(منبرو محراب) مقدّسات کی حرمت و تحفظ اور ریاست کی ذمہ داریاں - شجاع الدین شیخ

10 /
مقدّسات کی حرمت و تحفظ 
اور ریاست کی ذمہ داریاں
 شجاع الدین شیخ ‘امیر تنظیم اسلامی
جامع القرآن‘قرآن اکیڈمی لاہور میں ۳ جولائی ۲۰۲۶ء کا خطابِ جمعہ
 
خطبہ ٔ مسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!
  آج کی گفتگو میں مقدسات کے احترام کے ضمن میں جو گستاخیاں مستقلاً پاکستانی میڈیا پر ہو رہی ہیں‘ اس کے حوالے سے توجہ دلانا مقصود ہے۔ قرآن حکیم کے احترام‘ امام الانبیاء حضرت محمدﷺ‘ انبیاء کرام  علیہم السلام  اور صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین  کے احترام کے حوالے سے کچھ باتوں کی یاد دہانی کرائی جائے گی۔
دوسری بات فلسطین کے حوالے سے کہ اس وقت عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کا جومعاملہ بنا ‘جس کے پس پردہ بہرحال صہیونی قوتیں ہیں ‘اس کے ذیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کو بالکل بھلا دیا گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کے رکوانے کے حوالے سے کسی درجے میں مفاہمت اور ثالثی کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو اعزاز دیا ہے۔ اس کی ہم تحسین کرتے ہیں‘ البتہ پورے عالم کی سطح پر جہاں یہ کوششیں اور محنتیں ہوئیں وہاں اس سے بڑھ کر حق یہ ہے کہ اپنے ملک کو سدھارنے کی کوشش بھی کی جائے۔ ملک میں مفاہمت کا معاملہ ہو‘امن ہو‘ انتشار ختم ہو۔ اس کی طرف بھی توجہ دلانا مقصود ہے۔ 
مقدسات کے احترام کے حوالے سے قرآن کریم ہمیں یوں سمجھاتا ہے:
{وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ(۳۲)} (الحج)
’’اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے۔‘‘
 شعائر شعیرہ  کی جمع ہے ‘یعنی وہ نشانی یا علامت (symbol)جس سے کچھ یاد دہانی ہو۔ ’’شعائراللہ‘‘ سے مراد وہ مقدسات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ وہ مساجد ہیں‘ بیت اللہ شریف ہے اور مقدس مقامات ہیں۔ اسی طرح مناسک حج کے مقامات ہیں۔ قرآن حکیم کے نسخے ہیں ‘صفا اورمروہ ہے ۔یہ سب نشانیاں شعائر اللہ میں سےہیں اور ان کا احترام  ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ قرآن حکیم رسول اللہﷺ کے بارے میں فرماتا ہے :
{اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ} (الاحزاب:۶)
’’یقیناً نبی(ﷺ) کاحق مؤمنوں پر خود اُن کی جانوں سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ 
 نبی اکرمﷺ اہل ِایمان کے نزدیک ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز اور مقدّم ہیں۔ اس کے کئی مفاہیم ہیں۔ ہمیں اپنی جان سے بڑھ کر رسول اللہﷺ سے محبت ہونی چاہیے۔ ان کی حرمت کا معاملہ ہو تواس کے لیے بندئہ مسلم جان تک پیش کرنے کے لیے تیار رہے۔ ایک گہرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہماری جانوں پر ہم سے بڑھ کر اللہ کے رسولﷺ کا اختیار ہے۔وہ جو چاہیں ‘ہمیں حکم دیں۔ ع  ’’ بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ اللہ کے بعد سب سے بڑی ہستی امام الانبیاءﷺ کی ہے۔ یہ فضیلت حضور ﷺکو سب سے بڑھ کر حاصل ہے۔ قرآن حکیم میں رسولوں کے درمیان فضیلت کا ذکر ہمیں ملتا ہے۔ تیسرے پارے کے آغاز میں فرمایا:
 {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ } (البقرۃ:۲۵۳)
’’ان رسولوں ؑ میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کسی کو ’’خلیل اللہ‘‘ کسی کو ’’کلیم اللہ‘‘ اور کسی کو ’’ روح اللہ‘‘ قرار دیتا ہے۔ فضیلت تو رسولوں کے درمیان ثابت ہے‘ البتہ تفریق ثابت نہیں ہے۔ سورۃ البقرۃ کے آخر میں ارشاد ہے:
{لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف} (البقرۃ:۲۸۵)
’’(یہ کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں میں کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔‘‘
ماننے کے اعتبار سے سب پر ایمان لازم ہے‘ خواہ ان کے نام معلوم بھی نہ ہوں۔ معروف روایت ہے کہ سوا لاکھ انبیاء و رسل علیہم السلام   اللہ تعالیٰ نے بھیجے۔ قرآن حکیم میں۲۶ کا ذکر آتا ہے۔ حضرت عزیر  علیہ السلام   کے بارے میں ایک علمی بحث ہے البتہ ان کے نام سمیت ۲۶ انبیاء ورسل کے نام قرآن مجید میں آتے ہیں۔ بعض کے نام ہمیں احادیث میں اور بعض کے نام اسرائیلی روایات میں مل جاتے ہیں۔ اکثر کے نام بھی نہیں معلوم ‘لیکن ان سب پر بھی ہمارا ایمان ہے۔ ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے۔ ایمان لانے کے اعتبار سے سب پر ایمان لانا لازم اور احترام کے اعتبار سے سب کا احترام لازم ہے۔ 
انبیاء کرام علیہم السلام  کے بعد مقدس ترین ہستیاں صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین   ہیں۔یہ اہل ِسُنّت  والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء کے بعد مقدس ترین ہستیاں صحابہ کرامؓ کی ہیں۔ ایک فرق جو ہمارےہاں کیا جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے ‘وہ اہل ِبیت اور صحابہ کرامؓ کاہے۔ مجموعی اعتبار سے سب صحابہ کرامؓ ہیں۔ قرآن حکیم میں سورئہ ہود میں حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کے تذکرے میں ان کی زوجہ محترمہ کے لیے اہل ِبیت کے الفاظ آئے ہیں۔اسی طرح سورۃ الاحزاب میں رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے اہل بیت کے الفاظ آتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں حضرت علی‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن‘ حضرت حسین   رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین   کے لیے بھی اہل بیت کے الفاظ آتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت سلمان فارسی    رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سلمان تو ہمارے اہل ِبیت میں شامل ہیں۔ یہ ہے وسیع تر تصور کہ اہل ِبیت کا بھی ذکر ہو تو حضورﷺ کی ازواج مطہرات بھی شامل‘ حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہم   بھی شامل اور اس ایک روایت کے مطابق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   بھی شامل۔ یہ مجموعہ پورا ہمارے سامنے رہے۔
ہمارے ہاں یہ جو اہل ِسُنّت اور اہل تشیع کے درمیان اختلافات کو اچھال کر اہل بیت کو ایک طرف کر دیا جاتا ہے اور صحابہ کو دوسری طرف ‘ یہ تصور اہل سُنّت والجماعت کے عقیدے کے خلاف ہے۔ سب کے سب صحابہ کرامؓ ہیں۔جن کو ہم اہل بیت کہتے ہیں ‘ان کے اور صحابہ کرامؓ  کے درمیان رشتوں کا ذکر بھی آنا چاہیے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   داماد ہیں کس کے؟سیدنا علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے۔ حضرت عمرؓ فرماتےہیں: ’’اگر علی نہ ہوتےتو عمر ہلاک ہو جاتا۔‘‘حضرت عمراور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما   مشاورت میں سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو شامل رکھا کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ    کا جب محاصرہ ہوا‘ ۵۰ دن ناکا بندی ہوئی‘ مظلومانہ شہادت کا معاملہ ہوا تو پہرہ دینے کے لیے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ    نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما  کو وہاں پر مقرر فرمایا۔ حضرت عمر ؓکا دور تھا‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما  نے پوچھا:’’ابا جان! آپ نے حسن اور حسین کا زیادہ وظیفہ کیوں مقرر کیا؟‘‘ تو حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: ’’کیا حسن اور حسین کے باپ جیسا باپ کسی کا ہے‘ ان کی ماں جیسی ماں کسی کی ہے‘ ان کے نانا جیسے نانا کسی کے ہیں؟‘‘ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وﷺ! 
دراصل ہمارے ہاں تفریق کر دی جاتی ہے‘ معاذ اللہ‘ اور پھر نفرتوں کا ایک پہاڑ ہے جو ایک طبقے کی حرکتوں کی وجہ سے ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ مقدسات میں قرآن کی بات بھی آئے گی‘ امام الانبیاء صاحب قرآنﷺ کی بات بھی آئے گی‘ تمام انبیاءو رسل علیہم السلام   کی بات آئے گی۔ مقدسات میں شخصیات کے اعتبار سے صحابہ کرام بھی شامل ہیں اور اہل بیت بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ یہ ہے مقدسات کے اعتبار سےہمارا مجموعی تصور جو سامنے رہنا چاہیے۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ صحابہ کی عظمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
{وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ لا  رَّضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ} (التوبۃ:۱۰۰) 
’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘اور وہ جنہوں نے اُن کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ‘اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔‘‘
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صحابہ کرامؓ بالخصوص مہاجرین و انصار کے گروہوں کا ذکر فرما کر ان کو اپنی رضامندی کی سند عطا فرماتا ہے۔ ہمارے ہاںاگرچہ تاریخی حوالے سے بہت باتیں آتی ہیں‘لیکن تاریخ کا رتبہ و درجہ بعد میں آئے گا۔ اصل فرقان ہے قرآن حکیم اور صاحبِ قرآنﷺ کی تعلیم۔ مجموعی بات یہ  ہے کہ ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم   کے بارے میں اللہ تعالیٰ سرٹیفکیٹ دیتا ہے ۔ان صحابہ کے ایمان کو معیار قرار دیتاہے۔ پہلے پارے کے آخر میں ذکر آتا ہے:
{فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ  فَقَدِ اہْتَدَوْاج}  (البقرۃ:۱۳۷)
’’پھر (اے مسلمانو!) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اُسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تب وہ ہدایت پر ہوں گے۔‘‘
یہاں’’ تم‘‘ جمع کا صیغہ ہے ۔اُس دور میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا‘ اس سے مراد نبی اکرم ﷺ  کےصحابہ ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے :
{وَلٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ  وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ}   (الحجرات:۷)
’’لیکن (اے نبیﷺ کے ساتھیو!) اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے‘‘
اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے دلوں میں جما دیا ہے‘مزین کر دیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی عظمت کا ذکرقرآن پاک میں جا بجا  آتا ہے۔ جمعہ کے خطبات میں ہم اللہ کے رسولﷺ کے الفاظ سنتے ہیں:
 اللّٰهَ اللّٰهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي
’’ اللہ سے ڈرنا ‘اللہ سے ڈرنا میرے صحابہ کے بارے میں۔ میرے بعد ان کو تنقید کا نشانہ نہ بنانا( انگلیاں نہ اٹھانا‘ الزام نہ لگانا‘ تنقیص نہ کرنا‘ گستاخی نہ کرنا۔ )‘‘
(( فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ))[سنن الترمذی:۳۸۶۲]
’’جو میرے صحابہ سے محبت کرتا ہے تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرتا ہے‘ اور جوان سے بغض رکھتا ہے (دشمنی رکھتا ہے‘ نفرت کرتا ہے‘ معاذ اللہ!) تو مجھ سے بغض کی وجہ سے( مجھ سے نفرت اور دشمنی کی وجہ سے) ان سے بغض رکھتا ہے۔ ‘‘
اللہ کے رسولﷺ نے اپنے صحابہ کے معاملے کو اپنی ذات سے جوڑا۔ فرمایا کہ ان سے کوئی محبت کرتاہے تو میری محبت کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور ان سے کوئی بغض رکھتا ہے‘ عناد رکھتا ہے‘تو مجھ سے بغض اور عناد کی وجہ سے۔ یہ اللہ کے رسول ﷺکی احادیث ہیں۔ یہ میں نے تذکیر کے طور پر چند آیات قرآنیہ اور احادیث رسول اللہﷺ آپ کے سامنے رکھیں۔
یہ بات یاد رہےکہ معصومیت صرف انبیاء کرام ؑکے لیےہے۔خطاؤں سے پاک ہونا‘ گناہوں سے پاک ہوناانبیاء  علیہم السلام   کا خاصہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم   کے بارے میں ان کی اجتہادی خطاؤں کا ذکر ملتا ہے ‘جن کے بارے میں  اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:{وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ ط }  (آلِ عمران:۱۵۲) اللہ تم سے درگزر فرما چکا‘ تم کو معاف فرما چکا۔ اب کوئی بدباطن ہی ہوگا جس کےدل  میں خبث اور گندگی بھری ہوئی ہوگی جوصحابہ کرامؓ کے خلاف زبان دراز کرےگا۔ معاذ اللہ!اللہ تعالیٰ ان کی اجتہادی خطاؤں کا بھی ذکر فرماتا ہے تو ان کی معافی کا اعلان فرماتا ہے‘ چاہے وہ اُحد کے بارے میں ہو‘ تبوک کے معاملے میں ہویا دیگر مواقع پر ۔اللہ ان کو قرآن مجید میں بار بار{ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ط } (البینۃ:۸)  فرماتا ہے۔
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے‘ ڈیجیٹل عہد  ہے۔پہلے کبھی کونے کھدرے میں کوئی معاملہ ہوتاتھا تو کسی کے علم میں نہ آتا  تھا۔ اب تو بدبخت اور ظالم ان گستاخیوں کو اَپ لوڈ کرتے ہیںجن کودیکھ کر خون کھولتا ہے۔ قرآن پاک کے نسخوں کے بارے میں ہم نے یہاں بھی پہلے ذکر کیا ‘سوشل میڈیا پر بھی ذکر کیا ہے‘ پریس ریلیز میں بھی ذکر کیا ہے‘ دردِ دل رکھنے والے دیگر حضرات نے بھی  اس کا ذکر کیا ہے‘ علماء نے بھی ذکر کیا ہے ‘جو لوگ سوشل میڈیا پر فعال ہیں ان لوگوں نے بھی ذکر کیا ہے۔ حکمرانوں سےہمارا ایک تقاضا کیا ہے؟اب وہ باتیں زبان پر لاتے ہوئے بھی جھجک آتی ہے کہ قرآن حکیم کے مقدس اوراق اور نسخوں کے اوپر معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ‘ ناپاک قسم کے قطرے بہائے گئے ‘جو اسی ناپاکی کی حالت میں ابھی تک ایف آئی اے اور دیگر ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک ضابطے کی کارروائی مکمل نہ ہو‘تحقیقات کے ثبوت رکھنے ہوتے ہیں۔شرعی مسئلہ یہ ہے کہ ان کو غسل دیا جائے اور احترام کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔ اگر  ضابطے کا کوئی  مسئلہ ہے کہ ثبوت  ضائع نہیں کر سکتےتو اس کا کیا حل ہوگا ؟اس کو بھی بعض دردِ دل رکھنے والے لوگوں نے تجویز کیاہے۔ ہم نے اس کو پہلے بھی بیان کیا ہے ‘سوشل میڈیا پر بھی پیش کیا ہے‘ ذمہ داران تک بھی پہنچایا ہے‘ علماء تک بھی پہنچایا ہے‘ آج پھر مجھے وہ کہنا پڑ رہا ہے۔ قیصر احمد راجہ صاحب اور کچھ حضرات کی سفارشات  ہم نے علماء تک بھی پہنچائیں‘ ذمہ داران تک بھی پہنچائیں ۔میں پڑھ کر آپ کو سنا دیتا ہوں۔ 
(۱) ان تمام نسخوں کا فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کیا جائے تاکہ قانونی ثبوت محفوظ   ہو جائیں۔جب بھی ضابطے کی کارروائی آگے بڑھے گی تو ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کر دی جائے ۔
(۲) ان رپورٹس اور دستاویزی ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے بعد ایک با اختیار ریاستی عہدے دار کی نگرانی میں ان نسخوں کو اس غلاظت سے پاک کر کے غسل دے کر شرعی طریقے سے تدفین کی جائے ۔ 
(۳)   اگر کوئی قانونی رکاوٹ درپیش ہو تو اس مقصد کے لیے فوری طور پر از خود نوٹس(Suo Moto Action)‘قانون سازی یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے طریقہ کار وضع کیا جائے۔ یہ سب ممکن ہے۔ہمارے ہاں سوموٹو ایکشن بہت لیے گئے ۔ قانون سازی کے حوالے سے پچھلے دورِحکومت کے دوران ایک سانس میں ۳۳ قانون بنا ڈالے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی حرمت کے لیے ایک قانون بنانا ہماری نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔  
ع  ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے! ‘‘اس قدر بے غیرتی کی بات ہے۔ اگر میں کھل کر کہوں تو ہمارے ریاستی ذمہ داروں کے مسخ شدہ خاکے(caricatures) بن جائیں اور ان کا نام لے کر میمز بنائی جائیں تو یہ بندوں کا سافٹ وئیر بھی اپڈیٹ کر دیتے ہیں‘ انہیں اٹھا کے بھی لے جاتے ہیں ‘مار بھی دیتے ہیں یا مروا بھی دیتے ہیں۔ اللہ کے کلام کی حرمت کے لیے کیا ہمارا ایمان ہمیں بیدار نہیں کر رہا ہے؟ ہم اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ اس میں کون سی امریکہ کی رضامندی کا مسئلہ ہے؟ آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک یا یو این او کی منظوری درکار ہے؟ صہیونیوں کو ناراض نہ کرنے کا  معاملہ ہے؟  یہ چیز ہمارے اربابِ اختیار کے ہاتھ میں ہے۔سوموٹو ایکشن ‘ کوئی قانون سازی کا معاملہ یا پھر صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔ صدر صاحب کے پاس بڑا ٹائم ہے ۔بڑے آرڈیننس جاری ہوتے رہتے ہیں ‘ہم سب کو پتہ ہے۔ اللہ کی کتاب کی حرمت کے حوالے سے کیا ایک آرڈیننس جاری نہیں ہو سکتا؟
دوسری بات ‘جیو نیوز والوں نے جو کچھ کیا وہ سب کو پتہ چل گیا ۔کچھ اور چیزیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اے آر وائی ڈیجیٹل بھی بہت کچھ چلاتا رہا ہے۔ ماضی میں ’’دی میسج‘‘ جب چلی تھی  تو کیا کچھ اس میں دکھا دیا گیا۔ صحابہ کو بھی represent کر دیا گیا۔ زنا کرنے والوں نے صحابہ کرام کے رول ادا کیے۔یہ چیزیں دماغ کے اندر چسپا ںہو جاتی ہیں۔ ہمیں حساس ہونا چاہیے کہ انبیاءو رسل علیہم السلام   چاہے امام الانبیاء خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺہوںیا کوئی اور نبی بھی ہوں‘کسے باشد‘احترام میں سب برابر ہیں۔ وہ ان کا ہائیڈ پارک ہوگا جہاں پر جا کر وہ‘ معاذ اللہ ‘ Jesus Christ کو بھی برا بھلا کہتے ہیں۔ نہ جانے کیا کچھ کرتے ہیں۔ پیغمبروں کا ادب اور احترام ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ جو علامہ اقبال نے کہا ہے :  ؎
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو!
ایسے میں میرے اور آپ کے پاس بچے گا کیا ؟ اللہ کے ہاں تو نجات کے لیے شرطِ اول ایمان ہے۔ اس کے اوپر ہماری آواز بلند ہونی چاہیے۔ ابھی پندرہ دن کے لیے لائسنس معطل ہوا‘ لیکن یوٹیوب پر وہ دھڑلے کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس وقت بتایا گیا کہ پیمرا نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی ہے کہ بتائیے پندرہ دن کے لیے نشریات معطل کرنا کافی ہے یا اس سے آگے بھی کچھ کرنا چاہیے؟ 
اتحاد تنظیماتِ مدارس کا ایک بڑا فورم ہے‘ جو دینی مدارس کے پانچ وفاق دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل الحدیث ‘جماعت اسلامی اور اہل ِتشیع کی ایک سپریم کونسل  ہے۔ ہم بھی تنظیم اسلامی کے فورم سے دینی ومذہبی معاملات کے حوالے سے کوئی رہنمائی لینے یا توجہ دلانے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی لکھتے ہیں‘ ان کو بھی لکھتے ہیں۔ میری گزارش یہ ہے کہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رائے لے لیکن بہرحال وہ ایک ریاستی ادارہ ہے جس کی اپنی ایک capacityہے‘ اس کے ساتھ اتحاد تنظیمات مدارس سے بھی رہنمائی لے بلکہ تمام وفاقوں کی طرف سے رہنمائی آنی چاہیے تاکہ once for all یہ سارا معاملہ طے کیا جائے۔
۲۰۱۲ ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرات نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کیا تھا جس میں انہوں نےتفصیل بتائی۔۲۰۱۲  ءمیں لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ درج ہوا کہ پیمرا‘  پی ٹی اے اور دیگر ریاستی اداروں کو پابند کیا جائے کہ سیٹلائٹ چینل‘ پرنٹ میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا ‘ سوشل میڈیا پر کسی بھی پیغمبر  علیہ السلام  کے تعلق سے کسی قسم کا بھی کوئی خاکہ‘ بصری قسم کی کوئی شبیہ یا تصویر‘ کسی قسم کا کوئی مواد نشر نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ یہ ہوتا رہا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات بھی موجود ہیں‘ کچھ ضابطے کی کارروائیاں ماضی میں بھی ہوئیں لیکن اس حوالے سے پوری ریاست کی سطح پر پیمرا ‘ پی ٹی اے اوردیگر متعلقہ اداروںکو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔ یہ محض کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے۔ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام   کے حوالے سے یہ clarity رہنی چاہیے۔ اس میں سزائوں کا بھی کوئی mechanism ہونا چاہیے‘ اس لیے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔جب تک انہیں نشانِ عبرت نہیں بنائیں گے‘یہ سلسلے چلتے رہیں گے۔ 
اب اس سے اگلی بات صحابہ کرامؓ  کے بارے میںہے۔ مقدسات کے ذیل میں بھی ضابطے موجود ہیں۔ ماضی میں۱۹۹۶ ء میں ملی یکجہتی کونسل بھی قائم کی گئی تھی۔ اس کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ شیعہ سنی فسادات کو روکا جائے۔ اس سطح پر بھی ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ ریاستی سطح پر بھی ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ پاکستان کے حکام بالا نے بھی ضابطہ اخلاق شائع کیے ہیں ‘لیکن ضابطہ اخلاق عام طور پر ماہ محرم سے چند دن پہلےآتا ہے۔ ہمیں بھی ایک جگہ بلایا گیا ۔ہم نے کہا کہ یہ ضابطہ اخلاق صرف ماہ محرم کے لیےہے جبکہ اصل مسئلہ تو پورے سال سے متعلق ہے۔ ہم تو سب کے تقدس پر یقین رکھتے ہیں‘احترام کرتے ہیں۔ کون سا مذہب ہوگا جو یہ کہتا ہو کہ کسی کی مقدس شخصیات کو گالی دی جائے! اگر آپ کسی شخصیت کی تعریف نہیں کر سکتے‘ اس کی فضیلت بیان نہیں کر سکتے توکوئی بات نہیں۔ آپ گالیاں کیوں دیتے ہو؟ الزام تراشیاں کیوں کرتے ہو؟ اس طرزِعمل سے کیا دوسروں کے جذبات پامال نہیں ہوں گے! سورۃ الانعام( آیت ۱۰۸) میں فرمایا گیا :
{وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ  عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍ ط }
’’اور مت گالیاں دو (یا مت برا بھلا کہو) اُن کو جنہیں یہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا‘ تو وہ اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے زیادتی کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے۔‘‘
بتوں کی نفی کرنا ایمان کا حصہ ہے‘جبکہ ان کو گالیاں دینا‘ اشتعال انگیز زبان اختیار کرنا نامناسب ہے۔ یہ بڑا پیارا جملہ ہے کہ اگر کسی مکتب فکر کے لوگ کسی دوسرے مکتب فکر کے افراد ‘ شخصیات ‘ مقدسات کی فضیلت بیان نہیں کر سکتےیا تعریف نہیں کر سکتے تو خاموش ہو جائیں ۔ گالیاں    دینا کون سا مذہب ہے؟زبان دراز کرنا کون سا مذہب ہے؟ ایسے بدبخت ظالم بھی ہیں کہ کسی دریدہ دہن  کو محرم کے مہینے میں لندن سے بلایا جاتا ہے اور وہ ساری بدبختیاں کرتا ہے‘ زبان درازی کرتا ہے اور پھر فوراً لندن واپس چلا جاتا ہے۔ کوئی نہیں پوچھتا اس کو۔ سارے ضابطے موجود ہیں۔ کہاں ہے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کا معاملہ؟ اس معاملے میںبعض حساس ریاستی ادارے والے بھی پریشان ہیں۔ حل یہ ہے کہ ضابطے کو نافذ کریں۔ 
ہر سال اس طرح کی چیزیں آتی ہیں‘ جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے ۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو نفرتیں پیدا ہوں گی ‘ انتشار ہوگا‘ بدامنی ہو گی ملک کو آگ میں دھکیلا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی ریاستی اور حکومتی اداروں سے گزارش ہےکہ جو ضابطہ اخلاق موجود ہیں‘ انہیں شائع کریں تاکہ عوام کو بھی پتا ہو‘ خطباء کو بھی پتا ہو کہ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر سزا بھی دی جائے گی۔ اس کے بغیر یہ معاملات سدھرنے والے نہیں ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی آب یاری عطا کرے اور اپنی تمام کتابوں اور انبیاءو رُسل  علیہم السلام  کا سچا احترام عطا فرمائے۔ صحابہ کرام و اہل بیت کا سچا احترام ہمیں عطا فرمائے ۔ہمیں غیرتِ دینی عطا فرمائے۔ میری اور آپ کی والدہ کو کوئی گالیاں دے تو کیا ہم برداشت کریں گے؟ خون کھولے گا کہ نہیں ؟ اس موضوع کو تو میں نے ابھی چھیڑا ہی نہیں جو گستاخیوں والے سینکڑوں کیسز ابھی التواء میں ہیں۔ ہمیں اپنے ایمان اور اپنی غیرت کا جائزہ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو بھی غیرتِ دینی عطا کرے۔ کل اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو صحیح فیصلے کرنے‘ ان معاملات کے حوالے سے حساسیت دکھانے اور ترجیحی بنیادوں پر ان معاملات کو حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!آمین!
حالاتِ حاضرہ
  امریکہ ایران جنگ کے حوالے سے ابھی وقتی طور پر وقفے کا معاملہ ہے۔ بہت ساری باتیں سامنے آرہی ہیں۔ صہیونی تو رُکنے والے نہیں۔ وہ گریٹراسرائیل کا منصوبہ تو روکنے والے  نہیں ۔ اکتوبر۲۰۲۵ ءمیں نام نہاد جنگ بندی کی گئی تھی‘لیکن اس کے بعد بھی ہر روز ایک بچے کی شہادت ہو رہی ہے۔ فلسطین میں بیس ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں اور چوالیس ہزار زخمی ہیں۔تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اسرائیل اور امریکہ کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ امریکی سفارت خانہ بنانے کے لیے ۱۳  ایکڑ زمین سالانہ ایک ڈالر پر ۹۹ سال کے پٹا (lease) پر دی گئی ہے۔ کون سی ناراضگی ٹرمپ کی اور کون سی ناراضگی نیتن یاہو کی! سب ڈرامہ بازی ہے۔ع  ’’ فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!‘‘ وہ رکے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ہمارا معاملہ کیا ہے ؟ میں کراچی کے جس علاقے میں رہتا ہوں‘ ڈیڑھ سال پہلے وہاں شفٹ ہوا تھا‘ آج تک قریبی مسجد میں فلسطین کے لیے دُعا ہوتے ہوئے نہیں سنی۔ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے‘ اگر منبرسے دعا نہیں ہو رہی تو کیا ہم نے فلسطین والوں کو یاد رکھا ہواہے ؟ 
ہماری بے غیرتی کا عالم یہ ہے کہ ہم سے صحیح طور پر بائیکاٹ تک نہیں ہوا۔ خدا کی قسم دل خون کے آنسو روتا ہے جب لائنیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ان ریسٹورنٹس پر جو واضح طور پر اسرائیل کو سپورٹ کرتے ہیں۔ہم سے وہ برگر نہیں چھوٹتا ہے‘ وہ سافٹ ڈرنک نہیں چھوٹتی ہے۔ اگر کل ہم پر تھوڑا سا مشکل وقت آئے گا تو ہمارا ایمان بھی زندہ بچے گا یا نہیں؟ امتحان صرف اہل فلسطین کا ہی نہیں ہوا بلکہ میرا اور آپ کا بھی ہو رہا ہے ۔دعا ہم نہ کریں ‘کوئی آواز ہم بلند نہ کریں ‘امریکہ ایران کی جنگ کے دوران ان کو بھول جائیں‘ بائیکاٹ ہم سے نہ ہو تو ہمارا ایمان کدھر کھڑا ہے ! زندگی ایک امتحان ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط }(الملک:۲)
 اللہ تعالیٰ نے موت اور حیات کا سلسلہ اس لیے قائم فرمایا کہ امتحان لے کہ عمل کے اعتبار سے بہترین کون ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے! فلسطین والوں کو بھی نہ بھولیں‘ کشمیر والوں کو بھی نہ بھولیں ! پاکستان کوبھی نہ بھولیں!
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربِّ العالمین