(ظروف و احوال) اسلام‘ جمہوریت اور پاکستان - ایوب بیگ مرزا

10 /

اسلام‘ جمہوریت اور پاکستانایوب بیگ مرزا

ایک زمانہ تھا جب پاکستان کی اشرافیہ سیاسی اور اسلامی جماعتوں سے ’’پاکستان اسلام کا قلعہ ہے‘‘ اور ’’جمہوریت پاکستان کی اساس، جڑ اور بنیاد ہے ‘‘جیسے نعرے لگواتی تھی۔ اہل ِ پاکستان کو توقع تھی کہ جلد ہی یہ نعرے حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔ ۱۹۴۹ء میں جب قراردادِ مقاصد منظور ہوئی تو محسوس ہوا کہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ اب دنوں کی نہیں تو مہینوں کی بات یقیناً ہو گی۔ خوشی اور قلبی سکون کی ایک لہر تھی جس نے عوام کے دلوں کو گرما دیا۔ افسوس‘ صد افسوس‘ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان میں اسلام کے لیے دروازے بند ہی نہیں بلکہ مقفل کردیے گئے اور جمہوریت کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا گیا کہ وہ ایک گالی بن گئی۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام پاکستان کا باپ ہے اور جمہوریت پاکستان کی ماں ہے‘ لیکن اشرافیہ نے اس باپ کو گھر کی دہلیز پر ہی روکے رکھا اور اسےاندر داخل ہونے کی اجازت نہ دی جبکہ ماں کی توہین بلکہ ایسی بے حرمتی کی کہ اچھے بھلے لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہ اللہ ایسی نافرمان اولاد سے سب کو محفوظ رکھے۔ اگرچہ عام شہری بھی اتنے معصوم نہیں ہیں کہ ذاتی مفادات پر زد پڑے اور وہ بِلک نہ اٹھیں‘لیکن اسلام اور جمہوریت کے حوالے سے انہوں نے نعروں پر ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا۔ اشرافیہ نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور سرِ تسلیم خم کے خوگر ہو جانے والے عوام کے ذاتی اور مالی مفادات پر بھی اب بھاری پاؤں رکھ دیا۔ عوام اب برداشت کے چونکہ کافی عادی ہو چکےہیں‘ لہٰذا اشرافیہ کے ہاتھوں اس حوالے سے بھی پِس جانے پر میدان میں نکلنے کی جرأت نہیں کرتے۔ وہ سوشل میڈیا کو ڈھال بناتے ہیں ‘اسی پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ اشرافیہ سوشل میڈیا کی ناکا بندی کرنے کے لیے انہی عوام کے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ‘لیکن فی الحال ناکام ہے۔ اشرافیہ کی یہ ناکامی ایک دوسرے زاویے سے اسےکامیابی کی راہ بھی دکھاتی ہے ۔سوشل میڈیا کے ’’مجاہد‘‘ سمجھتے ہیں کہ یہی کافی ہے‘ کیونکہ آنسو گیس، لاٹھی اور گولی کا سامنا کرنے کے لیے نہ ان میں حوصلہ رہا ہے نہ وہ اب اس کو قابل عمل سمجھتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے چھپ چھپا کر کھیلنا اور دل کی بھڑاس نکالنے کا وطیرہ بنا لیا ہے ۔وہ رائے عامہ اپنے حق میں کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہیں جس پر اشرافیہ ناک بھوں چڑھانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔
اس تحریر میں راقم پاکستان میں جمہوریت کی کہانی مختصر ترین انداز میں پیش کرے گا۔ اس دوران اسلام کو کہاں کہاں اور کیسے استعمال کیا گیا‘ اس پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ جمہوریت پر پہلا حملہ اس وقت ہوا جب کانگریس کی مدد سے صوبہ سرحد میں خدائی خدمت گاروں کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ اس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں عوام نے مسلم لیگ کے حق میں اور کانگریس کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ بہرحال مرکزی حکومت کے پہلے چار سال یعنی۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء تک خیریت سے گزرے۔ اس دوران لیاقت علی خان وزیراعظم رہے۔۱۴ اکتوبر ۱۹۵۱ء کو انہیں لیاقت باغ‘راول پنڈی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اکبر نامی شخص نے گولی مار کر شہید کر دیا ۔ قریب موجود پولیس والوں نے قاتل کو فوری طور پر گولیوں سے بھون ڈالا۔ ظاہر کیا گیا کہ ایسا جذباتی سطح پر ہوا‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سازش میں سرکاری اہلکاروں کی شرکت کا یہ واضح اظہار تھا‘ تاکہ قاتل گرفتار ہو کر سازشی تانا بانا بننے والوں کو بے نقاب نہ کر دے۔ سچ یہ ہے کہ اس قتل ِناحق نے پاکستان میں جمہوریت کے پاؤں ہمیشہ کے لیے اکھاڑ دیے ‘جو پھر کبھی جم نہ سکے۔ لیاقت علی خان کی شہادت سے پہلے ایوب خانی مارشل لاء تک سات سالوں میں خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرا، آئی آئی چندریگر، چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی اور فیروز خان نون پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ گویا ایک حکومت اوسطاً ایک سال ایک ماہ رہی۔ فیروز خان نون کی حکومت کے خلاف صوبہ سرحد کے خان عبدالقیوم خان نے اُس وقت تک کا سب سے بڑا جلوس نکالا اور چند دن بعد آرمی چیف ایوب خان نے ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘کی صدا لگا کر جمہوریت کا بوریا بستر لپیٹ دیا۔ یہاں اس نکتےکی وضاحت بڑی ضروری ہے کہ اگرچہ مرکزی حکومتوں کا یوں آنا جانا سیاسی غیر استحکام کا منہ بولتا ثبوت تھا لیکن آج ملک کے تمام غیر جانبدار تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس لنگڑی لولی جمہوریت پر اگر شب خون نہ مارا جاتا تو وہ آہستہ آہستہ اپنی کمزوریوں کو دور کر لیتی اور ملک میں سیاسی استحکام آ جاتا۔
اُس وقت کی عالمی صورتِ حال کچھ یوں تھی کہ جنگ عظیم دوم نے سپر پاورزسوویت یونین اور امریکہ کو آمنے سامنے کر دیا تھا۔ برطانیہ جو اس سے پہلے سپر پاور تھا ‘امریکہ کے حق میں دستبردار ہو چکاتھا۔امریکہ اور سوویت یونین میں سیاسی اور عسکری کشمکش جاری تھی۔ دونوں اپنی اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف ممالک کو اپنا حلیف بنا رہے تھے۔ مغربی یورپ امریکہ کا حلیف بن گیا جبکہ مشرقی یورپ سوویت یونین کے ساتھ جُڑ گیا۔ برصغیر تقسیم ہو کر بھارت اور پاکستان کے نام سے دو ممالک وجود میں آ چکے تھے۔ بھارتی سیاست دانوں میں کمیونزم کے جراثیم موجود تھے ‘ چنانچہ ان کا منطقی رجحان سوویت یونین کی طرف تھا جہاں ملحد نظام قائم ہو چکا تھا۔ وہ پاکستان جو مذہب کے نام پر قائم ہوا تھا ‘اس کا سوویت یونین سے کسی قسم کے رابطے اور تعلق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ امریکہ آبادی کی اکثریت کے حوالے سے ایک عیسائی ریاست تھی‘ یعنی کم از کم خدا کے وجود کا اقرار تو تھا ‘لہٰذا منطقی طور پر پاکستان کا رجحان سوویت یونین کے حریف امریکہ کی طرف ہوا۔ یہاں حوالے کے طور پر نوٹ کر لیں کہ تقسیم ِہند سے چند ماہ پہلے امریکی کانگریس کا ایک وفد قائداعظم سے ملا تھا ‘جس کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پاکستان خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ ظاہر ہے کہ قائد اعظم نے اس تعاون کا اظہار سوویت یونین کے مذہب دشمن نظریات کے پس منظر میں کیا تھا۔ قائد اعظم کی پالیسی واضح اور قابلِ فہم تھی۔اِس میں کسی قسم کا ابہام نہیں تھا۔ بھارت نے دوغلی پالیسی اختیار کی۔ وہ سوویت یونین کا حلیف بھی بن گیا اور غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کا رکن بھی۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ وہ کس طرح خفیہ طور پر امریکہ سے نہ صرف رابطے میں تھا بلکہ اس سے مستفید بھی ہوتا رہا۔
امریکہ کی یہ پالیسی سامنے آئی کہ بھارت کو ناراض کیے بغیر پاکستان سے مضبوط اور دوستانہ تعلقات قائم کر کے سوویت یونین سے عسکری طور پر نمٹا جائے‘ اور کمیونزم کا راستہ روکا جائے۔ پاکستان چونکہ جغرافیائی لحاظ سے سوویت یونین کے قریب واقع تھا اور نظریاتی طور پر اس کا بدترین دشمن تھا‘ لہٰذا ان دونوں کیفیات کی بنا پر اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ گویا اُس وقت امریکہ کے لیے پریشان کُن مسئلہ یہ تھا کہ ہر صورت سوویت یونین کا راستہ روکا جائے۔ اس کے لیے امریکہ کو پاکستان میں ایک مضبوط حکومت کی ضرورت تھی جبکہ یہاں حال یہ تھا کہ ہر دوسرے دن حکومتیں تبدیل ہو رہی تھیں۔ پاکستان کے آرمی چیف ایوب خان نے فیروز خان نون کے دورِ حکومت میں امریکہ کا ظاہری طور پر عسکری مسائل کے حوالے سے دورہ کیا‘ لیکن واپسی کے کچھ عرصے بعد ۷ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو پاکستان میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ظاہر ہے امریکہ نے ترغیب بھی دی اور اِس حوالے سے تعاون کا وعدہ بھی کیا۔ پاکستان کی جمہوریت کے لیے یہ پہلا لیکن زوردار دھچکا تھا۔ اگر باریک بینی سے پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس کے آفٹر شاکس سے آج تک پاکستان کی جمہوریت متزلزل ہے اور اس کی جڑیں مضبوط نہیں ہو پا رہیں۔ البتہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اُس وقت عوام جو روز روز حکومتوں کے بدلنے سے تنگ آ چکے تھے ‘انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔ عوام نہیں جانتے تھے کہ لُطف دینے والا یہ لمحہ دراصل مدہوشی کا ایسا ٹیکا ہے جس کے نتیجے میں بالآخر ان کا سب کچھ لُٹ جائے گا۔ اُس وقت کس کو خبر تھی کہ یہ حکومتی مضبوطی درحقیقت ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی بنیاد بننے والی ہے۔ ایوب خان نے ۱۹۵۸ء سے ۱۹۶۹ء تک حکومت کی جو بظاہر بڑی مضبوط تھی۔اس دوران ملک میں صنعتی انقلاب آیا۔ ڈیم تعمیر ہوئے‘ جس سے زراعت نے دن دُگنی رات چوگنی ترقی کی۔خوش حالی دیوار پر لکھی نظر آنے لگی۔ اس فولادی حکومت نے ۱۰ سال مکمل کیے تو ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ یہ کہا سنا گیا کہ اس حکومت نے عوام کی تقدیر بدل دی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ نظر آنے والے حقائق کے مطابق ملک اقتصادی لحاظ سے بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ بھارت اور پاکستان ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے تھے لیکن پاکستان ہر لحاظ سے آگے بڑھتا نظر آرہا تھا۔ اقتصادی صورت حال اُس وقت یہ تھی کہ پاکستان کا ایک روپیہ بھارت کے قریباً پونے تین روپے کے برابر تھا۔ ایوب حکومت نے دس سالہ جشن زور شور سے منایا لیکن اُس حکومت کے زوال کا آغاز بھی وہیں سے شروع ہو گیا۔ ایوبی حکومت کے دوران ۱۹۶۵ء میں بھارت سے بھی ایک ٹاکرا ہوا۔ بھارت اپنی پوری قوت سے حملہ آور ہوا ‘لیکن پاکستان کامیابی سے اپنا دفاع کرگیا۔ اس جنگ کے بعد پاکستان میں چھ ستمبر کو ’’یوم دفاع‘‘ منایا جاتا جس میں عوام جوش و خروش سے شرکت کرتے۔یہ عسکری دفاع ایوب خان کا سیاسی دفاع کرنے میں ناکام رہا۔ مشرقی پاکستان نے یہ مسئلہ کھڑا کر دیا کہ جنگ میں اُس کے دفاع سے مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ اگر بھارت مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیتا تو اس کا دفاع ناممکن تھا ۔ قصہ مختصر‘ عوامی تحریک کے ہاتھوں مجبور ہو کر مشرقی پاکستان کے سیاسی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو رہا کرنا پڑ گیا‘ جس نے رہا ہونے کے بعد بدنام زمانہ چھ نکات سامنے رکھے۔ مغربی پاکستان کے سیاسی رہنمائوں کو یہ چھ نکات پسند تو ہرگز نہ تھے لیکن ایوب خان کی دشمنی میں خاموشی اختیار کی اور تحریک جاری رکھی۔ ایوب خان نے عوامی غیظ و غضب کو بھانپ کر اپنے عہدے سے استعفاءتو دے دیا لیکن حماقت عظمیٰ یہ کی کہ اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سپیکر کے بجائے اقتدار آرمی چیف یحییٰ خان کے سپرد کر دیا۔ کاش ایوب خان اس وقت اپنی جان بچانے کی بجائے پاکستان کا سوچتے اور عام انتخابات کا اعلان کر دیتے! نئے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یحییٰ خان نے عام انتخابات کا اعلان تو کر دیا لیکن یہ ساز باز ہوتی رہی کہ اگلی حکومت میں اسے صدر منتخب کیا جائے۔ یہ ہدف حاصل ہوتا نظر نہ آیا تو مغربی پاکستان کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مل کر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔ بعد ازاں انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے پر مشرقی پاکستان میں بغاوت پھوٹ پڑی ۔پاکستان سیاسی اور عسکری اقتدار کے حریصوں کے ہاتھوں دولخت ہو گیا۔
یہاں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس سانحے کا کلیدی ذمہ دار بھٹو تھے کہ وہ شیخ مجیب الرحمٰن کو غیرمشروط طور پر اقتدار منتقل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے کے باوجود وہ اقتدار میں حصہ طلب کر رہے تھے۔ گویا پاکستان کی شکست و ریخت کے ذمہ دار بھٹو اور یحییٰ دونوں تھے۔جمہوری حل اور وقت کا تقاضا یہ تھا کہ زیادہ نشستیں جیتنے والی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات اگرچہ مرکز کو کمزور کر دینے والے تھے لیکن وہ جب خود مرکز میں حکومت سنبھالتا تو مرکز کی مضبوطی اُس کی ضرورت بن جاتی۔ بہرحال‘ ذاتی اقتدار کی ہوس نے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے چند سال حکومت کی۔ وہ ایک باصلاحیت شخص تھے۔ خارجہ پالیسی کے ایک اچھے ماہر تھے ۔چین سے قریبی اور زبردست تعلقات قائم کرنے میں ان کا کلیدی اور اہم ترین رول تھا۔ پھر یہ کہ شملہ معاہدہ ایک کرشمہ تھا‘ جس سے وہ بھارت میں قید پاکستانیوں کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ بھارت میں کانگریس کی حریف جماعتیں خاص طور بی جے پی آج تک اِس پر سر پیٹتی ہیں۔ اُس کا موقف ہے کہ بھارت نے میدان میں جیتی جنگ میز پر ہار دی۔ بہرحال یہ بھٹو کی زبردست کامیابی تھی۔ داخلی سطح پر بھٹو نے فاش غلطیاں کیں ۔ معاشی لحاظ سے نیشنلائزیشن کی پالیسی جبکہ سیاسی لحاظ سے اپنے دشمن کو برداشت نہ کرنا اور فکس اپ کر دینے جیسی احمقانہ کارروائیوں نے ملک کو برباد کردیا۔ بھٹو نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت وقت سے پہلے انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان سیاسی حریفوں میں نہ صرف کشیدگی بلکہ انتشار ہے‘ لہٰذا فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کی امیدوں کے قطعی طور پر برعکس‘ اپوزیشن ’’پی این اے‘‘ کے نام سے یوں متحد ہوئی کہ ایسا لگا جیسے وہ کبھی منتشر تھی ہی نہیں۔ انتخابات ہوئے جس میں بھٹو اور ان کے ساتھیوں نے ایک حماقت کی۔ وہ الیکشن جیت رہے تھے لیکن اس خواہش کے تحت کہ بڑے مارجن سے جیتیں‘ انہوں نے چند نشستوں پر دھاندلی کی۔ پی این اے کو موقع مل گیا اور انہوں نے تحریک چلائی۔یہ تحریک چند دنوں میں ناکام ہوتی نظر آنے لگی تو کسی سیانے نے انہیں مشورہ دیا کہ اس تحریک کو مذہب کا ٹچ دے دو۔ مشورے پر عمل ہوا تو اپوزیشن کے لیے انتہائی زبردست نتائج سامنے آئے۔ لوگوں نے نظامِ مصطفیٰ ﷺکے نام سے چلنے والی تحریک میں سینہ کھول کر گولیاں کھائیں‘ تاکہ وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہو سکیں۔ بہرحال اِس تحریک کا نتیجہ ایک اورمارشل لاء کی صورت میں نکلا ۔
نئے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق تھے جنہیں بھٹو نے بڑی چھان بین کے بعد منتخب کیا تھا۔یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ بھٹو خود لکھتے ہیں کہ میں نے آرمی چیف مقرر کرنے کے حوالے سے مختلف حکمرانوں کے تجربوں کا جائزہ لیا۔ یہاں تک کہ یورپ میں کیسے آرمی چیف مقرر کیے گئے؟ انہوں نے کس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھائیں؟ اپنے دور کا پہلا آرمی چیف انہوں نے جنرل گل حسن کو منتخب کیا ‘لیکن جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ غلام مصطفیٰ کھر جو بھٹو کے قریبی ترین ساتھی تھے ان کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ جنرل گل حسن سے نجات دلائیں ۔ مصطفیٰ کھر نے جنرل صاحب کو اہم قومی امور کے حوالے سے لاہور میں گفتگو کا جھانسہ دیا اور گورنر ہاؤس کے ایک کمرے میں بند کر کے استعفےکا مطالبہ کیا۔ ڈرا دھمکا کر انہیں استعفاء دینے اور یورپ کے ایک ملک میں سفیر کا عہدہ سنبھالنے پر رضامند کر لیا۔ جب بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ سینیارٹی لسٹ میں ساتویں نمبر پر تھے۔ جنرل ضیاء الحق کا پس منظر یہ تھا کہ وہ بریگیڈیئر کی حیثیت سے ڈیپوٹیشن پر اردن گئے تھے۔ شاہ اردن کو مسئلہ یہ تھا کہ فلسطینی اُن کی جان کا عذاب بنے ہوئے تھے۔ بریگیڈیئر ضیاء الحق نے فلسطینیوں کو حکومت کی رضا پر راضی رہنے کے لیے اور حکومت کی اطاعت قبول کرنے کے لیے ایسا سبق سکھایا جسے فلسطینیوں کی اولاد آج تک نہیں بھولی۔ اس وفا شعاری کے بعد وہ پاکستان آگئے اور جلد ہی جنرل کے عہدے پر ترقی پا گئے۔
درحقیقت اُنہوں نے ثابت کیا کہ وہ حکومت کی عمل داری کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں‘ چاہے حکومتی فرمان انتہائی ظالمانہ ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال جب بھٹو نے آرمی چیف کے انتخاب کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق کا انٹرویو لیا تو ایک سوال یہ بھی کیا کہ: پاکستان کے حالات پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟ جنرل صاحب کا جواب تھا کہ مجھے اپنے ملک کے حالات کی قطعی طور پر کوئی خبر نہیں‘ میں تو اخبار بھی نہیں پڑھتا۔بھٹو کو جنرل ضیاء الحق کی دو ادائیں بہت ہی پسند آئیں۔ ایک تو حکمران کے کہنے پر فلسطینیوں کو سبق سکھانا اور دوسرا سادگی کی یہ انتہا کہ ملکی حالات سے بھی بے خبر ہیں‘ یعنی سیاست سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ لہٰذا جنرل ضیاء الحق کا نام آرمی چیف کے لیےطے کر لیا گیا۔ شنید یہ ہے کہ جنرل گل حسن نے اس ملک سے جہاں وہ سفیر مقرر کیے گئے تھے ‘بھٹو کو پیغام بھجوایا کہ جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنانے کی غلطی ہرگز نہ کرنا‘ ورنہ پچھتاؤ گے۔ بھٹو نے ان کے مشورے کو کوئی اہمیت نہ دی اور ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ بقایا تاریخ ہے۔
البتہ یہ بتانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ جب تک بھٹو کی کرسی مضبوط تھی‘ آرمی چیف ضیاء الحق انہیں آؤٹ آف وے پروٹوکول دیتے تھے اور اُن سے وفاداری کے اظہار کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔ مولانا کوثر نیازی اپنی کتاب ’’اور لائن کٹ گئی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب پی این اے کی تحریک نظام مصطفیٰﷺ عروج پر پہنچ گئی اور بھٹو کی کرسی ہچکولے کھا رہی تھی تو کابینہ کی ایک میٹنگ میں ضیاء الحق کرسی کی پشت کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر کھڑے ہو گئے اور حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری کا زوردار انداز میں اعادہ کیا۔ البتہ بھٹو کو یہ اطلاعات پہنچ رہی تھیں کہ امریکی سفیر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔اِن ہی اطلاعات کی بنیاد پر ذوالفقار علی بھٹو پی این اے کے تمام مطالبات مانتے چلے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ نئے انتخابات کرانے اور تمام معاملات پر صلح کا فارمولا طے ہو گیا۔ بھٹو اس قدر مطمئن تھے کہ خلیجی ممالک کے دورے پر چلے گئے۔ واپسی پر ایک رات وہ میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے‘ جس کے اختتام پر جنرل ضیاء الحق کمرے سے باہر آگئے تو ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار واضح تھے۔ وہ تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے۔پی این اے سے معاملات اگرچہ مکمل طور پر طے ہو چکے تھے‘ لیکن بھٹو حکمت عملی کے تحت معاہدے کا انکشاف نہیں کر رہے تھے۔ وہ وزیراعظم ہاؤس واپس پہنچے تو انہیں ان کے کزن کا فون آیا کہ مجھے واپسی پر راستے میں جگہ جگہ فوجی نظر آئے ہیں۔ بھٹو نے جنرل ضیاء الحق اور دوسرے جرنیلوں کو فون کیے‘لیکن کسی سے رابطہ نہ ہو سکا۔ بھٹو سمجھ گئے کہ سب جی ایچ کیو میں جمع ہیں اور پھر واقعتاً لائن کٹ گئی۔ صبح بھٹو نے ضیاء الحق کو فون کیا توانہوں نے کہا: ’’سر مجبوری تھی۔ حالات بہت خراب تھے۔ آپ بتائیے کہاں رہنا پسند فرمائیں گے؟‘‘ یوں یہ جمہوری دور بھی اسلحہ کے زور پر ختم ہوگیا۔
بھٹو کو مری منتقل کر دیا گیا۔ وہاں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق سابق وزیراعظم بھٹو کو ملنے گئے۔ جو تصاویر اخبارات میں شائع ہوئیں‘ ان سے یوں دکھائی دیتا تھا کہ بھٹو ابھی بھی حکمران ہیں اور ضیاء الحق ان کے اسیر ہیں۔ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ بھٹو مستقل طور پر اظہار برہمی کرتے رہے جبکہ ضیاء الحق حاکم ہو کر بھی نرم خواور ملائم رہے۔ آخر کار بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ۹۰ دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ۔ مختلف قرآنی آیات کا حوالہ دے کر انتخابات کرانے کے وعدوں کا اعادہ کر تے رہے۔ اس طرح گیارہ سال گزر گئے ‘یہاں تک کہ طیارے کا حادثہ ہو گیا اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ دراصل بھٹو کو برطرف کر کے ضیاء الحق کو لانے میں سی آئی اے کا کردار تھا اور شنید یہ ہے کہ ان کے طیارے کے حادثے میں بھی امریکہ ہی ملوث تھا۔ صدر غلام اسحاق خان اور نائب آرمی چیف نے بیچاری جمہوریت کو بحال کر دیا‘ لیکن جلد ہی جمہوریت کی گاڑی کو ایک مرتبہ پھر حادثہ پیش آگیا۔
نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو سری لنکا سے پاکستان واپس آتے ہوئے ہوائی سفر کے دوران برخاست کر دیا۔ اصولی طور پر ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ان کا حق تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق اسے غدر قرار دیا۔ نواز شریف کے خلاف اقدام کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا اور خود اقتدار سنبھال لیا ۔یوں جمہوریت کی ناؤ ایک بار پھر طاقت کے بہتے دریا میں ڈوب گئی۔ جنرل مشرف نے نہ اپنے اس قدم کو مارشل لاء کا نام دیا اور نہ ہی خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کہلائے بلکہ اپنے اِس منصب کے لیےCEیعنی چیف ایگزیکٹو کا نام پسند کیا۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہر مارشل لاء میں اقتدار کو مختلف نام اور مختلف انداز سے اپنایا گیا۔ ایوب خان اور یحییٰ خان نے سابقہ آئین منسوخ کرکے اپنی اپنی طرف سے قوم کونئے آئین دیے۔ جنرل ضیاء الحق نے ۱۹۷۳ء کے آئین کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا بلکہ اس کی وہ شقیں معطل کر دیں جو اقتدار میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ جنرل پرویز مشرف نے عدالت کے ذریعے ایک فرد کی حیثیت سے اختیار حاصل کر لیا کہ وہ جب چاہیں آئین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ماضی میں عدلیہ نے آئین اور جمہوریت کے بجائے ہمیشہ مارشل لاء لگانے والوں کا ساتھ دیا۔
البتہ یہ اعتراف بھی کرنا ہو گا کہ بہرحال عدلیہ کا جیسا تیسا کوئی وجود تھا۔ آج عام شہریوں کے ساتھ عدلیہ بھی عدل ڈھونڈ رہی ہے۔ بالائی عدالتوں کے کئی جج خود حصولِ عدل کے لیے در بدر ہو رہے ہیں‘لیکن عدل عنقا ہے۔ عدلیہ کو مکمل طور پر انتظامیہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ ججز کے تبادلے ایک عدالت سے دوسری عدالت میں اس طرح ہو رہے ہیں جسے کلرکوں کے ہوتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اپنے صدر ٹرمپ کی نامعقول حرکات کی وجہ سے ہرگز اس قابل نہیں رہا کہ جمہوری اقدار کے حوالے سے اس کی مثال دی جائے لیکن اس کے باوجود ابھی تک یہ صورت حال ہے کہ جج کی ٹرانسفر تو بڑی دور کی بات ہے‘ امریکہ کی فیڈرل کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں ہوتی تاکہ وہ کسی نوع کے دباؤ میں نہ آئے۔اپنی آزاد مرضی اور آزاد ذہن سے فیصلے کر سکے۔ بہرحال یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ بات جنرل مشرف کے سربراہ حکومت و ریاست بن جانے کی ہو رہی تھی۔حکومتی سربراہ بننے کے ساتھ اب آئین سازی اور قانون سازی بھی ان کی ذات میں جمع ہو گئی تھی‘ یعنی اختیارات کے گھنٹہ گھر میں ہر طرف وہ ہی وہ تھے۔ جب ان کا جی چاہا ‘انہوں نے صدر رفیق تارڑ کو اٹھا کر ایوان صدر سے باہر پھینک دیا اور خود پاکستان کے صدر بن گئے۔ جنرل مشرف کے دور میں نائن الیون ہوا ‘جب امریکہ کے صدر بش نے دنیا کو ان الفاظ میں دھمکی دی تھی:
Either you are with us or against us.
یعنی ہر ملک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے یعنی امریکہ کے ساتھ ہے‘ وگرنہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ امریکہ کے خلاف ہے۔امریکہ نے افغانستان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ہے۔ امریکہ نے صدر مشرف کے سامنے سات مطالبات رکھے اس توقع کے ساتھ کہ کچھ مطالبات تو تسلیم کر ہی لیے جائیں گے۔ امریکی انتظامیہ اس وقت ششدر رہ گئی جب صدر مشرف نے تمام مطالبات تسلیم کر لیے۔ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر اس وقت کوئی حقیقی جمہوریت ہوتی اور عوام کی حقیقی نمائندہ پارلیمنٹ ہوتی تو امریکہ یوں ایک ٹیلی فون کال پر اپنے مطالبات تسلیم نہیں کروا سکتا تھا۔
جمہوری اداروں اور عوام کے ووٹوں سے بننے والی حکومت کو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ عوامی حکومت کے فیصلے طویل مشاورت کے بعد ہوتے ہیں۔ حکومت ان عوام کو جواب دہ ہوتی ہے جن کے ووٹوں سے وہ وجود میں آئی ہوتی ہے۔ ملک کی سیاست میں ان کی بقا عوامی خواہشات کے تابع ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر جمہوری حکومت عوام کے مفاد میں فیصلے کرنے کی پابند ہوتی ہے‘ وگرنہ اگلے الیکشن میں عوام انہیں مسترد کر دیتے ہیں۔ گویا ریاست اور عوام کے مفادات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جمہوریت کوئی مثالی طرزِ حکومت ہے۔ درحقیقت ہم اس تحریر میں آمریت اور مطلق العنانی سے جمہوریت کا تقابل کر رہے ہیں۔ آج دنیا میں جو طرز ہائے حکومت موجود ہیں ان میں جمہوریت اگرچہ بہتر ہے‘ وگرنہ یہ اس نظام خلافت کے سامنے ہیچ اور انتہائی حقیر ہے جس میں عوام کی رائے اور ان کے مفادات ریاست کی اولین ترجیح ہوتے ہیں۔پاکستان میں خاص طور پر مذہبی جماعتوں اور اُن کے کارکنوں کے قلوب و اذہان میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ جمہوریت ہر صورت ایک غیر اسلامی طرز حکومت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں کوئی معین نظام حکومت نہیں دیا گیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک عمومی بات کی ہے کہ مسلمان اپنے معاملات مشاورت سے طے کریں۔ کوئی طرزِ حکومت کفر نہیں ہے‘ اگر اس کے آئین اور قانون کی تمام شِقات بلا استثناء شریعت کے دائرے میں ہیں۔ تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ اگر امریکہ کے آئین میں بھی یہ شق شامل کر دی جائے کہ قانون سازی صرف اور صرف اسلامی شریعت کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی تو امریکی نظام حکومت بھی قابلِ قبول ہو جائے گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے انسانیت تک پہنچے‘ انہیں مِن و عن قبول کرنا ہوگا۔اگر ان کی بنیاد پر ریاستی ڈھانچا کھڑا ہوگا تو اہل ِایمان کے لیے ہر طرزِ حکومت قابلِ قبول ہے‘ چاہے اس کا کوئی بھی نام رکھ لیا جائے۔ یہ تصور بھی غلط ہے کہ اسلامی حکومت میں عوام کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دورِ حکومت میں حج کے دوران طواف کر رہے تھے کہ انہیں بتایا گیا کہ کچھ لوگ مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کے بعد فلاں شخص کو خلیفہ بنا لیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ میں ابھی خطبہ دیتا ہوں کہ یہ عوام کا حق ہے کہ کون ان کا خلیفہ بنے۔ آپ کو مشورہ دیا گیا کہ آپ مدینہ واپس جا کر لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کریں ۔ چنانچہ آپ نے مشورہ قبول کر کے ایسا ہی کیا۔ گویا آم کھانے سے غرض ہے‘ پیڑ گننے سے نہیں۔ مسلمان ملک کا آئین اور قانون ہی نہیں بلکہ مکمل ڈھانچا بھی اللہ تعالیٰ کی اس شریعت کے مطابق ہو جو نبی آخرالزماں ﷺکے ذریعے مسلمانوں تک پہنچی۔ لہٰذا مسئلہ ہرگز یہ نہیں کہ طرزِ حکومت کا نام کیا ہو۔ جو بھی ہو‘ اس میں شریعت اسلامی کی بالادستی ہو۔ ہمارے اسلاف کے ہاں اس کا نام خلافت تھا تو یہی خوب صورت نام اپنا لینا چاہیے ۔دنیا کو یہ ناگوار ہو تو ہو‘ ہم اسلام کے بنیادی اصولوں پر گامزن رہ کر ذاتی اور اجتماعی زندگی گزاریں گے۔ مسلمانوں کو ’’بنیاد پرست‘‘ کہلانے پر فخر ہے‘ اور رہے گا۔ ان شاء اللہ!