(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ  الْبَقَرَۃ (۱۰) - ڈاکٹر اسرار احمد

10 /
سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۱۰)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ
آیات ۳۰تا ۳۴
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَ یَسْفِکُ الدِّمَآئَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓـئِکَۃِ لا فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰؤُلَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ(۳۲) قَالَ یٰٓـاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ ج فَلَمَّـآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ لا  قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّــکُمْ اِنِّــیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لا وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَـکْتُمُوْنَ(۳۳) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط  اَبٰی وَاسْتَکْبَرَز  وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ(۳۴)
آیت۳۰   {  وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَ یَسْفِکُ الدِّمَآئَ ج وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّٓیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)} ’’اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہ مَیں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔ انہوں نے کہا : کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ّر کرنے والے ہیں جو اس میں فساد مچائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔ فرمایا: مَیں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔‘‘
’’اِذْ ‘‘کا محل ِاستعمال
’’اِذْ‘‘ (جب) کا کلمہ یہاں مصحف میں پہلی مرتبہ آرہا ہے۔ ’’جب‘‘ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے عربی میں ’’اِذْ‘‘ اور ’’اِذَا‘‘ دو کلمات استعمال ہوتے ہیں۔ اگر ماضی سے متعلق کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو تو کلمہ ’’اِذْ‘‘ آتا ہے اور مستقبل کے کسی  معاملہ کی طرف اشارہ کرنا ہو تو ’’اِذَا‘‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ سورۃ التکویر میں یہ کلمہ (اِذَا)  ۱۲ مرتبہ آیا ہے:
{اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ (۱)  وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ(۲)}
’’جب سور ج لپیٹ لیا جائے گا۔ اور جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔‘‘
 قیامت کے واقعات جو رونما ہونے والے ہیں ان کے لیے ’’اِذَا‘‘ آتا ہے۔ کسی گزرے ہوئے واقعہ کی طرف توجہ دلانی ہو تو اس کے لیے ’’اِذْ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور اس سے پہلے فعل امر ماضی ’’اذْکُرْ‘‘ یا ’’اذْکُرُوْا‘‘  محذوف (understood) مانا جاتا ہے۔ یعنی یاد کرو ‘دھیان کرو ‘ توجہ کرو ‘ تصور کرو۔ 
قرآن میں قِصّہ آدم و ابلیس کی تکرار
{وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِۗکَۃِ.....} ’’اور یاد کرو جب کہ کہا تھا آپ کے رب نے فرشتوں سے‘‘.....ظاہر ہے ان کلمات کے اوّلین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں جن پر یہ آیاتِ مبارکہ نازل ہوئیں۔ باقی یہ کہ قرآن کا ہر قاری (پڑھنے والا) بھی اس کا مخاطب ہے۔ 
سورۃ البقرۃ کا یہ چوتھا رکوع  فلسفہ وحکمت ِ قرآنی کا ایک بہت اہم باب ہے۔ اس کا اکثر وبیشترحصہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کی سرگزشت پر مشتمل ہے۔ ترتیب ِمصحف میں تو یہ واقعہ پہلی مرتبہ آرہا ہے‘ لیکن ترتیب ِنزولی کے اعتبار سے مکی قرآن میں یہ واقعہ اس سے پہلے چھ مرتبہ بیان ہوچکا ہے‘ اور اُس کی ایک بڑی عجیب اور دلچسپ ترتیب ہے۔ قرآن مجید کے وسط میں سورئہ بنی اسرائیل اور سورۃ الکہف دونوں گویا آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ قِصّہ آدم و ابلیس کا سورئہ بنی اسرائیل میں بھی تذکرہ ہے اور سورۃ الکہف میں بھی‘ اور عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کے بالکل وسط میں ہے۔ دونوں سورتیں بارہ بارہ رکوعوں پر مشتمل ہیں اور دونوں کا ساتواں رکوع ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:
{وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْجُدُ وْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُ وْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط  }
’’اور یاد کرو جب ہم نے کہا تھا فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم  ؑکو تو اُن سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہیں کیا)۔‘‘
سورۂ بنی اسرائیل سے پہلے ایک سورت (سورۃ النحل) چھوڑ دیجیے تو سور ۃ الحجر آتی ہے۔ اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ یہ قصہ آیا ہے۔ سورۃ الکہف سے آگے ایک سورت (سورۂ مریم) چھوڑ دیجیے تو اُس کے بعد سورۂ طٰہٰ ہے‘ اور اُس میںبھی یہ واقعہ بڑی تفصیل سے موجود ہے۔اس طرح چار مرتبہ یہ قصہ آدم ؑ وابلیس قرآن کے تقریباً وسط میں ہے۔ اس کے علاوہ دو مقامات کی بھی بڑی  symmetrical distribution  ہے۔ شروع سے چلیں تو آٹھواں پارے میں سور ۃ الاعراف کے دوسرے رکوع میں یہ واقعہ بڑے شرح وبسط کے ساتھ ملتا ہے۔ تیسویں پارے سے گنتی کرتے ہوئے واپس آئیں تو ۲۳واں پارہ گنتی میں آٹھواں پارہ بنے گا۔ یہاں سورہ  صٓ میں پھر وضاحت کے ساتھ یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں قصہ آدم ؑ وابلیس کی بڑی ہی موزوں اور متناسب (symmetrical)تقسیم ہے۔ تاہم یہ چھ کے چھ مقامات جو گِنوائے گئے ہیں‘ یہ بالاتفاق مکی سورتیں ہیں ۔ سورۃ البقرۃ واحد مدنی سورت ہے جس میں واقعہ آدم ؑ وابلیس کا خلاصہ دیا جارہا ہے۔
زیر ِدرس آیات کے پانچ عنوانات
زیر ِمطالعہ رکوع میں پانچ مضامین بیان ہوئے ہیں:
(۱) آدم ؑ اور ذُرّیت ِآدم ؑ کا مقام ومرتبہ 
(۲) خلافت ِ ارضی کی بنیاد واساس
(۳) تما م فرشتوں کوآدم ؑکے سامنے سجدہ کا حکم
(۴) آدم ؑوحوا ؑکا جنت میں آزمائشی مقام
(۵) جنت سے انخلاء اور ہبوطِ ارضی
سب سے پہلے حضرت آدم  علیہ السلام  اور ان کی ذریت کااصل مقام ومرتبہ بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اُن کا مقام خلیفۃ اللہ فی الارض ہے‘ جو بہت بلند درجہ ہے۔ پھر یہ کہ اس خلافت کی بنیاد واساس کیا ہے؟ یعنی حضرت آدم  علیہ السلام   اور اُن کی ذریت کو خلافت کے اہل سمجھا گیا ہے تو کس بنیاد پر؟ وہ بنیاد و اساس علم ہے {وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ کُلَّھَا}۔ یہ دومضامین اس مقام پر خصوصی (exclusive) طور پر آئے ہیں ۔ یہ فلسفہ اور حکمت کے اہم اور اساسی مضامین ہیں ۔ باقی چھ مقامات جوگِنوائے گئے ہیں‘ اُن میں یہ مضامین نہیں ملیں گے۔ البتہ ان میں سے تین مقامات پر ایک اضافی مضمون ملے گا جو یہاں نہیں ہے۔ اس طرح قرآن مجید میں یہ واقعہ اگر تکرار کے ساتھ آیا ہے تویہ تکرا رِ محض نہیں ہے بلکہ ہر جگہ کوئی نئی بات ہے‘ کوئی نئی شان ہے۔ پھر جس جس مقام پر یہ مضمون آیا ہے اس کے عمود اور مرکزی مضمون کے حوالےسے خصوصی ربط کواس سیاق وسباق (context) میں رکھ کر دیکھیں تو حکمت اور دانش کے نئے نئے گوشے نمودار ہوں گے۔ 
پھر جو مضمون آتا ہے تما م فرشتوں کوحضرت آدم  علیہ السلام  کے سامنے سجدہ کا حکم ‘ یہ چھ مکی مقامات کے بعد ساتواں مدنی مقام ہے جو زیر مطالعہ ہے۔ اس کے بعد حضرت آدم ؑ اور اماں حوا ؑکے جنت میں آزمائشی مقام یاایک طرح کی تربیت کے لیے قیام کا تذکرہ ہے۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ اُن کی تخلیق میں بھی کچھ خلا ہے‘ کمزوری ہے {خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸)}(النساء)۔ اس خلا اور کمزوری سے ان کا ازلی دشمن ابلیس بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا‘ انہیں اس کا ایک تجربہ کرادیا گیا۔ اس کا بھی ذکر سور ۂ طٰہٰ اور سورۃ الاعراف میں شرح وبسط کے ساتھ موجودہے۔ یہاں سورۃ  البقرہ میں بھی اسی تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ یہ مضامین سب سے زیادہ تفصیل اور نہایت اہتمام اور شان کے ساتھ سورۃ الاعراف میں آئے ہیں ‘ جو متذکرہ بالا چھ مکی سورتوں میں ترتیب ِ نزولی کے اعتبار سے آخری دور کی ہے۔ چنانچہ زمانۂ نزول کے اعتبار سے سورۃ البقرہ اور سورۃ الاعراف میں زیادہ فرق نہیں۔ پھریہ کہ ابلیس نے کس طریقے سے حضرت آدم ؑ کو دھوکا دیا‘ پھسلایا‘ اغوا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم ؑکو ہبوطِ ارضی کا حکم۔ گویا آخری چارٹر یہ دیا گیا کہ جاکر زمین پر چارج سنبھالو۔ جیسے کبھی برطانوی حکومت کسی وائسرائے کو ہندوستان بھیجتی تھی تو پہلے اس کی بریفنگ کے لیے تعلیم وتربیت اور یہاں کے حالات سے واقفیت کا کوئی اہتمام ہوتا ہوگا۔ پھر وہ ایک چارٹر لے کر یہاں آتا ہوگا کہ اُس کے حقوق کیا ہیں اوراُس کےاختیارات کیا ہیں! کون کون سے معاملات اُسے مرکزی حکومت یعنی تاجِ برطانیہ کو لازماً ریفر کرنے ہوں گے اور کن کن معاملات میں اسے اتھارٹی حاصل ہے اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق فیصلے کرسکتا ہے۔  امید ہے کہ زیر مطالعہ پانچ آیات کے درس میں ان میں سے پہلے تین مضامین مکمل ہوجائیں گے‘ ان شاءاللہ!
اس رکوع کی دس آیات برابر برابر دوحصوں میں منقسم ہیں۔ اس ضمن میںکچھ تمہیدی باتیں عرض کررہا ہوں ۔
مکلّف مخلوقات میں اوّلین: ملائکہ
اس رکوع میں تینوں مکلّف مخلوقات کا ذکر ہو رہا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کا سلسلہ انتہائی وسیع ہے۔ اَن گنت سیاروں اور ستاروں پر مشتمل گلیکسیز ہیں ‘ جمادات ہیں‘ نباتات ہیں ۔ پھر زمین پر بہت سی انواع کے حیوانات ہیں‘  جو مکلف نہیں ہیں۔ مکلّف سے مراد ہے جو responsible ہیں‘ جن پر کوئی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔   جو شعورِ ذات اور اپنے وجود کا شعور بھی رکھتے ہیں۔ پھر یہ کہ وہ اوامر و نواہی کے مخاطب اور پابند بنائے گئے ہوں اور ان کا محاسبہ ہو۔ ایسی تین مخلوقات ہیں: ملائکہ‘ جِنّات اور انسان۔  ان تینوں کے مراتب کو پہچانیے۔ ان میں بلند ترین مخلوق ملائکہ ہیں‘ اور یہاں سب سے پہلے انہی کا تذکرہ ہورہا ہے: {وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَۃِ}۔ اس لفظ کو بھی سمجھ لیجیے۔ أَلَکَ یَلِکُ (ض) أَلْکًا و أُلُوکَۃً  کے معنی ہیں: پیغام پہنچانا۔ أَلَکَنِی اِلَیہ:  اُس نے مجھے فلاں شخص کی طرف پیغامبر یا ایلچی بنا کر بھیجا۔ اسی سے یہ لفظ مَلائِک اور مَلائِکۃ (فرشتے) بنا ہےـ‘ جس کا واحد مَلَک استعمال ہوتا ہے۔ اصل میں یہ لفظ مَلْئَک ہے‘ لیکن کثرتِ استعمال سے مَلَک بن گیا ہے۔ درمیان میں سے ہمزہ کو حذف کردیا گیا‘ اور ہمزہ پر جو زبر تھی وہ لام کو دے دی گئی۔ یعنی اس کا مادہ ’’ملک‘‘ نہیں بلکہ ’’ألک‘‘ ہے۔ چنانچہ مَلَک  وہ ہے جو کسی کی پیغام رسانی کا ذریعہ بنے‘ جو ایلچی کی صورت اختیار کرے۔ مَلائِکہدرحقیقت اللہ تعالیٰ کے احکامات کو انسانوں اور تمام مخلوقات تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ ملئک کا جو ہمزہ حذف ہوگیا تھا وہ اس کی جمع میں ظاہر ہو گیا تو یہ لفظ ملائک بنا۔ ملائکۃ  کا ’’ۃ‘‘ تانیث کا نہیں بلکہ تکثیر کا ہے‘ یعنی مزید کثرت کے لیے آیا ہے۔ 
ملائکہ کے بارے میں چند باتیں ذہن نشین کرلینی چاہئیں۔ اگرچہ قرآن مجید میں  ان کامادّئہ تخلیق بیان نہیں کیا گیا‘ لیکن حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((خُلِقَتِ المَلائِكةُ مِن نورٍ، و خُلِقَ الجانُّ مِن مارِجٍ مِن نارٍ، و خُلِقَ آدَمُ ممَّا وُصِفَ لكم)) [صحیح مسلم]
’’فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے‘ جنوں کو آگ کے شعلے سے اور آدم   علیہ السلام  کو اس (مادے) سے پیدا کیا گیا ہے جس کو تمہارے لیے بیان کیا گیا ہے۔‘‘
ملائکہ اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہیں‘ لطیف ترین نورانی وجود کی حامل ہیں‘ لیکن صاحب ِ تشخص ہستی ہیں۔ ایک دور میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ فورسز آف دی نیچر کا نام ہے ‘ان کا کوئی تشخص نہیں ہے‘ کوئی personalised existance نہیں ہے۔ درحقیقت یہ صاحب ِ تشخص ہیں لیکن بہت لطیف وجود رکھتے ہیں۔ لطیف شے مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے لہٰذا فرشتے بھی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوسکتے ہیں‘ جیسا کہ ثابت ہے کہ حضرت جبرائیل  علیہ السلام    بعض اوقات انسانی شکل میں آتے تھے۔ ’’حدیث ِجبریل ؑ ‘‘مشہور ترین حدیث ہے جس کو ’’اُمّ السنہ‘‘ کہا گیا ہے‘ اس میں  حضرت جبرائیل ؑ کی انسانی شکل میںآمد ثابت ہے۔ 
مشرکا نہ مذاہب میں بھی فرشتوں کا کوئی نہ کوئی تصور موجود ہے‘کیونکہ وہ بھی درحقیقت توحید ہی کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ اس لیے کہ نسل انسانی کا آغاز شرک سے نہیں بلکہ توحید سے‘ اور گمراہی سے نہیں بلکہ ہدایت سے ہوا ہے۔ اس رکوع کے آخر میں الفاظ آئے ہیں: {فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی .....}  ’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت .....‘‘ حضرت آدم  علیہ السلام   پہلے انسان تھے اور وہ موحد کامل ‘ اللہ کے نبی تھے۔ مغربی فلسفہ میں جس انداز سے نسل انسانی کے تمدن وارتقاء کے مراحل بیان کیے جاتے ہیں‘ معلوم ہوتا ہے کہ آغاز میں نری جہالت ہی جہالت تھی‘ وحشت ہی وحشت تھی۔ مادّی اعتبار سے یہ تصور اپنی جگہ کسی حد تک صحیح ہو سکتا ہے‘ لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کوپہچاننے کا تعلق اور اُس کی توحید کا معاملہ ہے‘ یہ تو اوّل روز سے کامل تھا۔ بعد میں اس میں تنزل ہوا ہے کہ انسان مظاہر پرستی اور عناصر پرستی کی طرف مائل ہوگیا۔ چنانچہ انسان علم سے جہالت کی طرف گیا ہے‘ جہالت سے علم کی طرف نہیں آیا۔ مادّی علوم اور  scientific knowledge کے اعتبار سے تو کہا جا سکتا ہے کہ انسان جہالت سے علم کی طرف آرہا ہے‘ لیکن اصلاً   ہدایت کے اعتبار سے تووہ صحیح علم سے تنزل کرکے شرک کی طرف گیا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ انسان نے مظاہر فطرت کو پوجنا شروع کر دیا۔
مزید برآں ملائکہ کے بارے میں یہ گمراہی پیداہوئی کہ انہیں صاحب ِاختیار ہستیاں سمجھ لیا گیا‘ لہٰذا ان کی بھی پوجا پاٹ شروع ہو گئی۔ عربوں کے ہاں تصور تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں‘ جس کی تردید بایں الفاظ کی گئی:{اَفَاَصْفٰىکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًاط}(بنی اسرائیل:۴۰) ’’تو کیا تمہیں تومنتخب کر لیا ہے تمہارے ربّ نے بیٹوں کے ساتھ اور اپنے لیے بنا لی ہیں فرشتوں میں سے بیٹیاں؟‘‘ ان کا خیال تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کریں گے تو بیڑا پار ہو جائے گا۔ ان کے ذریعے سے ہم اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرسکتے ہیں۔ جب کہ قرآن مجید کے مختلف مقامات اور احادیث ِ نبویہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فرشتے بہت برگزیدہ ہستیاں ہیں‘ نوری الاصل ہونے کی بنا پر انہیں اللہ کا بہت قرب حاصل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست تلقی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والے ترشحات کو قبول کرنے اور جذب کرنے کی ان میں صلاحیت رکھی گئی ہے۔ احکاماتِ خداوندی انہیں براہِ ِ راست پہنچتے ہیں اور یہ آگے پہنچاتے ہیں۔البتہ صاحبِ اختیار اور صاحب ِارادہ نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ ان کا معصیت اور گناہ کی طرف کسی رجحان کا کوئی امکان نہیں: {وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)}(التحریم) ’’وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے۔‘‘ 
ملائکہ میں معصیت کا امکان نہیں
اہل ِسُنّت کا تو اس پر اجماع ہےکہ فرشتوں میں معصیت کا امکان ہی نہیں‘ نافرمانی کی قدرت ہی نہیں ۔ گویا ان سے صرف نیکی اور خیر ہی ممکن ہے‘ دوسرا راستہ ان کے لیے کھلا ہی نہیں ۔ جب کہ معتزلہ کی رائے یہ ہے‘ اور ہمارے ہاں عقلی رجحانات رکھنے والے طبقہ کا اس سے اتفاق ہے‘ کہ ایسا نہیں ہے کہ ان میں معصیت کا امکان ہی نہیں‘ یا وہ معصیت کی قدر ت ہی نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک فرشتے بھی صاحب ِارادہ مخلوق ہیں‘ لیکن اس کائنات کے حقائق ان پر اس درجہ روشن ہیں کہ ان کے لیے عملاً معصیت ممکن نہیں۔ جیسا کہ انسان کے سامنے بھی اگر جنت اور دوزخ موجود ہوں‘ اور یہ حقائق جو ہم سے پردے میں ہیں یا جن سے ہم محجوب ہیں‘ یہ غیب کا پردہ درمیان میںنہ ہو تو کون اللہ کا حکم ماننے سے انکار کرے گا؟ کون معصیت کرے گا؟ چونکہ انہیں وہ قرب حاصل ہے اور  حقائق ان کے سامنےموجود ہیں‘ لہٰذا وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ 
یہ بالکل اسی کے ہم وزن بات ہو جائے گی کہ ہم اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر عدل واجب نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ عدل کرے گا‘ یہ علیحدہ بات ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ پر عدل واجب ماننا گویا اللہ تعالیٰ کے اختیار کو محدود سمجھنا ہے‘ جو اہل ِسُنّت تسلیم نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کسی نیک آدمی کو سزا دینا چاہے یا کسی بدترین بدکار کو معا ف کرناچاہےتو یہ اُس کا اختیار ِمطلق ہے۔ اس اعتبار سے اہل ِسُنّت کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر عدل واجب نہیں‘ جبکہ معتزلہ او راہل ِتشیع کاموقف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر عدل واجب ہے۔ بالکل یہی فرق یہاں ہے کہ معتزلہ کا موقف یہ ہے کہ فرشتے معصیت کرسکتے ہیں لیکن کرتے نہیں۔ دوسری طرف اہل ِسُنّت کا موقف یہی ہے کہ ان کے اندر معصیت کی قدرت ہی نہیں ہے۔ وہ خیر ِمحض ہیں‘ ان میں وہ مادہ ہی سرے سے موجود نہیں ہے کہ جس کی بنا پر معصیت کا صدور ہوجائے۔ البتہ اس پر اتفاق ہے کہ انہیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی:{وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ}(مریم: ۶۴)’’(اے نبیﷺ !) ہم نازل نہیں ہوسکتے مگر آپ کے رب کے حکم سے۔‘‘ اُس کی اجازت ‘ اُس کا حکم ہوگا تو نازل ہوں گے۔ {لَّا یَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)} (التحریم) ’’وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے کسی بھی حکم میں جو انہیں دیا جاتا ہے بلکہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
ملائکہ میں حفظِ مراتب
ان میں درجات ہیں ‘ حفظ ِمراتب ہیں۔ سیّد الملائکہ ‘ روح الامین اور روح القدس حضرت جبریل  علیہ السلام   ہیں۔ آپ ؑ انبیاء ورُسل   علیہم السلام  تک اللہ تعالیٰ کے پیغام اور وحی پہنچاتے رہے ہیں۔ حضرت میکائیل  علیہ السلام   بارش برسانے اور رِزق کی تقسیم پر مامور ہیں۔ حضرت اسرافیل  علیہ السلام   قیامت کے روز صور پھونکیں گے۔ حضرت عزرائیل  علیہ السلام   انسانوں کی روح قبض کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ کراماً کاتبین ہر انسان کے دائیں اور بائیں کاندھے پر اُس کے اچھے اور برے اعمال کا ریکارڈ رکھنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ منکر اور نکیر موت کے بعد قبر میں انسان سے سوالات کرتے ہیں۔کچھ فرشتے حاملین عرشِ الٰہی ہیں۔ باقی آسمان کے مختلف طبقات (جن کی حقیقت کو ابھی تک ہم نہیں سمجھتے) اور زمین میں اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَ مَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَ يَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ))  [صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، ح: ۵۵۵]
’’رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں‘ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں (ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے‘ حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے‘ کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ (فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ (عصر کی) نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘
چنانچہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکومت کے احکامات کی تنفیذ کرنے والے ہیں۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی سول سروس کے کارندے ہیں۔ 
ابلیس جِنّات میں سے تھا
دوسرا اس میںابلیس کا ذکر آرہا ہے۔ سورۃ الکہف میںجہاں یہ مضمون آیا ہے‘ وہاں ابلیس کے بارے میںیہ وضاحت کردی گئی ہے: {كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ}  (آیت ۵۰) ’’وہ جِنّات میں سے تھا‘ پس اُس نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔‘‘ وہ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری سے نکل بھاگا۔ جِنّات کا مادّۂ تخلیق نار (آگ) ہے۔ یہ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ آیا ہے‘بلکہ بار بار تقابل آیا ہے۔ سورۃ الرحمٰن میں فرمایا:
{خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ(۱۴) وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ(۱۵)}
’’اُس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹّی سے۔ اور جِنّات کو اُس نے پیدا کیا آگ کی لپٹ سے۔‘‘
انسانوں کی تخلیق قشر ِارض  (crust of the earth) یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ حیواناتِ ارضی میں انسان سب سے اعلیٰ وارفع ہے۔ جہاں تک جِنّات کا تعلق ہے تو وہ آگ کی لپٹ سے پیدا کیے گئے ہیں۔ شعلے کا ایک حصہ تو وہ ہے جو نظر آتا ہے اورایک وہ ہے جو نظر نہیں آتا ‘ اور وہاں حرارت کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ آگ کی لو پر مشتمل ہوتا ہے ۔ توان کی پیدا ئش آگ کی لو سے ہوئی ہے۔ جِنّات میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ قرآن حکیم میں خود جِنّات کا قول نقل ہوا ہے: {وَّاَنَّا مِنَّا  الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط} (الجِنّ:۱۱) ’’اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔‘‘ مادّۂ تخلیق کے اعتبار سے یہ انسانوں سے برتر اور ملائکہ سے کم تر ہیں‘ لیکن انہیں ملائکہ کے ساتھ اس اعتبار سے ایک قرب حاصل ہے کہ نار اور نور میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ لفظی اعتبار سے بھی ان کا مادّہ اور حروفِ اصلی ایک ہی ہیں۔ ’’نار‘‘ اور ’’نور‘‘ کے درمیان میں ’’ ا‘‘ اور ’’و‘‘ حروف ِعلّت ہیں جو ایک دوسرے کی جگہ پر آجاتے ہیں اور بدل جاتے ہیں۔ چنانچہ نار اور نور میں زیادہ فصل نہیں ہے۔ ان کا وجود چونکہ غیر مرئی (invisible) ہے اس لیے ان کو ’’جِنّ‘‘ کہا گیاہے۔ ’’ج ن ن‘‘ مادّہ میں چھپنے اور چھپانے کا مفہوم ہے۔ باغ کو ’’جنّت‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ اُس کے اُوپر ہریاول کی وجہ سے زمین چھپ جاتی ہے‘ نظر نہیں آتی ۔ 
چونکہ ان کا مادۂ تخلیق لطیف ہے لہٰذا یہ مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں۔ انسانی صورت میں بھی آسکتے ہیں‘ حیوانات کی شکلیں بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص طورپر یہ سانپوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے:
((إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هٰذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ))  [صحيح مسلم، كتاب السلام، ح:۵۸۴۱]
’’مدینہ میں جنوں کی کچھ نفری رہتی ہے جو مسلمان ہو گئے ہیں۔ پس جو شخص ان (پرانے) رہائشیوں میں سے کسی کو دیکھے تو تین بار اُسے خبردار کرے۔ اس کے بعد اگر وہ اس کے سامنے نمودار ہو تو اسے قتل کر دے‘ کیونکہ وہ شیطان (ایمان نہ لانے والا جِنّ) ہے۔‘‘
قرآن مجید میں ۶ مقامات پر اس طورسے ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدمؑ کو سجدہ کریں۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (انکار کیا)۔ قرآن حکیم کے الفاظ {فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ} سے بعض لوگوں کو کچھ اشتباہ ہوجاتاہے کہ شاید ابلیس بھی فرشتوں میں سے تھا۔ چنانچہ بعض لوگ اس رائے کے حامل ہو بھی گئے ہیں‘ لیکن قرآن مجید میں تکرار (repetition)یونہی بلا سبب نہیں آتی۔ سورۃالکہف میں اس کی وضا حت کردی گئی کہ وہ جِنّات میں سے تھا۔ کوئی بھی فرشتہ اللہ کے کسی بھی حکم سے سرتابی نہیں کرتا۔ جِنّات میں سے ابلیس اتنا عابد ‘ زاہد اور عالم تھا کہ اسے ملائکہ سے ایک قرب حاصل تھا اور یہ گویاایک اعتبار سے ملائکہ ہی کے زمرے میں شامل ہوگیا تھا۔ 
واضح رہے کہ ملائکہ میں کوئی تذکیر وتانیث نہیں ہے‘ کوئی سلسلہ توالد و تناسل نہیں ہے‘ جبکہ جِنّات میں مذکر اور مؤنث یعنی نر اور مادہ ہیں۔ ان میں توالد و تناسل بھی ہے۔ ان پہلوؤں کے اعتبار سے یہ انسانوں سے قریب تر اور مشابہ ہیں۔ انسانوں کی طرح ان میں نیک بھی ہیں بد بھی ہیں ‘ اچھے بھی ہیں برے بھی ہیں۔
  قرآن مجید میں شیطان کو جو ’’ابلیس‘‘ کا نام دیا گیا ہے تو یہ بھی اس کا صفاتی نام ہے۔ اس کا اصل نام بعض احادیث کی روسے ’’عزازیل‘‘ آیا ہے۔ یہ ایک جِنّ تھا اور جِنّات کی عمریں انسانوں کے مقابلے میں بہت طویل ہوتی ہیں۔ حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار پر جب یہ راندۂ درگاہ ہوا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ مجھے قیامت تک کے لیے مہلت عطا فرما {اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۴) }(الاعراف) کہ آدم ؑ کے بارے میں میرا جو گمان تھا اُسے سچا ثابت کرسکوں۔ اُسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مہلت عطا کر دی گئی۔ چنانچہ وہ جو اصل جِنّ ہے ابلیس ‘ وہ زندہ ہے اور تاقیامت زندہ رہے گا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے زندگی کی یہ طوالت خصوصی گرانٹ کی ہے۔ تاہم مولانا اصلاحی صاحب کواس ضمن میں کچھ مغالطہ ہوا ہے اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ وہی ابلیس ابھی تک زندہ ہو۔ ہمارے تمام مفسرین کا اجماع ہےکہ وہ جو خاص شخصیت ہے‘ ابلیس یا عزازیل‘ وہ مستقل ہے‘ البتہ اُس کی ذُرّیت اور دیگر جِنّات کی ذُرّیات پر موت بھی واقع ہوتی ہے۔ ’’شیطان‘‘ کا لفظ جب آئے گا تو وہ عام ہوگا۔ شیاطین تو جِنّ واِنس دونوں میں ہیں۔ جِنّات کی طرح انسانوں میں سے بھی جو نافرما ن ہیں‘ جن میں سرکشی و تمرد ہے اور وہ شر کے داعی بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ لوگوں کو غلط بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بھی سب شیاطین ہیں۔ 
آدم کی تخلیق
اب تیسرے درجے میں ہم بات کرتے ہیں انسان یا آدم کی۔ اس ضمن میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی انسا ن کی تخلیق کا تذکرہ آیا ہے تو اکثرو بیشتر جگہوں پر آدم کا ذکر نہیں ہے بلکہ بشر یا انسان کے الفاظ آئے ہیں۔ اس اعتبار سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ مَیں عرض کروں گا۔ سورۃ الحجر کی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانی اعتبار سے انسان کی تخلیق مؤخر ہے: 
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(۲۶) وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ(۲۷)} (الحجر)
’’اور یقیناً ہم نے بنایا ہے انسان کو سَنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹّی سے۔ اور جِنّات کو ہم نے پیدا کیا تھا اس سے پہلے آگ کی لپٹ سے۔‘‘
 معلوم ہوا کہ زمانی معاملہ یہ ہے کہ تین مکلّف مخلوقات میں سے اوّلین مخلوق ملائکہ تھے‘ جو نور سے پیدا کیے گئے۔ پھر جِنّات کو نار سے پیدا کیا گیا‘ اور اس کے بعد سب سے مؤخر مخلوق انسان ہے۔ انسان کا مادّۂ تخلیق ’’قشر ِارض‘‘ہے‘ یعنی زمین کی اوپر کی پپڑی یا clay‘ جسے مٹی کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف جگہوں پرپانچ چھ مختلف تعبیرات استعمال کی گئی ہیں۔ کہیں لفظ ’’تُرَاب‘‘ آیا ہے‘ جو ریت کو نہیں بلکہ مٹی کو کہتے ہیں۔ ریت علیحدہ شے ہے جو ریگستانوں میں ہوتی ہے‘ جبکہ مٹی زرخیز جگہ پر ہوتی ہے۔ کہیں اسے ’’طِین‘‘ کہا گیا ہے‘جو گارے کو کہتے ہیں۔ جب مٹی کو پانی سے گوندھ لیں تو وہ گارا بنتا ہے۔ کہیں اسے ’’طِینٍ لَّازِب‘‘ کہا ہے۔ اگر وہ گاراکہیں کچھ عرصہ پڑا رہےاور اس میں نامیاتی مواد (organic matter) بھی ڈال دیا جائے تو اس میں تخمیر(fermentation)  ہوتی ہے اور لیس پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ دیہات میں آج بھی گھروں کو لیپنے پوتنے کے لیے مٹی گوندھی جاتی ہےتو اس میں توڑی ڈال دیتے ہیں۔اس طرح اس کے اندر ایک طرح کا لیس پیدا ہو جاتا ہےجس سے لپائی کے بعد کریش نہیں آتی۔ یہ تخمیر والی مٹی ’’طِیْنٍ لَّازِب‘‘ ہے‘ جس کےاندر لوچ ہے۔ سورۃ الصافات میں ارشاد ہوا: {اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ(۱۱) } ’’ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے۔‘‘ سورۃ الحجر میں تین بار یہ الفاظ آئے:{مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(۲۶) } یعنی وہ گارا جس کے اندر بدبو یا سڑاند پیدا ہوجائےاور پھر  سوکھ کر کھنکھنانے لگے۔ جیسے دلدلی علاقوں میں مٹی کے اوپر جو پپڑی سی بن جاتی ہے وہ کھنکتی ہے۔پھر سورۃ الرحمٰن میں الفاظ آئے :{مِنْ صَلْصَالٍ  کَالْفَخَّارِ(۱۴) } یعنی ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔ تو یہ ہے انسان کا مادّۂ تخلیق!
تخلیق آدم کے مراحل  
ایک مسئلہ یہ کہ آدمِ خاکی کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کس طور سے کی ہے؟ آیا اس گارے کا پتلا بنایا‘ جیسا کہ کوئی بچہ پتلا بناتاہے او رپھر اُس سے کھیلتا ہے؟ یا جیسے کوئی فنکار یا مجسمہ تراش پتھر یا مٹی سے مجسمہ بنائے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے گارے سے انسان کا پتلا بنایا اور پھر اُ س میں براہ راست پھونکا تو اُس میں جان پڑگئی! جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیےیہ چیز نہ تو ہرگز مستبعد ہے او رنہ ناممکن ہے۔ اس کی ایک مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ   علیہ السلام  کو جو معجزا ت عطا کیے گئے‘ اُن میں سے ایک یہ معجزہ بھی ہے: 
{اَنِّیْ قَدْ جِئْتُـکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْلا اَنِّیْ اَخْلُقُ لَـکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًا  بِاِذْنِ اللہِ ج }
’’مَیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں کہ مَیں تمہارے لیے مٹّی سے پرندے کی مانند صورت بناتا ہوں‘ پھر مَیں اس میں پھونک مارتا ہوںتو وہ بن جاتا ہے اُڑتا ہوا پرندہ اللہ کے حکم سے۔‘‘
 اسی طرح حضرت آدم  علیہ السلام  کی تخلیق ہوئی ہو تو کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی کیا ہو۔چنانچہ اگر کسی کا یہ تصور بھی ہے تو یہ کوئی بعید از قیاس یا بعید از اِمکان نہیں ہے۔ پھر اس میں بھی دو امکانات ہیں۔ عام طور پر تصور یہ ہے کہ وہ مٹی زمین سے آسمانوں پر لے جائی گئی۔ وہاں پر اُس کا مجسمہ بنا اور پھر روح پھونکی گئی تو اُس نے حضرت آدم ؑ کی شکل اختیار کی۔ پھر اُنہیں زمین پر اتار اگیا۔ یہ بھی کوئی ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ   علیہ السلام   کو زندہ آسمان پر لے گیا اور ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ پھر آئیں گے ‘ صحیح احادیث کے اندر اس کی خبر موجود ہے‘ تو یہ بھی ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ 
اس ضمن میں ایک تیسرا امکان بھی ہے‘ اور وہ بھی ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ وہ یہ کہ یہ سارا معاملہ زمین ہی پر ہوا ہو اور تخلیق کے تما م مراحل اُسی طور سے طے ہوئے ہوں جس طور سے حیاتیات کے علماء اور ماہرین بیان کرتے ہیں۔ evolutionاور mutation  دو الفاظ علیحدہ ہیں‘ تاہم ان کے مابین فرق سے قطع نظر ماہرین حیاتیات اس بات پر متفق ہیں کہ زمین پر حیوانات کے سلسلے نے تدریجا ً ترقی پائی ہے۔ البتہ lower species سے higher species کیسے وجود میں آئیں‘ یہ وہ مسئلہ ہے جو ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔ اس کی جو تشریح ‘ تاویل‘ توجیہہ اور تعبیر ڈاروِن نے کی تھی اس میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے کوئی ٹھوس سائنسی شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔ یعنی یہ کہ حالات کے تغیر کے پیش نظر کوئی جاندار (organism) اپنی ساخت میںماحول سےہم آہنگی اور مطابقت (adaptation) پیدا کرتاہے‘ اور نئے ماحول میں نئے اوصاف  (acquired characters) اختیار کر لیتا ہے۔ حیوانات کے جسمانی اور عضویاتی نظام میں جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں‘ وہ تدریجاًبڑھتے بڑھتے اور نسلاً بعد نسلٍ وراثت میں منتقل ہوتے رہنے سے ایک بالکل نئی نوع (species) کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ تاہم اس نظریے کے تسلیم کیے جانے میں اہم ترین رکاوٹ یہ رہی ہے کہ حیوانات میں نئے اوصاف کا تناسل و توارث کے ذریعے اگلی نسل کو منتقل ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا۔ یعنی سائنسی طور پر یہ بات ثابت نہیں ہو سکی۔ لہٰذا ڈاروِن کے فلسفے کو ذہن سے نکال کر قرآن کے الفاظ پر غور کیجیے۔ 
انسان کے مادۂ تخلیق کے بارے میں قرآن حکیم میں آنے والی مختلف اصطلاحات (تُراب، طِین،  طِینٍ لَّازِب ، صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُون، اور بالآخر صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ) پر تدبر کیا جائے تو یہ اس پر دلالت کررہے ہیں کہ دلدلی علاقوں میں مٹی     کے اندر نامیاتی(organic)صفات پیدا ہوئیں‘ پھر جہاں پانی اور مٹی کا مسلسل    تعامل (interaction) تھا وہاں حیات کا آغاز یک خلوی جاندار(unicellular organism) سے ہوا۔ پھر اُس سے بڑھتے بڑھتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حیوانات کی مختلف انواع (species)  وجود میں آئیں۔ ان حیوانات کے اندر تدریجاً ارتقا ہوا۔ پہلے حیات کی ادنیٰ صورتیں (lower forms)  ظاہر ہوئیں‘ اور پھر اُنہی سے یا علیحدہ سے نسبتاً اعلیٰ صورتیں (higher forms)  ظہور پذیر ہوئیں۔مختلف انواع کے مراحل ِتخلیق کے درمیان جو بھی خلا تھا‘ اسے اللہ تعالیٰ کے حکم ِ’’کُنْ‘‘ نے پُر کیا۔ ذاتِ خالق وباری و مصور نے جب چاہا ‘اپنے امر ِ’’کُنْ‘‘ سے حیوانات کی کسی بھی نوع کے genes میں تبدیلی پیدا کردی‘ اور اس طرح ایک نئی نوع وجود میں آگئی۔ یہ سلسلہ ایک طویل مدّت تک جاری رہا‘ یہاں تک کہ ’’حیوانِ انسان‘‘ یعنی بیالوجی کی اصطلاح میں ''Homo Sapiens" کے ظہور پر اختتام پذیر ہو گیا۔  واللہ اعلم!
قِصّہ ٔ زمین برسر زمین
مذکورہ بالادونوں امکانات کو مدّ ِ نظر رکھیں تو یہ بھی کوئی ناممکنات میںسے نہیں ہے‘ اور میرا اپنا ذاتی رجحان اسی کی طرف ہے کہ یہ سارا قصہ ٔ زمین برسر زمین ہی ہوا ہے‘ اوریہ قصہ ٔ  زمین بر سر زمین طے بھی ہوگا۔ میدانِ حشر بھی اسی زمین پر ہوگا ۔ جیسا کہ سورۃ الفجر میں آیا ہے :{ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا(۲۲)}’’اور آپ کا ربّ جلوہ فرما ہو گا جب کہ فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس نزول کی کیا کیفیت ہوگی‘ وہ ہم نہیں جانتے۔ یہ تمام چیزیں بائبل میں اس انداز سے آئی ہیں کہ وہ عارضی جنت جسے آزمائشی جنت بھی کہہ سکتے ہیں‘ اس زمین پر ہی تھی‘ جس میں حضرت آدم ؑ رکھے گئے ۔ اس سے عملی طور پر یہ ظاہرکرنا مقصود تھاکہ اس شیطان کو پہچان لو‘ یہ تمہارا ازلی  اورابدی دشمن ہے۔ اس اعتبار سے تورا ت کے مطابق وہ آزمائشی جنت اسی زمین پر کسی اونچی جگہ پر تھی‘ جہاں پر ہرقسم کا سازوسامان اور زندگی کی ضروریات آسانی سے اور فراوانی کے ساتھ موجود تھیں۔ اُنہیں کچھ کام نہیں کرنا پڑتا تھا اور بڑی آسانی سے پھلوں کی شکل میں انہیں رزق مل رہا تھا۔ گویا زمین پر جنت کی ایک کیفیت تھی۔ قرآن مجید کاطرز ِ بیان بھی ایسا نہیں ہے کہ یہ چیزیں منطبق نہ ہوتی ہوں۔ باقی ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ چیزیں متشابہات میں سے ہیں‘جن کے بارے میں تیقن اور تعین کے ساتھ کوئی بات کہنا ممکن نہیں۔ 
مَیں نے جو مخلوقات کے تین مراتب بیان کیے: ملائکہ ‘ جِنّات اور پھر حیاتِ ارضی کی بلند ترین شکل انسان ‘ اس ضمن میں چند معروضات پیش کر رہا ہوں۔ آج فلسفہ ٔسائنس کی رو سے متعدد نظریات ایک طرح سے تسلیم شدہ حقائق (established facts) کی حیثیت سے قبول کیے جاچکے ہیں۔ ان میں سے دو مراحل سائنس کی گرفت میں آچکے ہیں۔ ایک تو ’’انفجارِ عظیم‘‘ـ (Big Bang) یعنی ایک بہت بڑا دھماکا  (explosion)ہوا اور اُس کے نتیجے میں جو مادّہ پیدا ہوا اس کا درجہ حرارت اپنی انتہا پر تھا۔ اس مادے کے پھیلنے سے تمام ستارے اور سیارے وجود میں آئے‘ جن کا ٹمپریچر لاکھوں ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ کائنات ٹھنڈی ہوتی رہی اور مختلف کُرے بھی ٹھنڈے ہوئے۔ ہماری زمین بھی شروع میں بہت گرم تھی ‘ جو رفتہ رفتہ ٹھنڈی ہوئی ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹھنڈی ہوئی تو اس کی بالائی سطح پر مٹّی کا غلاف وجود میں آیا۔ پھر اس سے بخارات نکلے‘ جنہیں قرآن نے ’’دخان‘‘ کہا ہے۔اسی دخان کے اندر مختلف گیسوں کے تعامل سے پانی بنا اور پھر وہ زمین پر برسا۔ زمین پر پہلے غیر نامیاتی مرکبات اور بالآخر نامیاتی مرکبات وجود میں آئے۔
عالم ِخلق اور عالم ِامر
البتہ فرشتوں کی تخلیق کا معاملہ سائنس کے دائرے سے خارج ہے۔ ملائکہ اور ارواحِ انسانی عالم ِامر کی تکوین ہے ‘ اور ہماری فزیکل سائنس صرف عالم خلق کوexplore  کرسکتی ہے ‘ عالم ِا مر سے اسے کوئی سروکار نہیں ۔ انسان کا مرکب وجود ہے‘ جو روح اور جسد پر مشتمل ہے۔ ارواحِ انسانی بالکل ملائکہ کے ہم پلہ ہیں۔ یہ نورانی ہیں‘ نوری ٔالاصل ہیں۔ارواحِ انسانی فرشتوں کے ساتھ ہی پیداکردی گئی تھیں‘ جنہیں پھر کسی ’’کولڈ سٹوریج‘‘ میں رکھ دیا گیا۔ اب جیسےجیسےاس عالم ِخلق میں رحم مادر کے اندر کسی انسان کاہیولیٰ تیار ہوتا ہے تو اس کی روح لا کر اس میں شامل کردی جاتی ہے۔ روح کے اعتبار سے انسان جِنّات سے بہت بالا ہے لیکن محض اپنے مادّی جسد کے اعتبار سے وہ جِنّات سے کم تر ہے۔ اس لیے کہ جِنّات کی تخلیق نار سے ہوئی ہے جبکہ ہمارا یہ مادّی یاجسدی وجود مٹی سے بنا ہے۔ ہماری ارواح تو فرشتوں کی ہم پلہ بلکہ ایک اعتبار سے اُن سے بھی بالاتر ہیں۔ یہاں یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ ارواحِ انسانیہ میں سب سے بلند مرتبہ  روحِ محمد ی ﷺ  ہے اورآپؐ سے بالاتر کوئی ہستی نہیں ۔بالکل صحیح کہا ہے جس نے بھی کہا ع ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!‘‘ اس لیے کہ ارواحِ انسانیہ ملائکہ سے بالاتر ہیں۔ سب کے سب فرشتوں کو حضرت آدم  علیہ السلام   کے سامنے جھکایا جارہا ہے تو ان کا بالاتر ہونا ثابت ہوگیا۔ نوری الاصل ہونے کے اعتبار سے فرشتے اور ارواحِ انسانیہ برابر ہیں۔اس اعتبار سے تو مساوات ہے لیکن پھرفرقِ مراتب ہے۔ ملائکہ میں حضرت جبریل  علیہ السلام  سیدالملائکہ ہیں۔ انسان اپنے مرتبہ میں ملائکہ سے بالا تر ہے‘ اور ان میں بالاترین اور سب سے برتر روحِ محمدیﷺ ہے۔
مَیں آج کل علامہ اقبال کی ایک کتاب پڑھ رہا ہوں: "Thoughts and Reflections of Iqbal" ۔اس میں ایک انگریز مفکر کا قول نقل کیا گیاہے کہ ہماری زبان (انگریزی) کی بڑی ہی تنگ دامانی ہے کہcreation کا صرف ایک ہی لفظ ہے اورہم اس کی مزید درجہ بندی نہیں کرسکتے۔ واقعہ یہ ہے کہ عربی زبان اس اعتبارسے بہت جامع ہے کہ قرآن نے دو اصطلاحات استعمال کی ہیں: عالم ِامر اور عالم خلق۔ ان دونوں کے حوالے سے مَیں جو چیزیں بیان کرتا رہا ہوں ‘علامہ اقبال کی تحریر کےاندر بھی وہ بات مجھے ملی ہے کہ خلق اور امر دو بالکل جدا عالم ہیں ۔ یہ مادی دنیا (material world)  عالم ِخلق ہے‘ جبکہ عالم امر اس سے ماوراء وبالاتر ہے‘ جو ہماری فزیکل سائنس کی ریسرچ اور دریافت کے دائرے میں آتا ہی نہیں ۔ ہمارے پاس سائنسی علم کے جو بھی ذرائع ہیں‘ ان کی وہاں تک رسائی نہیں ۔ 
قرآن مجید میں ارواحِ انسانیہ کی تخلیق کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ ملائکہ کی تخلیق کابھی کہیں ذکرنہیں ہے۔سورۃ الصافات میں مشرکین کے اس خیال کی نفی کی گئی کہ ملائکہ مؤنث ہیں تووہاں لفظ ِ خلق آگیا ہے:
{اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ(۴۶)}
’’کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مؤنث بنایا تھا اور وہ اس کے گوا ہ ہیں؟‘‘
 درحقیقت ا رواحِ انسانیہ اور ملائکہ عالم ِامر کی شے ہیں ‘جبکہ ’’نار‘‘ عالم خلق کی شے ہے۔ ہمارا علم ابھی Big Bang  تک پہنچا ہے ۔ اس سے پہلے کیا تھا ‘اس کو انسانی علم نہ جان سکا ہے اور نہ جان سکے گا۔ جب عالم خلق کا آغاز ہوا تھا ‘اس کی کیفیات کا تصور ہمارے لیے ممکن نہیں ۔ ہمارے لیے ایک لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ ٹمپریچر ناقابل تصورہے‘ تو اُس وقت کا اصل ٹمپریچر کئی لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تھا‘ اور اُس آگ سے جِنّات کی تخلیق ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے جِنّات کا ملائکہ سے قریب تر ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ’’نور‘‘ اور ’’نار‘‘ کامعاملہ قریب تر ہے۔ پھر وہ تخلیق میں ہم سے مقدم ہیں : {وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰـہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ(۲۷) } (الحجر)۔ قرآن مجید میں اس کی صراحت بھی آگئی اور وہ ابلیس جس کے سا تھ یہ سارا ماجرا پیش آیا ‘جِنّات میں سے تھا۔
آخری بات یہ کہ اس رکوع کے ان تمام مضامین کو آپ ’’متشابہات‘‘ کےکھاتے میں درج کرلیں ۔ اس واقعہ کا جو نتیجہ نکلتا ہے اسے تو ہم نے مضبوطی سے تھامنا ہے لیکن یہ کیسے ہوا‘ کب ہوا‘ اور جو حالات و واقعات پیش آئے وہ ہمارے تصور سے ماوراء ہیں۔ ظاہر ہے یہ استعاراتی انداز ہے‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا قول بھی ایسا نہیں ہے کہ جیسے مَیں آپ سے بات کر رہاہوں یا آپ ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے ہیں۔ اللہ کے کلام کی کیا شان ہوگی: {وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ....}۔ اللہ نےکہا ‘کیسے کہا ؟ قرآن مجید میں بعض جگہوں پر یہ وضاحت کی گئی ہےکہ اللہ تعالیٰ جب کلام فرماتے ہیں تو فرشتوں پر اس قدر دہشت چھاجاتی ہےکہ بے ہوش ہوکر گر پڑتے ہیں۔پھر جب ان کے دلوں سے  دہشت کی کیفیت دور کر دی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: {مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ} کہ تمہارے ربّ نے کیا فرمایا؟{ قَالُوا الْحَقَّ}(سبا:۲۳) وہ کہتے کہ جو فرمایا حق فرمایا! چنانچہ ایسا ہرگز نہ سمجھیےکہ حضرت آدم  علیہ السلام   کو سجدہ کرایا گیا تو جیسے کوئی دربار لگا ہوا ہے اور سامنے حضرت آدم  علیہ السلام   تشریف فرما ہیں اور فرشتے سب کے سب ان کے آگے جھک گئے ہیں ۔ اپنے ذہن میں اس انداز کا کوئی خاکہ ‘ کوئی تصویر ‘ کوئی نقشہ نہ بنالیں‘ جیسے ہمارے تجربے اورمشاہدے کے انسانی واقعات ہوتے ہیں۔ یہ سب استعاراتی کلام ہے۔ یہ واقعتاً ہو ا ہے‘ لیکن کیسے ہوا ہے‘ اس کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اس کا محکم حصہ اس سے نکلنے والا نتیجہ ہے۔پہلے حصے کے دو نتیجے ہیں:(۱) حضرت آدم  علیہ السلام   کا مقام یعنی خلیفۃ اللہ فی الارض مقرر کیا جانا (۲) اس خلافت کی اصل بنیا د علم الاسماء ہے جو حضرت آدم  علیہ السلام   کو دے دیا گیا۔  (جاری ہے)