(انوار ھدایت) توکل کی صحیح تعبیر - پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

10 /

توکّل کی صحیح تعبیرپروفیسر محمد یونس جنجوعہ

قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ مثلاً:{وَاللہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)} (آل عمران)’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘گویا صبر کرنا فضائل اخلاق میں سے ہے۔اسی طرح توکّل کی صفت بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے :{اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ(۱۵۹)} (آل عمران)’’بے شک اللہ تعالیٰ توکّل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘توکّل کی صفت کا قرآن مجید میں بار بار ذکر ہے۔ خود رسول اللہﷺ کو توکّل کرنے کا حکم ہے: {وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا(۳) }(الاحزاب) ’’اللہ پر توکّل کرو‘ اور اللہ تمہارے لیے بطور وکیل (کارساز) کافی ہے۔‘‘اسی طرح توکّل کو اہل ایمان کی صفت کہا گیا ہے : {وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳)} (المائدۃ) ’’اگر تم ایمان والے ہو تو بس اللہ ہی پر بھروسا رکھو۔‘‘
توکّل یہ ہے انسان کا بھروسا اللہ تعالیٰ ہی پر ہو۔ کوئی کام کرنا ہو تو اس بات پر پورا یقین ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا تو یہ کام انجام پائے گا‘ ورنہ ہزار انتظام ہوں تو وہ بھی ناکام ہو جائیں گے۔ توکّل کے لیے صحیح طرزِعمل یہ ہے کہ جو کام مقصود ہو اُس کی انجام دہی کے لیے ضروری لوازمات ‘ وسائل یا اقدامات میسر کر لیے جائیں مگر ان پر بھروسا نہ ہو۔ بھروسا ہو تو صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ہو ‘کیونکہ بہرحال اللہ تعالیٰ ہی حقیقی کارسازہے۔ توکّل کی باطل تعبیر یہ ہے کہ جب ہونا وہی ہے جو اللہ نے کرنا ہے تو وسائل اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ درحقیقت توکّل وسائل جمع کرنے کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ کلی طور پر وسائل ہی پربھروسا کرنے سے روکتا ہے۔ وسائل تب ہی کام آئیں گے اگر اللہ چاہے گا۔
ایک شخص آپﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: یارسول اللہ! میں اپنی اونٹنی کو باندھوں اور توکّل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور توکّل کروں؟ آپﷺ نے فرمایا:((اِعْقِلْھَا وَتَوَکَّلْ)) (سنن الترمذی:۲۵۱۷)’’اس کو باندھو اور توکّل کرو۔‘‘ احتیاط اور احتراز توکّل کے خلاف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ کوئی اہم کام ہو تو اپنے اصحاب کے مشورے کی روشنی میں فیصلہ کیجیے اور جب فیصلہ کر چکیں تو اللہ پر توکّل کریں اور تذبذب میں نہ پڑیں ۔ توکّل یہ ہے کہ جس کام کی وسعت اور طاقت نہیں اس کواللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے ۔آپﷺ نے عین جنگ کے دوران نماز پڑھی تو سامانِ جنگ کی حفاظت کا بھی انتظام کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام  کو خبر ملی کہ انہیں گرفتار کرنے کا مشورہ ہو رہا ہے تو آپؑ شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب رسول اللہﷺ کو اپنےبارے میں تدبیر سوچنے والوں کا خوف ہوا تو آپؐ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ سے نکل کر غارِثور میں روپوش ہو گئے۔ کسی موذی جانور کے خوف سےغار کے تمام سوراخ بند کر دیے مبادا کوئی سانپ بچھو نہ ڈس لے۔ اس طرح انہوں نے اپنے بچائو کے لیے ممکن اقدام کر لیے ۔ ایسا نہ ہوا کہ آپﷺ نے بس اللہ پر توکّل کیا اور اپنی حفاظت کے اقدام کو غیر اہم سمجھا۔
ترکِ اسباب کا سبق تو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے جو انسان کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا۔ایک شخص نے ابوعبداللہ بن سالم سے سوال کیا کہ :ہم کسب کو عبادت سمجھیں یا توکّل کو؟انہوں نے جواب دیا کہ توکّل رسول اللہﷺ کا حال ہے اور کسب آپؐ کی سنت۔ کسب توکّل کے منافی نہیں۔ انبیاء علیہم السلام کاطریقہ یہی ہے کہ کسب بھی کرتے اور توکّل اللہ پر رکھتے۔ حضرت آدم علیہ السلام کاشت کاری کرتے تھے۔حضرت نوح علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کپڑے سیتے تھے ۔ حضرت صالح علیہ السلام سوداگر تھے۔ حضرت دائود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے زرہیں بناتے اور ان کی قیمت سے گزر بسر کرتے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام اور ہمارے رسول اللہﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اسی طرح باقی انبیاء بھی کسی نہ کسی پیشے سے روزی کماتے تھے۔معلوم ہوا کہ کسب توکّل کے خلاف نہیں۔ رسول اللہﷺ کے صحابہ بھی کسی نہ کسی پیشے کو اختیار کیے ہوئے تھے۔ حضرات ابوبکر ‘عثمان‘ عبدالرحمٰن‘ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کپڑےبیچتے تھے۔حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ درزی کا کام کرتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیر بناتے تھے۔اسی طرح تمام تابعین اور ان کے بعد والے ہمیشہ کسب کرتے رہے اور اسی کا حکم دیتے رہے۔
جو شخص اپنے اعضاء و جوارح سے کام نہ کرے تو وہ کہاں سے کھائے گا اور اس کے بال بچے کہاں سے کھائیں گے؟ یقیناً وہ دوسروں کا محتاج ہوگا اور اسے لوگوں کی خیرات پر گزارا کرنا پڑے گا‘کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمان سے ضرورت کی چیزیں نہیں پھینکتا۔ اگر لوگ کسب چھوڑ دیں تو زندگی ہی ختم ہو جائے۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی غربت بیان کی تو آپﷺ نے اسے جنگل سے لکڑیاں لاکر اور انہیں بیچ کر اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پوری کرنے کو کہا ۔ اللہ نے انسان کو ہاتھ پیر دیے ہیں کہ ان کے ساتھ محنت کر کے روزی کمائے اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کرے۔
صدقہ خیرات کرنے کی بڑی فضیلت ہے لیکن یہ اسی کو حاصل ہو سکتی ہے جو کسب کر کے کماتا ہے۔ اپنی اور بال بچوں کی ضروریات پوری کرتا ہے اور کچھ بچا بھی لیتا ہے جس سے حاجت مندوں کی مدد کرتا ہے۔ اگر وہ خود بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہے تو وہ دوسروں کی مدد کا ثواب کیسے حاصل کر سکتا ہے؟جو لوگ کسب کرنے کو توکّل کے خلاف سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو پہلے سے لکھا ہوا ہے اور وہ ہو کر رہے گا‘پھر احتیاطیں کرنے اور اسباب اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے!وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ تقدیر پر بھروسا کر کے بیٹھ رہنا درست نہیں‘ کیونکہ کسی شخص کو نہیں معلوم کہ اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے۔ اگر انسان اپنی کامیابی کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنا مدعا حاصل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتا ہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔ گویا یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا‘ وہ مسبب الاسباب ہے۔ بندہ جواسباب اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قدر کرتا ہے۔وہ ان کو قبول کرتا ہے یا نامقبول‘ یہ انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا ہے جو یقیناً صحیح ہوتا ہے چاہے انسان اس کی حکمت کو سمجھ سکے یا نہ سمجھ پائے۔
بھوکا شخص بھوک مٹانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ و زاری کرے لیکن اس کے لیے دوڑ دھوپ نہ کرے تووہ زیرک نہیں‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نےرزقِ حلال کمانے کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں۔ وہ سب کسب کے ذریعہ کماتے تھے۔ کسی نے بھی ایسا توکّل نہیں کیا کہ وہ اسباب اختیار نہ کرنے کو فضیلت کا باعث سمجھتا ہو ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:((اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی))(صحیح مسلم:۲۳۸۵) ’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے جس نے اسباب اختیار کر کے روزی کمائی ۔ نہ صرف اپنی حاجت پوری کی بلکہ ناداروں اور محتاجوں کی مدد بھی کی۔
اگر کوئی شخص مچھلیاں پکڑنے والے پر نکیر کرتا ہے کہ وہ اپنی روزی حاصل کرنے کے لیے جانداروں کو پکڑتا ہے حالانکہ وہ جاندار اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں‘ گویا شکاری نے اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے مخلوق کو اللہ کے ذکر سے روک دیا‘تو پھر گھاس کاٹنا بھی درست نہیں کہ گھاس کا تنکا تنکا اللہ کا ذکر کرتاہے۔
اپنی مباح ضرورت کے لیے جائز اسباب اختیار کرنا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اللہ کا حکم بھی یہی ہے کہ انسان کووہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کرتا ہے ۔ اپنا کام نکالنے کے لیے ممنوع ذرائع اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ سراسر توکّل کے خلاف ہے۔