(منبرو محراب) دُعا کے ساتھ دوا بھی ضروری! - شجاع الدین شیخ

10 /

دُعا کے ساتھ دوا بھی ضروری!شجاع الدین شیخ‘امیر تنظیم اسلامی
(خطابِ جمعہ: ۳ اپریل ۲۰۲۶ء ‘قرآن اکیڈمی ‘لاہور)


خطبہ مسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!

قرآن حکیم میں سے سورئہ آلِ عمران کی آیات۱۳۲ سے ۱۳۶تک تلاوت کی گئی ہیں۔ پہلے اس مقام کا ترجمہ کر لیتے ہیں ‘ان شاءاللہ اس کی تھوڑی سی وضاحت بیان کرنا مقصود ہے۔ ارشاد ہوا :
{وَاَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ لَـعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ(۱۳۲)}
’’ اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول(ﷺ) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘
{وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّ‘بِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ}
’’ اور لپکو اور تیزی دکھاؤ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اُس جنت کے حاصل کرنے کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کی مانند ہے‘‘
{اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۳)}
’’جو تیار کی گئی ہے متقین کے لیے۔ ‘‘
{الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ}
’’یہ وہ لوگ ہیں جو خرچ کرتے ہیں خوش حالی میں بھی اور تنگ دستی میں بھی‘‘
{وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط }
’’اور وہ اپنے غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں ۔‘‘
{وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳۴)}
’’ اور اللہ احسان کی روش اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘
{وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ}
’’ اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھیں ‘‘
{ذَکَرُوا اللہَ}
’’ تو اللہ کو یاد کر لیتے ہیں‘‘
{فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ ص}
’’پس وہ اُس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں‘‘
{وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ قف }
’’ اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشنے والا ہو!‘‘
{وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَـعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵) }
’’اور وہ اس پر اَڑے نہیں رہتے جو وہ کر بیٹھے جبکہ وہ جان لیتے ہیں۔‘‘
{اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّ بِّہِمْ}
’’یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کا بدلہ ہے ان کے رب کی طرف سے بخشش کی صورت میں‘‘
{وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ}
’’اور باغات کی صورت میں جن کے دامن میں نہریں جاری ہیں ‘‘
{خٰلِدِیْنَ فِیْہَاط }
’’ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔‘‘
{وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۱۳۶)}
’’اور عمل کرنے والوں کے لیے کیا ہی خوب اجر ہے!‘‘
اللّٰہم ربَّنا اجْعلنا منہم! اے اللہ ہمیں بھی انہی لوگوں میں شامل فرما!
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اہل ِایمان اور اہل جنت کی صفات کو جابجابیان کیا ہے۔ کبھی قرآن عموم کے اعتبار سے ذکر کرتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ‘جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے جنت ہے۔ اس کے باغات ہیں‘ وہاں کی نعمتیں ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی مقام ہے کہ جہاں ترغیب کا پہلو بھی ہے‘ تشویق کا پہلو بھی ہے اور اہل ایمان سے جو تقاضے ہیں ان میں سے کچھ کا تذکرہ بھی فرمایا گیا ہے۔
صرف اشارتاً عرض کر رہا ہوں کہ پچھلی آیات میں سود کی ممانعت کا ذکر ہے۔ یہ بڑھتا چڑھتا سود ہے جس کو مرکب سود ( کمپاؤنڈ انٹرسٹ) کہا جاتا ہے۔ سود مفرد یا سمپل انٹرسٹ کی مناہی سورۃ البقرۃ میں آئی ہے۔بہرحال‘یہاں سود کی ممانعت کے بعد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا تذکرہ آیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کے حصول کی طرف مسابقت اور آگے بڑھ کر محنت کرنے کا ذکر ہوا ۔ اسی طرح اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کہا گیا ۔ دوسروں کو معاف کرنے کی بات ہوئی ۔ یہ صفات ان لوگوں میں ہوتی ہیں جن میں مال کی محبت نہ ہو ‘دنیا کی حرص نہ ہو‘ طمع نہ ہو۔ سود خوری سے انسان کے اندر مال کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں پھر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جہاں حبِ مال کے ساتھ حب ِجاہ پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر تکبر‘ ظلم ‘ دل کی سختی‘ حقوق العباد میں کوتاہی‘ یہ ساری برائیاں سود خوری ہی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔اس کے برعکس معاملہ وہ ہے جو ان آیات میں ہمارے سامنے آرہا ہے جن کا اس وقت ہم مطالعہ کر رہے ہیں۔ارشاد ہوا:
{وَاَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ لَـعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ(۱۳۲)}
’’ اور اطاعت کرو اللہ کی اوررسول(ﷺ) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘
یہ موضوع قرآن حکیم میں مستقل آتا ہے ۔ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لیے محض دعائیں کافی نہیں‘ بلکہ دُعا کے ساتھ دواکی ضرورت بھی ہے۔ اس دوا کا ایک بڑا عنوان یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کرو۔’’اَطِیْعُوْا‘‘ کا مادہ ’’طوع‘‘ ہے جس میں دِلی آمادگی کا عنصر شامل ہے ۔ قرآن کریم میں ایک اور جگہ فرمایا گیا: {طَوْعًا وَّکَرْہًا} (الرعد:۱۵) ’’آمادگی کے ساتھ بھی اور مجبوراً بھی‘‘۔ ایک کیفیت یہ ہوتی ہے کہ کسی بات کو کراہت کے ساتھ مانا جائے ۔ بات پسند نہیں آرہی لیکن ماننا پڑ رہی ہے۔ جیسے اکثر افسرانِ بالا کی کڑوی باتیں تسلیم کرنا پڑتی ہیں ‘ سخت فیصلوں کو ماننا پڑتا ہے۔کیا کیا جائے کہ نوکری کا مسئلہ ہے۔ پیٹ کھانے کو مانگتا ہے ۔ایسے میں آدمی کڑوی کسیلی باتیں بھی برداشت کرتا ہے ۔ دل سے آمادہ ہو کر کام نہیں کرتا۔ البتہ جو اطاعت اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مطلوب ہے وہ کراہت کے ساتھ نہیں ہے۔ معاذ اللہ! وہ ناپسندیدگی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پوری دلی آمادگی کے ساتھ ہے۔ قرآن مجید ایمان والوں کی صفت کا ذکر یوں کرتا ہے :
{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ط } ( البقرۃ:۱۶۵)
’’اورجو لوگ ایمان لائے ان کی شدید ترین محبت تو اللہ کے لیے ہوتی ہے ۔‘‘
اور اللہ کے رسولﷺ کے بارے میں ارشا دہوا:
{ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ } (الاحزاب:۶)
’’ نبی (ﷺ) ایمان والوں کے نزدیک ان کی جانوں سے بڑھ کر مقدم اور عزیز ہیں۔‘‘
چنانچہ اس محبت کے جذبے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت مطلوب ہے‘ مجبوراً نہیں۔آگے فرمایا:
{وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّ‘بِّکُمْ وَجَنَّۃٍ }
’’اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش یعنی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف ‘‘
سَارِعُوْا مسارعت سے ہے‘ یعنی تیزی دکھانا۔ بہت سارے معاملات میں ہم تیزی دکھاتے ہیں مگر جہاں سب سے بڑھ کر محنت کرنی چاہیے وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کامعاملہ ہے۔قربانی کے موقع پر جو دعائیں ہم مانگتے ہیں‘ ان میں یہ الفاظ بھی ادا کرتے ہیں:
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۱۶۲) } (الانعام)
’’بے شک میری نماز ‘میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیےہے جو تمام جہان والوں کا رب ہے۔‘‘
ساری محنتوں کا محور و مرکز اللہ کی ذات ہو جائے ‘ وہ راضی ہو جائے۔ لَا مَحْبُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا مَطْلُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ، لَا مَقْصُوْدَ اِلَّا اللّٰہُ! اللہ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ ہو۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی مطلوب نہ ہو۔ اللہ سے بڑھ کر کوئی مقصود نہ ہو ۔یہ ہے سَارِعُوْا کا مفہوم۔ ایک لفظ سورۃ الحدید میں آتا ہے‘ جو ہمارے منتخب نصاب میں بھی شامل ہے:
{سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ }(آیت۲۱)
’’ اپنے رب کی مغفرت کے لیے مسابقت کرو۔ ‘‘
مسابقت کو انگریزی میں ہم competition کہتے ہیں۔ دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا ماحول ہے۔ سکولوں‘ کالجز‘ یونیورسٹیز‘ کارپوریٹ سیکٹر ‘ خاندانوں ‘ دوستوں میں آگے بڑھنے کی دوڑ ہے۔ انسان کے اندر یہ ایک فطری جذبہ ہے۔ البتہ دیکھنا یہ ہے کہ یہ پیش قدمی کس میدان میں ہو رہی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ(۱) حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(۲)} (التکاثر)
’’تمہیں غافل کیے رکھا ہے بہتات کی طلب نے! یہاں تک کہ تم قبروں کوپہنچ جاتے ہو۔‘‘
مال اور دنیا کی محبت میں لگے رہے ‘خوب کثرت سے جمع بھی کر لیا لیکن پھر کیا ہوا: حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(۲) یہاں تک کہ تم نے قبریں دیکھ لیں۔ اب دو ٹکے بھی جیب میں جانے والے نہیں ہیں‘ نہ کفن میں جیب ہوتی ہے نہ وہاں سے آن لائن ٹرانزیکشن ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سوچنا چاہیے کہ ہماری محنتوں کا رخ کدھر ہے۔ دنیا ایک ضرورت ہے ‘ کوئی مقصد نہیں ہے۔ لہٰذا اسے ضرورت کی حد تک دیکھنا ہے‘ مقصود و مطلوب نہیں بنانا۔ بقول خواجہ عزیز الحسن مجذوب ؎
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے‘ تماشا نہیں ہے!
دنیا میں یہ ساری بھاگ دوڑآخر کس چیز کے لیے ‘یہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چاہے جتنا کچھ بھی بنا لیں‘ دو فٹ نیچے گئے تو سارا باہر پڑا رہ جائے گا ۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوڑنا انسان کی فطرت میں ہے۔ مسابقت کا جذبہ ہماری سرشت میں موجود ہے۔ ہمارا دین چونکہ دین فطرت ہے‘ لہٰذا وہ ان فطری جذبات کو کچلتا نہیں ہے‘ بلکہ انہیں صحیح رخ پر ڈھالتا ہے‘ چینلائز کرتا ہے۔چنانچہ اگر یہ جذبہ موجود ہے تو اللہ کی مغفرت کے حصول کے لیےکوشش کرو۔
{ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ}
’’اور اُس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین جتنا ہے۔‘‘
تمہاری تیزی‘محنتیں‘ efforts ‘struggle ‘کمپٹیشن جنت کے حصول کے لیے ہو۔
انسان جنت کی وسعتوں کا تصور نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان حقائق کو ہمارے مشاہدات میں سے کچھ چیزوں کو سامنے رکھ کر سمجھاتا ہے۔ جس جنت کی چوڑائی(width) آسمان و زمین جیسی ہو تو اس کی لمبائی( length )کا عالم کیا ہوگا‘ ہم تصور ہی نہیں کر سکتے۔ آسمان کے بارے میں قرآن یہ بھی فرماتا ہے:
{وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ(۴۷)} (الذاریٰت )
’’آسمان کو ہم نے اپنے دست ِقدرت سے بنایا اور ہم وسعت دیے چلے جا رہے ہیں ۔‘‘
آج دنیا اپنی تحقیق سے جہاں تک پہنچی ہے‘ expanding universe کانظریہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ کائنات بھی وسعت پذیر ہے تو جنت کی وسعتوں کا پوری طرح سمجھنا تو ممکن نہیں۔ البتہ اس کاکچھ ادراک ہو سکتا ہے کہ اس کی چوڑائی آسمان و زمین جیسی ہے تو لمبائی کا عالم کیا ہوگا‘ تم تصور نہیں کر سکتے۔رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ آخری بندہ جو سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال کر جنت میں ڈالا جائے گا اس کی جنت اس دنیا سے دس گنا بڑی ہوگی۔ (صحیح مسلم ) حدیث میں الفاظ ہیں کہ رسول اللہﷺ مسکرائے کہ اس بندے کو یقین نہیں آرہا ہوگا کہ اتنی بڑی جنت اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرما رہا ہے۔ آخری بندے کا عالم یہ ہے تو پہلے والوں کی جنت کیسی ہو گی! مقربین کی جنت کیسی ہوگی‘ انبیاء و رسلؑ کی کیسی ہو گی اور امام الانبیاءﷺ کی کیا ہوگی‘ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ یقین بھی عطا کرے ‘شوق بھی عطا کرے اور ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے!
یہ دعا ہے ‘لیکن دعا سے آگے دوا بھی ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں دوا بھی بتاتا ہے‘ دعائیں بھی بتاتا ہے۔آگے فرمایاکہ یہ سب کچھ کس کے لیے ہے:
{اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۳)}
یہ متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔کچھ دن پہلے رمضان کا مہینہ گزرا ۔روزے کا حاصل تقویٰ ہے۔ ساری زندگی کا تقویٰ یہ ہے کہ حرام کو چھوڑدیا جائے‘ گناہوں سے دور رہا جائے‘ نافرمانی سے بچا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت اختیار کی جائے۔ اطاعت کے تقاضے بہرحال چند عبادات تک محدود نہیں ہیں‘ یہ پورا پیکج ہے:
{ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص} (البقرۃ:۲۰۸)
’’اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جائو پورے کے پورے۔‘ ‘
ایسا تقویٰ پوری زندگی پر محیط ہو گا‘ جیسا کہ سورئہ آل عمران ہی میں آتا ہے:
{ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ }
’’اے اہل ِایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسے کہ اس کا تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے‘‘
اس کی مزید وضاحت یوں کی گئی :
{وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)}
’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر حالت اسلام میں۔‘‘
مرتے دم تک مسلم رہنا ۔موت بھی اسلام کی حالت پر آئے ۔یہ ہے مرتے دم تک کا روزہ۔ یہ ہے ساری زندگی کا روزہ۔ یہ ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاس داری ۔اللہ کی جنت کسی بھی طرح سستی نہیں ہے۔ دنیا میں تو بنیادی چیزیں بھی مفت میں نہیں ملتیں‘ تو کیا اللہ کی جنت ہمیں گھر بیٹھے مل جائے گی؟صرف مانگنے سے مل جائے گی؟صرف چاہنے یا طلب کرنے سے تو بچے کو اسکول میں کامیابی نہیں ملتی ‘ہمیں تنخواہ نہیں ملتی۔ جنت کے حصول کے کچھ تقاضے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جا بجا وہ تقاضے اور مطالبات ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ یہ کرو تو تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔فرمایا گیا وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اب یہ متقین کون ہیں؟ قرآن کریم کے شروع میں سورۃ البقرہ ہی میں فرمایا:
{ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(۲) الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳)}
’’جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر‘ اور نماز قائم کرتے ہیں‘ اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘
یہاں بھی کچھ صفات آرہی ہیں کہ جنت کن کے لیے ہے۔ ارشاد ہوا:
{ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ }
’’ جو اِنفاق کرتے ہیں خوشی میں بھی اور تکلیف میں بھی ‘‘
خوش حالی ہوتب بھی ‘تنگ دستی ہو تب بھی۔صحت کا عالم ہو تب بھی ‘بیماری کا عالم ہو تب بھی۔ معاشی اعتبار سے حالات مناسب ہوں تب بھی‘ حالات ذرا تنگ ہو جائیں تب بھی ‘ یعنی ہر حال میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یُنْفِقُوْنَ کے ساتھ یہاں مال کا ذکر نہیں ہے ۔یہ بات ہمارے دروس میں بھی بار بار آتی ہے اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں ذکر کیا کہ یہاں یہ معین نہیں کیا گیا کہ کس چیز کا انفاق مطلوب ہے۔ اللہ نے جان دی ہے‘ اولاد دی ہے‘ صلاحیتیں دی ہیں‘وسائل دیے ہیں۔ سوچنے‘ بولنے‘ سننے ‘ لکھنے کی صلاحیت ہے۔ مینجمنٹ کی صلاحیت ہوگی‘ آئی ٹی صلاحیتیں ہوں گی‘مالیات (finance) سے متعلق صلاحیتیں ہوں گی۔ جو کچھ بھی ہے‘ اس سب کا انفاق مطلوب ہے۔ جیسا کہ سورۃ الحدید میں فرمایا :
{وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ ط} (آیت۷)
’’جس شے میں اللہ نے تمہیں اختیار عطا فرمایا اس میں سے خرچ کرو ۔‘‘
اختیار جان پر بھی ہے‘ مال پر بھی ہے‘ اولاد پر بھی ہے‘ صلاحیتوں پر بھی ہے‘ وسائل پر بھی ہے‘ ان سب کو لگاؤ۔ اس لگانے میں مخلوقِ خدا پر لگانا بھی شامل ہے‘ البتہ اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ اللہ کے کلمے کی دعوت کے لیے‘ اللہ کے دین کی دعوت کے لیے‘ اللہ کے دین کی سربلندی کی جدّوجُہد کے لیے‘ اللہ کے دین کے نفاذ اور قیام کے لیےجدوجہد کی جائے۔لہٰذا جو کچھ بھی وسائل ہیں‘اس سب کا انفاق مطلوب ہے۔
یہ انفاق خوش حالی میں بھی ہونا چاہیے اور تنگ دستی میں بھی۔ جب تنخواہ ملتی ہے تو بندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ۔کبھی تنخواہ کے ساتھ بونس بھی تو ملتا ہے تو اس میں سے بھی اللہ کی راہ میں خرچ ہوتا ہے۔ بعض کاروبار seasonal ہوتے ہیں کہ آٹھ مہینے ذرا ہلکا چلتا ہے جبکہ چار مہینے خوب چلتا ہے۔ جب چار مہینے خوب چلتا ہے تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا معاملہ بھی بڑھتا ہے ۔
اس کا ایک دوسرا پہلو (aspect) یہ ہے کہ اگر اللہ نے وسائل کم دیے ہیں تب بھی خرچ کیا جائے۔اللہ کے رسولﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ اللہ کی راہ میں کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر بھی تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کر سکتے ہو۔یہ صحیح مسلم شریف کی روایت ہے۔ چنانچہ انفاق کے معاملے کو ہر بندہ اپنی استعداد(capacity) کے مطابق دیکھے۔ خرچ کرنے کے اعتبار سے اس رخ پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جب دنیا میں ہمارے ایونٹس آ جاتے ہیں تو کتنا خرچ ہوتا ہے! ایونٹس صرف شادی بیاہ کے نہیں ہوتے ۔ایونٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ سمارٹ فون کا نیا ورژن آگیا ہے ‘گاڑی کا فلاں نیا ماڈل آگیا ہے‘ برینڈز میں ایک اور برینڈ کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ لوگ ٹینشن میں ہوتے ہیں۔ اگر ایک سال ہو گیا اور سمارٹ فون کا سیٹ تبدیل نہیں ہوا تو سمجھتے ہیں ہمارا تو گزارا ہی نہیں ہو رہا۔انا للہ وانا الیہ راجعون! بعض خواتین حد سے زیادہ حساس(over-sensitive) ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے گھرانوں میں بڑی بڑی Prado اور Pajeroکے اندر پانی کے بڑے بڑے ڈرم رکھ کر اُسی وقت خریدے گئے کپڑوں کو پانی میں ڈال کر shrinkکرتی ہیں‘ صرف اس لیے کہ سب سے پہلے کسی درزی کے ہاں میں نے پہنچانا ہے اور سب سے پہلے میں نے پہن کر دکھانا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو باقاعدہ آہ و زاری شروع کردیتی ہیں۔بڑے گھرانوں کے بڑے مسائل ایسے ہوتے ہیں۔ یہ براہِ راست معلومات ہیں۔ جن گھرانوں میں ہوا‘ انہی لوگوں نے یہ باتیں بتائیں۔ آج ہمارے یہ لچھن ہیں ۔ ہر ویک اینڈ ہمارا ایونٹ بنا ہوا ہے۔ البتہ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بات آتی ہے تو مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے۔اس وقت پیٹرول بھی یاد آتا ہے ‘بجلی کا مہنگا ہونا بھی یاد آتا ہے ‘افراطِ زر بھی یادآتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرما دے! اگر جنت چاہیے تو اللہ کی طرف رخ ذرا زیادہ کرنا پڑے گا۔ اللہ کے دین کے لیے بھی خرچ کرنا ہے۔ اللہ کی مخلوق پر بھی خرچ کرنا ہے۔ آگے فرمایا:
{وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ }
’’ اور وہ اپنے غصے کو پی جانے والے ہیں۔‘‘
اس میں بہت تفصیل ہے۔ یہ ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی کیفیات بھی ہمارے سامنے رہنی چاہئیں۔ ذاتی معاملات میں رسول اللہﷺ کو غصہ نہیں آتا تھا۔ آپﷺ معاف فرماتے تھے۔ذاتی معاملات میں انتقام رسول اللہﷺ نے کبھی بھی نہیں لیا۔ آج ہمارے گھر میں نمک مرچ اوپر نیچے ہو جائے تو غصہ آ جاتا ہے۔کسی سے گلاس گر جائے تو بلڈ پریشر بڑھ جاتاہے۔ چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر آج ہمیں غصہ آ جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اپنے ذاتی معاملات میں حضورﷺ کو کبھی غصہ نہ آتا ‘ البتہ اگر کوئی حدود اللہ سے تجاوز کرتا تو سب سے زیادہ غصہ آپﷺ کو آتا تھا۔ چہرہ مبارک سرخ ہو جاتا تھا۔ آج ہمارے ہاںیہ غیرت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔گھرمیں نمازیں ضائع ہوں‘ کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ گھر میں سکرین پر کیا چل رہا ہے‘ کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ڈریس کوڈ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں‘ کوئی پریشانی نہیں۔ گھر میں حرام تو نہیں آ رہا‘ کوئی فکر نہیں۔ آج ہمارا غصہ حماقت سے شروع ہوتا ہے اور ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ انہی چکروں میں لوگوں کے بلڈ پریشر بڑھے ہوئے ہیں‘برین ہیمرج کے معاملات ہیں‘ امراضِ قلب کے مسائل ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ کو غصہ اُس وقت آتا تھا جب اللہ کا حکم ٹوٹتا۔ ہمیں نہ معاشرے میں اللہ کے احکام ٹوٹنے پر غصہ آ رہا ہے ‘نہ اللہ کے دین کے مٹائے جانے اور اس کی مغلوبیت پر کوئی غصہ آرہا ہے‘ نہ سود کے معاملے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺسے جنگ کی حالت جاری رکھنے میں کوئی غصہ آتا ہے۔ جن مسائل پر آنا چاہیے وہاں آ نہیں رہا جبکہ جہاں نہیں آنا چاہیے وہاں ضرورت سے زیادہ غصہ لا کراپنے آپ کو پریشان کرتے ہیں۔ چنانچہ عام حالات میں غصے کو پی جانا پسندیدہ ہے۔جہاں دین کا حکم ٹوٹ رہا ہے‘وہاں غصے کا اظہار مطلوب ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ غصہ آنا انسان کی فطرت میں ہے۔ اس کا اظہار صحیح جگہ پر ہو گا تو اپنا بھی فائدہ ہے‘ معاشرے کا بھی‘ جبکہ غلط جگہ نکلے گا تو اپنا بھی نقصان کریں گے‘ اپنے گھر کا بھی ‘اور معاشرے کا بھی۔ یہاں پسندیدہ بات یہ آ رہی ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں۔ مزید فرمایا:
{وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط }
’’اور لوگوں (کی خطائوں) سے درگزر کرنے والے ہیں۔‘‘
صرف غصہ پی نہیں جاتے بلکہ معاف بھی کرتے ہیں۔ عفو یہ ہے کہ دل سے معاف کر دیاجائے۔ یہ نہیں کہ ظاہر میں تو مسکراہٹ دکھائی جائے لیکن اندر منفی جذبات پل رہے ہوں۔ ایسے میں پھر بلڈ پریشر بڑھے گا ‘ ٹینشن بڑھے گی‘ اپنے لیے پریشانیاں پیدا کریں گے۔ دل سے معاف کرنے کا ایک بڑا خوب صورت لیکن قدرے مشکل نسخہ یہ ہے کہ جس کے بارے میں کوئی مسئلہ ہو‘ اس کے لیے تنہائی میں دعا کرنا شروع کر دیں۔ ان شاء اللہ دل صاف ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے!
اس کے بعد اسلوب بدلتے ہوئے ارشاد ہوا:
{وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳۴)}
’’اور اللہ احسان کی روش اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ ‘‘
ایک ہے صرف معاف کر دینا‘ دل صاف کر لیناجبکہ ایک ہے اس سے آگے بڑھ کر اس کے ساتھ بھلا سلوک کرنا۔ یہ اور بھی مشکل بات ہے ۔ داعیانِ دین کو سورئہ حٰم السجدۃ میں راہنمائی فراہم کی گئی ہے‘ جو مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب میں بھی شامل ہے:
{وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُط }
’’اور (دیکھو!) بھلائی اور بُرائی برابر نہیں‘‘
{اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ }
’’تم مدافعت کرو بہترین طریقے سے‘‘
یعنی بُرائی کا جواب تم بھلائی سے دو ۔
{فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)}
’’تو (تم دیکھو گے کہ) تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہو گی وہ گویا تمہارا گرم جوش دوست بن جائے گا۔‘‘
ایسا اس وقت ہو گا جب بدی کے مقابلے میں جواب بھلائی سے دیا جائے گا۔ یہ آسان نہیں‘ لیکن جنت بہرحال مشقتوں سے ‘مشکلات سے گھیری گئی ہے۔یہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی پسندیدگی کا اظہار فرما رہا ہے۔ ’’حدیث ِجبریل ؑ‘‘ میں رسول اللہﷺ نے ’’احسان‘‘ کی تعریف بایں الفاظ فرمائی:
((اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ، فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ))
’’اللہ کی بندگی ایسے کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ‘اور اگر تم اسے دیکھ نہیں سکتے تو (یقین رکھوکہ) اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ ‘‘
اس کے ذیل میں ایک قابل قدر واقعہ بھی ہے‘ جسے مفتی محمد شفیع ؒنے بھی نقل کیااور دیگر مفسرین نے بھی۔ سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحب زادے جناب علیؒ کی خادمہ وضو کا پانی پیش کر رہی تھی کہ برتن ہاتھ سے چھوٹ گیا اور پانی ان کے کپڑوں پر گرگیا ۔اب ظاہری بات ہے کہ چہرے پر کچھ ناگوار تاثرات آنے لگے۔ ایسے میں اس خادمہ نے آیت کا یہ حصہ پڑھا: {وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ} یہ سن کر جناب علی بن حسینؓ کے چہرے سے منفی اثرات چلے گئے۔ پھر خادمہ نے کہا: {وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ طاس پر جناب علیؒ نے کہا کہ میں نے تجھے معاف کر دیا ۔خادمہ نے مزید کہا: {وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳۴) } اس پر آپ نےاسے آزاد کر دیا ۔ غصے کو پی گئے‘ خطا کو معاف کر دیا اور احسان کیا کہ اسے آزاد کر دیا۔اُس زمانے کی کنیزوں کو بھی قرآن آتا تھا‘ آج ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہمیں کتنا قرآن آتا ہے ۔ ہم اپنے معاملات پر قرآن کا کس قدر حوالہ دیتے ہیں ۔ جب اللہ کا کلام quote ہو گا تو پھر اللہ کی بات بھی آئے گی‘ اللہ کا خوف بھی دل میں ہوگا ‘اللہ کی محبت بھی دل میں ہوگی ۔قرآن کا نور بھی ہوگا۔اس سے نہ صرف ہمارا بلکہ پوری دنیا کا فائدہ ہوگا۔ یہ غور طلب بات ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے!
اس سے آگے یہ ذکر ہے کہ اگر خطا کر بیٹھتے ہیں تو اس پر اَڑے نہیں رہتے بلکہ اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں‘اس سے استغفار کرتے ہیں ۔ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخشنے والا ہو؟ انفرادی سطح پر جب تک کہ موت کا غرغرہ نہ آ جائے ‘توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اہل ایمان گناہ کرتے نہیں ہیں‘ان سے ہو جاتا ہے ۔ اگر ہو جاتا ہے تو اس پر اَڑے نہیں رہتے‘اللہ کی طرف پلٹ آتے ہیں‘اللہ کی طرف رجوع کر لیتے ہیں۔ حقوق العباد میں کوتاہی کر بیٹھیں یا حقوق اللہ میں ‘اللہ کے حضور جھک جاتے ہیں۔ توبہ اور استغفار کا یہ پہلو انفرادی سطح کا بھی ہے اور اجتماعی سطح کا بھی۔ آج جو ہم پر مصائب ہیں ‘وہ ہمارے اجتماعی گناہوں کی وجہ سے ہیں۔یہاں قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو بخش دینے والا ہو ؟اور ایمان والوں کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اڑے نہیں رہتے ۔جب وہ غلطی کر بیٹھتے ہیں تو فورا ًپلٹ آتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے میں حضرت آدم علیہ السلام جھک گئے تھے جبکہ شیطان اَڑ گیا تھا۔ لہٰذا کامیابی حضرت آدم علیہ السلام کو ملی۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے کلمات بھی سکھا دیے:
{رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳)} (الاعراف)
’’ (اس پر) وہ دونوں پکار اُٹھے کہ اے ہمارے ربّ! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر‘ اور اگر تُونے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان بھی فرما دیا ‘جبکہ ابلیس راندئہ درگاہ کر دیا گیا ۔اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا۔ چنانچہ ایمان والوں سے اگر گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ سچی توبہ کرتے ہیں ۔پھر ان کے لیے اللہ کی مغفرت اور اللہ کی طرف سے جنت کے وعدے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہی اہل ِجنت میںہم سب کو شامل فرمائے!