلف شخصیت تھے۔ نجی محافل میں وہ ایسی سخت گفتگو نہیں کرتے تھے‘ بلکہ حسب ِموقع مذاق اور لطیفہ گوئی کا معاملہ بھی ہوتا تھا۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے بعد ان کے صاحب زادے حافظ عاکف سعید بالکل برعکس شخصیت تھے۔ انتہائی شفقت اور نرمی والے‘ چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ تھی۔ نتیجے کے طور پر ڈاکٹر صاحبؒ کے شاگردوں میں مزاج کا تنوع پایا جاتا ہے‘ اور وہ خود بھی بشارت اور انذار دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سیاست سے متعلق پالیسی
تنظیم اسلامی کا ہدف کیا ہے؟ کیا وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں؟ شجاع الدین شیخ نے وضاحت کی کہ فرد کا نصب العین رضائے الٰہی اور اُخروی نجات ہے جبکہ تنظیم کا اجتماعی ہدف اقامت ِدین کی جدّوجُہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم اسلامی مروجہ انتخابی سیاست میں شامل نہیں ہے۔ البتہ سیاسی گفتگو کرتے ہیں‘ ملک کے حالات پر کلام کرتے ہیں‘ اور حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر تنظیم کا کوئی رفیق کسی کو ووٹ دینا چاہے تو اس کو دو باتوں کی ہدایت دی جاتی ہے:
(۱) جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے‘ اس کے منشور میں خلافِ اسلام کوئی بات شامل نہ ہو۔
(۲) جس امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے وہ ظاہری اعتبار سے کبائر میں مبتلا نہ ہو۔
یہ تنظیم کی طے شدہ پالیسی ہے اور اجتماعی سطح پر کسی جماعت کی براہ راست حمایت نہیں کی جاتی۔ البتہ انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے موقف کا بھی ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کو اگرچہ یقین تھا کہ انتخابی سیاست سے نظام نہیں بدلے گا‘ لیکن جب تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہو گئیں تو انہوں نے اس میں اپنا وزن ڈالنے کے لیے شمولیت اختیار کی۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ اب ایسا امکان نہیں ہے اور اُس دور میں شریعت کے حوالے سے جو پسپائی ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
ایک نیا فرقہ بننے کا خدشہ
مفتی طارق مسعود نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ دینی مدارس کے بعض طلبہ اور علماء تنظیم اسلامی سے بدگمان رہتے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں تنظیم کوئی نیا فرقہ بن کر سامنے نہ آجائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس بدگمانی میں تھے لیکن جب انہوں نے تنظیم کے اداروں کا وزٹ کیا تو بدگمانی دور ہوئی۔
شجاع الدین شیخ نے کہا کہ یہ بدگمانیاں اس وقت تک رہتی ہیں جب تک ملاقاتیں نہ ہوں اور ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے ۱۹۹۵ءکا ایک واقعہ سنایا کہ نوجوانی میں وہ اپنے محلے کی مسجد میں ’’تفسیر عثمانی‘‘‘ مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کی ’’تعلیم الاسلام‘‘‘ اور مولانا منظور نعمانی صاحبؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ سے کچھ درس دیا کرتے تھے‘ تو نیو ٹاؤن کے علماء کو شکایت پہنچی کہ کوئی لڑکا وہاں درس دیتا ہے۔ چنانچہ میں وہاں کے علماء سے جا کر ملا تو ایک بزرگ مولوی فضل محمد صاحب نے مجھ پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شجاع الدین شیخ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے ۱۹۸۵ء میں فرمایا تھا کہ جب اُمت میں فتنہ اٹھتا ہے تو پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو اسلاف سے بدگمان کر دیا جائے۔ اسی لیےتنظیم میں مدرّسین کو سمجھایا جاتا ہے کہ ان کا میدان فتوے کا نہیں بلکہ دعوت اور اصلاح کا ہے۔ چنانچہ فقہی مسائل میں وہ علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
ماضی میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خلاف دارالعلوم کورنگی اور جامعہ بنوریہ سے فتوے دیے گئے تھے لیکن آج ان فتاویٰ کا کوئی وجود نہیں اور ان اداروں نے رجوع کر لیا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ خود فرماتے تھے کہ فقہی معاملات میں وہ اُمّی ہیں‘ اور اس کی وضاحت میں فرماتے تھے کہ ’’جتنا ان کی اَمّی نے بتایا ہے اتنا جانتے ہیں۔‘‘
خواتین کی جدّوجُہد اور پردے کا انتظام
کیا کسی سطح پر خواتین کو بھی امیر بنایا جاتا ہے اور کیا وہ درس بھی دیتی ہیں؟ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم میں مرد اور عورت کے دائرہ ہائے کار کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ عورتوں کا نظم محدود رکھا گیا ہے‘ کیونکہ ان کی اصل ذمہ داری گھر ہے۔ جن خواتین کے بچے چھوٹے ہیں‘ انہیں باہر کی کوئی ذمہ داری نہیں دی جاتی۔ البتہ جو خواتین گھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکی ہیں اور گھر سے اجازت ہے‘ وہ علاقائی سطح پر ہماری خواتین کی جدّوجُہد میں شریک ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی میں صلاحیت ہے تو وہ بیان یا تربیتی نشست کا سلسلہ بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کا نظم مَردوں کے نظم کے تابع رکھا گیا ہے۔
قرآن اکیڈمیوں میں جاری کورسز میں خواتین براہِ راست اساتذہ سے بات چیت نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے سوال تحریری طور پر بھیجتی ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورسز میں خواتین باپردہ شرکت کرتی ہیں۔جن خواتین میں استعداد پیدا ہو جاتی ہے انہیں گھروں یا مقامی مراکز کی حد تک درس کا سلسلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ اگر بے حیائی ختم کرنی ہے تو عورتوں پر محنت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے دور اور آج کے دور کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ تب خواتین مسجد نہیں آتی تھیں تو گھروں میں رہتی تھیں‘ لیکن آج اگر انہیں مسجد میں نہیں لائیں گے تو وہ ٹیلی ویژن اور ڈراموں کے سامنے بیٹھیں گی‘ یا بازاروں میں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مصیبت کفر و الحاد ہے جس سے بچنے کے لیے چھوٹی مصیبت برداشت کرنی چاہیے۔
شجاع الدین شیخ نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جب نوکری اور تعلیم وغیرہ کے لیے اجازت دی جا رہی ہے تو اللہ کے گھر میں آ کر قرآن سننے سے روکنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری محافل میں ایسی خواتین بھی آئیں جو پہلے ماڈلنگ یا فنکاری کرتی تھیں اور پھر اللہ نے ان کی زندگی بدل دی۔ یہ اللہ کے کلام کی برکت ہے اور مفتی منیب الرحمٰن جیسے بزرگ بھی اس رائے کے قائل ہیں کہ اس دور میں عورتوں کے لیے ایسا انتظام ہونا چاہیے تاکہ وہ فضولیات کا رُخ نہ کریں۔
نکاح میں آسانی کی مہم
مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تنظیم اسلامی بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی شادیوں کو بھی فروغ دیتی ہے! شجاع الدین شیخ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے نکاح کو آسان بنانے کی بڑی تحریک چلائی تھی۔ ہمارے معاشرے میں پہلی شادی ہی اتنی مہنگی اور مشکل کر دی گئی ہے کہ دوسری کے متعلق کسی نے کیا سوچنا ہے! انہوں نے خود بھی اپنے ایک بزرگ ساتھی کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ سے نکاح کیا ہے‘ جن کی ایک شادی شدہ بیٹی (ربیبہ) بھی ہے جو ان کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترغیب و تشویق کا معاملہ ہے‘ حکم کی بات نہیں ‘تاکہ خواتین عفت اور حیا کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
نصابِ تعلیم میں قرآن حکیم شامل کرنے کی جدّوجُہد
مفتی طارق مسعود نے اپنی ایک پرانی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اُس منصوبے کے متعلق بتائیے جس کے تحت وہ خیبرپختون خوا میں قرآن حکیم کو نصابِ تعلیم میں شامل کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ یہ کام ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت کیا گیا‘ جو کراچی کے چند مخلص تاجر حضرات کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ یہ نصاب ۲۰۰۹ء میں شروع ہوا اور ۲۰۱۰ء میں پہلا حصہ شائع ہوا۔ ابتدا میں ڈھائی ہزار بچوں کے لیے کراچی کے بائیس اسکولوں میں یہ سلسلہ شروع کیا گیا۔
اس منصوبے کا نام ’’مطالعہ قرآن حکیم برائے طلبہ و طالبات‘‘ ہے‘ جس میں مکمل قرآن کا ترجمہ‘ تشریح‘ اخلاقی اسباق اور مشقیں شامل ہیں۔۲۰۱۷ء میں مسلم لیگ (ن) حکومت کے وزیر تعلیم بلیغ الرحمٰن صاحب تک مفتی عدنان کاکاخیل صاحب کے ذریعے یہ بات پہنچی جس کے نتیجے میں فیڈرل گزٹ میں یہ ترتیب آگئی کہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن‘ اور چھٹی سے بارہویں تک قرآن کا ترجمہ پڑھانا ضروری ہے۔
۲۰۱۸ء میں جب کچھ خدشات سامنے آئے تو جناب بلیغ الرحمان نے ’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ (پانچوں وفاق: دیوبند‘ بریلوی‘ اہل حدیث‘ شیعہ‘ جماعت اسلامی) سے رابطہ کیا۔ ان کے جید علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں شجاع الدین شیخ ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف سے شامل تھے۔ تین سال تک اسلام آباد میں بیس اجلاس ہوئے‘ جن میں ہر پہلو پر بحث ہوئی۔ بالآخر ۲۸ جنوری ۲۰۲۰ء کو تمام سات حصوں پر سب مکاتب ِفکر نے اتفاق کیا اور دستخط کیے۔
مفتی طارق مسعود نے کہا کہ ایسا اتفاق پاکستان میں شاید ختم نبوت والے معاملے کے بعد پہلی بار ہوا ہو گا۔ شجاع الدین شیخ نے تائید کرتے ہوئے بتایا کہ تمام مسالک نے ایک ترجمہ و تشریح پر اتفاق کیا‘ اور آج تقریباً۲۳ لاکھ طلبہ یہ نصاب پڑھ رہے ہیں۔ خیبرپختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے اسکولوں میں لاگو کیا۔پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت میں اس پر کام شروع ہو گیا تھا‘ اور اب جبکہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے یہ سلسلہ ترک نہیں کیا اور اب نویں‘ دسویں‘ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے اس کا لازمی پیپر آنے والا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ جب پیپر لازمی ہو جائے گا تو سب کو پڑھنا پڑے گا۔
مفتی طارق مسعود نے پوچھا: اس نصاب کو منظور کروانے اور اسکولوں کا حصہ بنانے میں کن کن شخصیات کا کردار ہے؟ شجاع الدین شیخ نے سب سے پہلے علم فاؤنڈیشن کے سرپرستوں کا ذکر کیا جو تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی دین دار لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو اللہ نے خیر کے کاموں کے لیے خاص توفیق دی ہے۔ مختلف مکاتب ِفکر کے علماء میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی‘ مولانا منظور احمد مینگل (وفاق المدارس)‘ مولانا ارشد سعید کاظمی (بریلوی مکتب فکر)‘ مولانا نجیب اللہ طارق (اہل حدیث)‘ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن (جماعت اسلامی)‘ اور اہل تشیع کی طرف سے جامعہ الکوثر کے نمائندوں کا نام لیا۔ مولانا قاری حنیف جالندھری اور مفتی عدنان کاکاخیل کا بھی تعاون رہا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیغ الرحمٰن صاحب نے مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان سے بھی بات کی تھی اور کسی نے اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
تنظیم میں شمولیت کا طریقہ کار
مفتی طارق مسعود نے پوچھا :اگر کوئی نوجوان تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کرنا چاہے یا درس دینا چاہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ویب سائٹ tanzeem.org پر پورے پاکستان کے دفاتر کے پتے اور فون نمبر موجود ہیں۔ [email protected] پر ای میل بھی کی جا سکتی ہے۔ شامل ہونے سے پہلے دو تین بنیادی کتابچے پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ‘جن میں تنظیم اسلامی کا تعارف اور اس کی دعوت کا بیان ہے۔
شمولیت بیعت کے ذریعے ہوتی ہے۔ خواتین کی بیعت سورۃ الممتحنہ کے الفاظ پر ہوتی ہے کہ وہ شرک‘ چوری اور گناہوں سے بچیں گی ‘ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کریں گی۔ مَردوں کے لیے مبتدی کی بیعت میں کلمہ‘ استغفار اور وعدہ ہوتا ہے کہ وہ نافرمانی چھوڑ دیں گے اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے محنت کریں گے۔ جو آگے بڑھ کر ملتزم بنتا ہے اس کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے الفاظ پر ہوتی ہے۔ چونکہ وہ بیعت جناب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر تھی‘ لہٰذا ہمارے ہاں بیعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ امیر کی کوئی ایسی بات جو شریعت کے خلاف ہو تو اسے نہیں مانا جائے گا۔
کیا پاکستان سے باہر بھی تنظیم کا کوئی سلسلہ ہے؟ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ فی الحال ان کا فوکس پاکستان پر ہے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔اگر ایک جگہ خلافت کا نظام قائم ہو جائے تو اس کا اثر خودبخود پھیلے گا۔ البتہ جو پاکستانی بیرون ملک جڑے رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ایک حد تک مختلف علاقوں میں نظم موجود ہے۔
آخر میں مفتی طارق مسعود نے شجاع الدین شیخ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مجلس بہت مفید رہی۔ شجاع الدین شیخ نے مفتی صاحب کی وسعت ِقلبی اور محبت کو سراہا کہ انہوں نے اپنا یہ پورا پروگرام تنظیم اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے حوالے سے کیا ہے۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مدارس اور عصری تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دین کی خدمت بڑے پیمانے پر ہو سکے۔
(تشکر:مجلہ الشریعہ‘ اپریل ۲۰۲۶ء)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026