اسلام میں غیر مسلموں کے حقوقاحمد علی محمودیاسلام ایک عالمگیر دین ‘ مکمل ضابطہ حیات اور پُرامن مذہب ہے۔ یہ نہ صرف نظریاتی بلکہ عملی طور پر بھی رواداری‘ انصاف اور انسانی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی اسلام کا اصل پیغام ہے۔ اسلام میں غیرمسلموں کے حقوق محض کاغذ تک محدود نہیں ‘ بلکہ یہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔ غیرمسلموں کے لیے ’’ ذمی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیاہے‘ جس کا مطلب ہے: ’’ وہ لوگ جن کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لی ہے۔‘‘ یہ لفظ ہی اپنے اندر احترام اور تحفظ کا ایک سمندر رکھتا ہے۔ اسلامی فقہ میں غیر مسلم شہریوں کو '’’معاہد ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
جان و مال کا تحفظ
اسلامی قانون کے مطابق ایک غیرمسلم کی جان و مال اتنی ہی محترم ہے جتنی ایک مسلمان کی۔ اگر کوئی مسلمان کسی غیرمسلم شہری کو قتل کر دے‘ تو قصاص میں اسے بھی قتل کیا جائے گا۔ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا :
{ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہُ } (الانعام:۱۵۱ )
’’ اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو ‘ جسے اللہ نے حرمت دی ہے۔ ‘‘
یہ حکم عام ہے اور اس میں غیرمسلم بھی شامل ہیں۔ اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں سے جزیہ لیا جاتا ہے‘ جس کے بدلے میں انہیں مکمل ریاستی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا)) (صحیح البخاری: ۳۱۶۶)
’’جس نے کسی معاہد کو قتل کیا‘ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا ‘ حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے فاصلے سے سونگھی جا سکتی ہے۔‘‘
مذہبی آزادی
اسلام غیرمسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ قرآن حکیم کا واضح اعلان ہے : {لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ} (البقرہ:۲۵۶) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔‘‘ غیرمسلموں کو اپنی عبادت گاہیں بنانے ‘ان میں عبادت کرنے‘ اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کامکمل حق حاصل ہے‘ بشرطیکہ وہ معاشرتی امن کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ان عبادت گاہوں کو مسمار کرنے یا ان کی توہین کرنے کی ممانعت ہے۔
معاشی حقوق
غیرمسلموں کو اسلامی ریاست کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے‘ تجارت‘ روزگار ‘ صنعت اور زراعت کے وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود غیرمسلموں سے لین دین فرمایا اور ان کے ساتھ معاملات میں دیانت داری کی بہترین مثال قائم کی۔ غیرمسلم اپنی جائیداد خریدنے اور بیچنے کے مالک ہیں۔ اسلام غیرمسلموں کے ساتھ حسنِ اخلاق‘ ہمدردی اور مروت سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
{لَا یَنْہٰىکُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَـبَـرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَـیْہِمْ ط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (۸)}(الممتحنۃ)
’’اللہ تمہیں نہیں روکتا ان لوگوں سے جنہوںنے دین کے معاملے میں تم سے کبھی جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان کے ساتھ کوئی بھلائی کرو یا انصاف کامعاملہ کرو۔بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘
اگر کوئی غیرمسلم بوڑھا یا معذور ہو جائے اور کمانے کے قابل نہ رہے تو بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا۔ آپؓ نے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ جزیہ کی ادائیگی اور بڑھاپے کی وجہ سے مجبور ہوں۔ حضرت عمرؓ اسے اپنے گھر لائے‘ کھانا کھلایا اور بیت المال کے خازن کو حکم دیا: ’’ اس پر اور اس جیسے دیگر لوگوں پر رحم کرو۔ خدا کی قسم ! یہ انصاف نہیں کہ ہم ان کی جوانی میں تو ان سے فائدہ اٹھائیں اور بڑھاپے میں انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیں۔ ‘‘ اس کے بعد تمام معذور اور بوڑھے غیرمسلموں کے لیے سرکاری وظائف مقرر کر دیے گئے۔
عدل و انصاف کی فراہمی
اسلام میں عدل و انصاف کا معیار مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے :
{یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَـوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ ز وَ لَا یَجْرِمَنَّـکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْاقف ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّـقْوٰی ز وَاتَّـقُوا اللہَ ط اِنَّ اللہَ خَبِیْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۸)} (المائدۃ)
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ‘ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل سے منحرف ہوجاؤ ۔ عدل سے کام لو ‘ یہی قریب ترہے تقویٰ کے‘ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ یقینا ً اس سے باخبر ہے۔‘‘
اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم پر ظلم کرے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں قاضی نے ایک غیرمسلم کے حق میں خلیفہ ٔوقت کے خلاف فیصلہ سنایا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران آپؓ کی ایک قیمتی زرہ گم ہوگئی ‘ جو ایک یہودی کے پاس سے ملی۔ خلیفہ ٔوقت ہونے کے باوجود آپؓ نے اُس سے اپنی زرہ زبردستی نہیں لی ‘ بلکہ عدالت میں مقدمہ پیش کیا۔ قاضی شریح نے خلیفہ سے گواہ مانگے۔ خلیفہ کے پاس گواہ کے طور پر صرف ان کے صاحب زادے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلام قنبرتھے۔ قاضی نے بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ فیصلہ خلیفہ کے خلاف اور یہودی کے حق میں دے دیا گیا۔ اس عدل و انصاف سے متاثر ہو کر وہ یہودی فوراً مسلمان ہو گیا اور اعتراف کیا کہ یہ زرہ واقعی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔
میثاقِ مدینہ
ہجرتِ مدینہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں اور مدینہ کے یہود و دیگر قبائل کے درمیان ایک تحریری معاہدہ کیا ‘ جسے ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا تحریری دستور مانا جاتا ہے۔ اس میں طے پایا کہ ’’ یہودیوں کو ان کا دین مبارک اور مسلمانوں کو ان کا دین۔‘‘ یعنی ہر گروہ کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی مکمل آزادی تھی۔ غیرمسلموں کو مسلمانوں کے برابر شہری تسلیم کیا گیا اور یہ طے پایا کہ اگر کوئی باہر سے مدینہ پر حملہ کرے گا تو سب مل کر دفاع کریں گے۔ مظلوم کی مدد کی جائے گی‘ خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ کسی مجرم کو اس کے مذہب کی بنا پر رعایت نہیں ملے گی۔
دورِ فاروقی
جب بیت المقدس فتح ہوا ‘ تو حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عیسائیوں کو ایک امان نامہ لکھ کر دیا جس میں واضح تھا کہ: ’’ ان کے گرجا گھروں کو منہدم نہیں کیاجائے گا ‘ نہ ان میں رہائش اختیار کی جائے گی اور نہ ہی ان کی صلیبوں یا مال و متاع میں کوئی کمی کی جائے گی۔‘‘ جب حضرت عمرؓ بیت المقدس کے چرچ (کلیسائے قیامت) میں موجود تھے اور نماز کا وقت ہوا تو پادری نے آپؓ کو وہیں نماز پڑھنے کی دعوت دی۔ آپؓ نے یہ فرما کر انکار کر دیا کہ ’’ اگر مَیں نے یہاں نماز پڑھی تو کل کو مسلمان اسے دلیل بنا کر اس جگہ پر مسجد بنا لیں گے اور تمہارا حق چھن جائے گا۔‘‘ چنانچہ آپؓ نے چرچ سے باہر نکل کر نماز ادا کی۔
مصر کے فاتح حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ گورنری میں ایک مسلمان نے ایک قبطی کے بیٹے کو مارا۔ اس قبطی نے مدینہ جا کر حضرت عمرؓ سے شکایت کی۔ خلیفہ وقت نے گورنر اور ان کے بیٹے کو طلب کیا اور قبطی کے بیٹے سے کہا کہ وہ بدلہ میں گورنر کے بیٹے کو مارے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا : ’’ تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا ‘ حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا!‘‘
خلافت ِعباسیہ
مسلمانوں نے جب اندلس (اسپین) پر حکومت کی تو وہ دور غیرمسلموں (خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں) کے لیے ’’سنہری دور‘‘ کہلاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب یورپ کے دیگر حصوں میں یہودیوں پر ظلم ہو رہا تھا ‘ تو اندلس کے مسلم حکمرانوں نے انہیں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز کیا۔ مثلاً حسدائی بن شپروط ایک یہودی عالم ‘ طبیب اور سفیر تھے جو قرطبہ کے خلیفہ عبدالرحمٰن سوم کے مشیرِ خاص اور وزیر رہے۔ قرطبہ اور غرناطہ کی لائبریریوں میں مسلم ‘ عیسائی اور یہودی علماء مل کر تحقیق کرتے تھے۔ عیسائیوں کو اپنے تعلیمی ادارے کھولنے کی مکمل آزادی تھی۔خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دور میں جب ’’ بیت الحکمت‘‘ (House of Wisdom) قائم ہوا ‘ تو یونانی اور سریانی کتابوں کے تراجم کا کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔ حنین بن اسحاق ایک مسیحی طبیب اور عالم تھے ‘ جنہیں خلیفہ نے بیت الحکمت کا سربراہ مقرر کیا۔ خلیفہ انہیں کتابوں کے وزن کے برابر سونا تول کر دیا کرتے تھے۔ اسلام نے مذہب کو کبھی علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
فقہ اسلامی کے عظیم امام ابو حنیفہؒ کا نظریہ غیرمسلموں کے بارے میں بہت بلند تھا۔ ان کا مشہورفتویٰ تھا کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیرمسلم (ذمی) کو قتل کرے گا‘ تو اس کے بدلے مسلمان کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ انہوں نے انسانی جان کی حرمت کو مذہب سے بالاتر رکھا۔
اُموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (جنہیں پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے) کے پاس دِمشق کے عیسائیوں نے شکایت کی کہ پچھلے حکمران نے ان کے ایک گرجے کی زمین چھین کر مسجد میں شامل کر لی ہے۔ آپؒ نے فوری حکم جاری کیا کہ مسجد کا وہ حصہ گرا دیا جائے اور زمین عیسائیوں کو واپس کر دی جائے۔ یہ انصاف دیکھ کر عیسائی اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے خود وہ زمین مسجد کے لیے وقف کردی۔
یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اسلام نے غیرمسلموں کو صرف برداشت (tolerate) ہی نہیں کیا ‘ بلکہ انہیں اپنی زبان ‘ ثقافت اور مذہب کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی گئی۔
موجودہ دور کے انسانی حقوق
یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آج دنیا ’’ انسانی حقوق کے عالمی منشور‘‘ کی صورت میں جو کچھ دیکھ رہی ہے‘ اسلام نے وہ سب ۱۴۰۰ سال پہلے ہی عملی طور پر نافذ کر دیا تھا۔کچھ اہم پہلو اور موازنہ پیش خدمت ہے۔
آج اقلیتوں کے حقوق کی بات تو بہت کی جاتی ہے ‘ لیکن عملاً کئی جگہوں پر انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اسلام نے غیرمسلموں کو ان کے اپنے ’’ پرسنل لاء‘‘کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیا۔ نکاح‘ طلاق اور وراثت کے فیصلے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہوتے تھے ‘ جن پر اسلامی قانون مسلط نہیں کیا جاتا تھا۔
امام اوزاعیؒ کا تاریخی واقعہ
ایک مرتبہ شام کے گورنر نے کچھ غیرمسلموں کو ان میں سے بعض کی کسی خطا پر جلاوطن کر دیا۔ اس دور کے مشہور عالم امام اوزاعیؒ نے گورنر کو ایک سخت خط لکھا ‘ جس میں انہوں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا : { وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی } ’’ کسی بوجھ اٹھانے والے پر دوسرے کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ ‘‘ اگر چند افراد نے غلطی کی ہے تو تم پوری بستی کو سزا نہیں دے سکتے۔ان کی مداخلت پر گورنر کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور ان غیرمسلموں کو ان کے گھروں میں دوبارہ بسایا گیا۔
دورانِ جنگ غیرمسلموں کے حقوق
اسلامی جنگی قوانین اس قدر منظم تھے کہ دشمن کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے واضح احکامات تھے کہ عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ بوڑھوں ‘ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ درختوں کو نہ کاٹا جائے اور فصلوں کو تباہ نہ کیا جائے۔ یہ وہ حقوق ہیں جو اس دور کے ’’ جنیوا کنونشن‘‘ میں شامل کیے گئے ہیں۔
شہریت اور مساوی حقوق
جدید ریاستوں میںعمرانی معاہدہ کی بات کی جاتی ہے۔ اگر آج کی ریاستیں میثاقِ مدینہ کے اصولوں کو اپنائیں‘ تو اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کا تصور ختم ہو جائے گا اور انہیں مساویانہ حقوق حاصل ہوں گے۔
مقدّسات کا احترام
مختلف مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کی ایک بڑی وجہ ایک دوسرے کے مقدسات (مقدس ہستیوں اور کتابوں) کی توہین ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے: { وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ }(الانعام:۱۰۸) ’’ اور مت گالیاں دو ( یا مت برا بھلا کہو) ان (کے معبودوں) کو جنہیں یہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا۔ ‘‘ آج اگر بین الاقوامی سطح پر اس اصول کو اپنا لیا جائے کہ کسی کے مذہب کی توہین ’’ آزادیٔ اظہارِرائے ‘‘ نہیں بلکہ ’’صریحاًجرم‘‘ ہےتو دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
عبادت گاہوں کا تحفظ
موجودہ دور میں انتہا پسندی کی وجہ سے اکثر عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ مسلم معاشروں میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔ یہی طرزِ عمل غیرمسلموں کو بھی اپنانا چاہیے۔
معاشی و سماجی انصاف
آج دنیا میں اکثراقلیتیں غربت اور معاشی پس ماندگی کا شکار ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال سے غیرمسلموں کے وظائف مقرر کیے۔ اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کے تحت زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات اور سرکاری فنڈز سے غیرمسلم حاجت مندوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہی طرزِعمل غیرمسلم ریاستوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں ‘ اپنالیا جائے تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔
مکالمہ اور رواداری
آج ’’ تہذیبوں کے تصادم‘‘ (clash of civilizations) کی بات کی جاتی ہے‘ جبکہ اسلام ’’تہذیبوں کے مکالمے‘‘ پر زور دیتا ہے۔ قرآن مجید اہل کتاب کو ’’ کَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍ‘‘ (مشترک بات) کی طرف بلاتا ہے۔ آج ہمیں بحث و مباحثے کے بجائے مشترکہ اقدار (جیسے انسانیت کی خدمت‘ سچائی اور انصاف) پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
حاصلِ کلام
آج کے دور میں اسلام کےاصولوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہمیں تعلیم و تربیت اور عملی نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو یہ احساس کرنا ہو گا کہ غیرمسلموں کے حقوق کا تحفظ محض ایک سیاسی ضرورت نہیں ‘ بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں رہنے والی اقلیتوں کو ایسا مثالی ماحول دیں کہ دنیا ان کے عدل کی مثالیں پیش کرے۔اس حوالے سےاگر میڈیا مثبت کردار ادا کرے تو اس سے معاشرے میں بہت بہتری آسکتی ہے۔ یادرہے کہ امن اور خوش حالی صرف ہتھیاروں سے نہیں‘ بلکہ ذہن کی آبیاری سے حاصل ہوتی ہے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026