تواصی بالحقڈاکٹر اسرار احمدؒخطبہ مسنونہ کے بعد:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ --------- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
• قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ فیِ سُوْرَۃِ الْعَصْرِ:
{وَالْعَصْرِ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۵ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)}
• قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ فیِ سُوْرَۃِ الْحُجُرَاتِ:
{ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) }
صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْم
عَنِ الحَارِثِ اَلْاَشْعَرِیِّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قَال قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ :
((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ: بِالْجَمَاعَۃِ وَ السَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ وَ الْھِجْرَۃِ وَ الْجِھَادِ فیِ سَبِیْلِ اللّٰہ)) (سنن الترمذی، مسند احمد)
• وَقَالَ اَصْحَابُ الرَّسُوْلِﷺ فیِ نَشِیْدٍ فیِ غَزْوَۃِ الْاَحْزَابِ:
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
(صحیح البخاری)
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رضی اللہ تعالیٰ عنہ : بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ فیِ الْعُسْرِ وَ الْیُسْرِ، وَ الْمَنْشَطِ وَ الْمَکْرَہِ، وَ عَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا، وَ عَلٰی اَنْ لاَ نُنَا زِعَ الْاَمْرَ اَھْلہُ ٗ وَ عَلٰی اَنْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا لاَ نَخَافُ فیِ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ(متفق علیہ)
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ وَ احْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی یَفْقَھُوْا قَوْلِی
اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَ ارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ، اَللّٰھُمَّ اَلْھِمْنَا رُشْدَنَا وَ اَعِذْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ وَفِّقْنَا اَنْ نُجَاھِدَ فیِ سَبِیْلِکَ بِاَمْوَالِنَا وَ اَنْفُسِنَا، اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا شَھَادَۃً فیِ سَبِیْلِکَ ------ آمین یاربَّ العالمین!
ان اجتماعات میں جو سلسلہ کلام چل رہا ہے اس میں سورۃ العصر اور اس کی بیان کردہ چار شرائط ِنجات یعنی ایمان‘ عمل صالح ‘تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی وضاحت جاری ہے۔ ’’حقیقت ِایمان‘‘ کی بحث میں ایمان اور عمل کا تعلق ’’حقیقت ِعمل صالح‘‘ کے ضمن میں بیان کیا گیا جبکہ ایمان اور جہاد کا باہمی تعلق آج ’’تواصی بالحق‘‘ کے موضوع کے تحت بیان کیا جائے گا۔سورۃ العصر میں جو چار شرائط ِ نجات بیان ہوئی ہیں ‘ان میں ایمان اپنی جگہ ایک حقیقت ہے جبکہ باقی تینوں شرائط درحقیقت عمل صالح ہی کے مراحل ہیں۔تواصی بالحق یعنی حق کی وصیت کرنا اور تواصی بالصبر یعنی صبر کی تاکید کرنا دونوں عمل صالح ہی کی صورتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اکثر و بیشتر مقامات پر یہ دو الفاظ ہی آتے ہیں: {اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ} کیونکہ عمل صالح میں جہاں انسان کے انفرادی معاملات شامل ہیں‘ وہاں اسی میں دوسروں کو حق کی تاکید کرنا اور صبر کی وصیت کرنا بھی شامل ہیں۔گویا یہ تینوں چیزیں عملِ صالح ہی کے اجزاء ہیں ۔
حکمت ِدین کا عظیم خزانہ
ان تینوں چیزوں کا ربط و تعلق سمجھنےکے لیے نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی مثال پر غور کر لیتے ہیں ۔یہ بڑی پیاری اور طویل حدیث ِنبویﷺ حکمت ِ دین کا عظیم خزانہ ہے۔ جب غزوئہ تبوک کے لیے حضورﷺ تشریف لے جا رہے تھے تو اس وقت تیس ہزار کا لشکر ساتھ تھا۔ ایک موقع ایسا آیا کہ لشکر نے ساری رات سفر کیا ۔پھر فجر کی نماز ادا کی اور دوبارہ روانہ ہوئے۔ اُس وقت تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر نیند کا غلبہ ہوگیا۔ نتیجتاًان کے اُونٹ جن پر وہ سوار تھے‘ اِدھر اُدھر جانے لگے اور پورا لشکر منتشر ہوگیا۔حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں جن کی شان میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا: ((اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ))(سنن الترمذی:۳۷۹۱) یعنی میرے صحابہ میں حلال و حرام کے احکام کو سب سے زیادہ جاننے والے (فقہی احکام کے ماہر)معاذبن جبلؓ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ بقیہ لوگ تو اُونگھ رہے تھے لیکن میں نے اپنی اُونٹنی حضورﷺ کی اُ ونٹنی کے ساتھ لگائے رکھی تاکہ میں تخلیہ میں حضورﷺ سے ایک بات پوچھ سکوں ۔ آپﷺ جب اُونٹ پر سوار ہوتے تھے تو ایک کجاوا سا ہوتا تھا جس پر پردے ہوتے تھے۔اچانک حضورﷺ کی اُونٹنی نے ٹھوکر کھائی۔اس پر آپﷺ نے جب چاروں طرف لشکر کو دیکھا تو منتشر پایا اور صرف حضرت معاذؓ انہیں اپنے قریب نظر آئے ۔ حضورﷺ نے ان کو آواز دی :’’یا معاذ!‘‘انہوں نے عرض کیا: ’’لبیک یا رسول اللہ!‘‘ حضورﷺ نے فرمایا : ’’قریب آجاؤ۔‘‘وہ آگئے ‘پھر آپﷺ نے فرمایا :’’اور قریب آجاؤ۔‘‘تو وہ اتنے قریب آگئے کہ دونوں اُ ونٹنیاں بالکل ساتھ سفر کررہی تھیں۔ حضورﷺ نے اُن سے فرمایا :’’میں نہیں سمجھ رہا تھا کہ لشکر اتنا منتشر ہوجائے گا کہ لوگ مجھ سے اتنے فاصلے پر ہو جائیں گے ۔‘‘ حضرت معاذؓ نے لوگوں کی طرف سے معذرت پیش کرتے ہوئے فرمایا: ’’ لوگ رات بھر جاگے ہیں اس لیے ان پر نیند کا اثر ہو گیا ہے۔‘‘ اس پر حضورﷺ نے جواب دیا :’’ہاں میں بھی اُونگھ رہا تھا۔‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے موقع مناسب سمجھتے ہوئے کہا : ’’مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ سے ایک سوال کروں جو سوچ سوچ کر میں بیمار ہو گیا ہوں ‘ کمزوری کا شکار ہو گیا ہوں‘ بہت غمگین ہوں۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’جو پوچھنا چاہو‘ پوچھ لو۔‘‘ عرض کرتے ہیں: ’’ وہ ایک بات بتا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کردے‘ جہنم سے چھٹکارا دلا دے۔‘‘یہاں پر میرے اور آپ کے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اونچے درجہ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی یہ نہیں سمجھتے تھے کہ چونکہ وہ رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں اس لیے ان کا جنت میں جانایقینی ہے بلکہ اُن لوگوں کو ہر وقت یہی فکر دامن گیر رہتی تھی۔ اس پر حضورﷺ نے جواب دیا: ’’اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاؤ ‘نماز قائم کرو‘صرف اللہ کی عبادت کیا کرو ‘اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو‘یہاں تک کہ اسی حال میں تمہاری موت آجائے۔‘‘پھر حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں: ’’اے معاذ! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ دین میں جڑ ‘ تنا اور اس کا عمود (چوٹی) کیا ہے؟‘‘انہوں نے عرض کیا: ’’میرے ماں باپ آپؐ پر قربان‘ضرور بتایئے۔‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا:’’کلمہ شہادت اس کی جڑ ہے یعنی تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اس کا تنا نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ اداکرناہے اور اس میں چوٹی کا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔گویا کہ ایمان جڑ ‘عمل صالح تنا اور تواصی بالحق پھل ہے۔‘‘
اس تمثیل میں ایک چیز کا اضافہ کر لیا جائے تو بات بہتر طور پر سمجھ میں آسکتی ہے۔ جڑ تو ایمان ہے‘تنا عمل ِصالح ہے اور اس کے اوپر جو پھل لگتا ہے وہ تواصی بالحق ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آم کی گٹھلی میں بالقوۃ آم کا پورا درخت موجود ہوتا ہے۔گٹھلی جب زمین کے اندر ڈالی جاتی ہے تو اس سے آم کا پودا نکلتا ہے جو کہ وقت کے ساتھ تناور درخت بنتا ہے اور پھر اس کی چوٹی پر پھل آتا ہے۔پھل میں گٹھلی ہوتی ہے جس کو زمین کے اندر ڈالنے سے پھرایک نیا درخت وجود میں آجاتا ہے۔بالکل اسی طرح ایمان ایک بیج یا گٹھلی کی مانند ہے۔ہماری شخصیت کی مثال زمین کی طرح ہے ۔ اگر ایمان ناقص نہ ہو‘صحیح سالم ہو اور ہماری شخصیت بنجر نہ ہو تو ایمانِ صحیح اور باہمت ‘ عزیمت والی شخصیت کے امتزاج سے ایمان تناور درخت کی شکل اختیار کرتا چلا جائے گا جس کی شاخیں عمل ِصالح کی صورت میں سامنے آئیں گی جن پرتواصی بالحق کا پھل آجائے گا۔یہ اُصول ہے کہ اگر عمل پختگی کو پہنچے گا تو ہمارے وجود سے حق لازماً دوسروں کو پہنچنا شروع ہو جاتا ہے ‘ اسی کو تواصی بالحق کہتے ہیں۔
تواصی بالحق : لزوم کے دلائل
تواصی کا لفظ وصیت سے بنا ہے۔اُردو زبان میں موت کے وقت نصیحت کرنے کو وصیت کہتے ہیں جبکہ عربی زبان میں کسی کو کسی بھی وقت بھلائی کی کوئی بات تاکیداً کہنا وصیت کہلاتا ہے۔ تَوَاصَوْا عربی میں بابِ تفاعل سے ہے۔ باب تفاعل کی خصوصیت مبالغہ کی ہے‘ یعنی تاکید اور زورشور سے حق کی وصیت کرنا۔حق کے کئی معنی ہیں: ہر وہ شے جو بالفعل(حقیقتاً) موجود ہو‘ ہر وہ شے جسے عقل تسلیم کرے‘ہر وہ شے جو اخلاقاً واجب ہو۔ یعنی ہر اُس چیز کی تاکید کرنا جو مطابق واقعہ ہو‘ معقول ہواور اخلاق کا تقاضا ہو۔ ان تمام چیزوں کا نام تواصی بالحق ہے۔ جیسے ایک آم کی گٹھلی سے مزید پھل نکلتے ہیں‘اسی طرح جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کسی کو ایمان کی دولت اور عمل کی توفیق نصیب فرمائے اور وہ دوسروں کو وصیت و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کرے تو گویا وہ وہی پودا کسی اور کے دل میں لگا رہا ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے دل میں بھی ایمان کا بیج پڑ جائے اور عملِ صالح کی بہار آجائے‘ جیسے چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے یا شمع سے شمع جلتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر حضرات ابوبکر‘ علی‘زیداور سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایمان لے آئے اور اس طرح ایک سے پانچ کی قوت ہو گئی ۔اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت پر عشرئہ مبشرہ میں سے چھ حضرات عثمان‘ زبیر‘ سعید‘ طلحہ‘عبد الرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایمان لے آئے۔
تواصی بالحق یعنی حق کو پھیلانااور پہنچانے کا کام کرنا تین دلائل کی رُو سےہر مسلمان پر لازم ہے ۔
(۱) طبعی دلیل : اگر کسی جگہ پر آگ جل رہی ہو تو ماحول میں لازماً حرارت پہنچے گی‘ چاہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے یا نہ کی جائے۔جب آگ کے سامنے آئیں گے تو حرارت ہی ملے گی۔ اسی طرح اگر کہیں برف کی سِل رکھی ہو توٹھنڈ ضرور ماحول میں سرایت کر ے گی۔بالکل اسی طرح اگر کسی شخص میں فی الواقع نیکی ہو تو اس کے ارد گرد نیکی ضرور سرایت کرے گی ‘اور اگر ایسا نہیں ہو رہا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ حقیقی نیکی نہیں ہے۔نیکی کا محض ڈھونگ‘لبادہ یا فریب ہے۔نیکی کی حقیقی شکل یا روح نہیں۔یہ اور بات ہے کہ دعوت قبول کرنے کے حوالہ سے کچھ bad conductors بھی ہوتے ہیں ‘لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی قبول نہ کرے۔حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں نے آپؑ کی دعوت کو قبول کیا ‘ایک نے نہیں کیا۔سو یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر کسی شخص سے اس کے ماحول میں نیکی کی تاثیر واقعتاً کسی تک پہنچ ہی نہیں رہی تو وہ اپنے بارے میں سوچے کہ کہیں اُس نے نیکی کا لبادہ تو نہیں اوڑھا ہوا ہے۔ نیکی کا سب سے پہلا اثر قریب ترین ماحول میں نظر آنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کی نیکی کا اثر اس کے گھر میں نظر نہ آرہا ہو تو یہ غیر متوازن کیفیت ہے۔انسان کی شخصیت اس کے گھر والوں سے چھپی ہوئی نہیں ہوتی۔ نیکی کا لبادہ اوڑھ لینے سے گھر کے باہر کے لوگ تو متاثر ہو سکتے ہیں مگر یہ محض ظاہری نیکی ہوگی۔اصل نیکی تو وہ ہے جو اپنے گھر والوں پر اثر انداز ہو۔اگر ایسا نہیں ہو رہا تو کوئی نہ کوئی گڑبڑ ہے۔ بہر حال جیسے آگ سےحرارت اور برف سے ٹھنڈک پھیلتی ہے‘اسی طرح اگر نیکی حقیقتاًہوگی‘عمل واقعتاً صالح ہوگا تو اس سے ماحول میں نیکی لازماً سرایت کرے گی چاہے کم یا ہو زیادہ۔
(۲) شرافت و مروّت کا تقاضا: انسان جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے‘اپنے بھائی کے لیے بھی اُسے وہی پسند کرنا چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ))(متفق علیہ) ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ ‘‘ اگر ایمان کو اپنے لیےخیر سمجھ کر قبول کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اپنے بھائی کو یا اپنے گھر والوں کو اس سے محروم رکھنا پسند کریں؟یقیناً انسان جس شےکو اپنے لیے مفید سمجھتا ہے‘ اُسے اپنے گھر والوں کواور پھر دوسروں کو بھی ضرور پہنچاتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نیکی کی توفیق دی ہے تو اس کو تجوری میں بند نہیں رکھا جائے ‘ورنہ یہ بخیلی ہے۔ شرافت و مروّت کا تقاضا تو یہ ہے کہ اگر عقیدہ یا عمل کے اعتبار سے کوئی خیر‘ کوئی نیکی‘کوئی بھلائی نصیب ہوگئی ہو تو اِسے بانٹیں‘ shareکریں‘دوسرے لوگوں تک پہنچائیں۔یہی تواصی بالحق ہے۔
(۳) غیرت و حمیت کا تقاضا: رسول اللہﷺ نے ایک لرزا دینے والی حدیث میں ایک ایسے شخص کی غیرتِ دینی کے حوالہ سے نقشہ کھینچا جوخود تو نہایت ہی نیک‘ زاہد‘ متقی‘ عبادت گزار‘ دین دار ہو لیکن اُسے اپنے چاروں طرف حق کو مغلوب اور پامال دیکھ کر یہ احساس ہی نہ ہو رہا ہوکہ کس طرح حق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں‘ شریعت کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے‘دین کا قانون سرِ عام توڑا جارہا ہے جبکہ وہ فقط ’’اللہ ھو‘‘کی تسبیح میں لگا ہوا ہو۔ایک حدیث ِقدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو کسی بستی پر عذاب دینے کا حکم دیاتوانہوںنے عرض کی کہ اس بستی میں تو ایک ایسا شخص بھی رہتا ہے جس نے پلک جھپکتے دیر بھی کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی۔اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ پہلے اُس پر بستی کو اُلٹ دو اور پھر دوسروں پر ‘کیونکہ اس کا چہرہ کبھی میری حمیت و غیرت میں متغیر نہیں ہوا۔ گویا ذاتی نیکی و عبادت گزاری ہرگز کافی نہیں ہوتی جب کہ ماحول میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات پامال ہو رہے ہوں‘ نواہی پھیل رہے ہوں اور منکرات کا اضافہ ہو رہا ہو۔
• اگر ایمان حقیقی ہوگا تو عمل لازماً درست ہوگا ‘اسی طرح اگر نیکی واقعتاًہوگی تو اس سے تواصی بالحق ‘دعوت اِلی اللہ ‘خیر کی تبلیغ ‘ امربالمعرو ف ‘نہی عن المنکر لازماً وجود میں آئیںگے ۔ دوسری صورت میں تو تشویش ناک بات ہے کہ شاید اپنی نیکی کچی ہے‘فریب ہے‘ حقیقت نہیں ہے۔
ایمان کی حقیقت اور عمل ِصالح کے مراتب
ہمارے دین کا خلاصہ ایمان اور عمل صالح ہے۔ایمان کے عملی نتائج کیا ہونے چاہئیں؟ اصل دینی فرائض کیا ہیں اوران کی اہمیت کیا ہے؟ آج اس کا مکمل نقشہ اپنے دل و دماغ میں اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سادہ سی مثال ہے کہ ایک شخص کو کہیں ملازمت پر رکھا گیا اور اس کو دس کام کرنے کو دیے گئے۔اس شخص کو تین کام تو یاد رہے لیکن باقی سات کام وہ بھول گیا۔ اب چاہے وہ شخص کتنا ہی مخلص اور محنتی ہو لیکن وہ تین ہی کام کرسکے گا ‘کیونکہ اس کے آگے کے کام اس کو یاد ہی نہیں۔اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اپنے مالک کی نظر میں نکمّا قرار پائے گا۔یہی خطرہ ہم مسلمانوں کے ساتھ بھی ہے۔اگر دینی فرائض کا صحیح تصور ہمارے پیشِ نظر نہیں ہوگاتو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے وقت ناکام نہ ٹھہریں۔
دین کے فرائض دراصل اعمالِ صالحہ ہی ہیں۔اِن فرائض کو ایک سہ منزلہ عمارت کی تمثیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ایک ایسی عمارت کے بارے میں سوچیے جس کی ایک بنیاد اور تین منزلیں ہوں۔ پہلی منزل پر چار ستون ہوں جن پر چھت تعمیر کی گئی ہے۔یہ ستون دوسری اور تیسری منزل تک بھی گئےہوئے ہیں۔دوسری منزل اور تیسری منزل کی چھت بھی بنی ہوئی ہے۔بنیاد کا اصل حصہ تو زیر زمین ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا ‘لیکن کچھ سطح نظر بھی آرہی ہوتی ہے جس کو plinth کہتے ہیں۔ عمارت کی پائیداری کا دارومداربنیاد پر ہوتا ہے۔اس عمارت کی اہم ترین منزل پہلی ہے جبکہ دوسری بلند اور تیسری بلند ترین ہے۔اب اسلام کی اس عمارت کے حوالہ سے دینی فرائض کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
• بنیاد دراصل ایمان ہے جس کے دو حصے ہیں:
(i) تصدیق بالقلب جو کہ نظر نہیں آتا ۔جیسے عمارت کی اصل بنیاد زمین کے اندر چھپی ہوتی ہے ‘ اسی طرح اصل ایمان دل میں چھپا ہوتا ہے۔
(ii) بنیاد کا ایک حصہ نظر آتا ہے ‘اسی طرح ایمان کا جو حصہ ظاہر ہے‘وہ اقرار باللسان ہے یعنی کلمہ شہادت۔
• چار ستون ہماری چاروں عبادات ہیں یعنی نماز‘ روزہ ‘ حج اور زکوٰۃ۔
• پہلی چھت انفرادی طورپراللہ کی ہمہ تن بندگی کرنا‘ اسلام میں داخل ہونا‘اللہ کا ہمہ وقت غلام بننا ہے۔اس کے لیے اصطلاحات درج ذیل ہیں:
(i) اسلام:{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص}(البقرۃ:۲۰۸)۔ اسلام سے مراد کلیتاً گردن جھکا دینا‘سر ِتسلیم خم کر دینا‘ submit کرنا‘ surrenderکرناہے۔
(ii) اطاعت: {اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ}(النساء:۵۹)۔ اطاعت سے مراد دلی آمادگی کے ساتھ حکم ماننا ہے۔
(iii) تقویٰ: { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ} (آل عمران:۱۰۲)۔ تقویٰ سے مراد اللہ کےاحکام کو توڑنے سے بچناہے۔
(iv) عبادت: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)} (الذّٰریٰت)۔ عبادتِ ربّ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مکمل غلامی ہے‘ یعنی محبت کے جذبہ کےساتھ ہمہ وقت‘ ہمہ تن‘ ہمہ وجوہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بن جانا ۔
عبادت کا لفظ عبد سے بنا ہے‘ جس کا مطلب غلام ہے۔ غلام اور ملازم میں فرق ہوتا ہے ۔ملازمت ہمہ وقتی نہیں ہوتی۔ ملازم کو جس کام کےلیے رکھا جائے‘ اس کے علاوہ وہ کوئی اور کام کرنے کا پابند نہیں ہوتا ۔ ریاست کے آزاد شہری کی حیثیت سے مالک کی طرح وہ بھی ایک ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ اس کے برعکس‘ غلامی ہمہ وقتی ہوتی ہے ۔ غلام کو جو بھی حکم دیا جائے‘ وہ اسے ماننے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے آقا کی ملکیت میں ہے۔ اسی حالت کو عبد کہتے ہیں اور اسی سے عبادت کا لفظ نکلا ہے۔ انسان کی غرضِ تخلیق‘اس کامقصد ِ وجود ہی عبادت یا بندگی ٔ ربّ ہے۔شیخ سعدی ؒ نے ایک شعر میں کہا: ؎
زندگی آمد برائے بندگی زندگی بے بندگی‘ شرمندگی!جزوی اطاعت نامقبول ہے
اس حوالہ سے ایک بہت اہم نکتہ جو آج مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہے ‘ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندہ سے کلی اطاعت مطلوب ہے۔ یہ بندگی جزوی نہیں بلکہ کُلّی ہونی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کچھ احکامات قبول کر لیے جائیں اور کچھ کو رَد کر دیا جائے۔ کچھ سر آنکھوں پر اور کچھ پاؤں تلے رکھ دیے جائیں۔ یہ طرزِعمل اللہ کے ساتھ تمسخر‘ استہزاء‘ ڈھٹائی اور مذاق اُڑانے جیسا ہے۔ اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کا جو حکم مانا جا رہا ہوتا ہے ‘وہ بھی درحقیقت اللہ کے حکم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے نفس کی پسندیدگی کی وجہ سے۔ گویا اصل اطاعت اپنے نفس ہی کی ہو رہی ہوتی ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوا:
{ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۸۵)}
’’کیا تم کتاب(شریعت) کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک کا انکار کرتے ہو؟سو تم میں سے جو کوئی ایسا کرے تو اس کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں‘ اور قیامت کے دن وہ شدید ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور اللہ اس سے غافل نہیں جو تم عمل کرتے ہو۔‘‘
سود بھی اللہ ہی نے حرام کیا اور سُؤر بھی اُسی نے حرام کیا ہے لیکن اس بات کے لیے کیامنطقی دلیل ہوگی کہ اگر سؤر تو نہیں کھایا جارہا ہو لیکن سود کھایا جا رہا ہو۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائی گئی حرمت کی وجہ سے سؤر کو چھوڑا جا رہا ہے تو سمجھنا چاہیے کہ سود کی حرمت تو اللہ کے نزدیک سؤر کی حرمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔سود کے گناہ کو قرآن مجید میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ جنگ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں سود کے گناہ کے ستر حصے بتائے گئےہیں ‘جن میں سے سب سے کم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ پس بندگی ٔربّ کی پہلی منزل پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مکمل فرماں برداری کرنا آسان نہیں ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ؎
چو می گویم مسلمانم بہ لرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا اِلٰہ را!’’میں جب کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے‘ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ لا الٰہ اِلا اللہ کہنے کے کیا تقاضے ہیں۔‘‘
عبادات پر مبنی تربیتی پروگرام
بہر حال‘ اللہ تعالیٰ نے اس پہلی منزل کی دشواریوں کو آسان کرنے کےلیے ہمیں عبادات کا تحفہ دیا تا کہ ہمارے لیے سہولت ہو سکے۔ سب سے پہلے پانچ وقت کی نمازفرض کی گئی تاکہ انسان اپنی روزمرہ کی مصروفیات سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری دے ۔یوں اس کی غفلت دور ہوگی اور نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے بندگی کا عہد{اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُo} تازہ ہوتا رہے گا ۔حفیظ جالندھری کا بہت پیارا شعر ہے:؎
سرکشی نے کر دیے دھندلے نقوشِ بندگی
آؤ سجدے میں گریں ‘ لوحِ جبیں تازہ کریں!نفسانی خواہشات بندگی ٔربّ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔نفس کے حملوں سے مقابلہ کرنےکے لیے روزہ کی عبادت دی گئی۔ اسے ڈھال بنایا گیا ۔ روزہ کی حالت میں بندہ کو حلال چیزوں سے رُکنے کی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ بقیہ گیارہ مہینے انسان آسانی کے ساتھ حرام سے بچ سکے ۔اللہ کی بندگی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ مال کی محبت ہے۔دل سے حُب ِمال کھرچنےکے لیے زکوٰۃ کی عبادت رکھی گئی۔ حج میں نماز و طواف بھی ہے ‘ زکوٰۃ کی طرح مال بھی خرچ ہو تا ہے‘روزہ کی طرح احرام کی پابندیاں ہیں ۔سو حج ایک ایسی جامع عبادت ہے جس میں نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ سے مشابہت ہے اور ان تمام کی برکات کویہاں جمع کر دیا گیا ہے۔
یہ تمام عبادات بندئہ مؤمن کو بطور تربیتی پروگرام (training course) دی گئی ہیں تا کہ اُسے اللہ تعالیٰ کی ہمہ تن بندگی کی عادت ہو سکے۔اس کے اندر اللہ کا فرماں بردار بندہ بننے کی صلاحیت واقعتاًپیدا ہو جائے۔ اس عمارت میں ستون اور چھت کا تعلق بہت اہم ہے۔اگر محض چارستون کھڑے ہوں اور چھت نہ ہو توان کی کوئی افادیت نہ ہو سکے گی۔بالکل یہی حال اُن لوگوں کا ہے جنہوں نے صرف نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ ‘ حج کو تو اپنایا ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے دیگر حرام و حلال کی فکر ہی نہیں۔پوری زندگی میں اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی ان کے پیشِ نظر ہے ہی نہیں۔ اسی کی دوسری شکل بھی یکساں طور پر غلط ہے کہ ستون کے بغیر چھت بنانے کی کوشش کی جارہی ہو۔ بندگی ٔ رب کی چھت تعمیر ہی نہیں ہو سکتی جب تک عبادات کے ستون کھڑے نہ ہوں اور اس پر پہلی چھت عبادت‘ تقویٰ ‘ اطاعت‘ اسلام کی ہوگی۔
فریضہ ٔشہادت علی الناس
دوسری چھت جو عملِ صالح کی دوسری منزل ہے ‘اس کےلیے قرآن حکیم میں دعوت‘ تبلیغ ‘تعلیم‘ نصیحت‘ وعظ‘انذار‘ تبشیر‘ تذکیر‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘تواصی بالحق اورسب سے جامع اصطلاح شہادت علی الناس کی استعمال ہوئی ہے۔اس سے مراد لوگوں پر حُجّت قائم کردینا ہے۔اس بات کو سمجھنےکے لیے یہ جاننا ہوگا کہ رسولوں کو بھیجنے کا کیا مقصد تھا! رسالت کا سلسلہ کیوں ختم کردیا گیا؟ اگر رسالت کا کوئی مقصد تھا تو آیا وہ ختم ہو گیا؟ بصورت دیگر‘ رسالت ختم ہونے کی صورت میں وہ مقصدکیسے پورا ہوسکے گا؟سب سے پہلے سوال کا جواب سورۃ النساء میں یوں بتایا گیا:
{رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا(۱۳۵)}
’’ہم نے رسولوں کو خوش خبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا تاکہ رسولوں کے آنے کے بعدلوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حُجّت باقی نہ رہ جائے۔اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔‘‘
اگر رسالت کا سلسلہ جاری نہ کیا گیا ہوتا تو پھرکسی بھی حکم کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے پوچھ گچھ پر بندہ یہ کہہ دیتا: اے اللہ ! تُو نے ہمیں بتایا ہی نہ تھا۔اس طرح لوگوں کے پاس ایک دلیل آجاتی۔اگر بالفرض رسول اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا کوئی حکم کسی مصلحت کی وجہ سے چھپا لیتے تو لوگ بری ٔالذمہ ہو جاتے اور‘ معاذاللہ‘ وبال رسول پر آجاتا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ رسول تو سب کچھ پہنچا کر گئے‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں وہ تو یقیناً بریٔ الذمہ ہوں گے لیکن ہم سے ہماری بداعمالیوں کی پوچھ ہوگی۔اگر رسالت کا سلسلہ جاری نہ ہوتا یا رسول احکامِ الٰہی پوری طرح پہنچانے کا فریضہ انجام نہ دیتے تو لوگوں کے پاس بد اعمالیوں کی دلیل ہو سکتی تھی‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر آخری حد تک حُجّت قائم کردی گئی۔یہی اتمامِ حُجّت ہےاور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں ہی میں سے رسول بنا کر بھیجے۔کفارِ مکہ تویہی کہتے تھے کہ اللہ نے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا! ہمارے جیسے انسان ہی کو رسول کیوں بنایا؟اللہ تعالیٰ نے انسان کو رسول بنا کر اس لیے بھیجا تاکہ انسانوں پر انسان ہی حُجّت قائم کر ے۔حُجّت صرف قول ہی سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہوتی ہے۔ سچ بولنے کی تلقین تو ہر کوئی کر لیتا ہے مگر ہر حال میں خود سچ بول کر دکھانے ہی سے حُجّت قائم ہو سکتی ہے۔یہ کہنا تو آسان ہے کہ اللہ کی بندگی کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو‘لیکن یہ کہنا کہ میں صرف اللہ کا بندہ ہوں ‘بہت مشکل ہے۔پس رسالت کا مقصد انسانیت پر حُجّت قائم کرنا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان ابھی تک موجود ہیں تو رسالت کا سلسلہ کیوں ختم ہو گیا؟ اسی بات کو غلام احمد قادیانی نے غلط پیرائے میں لوگوں کے سامنے رکھا کہ نبوت تو رحمت تھی اور انسان ابھی باقی ہیں تو انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سلسلہ کیسے ختم ہو سکتا ہے! یہ بات سامنے رکھنے کے بعد ہی اس نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ۔یہ تمہید اتنی وزنی تھی کہ بڑے بڑے لوگ اس کی باتوں میں آگئے۔اس سوال کا درست جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محمد رسو ل ا للہ ﷺ پر ہدایت کے سلسلہ کو کامل کر دیا اور خود اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لیا۔ اب اس ہدایت کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ حضرت محمدﷺ نے اپنی اُمّت کو منتقل فرمادیا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث کیے جانے کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رہا جبکہ انسان کی ذہنی استعداد اتنی نہیں ہوئی تھی کہ اس کو کامل ہدایت دی جا سکے۔ ابتدائی دور میں نوعِ انسانی تدریجاً ارتقائی مراحل طے کر رہی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا تھا:
’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے‘ مگر ابھی تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ روحِ حق (Spirit of Truth) آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔‘‘ (انجیل یوحنا‘ باب ۱۶‘آیت۱۲)
دراصل تورات ابتدائی دورکے لیے ہدایت نامہ تھی‘انجیل درمیانہ عرصہ کے لیے ‘ جبکہ قرآن حکیم ابدی اور کامل ہدایت نامہ کی صورت میں نازل کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ تورات اور انجیل میں تو تحریف ہوئی لیکن قرآن حکیم چونکہ ابدی اور کامل ہدایت نامہ ہے‘ اس لیے اسے محفوظ کر دیا گیا۔ تا قیامِ قیامت ہدایت کامل ہو گئی۔وحی کی کھڑکی بند کر دی گئی‘ اب اس میں کوئی تحریف ممکن نہیں۔حضرت محمدﷺ نے اس کو اُمّت تک پہنچا دیا اور اب اُمّت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو ہر ہر انسان تک پہنچائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو عدالت ِ خداوندی میں لوگوں کی گمراہی کی ذمہ دار شمار ہو گی۔ حضورﷺ نے نا قابلِ تصور مشقتیں برداشت کی ہیں۔ شعب ابی طالب کی گھاٹی میں تین سال کی محصوری ‘ یومِ طائف‘ غارِ ثور‘ میدانِ بدر‘ یومِ اُحد‘غزوئہ احزاب اور بہت کچھ ‘لیکن ۲۳ برس کی اس محنت ِشاقہ کے نتیجہ میں عرب سے کفر و شرک کا خاتمہ ہو گیا۔ بالفاظِ قرآنی: {وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا(۸۱) }(بنی اسرائیل) ’’آپؐ کہہ دیجیے: حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔ بے شک باطل کو بھاگنا ہی تھا۔‘‘حجۃ الوداع کے موقع پر تقریباً سوا لاکھ کلمہ گو کے مجمع سے رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ آخر میں آپﷺ نے تین مرتبہ یہ سوال کیا : ’’لوگو !کیا میں نے پہنچا دیا؟‘‘ مجمع نے ہر بار یہی جواب دیا: اِنَّا نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَۃَ وَ اَدَّیْتَ الْاَمَانَۃَ وَ نَصَحْتَ الْاُمَّۃَ وَ کَشَفْتَ الْغُمَّۃَ ’’ہاں ہم گواہ ہیں‘ آپﷺ نے رسالت کی ادائیگی کا حق ادا کردیا‘ امانت ہم تک پہنچا دی‘ خیرخواہی کا حق ادا کر دیا اور گمراہی کے اندھیروں کے پردے کو چاک کر دیا۔‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے تین بار آسمان کی جانب انگلی مبارک اُٹھا کر اشارہ کیا: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ ’’اے اللہ! تُو گواہ رہ۔‘‘ پھر سبک دوشی کے احساس کے ساتھ فرمایا: فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ ’’ پس پہنچائے وہ جو یہاں موجود ہے‘اُن کو جو یہاں موجود نہیں۔‘‘رسول اللہﷺ نے یہ فریضہ عرب کی حد تک تو بنفس نفیس مکمل فرمایا لیکن پوری نوعِ انسانی تک اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کا بوجھ اُمّت کے کاندھوں پر منتقل کردیا گیا۔سورۃ الحج کے آخر میں ارشاد ہوا: {وَجَاہِدُوْا فِی اللہِ حَقَّ جِہَادِہٖ ط} (آیت۷۸) ’’اللہ کے لیے محنت کرو جیسا کہ محنت کاحق ہے۔‘‘ یہ بھی فرمایا گیا: {لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ج} (آیت۷۸) ’’تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم تمام انسانیت پر گواہ ہو جاؤ ۔‘‘انفرادی طور پر بھی ہم سے اللہ کی بندگی کے حوالہ سے جواب دہی ہونی ہے اور پھرلوگوں تک پہنچانے کے بارے میں بھی مسئولیت ہوگی۔ اگر یہ ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی ہوئی تو لوگوں کی گمراہی کا وبال ہم پر ہوگا۔ قرآن حکیم میں اہم مضمون دو مرتبہ ضرور آتا ہے‘ تو اِ سی بات کو سورۃ البقرہ میں دُہرایا گیا: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًاط}(آیت۱۴۳) ’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین اُمّت بنایا تاکہ تم پوری نوعِ انسانی پر گواہ بنو اور رسول(ﷺ ) تم پرگواہ ہوں ۔‘‘
ختم ِنبوت کا لازمی تقاضا
یہ ہماری عملی ذمہ داری کی دوسری سطح ہے جو کہ اُ مت کے ہر فرد پر فرض کی گئی ہے۔ ختم نبوت کا لازمی تقاضا یہ ہےکہ وہ دین کی تعلیمات کی تبلیغ ‘ نشر و اشاعت ‘ لوگوں پر اتمامِ حُجّت کی ذمہ داری انجام دے ۔ اگر اُمّت یہ فریضہ سر انجام دے گی تو سُرخروہوگی‘ ورنہ لوگوں کی گمراہی کا وبال بھی اس کے کاندھوں پر آئے گا۔ یہ بات ایک سادہ سی مثال سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ آپ نے کسی شخص (پیغام رساں)کے ذریعہ اپنے کسی عزیز تک یہ پیغام بھجوایا کہ فلاں کام کل شام تک کر دینا ورنہ میرا بڑا نقصان ہو جائے گا۔فرض کریں وہ کام نہیں ہو سکا تو آپ اپنے عزیز سے اس کاشکوہ کرتے ہیں ۔وہ جواب میں اگر یہ کہہ دے کہ مجھے تو آپ کا کوئی پیغام ملا ہی نہیں‘ تو ظاہر ہے کہ اب آپ اس کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔اب تو آپ اس شخص پر غصہ کریں گے جس کو پیغام پہنچانے کی ذمہ داری دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کے ذریعہ پوری نوعِ انسانی کے نام اپنا پیغام بھیجا۔چنانچہ سورۃ المائدہ میں یہ بات فرمائی گئی : {یٰٓــاَیـُّـہَا الرَّسُوْلُ بَـلِّـغْ مَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّـمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَـتَہٗ ط }(آیت۶۷) ’’اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا‘ پھر اگر (بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔‘‘اسی طرح سورۃ الاعراف میں بھی اُصول بتا دیا گیا: {فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ(۶) } ’’ہم ان سے بھی پوچھ کر رہیں گے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا اور ہم رسولوں سے بھی پوچھ کر رہیں گے۔‘‘ ہر رسول نے اپنی اپنی اُمّت کو یہ پیغام پہنچا دیا‘ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بری ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ اب اس حوالہ سے مسئولیت تو اُمّت ہی سے ہوگی۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری اجتماعی طور پر پوری اُمّت ِ محمدﷺکے حوالہ کر دی گئی ہے۔اس اُمّت میں مَیں اور آپ دونوں شامل ہیں۔اگر مَیں اپنے آپ کو اور آپ اپنے آپ کو اس سے فارغ سمجھ لیں گے تو یہ ذمہ داری کون ادا کرے گا؟ اب رسول توبھیجے نہیں جائیں گے ۔
دینی فرائض کی اس دوسری منزل‘ دعوت و تبلیغ کی سطح پر بھی عبادات مددگار ہوتی ہیں‘ جیساکہ سورۃ البقرہ میں فرمایا: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِط} (آیت۱۵۳) ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ ‘‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ پہلی منزل ’’بندگی ٔ ربّ‘‘ کے لیے سہارا ہیں اور دعوت و تبلیغ کے لیے بھی انہی سے قوت حاصل ہوگی۔
فریضہ اقامت ِدین
تیسری منزل سب سے اہم‘ سب سے کٹھن‘ سب سے بلند ہے۔ کسی بھی عمارت کی اہم ترین منزل تو پہلی ہوتی ہے لیکن اونچی منزل بلند ترین ہوتی ہے۔ سب سے اونچی منزل کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ دین کی تعلیمات دوسروں تک پہنچا دی جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نظام کو بالفعل غالب و قائم کر کے دکھایا جائے۔اُسی کے نام کا بول بالا ہو۔ اسی کا قانون معاشرہ میں جاری و رائج ہو۔شریعت کو نافذ کیا جائے۔
اس کےلیے قرآن حکیم میں چار ا صطلاحات استعمال ہوئی ہیں:
(i)تکبیر ربّ: سورۃ المدثر میں ارشاد ہوا: {یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْ(۲) وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(۳) } ’’اے چادر اوڑھنے والے! کھڑے ہو جائو اور خبردار کرو۔اور اپنے رب کی بڑائی کرو ۔‘‘ تکبیر کا مطلب محض ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ دینا نہیں بلکہ اس سے مراد بڑا کرنا ہے۔ اللہ یقیناً بڑا ہے لیکن اس کی بڑائی تسلیم نہیں کی جارہی ہے۔زندگی کے معاملات میں اس کی بڑائی نافذ نظر نہیں آتی۔ مثلاً چور کےلیے حکم ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے‘ لیکن اگر عدالت میں ہاتھ کاٹنے کے بجائے کسی دوسرے قانون پر عمل ہورہا ہو تو اللہ کا قانون چھوٹا ہو گیا اور دوسرا قانون بڑا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے قانون کے چھوٹے ہونے کا مطلب ‘نعوذباللہ‘ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہےجبکہ قرآن میں کہا جا رہا ہے کہ اللہ کو بڑا کرو! یعنی وہ نظام قائم کرو جہاں اُس کی بڑائی مسلّم ہو۔ کوئی گوشہ ایسا نہ رہ جائے جہاں اُس کی بڑائی نافذ نہ ہو۔اسی طرح اگر پارلیمنٹ میں یہ طے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی تب تو اللہ کی بڑائی ہوئی لیکن اگر اکثریتی رائے پر مبنی قانون بنا دیا جا ئے تو ایسے میں اللہ بڑا نہیں ٹھہرا بلکہ دراصل بڑائی جمہور کی ہوگئی۔ سورئہ بنی اسرائیل کی آخری آیت میں فرمایا گیا:
{وَقُلِ الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا(۱۱۱) }
’’اور کہہ دیجیے کہ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے کوئی اولاد نہیں بنائی‘ اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے‘ اور نہ ہی اس کا کوئی دوست ہےکمزوری کی وجہ سے ‘اور اُس کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ تکبیر کرنے کا حق ہے۔‘‘
علامہ اقبال نے یوں فرمایا:؎
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردانِ خودآگاہ و خدامست
یہ مذہبِ ملا و جمادات و نباتاتاور: ؎
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملّا کی اذاں اور‘ مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اِسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے‘ شاہیں کا جہاں اور !(ii)اقامت ِدین:سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہوا: {اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (آیت۱۳) ’’ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘ مسلمانوں کو دین اس لیے نہیں دیا گیا کہ دین پامال و مغلوب ہو اور وہ بے حِس ہو جائیں۔ مولانا حالی ؒ نے اسی کیفیت پر کہا تھا: ؎
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گِر کر نہ اُبھرنا دیکھے
مانےنہ کبھی کہ مدّ ہے ہر جزر کے بعد
دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے!بندئہ مومن کی غیرت کیسے نہیں جاگتی جب کہ دین پامال ہو رہا ہو!اغیار اسے پاؤں تلے روند رہے ہوں تو اللہ کا وفادار بندہ کیسے پاؤں پھیلا کر سوتا رہ سکتاہے!بال بچوں میں خوش و خرم زندگی بسر کر تا ہوا۔یہ دین تو قائم ہونےکے لیے آیا ہے۔اسی لیے اقامت ِدین کا حکم دیا جا رہا ہے۔
(iii)اِظہارِ دین : یہ اصطلاح قرآن حکیم میں تین بار آئی ہے؛سورۃالصف‘ سورۃ الفتح اور سورۃ التوبہ میں۔
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}
’’وہی ہے (اللہ) جس نے اپنے رسول کو بھیجا الہدیٰ (قرآن حکیم) اور دینِ حق دے کر تاکہ اسے کُل کے کُل دین پر غالب کرے۔‘‘
اظہار کے لفظی معنی غلبہ کے ہیں۔اِظہارِ دین سے مراد یہ ہے کہ پورے نظامِ زندگی پر اللہ کا دین غالب ہو جائے‘ زندگی کا کوئی حصہ خالی نہ رہے۔
(iv)یکون الدین کلہ للہ : یہ اصطلاح سورۃ البقرۃ اورسورۃ الانفال میں آئی ہے:
{وَقٰـتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلہِ ط} (البقرۃ:۱۹۳)
’’اور لڑو ان سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے۔‘‘
{وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلہِ ج } (الانفال:۳۹)
’’اور جنگ کرو ان (اللہ کے دشمنوں ) سے یہاں تک کہ فتنہ(فساد) دور ہو جائے اور دین کُل کاکُل صرف اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
اصل فتنہ یہ ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت کے بجائے کوئی اور اپنا قانون چلانے کی کوشش کرے تو درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کا باغی ہوا‘ جب کہ Allah is the rightful ruler of the world ‘سو اللہ تعالیٰ کے وفادار کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسی بغاوت سے نبرد آزما ہو کر اس کا سر کچلنے کی کوشش کرے‘ ورنہ وہ بھی باغی کا ساتھی شمار ہوگا۔ اگر کوئی ایک شخص یہ کہے کہ دنیا میں صرف میرے پاس پورا اختیار ہے کہ وہ جو چاہے سو کرے‘ تو یہ دعویٰ فرعون اور نمرود نے کیا تھا ۔اگر تمام انسان مل کر جمہوریت کی شکل میں یہ کہیں کہ زمین ہماری ہے‘ ہم جو چاہیں قانون نافذ کریں تو اسلام کی نگاہ میں یہ بھی بغاوت ہے۔ غیر اللہ کی حاکمیت کا اصول بغاوت ہے۔حاکمیت تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہونی چاہیے۔ {اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ط} (یوسف:۴۰و۶۷) جو اللہ تعالیٰ کا وفادار ہے ‘اس کا فرض ہے کہ وہ اس بغاوت کا سر کچلنےکے لیے باغی سے نبردآزما ہو۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کا شمار باغی کے ساتھیوں میں ہوگا کہ وہ بھی جرم کی معاونت کر رہا ہے۔ بقولِ اقبال ؎
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی‘ باقی بتان آزری!پس اللہ کی بڑائی کا نظام(تکبیر ِرب)‘اللہ کے دین کا قیام (اقامت ِ دین)‘ دین کا غلبہ (اِظہارُ دِینِ الْحَقِّ)‘کُل دین اللہ کا ہو جائے (یَکُونَ الدِّینُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ) کی چار اصطلاحات ہیں مگر مفہوم ایک ہی ہے۔ پانچویں اصطلاح لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا کی ہے جوکہ حدیث ِ نبوی میں آئی ہے۔
تبلیغ کے دو انداز
بعض پودے بیل کی شکل میں زمین پر پھیلتے ہیں جب کہ بعض درخت کی صورت میں اوپر چڑھتے ہیں۔ اسی طرح تبلیغ بھی دو طرح کی ہوتی ہے:
مذہبی تبلیغ:یہ محض عقیدہ و عبادات کی تبلیغ ہوتی ہے ‘جیسے عیسائیت کی تبلیغ ‘جس کی شریعت ہی ساقط ہے۔اس لیے قانون نافذ کرنے یا نظام بدلنے کی کوئی بات نہیں ہوتی۔
انقلابی تبلیغ:اس سے مراد نظام کی تبدیلی کی بات ہے۔ دین اسلام میں چونکہ شریعت اور قانون عطا کیا گیا ہے اس لیے نہ صرف اللہ اور رسولﷺ کے پیغام کو پہنچانا ہے بلکہ اللہ کے دین کے نظام کو قائم بھی کرنا ہے۔
دوسری منزل تبلیغ کی اور تیسری منزل انقلاب کی ہے‘ یعنی مروجہ نظام کی تبدیلی ۔اگر کوئی بادشاہ خود بھی اللہ کے احکام کا پابند ہو اور اس کے قانون کو نافذ کرنے والا بھی ہو‘ جیسے حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما السلام ‘تواسے اسلامی بادشاہت کہیں گے ‘جبکہ فرعون اور نمرود کافرانہ و مشرکانہ بادشاہت کی مثالیں تھے۔اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم ہونی چاہیے اورقرآن و سُنّت کے مطابق شریعت نافذ کی جائے۔پارلیمنٹ اللہ اور رسولﷺ کے احکامات کےدائرہ کے اندر اندر قانون سازی کر سکتی ہے۔اکثریت کے فیصلہ کو اُس وقت تسلیم کیا جائے جب اللہ اور اس کے رسولﷺ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو۔یہ اسلامی جمہوریت کہلائے گی جو کہ تمدن کی ترقی کے ساتھ قابلِ قبول ہے‘ لیکن اس میں یہ بات طے ہوگی کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا اختیار محدود ہو۔پاکستان کے دستور میں یہ الفاظ تو موجود ہیں:
" No legislation will be done repungnant to the Quran and the Sunnah."
لیکن ہماری بد قسمتی ہے کہ اس کو عملی لحاظ سے نافذ نہیں کیا گیا‘حالاں کہ پاکستان بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ایک ایسا ملک حاصل کیا جائے جہاں اسلام کے اصولِ حریت و اخوت و مساوات کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ہمارا جرم یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنےکے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے عصبیتیں اور اختلافات پروان چڑھے۔
بہر حال‘ ہر مسلمان کو جان لینا چاہیے کہ ہم پر عائد دینی ذمہ داریوں کی مثال ایک سہ منزلہ عمارت جیسی ہے۔بنیاد ایمان و یقین کی ہے‘ جس کی نظر آنے والی سطح کلمہ شہادت لا الٰہ اِلا اللہ ہے جبکہ اس عمارت کے چار ستون نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ ہیں۔
• پہلی منزل کی چھت کےلیے اسلام ‘ اطاعت‘ تقویٰ‘ عبادت کی اصطلاحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کوکُلی عبادت مطلوب ہے‘ جزوی نہیں۔ہمہ تن‘ ہمہ وقت‘ ہمہ وجوہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا پہلی منزل ہے۔
• دوسری منزل دعوت و تبلیغ کی ہے ۔دین کی تعلیمات کو پہنچانا‘خلقِ خدا پر حُجّت قائم کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آج اُمّت خود محتاج ہو گئی ہے کہ اس کو ہی دین کی تعلیمات بتائی جائیں بجائے یہ کہ اُمّت دوسروں کو پہنچائے۔لہٰذا ضرورت ہے کہ پہلے اُمّت کے اندر اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کی لہر پیدا کی جائے۔
• تیسری منزل دعوت و تبلیغ ‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکرسے آگے بڑھ کراللہ کے دین کو غالب کرنا ‘اس کو قائم کرنا‘اللہ کی بڑائی کا نظام نافذ کرنا‘ اللہ کے کلمہ کو سر بلند کرنا‘ پورے کے پورے دین کوعملاً اللہ ہی کے لیے کر نےکے لیے جدو جہد کرنا ہے۔
جہاد کے مراحل و مدارج
اب ان دینی فرائض کی تین منزلوں کا جہاد سے تعلق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاد کا لفظ جُہد سے نکلا ہے۔جُہد کوشش کو کہتے ہیں ۔دنیا میں ہر کوشش کا مقابلہ دوسری کو شش سے ہورہا ہے۔کوشش میں جب مقابلہ کا عنصر پیدا ہو جائے تو وہ جُہد سے جہاد بن جاتی ہے۔ گویایک طرفہ کوشش جُہد ہے اور کوشش کا کوشش سے ٹکراؤ یعنی کشاکش ہونا جہاد ہے۔ مثال کے طور پر قتل یک طرفہ عمل ہے‘کوئی شخص گزر رہا تھا اور اس کو کسی دوسرے نے قتل کر دیا‘ جبکہ قتال یعنی جنگ میں دو آدمی ایک دوسرے کو مارنےکے لیے آمنے سامنے ہوتے ہیں۔
(i)نفس کے خلاف جہاد : یہ جہاد بندگی کے ہر مرحلہ پر ہے۔ذاتی سطح پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنےکے لیے تین مقابلے لازماً کرنے پڑتے ہیں۔رب کی بندگی کے لیے سب سے پہلے اپنے نفس سے مقابلہ کرنا ہے۔فجر کی اذان کی آواز سے ہی اِس کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اگر نفس کے تقاضوں کو دبانے کی صلاحیت ہوگی تب ہی اللہ کی فرماں برداری ممکن ہے۔گویا بندگی ٔرب کے لیے سب سے پہلا جہاد نفس سے ہی کرنا ہوگا ۔ اسی لیے جب رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا :سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ((اَن تُجَاھِدَ نَفْسَکَ وَ ھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ))[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۲۰۷۱] ’’اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو اللہ کا مطیع بنانےکے لیے جہاد کرنا۔‘‘ غزوئہ تبوک سے واپسی پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا: ’’اب ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر (نفس سے جہاد) کی جانب جا رہے ہیں ۔‘‘نفس کو اُکسانے والا شیطانِ لعین بھی موجود ہے ۔{الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ(۵)}(الناس) وہ انسانوں کے سینوں میں پھونکیں مارتا ہے‘ اشتعال پیدا کرتا ہے‘ برائیوں کو مزین کر کے دِکھاتا ہے۔ بے حیائی کو فیشن کا نام دیتا ہے۔ناچ گانے کو کلچر کا نام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کےلیے شیطان سے مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے۔تیسرا عنصر بگڑا ہوا معاشرہ ہے جس کا دباؤ بھی انسان پر ہوتا ہے ۔جس طر ف ایک ہجوم جا رہا ہو‘ اُسی طرف جانا آسان ہوتا ہے لیکن ہجوم کے مخالف سمت میں چلنےکے لیے بہت زور لگانا پڑتا ہے ۔ جب معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پروا ہی نہ ہو اور ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ کی فرماں برداری کرنا چاہ رہے ہوں تو لازماً کشمکش ہوگی۔زیادہ تر لوگ معاشرہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں جبکہ دین کے تقاضوں پر عمل کرنے کےلیے زمانہ کی مخالفت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ بندئہ مؤمن کو ہمہ وقت صحیح و غلط اور حلال وحرام کی کشمکش کا سامنا رہتا ہے۔زمانہ کی رَوش اور دین کے تقاضے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔پس دینی فرائض کی پہلی منزل پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی کرنےکے لیے اپنے نفس سے‘ شیطان سے اور معاشرہ کے دباؤ سے لازماً تین جہادکرنے پڑتے ہیں۔
(ii) جہاد بالقرآن:جہاد فی سبیل اللہ کی دوسری منزل دعوت و تبلیغ کے ضمن میں ہے۔ اللہ کی طرف دعوت‘توحید کے پیغام کا پرچار‘ نبوت کے پیغام کی اشاعت‘قرآن حکیم کی تعلیمات کو دلیل سے پیش کرنا‘ اس پہلو سے بھی کھلی فضا ملنا ممکن نہیں ۔اگر اللہ کے دین کی تبلیغ کی جا رہی ہے تو دوسرے نظاموں کی بھی تبلیغ ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ میں توحید کے مبلغ موجود ہیں تو شرک کے پرچارک بھی ہوں گے۔ معاشرہ میں دعوت و تبلیغ کےلیے کوشش کرنی ہوگی‘ زور لگانا ہوگا‘ جگہ بنانی پڑے گی۔حق اُس وقت تک نہیں پھیلے گا جب تک کہ اُس کے پھیلانے والے نہ ہوں ۔پھیلانے والے اگر اپنی کوشش نہیں لگا رہے ہوں گے تو حق خود بخود نہیں پھیل سکتا۔ دعوت و تبلیغ کی سطح پر جہاد کےلیے بھی جان لگانا‘ وقت کھپانا‘ مال لگانا ضروری ہے۔یہ کام وعظ و تقریرو تحریر سے بھی کرنا ہے اور جو بھی موجود ذرائع ابلاغ ہوں ‘ان کا استعمال بھی کیا جائےگا۔اگر ایسا نہیں ہو گا تو اللہ کی بات دب جائے گی‘ شیطانی بات پھیل جائے گی۔سورۃ الفرقان میں فرمایا گیا: {فَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَ جَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا(۵۲)} ’’پس آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان سے جہاد کیجیے بہت بڑ اجہاد۔‘‘سورۃ الفرقان مکی سورت ہے۔اس میں جہاد کا لفظ بطور قتال استعمال نہیں ہوا بلکہ بِہٖ سے مراد قرآن حکیم ہی ہے۔قرآن حکیم الحاد‘ مادہ پرستی‘شرک اور دوسری گمراہیوں کے نظریات اور فلسفوں کی جڑ کاٹے گا۔ اس مرحلہ پر غلط خیالات‘ نظریات‘ دلائل اور بُرہان کےلیے قرآن کی تلوار ہے۔
(iii) مسلح تصادم:جہاد فی سبیل اللہ کی بلند ترین منزل اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے‘ اس کے نظام کو غالب کرنے کےلیے جہاد ہے۔ یہ سب سے کٹھن مرحلہ ہے ‘کیونکہ اللہ کے نظام کو غالب کرنےکے لیے پہلے سے موجود نظام کو ہٹانا پڑتا ہے۔دراصل کوئی دو نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔جو نظام پہلے سے قائم ہو ‘اس میں کچھ لوگوں کے مفادات‘ مسندیں ‘ قیادتیں‘ چودھراہٹیں ہوتی ہیں۔ معاشرہ کے جاگیر دار‘ زمین دار‘ سرمایہ دار ہوتے ہیں جن کے مفادات مروجہ نظام سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی اس نظام کو ہٹانا برداشت نہیں کریں گے۔ نتیجتاً اس صورت حال میں جو تصادم ہوگا وہ شدید ترین ہوگا۔ ویسے تو تصادم ہر مرحلہ پر ہے۔پہلی منزل پر اپنے نفس سے‘ دوسری منزل پر نظریاتی تصادم اور تیسری منزل پر جسمانی تصادم درپیش ہوگا۔اس منزل پر لوگوں کے مفادات کا معاملہ ہے‘ اس لیے طاقت کا طاقت کےساتھ ٹکراؤ کی نوبت ہو گی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت محمدﷺ جوقریش کی آنکھوں کا تارا تھے‘صادق و امین کا لقب ملنے کے باوجود بھی وہ شدید مخالفت کا شکار ہوئے۔صرف وعظ و تبلیغ سے بات پھیل تو سکتی ہے مگر غالب نہیں ہوسکتی۔ نظام بدلنے کی بات نہ کرتے تو شاید ان پر زبانی و جسمانی تشدد کا معاملہ نہ ہوتا‘ لیکن ان سے تو علی الاعلان کہلوایا گیا: {وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط} (الشوریٰ:۱۵)۔ حضرت محمدﷺ تو ظلم کو ختم کرنےکے لیے ہی انقلابی جدّو جُہد کر رہے تھے۔ ایسے میں ظالم عناصر یہ سب کیسے برداشت کر سکتے تھے!چنانچہ اس منزل کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آیا جائے۔ اس کے بغیر یہ دین غالب و قائم نہیں ہوسکتا۔میٹھے میٹھے وعظوں‘ٹھنڈی ٹھنڈی تبلیغ‘کتابوں کے لکھنے سے بات پھیلے گی لیکن دین غالب نہیں ہو سکے گا۔ اس طرح تبلیغ ِ دین کا فریضہ تو پورا ہوگا لیکن اقامت ِ دین کا فرض ادا نہیں ہو سکے گا۔
منظم جماعت کی ضرورت و اہمیت
اس منزل کےلیے ایک منظم جماعت ناگزیر ہے ۔ایک ڈسپلن والی جماعت کی شکل میں ایسے لوگ ہوں کہ جو حکم سنیں‘ اس کے ماننے والے ہوں اوراس مقصدکے لیے تن‘ من ‘ دھن لگانےکے لیے تیار ہوں ۔ ایسی جماعت جب تصادم کے مختلف مراحل سے گزر کر سر سے کفن باندھ کر جان دینے کےلیے تیار ہو کر نکلے گی تبھی دین غالب ہو سکے گا۔اس کے بغیر دنیا میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔کوئی پودا اپنی جگہ نہیں چھوڑتا جب تک اس کوکھینچ کر نکالا نہ جائے۔کوئی نظام اُس وقت تک نہیں ہٹ سکتا جب تک اس کو اُکھاڑا نہ جائے۔اس مرحلہ پر جن کے مفادات اس نظام سے وابستہ ہیں ‘وہ اُس کو برقرار رکھنےکے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔تصادم کی اِس شکل کا نام قتال ہے‘ یعنی مسلح تصادم (Armed Conflict) جس کا آغاز غزوئہ بدر سے ہوا اور عرب کی حد تک غزوئہ حنین پر ختم ہوا۔مدنی دور کے چھ سال تک یہ تصادم جاری رہا‘ تب اللہ کا دین غالب ہوا ہے۔ یہ محض تبلیغ سے نہیں ہوا۔ تبلیغ سے جماعت تیار ہوئی۔ تربیت و تزکیہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی قوت فراہم ہوئی۔ دعوت و تبلیغ اور تربیت و تزکیہ (بذریعہ قرآن ) سے حزب اللہ وجود میں آئی جس نے صبر ِمحض‘ اقدام اور مسلح تصادم کے مراحل سے گزر کر‘ اپنی جانیں دے کر اللہ کے دین کو غالب کیا۔ ٹکراؤ اور تصادم (Active Resistance) کے مرحلہ پر آکر جہاد‘ قتال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جہاد کی پہلی منزل اپنے نفس سے جہاد‘ دوسری منزل دعوت و تبلیغ کے لیے اپنی جان کھپانا‘ تیسری منزل اقامت ِدین کی جدّوجُہد میں جان و مال لگاناہے۔ سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا:
{قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوا اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴) }
’’بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دیجیے کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا ۔ بےشک اللہ بہت بخشنے والا‘ بہت مہربان ہے۔‘‘
اگلی آیت میں بتایا گیا کہ مؤمن کون ہیں:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) }
’’مؤمن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لائیں ‘پھر شک میں نہ پڑیں اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کریں۔ وہی لوگ سچے ہیں۔‘‘
اس سے ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق واضح ہو گیا۔ جہاد دراصل شرطِ لازم ہے۔جہاد ہے تو ایمان ہے‘ جہاد نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ ایمان حقیقی کی بات ہو رہی ہے ‘ایمانِ قانونی تو اسلام ہے۔
ایک بہت اہم حدیث مسند احمد‘جامع ترمذی اور مشکوٰۃ شریف میں موجود ہے۔ حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
((آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ: بِالْجَمَاعَۃِ وَالسَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ وَ الْھِجْرَۃِ وَ الْجِھَادِ فیِ سَبِیْلِ اللّٰہِ))
’’میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں ‘ اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے: جماعت کا‘ سننے اور ماننے کا‘ ہجرت کا‘اور اللہ کی راہ میں جہاد کا۔‘‘
آپ لوگوں نے یہ حدیث پہلی بار سنی ہو گی۔اِس کی سند کے حوالہ سے جب ایک شیخ الحدیث سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ یہ الفاظ نامانوس سے ہیں ۔اِس کے برعکس اسلام کے پانچ ارکان والی حدیث ہر مسلمان کو یاد ہے۔ دراصل انسانی نفسیات ہے کہ جس چیز پر توجہ ہوتی ہے‘انسان کو وہی یاد رہتی ہے۔اگر توجہ کسی خاص طرف ہو تو سامنے سے گزر جانے والی چیز آنکھیں کھلی ہونے کے باوجود بھی انسان کونظرنہیں آرہی ہوتی ۔ بعض مرتبہ کسی کتاب کا کئی بار مطالعہ کیا ہوتا ہے لیکن اِس کی کوئی اہم بات نظروں سے پوشیدہ ہی رہتی ہے۔اسی طرح آ ج کے مسلمان کو غلبہ ٔ دین کے تقاضے یاد ہی نہیں۔دینی فرائض کی تیسری منزل تو بالکل ہی نظروں سے اوجھل ہے۔آج مسلمانوں کے دل و دماغ سے یہ بات محو ہوچکی ہے کہ دین کو قائم کرنا بھی فرض ہے۔ لہٰذا اس کے تقاضوں کو ذہن قبول ہی نہیں کرتا۔ الفاظ پڑھ لیتے ہیں لیکن مفہو م کی جانب توجہ ہی نہیں ہوتی۔اس حدیث میں اجتماعیت سے جڑ کر سننے ‘ ماننے اور اللہ کے راستے میں ہجرت و جہادکے جو تقاضے بتائے جارہے ہیں ‘یہ دراصل اقامت ِ دین کے لیے لازمی ہیں۔
جہاد کے ساتھ ہجرت کا لفظ بھی آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیاکہ کون سی ہجرت سب سے افضل ہے‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :((اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ)) [مسند احمد:۶۸۱۳] ’’یہ کہ تم ہر اُس شے کو چھوڑ دو جو اللہ کو پسند نہیں۔‘‘اس نیت کےساتھ کہ اللہ کرے کہ وہ وقت آئے کہ خالص اللہ کے دین کے غلبہ کی جدّوجُہد میں اپنا گھربار‘ اہل و عیال ‘ مال و متاع حتیٰ کہ اپنے وطن و سر زمین کو بھی چھوڑنا پڑے‘ یہ ہجرت کا سب سے اونچا درجہ ہوگا۔ جیسے حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے سب کچھ چھوڑ کر نکل گئے۔کسی بھی گناہ کو چھوڑ دینے سے ہجرت کا آغاز تو ہوگیا لیکن نیت چوٹی کی رکھنی چاہیے‘ جیسا کہ حدیث ِ مبارکہ ہے:
((مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہُ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ)) (صحیح مسلم: ۴۹۳۱)
’’جس کو موت آئے اس حال میں کہ نہ تو اُس نے جنگ میں حصہ لیا اور نہ ہی اس کے دل میں اس کی خواہش تھی تو اسے ایک طرح کے نفاق پر موت آئی۔‘‘
خود رسول اللہ کی آرزو تھی کہ ’’ میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں ‘پھر زندہ کیا جاؤں‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ‘پھر زندہ کیاجاؤں‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ۔ ‘‘(صحیح البخاری:۲۷۹۲)
بیعت سمع و طاعت
ہجرت کے بعد جہاد کا ذکر آیا ہے‘ جس کی آخری منزل قتال ہے۔ صحیح بخاری میں بیعت ِجہاد کے حوالہ سے نقل ہے کہ غزوئہ احزاب کے موقع پر صحابہ کرامؓ سنگلاخ زمین پر خندق کھودتے ہوئے کہتے جا رہے تھے:
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمدﷺ سے جہاد کی بیعت کی ہے جو کہ اب جاری رہے گا جب تک جان میں جان ہے ۔‘‘
اسی طرح صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں بیعت ِسمع و طاعت کے حوالہ سے متفق علیہ حدیث ہے جس کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیاہے۔
بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَ الطَّاعَۃِ فیِ الْعُسْرِ وَ الْیُسْرِ، وَ الْمَنْشَطِ وَ الْمَکْرَہِ، وَ عَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا، وَ عَلٰی اَنْ لَا نُنَا زِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہُ، وَ عَلٰی اَنْ نَقُوْلَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا، لَا نَخَافُ فیِ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِم
’’ہم نے اللہ کے رسولﷺ سے بیعت کی کہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے‘ تنگی اور آسانی میں‘ چاہے ہماری طبیعت میں آمادگی ہو یا چاہے ناپسندیدگی ہو‘ خواہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے‘ اور جن کو امیر بنایا جائے اُن سے ہم نہیں جھگڑیں گے‘اور حق بات ضرور کہیں گے جہاں کہیں بھی ہوں گے ‘اور اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔‘‘
اِن احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں مسلمانوںکے لیے اجتماعیت سے جڑنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ایسی جماعت جس سے وہ قوت وجود میں آئے جو اقامت ِدین ‘ غلبہ ٔ دین‘ اسلامی انقلاب ‘ اللہ کی تکبیر بلند کرنے‘اس کے دین کا بول بالا کرنے ‘اللہ کے نام کے کلمہ کی سربلندی ‘پورے نظام زندگی پر دین اسلام کا غلبہ کرنے کےلیے جدوجہد کر رہی ہو۔
پس یہ بات سامنے آگئی کہ ہمارے دینی فرائض کے تین درجے(levels )ہیں ‘ اور ہر درجہ کا جہاد الگ ہے۔ پہلے درجہ پر جہاد مع النفس ہے۔ ساتھ ہی شیطان اور بگڑے معاشرہ سے بھی کشمکش ہوگی۔دوسرے درجہ پر غلط عقائد و نظریات‘ شرک و الحاد سے مجاہدہ ہے ۔ تیسرے درجہ پر باطل کی قوت سے تصادم کی شکل میں جہاد جو کہ قتال کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ سورۃ الصف میں اللہ کی محبوبیت کا بلند ترین مقام یہی بتا یا گیا:
{اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴) }
’’بے شک اللہ کو محبوب ہیں وہ لوگ جو اُس کی راہ میں لڑتے ہیں سیسہ پلائی دیوار بن کر۔‘‘
دو باتیں ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہئیں :فہمِ صحیح اور عملِ صحیح۔ان نشستوں میں ہم فہمِ صحیح حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دین کے تقاضے ہم پر واضح ہوئے۔دین کے فرائض کا احساس و شعور ہو۔دین کی تر جیحات ‘اس کے ستون و عمود سامنے رہیں۔اس کے بعد اللہ کی توفیق سے انسان عمل ِ صحیح کا آغاز کرے لیکن نگاہ ہمیشہ اُونچی رکھے۔ہماری اصل منزل اللہ تعالیٰ کی شانِ کبریائی کا نفاذ ہونا چاہیے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اُس کی نصرت و عافیت کے ہر وقت طالب ہیں!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026