حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں!ایوب بیگ مرزا
ایران اسرائیل جنگ سے دنیا کے کم و بیش تمام ممالک بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ سٹاک مارکیٹیں کریش کر رہی ہیں‘ سرمایہ کاری کو دھچکا لگا ہے۔ تمام ممالک جنگ کی وجہ سے ہونے والے معاشی نقصانات سے نکلنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ تیل صنعت کے پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر انحصار اسی تیل پر ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس جنگ نے معیشت کی شہ رگ پر پاؤں رکھ دیا ہے ‘جس سے اس کا دم گھٹنے لگا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اپنی اپنی حکومتوں کو اس مصیبت سے نجات پانے یا اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شب و روز مشورے دے رہے ہیں۔ یورپ میں حکومتیں سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اور اپنوں ‘بیگانوں سب سے تعاون حاصل کر رہی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف ممالک میں حکومتیں اور اپوزیشن صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اختلافات کو بھی ایک طرف رکھ کر نئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے یک جان ہوتی نظر آرہی ہیں۔ بھارت میں سیاسی اختلافات اگر کم نہیں ہوئے تو کچھ بڑھے بھی نہیں۔ بھارتی حکومت پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کر کے اپنی صنعت اور زراعت متاثر ہونے سے بچانے کے لیے سرگرداں ہے۔
دنیا بھر میں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان شاید واحد ملک ہے جس کی معیشت پہلے ہی ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر چل رہی تھی‘ اب اس جنگ کی وجہ سے حالت ِنزع میں ہے‘ یہاں تک کہ سالانہ بجٹ کے لیے روز نئی تاریخ دی جا رہی ہے۔ حکومت بےچاری کبھی آئی ایم ایف اور کبھی عوام کی طرف دیکھتی ہے ۔’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ کی کیفیت ہے۔ اس سب کے باوجود حکومت نہایت ’’ بہادری اور جرأت‘‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔جس پاکستان کو پہلے ہی سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے‘ حکومت اور عوام میں بُعد المشرقین ہے‘ عوام حکومتی کارندوں اور وزیروں مشیروں کا نام سننے اور دیکھنے کے روادار نہیں‘ قوت اور جبر سے پہلے ان کو حکومت سازی سے لا تعلق کر دیا گیااور پھر’’ پیکا‘‘ جیسے کالے قوانین بنا کر میڈیا کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور منہ پر ٹیپ لگا دی۔ اس صورت حال نے ساری قوم کو حبس بے جا کی کیفیت سے دوچار کر رکھا تھا۔ایسے اقدامات کرنے کی بجائے کہ مفاہمت کی فضا پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی میں کمی آئے‘ تیر و تفنگ سے کام لیتے ہوئے سیاسی جنگ و جدل کو ہوا دی جا رہی ہے۔ پہلے گلگت بلتستان کے الیکشن میں عوامی رائے عامہ کوبُری طرح کچل دیا گیا۔ پھر وہ کشمیر جسے ہم اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں‘ اس پر تیز دھار آلہ رکھ دیا گیا جس سے حقیقت میں پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ کو حقیقت میں حبس بےجا میں رکھا ہوا ہے۔ اس پر ۳۰۰ سے زائد مقدمات دائر ہیں‘ جن میں سے کوئی ایک بھی ثابت نہیں ہو رہا۔ گویا ایران اسرائیل جنگ تو پاکستان کی صرف معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہےجبکہ گلگت بلتستان میں عوامی مینڈیٹ کی توہین‘ کشمیر میں عوام کی جکڑ بندی اور منہ زور قوت کے استعمال‘ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کو کارنر کرنے کے طرزِ عمل نے بڑا بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں‘ بلوچستان میں بی ایل اے کی کھلی بغاوت اور دہشت گردی کی کارروائیوں نے ریاست کے وجود پر خطرے کا بڑا نشان لگا دیا ہے۔
جہاں تک ایران اسرائیل جنگ کا تعلق ہے ‘ راقم پہلے ہی مختلف مواقع پر عرض کر چکا ہےکہ ۱۸۸۷ء کے پروٹوکولز کے بطن سے جنم لینے والے صہیونیوں کے گروہ نے عالمی سطح پر اپنی مکمل بالا دستی کا ایک پروگرام وضع کیا۔ اسرائیل کا قیام اور پھر گریٹر اسرائیل کی شکل میں اس کی توسیع اسی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس کو عملی شکل دینے کے لیے پہلے یہودی سرمائے کے زور پر امریکی تجارت اور صنعت میں قدم جمائے گئے۔ پھر میڈیا پر قبضہ کر کے اپنے خیالات اور نظریات دنیا بھر خاص طور پر امریکہ اور یورپ میں انجیکٹ کرنے شروع کیے۔ وہاں کی حکومتوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں یہودیوں کے مفاد میں استعمال کرنا شروع کیا۔ ہولوکاسٹ کا ڈھنڈورا پیٹ کر کئی دہائیوں سے دنیا کی مظلوم ترین قوم بنے ہوئے تھے جبکہ حقیقت میں وہ مظلوم نہیں بلکہ ظالم ہیں۔ غزہ کی جنگ میں انہوں نے جو انسانیت سوز ظلم کیے ‘ جبرو تشدد کی جو نئی تاریخ رقم کی اور بچوں‘ عورتوں ‘بوڑھوں کو جس طرح سر بازار ذبح کیا‘یہ درندگی اپنی مثال آپ ہے۔ ہسپتالوں پر بمباری کر کے مریضوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اسرائیل امریکہ پر اس قدر حاوی ہو گیا کہ راقم کو ایک موقع پر کہنا پڑا کہ امریکہ کو اگر واشنگٹن یا تل ابیب میں سے کسی ایک کا تحفظ کرنا ہوگا تو وہ تل ابیب کے دفاع کو ترجیح دے گا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں امیدوار ری پبلکن ہو یا ڈیموکریٹ‘ اسے اسرائیل سے این او سی لینا پڑتا ہے۔ ہر امیدوار اپنی انتخابی مہم میں یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے کہ وہ امریکہ کا صدر بن کر اسرائیل کے مفادات کا زیادہ تحفظ کرے گا۔ صدر نکسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیسویں صدی میں امریکہ کا بہترین صدر تھا جس نے اپنے ملک کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نکسن بھولے سے فلسطینیوں کے حق میں بیان دے بیٹھا ۔ یہودیوں نے اس کا وہ حشر کیا کہ واٹر گیٹ سکینڈل بنا کر کانگرس سے مواخذہ کروا دیا۔دُنیا نے دیکھا کہ جب نکسن وائٹ ہاؤس سے نکلا تو اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔ صدر کلنٹن کو بھی اپنے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور کیا۔ یہی حال یورپ کے کئی حکمرانوں کا ہوا۔دراصل امریکی اکانومی اور میڈیا پر صہیونی قبضہ جما چکے ہیں۔اسرائیل پچھلے چند امریکی صدور کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دے رہا تھا‘ لیکن وہ ٹال مٹول کر رہے تھے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے انتخابات سے پہلے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا‘جس میں سب کچھ طے ہوا۔تب صہیونیوں نے انتخابات میں اس کی مدد کی اور امریکہ کا صدر بنا دیا۔ شنید یہ ہے کہ اسی دورے میں صدر ٹرمپ سے یہ یقین دہانی بھی لے لی گئی تھی کہ وہ ایران پر حملہ کرے گا۔ موجودہ جنگ کی صورت میں وہی وعدہ وفا کیا جا رہا ہے۔ گویا اسرائیل نے اپنے مفاد میں اور ٹرمپ نے صدر بننے کے لالچ میں دنیا کو اس جنگ میں دھکیل دیا جس کو آج سب بھگت رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل سیز فائر کے جھانسے کو بالآخر ختم کر کے ایران پر دوبارہ حملہ آور ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دورانِ مذاکرات ایران سے سیز فائر قائم رکھنے کی ایک شرط یہ عائد کردی کہ مسلمان ممالک ابراہیم معاہدے پر دستخط کریں گے۔ سعودی عرب اور پاکستان کا خاص طور پر نام لیا کہ یہ دونوں اس کا لازمی حصہ بنیں۔ راقم کی رائے میں اصلی بات یہ تھی کہ صدر ٹرمپ کو یہ خطرہ محسوس ہوا تھا کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کا جو ڈرامہ رچا رہے ہیں‘ کہیں مسلم ممالک ایران سے ساری شرائط منوا کر جنگ کے مستقل خاتمے پر راضی نہ کر لیں۔ یوں اسرائیل جنگ کے ذریعے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے‘ وہ حاصل نہ ہو سکیں گے۔ لہٰذا ایسی شرط نتھی کر دو جس پر ایران کے لیے عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ جنگ پورے زور شور سے دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ دنیا پر کیا گزرتی ہے۔
جنگ تو ایسی مصیبت ہے جو باقی دنیا کے ساتھ پاکستان بھی بھگت رہا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے داخلی سطح پر کچھ اضافی مسائل خود بھی کھڑے کر لیے ہیں‘ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بھارت پاکستان کے ساتھ ایک عرصے سے خوا مخواہ کے جھگڑے میں ملوث ہے۔ ان میں سے ایک گلگت بلتستان ہے۔ چند روز قبل وہاں انتخابات کروائے گئے جن میں حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) نے تو زور شور سے حصہ لیا لیکن تحریک انصاف کے لیے جی بی کو’’ نو گو ایریا‘‘ بنا دیا گیا ۔ان کے لیڈروں کو وہاں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ انہیں فروری ۲۰۲۴ء کے انتخابات کی طرح کوئی انتخابی نشان الاٹ نہ کیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے مختلف نشانوں سے انتخابات میں حصہ لیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود ان کی جماعت زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی لیکن پی پی کو سب سے زیادہ سیٹیں دے دی گئیں۔یہ کوئی معمولی اورچھوٹی بات نہیں ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جس کے بارے میں بھارت اگرچہ غلط طور پر ہی سہی‘ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اُس کا حصہ ہے‘اگر عوام کے حقیقی نمائندوں کو قبول نہیں کیا جائے گا تو اس سے خود پاکستان کی پوزیشن خراب ہو گی ۔
پھر یہ کہ کون نہیں جانتا کہ کشمیر ایک بڑا نازک مسئلہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل تنازع ہے۔یہ کئی مرتبہ دونوں ممالک کو جنگ کی طرف لے جا چکا ہے۔ اس پس منظر میں کہ دُنیا ایران اسرائیل جنگ کے معاشی نتائج سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ‘ہم نے آزادکشمیر میں عوام سے ٹکرائو شروع کر دیا ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے حکومت کا طرزِ عمل ناقابل فہم ہے۔اِسے کا لعدم قرار دے دیا گیا ہے۔کالعدم قرار دینے سے ایک دن پہلے تک ان کے حکومت پاکستان سے مذاکرات چل رہے تھے لیکن مذاکرات کے ناکام ہوتے ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دہشت گرد ہو گئی۔ لہٰذا اب وہ ۲۷ جولائی کو کشمیر میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس پر کشمیری عوام کا انتہائی شدید رد عمل سامنے آیا۔ پھر سرکاری اہل کاروں کے ہاتھوں راولاکوٹ کے ایک شہری کی ہلاکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اب وہاں حالات مکمل طور پر بے قابو ہو چکے ہیں۔ کشمیری نوجوان لانگ مارچ کرتے ہوئے راولاکوٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پھر کشمیر کے دوسرے اطراف سے عوام مل کر مظفرآباد جمع ہوں گے۔ حکومت پاکستان میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر کے خبریں باہر نہیں آنے دے رہی اور حالات کے نارمل ہونے کا تاثر دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب میڈیا پر پابندی لگ جاتی ہیں تو افواہ سازی خوب کمال دکھاتی ہے جس سے ملک میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ پھر یہ کہ دنیا بھر کا میڈیا عوامی بے چینی اور حالات کی خرابی کی خبریں دے رہا ہے۔ کشمیر میں تو انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے لیکن کشمیری اس کا حل یہ نکال رہے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا کی سرحد پر پہنچ جاتے ہیں ‘جہاںانٹرنیٹ آسانی سے دستیاب ہے۔ وہاں سے جو پریشان کن بلکہ لرزہ خیز خبریں وہ دے رہے ہیں اس سے بڑی تشویش پھیل رہی ہے۔
بتایا یہ جا رہا ہے کہ اختلاف ان ۱۲ نشستوں پر ہے جو کشمیر سے باہر رہائش پذیر کشمیریوں کے لیے مختص ہیں۔ انہیں مہاجروں کی نشستیں کہا جاتا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ نشستیں ختم کر دی جائیں جبکہ حکومت پاکستان ایسا نہیں کرنا چاہتی۔ اس کا ایک حل یہ سامنے آیا ہے کہ ۲۷ جولائی کے انتخابات میں امیدوار کے بیلٹ پیپر کے ساتھ ووٹ دہندگان کو کہا جائے کہ ایک الگ ووٹ میں وہ ۱۲ نشستوں کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کر دیں۔ یہ ایک طرح کا عوامی ریفرنڈم ہو جائے گا۔ راقم کی رائے میں عوامی رائے کا مکمل احترام ہونا چاہیے اور کوئی شے زبردستی مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔ دعا ہے کہ جب کشمیر کے تمام اطراف سے عوام مظفرآباد پہنچیں تو معاملات خیر و عافیت سے طے ہو جائیں۔ کسی کا بھی خون نہ بہے۔ سرکاری اہل کار بھی مسلمان ہیں جو اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھی اپنے کشمیری بھائیوں پر مشتمل ہے۔
ہمارا ایک بیرونی مسئلہ افغانستان سے پھڈا ہے۔ ایک طرف افغان طالبان ہیں جو بدقسمتی سے بت پرست ہندو حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور دوسری طرف پاکستان ہے جو افغانستان کے حوالے سے کبھی strategic depth کا تصور رکھتا تھا اور اب اسے سرنگوں کرنے کا خواہش مند ہے۔ راقم کی رائے میں غلطی دونوں طرف کی نظر آتی ہے۔ پاکستان کو خارجی سطح پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور اسرائیل اپنی جنگ کو پاکستان کے صحن تک لے آیا ہے‘ لہٰذا دور اندیشی کا تقاضا یہی ہے کہ افغان طالبان کے حوالے سے برداشت کا مظاہرہ کیا جائے۔ ایک تو بہرحال وہ مسلمان بھائی ہیں ‘ دوسرے یہ کہ مصلحت اسی میں ہے کہ حکومت اتنے زیادہ محاذ نہ کھولے کہ کہیں بھی صحیح طور پر نمٹا نہ جا سکے۔
داخلی سطح پر ایک مسئلہ جو قریباً ساڑھے تین سال سے الجھا ہوا ہے ‘وہ حکومت اور تحریک انصاف کے شدید اختلافات ہیں۔ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں حکومت بھی قائم ہے جسے بار بار کی کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا یہ صوبہ افغانستان کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت پاکستان اپنی اس صوبائی حکومت سے بھی سوتیلا پن ختم نہیں کرتی اور افغان طالبان کی حکومت پر بمباری بھی کرتی ہے تو سوچنا ہوگا کہ کل کلاں اگر معاملات زیادہ بگڑ جاتے ہیں تو کیا حکومت پاکستان کو ان کے کسی قسم کے باہمی تعاون سے بہت بڑا نقصان تو نہیں اُٹھانا پڑے گا!لہٰذا فی الحال افہام وتفہیم سے کام لینے میں ہی ہماری بہتری ہے۔ مقتدر طبقات اس بات پر سنجیدگی سے غور کریں کہ ایک جماعت جو ملک کے طول وعرض میں پاپولر ہے‘ اس کی حمایت کے بغیر ملک کب تک چلایا جا سکے گا۔اِس حوالے سے کچھ اچھی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ ریاست افہام و تفہیم کے لیے کچھ مثبت اقدام کرتی نظر آرہی ہے۔ اللہ کرے کہ ذاتی مفادات کوتج کے اِس حوالے سے ایسے فیصلے کیے جائیں جن سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے۔
شریف اور زرداری جیسی تجربہ کار فیملیز کی حکومت پاکستان میں ہر سطح خاص طور پر معاشی سطح پر بری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔ راقم کی رائے میں کسی غیر مقبول حکومت کے ہوتے ہوئے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔ موجودہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی قرضے بہت بڑھ چکے ہیں۔ مقامی اور بیرونی بینکوں سے شارٹ ٹرم قرضے بہت بڑی شرح سود پر لیے گئے ہیں اور یہ بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہوش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی غریب اور مقروض ملک کی حکومت اگر عوام کی چنیدہ اور پسندیدہ نہیں ہے تو وہ غیروں کے سہارے خود کو قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ فری لنچ کا رواج دُنیا میں کہیں بھی نہیں ہے۔ چین بھی نرم خُو تو ہے لیکن گانٹھ کا بڑا پکا ہے ۔زبان نرم ‘عمل سخت۔ لہٰذا ایک ہی حل ہے کہ عوام اور حکومت کا بُعد ختم ہو۔ عوام کی چنیدہ اور پسندیدہ حکومت قائم کی جائے۔ اس حوالے سے انتہائی غیر جانب داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ پاکستان کے وجود ہی سے سب خیر و عافیت سے رہ سکیں گے۔
جہاں تک بلوچستان میں حالات کی خرابی کا تعلق ہے‘ حکومت کا حال یہ ہے کہ ایک وزیر کہتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے اور حالات کو بگاڑنے والے ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔ اس بیان کی جتنی مذمت کی جائے‘ کم ہے۔ حالات یہ ہیں کہ بی ایل اے جو ایک اعلانیہ پاکستان دشمن اور دہشت گرد تنظیم ہے‘ اس نے بلوچستان کے بعض علاقوں میں ناکے لگائے ہوئے ہیں اور ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ وفاقی یا صوبائی حکومت ان کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ خیبر پختون خوا میں کئی علاقے ہیں جہاں سرکاری اہل کاروں کو داخل ہونے میں بڑی دشواری ہوتی ہے۔
ہمارا عجب معاملہ ہے کہ اپنا آپ سنبھالا نہیں جا رہا ‘دنیا بھر میں صلح صفائی کے لیے زبردست سفارت کاری کر رہے ہیں۔ راقم کی رائے میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جن ممالک میں صلح صفائی کے لیے ہم سفارت کاری کر رہے ہیں ان میں ایک فریق پاکستان کی جان اور سلامتی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکہ کے بارے میں اس کے اپنے سپوت ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکہ کے دوست کو دشمن سے کہیں زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جب آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر سب سے بڑا جھوٹا انسان یعنی امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے تو راقم کا دل بیٹھ جاتا ہے اور ریاست پاکستان اور اس کے بعد ان کے لیے خیر و عافیت کی دعا کرتا ہے۔ ٹرمپ ایک ایسا انسان ہے جس کے بارے میں اخباری اطلاعات یہ ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں ۳۸ بار یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ اور ایران معاہدہ کے قریب پہنچ چکے ہیں ‘بس معمولی اختلاف ہے جو جلد رفع ہو جائے گا۔ پھر چند دن بعد گالیاں نکال کر حملہ کر دیتا ہے ۔شرم نام کی چیز اس کے پاس سے نہیں گزری۔ جب اس تحریر کا آغاز کیا گیا تھا تو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا زبردست اعلان تھا اور عملی طور پر کچھ حملے کیے بھی گئے۔اب جب یہ تحریر آخری مراحل میں ہے تو معاہدے کا اعلان ہو رہا ہے۔ ظاہری طور پر تو یوں لگتا ہے کہ یہ شخص سٹھیا گیا ہے۔ وہ دنیا کو بے وقوف بناتا ہے ۔اسے ہرگز اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی لغو باتوں سے امریکہ جیسی سپر پاور کا امیج اور حیثیت کس قدر متاثر ہوتی ہے۔ دنیا کے نزدیک امریکہ کے صدر کا منصب بری طرح عیاں ہوا ہے۔
تحریر یہاں تک پہنچی تھی کہ خبر آئی امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے اور وہ جنگ بند کر رہے ہیں۔ ظاہری طور پر تو یہ ایک اچھی خبر ہے لیکن تمام حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ eye wash معلوم ہوتی ہے۔ ٹرمپ امریکی عوام اور یورپ کو بتانا چاہتا ہے کہ وہ تو امن کا قائل ہے ۔ G7کی میٹنگ کے دوران سائیڈ لائن پر وہ عرب سربراہوں سے مل کر انہیں دوبارہ قابو کرنے کی کوشش کرے گا جو امریکہ کے ہاتھ سے نکلتے نظر آ رہے ہیں۔ اسرائیل کسی مفاہمتی فارمولے بلکہ اس کے لیے جاری کوششوں کی رتی بھر پروا نہیں کرے گا اور لبنان پر حملے جاری رکھے گا۔معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم اور وزراء اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں کہ ہم امریکہ کے غلام نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی عیاری بھی نظر آ رہی ہے کہ اسرائیل سے معاہدے پر دستخط نہیں کروائے گئے۔
اسی دوران حکومت نے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیاہے۔ گویا مہنگائی سے نیم بے ہوش عوام کے سر پر مزید ٹیکس لاد دیے گئے ہیں۔ بجٹ پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم خاص طور پر اس حوالے سے غور کر لیں کہ موجودہ حکومت کے آغاز میں کیا صورت حال تھی اور اب کیا ہے۔ ۲۰۲۲ء میں جب شہباز شریف وزیراعظم بنے تو پاکستان پر کل قرضہ۳۴ ہزار ارب تھا۔ جی ڈی پی ۰۲ ء۶ تھی‘ ڈالر ۷۴ء ۱۷۶ روپے کا تھا۔ یہ قرضہ چار سال میں ۸۵ ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔ قرضوں کی تاریخ اگر ۱۹۵۸ء سے شروع کی جائے تو ۲۰۲۲ء تک ۶۴ سال میں ۳۴ ہزار ارب یعنی دو ہزار ارب روپے سے معمولی زائد سالانہ اضافہ بنتا ہے۔ گزشتہ چار سال میں یعنی ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۶ء تک ۳۴ ہزار ارب سے ۸۵ ہزار ارب تک پہنچ گیا یعنی ۵۱ ہزار ارب بڑھ گیا ۔گویا سالانہ بڑھوتری ساڑھے ۱۲ ہزار ارب ہو گئی۔ ناقابلِ یقین حد تک اس قدر قرضہ بڑھنے کے باوجود نئی انڈسٹریز نہ لگ سکیں بلکہ کئی انڈسٹریز بند ہو گئیں۔ بہت سے سرمایہ کار دوسرے ممالک میں چلے گئے ۔ گویا حقیقت میں ترقی معکوس کا معاملہ ہے۔
ایس آئی ایف سی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا‘ جسے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ان چار سالوں میں ۳۰۰ غیر ملکی دورے کیے‘ یہاں تک کہ ان کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ وہ کبھی کبھی پاکستان کا دورہ بھی کرتے ہیں۔ ان دوروں پر بہت زیادہ زرِ مبادلہ خرچ ہوا‘ جس کی تفصیل حاصل نہیں ہو سکی ۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے نتیجہ میں ان کے پہلے سے موجود تین ارب ڈالر کے علاوہ پانچ ارب ڈالر بطور امانت پاکستان کے خزانے میں آ گئے۔ اس سے آئی ایم ایف کا ایک مطالبہ پورا ہو گیا کہ پاکستان کے خزانے میں اتنی رقم ہونی چاہیے۔ اس امانت پر ہم سعودی عرب کو چھ فیصد سالانہ سود ادا کرتے ہیں۔
یہ تھی پاکستان کی تباہ شدہ معاشی صورت حال! موجودہ بجٹ میں چند ایک اچھی باتیں بھی ہیں۔ مثلاً تنخواہ داروں پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کو کچھ ریلیف دیا گیا ہے۔ چھوٹے تاجروں پر فکس انکم ٹیکس لگا دیا گیا ہے تاکہ وہ ایف بی آر کی چیرہ دستیوں سے بچ سکیں۔ البتہ بحیثیت مجموعی یہ عام آدمی کے لیے ایک ڈرائونا اور خوف ناک بجٹ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وزیراعظم صاحب سے یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ۸۳۶۷ روپے آمدن والا آدمی غریب نہیں ہوتا۔ حقیقت میں بین الاقوامی مہاجن نے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں اور ہمیں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ پرانے زمانے کے مہاجن کا معاملہ یہ تھا کہ اگرچہ اس کی شرح سود زیادہ ہوتی تھی لیکن اسے اس امر سے کوئی غرض نہیں ہوتی تھی کہ مقروض قرض کی رقم کیسے اور کہاں خرچ کرے گا۔ یہ ماڈرن مہاجن لاٹھی لیے ہر وقت ہمارے سر پر کھڑا رہتا ہے اور ڈکٹیٹ کرتا ہے کہ قرض کی رقم کہاں خرچ ہو سکتی ہے اور کہاں نہیں۔پاکستان کا پٹرول کا ماہانہ بل ۲۷ء ۲ بلین ڈالر ہوتا ہے ۔ پٹرول سے فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے۔ چین نے اپنی پوری توجہ اس طرف مبذول کی ہوئی ہے کہ الیکٹرانک گاڑیاں اور ٹرک تیار کرے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسی گاڑیوں پر ٹیکس کم کیا جائے تاکہ پاکستان پٹرول کے اتنے بڑے بل میں زیادہ سے زیادہ کمی کر سکے‘ لیکن آئی ایم ایف نے الیکٹرانک وہیکلز پر ٹیکس کم کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے دشمن چین کو بھی فائدہ پہنچتا تھا۔ ہم نے ’’یس سر‘‘ کہہ کر یہ ٹیکس کم نہیں کیا ۔گویا ہم پٹرول کا بھاری بھرکم بل بھی ادا کرتے رہیں گے اور پاکستان کی فضاؤں کو آلودہ بھی کرتے رہیں گے۔ بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ مہنگائی بڑھنے کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھایا گیا ہے جس کی مخالفت نہیں کی جا سکتی‘ لیکن سیاسی عدم استحکام ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ بیکری کی اشیاء اور گھریلو استعمال کی اشیاء پر۱۸ فیصد جی ایس ٹی لگا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں بجٹ میں۱۵۰ ارب کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن میں انسانی بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی شامل ہیں مثلاً گھی‘ خوردنی تیل۔ یہ فہرست اتنی بڑی ہے کہ تحریر بہت طویل ہو جائے گی۔ اس سب کچھ کے باوجود حسب معمول حکومت کا دعویٰ ہے کہ غریب آدمی متاثر نہیں ہو گا۔ قصہ کوتاہ دہشت گردی‘ سیاسی عدم استحکام‘ کشمیر میں بڑھتی ہوئی عوامی تحریک‘ گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات پر ردعمل اور نہ جانے کتنے داخلی مسائل میں گھرے ہوئے پاکستان کے عوام کو اس بجٹ سے مزید تکلیف اور پریشانی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ مسائل اور مصائب کےانبار سے غالب کا یہ شعر زبان پر آ رہا ہے : ؎
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں!
اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف کرے‘ پاکستان پر رحم فرمائے اور ہمیں اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنے کی توفیق دے کہ ہماری زبوں حالی کے کیا اسباب ہیں!
(یہ تحریر ۱۶ جون۲۰۲۶ء کو اپنی حتمی شکل میں پہنچی۔)
tanzeemdigitallibrary.com © 2026