(تذکیر و موعظت) ھَاذِ مُ اللَّذَّات - اعجاز لطیف

10 /
ہَاذِمُ اللَّذَّات 
 اعجاز لطیف (نائب امیر ‘تنظیم اسلامی )
 
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے‘ باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں!
      (انشاء اللہ خان انشا)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَــبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸)} (الجمعۃ)
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تم سے ملاقات کر کے رہے گی‘ پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اُس ہستی کی طرف جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے‘ پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
((اَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ المَوْتِ)) (رواه الترمذى والنسائى وابن ماجه)
’’ لوگو! موت کو کثرت سے یاد کرو (اور یاد رکھو )جو دنیا کی لذتوں کو ختم کر دینے والی ہے۔‘‘
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ انسانی شعور کو جھنجھوڑتے ہوئےاعلان فرماتے ہیں:
{اَیْنَ مَا تَـکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَـوْکُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط} (النساء:۷۸)
’’تم جہاں کہیں بھی ہو‘ موت تمہیں آ لے گی‘ خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو!‘‘
یہاں مضبوط قلعوں کی مثال دے کر انسانی ٹیکنالوجی اور مادی تحفظ کے تصور کو پاش پاش کر دیا گیاہے۔آج کا انسان جدید میڈیکل سائنس ‘ بہترین سکیورٹی‘ انڈر گراؤنڈ بنکرز اور جدید اسلحے کے بل بوتے پر خود کو محفوظ سمجھتا ہے‘ لیکن موت وہ طاقت ہے جس کا راستہ کوئی دیوار نہیں روک سکتی۔ انسان کائنات کی وسعتوں میں کہیں بھی چھپ جائے ‘ موت اسے ڈھونڈ نکالے گی۔یہ خون کی گردش اور سانس کی لہروں کے اندر سے برآمد ہوتی ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دفاع موت کا نہیں بلکہ اس کے بعد آنے والے حالات کا ہونا چاہیے۔
اسی طرح سورۃلقمان میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: 
{ اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ط  وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ     بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۳۴)}  (لقمٰن)
’’ بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے‘ وہی بارش نازل کرتا ہے‘ اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہے۔ اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی‘ اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کس زمین میں مرے گی۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا‘ پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے‘ پل کی خبر نہیں
(حیرت الٰہ آبادی)
سورۃ العنکبوت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ قف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۵۷) }
’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے‘ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہے:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ط وَاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ(۳۵) }
’’ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘اور ہم آزماتے رہتے ہیں تم لوگوں کو شر اور خیر کے ذریعے سے ‘اور تم سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘
سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَـآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)}
’’ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘ اور تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا۔ پھر جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہی کامیاب ہوگیا۔ اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
کیا آپ نے سوچاہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ کیوں فرمایا ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ‘ یہ کیوں نہیں کہا کہ ہر ذی روح کو موت آنی ہے؟کیا آپ نے کبھی اس لفظ ’’ذائقہ‘‘جس کو انگریزی میں taste کہتے ہیں‘ پر غور کیا ؟
سائنس کہتی ہے کہ ہر انسان کے چکھنے کی حِس مختلف ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو کوئی چیز پسند نہیں‘ اس کو اس کا ذائقہ برا ہی لگے گا۔ جس طرح ہر چیز کا ذائقہ بنانے کے لیے کچھ اجزاء مخصوص ہوتے ہیں‘ اسی طرح ہر شخص کی موت کا ذائقہ اس کے اعمال کے مطابق ہوگا۔ یہ آپ کی موت ہے تو اس کا ذائقہ بھی آپ ہی کوچکھنا ہوگا۔ لہٰذا ابھی سے اپنے اعمال اور معاملات درست کرلیں تاکہ موت کا ذائقہ خوش گوار ہو۔سورۃ القصص میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
{کُلُّ شَیْ ئٍ  ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ط  لَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۸۸)}
’’ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔حکومت اُسی کی ہے‘ اور تم سب اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
 سورۃ الرحمٰن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ(۲۶)  وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (۲۷)}
’’زمین پر جو کوئی ہے سب فنا ہونے والا ہے۔اور آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی‘ جو بزرگی اور عزّت والی ہے۔‘‘
ہر نفس طوفان ہے‘ ہر سانس ہے اِک زلزلہ
موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ
مضطرب ہر چیز ہے‘ جنبش میں ہے ارض و سما
ان میں قائم ہے تو تیرے رب کے چہرے کی ضیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا!
(جوش ملیح آبادی)
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے مروی متذکرہ بالا حدیث کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
((اَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ))
’’لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔‘‘
حکایت ہے کہ کسی شخص کی حضرت عزرائیل  علیہ السلام  سے ملاقات ہوگئی۔اس نے ان سے کہا کہ آپ نے جب میرے پاس آنا ہو تو سال بھر پہلے بتادیں تاکہ موت کے لیے کچھ تیاری کرلوں۔ حضرت عزرائیل  علیہ السلام   نے وعدہ فرمالیا۔ پھر ایک روز اچانک فرمانِ الٰہی لے کر پہنچ گئے۔ حضرت عزرائیل  علیہ السلام   کو یوں سامنے دیکھ کر وہ شخص حیران رہ گیا۔ عرض کی :حضرت! آپ نے تو مجھے سال بھر پہلے بتانے کا وعدہ فرمایاتھا‘ لیکن اب آپ اچانک تشریف لے آئے؟ حضرت عزرائیل علیہ السلام   نے جواب دیا کہ اس سال کے دوران میں تمہارے فلاں فلاں عزیز ‘  فلاں فلاں رشتے دار ‘ فلاں فلاں دوست کے پاس آیا‘ اور یہی بتانے کے لیے آتا رہا کہ تم بھی تیاری کرلو ‘تمہارے پاس آنے ہی والا ہوں۔ میرا خیال تھا تم کافی عقل مند اور سمجھ دار ہو ‘سمجھ جاؤگے۔ اگر تم اتنے ہی احمق ہو اور بے وقوف تھے کہ سمجھ نہ سکے تو اس میں میرا کیا قصور!
موت کی یاد : زنگ آلودہ دل کی صفائی
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ اِذَا اَصَابَهُ الْمَاءُ)) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: ((كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ)) (شعب الایمان للبیہقی)
’’بے شک یہ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے۔عرض کیا گیا: ’’یا رسول اللہ ﷺ! ان (دلوں) کی صفائی کس چیز سے ہوتی ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’موت کو کثرت سے یاد کرنے اور قرآن کی تلاوت کرنے سے۔‘‘
انسان موت سے بچنے کی کوشش کرتا ہے‘ جہنم سے نہیں‘ حالانکہ کوشش کرنے سے انسان جہنم سے تو بچ سکتا ہے‘ موت سے نہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
 ((تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ)) (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
’’ مؤمن کا تحفہ موت ہے۔ ‘‘
موت طبعی طور پر کسی کے لیے بھی خوش گوار نہیں ہوتی‘ لیکن اللہ کے جن بندوں کو ایمان و یقین کی دولت نصیب ہے وہ عقلی طور پر موت کے مشتاق ہوتے ہیں‘ ان کی نظر قربِ الٰہی اور لذتِ دیدار پر ہوتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے آنکھ میں نشتر لگوانا طبعی طور پر کسی کو بھی مرغوب اور گوارا نہیں ہو سکتا لیکن اس امید پر کہ آپریشن سے آنکھ میں روشنی آ جائے گی‘ عقلی طور پر یہ عمل محبوب و مطلوب ہوتا ہےاور ڈاکٹر کو فیس دے کر آنکھ میں نشتر لگوایا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپریشن کے نتیجہ میں آنکھ کا روشن ہو جانا قطعی اور یقینی نہیں ہے‘ آپریشن ناکامیاب بھی ہوسکتا ہے‘ لیکن صاحب ایمان و یقین کے لیے اللہ تعالیٰ کے انعامات بالکل یقینی ہیں۔
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ    سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ : الْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَ يَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَ قِلَّةُ الْمَالِ اَقَلُّ لِلْحِسَابِ)) (رواه احمد)
’’دو چیزیں ایسی ہیں جن کو آدمی ناپسند ہی کرتا ہے (حالانکہ ان میں اس کے لیے بڑی خیر ہوتی ہے)۔ ایک تو وہ موت کو پسند نہیں کرتا‘ حالانکہ موت مؤمن کے لیے فتنہ سے بہتر ہے‘ اور دوسرے وہ مال کی کمی اور ناداری کو نہیں پسند کرتا‘ حالانکہ مال کی کمی آخرت کے حساب کو بہت مختصر اور ہلکا کرنے والی ہے۔‘‘
واقعہ یہی ہے کہ ہر آدمی موت سے اور ناداری و افلاس سے گھبراتا ہے اور ان سے بچنا چاہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو صاحب ِایمان کے لیے موت اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے کہ وہ مرنے کے بعد دنیا کے دین سوز فتنوں سے مامون و محفوظ ہو جاتا ہے۔ مال و دولت کی کمی اس لحاظ سے بڑی نعمت ہے کہ ناداروں اور مفلسوں کو آخرت میں بہت مختصر حساب دینا ہو گا‘ اور وہ اس سخت مرحلہ سے بڑی جلدی اور آسانی سے فارغ ہو جائیں گے۔ جب انسان افلاس و ناداری کی مصیبت میں گرفتار ہو‘ یا کسی عزیز کی موت کا صدمہ اس کو پہنچا ہو‘ تو اس وقت وہ رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات سے بڑی تسکین اور تسلی حاصل کر سکتا ہے۔ 
حضرت عمرو بن میمون اودیؒ (تابعی) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
((اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَ صِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغُلِكَ، وَ حَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ)) (رواه الترمذى)
’’پانچ حالتوں کو دوسری پانچ حالتوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو( اور ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہیےوہ اٹھا لو)۔ غنیمت جانو جوانی کو بڑھاپے کے آنے سے پہلے‘ اور غنیمت جانو تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے‘ اور غنیمت جانو خوش حالی اور فراخ دستی کو ناداری اور تنگ دستی سے پہلے‘ اور غنیمت جانو فرصت اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے‘ اور غنیمت جانو زندگی کو موت آنے سے پہلے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اِنَّہُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ اِلَى الْجَنَّةِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ اِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، وَاِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ [وَاِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ] نَفَثَ فِي رَوْعِي: اَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا، اَلَا فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ أَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللّٰهِ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ اِلَّا بِطَاعَتِهِ)) (رواه البغوى فى شرح السنة والبيهقى فى شعب الايمان)
’’ اے لوگو! نہیں ہے کوئی چیز ایسی جو جنت سے تم کو قریب اور دوزخ سے تم کو بعید کرے‘ مگر اس کا حکم میں تم کو دے چکا ہوں‘ اور اسی طرح نہیں ہے کوئی چیز ایسی جو دوزخ سے تم کو قریب اور جنت سے بعید کرے‘ مگر میں تم کو اس سے منع کر چکا ہوں (یعنی کوئی نیکی اور ثواب کی بات ایسی باقی نہیں رہی جس کی تعلیم میں نے تم کو نہ دے دی ہو‘ اور کوئی بدی اور گناہ کی بات ایسی نہیں رہی جس کی میں نے تم کو ممانعت نہ کر دی ہو‘ اس طرح اوامر و نواہی کی پوری تعلیم میں تم کو دے چکا ہوں‘ اور اللہ کے تمام مثبت و منفی احکام جو مجھے ملے تھے وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں) اور الروح الامین نے  ---- اور ایک روایت میں ہے کہ روح القدس نے (اور دونوں سے مراد جبرئیل امین ہیں)  ----ابھی میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے (یعنی اللہ کی طرف سے یہ وحی پہنچائی ہے) کہ کوئی متنفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کر لے (یعنی ہر شخص کو اس کے مرنے سے پہلے اس کا مقدر رزق ضرور بالضرور مل جاتا ہے‘ اور جب تک رزق پورا نہ ہو جائے اُس کو موت  آ ہی نہیں سکتی ہے) ۔لہٰذا اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور تلاشِ رزق کے سلسلہ میں نیکی اور پرہیزگاری کا رویہ اختیار کرو‘ اور روزی میں کچھ تاخیر ہو جانا تمہیں اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اللہ کی نافرمانیوں اور نامشروع طریقوں سے اس کے حاصل کرنے کی فکر و کوشش کرنے لگو‘ کیوں کہ جو کچھ اللہ کے قبضہ میں ہے وہ اس کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری ہی کے ذریعہ اس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىکُمْ بِالَّـیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُـکُمْ  فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج ثُمَّ اِلَـیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُـنَـبِّئُـکُمْ بِمَا کُنْـتُـمْ تَعْمَلُوْنَ(۶۰) }
’’ اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جوکچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے‘ پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے۔ پھر تم (سب) کو اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ‘(اُس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا۔‘‘
سورۃ الزمر میں ارشاد ہے:
{ اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَاج فَیُمْسِکُ الَّتِیْ قَضٰی عَلَیْہَا الْمَوْتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرٰٓی اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّـتَفَکَّرُوْنَ(۴۲) }
’’اللہ ہی روحوں کو اُن کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے‘ اور اُن کو بھی جن کی موت ابھی نہیں آئی ہوتی اُن کی نیند میں (قبض کر لیتا ہے)‘ پھر جس پر موت کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے اُسے روک لیتا ہے‘ اور دوسری (روحوں) کو ایک مقررہ وقت تک واپس بھیج دیتا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔‘‘
موت کیا ہے؟
میری موت پر مجھ سےسب سے پہلے جو چھین لیا جائے گا وہ میرا نام ہوگا! اس لیے کہ جب میں مر جائوں گا تو لوگ کہیں گے کہ ’’میت ‘‘کہاں ہے! مجھے میرے نام سے نہیں پکاریں گے۔ جب نماز جنازہ پڑھانا ہو گاتو کہیں گے’’جنازہ لےآؤ ۔‘‘میرانام نہیں لیں گے۔جب میری تدفین کا وقت آ جائے گا تو کہیں گے : ’’میت کو قریب کرو۔‘‘ میرانام بھی یاد نہیں کریں گے !اس وقت نہ میرا نسب اور نہ ہی قبیلہ میرے کام آئے گا اور نہ ہی میرا منصب اور شہرت۔
کتنی فانی اور دھوکے کی ہے یہ دنیا جس کی طرف ہم لپکتے ہیں۔  ؎
ہے یہاں سے تجھ کو جانا ایک دن
قبر میں ہو گا ٹھکانا ایک دن
منہ خدا کو ہے دکھانا ایک دن
اب نہ غفلت میں گنوانا ایک دن!
ایک دن مرنا ہے‘ آخر موت ہے 
کر لے جو کرنا ہے‘ آخر موت ہے!
         (از: خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ)
موت سے متعلق دعائیں
حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
((يَا بُنَيَّ اِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَكُونَ اَبَدًا عَلَى وُضُوءٍ فَافْعَلْ، فَاِنَّ مَلَكَ الْمَوْتِ إِذَا قَبَضَ رُوحَ الْعَبْدِ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ كُتِبَ لَهُ شَهَادَةٌ)) (شعب الایمان:۲۵۲۹)
’’اے میرے بیٹے! اگر تم سے ہو سکے کہ ہمیشہ وضو کی حالت میں رہو تو ایسا کرو‘ کیونکہ جب ملک الموت کسی بندے کی روح اس حال میں قبض کرتا ہے کہ وہ وضو کی حالت میں ہو تو اس کے لیے شہادت کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو بندہ پاکیزہ حالت میں سوتا ہے‘ اس کے ساتھ ایک فرشتہ رہتا ہے‘ اور رات بھر دعا کرتا رہتا ہے: اے اللہ! اس بندے کو بخش دے‘ کیونکہ یہ پاکیزہ سویا ہے۔‘‘ 
(روایت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما  صحیح الترغیب:۵۹۹)
(۱) رات کو سوتے وقت کی دعا :
((اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوتُ وَ اَحْيَا))
’’اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔‘‘
(۲) سوکر اُٹھنے کے بعد کی دعائیں :
((اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَحْيَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ إِلَيْهِ النُّشُورُ))
’’ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت (یعنی نیند) کے بعد دوبارہ زندہ کیا‘ اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے۔‘‘
((اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا قَبْلَ الْمَوْتِ، وَارْحَمْنَا عِنْدَ الْمَوْتِ، وَلَا تُعَذِّبْنَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَا تُحَاسِبْنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ))
’’یااللہ! موت سے پہلے ہم کو معاف فرما‘ اور موت کے وقت ہم پر رحم فرما‘اور موت کے بعد ہمیں عذاب نہ دینا ‘ اور قیامت کے دن ہم سے حساب نہ لینا ‘بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘
(۳) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
 ((لَا يَتَمَنَّيَنَّ اَحَدُكُمُ المَوْتَ مِنْ ضُرٍّ اَصَابَهُ ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللّٰهُمَّ اَحْيِنِي مَا كَانَتِ الحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي اِذَا كَانَتِ الوَفَاةُ خَيْرًا لِي)) (رواه البخارى و مسلم)
’’تم میں سے کوئی کسی دکھ اور تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا (اور دعا) نہ کرے۔ اگر (اندر کے داعیہ سے) بالکل ہی لاچار ہو‘ تو یوں دعا کرے : اے اللہ! میرے لیے جب تک زندگی بہتر ہو اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو اس وقت تو مجھے دنیا سے اٹھا لے۔ ‘‘
(۴) مدینہ منورہ میں وفات اور شہادت کی دعا:
((اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ ﷺ)) (صحیح البخاری، کتاب فضائل المدینة، حدیث:۱۸۹۰)
’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرما‘ اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر فرما۔‘‘
یادِ موت کے لیے دس نکاتی عملی فارمولا
(۱) روزانہ احتساب (Self-Audit): رات کو بستر پر لیٹ کر یہ سوچیں : اگر آج میری آخری رات ہو‘ تو کیا میں اپنے ربّ کو منہ دکھانے کے قابل ہوں؟
(۲) جنازوں میں شرکت: جنازے کو محض ایک رسم نہ سمجھیں‘ بلکہ یہ سوچیں کہ اگلی بار اس چارپائی پر میں خود بھی ہو سکتا ہوں۔
(۳) ناگہانی موت کے واقعات سے سبق: خبروں میں حادثاتی اموات کو دیکھ کر اپنی مہلت ِعمل کی قدر کریں۔
(۴) قبرستان کی تنہائی: مہینے میں ایک بار خاموشی سے قبرستان جائیں اور وہاں کے مکینوں کی بے بسی پر غور کریں۔ بڑے بڑے نامور لوگ آج بے نام و نشان پڑے ہیں۔
(۵) مال سے بے رغبتی: اپنے پاس موجود قیمتی اشیاء کو دیکھ کر خود سے کہیں : ’’یہ سب کچھ یہیں پر رہ جائے گا اور میں چلا جاؤں گا۔‘‘
(ـ۶) توبہ میں جلدی: کسی بھی گناہ کے بعد اس پر ندامت کو 'کل پر نہ ٹالیں‘ کیونکہ 'کل کی ضمانت کسی کے پاس نہیں ہے۔
(۷) بیماروں کی زیارت: ہسپتالوں کا چکر لگائیں تاکہ آپ کو اپنی صحت اور زندگی کی عارضی نوعیت کا احساس ہو۔
(۸) موت کا لٹریچر: ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں جو آخرت کی منظر کشی کرتی ہوں‘ تاکہ دل کی سختی ختم ہو۔
(۹) ذکر ِالٰہی کی کثرت: زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھیں‘ کیونکہ جس حال میں انسان جیتا ہے‘ اسی حال میں اسے موت آتی ہے۔
(۱۰)  بامقصد مصروفیت: اپنے وقت کو ان کاموں میں لگائیں جو مرنے کے بعد آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں۔
خلاصہ کلام
  موت کوئی حادثہ نہیں‘ یہ زندگی کا نقطہ ٔکمال ہے۔ جو شخص اسے یاد رکھتا ہے‘ وہ زندگی جیت جاتا ہے اور جو اسے بھلا دیتا ہے‘ وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔ اپنی لذتوں کو ڈھانے والی اس حقیقت کو اپنا رہبر بنا لیں تاکہ ہماری ابدی زندگی سنور سکے۔
آیئے! دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موت کا ذائقہ ہمارے لیے خوش گوار بنادے۔ ہم اس دنیا سےہنستے مسکراتے رخصت ہوں۔ ہماری موت راحت والی موت ہو۔ آمین یا ربّ العالمین!