(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ  الْبَقَرَۃ (۹) - ڈاکٹر اسرار احمد

6 /

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۹)مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒآیات ۲۶ تا ۲۹اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَاط فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّـہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبـِّھِمْ ج وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَـیَـقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ بِھٰذَا مَثَلًا یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا لا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا ط وَمَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(۲۶) الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ ص وَیَـقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْـکُمْ ثُمَّ اِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸) ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَـکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ق ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ(۲۹)
ان چار آیا ت میں مذکور چند مسائل ایسے ہیں جو مشکلات ِ قرآن میں سے ہیں۔ ان میں فلسفہ ٔ قرآنی کا ایک موضوع تو ایسا ہے جس کے ضمن میں مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس پر اُس نے مجھے بہت زیادہ انشراح عطا فرمایا ہے۔ اور یہ آج کی بات نہیں‘ ۱۹۶۶ء میں مَیں نے ایک مضمون ’’ حقیقت ِ زندگی‘‘ لکھا تھا‘ جس میںیہ نکتہ بیان کیا تھا۔ بہت سے نامور علماء نے بھی یہ تسلیم کیا کہ کسی کا ذہن اس نکتہ کی طرف مائل نہیں ہوا‘ جب کہ بات بالکل ایسی ہے جیسے سامنے کی ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل وکرم ہوتا ہے جو رزق ہی کی ایک صورت ہے۔ رزق کے لفظ کا اطلاق اصلاً صرف مادّی رزق پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ علم ومعرفت کا رزق عطا فرمائے تو یہ بھی روحانی ر زق ہے۔ چنانچہ یہ رزق کی مختلف شکلیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں۔
آیت۲۶ { اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَا ط} ’’یقیناً اللہ اس سے نہیں شرماتاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اُس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔‘‘
گزشتہ آیت میں جنّت اور اس کے پھلوں کے تذکرہ میں لفظ ’’مُتَشَابِھًا‘‘ (ملتے جلتے‘ متشابہ) آیا ہے۔ سورۂ آلِ عمران کے آغاز میں فرمایا گیا کہ قرآن حکیم کی آیات دو طرح کی ہیں: محکمات اور متشابہات۔ {مِنْہُ اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الْـکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ط } (آیت۷) ’’اس میں محکم آیات ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں‘ اور کچھ دوسری آیتیں ایسی ہیں جو متشابہ ہیں۔‘‘ متشابہات وہ ہیں جن کے حقیقی مفہوم کو ہم اس دنیا میں نہیں سمجھ سکتے۔ آخرت سے متعلق تمام امور متشابہات میں سے ہیں ۔ بس یہ یقین ضروری ہے کہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے‘ زندہ کیا جائے گا‘ حساب کتاب ہوگا‘ لیکن اُس کی کوئی تفصیلی ہیئت اور صورت ہمارے علم میں نہیں۔ میدانِ حشر کا تفصیلی نقشہ کیا ہوگا ؟ وزنِ اعمال کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ ہم نہیں جان سکتے۔ قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کے جو حالات اور کوائف آئے ہیں ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہونا چاہیے: {اٰمَنَّا بِهٖ لا كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج}(آل عمران:۷) جو کچھ بھی قرآن میں آیا ہے ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں‘ یہ سب ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔ (اس کی کچھ تفصیل احادیث نبویہﷺمیں مل جاتی ہے۔) البتہ مزید تفصیل میں جاکر کوئی نقشہ قائم کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ آیات ِمتشابہات ہیں ۔
تمثیل اور تشبیہ کی اصل حقیقت
پہلے یہ چیلنج آچکا ہےکہ اگر تمہیں قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر شک ہے اور تمہارا یہ گمان ہے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جو آپؐ نے خو دموزوں کرلیا ہے تو پھر اس جیسی مثال تم بھی لے آؤ۔ اس چیلنج کو تو کسی نے قبول نہیں کیا۔ جوابی طورپر کوئی شے پیش کرنامشکل کام ہے ‘لیکن دائیں بائیں سے حملہ آور ہونا اور اعتراض وارد کرنا آسان ہوتا ہے۔ کسی جگہ پر کوئی بھی تنقید کا پہلو نکال لینا بہت آسان ہے۔ جیسے وہ مشہور بات ہے کہ ایک مصور نے اپنے فن کی شاہکار تصویر کہیں لٹکا دی اور کہا کہ لوگ اس پر تنقید کریں تو سب کی زبانیں چلنے لگیں۔ کوئی اِس اعتبار سے تنقید کررہا ہے تو کوئی اُس اعتبار سے ‘ لیکن جب اُس نے کہا کہ بھئی یہ برش موجود ہے‘ جہاں نقص نظر آتا ہے اُسے درست کر دو! تو اب کسی نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس لیے کہ اُس کا متبادل پیش کرنا تو آسان کام نہیں تھا۔
اسی اعتبار سے ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ قرآن مجید میں بڑی حقیر چیزوں مثلاًمچھر‘ مکھی اور مکڑی کی مثالیں دی گئی ہیں۔ جیسے سورۃ العنکبوت میں فرمایا: {وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَـبُوْتِ } (آیت۴۱) ’’اوریقیناً تمام گھروں میں سے کمزور ترین گھرمکڑی کا جالا ہے۔‘‘ یاجیسے سورۃ الحج میں مکھی کی مثال دی گئی :
{یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ ط اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ ط وَاِنْ یَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط } (آیت۷۳)
’’اے لوگو! ایک مثال بیان کی جارہی ہے‘ پس اسے ذرا توجہ سے سنو! یقیناً جن کو بھی تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ( تمہارےیہ معبود‘ یہ بُت) ایک مکھی پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہو جائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو یہ اس سے وہ چیز چھڑانے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔‘‘
یہ ساری مثالیں اس اعتبار سے ہوتی ہیں کہ جو مضمون بیان کرنا مقصود ہے اس کے ساتھ مطابقت ہو۔ جس حقیقت کو ذہن کے قریب لانا ہے اُس کے لیے وہ تشبیہ اور تمثیل مؤثر اور مفید ہو اور ایک پورا نقشہ ذہن میں آجائے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ مشبہ بہ یا ممثل بہ یعنی جس شے سے تشبیہ یا تمثیل دی جارہی ہے وہ کیا ہے! جس چیز کو بیان کرناہے ویسی ہی تمثیل لائی جائے گی۔ اس اعتبار سے رسول اللہﷺ نے سودکے لیے جو تشبیہ دی ہےاس پر طبیعت ایک دفعہ تو بہت گھبراتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ((الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا، أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ)) [سنن ابن ماجہ:۲۲۷۴] ان الفاظ کو انسان زبان سے اداکرتے ہوئےبھی ہچکچاتا ہے کہ ’’سود کے گناہ کے ستر حصے ہیں‘ جن میں سب سے ہلکا اس کے مساوی ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔‘‘ یہ تشبیہ طبیعت پر ناگوار گزرتی ہے۔ یا جیسے سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا کہ تمہارا غیبت کرنا بالکل ایسے ہے کہ گویا تم اپنے مُرد ہ بھائی کا گوشت کھارہے ہو : {اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ ط}(آیت۱۲)۔ اس سے بھی انسان کی طبیعت میں جھرجھری سی آتی ہے۔ کیاکوئی تصور کرسکتا ہےکہ مُردہ بھائی کی لاش پڑی ہو اور کوئی شخص اسے کاٹ کاٹ کر تناول فرما رہا ہو! دراصل اس سے مقصود کسی شے کی شناعت اورقباحت کو ظاہر کرنا ہے کہ ایک چیز فطری طور پر توتمہیں بہت بُری لگتی ہے لیکن اخلاقی سطح پر ایک دوسرا عمل جو اسی کے ہم وزن ہے‘ اتنا ہی برا ہے‘ اس سے تمہیں طبعی طورپر نفرت نہیں ہے! چنانچہ یہاں فرمایا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو اس میں کوئی حیا محسو س نہیں ہوتی‘ کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی‘ اللہ اس سے نہیںشرماتا کہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اُس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔
یہاں ایک نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ ’’حیات‘‘ اور ’’حیا‘‘ کا مادّہ ایک ہی ہے۔ یہ زندگی (حیات) جو ہے ‘اس کا گویا لازمی وصف حیا ہے۔ زندگی کا اصل زیور ‘اصل جوہر حیا ہے۔ حدیث نبویؐ کے الفاظ ہیں: ((إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ)) [صحیح البخاری:۶۱۲۰] ’’جب تم میں شرم و حیا ہی نہ رہی تو جو جی چاہے کرتے پھرو!‘‘ فارسی میں کہا جاتا ہے: ’’بے حیا باش و ہر چہ خواہی کن!‘‘ یعنی جب حیا کا پردہ اُٹھ گیا تو اب جو چاہو کرو۔ یہی تو ایک رکاوٹ ہے جو انسان کو برائی اور بدی سے روکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز انسان کی فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے۔
یہاں فرمایا: {اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ} اللہ کو اس سے کوئی حیا محسوس نہیں ہوتی‘ کوئی جھجک او رہچکچاہٹ نہیں ہے‘ اللہ اس سے نہیں شرماتا { اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا} کہ وہ کوئی مثال بیان کرے۔ یہ ’’مَا‘‘ مَثَلًا کے ساتھ ہے‘ اس کو مَا ابہامیہ کہتے ہیں۔ مَثَلًا مَّا:کوئی سی بھی مثال۔ جیسے کہتے ہیں: اَعْطِنِی کِتابًا مَا یعنی مجھے کوئی سی بھی کتاب دے دو۔ کسی وقت آپ کو پڑھنے کے لیے کچھ چاہیے اور آپ کی کوئی خاص پسند نہیں ہے تو ’’مَا‘‘ کالفظ آتاہے‘ اس اعتبار سےکہ کوئی سی بھی ہو ‘مجھے کتاب چاہیے۔ مَا ابہامیہ آتا ہے تو نکرہ میں اور زیادہ عموم پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے اندر کوئی بھی‘ کسی بھی طرح کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو تو اس سے کوئی حیا محسوس نہیں ہوتی کہ وہ کوئی مثال‘ کوئی تشبیہ ‘کوئی تمثیل بیان کرے (اردو میں مثال‘ تمثیل اور ضرب المثل مستعمل ہے)۔ {بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَا}: چاہے وہ مچھر ہی کی ہو یا اُس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ بَعُوْض اور بَعُوْضَۃ درحقیقت واحد کے لیےآتا ہے۔ بَعُوْضَۃً:کوئی ایک مچھر۔ فَمَا فَوْقَھَا: فَوْقَ کا لفظ اوپر کے لیے آتا ہے‘ لیکن یہاں مراد ہے اس سے بھی حقیر شے۔ یعنی حقیر ہونے میں مچھر اور اُس سے کوئی کم تر شے۔
{فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ ۚ} ’’تو جو لوگ صاحب ِایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے اُن کے ربّ کی طرف سے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا قانونِ ہدایت وضلالت: دوسرا رُخ
یہاں اصل میں اللہ تعالیٰ کے قانونِ ہدایت و ضلالت کا ایک اور رُخ بیان ہورہا ہے۔ اس سے پہلے دومرتبہ وہ آیات (آیت۷ اور ۱۷‘۱۸) آچکی ہیں جن میں اس قانون کا ایک رُخ آچکا ہے کہ اگر کوئی شخص حقیقت اور حق سے گریز کرے ‘ اعراض کرے‘ تو ہوتے ہوتے اُس کے اندر سےحق کو پہچاننے کی استعداد سلب ہوجاتی ہے‘ اوربالآخر اُس کے دل پر مہر ہوجاتی ہے۔ البتہ یاد رہے کہ یہ آخری نتیجہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے کہ جس کی وجہ سے انسان حق کو نہیں پہچان پاتا‘ بلکہ حق کو پہچاننے کے باوجود اُس کو نہ ماننا وہ جرم ہے جس کی سزا اس دنیا میں یہ ملتی ہے کہ حق کوپہچاننے کی صلاحیت ہی سلب ہوجاتی ہے۔ چنانچہ آیت ۷ میں ارشاد ہوا: {خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط وَعَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَـھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)} ’’اللہ نے مہر کر دی ہے اُن کے دلوں پر اور اُن کے کانوں پر‘ اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہی بات آیات ۱۷ اور ۱۸ میں بیان کردہ تمثیل کے اندر آئی ہے اور اس کے آخر میں فرمایا: {صُمٌّ بُـکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(۱۸) } ’’یہ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں‘ سو اَب یہ نہیں لوٹیں گے۔‘‘
ان دونوں مقامات پر قانونِ ہدایت و ضلالت کا آخری نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔ زیرمطالعہ آیت میں یہ وضاحت ہے کہ اصل میں ہدایت اورضلالت کا دارو مدار انسان کی اپنی نیت اور طلب پر ہے۔ اگر اُس کی طلب نیک ہے ‘صادق ہے ‘وہ حق کا جویا‘ حق کا متلاشی اور اس کا طالب ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو لازماًہدایت دے گا‘ راستہ کھولے گا‘ حقیقت واشگا ف کر دے گا‘ حق کو مبرہن کردے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا پختہ وعدہ ہے۔ البتہ اگر اپنے دل میں کجی ہے ‘زیغ ہے‘ ٹیڑھ ہے ‘ نیت کا فسا د ہے یاپھرتعصب ‘ تکبر ‘حسد ہے تو پھر چاہے کتنے ہی علم ومعرفت کے موتی بکھیر دیے جائیں‘ کتنے ہی دلائل دے دیے جائیں ‘ کتنی ہی آنکھیں کھول دینے والی دلیلیں دے دی جائیں ‘ استشہاد کر لیا جائے‘ قطعاً مفید نہیں ہوگا‘ بلکہ اُس کی ہٹ دھرمی‘ ضد اور تعصب‘ جس کو ’’شِقَاق‘‘ کہا گیا ہے‘ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ چنانچہ یہی با ت سورۃ الیل میں آئی ہے:{فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی(۷)} ’’تو اُس کو ہم رفتہ رفتہ آخری آسانی تک پہنچادیں گے۔‘‘ اور اسی طرح {فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی(۱۰)} ’’تو اُس کو ہم رفتہ رفتہ آخری تنگی تک پہنچا دیں گے۔‘‘ یہ دراصل تیسیر (آسانی) ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ‘ لیکن اس تیسیر کی حیثیت ثانوی ہے۔ اصل شے انسان کی طلب اور اُس کی اپنی نیت ہے۔ اگر کوئی ہدایت کا طالب ہے تو اللہ کا وعدہ ہے : {وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاط}(العنکبوت:۶۹)’’اور جو لوگ ہماری راہ میں جدّوجُہد کریں گے ہم لازماً اُن کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف۔‘‘ یہ ہمارا پختہ وعدہ ہے کہ اگر تم حق کے جویا اور متلاشی ہوتوحق تمہیں ملے گا۔ لیکن اگر تمہارے اندر تعصب ہے ‘کجی ہے‘ تو پھر سورۃ الصف میں بیان کردہ یہود کا یہ حال دیکھ لو: {فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَـهُـمْ ط وَاللهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ(۵)} ’’پھرجب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے اُن کے دلوں کو بھی ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔‘‘اس لیے کہ یہ دنیا اور اس کی زندگی تودر حقیقت ایک امتحانی وقفہ ہے۔ امتحان میں جب تک انسا ن کا آزادانہ انتخاب (free choice) نہ ہوتوامتحان بے معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ جبرا ً انسان کوہدایت دے دے تو اس میں اس کا کوئی کریڈٹ نہیں ہے۔ پھر اجروثواب کس بات کا؟ اسی طریقے سے جبرا ً کسی کو گمراہ کردے تو اس پر کوئی ملامت نہیں ‘ اس پر کوئی الزام نہیں‘ اسے کوئی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ چنانچہ فلسفہ حیات کے حوالے سےانسا ن کو آزادانہ انتخاب دیا گیا ہے‘ جس کے اعتبار سے ہدایت یا گمراہی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔
قرآن حکیم میں کبھی کبھی فعل‘ ارادئہ فعل کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ یہاں {فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا} ’’جو لوگ ایمان والے ہیں‘‘ کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے‘ یا ایمان لاناچاہتےہیں‘ یا وہ لوگ جو ایمان کے طالب اور جویا ہیں‘ جو حقیقت کے متلاشی ہیں‘ جو ارادہ رکھتے ہیںایمان کا۔ {فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ ج} ’’تو وہ جان لیتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے اُن کے رب کی طرف سے۔‘‘ اُنہیں انشراح وانبساط ہوتا ہے‘ اُن کا دل مطمئن ہوتا ہے‘ دل میں کوئی دغدغہ (ڈر‘ تشویش اور خدشہ) یا کوئی شک وشبہ نہیں رہتا ۔وہ پورے انشراح کے ساتھ جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ واقعتاً جس طریقے سے یہ حقیقت اس تشبیہ کے ذریعے مبرہن ‘منکشف اور واضح ہوئی ہے‘ ہم کسی اور طریقے سے شاید اس بات کو اتنی خوبصورتی سے اس طرح سمجھ نہ پاتے۔
{وَ اَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ بِھٰذَا مَثَلًا} ’’اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں :کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے؟‘‘
’’ اَمَّا‘‘ کا ترجمہ ہوتا ہے as for them یعنی جن کا یہ معاملہ ہے اُن کے ساتھ یہ ہوگا۔ {وَ اَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} ’’اور وہ لوگ جو کفر کریں ‘‘ یا کفر کرنا چاہیں۔ یہاں  لفظ ِکفر کا دوسرا مفہوم ’’ناشکری‘‘ بھی بڑی عمدگی سے منطبق ہوتا ہے۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے آنے والی ہر بات کا شکرادا کرتے ہیں‘ اس کی قدر دانی کرتے ہیں‘ اور ایک وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو سمجھانے کے لیے ‘ افہام و تفہیم کے لیے تمثیل وتشبیہ بیان کی اور وہ ناقدری کررہے ہیں: { فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ بِھٰذَا مَثَلًا} ’’تو وہ کہتے ہیں کہ کیاارادہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس مثا ل سے؟‘‘ یہ بڑا استحقار اور استنکار کا انداز ہے۔ استنکار اور انکار دونوں کا مفہوم ایک ہی ہوگا۔ یعنی یہ کیا ہے! یہ تو کوئی بہت اعلیٰ مثال نہیں ہے۔ اگر واقعی یہ اللہ کا کلام ہوتا تو اس سے بہتر تمثیل ہوسکتی تھی‘ کوئی بہتر پیرایۂ بیان اختیار کیا جا سکتا تھا۔ اب یہ ایک ہی شے کے دو رویے ہیں  ‘ دو ردّ ِعمل ہیں ‘ دو نتیجے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ فیصلہ کن شے انسان کی اپنی داخلی کیفیت ہے۔ اُسی تشبیہ‘ اُسی تمثیل‘ اُنہی آیات ِ مبارکہ پر ایک ردّ ِعمل یہ ہے کہ یہ یقیناً حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے۔ اُن کے ایمان میں اضا فہ ہورہا ہے ‘ اُنہیں انشراح او رانبساط ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں کہ وہی چیز ان کے اندر انکار ‘استنکار اور استحقار کی کیفیت پیدا کررہی ہے ۔فرمایا :
{یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا    ۙ وَّ یَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًاط} ’’اللہ گمراہ کرتا ہے اسی کے ذریعہ سے بہت سوں کو ‘اور ہدایت دیتا ہےاسی کے ذریعہ سے بہت سوں کو۔‘‘
یہ ہیں اب فیصلہ کن‘ کانٹے کے الفاظ۔ یہ مضمون سورۃ المدثّر میں بھی آیا ہے جو ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے۔ لہٰذا نوٹ کرلیجیے کہ ایک ہی چیز ہے لیکن اصل میں  انسان کی اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے نتیجے مختلف ظاہر ہورہے ہیں ۔البتہ:
{وَمَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(۲۶)} ’’اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔‘‘
’’فسق‘‘ کا مفہوم
یہاںپر ہدایت دینے والے معاملے کی تفصیل بیا ن نہیں کی گئی۔ اب اس پر اشکال ہوسکتا ہے کہ یُضِلُّ میں ضمیر فاعلی تو اللہ کی طرف ہے کہ اللہ گمراہ کررہا ہے۔ اگرچہ یہ بیان ہوچکا ہے کہ ان کی گمراہی کا اصل سبب اُن کی اپنی داخلی کیفیت اور اُن کے اپنے ذہن کی کجی اور ٹیڑھ ہے‘ لیکن یہ قانونِ خداوندی ہے کہ جو کوئی جس راستے کی طرف جانا چاہتا ہے وہی راستہ اُس کے لیےکھول دیا جاتا ہے۔ جو چیز قانونِ طبیعت اور قانونِ فطرت کے تحت ظہور پذیر ہو رہی ہو اُسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ قانونِ قدرت کا جو نتیجہ ہے وہ گویا اللہ کا فعل ہے۔ {وَمَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(۲۶) } لیکن اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ نہیں گمراہ کرتا مگر فاسقوں کو۔
یہ فسق کیا ہے؟ اس کا اصل مفہوم ہے کسی شے کا کسی دوسری شے سے نکل جانا‘ کسی برائی یاکمی کےساتھ۔ اسی لیے فَسَقَ کے ساتھ حرف ِجار ’’عَنْ‘‘ آتا ہے۔ سورۃ الکہف میں ابلیس کے بارے میں آیا ہے: {كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِرَبِّهٖ ط} (آیت۵۰) ’’وہ جِنّا ت میں سے تھا پس وہ نکل بھاگا اپنے ربّ کے حکم سے۔‘‘ فرشتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ سب کے سب حضرت آدمؑ کو سجدہ کرو‘ سب نے سجدہ کیا‘ سوائے ابلیس کے۔ وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا۔ فرشتہ ہوتا تو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہ کرتا۔ چونکہ وہ جِنّا ت میں سے تھا‘ پس وہ نکل بھاگا اپنے ربّ کے حکم سے۔ چنانچہ کسی شے سے نکل جانا‘ حد سے تجاوز کر جانا ’’فسق‘‘ ہے۔ لفظ ’’فسق‘‘ کا اس معنی میں بہت broad spectrum ہے۔اللہ تعالیٰ کا معمولی اور چھوٹا سا حکم توڑا جائے تو یہ بھی فسق ہے۔اگر اللہ کے مدّ ِمقابل ضِد اور ند بن کر کھڑے ہوگئے ‘ بغاوت اور سرکشی پر آمادہ ہوگئے تو یہ بھی فسق ہے۔ معلوم ہوا کہ لغوی مفہوم کے اعتبار سے چھوٹے چھوٹے گناہوں  سےاللہ کے مقابلے میں سرکشی اور بغاوت تک سب پر اس کااطلاق ہوتاہے۔ البتہ اس مقام پر خود قرآن حکیم کے الفاظ میں ’’فسق‘‘ کی تشریح ملاحظہ کیجیے:
آیت۲۷ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْ  بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ ص وَیَـقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷) ’’جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد‘ اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیاہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘
دین وشریعت کی دو بنیادیں
یہ گویا عمرانیاتِ قرآنی کا بہت اہم مضمون ہے۔ اصل میں شریعت اور دین کی دو بنیادیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ انسان کی یہی دو نسبتیں صحیح ہونی چاہئیں۔ اس آیت میں ’’فاسقین‘‘کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ نہ تو حقوق اللہ کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں حقوق العبادکاکوئی پاس و لحاظ ہوتا ہے۔
نَقَضَ یَنْقُضُ  نَقْضًا کے معنی ہیں: توڑ دینا۔ ’’نواقض وضو‘‘ وہ چیزیں کہلاتی ہیں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ نقص اور نقض  میں تھوڑا سا فرق ہے۔ نَقَصَ کے معنی کمی ہو جانا یا کمی کر دینا‘ اور نَقَضَ کے معنی کسی شے کو توڑ دینا کے ہیں۔ ایک ہے محض کمی ‘ کوتاہی‘ اور ایک ہے کسی شے کا سلسلہ منقطع کر دینا۔ {اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ} ’’وہ لوگ جواللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اُس کے پختہ ہونے کے بعد۔‘‘ میثاق مصدر ہے ’’وث ق‘‘ مادّہ سے۔ اسی سے لفظ وثوق بنا ہے۔ کہا جاتا ہے مَیں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ رہا ہوں ‘ یعنی مجھے یقین ہے‘ پختہ اعتماد ہے۔ مَوثِقًا: وہ قسم جو بڑے شعور کے ساتھ کھائی گئی ہو۔ سورۂ یوسف میں ’’مَوْثِقًا مِّنَ اللهِ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ شریعت کو بھی میثاق کہا گیا ہے‘ سورۃ المائدہ میں ارشاد ہوا:
{وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَا ثَقَکُمْ بِہٖٓ     ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا    ۡ}(آیت ۷)
’’اور اللہ نے تمہیں جو اپنی نعمت عطا کی ہے اس کو یاد رکھو‘ اور اُس معاہدے کو بھی جس میں اُس نے تمہیں باندھ لیا ہے جب تم نے کہا تھا: ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی۔‘‘
’’اللہ کا عہد‘‘ کیا ہے؟
یہ سب میثا ق ہیں‘ لیکن آیت زیر ِمطالعہ میں کون سا میثاق مذکور ہے؟ واضح رہے کہ قرآن کریم میں اہم مضامین دو مرتبہ ضرور آتے ہیں۔ سورۃ الرعد جو مکی سورت ہے اُس میں بھی یہ مضمون آیا ہے: {الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ(۲۰)} ’’وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو توڑتے نہیں ہیں۔‘‘یہاں مقامِ مدح میں اچھے لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جو حق پر ہیں۔اگلی آیت میں ان کے بارے میں فرمایا: {وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْٓئَ الْحِسَابِ(۲۱) } ’’اور جو لوگ جوڑتے ہیں اُس کو جس کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے‘ اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے ربّ سے اور اندیشہ رکھتے ہیں بُرے حساب کا۔‘‘ یعنی محاسبہ ٔ آخرت کا جو برا نتیجہ نکل سکتا ہے اُس سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ 
اب یہاں غور کیجیے کہ اس میثاق سے کیا مراد ہے۔ ویسے تو میثاق کا لفظ قرآن کریم میں مختلف معنی میں آیا ہے لیکن اگر ا س کی صحیح ترین تعبیر تلاش کی جائےتو سورۃ الاعراف میں تذکرہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں پوری نوعِ انسانی سے ایک عہد لیا تھا :
{وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج شَہِدْنَاج } (آیت ۱۷۲)
’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐکے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے اُن کی نسل کو اور اُن کو گواہ بنایا خود اُن کے اوپر‘ (اور سوال کیا:) کیا مَیں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا: کیوں نہیں! ہم اِس پر گواہ ہیں۔ ‘‘
ترتیب ِمصحف کے اعتبار سے ہمارے ذہن میں یہ نقشہ رہتا ہےکہ یہ بات تو ابھی بیان نہیںہوئی اور یہاں اس کا اجمالی اشارہ آیا ہے۔ دل میں یہ خیا ل پیدا ہو سکتا ہے کہ یہاں تو بات وضاحت سے آنا چاہیے تھی‘ بعد میں چاہے کوئی اجمالی اشارہ ہو جاتا‘ لیکن ذہن میں رکھیے کہ ترتیب نزولی کے اعتبار سے یہ مضمون قرآن حکیم میں پہلے ہی تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے‘ اس لیے کہ سورۃ الاعراف مکی سورت ہے۔ یہ ہے عہدِ الست جس کی طرف یہاں بایں الفاظ اشارہ کیا جا رہا ہے: { اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ}۔ اب اس کے خلاف جو بھی طرز ِ عمل ہوگا گویا وہ نقض ِعہد ہے‘ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑناہے۔
یہ عہد ہم سے اُس وقت لیا گیا تھا جب ہم عالم ِارواح میں تھے۔ ابھی عالم خلق میں ہمار اوجود نہیں تھا۔ ابھی اَجسادِ انسانی کی تخلیق نہیں ہوئی تھی۔کُل کی کُل انسانی اَرواح  موجود تھیں جن سے یہ عہد لیا گیا۔ اس کے بارے میں حدیث میںآتا ہے: ((اَلْاَرَوْاَحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَۃٌ))[صحیح مسلم:۶۷۰۸] یعنی ارواحِ انسانی کے لشکروں کے لشکر تھے اور وہ سب بیک وقت موجود تھیں۔ اِس وقت تو ہمارے درمیان ترتیب ِ زمانی ہے: مَیں‘ مجھ سے پہلے میرے والد‘ اُ ن سے پہلے میرے دادا‘ اُن سے پہلے پردادا۔ اُس وقت سب کے سب موجود تھے۔ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے آخری انسان جو قیامت تک پیدا ہوگا اُن سب کی ارواح وہاں موجود تھیں اور اُن سے یہ عہد لیا گیا تھا۔ درحقیقت اسی عہد ِ الست یا میثا قِ الست کی طرف یہاں اشارہ ہے۔ گزشتہ آیات میں جو توحید کی دعوت دی گئی: {اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ} اُس کے حوالے سے گویا تاکید ہے کہ نقضِ عہد نہ ہو ‘ نقضِ میثاق نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کےساتھ کیے گئے عہد کا ایفاء اور اُس کی پابندی‘ یہ گویا اسلامی تمدن‘ اسلامی نظام اور اَعمال واَخلاق کی پہلی جڑ اوربنیاد ہے ۔
رحمی رشتوں کی اہمیت
{وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ} ’’ اور وہ کاٹتےہیں اُس کو ‘ جس کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔‘‘یہ الفاظ بھی اگرچہ عام ہیں اور انسان اپنی ذہنی اُپچ اور ذوق کے مطابق اس خاکہ میں رنگ بھر سکتا ہے‘ لیکن قرآن کریم کے نظائر کوسامنے رکھا جائے تو اس سے مراد ہے رحمی رشتہ۔ انسان کی دونسبتیں ہیں اور یہ دونوں اگر صحیح ہوں تو اُس کا انفرادی رویہ بھی درست ہوگا اوراس کےنتیجہ میں جو تمدن وجود میں آئے گا وہ بھی صحیح ہوگا۔ ایک نسبت اللہ کے ساتھ ہے‘جو نسبت ِعبدیت ہے۔ دوسری نسبت انسانوں  کے ساتھ ہے ‘جن میں سب سے قریبی رحمی رشتہ ہے۔ رحمی رشتہ کے حوالے سے پوری نوعِ انسانی درجہ بدرجہ ایک وحدت بن جائے گی۔ ایک ماں باپ کی اولاد ہے تو قریب ترین رحمی رشتہ میں منسلک ہیں۔ ذرا ایک پیڑھی اوپر چڑھ جائیں تو دادا اوردادی کی اولاد میں وہ حلقہ وسیع ہو جاتا ہے۔ پردادا اور پردادی کی اولاد میں وہ حلقہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدم وحوا پر جاکر پوری نوعِ انسانی اس میں آجائے گی۔ البتہ اس میں ’’الأقرب فالأقرب‘‘ کا اعتبار کیا جائے گا۔ یعنی جو جتنا قریب ہے‘ صلہ رحمی میں اس کا حق اتناہی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سور ۃ النسا ء کی پہلی آیت میں فرمایا:
{یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّـفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآئً ج وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ط اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِـیْـبًا(۱)}
’’اے لوگو! اپنے اُس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی سے اس کا جوڑا بنایا‘ اور ان دونوں سے پھیلا دیے (زمین میں) کثیرتعداد میں مرد اور عورتیں۔ اور تقویٰ اختیار کرو اُس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو‘ اور رحمی رشتوں کو توڑنے سے بھی بچو! یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔‘‘
تقویٰ اختیا رکر و اُس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو۔ ایک دوسرے سے مانگتے ہو ‘ اپیل کرتے ہو تو اُس کے نام پرکرتے ہو ‘ اور رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو ‘ صلہ رحمی کرو۔ قطع رحمی نہ کرو۔ رحمی رشتوں کو کاٹو نہیں‘ جوڑو! یہ ہے درحقیقت تمدن کی اصل بنیاد۔ جہاں یہ جذبہ ہوگا‘ انسان صحیح طور پررحمی رشتوں کے حقوق اداکرے گا تو وہاں درجہ بدرجہ یہ بات پھیلتی چلی جائے گی اور وسیع سے وسیع تر دائرے بنتے جائیں گے‘ اور بالآخر پوری نوعِ انسانی ایک دائرے میں سما جائے گی۔ اس ضمن میں سورۃ الحجرات میں ارشاد ہوا:
{یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ط} (آیت ۱۳)
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے‘ اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے‘ تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ یقیناً تم میں سب سے زیادہ باعزّت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میں سب سے بڑھ کر متقی ہے۔‘‘
اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ شریعت ِ اسلامی کے بھی دو حصے ہیں: حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ یہی وجہ ہے کہ عبادات میں بھی چوٹی کی جو عبادتیں ہیں‘ نماز اور زکوٰۃ‘ ان میں سے ایک حقوق اللہ اور دوسری حقوق العباد سے متعلق ہے۔ ویسے تو روزہ ہر مسلمان مردا ور عورت پر فرض ہے ‘ زکوٰۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے۔ جو بھی صاحب ِاستطاعت ہوگا ‘ صاحب ِ نصاب ہوگا زکوٰۃ اُسی پر فرض ہوگی‘ لیکن عبادا ت میں ہمیشہ دوستون جو گاڑے جاتے ہیں وہ نماز اور زکوٰۃ ہیں {وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ }۔ نماز اللہ سے جوڑنے والی اور زکوٰۃ بندوں سے جوڑنے والی ہے۔ تمہارے بنی نوع میں سے جو بھی پیچھے رہ گئے ہیں ان کو بھی تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ یہ تمہیں جوڑنے والی شے ہے اپنے ابنائے نوع کے ساتھ ‘ اور نماز تمہیں جوڑنے والی شے ہے اپنے ربّ کے ساتھ۔ گویا یہ دو چیزیں جو یہاں آئی ہیں انہی کے حوالے سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی رعایت کرو۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ ’’عہدِالست‘‘ کے علاوہ پھر اضافی عہد بھی ہیں۔ جب کوئی شخص ایمان لے آتاہےتو وہ گویا اسی عہد کی توثیق کرتا ہے۔ جب کسی قوم کو شریعت عطا ہوتی ہے تو اس سے گویا ایک مزید پختہ اور گہرا میثاق لیا جاتا ہے۔پھر جب وہ کہہ دیتی ہے: ’’سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا‘‘ تو اس میثاق میں مزید جکڑی جاتی ہے۔ فرمایا کہ جو فاسق لوگ یہ دو حرکتیں (اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو توڑنا اور قطع رحمی) کرتے ہیں اللہ تعالیٰ صرف اُن کو گمراہ کرتا ہے۔
{وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط}  ’’اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘  
نقض ِعہد اور قطع رحمی کا نتیجہ
مذکورہ بالا دو حرکتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زمین میں فسا د پھیل جاتا ہے۔ پہلا نتیجہ اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی صورت میں نکلے گا‘ اور دوسرا یہ کہ خلق کے ساتھ انسان کا تعلق صحیح نہیں رہے گا۔ وہ حقوق العباد ادانہیں کرےگا‘ نہ پڑوسی کے ‘ نہ قرابت داروں کے ‘ نہ والدین کے۔ یہ فسق وفجور جن کے اندر ہے‘ جو ان دوجرائم کے مرتکب ہوتے ہیں‘ یہی لوگ مفسد ہیں۔ قرآن کریم سے بھی انہیں ہدایت کے بجائے گمراہی ملے گی۔ جو کلام ’’ھُدًی لِّلنَّاس‘‘ بن کر آیا ہے‘ نوعِ انسان کی ہدایت کی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے‘ انہیں ا س سے ہدایت نہیں ملے گی‘ بلکہ اپنے اندر کی اس داخلی کجی کی وجہ سے اس قرآن مجید سے بھی انہیں گمراہی ملے گی۔
{اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)} ’’یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘
وہی ہوں گے ابدی خسارہ اٹھانے والے۔ گھاٹے میں وہی رہیں گے ‘ برباد وہی ہوں گے۔ خسارے کا لفظ ہم اپنی زبان میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ دوچا رسو کے نقصان کے لیے بھی‘ دو چار ہزار کے لیے بھی اور دوچار لاکھ کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ‘ لیکن قرآن مجید میں لفظ ’’خسارہ‘‘ بہت بڑے اور ابدی نقصان کے لیے آتا ہے۔ درحقیقت فوز ‘فلاح اور رُشد‘ ان سب کے مقابلے میں یہی ایک جامع لفظ آتا ہے ’’خسارہ‘‘۔ فائزون ‘ راشدون ‘مفلحون‘ یہ مختلف درجات تو ہیں فوز کے ‘ کامیابی کے ‘ انسان کے بامراد ہونے کے۔ منزلِ مقصو د تک پہنچ جانے کے لیے یہ مختلف تعبیرات ہیں‘ لیکن ان سب کی ضد ایک ہی ہے اور وہ خسارہ ہے۔
آیت۲۸ {کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْـکُمْ ثُمَّ اِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸)} ’’تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مُردہ تھے‘ پھر اُس نے تمہیں زندہ کیا۔ پھر وہ تمہیں مارے گا‘ پھر جِلائے گا‘ پھر تم اُسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔‘‘
حیاتِ انسانی اور اس کے مختلف اَدوار
یہ ہے وہ آیت جس کے بارے میں مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ فلسفہ ٔ قرآنی کے اس موضوع پر اُس نے مجھے بہت زیادہ انشراح عطا فرمایا ہے۔ اس آیت میں زندگی کی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ فلسفہ ٔ زندگی کے اعتبار سے علامہ اقبال کا یہ شعر بہت ہی اہم ہے ؎
تُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں‘ پیہم‌دواں‘ ہر دم جواں ہے زندگی!
کہا جا سکتا ہے کہ اس آیت ِ مبارکہ میں کسی درجے ابہام ہے‘ لیکن اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضَہُ بَعْضًا (قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصے کی وضاحت کردیتا ہے) کے اصول کے تحت اگر نظائر کے حوالےسے سمجھا جائے توبات دوا ور دو چا ر کی طرح بالکل واضح ہو جائے گی۔ فرمایا: {کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللہِ} ’’تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا!‘‘میرے نزدیک یہاں کفر کا وہ مفہوم زیادہ صحیح منطبق ہوگا کہ کیسے ناشکری کرتے ہو اللہ کی! اللہ تعالیٰ نے تم پر جو احسانات کیے ہیں ‘ اللہ کا جو تم پر فضل و کرم ہوا ہے اُس کا تم تصور کرو۔ یہ گویا تعجب کا ایک انداز ہے کہ جس پر اتنے فضل ہوئے ہوں ‘ اس درجے کا کرم ہوا ہو ‘اللہ تعالیٰ کی اتنی عنایت رہی ہو وہ کفر کرے ‘کفرانِ نعمت کرے ‘ ناشکری کرے! {وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج} ’’حالانکہ تم مردہ تھے‘ پھر اُس نے تمہیں زندہ کیا‘‘ {ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ} ’’پھر وہ تم پر موت وارد کرے گا‘‘ {ثُمَّ یُحْیِیْـکُمْ} ’’پھر وہ تمہیں زندہ کردے گا‘‘ {ثُمَّ اِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸)} ’’پھر تم اُسی کی طرف لوٹادیے جاؤ گے۔‘‘
ان الفاظ میں حیاتِ انسانی کے چا راَدوار کا ذکر آگیا ہے‘ اس لیے کہ موت بھی درحقیقت معدوم ہونے کے معنی میں نہیں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ شے مُردہ ہے تو وہ شے معدوم نہیں ہوتی۔ اُس کا وجو د ہوتا ہے‘ صرف اس میں حیات کے آثار نہیں ہوتے‘ حیات کی صفات نہیں ہوتیں‘ حیات کی کیفیات نہیں ہوتیں۔ مُردہ معدوم تونہیں ہوتا‘ اس کی لاش تو پڑی ہے۔ البتہ اُ س میں زندگی نہیں ہے۔ صرف اس درجہ کا فرق ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ’’کُنتُم مَعدُومًا فخَلَقَکُم‘‘ کہ تم معدوم تھے پھر تمہیں پیدا کیا‘ بلکہ فرمایا: {وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج}۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے موت کو نیند سے بڑی خوبصورت تشبیہ دی ہے۔ رات کو سونے اور صبح کو اُٹھنے کی مسنون دعاؤں کے الفاظ پر غور کریں۔سونے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رُخ ہوکر ‘ دائیں کروٹ لیٹ کر‘ داہنے ہاتھ پر اپنا دایاں گال رکھ کر پڑھیں: ((اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوتُ وَاَحْیَا)) ’’اے اللہ! تیرے ہی نام سے مَیں مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے مَیں زندہ ہوں گا۔‘‘ اسی طرح صبح آنکھ کھلے تو پڑھیں: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ)) ’’کُل شکر ‘کُل حمد ‘کُل ثنا اُ س اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے زندہ کردیا اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی‘ اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ [صحیح البخاری‘ کتاب الدعوات] یعنی جیسے تم رات کو روزانہ سوتے ہو ایسےہی ایک روز موت کی نیند سو جاؤ گے۔ جیسے روزانہ صبح کو بیدار ہوتے ہو ایسے ہی ایک وقت آئے گا کہ صبح قیامت تم بیدار ہو جاؤ گے۔ بالفاظِ قرآنی: {فَاِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸)}(الزمر) ’’تو اچانک وہ کھڑے ہو جائیں گے دیکھتے ہوئے۔‘‘ معلوم ہو اکہ موت اور نیند ایک دوسرے سے بہت مشابہ اور قریب ہیں‘ اس لیے کہ نیند میں بھی در اصل شعور چلا جاتا ہےاور موت میں جان بھی نکل جاتی ہے اور شعور بھی۔ انسان کی اصل حقیقت تو اس کا شعور ہے۔ نیند میں جان تو رہ گئی لیکن شعور سلب کرلیا گیا‘ البتہ جب موت آئی تو شعور کے ساتھ جان بھی سلب کرلی گئی‘ جب کہ جسم تو پڑا ہوا ہے ‘ وہ دومَن کی لاش تو موجود ہے۔
زیر ِمطالعہ آیت میں چار اَدوار کا ذکر ہے: {کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ۚ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ} ’’تم مُردہ تھے تو تمہیں زندہ کیا‘ پھر تم پر موت وارد کرے گا‘ پھر تمہیں زندہ کرے گا۔‘‘ یہاں پر منطقی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ پہلی موت کاجو ذکر کیا گیاہے اس سے پہلے یقیناً کوئی زندگی ہونی چاہیے‘ اس لیے کہ موت تو زندگی کے بعد ہی آتی ہے۔ اس کو عدم محض تو نہیں کہا جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے کوئی شے زندہ تھی تو وہ مُردہ ہوئی ہے۔ کوئی ہستی تھی‘ کوئی حیات تھی کہ جس پر ’’إماتہ‘‘ کا عمل ہوا ہے۔ اس مضمون کے اعتبار سے سورۃ المؤمن کی دوآیات بہت ہی اہم ہیں۔ یہ اہل ِجہنم کا تذکرہ ہورہا ہے :
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللہ ِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فَتَکْفُرُوْنَ(۱۰)}
’’جن لوگوں نے کفر کیا تھا انہیں پکارا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں سے بے زار ہوگئے ہو‘ اللہ کی بیزاری تم سے اس سے کہیں بڑھ کر تھی جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔‘‘
{قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ(۱۱)}
’’وہ فریاد کریں گے: اے ہمارے رب! تُو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا‘ تو اَب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے‘ تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟‘‘
اہل ِجہنم پر جو بیت رہی ہوگی اس کے نتیجے میں وہ اپنی جانوں سے بیزار ہوکر موت کو پکار رہے ہوں گے کہ کسی طریقے سے موت آئے اور ہمارا خاتمہ ہوجائے ‘ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارا مل جائے۔ انہیں کہا جائے گا کہ جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی: اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ تب تو تم کفر کرتے تھے۔ اب وہ فریاد کریں گے‘ پکاریں  گے: اے رب ہمارے! تُو نے دو مرتبہ ہم پر موت وارد کی اور دو مرتبہ ہمیں زندہ کیا ‘ اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سے خطا ہوئی۔ ہم نے غلطی کی۔ ہم نے کفر کیا۔ ہم نے زندگی اکارت گزار دی۔ جب ہم پر اتنے اَدوار آ چکے ہیں‘ دومرتبہ تُونے ہمیں مارا ‘دو مرتبہ زندہ کیا‘ تو کیا اب ہمیں ایک موقع اور نہیں مل سکتا؟ {فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ(۱۱)} کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ‘نکلنے کا کوئی راستہ اور امکان ہے؟ اس میں ایک اپیل ہے اور اس کے ساتھ دلیل بھی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت زیر درس میں الفاظ آئے ہیں: {کُنْتُمْ اَمْوَاتًا} ’’تم مُردہ تھے‘‘ جب کہ اس آیت میں’’إماتۃ‘‘ کا لفظ ہے جو باب افعال سے مصدر ہے: {اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ اَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ} ’’تُو نے دومرتبہ ہمیں مارا اور دو مرتبہ ہمیں جِلایا (زندہ کیا)۔‘‘
حیاتِ انسانی : تین زندگیاں‘ دو اموات
ان دونوں مقامات پر غور کریں تو یہ حیات ِانسانی کےپانچ اَدوار بنیں گے۔ پہلا دورعالم ارواح میں ہماری حیات ہے‘ جبکہ ابھی ارواح کی تخلیق ہوئی تھی‘ اَجسادکی تخلیق نہیں ہوئی تھی۔ اُ س وقت ہم نے اللہ تعالیٰ سے وہ عہد (عہدِ الست) کیا تھا جس کا ذکر ماقبل آیت میں آچکا ہے: {الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ} ’’وہ لوگ جواللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اُس کے پختہ ہونے کے بعد۔‘‘ وہ عہد اُس عالم ارواح  میں ہوا تھا جہاں تمام انسانوں کی ارواح موجود تھیں۔ یہ ہماری زندگی کا پہلا دور ہے جوہم گزار کر یہاں آئے ہیں۔ اُس کے بعد ہمیں سلا دیا گیا۔ نیند موت کی بڑی بہن ہے‘ تو ہماری خودشعوری ختم ہوگئی اور گویا اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو ایک بہت بڑے کولڈ سٹوریج میں رکھ دیا۔ اب عالم خلق میں ایک ایک انسان کا ہیولیٰ رحم مادر میں تیا رہو رہا ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام  کا ہیولیٰ تیار ہوا تھا تو اُن ؑ کی روح لاکر شامل کردی گئی۔ پھر حضرت آدم ؑ کی نسل میں جو بھی توالد و تناسل ہوتا رہا اور جس طریقے سے نسل بڑھتی رہی تو رحم مادر میں ایک ایک انسانی بچے کا ہیولیٰ تیار ہو ا اور اُس کی روح لاکر شامل کردی گئی۔ یہ ہے احیائے اُولیٰ ۔ گویا روح کو جب سلادیا گیا تو یہ اماتہ ٔ اوّلی ہے‘ یعنی پہلی مرتبہ موت وارد کرنا‘ سُلا دینا۔ اُس کے بعد یہاں روئے ارضی پر ہمیں زندہ کیا گیا۔ بقولِ غالب: ع ’’اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل!‘‘ اب ہم یہاں آئے ہیں ایک جسد کے ساتھ۔ وہ حیاتِ اوّلین بغیر جسد کے تھی‘ ہم ارواح کی شکل میں تھے۔ یہاں ہمیں ایک جسد دیاگیا ہے ‘یہ احیائے اولیٰ ہوگیا ‘ یعنی پہلی مرتبہ کا زندہ کردینا۔ اس کےبعد آئے گا اماتۂ ثانیہ جب ہماری موت وارد ہوگی۔ اس موت کی صورت میں ہماری روح عالم بالا کی طرف جائے گی جبکہ ہمارا جسم یہاں پڑا رہ جائے گا۔ یہ پھر ایک نیند ہے۔ وہ جو میر نے کہا ہے: ؎
مرگ اِک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر!
اس کو موت ہم اس معنی میں نہیں کہتے کہ کوئی معدوم ہوگیا۔معاذاللہ! یہ تو زندگی کی ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں منتقل ہوجانے کا نام ہے۔ اِدھر آنکھ بند ہوئی اور اُدھر عالم برز خ میں آنکھ کھل گئی۔ یہ تو خالص غیر شعوری کا دور بھی نہیں۔ پہلی موت تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک خالص غیرشعوری کا دور تھا۔ یہ تو غیر شعوری نہیں بلکہ نیم شعوری کا دور ہوگا۔ اس لیے کہ عذاب ِ قبر پر ہمار ا ایمان ہے کہ عالم برزخ میں عذاب بھی ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ)) [سنن الترمذی: ۲۴۶۰]  ’’قبر یا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔‘‘ یہ مختلف تعبیرات ہیں ۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ قبر میں جنت کی طرف سے کھڑکی کھول دی جاتی ہے یا جہنم کی طرف سے ۔ یعنی جنت یا جہنم کے آثار اور کیفیا ت وارد ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اُس کےبعد دوسرا اِحیاء ہوگا: {ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ}۔
پس معلوم ہو اکہ حیات ِانسانی کے پانچ اَدوار ہیں۔ دو اموات کا وقفہ ہے اور تین زندگیاں ہیں ۔ پہلی زندگی عالم ِارواح کی ‘ شعور کے ساتھ ‘ ا س لیے کہ اگر شعور نہیں تھا تو عہد کے کیا معنی ہوئے! دُنیا میں بھی کوئی معاہدہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ مَیں بقائمی ہوش وحواس یہ عہد کرتا ہوں ۔ ہم نے اپنے پورے شعور کے ساتھ یہ عہد کیا: {اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ط قَالُوْا بَلٰى ج}(الاعراف:۱۷۳)۔ اُ س کے بعد ہمیں سلا دیا گیا۔ یہ پہلی موت ہے۔ پھر جب ہماری آنکھ کھلی تو ہم اس عالم دنیا میں ایک جسم کےساتھ آئے ہیں۔ ہمیں اَعضاء و جوارح دیے گئے ہیں۔ یہ ہے ہمار اامتحانی وقفہ‘ کہ کچھ کرکے دکھاؤ!
سورۃ الملک میں فرمایا: {الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط}(آیت۲) نو ٹ کیجیے اس میں کس قدر باریکیاں ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا: ’’خَلَقَ الْحَیَاۃَ وَالْمَوْتَ‘‘ بلکہ حیات کے بجائے موت کو مقدّم کر رہا ہے۔ اس لیے کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ایک موت ہم گزار آئے ہیں اور اُس موت کے بعد جو ہمارا اِحیاء ہو ا ہے تو وہ درحقیقت یہ حیاتِ دُنیوی ہے۔ اس کے بعد اماتہ ٔثانیہ ہوگا اور اس کے بعد حیات کا تیسرا دور ہوگا۔ گویا ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون‘‘ کے مابین انسانی حیات کے پانچ ادوار ہیں ۔ موت معدوم ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ حیات ہی کی ایک کیفیت ہے‘ ذرا نیم شعوری یا غیر شعوری کی کیفیت ۔ ایک آدمی بالکل بے ہوش پڑا ہوا ہو تو اُس کو مُردہ تو نہیں کہتے ‘ وہ بہرحال زندہ ہےلیکن اُس کو شعور نہیں ہے۔ اسی طرح جو موت ہمیں آنی ہے وہ نیم شعوری کی کیفیت ہے ‘ غیر شعوری کی نہیں۔ البتہ جو موت اس دنیا میں آنے سے پہلے ہم گزار آئے ہیں وہ خالص غیر شعوری کی تھی۔ اُس سے پہلے شعور ِ کامل تھا جس میں ہم نے اللہ سے عہد کیا۔ تو یہ ہیں پانچ ادوار۔
انسان کا وجودِ علمی
یہ مضامین تھوڑے سے پیچیدہ بھی ہیں‘ ان کی تفہیم میں انسان کے ڈگمگانے کا بھی اندیشہ ہے۔ عالم ِارواح میں آنے سے پہلے ہماری کیا کیفیت تھی؟ اس کے بارے میں اہل فلسفہ اور اہل تصوف نے بہت کچھ کہا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ اُس وقت بھی ہمارا ایک وجود تو تھا‘ جو وجود ِ ذہنی تھا علم خداوندی میں ۔ علامہ اقبال کا بہت بلند پایہ شعر ہے: ؎
بضمیرت آرمیدم تو بجوشِ خود نمائی
بکنارہ برفگندی دُرِ آبدارِ خود را!
’’اے اللہ! مَیں تیری ہستی کے اندر آرام سے سویا ہوا تھا‘ پھر تُو نے خود نمائی کے جوش میں اپنے اس چمک دار موتی کو کنارے پر پھینک دیا۔‘‘
 مَیں تیری ہستی کے اندر آرام سے سویا ہوا تھا... ا س کے کیا معنی ہیں ؟ یہ کہ میری ذات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہے۔ مَیں اور میرا وجود اِس دنیا میں ساٹھ سال پہلے آیا ہوگا۔ اُس سے ہزارہا سال پہلے میری روح وجود میں آئی ہوگی ‘ لیکن میری اس روح اور میرے اس مادّی جسم کا علم اللہ تعالیٰ کو تو ہمیشہ سے ہے۔ گویا میر اوجودِ علمی تو ہمیشہ سے ہے‘ وہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے قائم تھا۔ جیسے سیپی کے اندر خوبصورت موتی بن رہا ہوتا ہے ‘یہ سیپی کی اپنی تخلیق ہے‘ اور پھر سیپی کا منہ کھلتا ہے اور وہ اپنے موتی کو باہر پھینک دیتی ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ اس نے کیا بنایا ہے اور اس کی تخلیق کس قدر حسین ہے! اے پروردگار! مَیں موجود تو تھا لیکن مجھے اپنا شعور نہیں تھا۔ تیری ذات کے اندر میری حیثیت ایک علمی وجود کی تھی۔ ہمارا وجود ِ خارجی پہلے عالم ارواح میں روح کی حیثیت سے ہوا۔ اُس کےبعد ہم پر ایک نیند طاری کردی گئی‘ گویا کولڈ سٹوریج میں ڈال دیے گئے۔ پھر ہمارا تعلق اس جسد کے ساتھ رحم مادر میں قائم کیا گیا۔
سورۃ المؤمنون کی آیات ۱۲ تا ۱۴میںرحم مادر میں انسان کی تخلیق کے مراحل وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا: {ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَط} ’’پھر ہم نے اسے ایک اور ہی مخلوق بنا کھڑا کیا‘‘ یعنی اب یہ ایک بالکل نئی مخلوق ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کی تفصیل اس حدیث میں ملتی ہے جس کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بایں الفاظ نقل ہوئی ہے :
((اِنَّ اَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا نُطْفَۃً، ثُمَّ یَـکُوْنُ عَلَقَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ،ثُمَّ یَـکُوْنُ مُضْغَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَـیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفُخُ فِیْہِ الرُّوْحَ…))(صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیاء‘ باب خلق آدم وذریتہ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب القدر‘ باب کیفیۃ خلق الآدمی فی بطن امہ …)
’’تم میں سے ہر ایک کی تخلیق یوں ہوتی ہے کہ وہ (یعنی جنین) اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس یوم تک نطفہ کی صورت میں‘ اس کے بعد اتنے ہی روز تک علقہ کی صورت میں‘ اور اس کے بعد اتنے ہی روز گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتاہے۔ بعد ازاں اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے ‘پس وہ اس میں روح پھونکتا ہے…‘‘
یعنی چالیس دن تک نطفہ‘ پھر چالیس دن تک علقہ اور اس کے بعد چالیس دن تک مُضغۃ، ایک سو بیس دن (چار ماہ) میں یہ تین مراحل مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں۔ وہ کولڈ سٹوریج (عالم ِارواح) سے اس کی روح کو لا کر اس مادّی جسم کے ساتھ ملا دیتا ہے اور یوں ایک نئی مخلوق وجود میں آ جاتی ہے۔ اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنے میں بھی لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ عام طو رپر یہی سمجھا گیا ہے کہ ایک سو بیس دن کے بعد اس جسم میں جان ڈال دی جاتی ہے۔ یعنی روح کو ’’جان‘‘ (life)سمجھا گیا ہے‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی یا جان اس میں پہلے دن سے ہی موجود تھی۔ باپ کے نطفے کا خلیہ (spermatozoon) اور ماں کا بیضہ (ovum) بھی اپنی اپنی جگہ پر زندہ وجود ہیں اور ان دونوں کے اختلاط سے وجود میں آنے والا جفتہ (zygote)بھی۔ بہر حال ایک سو بیس دن کے بعد اس جسد ِحیوانی میں ’’روح‘‘پھونکی جاتی ہے‘ جو ایک نورانی چیز ہے اور وہی اسے حیوان سے انسان بناتی ہے۔ اسی تبدیلی یا تخلیقی مرحلے کو ’’خَلْقًا اٰخَرَ‘‘ (ایک نئی تخلیق) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہ ہماری زندگی کا تیسرا دور ہے۔ اس کےبعد موت آئےگی‘ اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ پھر کتنا طویل عرصہ عالم ِبرزخ میں پڑے رہیں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے کے لوگ کتنے ہزار برس سے عالم برزخ میں ہیں‘ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جو آخری زمانے کے لوگ ہوں گے‘ ظاہر ہے کہ اُن کا وقفہ تھوڑا ہوگا اور جو پہلے زمانوں میں وہاں پہنچ چکے ‘ اُن کی عالم برزخ کی زندگی زیادہ ہے۔ البتہ بعد میں آنے والوں کی جو پہلی ’’موت‘‘ تھی وہ لمبی تھی۔ یعنی عالم ارواح کے بعد اس دنیا میں آنے تک کا ان کا وقفہ لمبا تھا‘ لیکن یہ سارا عددی (quantative) فرق ہے۔ اصل میں وہی پانچ ادوار ہیں۔ ان ادوار سے پہلے ہمارا وجود علمی تھا‘ ذات ِ باری تعالیٰ میں علم کی حیثیت سے ہمارا ایک تشخص اور ایک وجود تھا۔
ارواحِ انسانی کا ذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق
اب یہاں بھی خاص طور پر نوٹ کیجیےکہ لفظ ثُمَّ آیا ہے‘ اور یہ تراخی (تاخیر) کے لیے آتا ہے۔ اس اعتبار سے چار مراحل پر بات ختم نہیں ہوگئی ‘بلکہ فرمایا: {ثُمَّ اِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸)} ’’پھر تم اُسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کو ان فلسفیانہ باتوں سے دلچسپی نہ ہو‘ کہ ہمارے عام اہل سُنّت کے عقائد سے ان کا تعلق نہیں  ہے۔ بہرحال علمی دلچسپی کے طور پر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ یوں سمجھیے کہ جہاں تک ارواحِ انسانی کا معاملہ ہے اُن کا پھر ذات ِ باری تعالیٰ کے ساتھ ایک تعلق قائم ہو جائے گا۔ اس دنیا میں بھی روحِ انسانی کا براہ ِ راست ربط وتعلق ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ ہے‘ جس طرح سورج کی شعاؤں کا کروڑہا میل دور آکر بھی سورج سےسلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ ایک کرن اپنے منبع سے علیحدہ اور جدا نہیں ہے۔ یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ سورج کی شعاؤں کے اندر بھی اس کی طرف واپسی(return to the sun) کا ایک رجحان (tendency) ہے ‘کہ یہ چکر لگا کر اور ایک curve بنا کر واپس اپنے مرکز اور منبع کی طرف لوٹتی ہیں۔ چنانچہ ’’اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ کے اوّل وآخر ذات ِباری تعالیٰ ہے۔
مختصراً یہ کہ ’’ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ کے مابین حیات ِ انسانی کے پانچ ادوار ہیں۔ پہلا دور عالم ِارواح میں شعور کے ساتھ۔ دوسرا دور بے شعوری کے ساتھ پہلی نیند‘ اور یہ پہلی موت ہے جو ہم گزار آئے۔ تیسرا دور حیات ِ دُنیوی اس جسد ِ مادّی کے ساتھ جس میں شعور بھی ہے حیات بھی ہے۔ چوتھا دور موت کے بعد نیم شعوری کا‘ یعنی حیات ِ برزخی۔ پانچواں دو ر حیات ِ اُخروی۔
ارشاد ہوا: {کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللہِ.....} ’’تم کیسے انکار کرتے ہو اللہ کا.....؟‘‘ ذرا غور تو کرو‘ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کن کن اَدوار سے گزارا ہے! مجھے مولا نا روم ؒ کا ایک شعر یاد آرہا ہے‘ اگرچہ انہوں نے وہ ارتقاء کے سلسلے میں کہا ہے ؎
ہفت صد و ہفتاد قالب دیدہ ام
ہم چو سبزہ بارہا روئیدہ ام!
یعنی مَیں سات سو اسّی پیکر تو پہلے ہی بیت آیا ہوں‘ نمعلوم کن کن شکلو ں میں۔ کبھی مَیں جمادات میں تھا‘ پھر نباتات میں آیا‘ پھر حیوانات میں آیا۔ ارتقاء کے مراحل طے ہوئے‘ کہیں سے کہیں پہنچا۔ مجھے کیا اندیشہ ہے کہ موت مجھ میں کچھ کمی کردے گی! مَیں مرنے سے کچھ کم ہوجاؤں گا؟ میری اگلی منزل تو پہلے سے بہتر آرہی ہے۔ اگر انسان سیدھے راستے پر آجائے ‘ حق پر آجائے ‘ ہدایت پر آجائے تو {وَلَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى (۴)} (الضحیٰ)  کے مصداق اُس کی ہر آنے والی منزل پچھلی منزل سے بہتر ہوگی۔ اُس کے لیے تو درحقیقت ترقی ہی ترقی ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ(۱۹)}(الانشقاق) ’’تم لازماً چڑھو گے درجہ بدرجہ۔‘‘ تم بلند ہوگے طبقاً طبقاً‘ درجہ بدرجہ‘ سیڑھی بہ سیڑھی۔ بہرحال سورۃ البقرۃ کی اس آیت ِ مبارکہ (آیت ۲۸) کو سورۃ المؤمن کی آیات ۱۰ اور ۱۱ کے ساتھ ملاکر تدبر کیا جائے تو حیاتِ انسانی کے یہ پانچ مراحل سامنے آتے ہیں۔ ایک موت اِدھر اور ایک موت اُدھر ‘ درمیان میں یہ حیات ِدُنیوی ہمار ا امتحانی وقفہ ہے۔ ؎
قلزمِ ہستی سے تُو اُبھرا ہے مانندِ حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!
اس دنیا میں تمہیں جسم دے کر بھیجا گیاہے۔ ہاتھ پاؤں دیے ‘ صلاحیت دی۔ جسم کے اندر طاقت رکھی۔ تمہارے اندر اُمنگ رکھی۔ اب کچھ کرکے دکھاؤ! آؤ‘ یہ گوئے (گیند) ہے اور یہ چوگان! do your worth ثابت کرو کہ تم کیا ہو!
واضح رہے کہ موت کو بھی قرآن نے ایک سلبی حقیقت نہیں کہا‘ بلکہ فرمایا: ’’خَلَقَ الْمَوْتَ‘‘ (موت کو پیدا کیا)‘ اور جس چیز کو پیدا کیا جاتا ہے درحقیقت وہ معدوم شے نہیں ہوتی۔ وہ بھی ایک مثبت حقیقت ہے‘ منفی حقیقت نہیں ہے۔ چنانچہ موت سلبی کیفیت کا نام نہیں ہے۔ {خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا}  ’’اُس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ وہ تمہیں آزمائے (پرکھے ‘ جانچے اور امتحان لے) کہ کون ہے تم میں سے بہتر عمل کرنے والا !‘‘
آیت۲۹ : ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَـکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ق ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ(۲۹) ’’وہی (اللہ) ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کا سب‘ پھر وہ متوجّہ ہوا آسمانوں کی طرف اور انہیں ٹھیک ٹھیک سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
زمین پر انسان کی حیثیت
{ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاق} ’’وہی (اللہ) ہے جس نے بنایا ہے تمہارےلیے جو کچھ زمین میں ہے کُل کاکُل۔‘‘ یہ بات دراصل اگلے رکوع کی تمہید کے طور پر آرہی ہے۔ دونوں رکوعوں کے مضامین میں باہم ربط ہے۔ جو کچھ زمین میں ہے‘ کُل کا کُل انسان کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسی سے پھر وہ خلافت کا مضمون متعلق ہوجائےگا جو اگلے رکوع میں بڑے اہتما م اور شان کے ساتھ بیان ہو رہاہے۔
قرآن مجید میں جہاں یہ مضمون بیان ہوکہ زمین اور آسمان کی ہر شے تمہارے لیے مسخر کر دی‘ وہاں ’’سَخَّرَ لَکُمْ‘‘ آتا ہے‘ البتہ یہاں صرف زمین کا ذکر ہے ‘ اور فرمایا کہ تمہارے لیے بنایا گیا ہے جو کچھ بھی زمین میں ہے کُل کا کُل۔ ’’جَمِیْعًا‘‘ کا کچھ اور مفہوم بھی بعض لوگوں نے لیا ہے کہ یہ سب کے لیے ہے یعنی یہ مشترکہ ملکیت ہے‘ مشترک مفاد کے لیے ہے ‘ انتفاع سب کا مشترک ہونا چاہیے۔ خالص نحوی اعتبار سے اگرچہ اس کا امکان موجود ہے ‘ لیکن میرے نزدیک الفاظ کا جو دروبست ہے‘جو سیاق وسباق ہے اُس کے اعتبار سے مفہوم یہی ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے کُل کا کُل تمہارے لیے بنایا گیا ہے۔ البتہ سورئہ لقمان کی آیت ۲۰ میں فرمایا گیا:
{اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ}
’’کیا تم دیکھتے نہیںکہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔‘‘
اور یہی سور ۃالجاثیہ میں آیا ہے :
{ وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ ط} (آیت۱۳)
’’اور اُس نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہےکُل کا کُل جو آسمانوں میں ہے او ر جو زمین میں ہے ۔‘‘
تسخیر کے دو مفہوم
اس ’’مسخر‘‘ کے بھی دومعنی ہیں۔ ایک تویہ کہ سب کچھ تمہاری خدمت میں لگادیا ہے‘ تمہاری ضروریات کی بہم رسانی میں لگا دیا ہے۔ سورج تمہاری فصلیں پکار ہاہے ‘ تمہار ی ہواؤں کو حرکت میں لا رہا ہے ‘ پانی کو بخارات کی شکل میں اوپر لے جارہا ہے‘ بارش کے برسنے کا نظام ہے۔ سب مظاہر فطرت تمہارے نوکر چاکر ہیں۔ تمہارے فائدے اور خدمت کے لیے مامور ہیں۔ دوسرے یہ کہ ’’سَخَّرَ لَكُمْ‘‘ میں یہ نکتہ بھی ہے کہ انسان کی تسخیر کی رسائی پوری کائنات پر محیط ہے۔ ’’جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے وہ تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔‘‘ یعنی تمہاری رسائی میں ہے۔ تم ان پر قابو پاؤ‘ ان پر کنٹرول حاصل کرو ‘ ان کو ایکسپلائٹ کرو۔ ان سےکام لو ‘ ان سے فائدہ اُٹھاؤ! اس کی قوت اور صلاحیت بھی تمہیں دے دی گئی ہے۔
اس اعتبار سے ’’تسخیر ِکائنات‘‘ اس دور میں ’’دجالیت‘‘ اس لیے بن گئی ہے کہ صرف مادّی علم بڑھتا جارہا ہے جبکہ انسان نے اپنا رشتہ اپنے خالق سے توڑ لیا ہے۔ ستاروں اور سیاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے‘ عناصر فطرت کو قابو میں لا رہا ہے۔ تمام قوانین قدرت اُس کے علم میں آرہے ہیں ‘ تمام عناصرپر اُس کا اقتدار اور غلبہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ تسخیر کے یہ دونوں مفہوم اپنی جگہ پر صحیح ہیں۔
ارض وسماء کی تخلیق میں ترتیب ِزمانی
{ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ} ’’پھر وہ متوجہ ہوا بلندی کی طرف‘‘۔ ’’اِسْتَوٰی‘‘ کا مادّہ ’’س و ی‘‘ ہے اور باب استفعال میں اس کے معنی ہیں: برابر یا سیدھے کھڑے ہوجانا۔ خط ِ استواء وہ فرضی خط ہے جو ہمارے اس کرۂ ارضی کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ’’اِسْتَوٰی‘‘ کے بعد جب صیغہ ’’اِلٰی‘‘ آتا ہے تو معنی ہوتا ہے سیدھے ہوجاناکسی شے کی طرف‘ یعنی اُس شے کا قصد کرنا‘ ارادہ کرنا‘ اُس کی طرف متوجہ ہو جانا۔ فرمایا کہ پھر وہ بلندی کی طرف یعنی آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔{فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ} ’’اور اُس نے انہیں برابر کردیا سات آسمانوں کی صورت میں۔‘‘ یہ اُسی مادّہ ’’س و ی‘‘ سے باب تفعیل ہے۔ سَوّٰی یُسَوِّی تَسْوِیَۃً: برابر کر دینا‘ درست کر دینا‘ ہموار کردینا۔
{وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ } ’’اوروہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔ ‘‘
{ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ} میں کلمہ ’’ثُمَّ‘‘ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ عام تصور تو ذہن میں یہ بنتا ہے کہ اِس پوری کائنات کی تخلیق ہوئی ہے تو پھر اُس میں کہیں  زمین کی بھی تخلیق ہوئی ہے‘ لیکن قرآن مجید جس چیز کو ’’آسمانوں اور زمین‘‘ سے تعبیر کرتا ہے ان کی تخلیق میں ترتیب یہ بتاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی ہے‘ پھر آسمانوں کی تشکیل اور صورت گری ہوئی ہے۔ اس لیے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ’’ثُمَّ‘‘ تراخی کے لیے آتا ہے‘ یعنی کسی شے کے کسی شے کے بعد آنے کے لیے یہ دلیل قطعی ہے۔ چنانچہ ازروئے قرآن ارض وسماء کی تخلیق میں ترتیب ِ زمانی یہ ہے کہ زمین کی تخلیق پہلے ہوئی ہے اور حیاتِ ارضی کے لیے جو ضروری اشیاء ہیں وہ بھی پہلے تخلیق کردی گئیں۔ اس کے بعد آسمان کی تخلیق اپنے تکمیلی مرحلہ میں داخل ہوئی۔ یہ مضمون قرآن کریم میں دوسرے مقام پر بڑی تفصیل سے آیا ہے‘ جو اجمالاً آپ کےسامنے آجانا چاہیے۔یہ سورۂ
حٰمٓ السجدۃ کے دوسرے رکوع کی آیات ہیں اور ان میں بھی انداز وہی ہے جیسے ہم یہاں دیکھ رہے ہیں:  {كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللہِ}۔ وہاں ارشاد ہے :
{قُلْ اَئِنَّکُمْ لَـتَـکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًا ط ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۹) }
’’(اے نبیﷺ! آپ ان سے) کہیے: کیا تم لوگ کفر کر رہے ہو اُس ہستی کا جس نے زمین کو بنایا دو دنوں میں؟ اور تم اُس کے لیے مدّ ِمقابل ٹھہرا رہے ہو! وہ ہے تمام جہانوں کا ربّ۔‘‘
اے نبی! ان سے کہیے: کیا تم واقعی کفر کرتے ہو؟ یہ متجسسانہ (searching) قسم کا انداز ہے کہ تمہارا کفر مصنوعی ہے‘ دل میں تم مانتے ہو!کیا تم واقعی اُس ہستی کا کفر کر رہے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا؟ کیا تم واقعی اُس کے لیے مدّ مقابل سمجھتے ہو؟ یعنی اگر تم خود بھی اپنے گریبان میں جھانکو گے‘ اپنے دل کو ٹٹولو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری فطرت اس سے انکار کرتی ہے کہ اس کے مدّمقابل بھی کوئی ہے۔ یہ لفظ (اَنْدَادًا) سورۃ البقرہ میں بھی آچکا ہے: {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} ’’پس تم اللہ کے مدّمقابل اور ہمسر نہ قراردے دو ‘ جانتے بوجھتے۔‘‘ یہاں فرمایا کہ وہی ہے تمام جہانوں کا مالک اور پروردگار۔
{ وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِہَا وَبٰرَکَ فِیْہَا وَقَدَّرَ فِیْہَآ اَقْوَاتَہَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ ط سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ(۱۰) }
’’اور اس میں اُس نے بنائے پہاڑوں کے لنگر اس کے اوپر سے‘ اور اس میں برکات پیدا کیں اور اس میں اندازے مقرر کیے اس کی غذائوں کے ‘چار دنوں میں۔ تمام سائلین کے لیے برابر۔‘‘
پہاڑوں کے بارے میں یہ جیالوجی کاissue ہے کہ یہ کس طور سے وجود میں آئے ہیں۔ قرآن کریم نے ایک تصور یہ دیا ہے کہ جیسے اُوپر سے کوئی شے گاڑ دی جائے۔ دوسرے مقام پر انہیں ’’اَوْتَاد‘‘ (میخیں) بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے خلا سے کسی مٹیریل کی اس طرح سے مادّی بوچھاڑ ہوئی ہو کہ وہ زمین میں دھنس گیا ہو اورپھر اُس نے پہاڑوں کی شکل اختیار کی ہو۔ واللہ اعلم!
قرآن مجید میں متعدد مرتبہ آیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ہمارے چھ دن نہیں ہیں۔ ہمارے چوبیس گھنٹے کے دن کو اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہزار برس کا بھی ہے‘ پچاس ہزار برس کا بھی۔ کل کائنات کا دن کیا ہوگا‘ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ تاہم جدید اصطلاح میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاید Six Millenniums یا Six Eras میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہوئی ہے۔ ابھی مَیں اس کوکُل کائنات نہیں کہہ رہا‘ اس لیے کہ ہو سکتا ہے آسمانوں اور زمین سے مراد کُل کائنات ہو‘ یا ہو سکتا ہے کہ اُس کا کوئی ایک حصہ ہو ‘ کوئی خاص galaxy ہو‘ اور یہ خاص بلندیوں کا سلسلہ اسی کے اندر مکمل ہو جاتا ہو۔ واللہ اعلم! یہ تمام چیزیں ابھی متشابہات کے درجے میں ہیں۔ کائنات کی تخلیق کے حوالےسے ہمارا Cosmology کا علم اور ہماری معلومات بہت محدود ہیں۔ بہرحال قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے دو دن میں زمین کی تخلیق فرمائی۔ پھر مزید دو دن میں اس میں پہاڑوں کے لنگر جما دیے اور اس میں برکت پیدا کردی {بٰرَكَ فِیْهَا}۔ یہ وہ چیز ہے کہ جس سے حیات کی نشوونما ہو سکے۔ کسی شے میں کوئی خیر مضمر ہو‘ پھر وہ ظہور پذیر ہو جائے تو وہ برکت ہے۔ مزید یہ کہ {وَقَدَّرَ فِیْهَا اَقْوَاتَهَا} ’’اور اُس میں ساری کی ساری غذاؤں کے اندازے مقرر کر دیے۔‘‘ اَقْوَات جمع ہے قُوت کی۔ (’’قوتِ لایموت‘‘ کی اصطلاح ہم استعمال کرتے ہیں‘ یعنی اتنی غذا جو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہو۔) انسان اور حیوانات کی تخلیق سے قبل ان کی جو بھی ضروریات تھیں‘ اللہ تعالیٰ نے پوری فرمادیں۔ سارا حیات بخش اور حیات پرور مواد پہلے فراہم کر دیا۔ زمین کی مٹی کو روئیدگی کے قابل بنایا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اس کی مٹی میں صرف inorganic compounds پائے جاتے تھے‘ جنہوں نے organic compounds کی شکل اختیار کرنے میں وقت لیا ہے۔ زمین کے اندر وہ ساری صلاحیت پیدا ہوگئی جس سے حیات کا ظہور بھی ہو‘ اور زمینی حیات چاہے وہ نباتاتی ہو یا حیواناتی ‘ اُس کی نشوونما کے لیے جو بھی ضروری عوامل ہیں وہ مہیا ہوجائیں۔{فِیْ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ} یہ بات چار دنوں میں مکمل ہوئی۔ {سَوَآءً لِّلسَّآىٕلِیْنَ} برابر ہے تمام سوال کرنے والوں کے لیے۔ یعنی جو لوگ بھی زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں‘ ان سب کے لیے یہ یکساں جواب ہے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ سب مانگنے والوں کے لیے اس میں برابر حصہ ہے۔ جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ گویا اپنے وجود سے ہی سوالی ہیں‘ محتاج ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے ان کی ضروریات کا سارا سامان اس زمین میں مہیا کر دیا ہے۔
{ ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا ط قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ(۱۱)}
’’پھر وہ آسمان کی طرف متوجّہ ہوا‘ اور ابھی وہ ایک دھواںسا تھا‘ تو اُس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں چلے آئو خوشی سے یا جبراً! ان دونوں نے کہا کہ ہم حاضر ہیں پوری آمادگی کے ساتھ۔‘‘
آیت کے آغاز میں وہی الفاظ آئے ہیں جو سورۃ البقرۃ میں آئے ہیں: {ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَاۗءِ} مزید فرمایا: {وَ هِیَ دُخَانٌ} ’’اور ابھی وہ ایک دھواںسا تھا۔‘‘ یہاں لفظ ’’دُخان‘‘ بہت اہم ہے۔ یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب آسمان ایک دھویں کی شکل میں تھا اور ابھی سات آسمانوں کی الگ الگ صورتیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ ان آیات میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے سے متعلق کچھ اشارے پائے جاتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق Big Bang کے بعد آگ کا ایک بہت ہی بڑا گولا وجود میں آیا۔ پھر اس گولے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس طرح اس مادّے کے جو حصے علیحدہ ہوئے ان سے کہکشائیں بننا شروع ہوئیں۔ دھوئیں کی شکل میں گویا ایک homogeneous mass تھا‘ جیسے کہ ہوا کے اندر نمی کے ذرات پوری طرح منتشر ہوں‘ جس سے آسمانوں کی ہیئت وجود میں آئی۔ واللہ اعلم!
پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اُس دخان کو بھی اور زمین کو بھی کہ آؤ‘ ہمارا حکم بجا لانے کے لیے ‘ ہمارے فرمان کو سننے اوراس کی اطاعت کرنے کے لیے دونوں کے دونوں حاضر ہوجاؤ‘ طوعا ً وکرھا ً‘ خواہ اپنی خوشی سے یاجبراً۔ دونوں نے کہا: ہم حاضر ہیں اپنی پوری آمادگی کے ساتھ۔
{فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰواتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَہَاط وَ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ق وَ حِفْظًاط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(۱۲)}
’’پھر اُس نے ان کو سات آسمانوں کی شکل دے دی دو دنوں میں‘ اور اُس نے وحی کر دیا ہرآسمان پر اس کا حکم۔ اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں سے مزین کردیا اور اس کی خوب حفاظت کی۔ یہ اُس ہستی کا بنایا ہوا اندازہ ہے جو زبردست ہے اور کُل علم رکھنے والا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے اُ ن کو تقسیم کردیا سات آسمانوں کی شکل میں دو دنوں میں‘ اور ہر آسمان میں  اللہ تعالیٰ نےاُس کے حصے کا کام وحی کر دیا ۔ گویا دو جمع دو ‘ جمع دو‘ کل چھ دن۔ قرآن حکیم میں سات مقامات پر یہ ذکر ملتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میںہوئی‘ لیکن یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں نہ صرف ان چھ دنوں کی مزید تفصیل (break up) دی گئی ہے بلکہ اس تخلیقی عمل کی ترتیب(sequence) کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ یعنی پہلے زمین بنی اور سات آسمان اس کے بعد وجود میں آئے۔ لیکن ابھی تک ہم نہ تو مذکورہ چھ دنوں کے مفہوم کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی زمین و آسمان کے تخلیقی عمل کی ترتیب سے متعلق سائنٹیفک انداز میں کچھ جان سکتے ہیں۔ بہر حال ہمارا ا یمان ہے کہ مستقبل میں کسی وقت سائنس ضرور ان معلومات تک رسائی حاصل کرے گی اور انسان اس حقیقت کی تہ تک ضرور پہنچ جائے گا کہ زمین و آسمان کے وجود میں آنے کی صحیح ترتیب وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے۔
{وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ حِفْظًاط}  اور جو سب سے قریب کا آسمان ہے اس کو چراغوں سے مزین کردیا اور حفاظت کا ذریعہ بنادیا۔
{ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(۱۲)} یہ سارا اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اُس ہستی کا جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
سورۃ البقرۃ میں اس مضمون کے اختتام پر یہ الفاظ آئے ہیں: {وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۲۹)} ’’اور وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔‘‘ یعنی زمین وآسمان کی تخلیق کے بعد وہ ان سے غافل نہیں ہوگیا۔ دراصل فلسفیانہ افکار میں اس قسم کا ایک تصور بھی موجود ہے کہ کائنات کا خالق تو بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ لیکن کائنات بنانے کے بعد وہ فارغ ہوا۔ اب یہ کائنات آپ سے آپ چل رہی ہے۔ خالق کو اس کی تفصیلات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ اس وسیع وعریض کائنات کے کس حصے میں کیا واقعہ ظہور پذیر ہو رہا ہے! جیسے ایک فٹ بال کو زور دار کک لگا دی گئی ہے‘ اب وہ اپنے آپ لڑھکتا جا رہا ہے اور اُس کک لگانے والے سے فٹ بال کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن مجید اس تصور کی نفی کرتا ہے۔ چنانچہ سورۃ الحدید میں فرمایا:
{ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ط یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَاط وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۴)}
’’ وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں‘پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔ وہ جانتا ہے جو کچھ داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو کچھ نکلتا ہے اس سے‘ اور جو کچھ اُترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
یہاں بہت سی چیزوں کا احاطہ ہو گیا‘ مثلاً زمین میں پانی جذب ہوتاہے‘ مختلف قسم کے بیج بوئے جاتے ہیں‘ مُردے دفن ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اور فرشتے احکامِ الٰہی لے کر اُترتے ہیں۔ آسمان کی طر ف چڑھنے کی مثال بخارات کی ہے۔ فرشتے بھی فوت ہونے والے انسانوں کی ارواح اور دنیا کے حادثات و واقعات کی رپورٹس لے کر اوپر جاتے ہیں۔ ’’یَعْلَمُ‘‘ کے ساتھ (چار بار)آنے والے ’’مَا‘‘ میں جو عمومیت ہے وہ ہر شے پر محیط ہے۔ جو کچھ بھی زمین میں گھستا ہے اور نکلتاہے‘ ہر کونپل جو پھوٹ  رہی ہے اور ہر بیج سے جو پتیاں نمودار ہورہی ہیں‘ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔جو کچھ آسمان کی بلندیوں سے اترتا ہے یا جو اوپرچڑھتا ہے ‘ آسمانوں کی طرف عروج کرتاہے‘ سب کا سب اُس کے علم میں ہے۔ وہ اپنے ہی آپ میں کہیں علیحدہ سے مگن نہیں ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔ وہ بصیر ہے۔ہر چیز کو وہ خود دیکھ رہا ہے‘ اُس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہ تصور ذہن میں رہنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم رکوع کے اختتا م تک پہنچ گئے ہیں۔ اس آخری آیت کا اصل ربط اگلے رکوع سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ تمہیں اتنے ادوار سے‘ کن کن منازل میں سے گزار کر لایا ہے‘ اور پھر تمہارے لیے پیدا کیا ہے جو کچھ بھی زمین میں  ہے۔ یہ ہے انسان کا مرتبہ ومقام اور اس کی حیثیت واہمیت! حدیث ِ مبارکہ میں بھی اس مضمون کی بڑی خوبصورت تعبیر آئی ہے: ((اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ))(تخریج الاحیاء للعراقی ۳/۲۵۲۔ حافظ عراقی نے اسے منقطع قرار دیا ہے۔)’’یہ دنیاتمہارے لیے بنائی گئی ہے لیکن تم آخرت کے لیے بنائے گئے ہو۔‘‘ تمہارا اصل گھر یہ نہیں‘ آخرت کا گھر ہے۔ یہ تو تمہاری آزمائش کے لیے ایک میدانِ عمل فراہم کیا گیاہے ‘ یہ کمرۂ امتحان ہے۔ یہاں تو تمہیں کچھ صلاحیتیں دے کر  آزمایا جارہا ہے۔
اس کے فوری بعدچوتھے رکوع میں خلافت ِارضی کی بات شروع ہوگی۔ اس سے انسان کی زمین پر حیثیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ع ’’اپنی خودی پہچان‘ او غافل انسان!‘‘ (جاری ہے)