سفر ِآخرت کے مراحل
اور ہماری ذِمّہ داریاںشجاع الدین شیخ ‘امیر تنظیم اسلامی
مدینہ منورہ میں حجاج کرام کے ایک نمائندہ اجتماع سے خطاب
خطبہ مسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!
مَردوں کے احرام کی دو چادریں ہوتی ہیں‘ جوہمیں کفن کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ ہم نے تلبیہ بار بار پڑھا : لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک ’’اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔‘‘ اسی طرح ایک دن موت کا وقت آنا ہے ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے ہماری روح کو لے کر جانا ہے۔ حج کے لیے ہم اپنے گھر‘ کاروبار‘ نوکری‘ گاڑی‘ جائیداد‘ بہت سی چیزوں کو چھوڑ کر آ گئے۔ دورانِ حج‘ ہمارا سامان کم ہوتا چلا گیا۔ ایک بڑا بیگ اور ایک ہینڈ کیری تھا‘ لیکن جب ہم منیٰ میں گئے تو ہمارا ہینڈ کیری بھی نیچے رہ گیا۔ مزدلفہ میں جب ہم رات کو سوئے تھے تو نہ اوپر چھت تھی نہ کمرہ تھا‘ نہ بیڈ تھا‘ نہ اٹیچ باتھ تھا ‘نہ اے سی تھا‘ نہ کوئی بوفے تھا ۔اتنے کم پر بھی ہمارا گزارا ہوا۔ اتنے ہی کم کے ساتھ بلکہ بغیر کسی شے کے‘ سوائے اس کے کہ کفن کی دو چادریں میسر آجائیں ‘یہ پورا سفر حج ہمیں آخرت کے سفر کی یاد دہانی کراتا ہے۔ ایک تو یہ نکتہ ہمارے ذہن میں رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی فکر اور تیاری کی توفیق عطا کرے۔ جس نے اللہ کا گھر دیکھ لیا‘ مناسک حج کے مقامات کو دیکھ لیا‘ اللہ کی رحمتوں کو برستے ہوئے دیکھ لیا‘ عرفات میں اللہ کے جلال کو دیکھ لیا‘ مدینہ منورہ کی حاضری جسےمیسر آگئی ‘روضۂ رسولﷺ کو جس نے دیکھ لیا‘اب ہماری زندگی صحیح رُخ پر جائے گی یا نہیں‘یہ ہمیں تنہائی میں غور کرنا چاہیے۔ یہاں سے یہ مانگ کر جانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے حج میں اپنی بندگی کی توفیق دی‘ پوری زندگی میں بھی اپنی بندگی کی توفیق عطا کر دے۔ اے اللہ! اسلام کی حالت پر ہمیں زندہ رکھ۔ اے اللہ !ہمیں موت بھی آئے تو ایمان کی حالت پر آئے ۔ ہمارا موضوع ہے :’’سفرآخرت کے مراحل اور اس کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں۔‘‘ یہ موضوع قرآن کریم کے ہر دوسرے صفحے پر ملتا ہے۔رسول اکرمﷺ کے خطبات میں اکثر ملتا ہے۔احادیث مبارکہ میں اکثر ملتا ہے۔ آج دنیا میں بڑی رنگینی ہے‘ بڑی کشش ہے‘ بڑا عروج ہے‘ بڑا زوال ہے‘ بڑی خوشی ہے‘ بڑی غمی ہے۔ کسی کی طاقت‘ کسی کی کمزوری‘ کسی کا ظلم‘ کسی کی مظلومی یہ سب کچھ دکھائی دے رہا ہے مگر ہمارا دین بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا اور پھر ایک عالم برپا ہوگا جس کا اقرار ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم کرتے ہیں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئےکہ:
{مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo}’’جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔‘‘
جسے ہم عالم آخرت کہتے ہیں۔ اس دنیا کو اللہ نے بنایا ہے‘ مگر یہ سب کچھ انسان کے امتحان کے لیے ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
{اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّـہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)}
’’یقیناً ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بنائو سنگھار تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں!‘‘
یہ ہے اصل حقیقت اس دنیا کی! دنیا نظر آ رہی ہے تو اس پر یقین ہے جبکہ آخرت نظر نہیں آ رہی تو لوگوں کو اس کے بارے میں شبہ ہو جاتا ہے ۔کچھ لوگ سرے سے انکار کرتے ہیں‘ وہ پکے کافر ہوتے ہیں‘ جبکہ کچھ مانتے ہیں مگر تیاری نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تیاری کرنے کی توفیق عطا فر مائے! سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :لوگو آج تم سو رہے ہو‘ جب موت آئے گی تب تم جاگو گے۔ آج جو کچھ دیکھ رہے ہو یہ دھوکا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا:
{وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)} (الانعام)
’’اور یہ دُنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘
یہ دنیا کی زندگی نظر آرہی ہے مگر یہ حقیقت نہیں۔ ہمارا ایمان دیکھی جانے والی شے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس شے سے شروع ہوتا ہے جو نظر نہیں آتی ۔
{الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ} (البقرۃ:۲) ’’جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر۔‘‘
جو unseenباتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ کی ذات کو ہم نے دیکھا نہیں‘ جنت کو ہم نے دیکھا نہیں ‘جہنم کو ہم نے دیکھا نہیں۔ بہت سارے امور ہیں غیب کے‘نظر نہ آنے والی حقیقتوں کے۔ ہمارا ایمان یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ ہم غیب کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
لوگوں نے ’’اینڈ(End) آف ٹائم‘‘ کے عنوان سے ڈاکومنٹری بنا دی ‘ پروگرامز کر ڈالے۔ ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ کا مطلب ہے دنیا کا خاتمہ ۔ درحقیقت وہ اینڈ آف ٹائم نہیں ہو گا بلکہ بگننگ (Beginning)آف ٹائم ہوگا۔ یہ دنیا ختم ہوگی تو عالم ِآخرت برپا ہونا ہے۔ جس میدانِ عرفات میں ہم کھڑے ہوئے اور اکیلے اللہ کو پکارا‘ اسی اللہ کے سامنے میدان ِحشر میں اکیلے اکیلے ہم نے کھڑا ہونا ہے۔ سورئہ مریم میں ارشاد ہوا:
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا(۹۵) } (مریم)
’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جسے کافر بھی مانتا ہےاور مسلمان بھی ۔ اس زمین پر کچھ ملحد تو مل جائیں گے‘لیکن موت کو نہ ماننے والا ایک بھی نہیں ملے گا۔ موت سب کو نظر آرہی ہے۔ مسلمان کو بھی‘ کافر کو بھی۔ امیر کو بھی ‘غریب کو بھی۔ ہمارے سامنے لوگ مر رہے ہیں۔ ہمارے سامنے لوگ جا رہے ہیں۔ ہم جنازے بھی ادا کر رہے ہیں۔ کل ہماری بھی موت آنی ہے۔ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے وہ آ جائے گی۔ارشادِ ربانی ہے:
{اَیْنَ مَا تَـکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَـوْکُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍط} (النساء:۷۸)
’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تم کو پالے گی‘ خواہ تم بڑے مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔‘‘
مزید یہ کہ:
{وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَاط } (المنافقون:۱۱)
’’اور اللہ ہرگز مہلت نہیں دے گا کسی جان کو جب اُس کا وقت ِمعیّن آ پہنچے گا۔ ‘‘
نہ کوئی جلدی جاتا ہے‘ نہ دیر سے جاتا ہے۔ ہر ایک کی سانسیں اللہ کے ہاں معین ہیں۔ جس کے چار سال معین ہیں‘ وہ چار سال کے بعد مرے گا۔ جس کے۴۰ سال معین ہیں‘ وہ ۴۰ کے بعد ہی مرے گا ۔جس کے۸۰ معین ہیں‘وہ ۸۰ کے بعد ہی مرے گا ۔ یہ اللہ کے ہاں طے ہے۔ مجھے اور آپ کو اس کے متعلق کچھ پتہ نہیں۔ موت کبھی بھی آ سکتی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ موت کو سمجھانے کے لیے کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
{اِنَّا لِلہِ وَاِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ(۱۵۶)}(البقرۃ)
’’بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ جانا ہے۔‘‘
اس آیت میں مرنے والے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس کا ترجمہ ہے کہ بے شک ہم بھی اللہ کے ہیں اور ہمیں لوٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے ۔جانے والا اعلان کر کے جا رہا ہے کہ میں تو چلا گیا‘ اب تُو بھی میرے پیچھے پیچھے آئے گا۔ موت بُری بھی آتی ہے اور اچھی بھی آتی ہے۔ اللہ بُری موت سے ہماری حفاظت فرمائے! شراب پی کر بھی لوگوں کو موت آئی‘ گانے گا کر بھی لوگوں کو موت آئی۔ برطانیہ میں ایک بوڑھے مسلمان کی موت کا وقت قریب تھا‘ گھر والے کہہ رہے ہیں اللہ کا ذکر کر ‘کلمہ پڑھ‘ لیکن وہ کہتا ہے فلاں فلاں گلوکارہ کا البم مجھے سناؤ‘ مجھے سکون ملے گا۔ اگر گناہ کرتے ہوئے موت آئے گی تو اللہ کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے! موت اچھی بھی آتی ہے۔ کبھی سجدے کی حالت میں ‘کبھی روزے کی حالت میں ‘کبھی حج کے موقع پر‘کبھی احرام کی حالت میں۔کبھی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بندہ سوتا ہے تو اس حالت میں بھی آتی ہے۔ کبھی خیر کا کام کرنے کے دوران بھی آتی ہے۔ اسی لیے نماز جنازہ میں جو دعائیں کی جاتی ہیں‘ ان میں ایک دعا یہ بھی ہے :
اَللّٰہُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ
’’ اے اللہ! جس کسی کو تو ہم میں سے زندہ رکھے اُسے اسلام پر زندہ رکھ!‘‘
وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی اْلِاْیَمانِ
’’ اور جس کسی کو تو ہم میں سے وفات دے تو اُسے ایمان کی حالت پر وفات دے۔ ‘‘
یہ بڑا سخت مرحلہ ہوتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ ذکر کرتے ہیں کہ ابا جان کے آخری ایام کا معاملہ تھا۔ لیٹے ہوئے تھے کہ سختی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ کہنے لگے:
لَا الْاٰنَ، لَا الْاٰنَ، لَا الْاٰنَ! ’’ابھی نہیں ‘ابھی نہیں ‘ابھی نہیں!‘‘
کیفیت میں کچھ افاقہ ہوا تو بیٹے نے پوچھا :ابا جان! کیا مرنے کو تیار نہیں ہیں؟ آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ابھی نہیں‘ابھی نہیں‘ابھی نہیں؟ امام احمد بن حنبلؒ نے کہا :’’بیٹا یہ بات نہیں ہے کہ ابھی میں تیار نہیں۔بات یہ ہے کہ شیطان مردود آ کر حملے کر رہا ہے اور وسوسے ڈال رہا ہے۔ جب تک کہ خاتمہ ایمان پر نہ ہو جائے ‘میں بچ نہیں سکتا۔‘‘ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ جب آخری مرحلہ ہوگا تو وہ بھی پورا زور لگائے گا ۔مرتے وقت بھی شیطان ورغلانے کی کوشش کرتا ہے۔ ذرا تنہائی میں سوچیں کہ ہم کتنا اللہ سے یہ مانگتے ہیں کہ اسلام پر زندہ رکھ ‘ایمان پر خاتمہ عطا فرما‘ برے خاتمے سے بچا! ضروری نہیں کہ موت ۶۰ یا ۷۰ سال کے بعد آئے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے چھوٹے بچوں کو غسل بھی دیا‘ان کا جنازہ بھی پڑھایا ‘ان کو دفن بھی کیا ہے ۔اللہ کے ہاں یہ طے ہے مگر میرے اور آپ کے پاس کوئی گارنٹی نہیں۔ آج محنت کرنی ہے‘ تیاری کرنی ہے‘ کل تک موقوف نہیں کرنا۔ قرآن ہمیں کہتا ہے :
{وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)} (آل عمران)
’’اور تمہیں ہرگز موت نہ آنے پائے مگر فرماں برداری کی حالت میں!‘‘
اللہ کی فرماں برداری حج تک محدود نہیں ہے‘ عمرے تک محدود نہیں ہے‘ رمضان تک محدود نہیں ہے‘ قربانی تک محدود نہیں ہے۔ خوشی کا موقع ہو تو مسلم بننا ہے‘ غمی کا موقع ہو تو مسلم بننا ہے۔ یہ ہے پوری زندگی کا تقاضا!
یہ موت کہیں بھی آ سکتی ہے ‘کبھی بھی آ سکتی ہے ۔اس کے بعد تدفین ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کو قبر نہ بھی ملے تو وہ اللہ کے علم میں ہے ‘اس کے علم سے باہر نہیں۔ دنیا اور آخرت کے درمیانی وقفے کا نام برزخ ہے ۔یہ لفظ قرآن پاک میں آیا۔ قبر کا لفظ بھی قرآن پاک میں آیا۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:’’ قبر جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے‘‘۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جب مردے کو دفن کر دیا جاتا ہے تو دو فرشتے آتے ہیں منکر اور نکیر۔ چند سوالات کرتے ہیں ‘جن کے جواب ان کو بالکل سیدھے سیدھے اور صحیح صحیح چاہئیں۔
مَنْ رَّبُکَ؟’’ تمہارا رب کون ہے؟ ‘‘
مَا دِیْنُکَ؟’’ تمہارا دین کیا ہے؟‘‘
مَنْ نَبِیُّکَ ’’ تمہارے نبی کون ہیں؟‘‘
روایات میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ کا چہرۂ انور پیش کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ بتاؤ ان کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے! واقعتاً مسلمان ہوگا تو اللہ کو بھی مانتا ہوگا‘ اللہ کی بھی مانتا ہوگا۔ توجہ کیجیے گا اللہ کو تو سب مسلمان مان رہے ہیں‘ اللہ کی کتنے لوگ مان رہے ہیں؟ دین کو سب مسلمان ہی مان رہے ہیں ‘ دین کی کتنی مان رہے ہیں؟ رسول اللہﷺ کو سب ہی مان رہے ہیں‘رسول اللہﷺ کی کتنی مان رہے ہیں؟یہ پوری زندگی کا اہم مسئلہ ہے۔آج اگر اس رُخ پر ہوں کہ اللہ کی بھی مان رہے ہوں ‘اللہ کے دین اسلام کی بھی مان رہے ہوں ‘ اللہ کے رسولﷺ کی بھی مان رہے ہوںتو جواب دے سکیں گے :
اَللّٰہُ رَبِّیْ’’ اللہ میرا رب ہے‘‘
اَلْاِسْلَامُ دِیْنِیْ ’’ اسلام میرا دین ہے‘‘
مُحَمَّدٌﷺ نَّبِیِّی ’’ محمد مصطفی ﷺ میرے نبی ہیں۔ ‘‘
اب حج سے جاتے ہوئے تنہائی میں سوچنا ہے کہ اللہ کی کتنی نافرمانیاں کیں! اللہ نے تو عرفات کے دن پاک صاف کر دیا ۔اب سوچیں کہ میری زندگی کس رُخ پر ہوگی۔ جھوٹ تو نہیں ہوگا میری زبان پر؟ زبان پرگالیاں تو نہیں ہوں گی؟ زبان پر جھوٹے وعدے اور جھوٹی قسمیں تو نہیں ہوں گی؟ ماں باپ کا دل تو نہیں دکھائیں گے؟ پڑوسی کا حق تو نہیں ماریں گے؟ کسی کا قرض دبا کر بیٹھ تو نہیں جائیں گے؟ناپ تول میں کمی تو نہیں کریں گے ؟رشوت کا معاملہ تو نہیں کریں گے؟ سود خوری کا معاملہ تو نہیں کریں گے؟ وراثت میں سے کسی کا حق تو نہیں مار جائیں گے؟ نمازیں ضائع تو نہیں کریں گے؟ قرآن بند تو نہیں ہو جائے گا؟ہمارے ۹۹ فیصد لوگ ہیں جنہوں نے آج تک قرآن کریم کو سمجھ کر نہیں پڑھا ۔انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ اللہ چاہتا کیا ہے‘ تو اللہ کی مانیں گے کیسے؟ ارادہ کر کے جائیں کہ قرآن کو ترجمے سے پڑھیں گے‘ تشریح سے پڑھیں گے۔ قرآن کی محفلوں میں بیٹھیں گے ۔دین کی محفلوں میں بیٹھیں گے۔ دین کو سیکھیں گے۔ اسلام کا پتہ چلے گا تب ہی اس پر عمل ہوگا۔یہ تین اہم ترین سوالات ہیں آپ کی زندگی کے۔ بتاؤ تمہارا ربّ کون ہے؟ بتاؤ تمہارا دین کیا ہے؟ بتاؤ تمہارے نبی کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ یہ سوالات ہم سب پر آسان فرمائے۔
اللہ کے رسولﷺ نے فرض نماز کے بعد دعائیں کیں:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقبْرِ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مَنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحُ الدَّجَّالِ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَاْثَمِ وَ الْمغْرَمِ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ
اللہ کے رسولﷺ بخشے بخشائے ہیں‘ معصوم ہیں‘خطاؤں سے پاک ہیں۔ آج ہم روضہ ٔرسول پر سلام بھی کرتے ہیں‘ شفاعت کی دعا بھی کرتے ہیں۔ وہ جو بخشے بخشائے ہیں‘ وہ ہر نماز کے بعد دعا کرتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے…‘‘ ہم میں سے کتنے لوگوں کو قبر کا عذاب رلاتا ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی قبر پر گزرتے تو زار و قطار روتے۔ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی ۔ پوچھا جاتا: جنت کا ذکر ‘جہنم کا ذکر ‘اور معاملات کا ذکر آتا ہے تو یہ کیفیت طاری نہیں ہوتی‘ قبر کو دیکھ کر کیوں طاری ہوتی ہے؟ سیدنا عثمانؓ فرماتے: مَیں نے اللہ کے رسولﷺ سے سنا ہے‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ قبر آخرت کے مرحلوں میں سے پہلا مرحلہ ہے‘ جو ادھر کامیاب ہوگا وہ آگے بھی کامیاب ہوگا‘ جو ادھر ناکام ہوگا‘ وہ آگے بھی ناکام ہوگا۔‘‘ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے غزوئہ تبوک کے موقع پر اتنا خرچ کیا کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا :’’ آج کے بعد عثمان کچھ بھی کرے‘ سب معاف ہے‘۔‘ جن کو یہ اعلانات اللہ کے رسولﷺ کی زبان سے ملے‘ وہ قبر کو دیکھ کر روتے تھے۔ کیا مجھے اور آپ کو رونا آتا ہے ؟قبر یاد رہتی ہے؟ قبر کے سوالات یاد رہتے ہیں؟
برزخ کی زندگی کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کی طویل حدیث ہے۔ اس کے چند حاصل میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔اللہ کا فرماں بردار بندہ جب قبر کے حوالے کیا جاتا ہے تو قبر خوش ہوتی ہے‘ استقبال کرتی ہے‘ مبارک باد دیتی ہے۔ قبر اس سے کہتی ہے : زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے لوگ تھے ‘تُو مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔ آج تُو میرے حوالے کر دیا گیا‘ دیکھ میں تیرے ساتھ کتنا اچھا سلوک کرتی ہوں۔ پھر وہ قبر حد ِنگاہ تک اس کے لیے وسیع کر دی جاتی ہے ۔اس کے لیے جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے جہاں سےخوشبو بھری ہوائیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسی راحت والی قبر اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عطا فرمائے! میرے اور آپ کے اصل مسئلے یہ ہیں۔ یہ ملین ڈالر نہیں‘ بلین ڈالر questionsہیں۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کا کوئی نافرمان بندہ جب قبر کے حوالے کیا جاتا ہے تو قبر سختی سے کلام کرتی ہے اور کہتی ہے : زمین پر جتنے چلنے پھرنے والے تھے‘ تُو مجھے سب سے زیادہ مبغوض تھا۔ تُو مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھا۔ آج جب تُو میرے حوالے کر دیا گیا ہے تو دیکھ میں تیرے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ وہ قبر اس کو بھینچنا شروع کرتی ہے اور آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر بتایا کہ ایسے اس کی پسلیاں اور ہڈیاں داخل ہوتی ہیں ایک دوسرے کے اندر۔ قبر بھینچتی ہے‘ پھر بھینچتی ہے اور بھینچتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبر کے عذاب سے ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ ہمارے سب سے بڑے مسئلے ہیں ‘ جن پر آج کوئی بات نہیں ہوتی۔ اتنی زیادہ مادہ پرستی ہے اور دجال کا دجل اتنا غالب آ گیا ہے کہ جو دکھائی دے رہا ہے اسی پر ساری بحثیں ہیں جبکہ جو دکھائی نہیں دے رہا اس پر کلام ہی نہیں۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: اس نافرمان کو ہتھوڑوں سے مارا جاتا ہے اور اس کی آواز کو انسان و جنات کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے۔ یہ بھی فرمانِ رسولﷺ ہے کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتاکہ تم اپنے مُردوںکو دفنانا چھوڑ دوگے تو میں اللہ سے التجا کرتا ‘وہ تمہیں دکھاتا کہ قبر میں مُردے کو کس طرح عذاب ہوتا ہے۔ اللہ اکبر کبیرا!
یہ برزخ کا معاملہ ہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا ‘ یہ دنیا ختم ہو گی۔ سورۃ الفجر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا(۲۱) وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا(۲۲)}
’’ہرگز نہیں! جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔اور آپ کا ربّ جلوہ فرما ہو گا جب کہ فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے۔‘‘
یہ ساری زمین کوٹ کوٹ کر بالکل چٹیل کر دی جائے گی ‘ اور تمہارا رب بھی موجود ہوگا اور فرشتے صفیں باندھ کر حاضر ہوں گے۔ یہ حشر کا میدان برپا ہوگا اور اس کی کئی تفصیلات ہیں۔ سورۃ التکویر میں ارشاد ہوا:
{اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ (۱) } ’’جب سورج لپیٹ لیاجائے گا۔‘‘
سورۃ الانفطار میں بتایاگیا:
{اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ (۱) } ’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔‘‘
جبکہ سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا:
{اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ(۱)} ’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔‘‘
یہ تینوں سورتیں آخری پارے کے شروع میں ہیں: سورۃ التکویر ‘سورۃ الانفطار اور سورۃ الانشقاق۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا : جو تم میں سے قیامت کے مناظر کو دیکھنا چاہے ‘ان تین سورتوں کا مطالعہ کر لے۔ سورۃالانفطار کی شروع کی آیتیں ہیں:
{اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ(۱) وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ(۲) وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ(۳) وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ(۴)}
’’جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب تار ے بکھر جائیں گے۔اور جب سمندرپھاڑ دیےجائیں گے۔ اور جب قبریں تلپٹ کر دی جائیں گی۔‘‘
{عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ(۵) }
’’(اُس وقت) ہر جان‘ جان لے گی کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔‘‘
آج ہم سورج ‘ چاند اور ستاروں کو دیکھتے ہیں‘ یہ سارا نظام تلپٹ ہو جائے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ(۹) } (القیامۃ)
’’اور سورج اور چاند یکجا کر دیے جائیں گے۔‘‘
سورج اور چاند کو جمع کر دیا جائے گا اور ستارے بے نور کر دیے جائیں گے۔ یہ عالم دنیا ختم کر دیا جائے گا جبکہ ایک اور عالم آخرت میں برپا کیا جائے گا ۔ہر ایک کو اللہ کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ اُمتوں کی سطح پر بھی پیشی ہوگی اور انفرادی سطح پر بھی پیشی ہوگی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ(۶) } (الاعراف)
’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے اُن سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘
رسولوں سے اس بات کا سوال ہوگا کہ اللہ کا پیغام پہنچایا کہ نہیں پہنچایا ! اللہ کے رسولﷺ نے جب خطبہ حجۃ الوداع دیا تو اس کے آخر میں فرمایا: ((اَلَا ھَلْ بَلَغَّتُ)) ’’کیا میں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : آپﷺ نے حق وصیت ‘حق نصیحت‘ حق امانت ادا کر دیا۔ سب صحابہؓ نے گواہی دی کہ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ پھر اللہ کے رسولﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ،اَللّْھُمَّ اشْھَدْ،اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ)) ’’ اے اللہ تُو گواہ رہ‘ اے اللہ تُو گواہ رہ‘اے اللہ تُو گواہ رہ!‘‘ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ میں نے پہنچا دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے گواہی اس لیے لے لی کیونکہ آپﷺ نے بھی گواہی دینی ہے۔ ایک وہ آیت بھی ہے جس پر اللہ کے رسولﷺ اشک بار ہوئے۔ اللہ کے رسولﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ قرآن پاک کی تلاوت کرو۔ انہوں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی۔ حضورﷺ سر جھکا کے تلاوت سماعت کر رہے تھے۔ جب آیت۴۱ پر پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: حَسْبُکَ حَسْبُکَ حَسْبُکَ۔ ’’کافی ہے‘ کافی ہے‘ کافی ہے! ‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہے۔ وہ آیت یہ تھی :
{فَکَیْفَ اِذَا جِئْـنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ شَہِیْدًا(۴۱)}
’’تو اُس دن کیا صورت حال ہو گی جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور (اے نبیﷺ) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر ۔‘‘
رسولوں سے بھی سوال ہوگا اور جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا‘ ان اُمتوں سے بھی سوال ہوگا۔ مجھ سے اور آپ سے بھی سوال ہوگا۔ اجتماعی سطح پر بھی سوال ہوگا۔ اللہ کے پیغمبرﷺ اُمّت کو پورا قرآن دے کر گئے۔پورا دین مکمل کر کے گئے۔پورا اُسوہ دے کر گئے‘دین قائم کرکے گئے‘ دین کی گواہی ہمارے ذمے ڈال کر گئے‘ ختم نبوت کا عقیدہ بتا کر گئے کہ میں آخری نبی ہوں ‘میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تم آخری اُمت ہو تمہارے بعد کوئی اُمّت نہیں۔ ختم نبوت کے بعد یہ میری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔
اللہ کے رسولﷺ نے اپنے قول سے بھی گواہی دی ‘ اپنے عمل سے بھی گواہی دی‘ اپنی جدّوجُہد سے گواہی دی ‘اپنا خونِ اطہر طائف میں اور احد کے میدان میں پیش کر کے گواہی دی۔رسول اللہﷺ نے اللہ کا دین غالب کر کے دکھایا ۔ اب ختم نبوت کے بعد میں اور آپ ذمہ دار ہیں۔ مجھے اور آپ کو کھڑا کیا گیا ۔مجھے اور آپ کو چنا گیا ہے۔ میں نے اور آپ نے گواہی دینی ہے۔سوچیے اگر ہم خود ہی قرآن نہ پڑھیں تو دوسروں کو کیا پہنچائیں گے۔قرآن ہم نہ سمجھیں تو ہمیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے ۔ ایسے میں ہم دوسروں کو کیا بتائیں گے۔ ہم دین پر خود عمل نہ کریں تو دوسروں کو کیا پہنچائیں گے۔ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں اسلام قائم نہ ہوتو ہم دنیا کے سامنے کیا پیش کریں گے؟بقول اقبال:؎
وقت فرصت ہے کہاں‘ کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!یہ ذمہ داری میری اور آپ کی ہے۔
حشر کے میدان کی بہت ساری تفصیلات ہیں کہ لوگوں کی حالت اور کیفیات کیا ہوں گی۔ احادیث میں بھی تفصیلات آتی ہیں۔ کس کس انداز سے پیشی ہو گی‘اجتماعی بھی اور انفرادی بھی۔ سوالات کیا ہونے ہیں۔ کچھ لوگ جھوٹ بولنا چاہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے منہ بند کر دے گا۔ انسانوں کے چھ اعضاء گواہی دیں گے ۔نامہ اعمال دیا جائے گا۔ پُل صراط سے گزارا جائے گا۔ پھر جہنم اور جنت کے فیصلے کا معاملہ ہے ۔ جنت والوں کے لیے اللہ کا دیدار بھی ہے اور اللہ کی رضا کا اعلان بھی ہے۔
انفرادی سطح پر بھی اللہ کے سامنے ہر ایک نے پیش ہونا ہے۔ باپ اپنا جواب دے گا‘ بیٹا اپنا جواب دے گا۔ ماں اپنا جواب دے گی ‘بیٹی اپنا جواب دے گی۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا(۹۵) } (مریم)
’’اور قیامت کے دن سب کے سب آنے والے ہیں اُس کے پاس اکیلے اکیلے۔‘‘
طبرانی شریف کی حدیث ہے کہ قیامت کے دن پہلا سوال نماز کے بارے میں ہونا ہے۔ جس کی نماز درست ہو گی‘ اس کے باقی معاملات بھی درست ہوں گے۔ جس کی نماز میں کمی‘ کوتاہی‘ بگاڑہو گا تو اس کے باقی معاملات بھی بگاڑ کا شکار ہو جائیں گے۔
جامع ترمذی کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:بندے کے قدم اس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے جب تک وہ پانچ سوالات کے جوابات پیش نہ کرے۔ یہ بھی زندگی کے اہم ترین سوالات ہیں جوکسی سیٹلائٹ چینل کے پروگرام میں نہیں ملیں گے‘کسی سٹیٹس اَپ ڈیٹ میں نہیں ملیں گے‘کسی ہیڈ لائن نیوز میں نہیں ملیں گے۔ کوئی نہیں بتاتا اِلا یہ کہ دینی محفل ہو۔
(۱) زندگی کہاں لگائی؟ یہ زندگی ہماری نہیں‘ اللہ کی دین ہے ۔ اللہ کی امانت ہے ہمارے پاس۔
(۲) جوانی کہاں کھپائی؟ زندگی کا peak ٹائم‘ گرین ٹائم‘ بہترین ٹائم‘ جوانی ہے‘ جب انسان میں پہاڑوں سے ٹکرانے کا حوصلہ ہوتا ہے ۔
(۳) مال کہاں سے کمایا؟ حلال سے یا حرام سے؟ رشوت کا بھی آ رہا ہے‘ سود کا بھی آ رہا ہے‘ دو نمبر بھی آ رہا ہے ‘لوٹ مار کا بھی آ رہا ہے ۔وراثت کا ہڑپ کردہ بھی آ رہا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ذکر آتا ہے کہ حرام سے پلا ہوا جسم جہنم کا مستحق ہے ‘وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ حرام کے ساتھ دعا قبول نہیں ہوتی ۔حرام کے ساتھ صدقہ قبول نہیں ہوتا ۔
(۴) مال کہاں خرچ کیا ؟حلال میں یا حرام میں؟ جائز میں یا ناجائز میں؟ آج شادی بیاہ کے موقع پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ اپنے نام نہاد سٹیٹس کو اوپر رکھنے کے لیے ہندوانہ رسومات پر پیسہ بے دریغ خرچ کیا جاتا ہے۔ فلسطین کے بچے بھی یاد رہتے ہیں ہمیں کبھی؟ اپنے ملک کے یتیم بچے‘ بوڑھے‘ بیوائیں جو کھانے پینے کے محتاج ہوں وہ یاد رہتے ہیں؟
(۵) جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟ آج حج میں تو ہر بندہ مفتی بنا ہوا ہے۔ علمی بحثوں میں لگا ہوا ہے ۔ استغفر اللہ! اتنا علم آ گیا تبھی تو بحث ہو رہی ہے ۔ چیٹ جی پی ٹی آگیا ‘اے آئی آگیا‘ میٹ آگیا ‘جی این آئی آگیا ۔ دماغ میں اتنا علم آگیا ہے‘ عمل میں کیا ہے؟ رات بھر بحث‘ صبح فجر میں گل۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر تو لڑ پڑیں گے‘ اتنا لڑ پڑیں گے کہ جان دے دیں گے یا لے لیں گے لیکن عمل کے میدان میں ہمارے پاس ٹائم نہیں۔
جب اللہ اٹھائے گا تو کیفیات مختلف ہوں گی۔ ممکن ہے کوئی احرام کی حالت میں انتقال کرگیا تو حالت ِاحرام میں اٹھایا جائے گا۔ شہید ہے تو اس کا خون رس رہا ہوگا۔ مظلومانہ قتل کیا گیا تو اللہ ظالم سے اس کا حساب لے گا۔ ایک کیفیت یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اندھا کر کے کھڑا کیا جائے گا۔ سورئہ طٰہٰ میں ہلا دینے والی آیت ہے :
{وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی(۱۲۴) }
’’اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اُس کے لیے ہو گی (دنیا کی) زندگی بہت تنگی والی اورہم اٹھائیں گے اُسے قیامت کے دن اندھا (کرکے)۔‘‘
ذکر سے یہاں مرادقرآن ہے۔ جس نے قرآن سے اعراض کیا‘ اس کو فراموش کیا‘ نظر انداز کیا تو اس کی معیشت تنگ ہو گی۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن اندھا بنا کر کھڑا کیا جائے گا۔
{قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْٓ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵)}
’’وہ کہے گا : اے میرے پروردگار! تُو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ہے‘ جبکہ مَیں (دنیا میں) تو بینائی والا تھا۔‘‘
{قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَہَاج وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی(۱۲۶)}
’’اللہ فرمائے گا کہ اسی طرح ہماری آیات تمہارے پاس آئیں تو تم نے انہیں نظر انداز کر دیا‘ اور اسی طرح آج تمہیں بھی نظرانداز کر دیا جائے گا۔‘‘
انگلش میں کہتے ہیں:tit for tat ۔اردو میں کہتے ہیں: جیسے کو تیسا۔تمہارے پاس میرے قرآن کے لیے وقت نہیں تھا ‘جاؤ دفع ہو جاؤ‘ میری رحمت میں سے تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں۔
روزِ محشر‘ اللہ کے رسولﷺ اپنے اُمتیوں کو کیسے پہچانیں گے؟ جسم کے جو اعضاء وضو میں استعمال ہوتے ہیں‘ وہ چمک رہے ہوں گے۔ چنانچہ وضو اچھے انداز سے کرنا چاہیےاور کوشش کرنی چاہیے کہ بندہ ہر وقت باوضو رہے۔
زندہ دفن کی گئی لڑکی کے حوالے سے سورۃ التکویر میں آیاہے :
{وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ(۸) بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ(۹)}
’’اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا‘کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی؟ ‘‘
ایسا زمانۂ جاہلیت میں ہوتا تھا۔ آج بھی بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دے کر جیتے جی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں۔ کبھی الٹراساؤنڈ سے پتہ چلتا ہےکہ پیدا ہونے والی ذات بچی ہے تو حمل کو ضائع کروا دیتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ چار مہینے کے بعد جان بوجھ کر abortion کرانا قتل کے برابر ہے۔ اللہ چھوڑے گا نہیں‘پوچھے گا۔ میں صرف اشارے کر رہا ہوں‘ بہت ساری تفصیلات کل اعمال نامہ میںہمیں پیش ہوں گی۔ سب کچھ دکھایا جائے گا ۔سورۃ الزلزال میں ارشادِ ربانی ہے :
{ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ(۷) وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ(۸)}
’’توجس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن بھی کوئی نیکی کی ہو گی وہ اُسے دیکھ لے گا۔ اور جس کسی نے ذرّہ کے ہم وزن کوئی بدی کی ہو گی وہ بھی اُسے دیکھ لے گا۔‘‘
سورۃ الکہف میں فرمایا گیا:
{مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِ رُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰىہَاج} (آیت۴۹)
’’یہ کیسا اَعمال نامہ ہے؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو۔‘‘
آج ریکارڈنگ کو سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں ہے ۔ یہ کیمرہ لگا ہوا ہے ۔ جو چاہے اس گفتگو کو لائیو دیکھ لے ۔ ریکارڈ ہو جائے گا توبعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو گی تو slow کر کے اسے نکال دیا جاتاہے۔ پروگرام ایڈٹ ہو جاتا ہے ۔ ایڈیٹر کو پتہ ہے کہ کسی اور جگہ کیا کہا تھا‘وہاں سے اٹھا کر یہاں لگا دے گا ۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ انسان یہ کر رہا ہے تو رحمان کے لیے کیا مشکل ہے! آج ہم کیمروں سے ڈرتے ہیں‘ اللہ کہتا ہے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ ارشادِ ربانی ہے :
{وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ط} (الحدید:۴)
’’اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘
اور :
{وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَـیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (۱۶)} (قٓ)
’’اور ہم تو اُس سے اُس کی رَگِ جاںسے بھی زیادہ قریب ہیں۔‘‘
روزِ محشر کچھ لوگ جھوٹ بولنا چاہیں گے کہ ہم تو ایسے نہیں تھے ۔سورۃالانعام میں ہے کہ مشرکین کہیں گے:
{وَاللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ(۲۳)}
’’ اللہ کی قسم جو ہمارا ربّ ہے ‘ہم مشرک نہیں تھے!‘‘
اللہ تعالیٰ ان کے منہ بند کر دے گا ۔ سورئہ یٰس میں فرمایا گیا:
{اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ(۶۵)}
’’آج ہم اُن کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور اُن کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور اُن کے پائوں گواہی دیں گے اُس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔‘‘
سورۃ النور میں ایک جگہ آتا ہے زبان اللہ کے حکم سے بولے گی۔ جھوٹ بولنا چاہیں گے تو اللہ زبان بند کر دے گا ۔ سورۃحٰم السجدۃ میں آتا ہےکہ بندے اپنے اعضاء سے پوچھیں گے:
{لِمَ شَہِدْتُّمْ عَلَیْنَاط } (آیت۲۱) ’’تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی؟ ‘‘
{قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْ ئٍ }
’’وہ کہیں گی کہ ہمیں بھی اُس اللہ نے بولنے کی صلاحیت عطا کر دی ہے جس نے ہر شے کو قوتِ گویائی عطا کی ہے ۔‘‘
انسانی جسم کے چھ اعضاء کی گواہی ہو گی: ہاتھ کی گواہی‘ پیر کی گواہی ‘زبان کی گواہی ‘آنکھ کی گواہی‘ کان کی گواہی ‘کھال کی گواہی ۔میرا ہاتھ اللہ کی امانت ہے۔ میری آنکھ اللہ کی امانت ہے۔ میری زبان اللہ کی امانت ہے ۔ اس کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دعا سکھائی۔ فرمایا: عائشہ دعا کیا کرو: اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا ’’اے اللہ! میرے حساب کو آسان کر دے۔‘‘اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! یہ آسان حساب کیا ہے؟ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ اللہ کسی کا نامہ اعمال نہ کھولے اور نہ پوچھے۔ جس کا کھل گیا اور اللہ نے پوچھ لیا ‘ وہ مارا گیا۔ دنیا میں کسی کمپنی میں گڑبڑ ہوتی ہے توایک آفیسر کو بٹھاتے ہیں۔ وہ چار سوال کرے تو ملزم ڈھیر ہو جاتا ہے۔ بڑا مسئلہ ہو تو نیب والے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ چارسوال کرتے ہیں‘ بندہ سیدھا ہو کر جواب دے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کون بحث کرسکے گا!
اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’عائشہ! تین جگہ کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا۔ جب نامہ اعمال دیا جائے گا‘ جب اعمال کو تولا جائے گا‘ جب الصراط سے گزارا جائے گا۔‘‘ الصراط جہنم کے اوپر بڑا تنگ راستہ ہے۔ اس کی تفاصیل احادیث میں آتی ہیں کہ وہاں اندھیرا ہے اور وہی گزر سکےگا جس کے پاس نور یعنی روشنی ہو گی۔ وہ روشنی دنیا میں ایمان اور نیک اعمال کانور ہے۔ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ} (الحدید:۱۲)
’’ ان کا نُور دوڑتا ہو گا اُن کے سامنے اور اُن کے داہنی طرف‘‘
دائیں طرف سے مراد نیک اعمال کا نور ہے جبکہ سامنے سے مراد دل میں ایمان کا نور ہے ۔ یہ روشنی کسی کے پاس کم ہوگی‘ کسی کے پاس زیادہ۔ یہ روشنی دنیا میں تلاش کرنی ہے۔ جس نے آج دنیا میں تیاری کی ‘کل وہ اندھیرے کے اندر روشنی پائے گا اور الصراط سے گزر جائے گا۔ منافقین ایمان والوں سے کہیں گے:
{ انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ ج } (آیت۱۳)
’’ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اُٹھا لیں۔ ‘‘
{قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَکُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًاط }
’’کہا جائے گا:لوٹ جائو پیچھے کی طرف اور تلاش کرو نُور!‘‘
جاؤ پیچھے دفع ہو جاؤ! وہاں پر جا کر تلاش کرو۔ جانے کا موقع نہیں ہوگا مگر یہ ان کی ذلت اور رسوائی کے لیے کہا جائے گا۔ عمل کا موقع تو دنیا میں تھا۔ آخرت میں تو نتیجے ہیں۔ جس کو آخرت میں نور چاہیے‘ وہ دنیا میں تلاش کرے۔ایک ہی چانس ہے۔ ہمارے بچوں کے امتحانات کی طرح نہیں کہ ایک سمسٹر میں فیل ہو گئے تو اگلے سمسٹر میں پاس ہو جائیں گے۔ ایک مرتبہ اللہ نے زندگی دی ہے تو الصراط سے گزرنے کے لیے آج ایمان کا نور اور نیک اعمال کا نور تیار کرنا ہے۔ اس کے بعد الصراط سے گزرتے ہوئے اہل جہنم وہیں گرا دیے جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے!اہل جنت وہاں سے گزار کر جنت میں پہنچا دیے جائیں گے ۔
دو تہائی قرآن حکیم مکی سورتوں پر مشتمل ہے‘ جن میں آخرت کا بہت کثرت سے بیان ہے۔ جنت کا بھی اور جہنم کا بھی ۔اللہ کے رسولﷺ جو خطائوں سے پاک ہیں‘ معصوم ہیں‘ بخشے بخشائے ہیں‘ جن کی شفاعت کی ہم اللہ سے التجا کرتے ہیں اور امید بھی رکھتے ہیں‘ وہ نماز کے بعد کے اذکار میں یہ دعا فرماتے ہیں:
اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ! اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ! اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ!
’’اے اللہ! مجھے آگ سے بچا لے ۔اے اللہ! مجھے آگ سے بچا لے۔ اے اللہ! مجھے آگ سے بچا لے۔ ‘‘
وہ معصوم ہو کر روزانہ صبح سات مرتبہ دعا کرتے ہیں ‘شام میں عصر کے بعد کے اذکار میں دعا کرتے ہیں۔ رات میں تہجد میں دعا کرتے ہیں :
وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ ’’اے اللہ! جنت بھی حق ہے۔ اے اللہ! جہنم بھی حق ہے۔ ‘‘
یہ اللہ کے رسولﷺ کا معمول تھا ۔میں اور آپ تنہائی میں اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کی دعا پورے شعور کے ساتھ اللہ سے روزانہ کتنی مرتبہ کرتے ہیں؟یہاں شدید گرمی ہے۔ ننگے پیر چلیں تو تپش اس قدر لگے کہ کھوپڑی کھول جائے ۔جہنم کا عالم کیا ہوگا ‘اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا صرف ایک حصہ ہے‘ جب کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ۶۹ گنا زیادہ شدید ہے۔‘‘ ۶۹ فی صد نہیں بلکہ ۶۹ گنا۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا:
{کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط اِنَّ اللہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا(۵۶)}
’’جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم اُن کو دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔ یقیناً اللہ زبردست ہے‘ کمالِ حکمت والا ہے ۔‘‘
بار بار ان کو نئی کھال دیں گے تاکہ وہ جلنے کے عذاب کو مستقل چکھیں۔ان کے اوپر بھی آگ ہو گی‘ نیچے بھی آگ ہو گی۔ آگ کے ستونوں پر ان کو باندھ کر عذاب دیا جائے گا ۔کھولتا پانی سروں پر سے بہایا جائے گا ۔کانٹے دار گھاس ان کو کھانے کو ملے گی۔جہنمیوں کے زخموں کا پیپ ان کو پینا پڑے گا ۔لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کو مارا جائے گا۔ یہ قرآن کی آیات میں ہے لکھا ہوا سب کچھ۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ کم ترین عذاب جہنم میں یہ ہے کہ ایک شخص کو انگاروں کی بنی ہوئی جوتیاں پہنائی جائیں گی‘ جس کے تسمے بھی انگاروں کے ہوں گے۔ وہ پہنے گا تو اس کا وجود کھولے گا۔ اس کی کھوپڑی اس طرح کھولے گی جیسے چولہے پر ہنڈیا کھولتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ یہ جہنم کا سب سے بڑا عذاب ہے‘ حالانکہ یہ جہنم کا کم ترین عذاب ہوگا۔
اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ! اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ! اَللّٰہُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ !
نہیں بتائی جاتیں یہ باتیں۔ عام طور پر یہ حقیقتیں سننے کو نہیں ملتیں جواللہ اور اس کے رسولﷺ نے بیان فرمائیں۔ یہ اللہ کے وعدے ہیں جو سچے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
{ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیْلًا(۱۲۲)} (النساء)
’’ اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا ہو سکتا ہے؟‘‘
اور:
{وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا(۸۷)} (النساء)
’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنی بات میں سچا کون ہو گا؟‘‘
ایک مرتبہ اماں عائشہؓ روئیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے پوچھا: عائشہ! کیوں روتی ہو؟میری اور آپ کی ماں نے یہ نہیں کہا کہ حجرہ چھوٹا ہے‘ یا ہمارے گھر میں مال کی فراوانی نہیں ہے‘ یا دو دو مہینے ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلتا ۔عرض کی: ’’اللہ کی جہنم کے خوف نے مجھے رُلا دیا۔‘‘ آج ہم بھی روتے ہیں‘ لیکن کن باتوں پر! آئی فون کا نیا ورژن نہیں ملا ۔فلاں بڑے اسکول میں میرے بچے کا ایڈمیشن نہ ہوا ۔ ایک کروڑ روپیہ لگا دیا بچے کی شادی پراور پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ بس گزارا کر رہے ہیں ۔ اس قدر ناشکری ہے۔ کبھی جہنم کی آگ بھی مجھے اور آپ کو رلاتی ہے؟ اُمّت کی ماں کو تو اس پر رونا آیا۔ اللہ کے رسولﷺ روتے ہیں رات کو کھڑے ہو کر۔ جو بخشے بخشائے ہیں ‘ وہ ایسے روتے ہیں کہ سینے سے اس طرح آواز آتی جیسے ہانڈی کھول رہی ہو چولہے کے اوپر۔اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کا یقین دے۔ یقین ہوگا ‘ڈر ہوگا تو اس سے بچنے کی کوشش ہو گی۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں ۔ قرآن ہماری بھلائی کے لیے ڈراتا ہے۔
دوسرا نتیجہ جنت کی صورت میں ہے۔ جہاں جہاں اللہ ڈراتا ہے‘ وہاں وہاں جنت کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے جتنا جہنم کے عذابوں سے ڈرایا‘اس سے بڑھ کر جنت کی نعمتوں کا شوق دلایا۔قرآن کریم میں جا بجا ‘بار بار جنت کا ذکر آتا ہے۔ پڑھیں تو سہی ۔ قرآن ہمیں جنت کی نہروں کا نظارہ کراتا ہے۔ سورئہ محمد میں چار نہروں کا ذکر ہے: صاف شفاف پانی کی نہر ‘صاف شفاف دودھ کی نہر ‘صاف شفاف شہد کی نہر اور پاکیزہ شراب کی نہر۔ ۲۹ ویں پارے کے آخر میں سورۃ الدھر میں جنت کے پاکیزہ مشروب کے فلیورز کاذکر کیاگیا ہے۔ ہر جنتی ایک بادشاہ کی طرح ہو گا۔ جنتیوں کو سونے اورچاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے‘ کیوں کہ قدیم دور میں بادشاہ کنگن پہنتے تھے۔ قرآن ذکر کرتا ہے جنت کے محلات کا۔ بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے‘ اللہ تعالیٰ کا کلام اللہ کے رسولﷺ نے نقل فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جنت میں وہ کچھ تیار کیا ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھا نہیں‘ کسی کان نے کبھی سنا نہیں‘ کسی کے دل میں کبھی اس کا خیال تک نہیں آیا ہو گا۔‘‘ وہاں اللہ تعالیٰ میزبان ہو گا۔تصور کریں کہ اللہ کے مہمان کے اکرام کا کیا عالم ہو گا! جب فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بچھڑے کا گوشت پیش کیا تھا ۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا رب آج بھی جنت میں بچھڑوں کو چرا رہا ہے ۔جنتی پہنچیں گے تو ان جنتی بچھڑوں کا گوشت اللہ تعالیٰ ان کو پیش کرے گا ۔اللّٰہ اکبر کبیرا ! اللہ کے رسولﷺ نے کھول کھول کر یہ باتیں بتائیں۔
ایک بوڑھی عورت نے رسول اکرمﷺ سے کہا: میرے لیے دعا کیجیے میں جنت میں چلی جائوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہ جائے گی۔ وہ رونے لگی تو فرمایا: بوڑھی کو اللہ جوان کر کے داخل کرے گا۔سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق‘ جنت والوں کی عمر ۳۳ سال ہو گی۔ خوب بھرپور جوانی ۔ کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔ ہمیشہ زندہ رہیں گے‘ کبھی موت نہیں آئے گی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:ہمیشہ صحت مند رہیں گے‘ کبھی بیماری نہیں آئے گی۔ ہمیشہ خوش حال رہیں گے‘ کبھی مفلسی کا معاملہ نہیں آئے گا۔ مسلم شریف کی روایت ہے‘ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: آخری بندہ جو اپنی سزا بھگتنے کے بعد جہنم سے نکال کر جنت میں ڈالا جائے گا‘ اس بندے کی جنت ہماری اس دنیا سے دس گنا بڑی ہوگی۔ آخری جنتی کی جنت اس دنیا سے دس گنا بڑی ہوگی تو پہلے والوں کا عالم کیا ہوگا! مقربین کی جنت کا عالم کیا ہوگا! انبیاء کی جنت کا عالم کیا ہوگا! رسول اللہ ﷺکی جنت کا عالم کیا ہوگا !کسی سے پوچھا گیا: جنت میں ایسا کیا ہے جس کا شوق ہو؟کہا گیا:جنت میں رسول اللہﷺ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ جنت والوں کو سب کچھ عطا کر دے گا۔ دوسری بات‘ اللہ اپنی رضا کا اعلان فرمائے گا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ(۲۷) ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً(۲۸) فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ(۲۹) وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(۳۰)}
’’اے نفسِ مُطمئنّہ! اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اِس حال میں کہ تم اُس سے راضی‘ وہ تم سے راضی! پس داخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں‘اور داخل ہو جائو میری جنّت میں!‘‘
تیسری اور آخری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ حجاب کو ہٹائے گا۔ اللہ پردہ ہٹا دے گا اور اپنا دیدار کرائے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’جیسے تم چودھویں کے چاند کی شان کو دیکھتے ہو‘ اپنے رب کا دیدار کرو گے۔‘‘ آج رب کو بن دیکھے نماز میں کھڑے ہو گئے‘ بن دیکھے لبیک پکارنا شروع ہو گئے‘ بن دیکھے فقیرانہ لباس پہن لیا‘ بن دیکھے طواف کے چکر لگ رہے ہیں۔ جس اللہ کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘ آخری بات یہ کہ اللہ اپنا دیدار کرائے گا۔ اپنے دل سے پوچھیں: اللہ سے ملنا چاہتے ہیں؟ اللہ کا دیدار چاہتے ہیں؟
ہم نے بات شروع کی تھی موت سے۔ میں اپنے آپ سے پوچھوں‘ آپ اپنے آپ سے پوچھیں: ہم مرنے کو تیار ہیں؟ اللہ تعالیٰ سے ملاقات میں موت رکاوٹ ہے۔ مومن موت سے نہیں ڈرتا بلکہ ہر وقت تیار رہتا ہے۔ کیا ہم واقعی مرنے کو تیار ہیں؟ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہمارا مقصودِ اوّل ‘ مطلوبِ اوّل‘ محبوبِ اوّل ہے؟ کیا اللہ ہماری ترجیحات میں پہلے نمبر پر ہے؟ کیا ہم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہیں؟ کیا ہم واقعی اللہ کو چاہتے ہیں؟ حج کے بعد ہمارے ارادے کیا ہیں؟ حج کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی؟ حج کے بعد اعمال کیسے ہوں گے؟ حج کے بعد معاملات کیسے ہوں گے؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنی رضا عطا فرمائے! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا دیدار عطا فرمائے!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026