بدلتی عالمی صورتِ حال اور پاکستان کے پیچیدہ داخلی مسائل
ایوب بیگ مرزا
امریکہ اسرائیل ایران جنگ میں امن معاہدے تو بہت ہوئے‘ MOUs پر دستخط بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے سپیکر قالیباف نے کر دیے لیکن حقیقی امن ایک دن کے لیے بھی قائم نہ ہو سکا۔ عیاری یہ کی گئی کہ سیز فائر کی کسی بھی دستاویز پر اسرائیل کے دستخط حاصل نہ کیے گئے۔ اسرائیل لبنان پر مسلسل بمباری کر کے بے بس شہریوں کو شہید کر رہا ہے۔ ظاہر یہ کیا جاتا رہا کہ امریکہ تمام مذاکرات اور معاہدات میں اسرائیل کی نمائندگی کرتا ہے اور وہی اسے جنگ بندی پر مجبور کرے گا۔ اس حوالے سے امریکہ کی اسرائیل کو دھمکیاں اور فون پر ٹرمپ کی نیتن یاہو کو گالی گلوچ کا ذکر بھی میڈیا پر آتا ہے۔ راقم کا تاثر یہ ہے کہ یہ ڈراما بازی محض دنیا کو دکھانے کے لیے ہے‘ حقیقت میں دونوں متفق ہیں اور اُن کا ایجنڈا ایک ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست امریکہ اور اس کا صدر ٹرمپ اسرائیل کے آگے بے بس ہے۔ اسرائیل ہی۲۸ فروری کو امریکہ کو کھینچ کر جنگ میں لایا تھا‘ اب امریکہ اس دلدل میں پھنس چکا ہے اور اسرائیل اسے کسی صورت جنگ سے باہر نکلنے نہیں دے رہا۔
تاریخ کے اوراق اٹھائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ۱۸۹۷ء کے پروٹوکولز نے یہودیوں کے بطن سے صہیونیوں کو جنم دیا‘ جن کا روڈ میپ واضح ہے۔ علامہ اقبال نے جو کہا تھا: ع ’’فرنگ کی رگ ِجاں پنجہ یہود میں ہے ‘‘تویہ محض شعر و شاعری نہیں تھی بلکہ علامہ کی فکر انگیزی اور مستقبل کی دنیا پر ایک بےلاگ تبصرہ تھا۔ علامہ نے آنے والے وقت کے حوالے سے دنیا کو ایک آگاہی دی تھی۔ فرنگ کی رگِ جاں پر قبضہ کا نتیجہ تھا کہ بالفور ڈیکلریشن ہوا۔ فطرت نے برطانیہ کو فوری سزا یہ دی کہ یہی صہیونی عالمی طاقت کے مرکز کو برطانیہ سے اٹھا کر امریکہ لے گئے۔ تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقت کے مرکز کی امریکہ منتقلی ایک نتیجہ تھی جبکہ اس کا سبب دو عالمی جنگیں تھیں جو صہیونیوں نے یورپ میں کروائی تھیں۔ حقیقت میں برطانیہ یہ دونوں جنگیں جیت کر بھی ہار گیا تھا اور صہیونی اپنے لیے کھلا میدان پا لینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ تو اب ایک کھلا راز ہے کہ ان دونوں جنگوں میں صہیونی سرمایہ دونوں طرف استعمال ہو رہا تھا اور وہ جنگ کی آگ میں ایندھن ڈال رہے تھے۔ یورپ کو کمزور کر کے وہ وہاں اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ راقم چاہے گا کہ پہلے صہیونیوں کے مذکورہ روڈ میپ کی اپنے فہم کے مطابق نقاب کشائی کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسے صہیونیوں کی فطرت تو نہیں کہا جا سکتاالبتہ ان کی جبلت ایسی ہے کہ وہ سازش سے باز رہ ہی نہیں سکتے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سازش ان کے ڈی این اے میں ہے۔ اور تو اور ‘انہوں نے اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا! بالآخر اللہ نے یہودیوں کو ردّ کر دیا اور وہ اُمّت ِمسلمہ کے منصب سے معزول کر دیے گئے۔ البتہ کوئی غیر جانبدار تبصرہ نگار اُن کے ذہین و فطین اور محنتی ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔ ایک قوم کی حیثیت سے تاریخ میں ان پر عروج بھی آئے اور وہ زوال سے دوچار بھی ہوئے۔ اگر یہودیوں کی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی آسانی اور کافی حد تک صحیح انداز میں اخذ کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلسل ترقی اور کامیابی سے ہمکنار ہوتے رہتے ہیں لیکن ہر صدی میں ایک بار وہ بُری طرح زوال اور شکست و ریخت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اِن کی مثال سانپ اور سیڑھی کے کھیل کی مانند ہے۔ وہ تیزی سے سیڑھی چڑھتے ہوئے منزل کے قریب پہنچتے ہیں کہ ڈسے جاتے ہیں اور دھڑام سے نیچے آ گرتے ہیں۔ واللہ اعلم!
ان کی موجودہ سٹریٹجی یہ ہے کہ امریکی عسکری قوت کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے بھرپور استعمال کرو۔ امریکی سرپرستی میں انہوں نے غزہ میں درندگی کی جو مثالیں قائم کیں‘ تاریخ میں اس کی نظیر کم ہی ملے گی۔ بہرحال وہ غزہ کے۸۰ فیصد رقبہ پر قابض ہو چکے ہیں۔ بورڈ آف پیس کا وجود میں آنا ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی اس کا حصہ ہے۔ منصوبہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکہ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے پہلے ایران کو نیست و نابود کر دیا جائے (خدانخواستہ) ۔پھر خلیجی ریاستوں پر چڑھائی کی جائے اور انہیں اس حد تک تباہ و برباد کر دیا جائے کہ وہ کسی موقع پر بھی اسرائیل کے راستے میں حائل نہ ہو سکیں۔ انہیں اپنی بقا اسی میں نظر آئے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے کم از کم حکومتی سطح پر اس کے دست و بازو بن جائیں۔ پھر مسجد اقصٰی کو شہید کر کے اسرائیل تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرے۔ مسجد اقصٰی کی شہادت دنیا بھر خاص طور پر عرب عوام کو مشتعل کر سکتی ہے۔ چونکہ قوت کی بنیاد پر عرب ریاستوں کو پہلے ہی سرنگوں کیا جا چکا ہوگا‘لہٰذا ان کے سربراہ اپنے اقتدار کے تحفظ کی خاطر اپنے ہی عوام پر گولیاں چلائیں‘ انہیں شہید کریں اور اسرائیل کے مقاصد کی تکمیل ہو سکے۔ یہ تو ہے صہیونیوں کی وہ منصوبہ بندی جس پر اسرائیل مستقبل قریب میں عمل درآمد کرتا ہوانظر آتا ہے۔ یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہیے کہ اسرائیل اگرچہ امریکہ کی قوت کو استعمال کر کے اپنے بڑے بڑے کام نکلوانا چاہتا ہے لیکن اپنے اتنے بڑے محسن کو بھی ڈسنا چاہتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی صاف واضح ہو رہی ہے کہ امریکہ جب اس کی خاطر اتنی بڑی جنگ خود پر سوار کر لے گا تو منطقی طور پر وہ مالی اور عسکری طور پر کمزور پڑے گا۔ ایسے میں اسرائیل کے پاس سنہری موقع ہوگا کہ وہ امریکہ پر اپنا شکنجہ مزید مضبوط کرلے۔ امریکہ اسرائیل کا اور زیادہ محتاج ہوگا۔
راقم کو یہ عرض کر دینے میں بھی کوئی باک نہیں کہ اسرائیل اس جنگ کا دائرہ وسیع کر کے پاکستان کو بھی ملوث کرے گا ۔اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ خلیجی ریاستوں میں سے سعودی عرب سے پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہے اور اس میں واضح طور پر درج ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ قارئین کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اسرائیل ایک مدت سے پاکستان کو اپنا اولین دشمن قرار دیتا آیا ہے۔ اس کا کھلم کھلا اظہار اسرائیل کے سابق وزیراعظم بن گوریان نے پیرس میں ایک کانفرنس میں اس وقت کیا تھا جب وہ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں فتح کا جشن منا رہے تھے۔ اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ بیچارے عرب ہمارا کیا مقابلہ کریں گے‘ ہمارا اصل مقابلہ تو پاکستان سے ہوگا۔ یاد رہے کہ اُس وقت تک تو پاکستان ایٹمی قوت بھی نہیں تھا۔ راقم کی رائے میں ایران پر بھی حملہ اصل میں پاکستان کی طرف بڑھنے کے لیے پہلا قدم تھا‘ اس لیے کہ اب پاکستان ایٹمی قوت حاصل کر چکا ہے اور اسرائیل کے لیے خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایران لوہے کا چنا ثابت ہوا کہ وہ اسرائیل کے دانت توڑتا نظر آتا ہے۔ لہٰذا ایران سے نمٹے بغیر اسرائیل کبھی پاکستان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑی بے تابی سے امریکہ سے مطالبہ کر رہا ہے بلکہ اسے جھنجوڑ رہا ہے کہ وہ جلد از جلد کوئی بڑا حملہ کر کے یا غیر روایتی اسلحہ استعمال کر کے ایران کو ملیامیٹ کرے اور پھر اگلا قدم اٹھایا جائے۔ یعنی پاکستان کی طرف بڑھے جسے وہ ایک طویل عرصے سے اپنا اولین ‘اہم اور خطرناک ترین دشمن سمجھتا ہے۔ یہاں ضمناً یہ عرض کر دینا قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دینے کے حوالے سے کیا کچھ کر چکا ہے۔
خورشید محمود قصوری آن ریکارڈ ہیں کہ جب وہ وزیر خارجہ تھے تو پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں یہ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں کہ اسرائیلی بھارت کی مدد سے مقبوضہ کشمیر سے کہوٹہ پر پاکستان کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پھر یہ خبر ملی کہ آج رات ہی یہ حملہ ہوگا ۔تب پاکستان نے نصف شب کو سوئٹزرلینڈ‘ امریکہ اور دوسرے ممالک کو آگاہ کیا کہ اگر یہ ہوا تو ہم ایسا جواب دیں گے جس سے برصغیر تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اس پر سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے کہا کہ ہم صبح آپ کو اس کا جواب دیں گے‘ جس پر پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ برصغیر پر صبح طلوع نہ ہو۔ اگر آپ کچھ کر سکتے ہیں تو فوری طور پر کریں۔ چنانچہ اسرائیل اور بھارت کو اپنا پروگرام بدلنا پڑا۔
یہاں پاکستان کے ان عناصر کے لیے اہم اور مُسکت جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایٹمی دھماکا کر کے ہم نے خواہ مخواہ خود کو مصیبت میں پھنسا لیا ہے۔یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے بھارت اپنی افواج سرحدوں پر لے آیا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے۔ تب غلام اسحاق صدر تھے۔ انہوں نے امریکہ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ ہم بھارت کا روایتی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکتے‘ لہٰذا اگر بھارت نے ہم پر حملہ کیا تو ہماری طرف سے جنگ کا آغاز غیر روایتی اسلحے سے ہو گا۔ یعنی ہم ایٹمی حملہ کر کے جواب دیں گے۔اس وقت امریکہ کے وزیر خارجہ بیرون ملک دورے پر تھے۔ انہیں ایس او ایس کال پر امریکہ طلب کیا گیا اور پاکستان کے عزائم سے آگاہ کیا گیا۔ تب بھی جنگ رک گئی تھی۔ایٹمی صلاحیت کی اہمیت اور ضرورت سمجھنے کے لیے یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس وقت سے بھارت نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ پاکستان ایٹمی بلیک میلنگ کرتا ہے۔ ہیلری کلنٹن جب امریکہ کی وزیر خارجہ تھی تو اس نے کہا تھا کہ ہم نے ایک ریپڈ فورس بنائی ہے جو کسی وقت بھی آناً فانا ًاقدام کر کے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کر لے گی۔ دشمن کی ان کارروائیوں کا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان نے اپنی ایٹمی تنصیبات کو ملک بھر میں پھیلا دیا تاکہ کوئی چھاپہ مار قسم کی کارروائی ایک جگہ پر حملہ کر کے پاکستان کو ایٹمی تنصیبات سے محروم نہ کر دے‘ جیسے کہ امریکہ نے وینزویلا میں کارروائی کی ہے۔ یہاں یہ وضاحت فائدہ مند رہے گی کہ یوکرین نے اگر اپنے نام نہاد دوستوں کے کہنے پر ایٹمی صلاحیت ختم نہ کی ہوتی تو آج روس کو اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ قصہ مختصر ‘اسرائیل اپنے لیے یہ بھی مفید سمجھتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہودی دنیا میں بڑی قلیل تعداد میں ہیں‘ اگر کوئی بڑی جنگ دنیا میں آبادی کی کمی کا باعث بنتی ہے تو یہ یہودیوں کے عالمی قوت بننے کے لیے سازگار ہوگا۔ بہرحال اس سارے پلان کے پہلے مرحلے میں وہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں چاہے گا کہ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے اور تھرڈ ٹیمپل تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ یہ گریٹر اسرائیل کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔ یہ اسرائیل کا پلان ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ پون صدی سے وہ اپنے ٹارگٹ کی طرف کامیابی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
حالیہ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کی صورتحال دیکھ لیں۔ پہلے یورپ کے تمام بڑے ممالک کی حکومتیں اسرائیل کی مخالفت کر رہی تھیں۔ برطانیہ کی حکومت اس حوالے سے سرفہرست تھی۔ صہیونی سازشوں سے برطانیہ کی اس حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔وہاں کے وزیراعظم کو استعفاء دینا پڑا۔ فرانس بھی بہت بڑا مخالف تھا۔ وہاں سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ وہاں اگرچہ صدر میکرون طاقت کا مرکز ہیں لیکن بہرحال وزیراعظم وہاں بھی اپنے عہدہ برقرار نہیں رکھ سکا۔ اب مختلف یورپی حکومتوں کی طرف سے ایران کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے صہیونی بڑے پُراسرار طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف یہودیوں کی یہ سازشی چالیں اور دوسری طرف اُمّت ِ مسلمہ کا جوحال صحافی حسن نثار نے بیان کیا ہے ‘وہ ہم ’’نقل کفر کفر نباشد‘‘ کہہ کر نقل کر رہے ہیں۔وہ یہ کہ اگر اللہ نے اب ابابیل بھیجے تو وہ مسلمانوں کو کنکر ماریں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے وقت سے بچائے لیکن اُردو کی ضرب المثل ہے کہ بلی کو دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں بند کر لے تو وہ جان نہیں بچا سکتا۔ حقائق سے کتنی دیر آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں۔ اُمّت ِمسلمہ خاص طور پر اس کے حکمران غیروں کے مقاصد پورے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور راہ راست پر گامزن کردے۔ آمین! ہمیں یہودیوں کے عزائم اور اس حوالے سے ان کی کامیابیوں سے ہرگز ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ کی رسی تھام لی جائے۔ یہودی عیار ہیں‘ سازشی ہیں لیکن انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف تو انہیں مہلت دے رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم پر ذلت مسلط کر رہا ہے‘ وگرنہ اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
{اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (۸۲)} (یٰسین)
’’اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔‘‘
رہ گیا یہودیوں کا مکر تو اس کا بھی جواب دے دیا گیا:
{وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ ط وَاللہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ (۵۴)} (آل عمران)
’’اب انہوں نے بھی چالیں چلیں اور اللہ نے بھی چال چلی۔اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔‘‘
لہٰذا مسلمانوں کو گھبرانے یا ڈرنے کے بجائے اپنی نیت اور اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔
اُمّت ِمسلمہ میں پاکستان صرف ایٹمی قوت کا حامل ہونے اور مضبوط فوج رکھنے کی وجہ سے ہی اہم نہیں بلکہ دُنیاوی لحاظ سے بھی انتہائی خاص ہے۔ پاکستان کی اصل قوت جس سے دشمن خائف ہیں وہ اس کا ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہونا ہے۔ کسی نظریاتی ریاست کے پاس جب مضبوط فوج ہوگی تو کوئی عالمی قوت اس کو آنکھیں نہیں دکھا سکے گی۔ اس کے ساتھ تصادم سے پہلے ہزار بار سوچے گی۔البتہ اس وقت پاکستان کسمپرسی کی حالت میں ہے‘جس کی وجہ سے اس کے بہی خواہ بڑی تشویش میں مبتلا ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ قریباً چار سال پہلے جنرل باجوہ نے گن پوائنٹ پر عدم اعتماد کے ذریعے وقت کی حکومت تبدیل کر دی۔ یہ حقیقت میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ رجیم چینج تھا۔ افغانستان میں امریکہ کو شکست سے دوچار کر کے اس خطے سے نکالا گیا تھا۔ امریکہ نے اپنے پاؤں دوبارہ جمانے کے لیے اس وقت پاکستان کی حکومت سے تعاون چاہا اور اس مقصد کے لیے اڈے حاصل کرنے کی کوشش کی‘ جس پر اس کو منہ توڑ جواب ملا اور’’ Absolutely not ‘‘سننا پڑا۔ اس پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے کہا گیا جو کچھ کہا گیا‘اس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے:’’ موجودہ حکومت کو چلتا کرو تو تمہارے لیے مکمل معافی ہوگی۔‘‘ یہ بات پاکستان کے سفیر کو زبانی طور پر کہی گئی‘ جسے تحریر کی شکل دے کر حکومت پاکستان کو بھیج دیا گیا۔ اسے ’’سائفر ‘‘کا نام دیا گیا ۔وقت کے وزیراعظم نے اسے ایک جلسہ عام میں لہرا کر بات عوام کے سامنے رکھ دی۔ ظاہر ہے یہ سپر پاور کے لیے ناقابل قبول تھا۔ جنرل باجوہ اس میں پوری طرح ملوث تھے۔ بالآخر وقت کی حکومت کو چلتا کر دیاگیا۔ اس وقت کی اپوزیشن جو موجودہ حکومت ہے‘ نے سائفر کو سیاسی ڈراما قرار دیا۔ ایک بڑے صحافی نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر سائفرنامی کوئی شے ثابت ہو گئی تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ وقت نے ثابت کیا کہ سائفر ایک حقیقت تھی۔ بہرحال وہ بڑے صحافی ابھی تک کان لپیٹ کر صحافت کرتے چلے جا رہے ہیں۔ قصہ مختصر‘ اپوزیشن نے حکومت سنبھال لی اور پھر چین کی طرف بڑھتا ہوا پاکستان یکدم امریکہ کی گود میں جا گرا۔
نئی حکومت نے اپنا ایجنڈا یہ دیا کہ معیشت کو بحال کر کے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنایا جائے گا ‘مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کی عالمی تنہائی ختم کی جائے گی۔ بدقسمتی سے معیشت بدترین حالت پر پہنچ گئی اور مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ عوام جھولیاں اٹھا اٹھا کر موجودہ حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی قرضے گزشتہ پون صدی میں اتنے نہیں لیے گئے جتنے گزشتہ چار سالوں میں لیے جا چکے ہیں۔ان قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مارکیٹ سے انتہائی بلند شرح سود پر مزید قرض لیا جا رہا ہے جس سے معیشت پر بڑا دباؤ آ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی اور وزیراعظم کے بے تحاشا ‘پُرتعیش غیر ملکی دورے بھی بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے میں بری طرح ناکام رہے۔ بیرونی سرمایہ کاری ملک میں کیا آتی ‘بجلی اور گیس کے ہوش ربا نرخ کی وجہ سے پاکستان سے سرمایہ اور سرمایہ دار دونوں غیر ممالک منتقل ہو رہے ہیں جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے میں بھی ناکام ہوئی ہے۔لہٰذا معیشت کی تباہی ملکی سکیورٹی کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی خلیج کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف باپ اپنے بیٹے کو بغیر کفن کے دفنانے جاتا نظر آتا ہے اور دوسری طرف حکمران سیر و سیاحت کے لیے گیارہ ارب روپے کی خطیر رقم سے جہاز خرید رہے ہیں۔
پھر یہ کہ عدل و انصاف کا قیام جو کسی ملک کی سلامتی اور بقا کی بنیاد بنتا ہے‘وہ عنقا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے عالمی جنگ کے دوران لندن ہائی کورٹ کا دورہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ کی عدالتیں چونکہ عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیںلہٰذا ہم فتح یاب ہوں گے۔ پاکستان میں۲۶ ویں اور ۲۷ ویں آئینی ترمیم نے عدل کو جس طرح ملیا میٹ کیا ہے اس کی نظیر جدید دنیا میں بمشکل ملے گی۔ دنیا میں یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں عدل اپنی بینائی کھو چکا ہے۔ ملک کی اشرافیہ کے لیے قانون الگ ہے اور غریب بلکہ متوسط طبقہ کے لیے قانون الگ ۔ اس کی انتہائی قابل مذمت مثال حال ہی میں نظر آئی ہے۔ اسحاق ڈار جو طویل عرصے تک مسلم لیگ (نون) کی طرف سے پاکستان کے وزیر خزانہ رہے ہیں اور آج کل وزیر خارجہ ہونے کے ساتھ ڈپٹی پرائم منسٹر بھی ہیں‘ ان کے نواسے ۲۱ سالہ رضا ڈار نے دو غیر ملکی خواتین سے کئی کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ ان کے مطابق ان خواتین نے ان سے دھوکا کیا اور ان کی رقم ہڑپ کر گئیں۔ رضا ڈار اور ان کے ساتھیوں نے ان دو خواتین کو یہ کہہ کر پاکستان بلایا کہ ہم اس معاملے میں نہ صرف افہام و تفہیم کا معاملہ کرتے ہیں بلکہ مزید رقم بھی اس کاروبار میں انویسٹ کریں گے ۔جب یہ خواتین پاکستان آئیں تو انہیں اغوا کر کے کسی مقام پر لے جایا گیا جہاں رضا ڈار کے ساتھیوں نے جنسی ہراسگی کا معاملہ کیا۔ بعد ازاں انہیں کار میں کہیں اور لے جا رہے تھے کہ ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ان عورتوں کو شور مچا کر باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ اگرچہ بعد ازاں بعض ملزمان کا ڈی این اے بھی میچ کر گیا‘ لیکن ہم اس بات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ان سوالات پر لازمی طور پر بات کریں گے جو اس سانحہ کی وجہ سے اٹھے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم ایک طویل عرصے تک پاکستان کے وزیر خزانہ رہے ہیں اور عوام کو ٹیکس ادا کرنے کی نصیحتیں کرتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا موصوف کے ۲۱سالہ نواسے نے جو کئی کروڑ روپے ان خواتین کے ساتھ انویسٹ کیے تھے‘ ان کی کوئی منی ٹریل ایف بی آر کو فراہم کی گئی؟ کوئی مالی گوشوارے جمع کرائے گئے؟ ایسا کچھ ہوتا تو کھل کر بتایا جاتا۔ شنید ہے کہ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ان خواتین کے ساتھ مشترکہ کاروبار پہلے بیرون ملک ہوا تھا جس میں بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ ڈار فیملی کے مطابق درحقیقت ان دو خواتین نے بددیانتی کی تھی۔ ڈار صاحب نے انہیں معاملات طے کرنے کے لیے بلایا تھا۔ ان کے ویزے کے حوالے سے بھی ان کی مدد کی ۔سوال یہ ہے کہ اگر خالصتاً کاروباری معاملہ تھا تو انہیں اغوا کیوں کیا گیا اور ان سے درندگی کیوں ہوئی؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ جو ڈار صاحب کی قریبی رشتہ دار بھی ہیں ‘انہوں نے ایک عرصے سے یہ پالیسی اختیار کی ہوئی تھی کہ اگر پنجاب میں کسی عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کا مقدمہ درج ہوتا تو دوسرے ہی دن بغیر کسی تحقیق اور تصدیق کے پولیس مقابلے میں ملزمان مار دیے جاتے ہیں۔ سی سی ڈی کا محکمہ ایسے سینکڑوں واقعات کر چکا ہے۔ راقم اس طریق ِکار کے سخت خلاف ہے لیکن اس سانحہ کے حوالے سے نہ صرف سی سی ڈی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے بلکہ ایک ایس ایچ او جج کے گھر میں گھس گیا اور دھمکی دی کہ فوری طور پر ملزمان کو ضمانت دی جائے۔ جج نے انکار کر دیا۔ اگلے دن جج حضرات کی دھمکی پر اس ایس ایچ او کو گرفتار کر لیا گیا۔ شروع میں طاقتوروں کے ایماء پر مین سٹریم میڈیا میں اس سانحہ کا بہت ذکر ہوا جبکہ ان خواتین کو ایئرپورٹ سے واپس بلا کر ان سے۱۶۴ اے کے تحت بیانات حلفی لیے گئے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت یہ ناقابل ضمانت جرم ہے۔ پھر یہ کہ گینگ ریپ میںقانون صلح کی بھی اجازت نہیں دیتا۔لہٰذا کچھ ملزمان گرفتار ہیں لیکن صلح صفائی کا پس پردہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ خواتین کو ان کے ملک واپس بھیج دیا گیا ہے اور میڈیا کو اس پر بات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ راقم نے یہ واقعہ اس لیے تحریر کیا ہے کہ جس ریاست میں عدل کو یوں تماشا بنا دیا جائے کہ ایک ہی جرم کرنے پر کچھ ملزموں کو جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی گولیوں سے بھون ڈالا جائے جبکہ کچھ ملزموں کو بچانے کے لیے انتظامیہ خود میدان میں اتر آئے تو ایسی ریاست کا مستقبل کیا ہوگا؟ خاص طور پر ایسی ریاست جو اسلام کے بنیادی نظریے پر قائم ہوئی اور مملکت خداداد پاکستان کہلاتی ہے۔
یاد رہے ’’عدل‘‘ اسلام کا کیچ ورڈ ہے ‘عدل کے بغیر اسلام کا کوئی تصور نہیں ہے۔اسلام ایسا مذہب ہے جس میں ایک غیر مسلم شہری کی درخواست پر بھی قاضی خلیفۂ وقت کو عدالت میں طلب کرتا ہے۔ خلیفہ حاضر ہوتا ہے ۔عدالت دونوں سے یکساں سلوک کر کے عادلانہ فیصلہ سناتی ہے۔ لہٰذا یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ عدل ریاست کے عروج کا باعث بنتا ہے اور ظلم ریاست کی شکست و ریخت کا باعث بنتا ہے۔ آج اگر اسلام کا عادلانہ نظام عالمی سطح پر رائج ہو جائے تو دنیا میں جنگ و جدل ویسے ہی ختم ہو جائے!
اب آ جائیے موجودہ جنگ کی صورت حال کی طرف جو انتہائی شدت اختیار کر چکی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اب اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔ حقیقت میں ایران مجاہدانہ جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ امن کا خواہاں ہے لیکن دشمن کے عزائم کو سمجھتے ہوئے اس کے ہر وار کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہے بلکہ آگے بڑھ کر وار بھی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی ملک بھی ایران کی کھل کر مدد نہیں کر رہا ۔ مسلمان ممالک تو یہ سوچتے ہیں کہ یہ ساری مصیبت ان پر ایران کی وجہ سے آن پڑی ہے ‘اگر ایران کا خدانخواستہ خاتمہ ہو جائے تو امن قائم ہو جائے گا اور ہمارا اقتدار محفوظ ہو جائے گا۔
راقم کی رائے میں یہ دل فریبی اور خود فریبی ہے۔ یہ حقائق سے آنکھیں چرانا ہے۔ راقم کو یہ خطرہ ہے کہ اسلام دشمن قوتیں ایران کو ختم کر کے خلیجی ریاستوں کی طرف بڑھیں گی۔ اسرائیل ان کے بازو آزما چکا ہے‘ ان میں جان نہیں ۔وہ عیش و عشرت کے ایسے دلدادہ ہو چکے ہیں کہ اوّل تو مقابلہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتے۔ پھر ان کا سارا اسلحہ امریکہ اور یورپ کا دیا ہوا ہے جو کسی صورت کام نہیں آئے گا۔ مزید یہ کہ شاید ہی کسی مسلمان حکومت کو اپنے عوام کی حمایت حاصل ہو۔ ان کی حکومتیں امریکہ کی بیساکھیوں پر قائم ہیں۔ ظاہر ہے جب وقت آئے گا تو امریکہ یہ بیساکھیاں خود ہی توڑ دے گا۔ یہ ہر اُس ریاست کا انجام ہوا ہے ‘اور ہوگا ‘جو اپنے دفاع کے لیے دوسروں کی محتاج ہے۔ عرب ریاستیں جو اپنے دشمن کی محتاج ہیں ‘جنگ کے اگلے مرحلے میں کیسے بچ سکیں گی؟ غیر عرب ممالک میں پاکستان اور ترکیہ دو ایسے ملک ہیں جو اپنے دفاع کے لیے اسلام دشمن قوتوں کے محتاج نہیں۔ وہ کافی حد تک اسلحہ سازی میں خود کفیل ہیں۔ پھر ان کی افواج‘ ماشاءاللہ‘ بڑی پیشہ ورانہ اور مضبوط ہیں۔ یہاں دشمن کا سخت مقابلہ پیش آئے گا۔ البتہ راقم کو چونکہ ہر وقت زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بات کرنی ہے تو افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ پاکستان اور ترکی فوجی لحاظ سے تو مضبوط ہیں لیکن دونوں کی معاشی اور مالی حالت بہت پتلی ہے۔ اس صورتِ حال میں دونوں کے لیے امریکہ جیسے طاقتور ملک کا مقابلہ کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ راقم کی رائے میں اب بھی وقت ہے کہ دونوں ممالک خاص طور پر پاکستان ایک تو اپنی فضول خرچیاں ختم کر کے معاشی صورتِ حال کو بہتر بنا لے ‘اور دوسرا یہ کہ ملک میں عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ اندرونی مسائل حل کرے۔ اپنے مخالفین کو کارنر کرنے اور بے دست و پا کرنے کے بجائے تعاون کی فضا پیدا کرے۔ فکری سطح پر ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو کسی بھی دنیاوی طاقت کے لیے پاکستان کو آسانی سے دبوچ لینا ممکن نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سب کو‘ خاص طور پر حکمرانوں کو حالات کی سنگینی کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اپنی انا یا ذاتی اقتدار کے بجائے ملک و قوم کا تحفظ اپنی اولین ترجیح بنا لیں تو کچھ ناممکن نہیں۔ ہم آنے والی جنگ میں بفضلہ تعالیٰ سرخرو ہوں گے۔ ان شاءاللہ!