(عرض احوال) قومی وحدت کا تقاضا: عدل‘اعتماد اور مکالمہ - رضاء الحق

6 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قومی وحدت کا تقاضا: عدل‘ اعتماد اور مکالمہ

آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی‘ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے گرد پیدا ہونے والے تنازعات اور ۲۷ جولائی کے انتخابات کے حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سیاسی نظام‘ انتخابی عمل اور قومی یکجہتی سے متعلق کئی اہم سوالات کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک علاقائی سیاسی معاملہ دکھائی دیتا ہے‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس کے اثرات آزادکشمیر کی حدود سے کہیں آگے بڑھ کر پاکستان کے قومی بیانیے‘ مسئلۂ کشمیر اور ریاست و عوام کے باہمی تعلقات تک پہنچتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اِن معاملات کومحض انتظامی یا قانونی مسئلہ سمجھنے کے بجائے وسیع ترقومی اور نظریاتی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
جمہوریت کے داعیان ہمیشہ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اورانتخابات وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے عوام اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ البتہ جب کسی سیاسی قوت کوانتخابی میدان میں اُترنے سے پہلے ہی مختلف قانونی‘انتظامی یا ریاستی اقدامات کا سامنا کرنا پڑے تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوامی رائے کی حقیقی حیثیت کیا رہ جاتی ہے! سیاسی اختلافات اور عوامی مطالبات سے نمٹنے کے لیے اگرطاقت اور پابندیوں کا راستہ اختیار کیا جائے تواُس سے وقتی طور پر نظم و نسق تو قائم رکھا جا سکتا ہے‘لیکن عوام کے دل میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات (جو مسلسل دباؤ کے باعث نفرتوں میں بدل سکتے ہیں ) کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد جموں وکشمیرمیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ظہور بھی دراصل ایسے ہی عوامی مسائل کے پس منظرمیں ہوا تھا۔مہنگائی‘ بجلی کے نرخ‘ انتظامی بدعنوانی اور عوامی مشکلات جیسے معاملات نے تاجروں اور سماجی طبقات کو متحرک کیا اور ایک ایسی تحریک وجود میں آئی جس نے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ان مطالبات کی نوعیت پرغور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف آزاد کشمیر کے عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کم و بیش اِنہی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان شکایات کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز کرنا حقیقت پسندانہ طرزِ عمل نہیں ہو سکتا۔اِس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی بھی معاشرے میں احتجاج اور سیاسی جدوجہد کو نظم و ضبط اور قانون کے دائرے کے اندر رہنا چاہیے۔ اسلام ہرگزاِس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اختلافِ رائے کو انتشار‘ فساد اور ریاستی اداروں سے تصادم کی شکل اختیار کرنے دی جائے۔ قرآن مجید مسلمانوں کو اجتماعی نظم کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے اُــمّت کے اتحاد کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ اگرہر گروہ اپنی طاقت کے بل پر اپنی مرضی نافذ کرنے کی کوشش کرے تو معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔اس لیے سیاسی قوتوں پرلازم ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو پُراَمن اورآئینی طریقوں سے پیش کریں اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کے بجائے اصلاحِ احوال کی جدّوجُہد کو ترجیح دیں۔
تاہم اِس اصول کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ریاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عوامی مطالبات اور سیاسی اختلافات کومحض سکیورٹی کے مسئلے کے طور پرنہ دیکھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کا پائیدار حل ہمیشہ سیاسی عمل ہی سے برآمد ہوتا ہے۔طاقت کا استعمال بعض اوقات ناگزیرہوسکتا ہے‘ لیکن اِسے مستقل حکمت ِعملی نہیں بنایا جاسکتا۔ خصوصاً آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں‘جہاں ہر سیاسی پیش رفت براہِ راست مسئلۂ کشمیر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘ وہاں ریاستی اقدامات کے دُور رس اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ امر بھی پیشِ نظررہنا چاہیے کہ آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ پاکستان کے اُس قومی موقف کا اہم حصّہ ہیں جس کی بنیاد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت (جسے اچھے وقتوں میں’’کشمیر بنے گا پاکستان!‘‘ کے نعرے سے یاد کیا جاتا تھا) پر قائم ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں یہ موقف پیش کرتا ہے کہ کشمیریوں کو اپنی سیاسی خواہشات کے اظہار اور اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ ایسے میں اگراُنہی علاقوں میں عوامی نمائندگی‘سیاسی شرکت یا انتخابی شفافیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوں تواِس کے اثرات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی موقف پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران انتخابی عمل کے بارے میں عوامی اعتماد مسلسل کمزور ہوا ہے۔فارم۴۵ اور فارم ۴۷ جیسے معاملات پر ہونے والی بحث اِسی اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔ مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک انتخاب کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی ساکھ کا ہے۔ اگر عوام کو یہ یقین نہ رہے کہ اُن کا ووٹ واقعی فیصلہ کُن حیثیت رکھتا ہے تو پھر انتخابات محض ایک رسمی مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔سیاسی استحکام کی بنیاد صرف انتخابی نتائج نہیں بلکہ اُن نتائج پرعوام کے اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔
آزاد کشمیر کے موجودہ حالات میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی کشمکش اور ریاستی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی سے فائدہ صرف پاکستان مخالف قوتوں کو ہو رہا ہے۔ بھارت عرصۂ دراز سے یہ کوشش کررہا ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو پس منظر میں دھکیل دیا جائے اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو کمزور کیاجائے۔ایسے حالات میں داخلی انتشار‘ سیاسی تصادم اورباہمی عدم اعتماد درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس معاملے کو محض قانون نافذ کرنے یاسیاسی برتری حاصل کرنے کے زاویے سے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور مسئلۂ کشمیر کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ماضی میں مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیراہتمام آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔
اِس صورتِ حال کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت ِپاکستان معاملے کو فہم و فراست کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرے۔ تمام سیاسی قوتوں‘سماجی حلقوں اور متعلقہ فریقین کواعتماد میں لے کر ایک جامع قومی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔آزاد کشمیر میں انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے اورہراُس سیاسی قوت کو‘جو عوامی حمایت رکھتی ہے‘ پُرامن سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔ ایک مؤثر آل پارٹیز کانفرنس اِس سلسلے میں مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے جو نہ صرف کشیدگی کو کم کرے بلکہ مختلف حلقوں کے تحفظات دور کرنے میں بھی مدد دے۔
دوسری طرف اگر ہم اِس پورے مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ صرف انتخابات‘ سیاسی جماعتوں یا کسی مخصوص تحریک کا مسئلہ نہیں۔ اصل بحران اُس فکر کا ہے جس کے تحت اقتدار کو ایک امانت اور فرض کے بجائے ایک حق اورغلبے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ محض نئے قوانین‘ نئے انتخابی فارمولوں اور انتظامی اصلاحات سے مسائل مستقل طور پرحل نہیں ہوتے‘ کیونکہ خرابی نظام کے بنیادی تصور میں موجود ہے۔ اِس حوالے سے اسلام ایک بالکل مختلف تصورِ حکمرانی پیش کرتا ہے۔ اسلام میں حاکمیت ِاعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور اقتدار انسانوں کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے جس کا روزِ قیامت اللہ کے ہاں حساب دینا ہوگا۔ حکمران قانون سے بالاتر نہیں ہوتے بلکہ خود اللہ کے قانون کے پابند اور اللہ کے بعد عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ خلافت ِراشدہ کا نظام اِسی حقیقت کا عملی نمونہ تھا جہاں احتساب‘ شفافیت‘عدل اورعوامی حقوق ریاستی ڈھانچے کا لازمی حصّہ تھے۔ وہاں اقتدار کا مقصد حکمرانی نہیں بلکہ اللہ کے احکام کے مطابق بندگانِ خدا کی خدمت اور عدلِ اجتماعی کی فراہمی تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی‘ سماجی اور انتظامی مسائل کا مستقل اور پائیدار حل قرآن و سُنّت پر مبنی نظامِ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام میں مضمر ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو ایک طرف عوامی حقوق‘ عدل‘ احتساب اور شفافیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور دوسری طرف قومی وحدت‘ ریاستی استحکام اور نظم ِ اجتماعی کو بھی محفوظ بناتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم وقتی سیاسی تنازعات اور انتخابی کشمکش سے بلند ہو کر اس بنیادی سوال پر غور کرے کہ پاکستان کے قیام کا اصل مقصد کیا تھا اور اِس کے استحکام کی حقیقی بنیاد کیا ہوسکتی ہے! جب تک اقتدار کو امانت اور جواب دہی کو دینی فریضہ سمجھنے والا فکر غالب نہیں آتا‘ تب تک بحران اپنی مختلف شکلوں میں سامنے آتے رہیں گے۔ پاکستان کی سلامتی‘ مسئلۂ کشمیر کے مؤثر دفاع‘ عوامی اعتماد کی بحالی اورحقیقی عدلِ اجتماعی کے قیام کا راستہ اِسی فکر سے ہو کر گزرتا ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ پر قائم ہے۔اللہ تعالیٰ اہلِ اقتدار اور عوام سب کو مل کر پاکستان میں دین متین نافذ و قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!