(عرض احوال) زوالِ اُمّت ِمسلمہ : اسباب‘ سبق اور نشا ٔۃِ ثانیہ کا راستہ - رضاء الحق

10 /
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
زوالِ اُمّت ِمسلمہ : اسباب‘ سبق اور نشا ٔۃِ ثانیہ کا راستہ
  ایک زمانہ تھا جب بغداد‘ دمشق‘ قرطبہ‘ قاہرہ‘ بخارا اور سمرقند علم‘ تہذیب‘ عدل اور تمدن کے مراکز تھے۔ مسلمان صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں تھےبلکہ علم‘ طب‘ فلکیات‘ ریاضی‘ فلسفہ‘ معیشت اور اخلاقی قیادت میں بھی دنیا کی رہنمائی کر رہے تھے۔آج وہی اُمّت سیاسی طور پر منتشر‘ معاشی اعتبار سے دوسروں کی محتاج‘ عسکری لحاظ سے کمزور‘ علمی میدان میں پیچھے اور فکری اعتبار سے مغلوب دکھائی دیتی ہے۔خصوصاًفلسطین کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم‘ جبر اور انسانی المیے کی علامت بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر‘ برما‘ شام‘ یمن‘ سوڈان اور دیگر مسلم خطے بھی مختلف نوعیت کے بحرانوں سے گزر رہے ہیں۔یہ تمام سانحات دراصل ایک بڑے مرض کی علامات ہیں۔استعمار‘ صہیونیت اور عالمی استکباری و استحصالی قوتوں نے مسلم دنیا کو کمزور کرنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت کام کیا‘ لیکن بیرونی دشمن تب ہی کامیاب ہوتا ہے جب اندرونی دیواریں کمزور ہو چکی ہوں۔ اس لیے اُمّت ِمسلمہ کے موجودہ بحران کا جائزہ لیتے وقت اپنی داخلی کمزوریوں کا بے لاگ محاسبہ بھی ناگزیر ہے۔
اُمّت کے احیاء کا راستہ تلاش کرنا ہو تو سب سےپہلے اس نمونے کی طرف رجوع کرنا ہوگا جس نے پہلی مرتبہ ایک منتشر معاشرے کو ایک مضبوط اُمّت میں تبدیل کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں اپنی دعوت کا آغاز سیاسی اقتدار سے نہیں بلکہ انسانوں کے دل بدلنے سے کیا۔ تیرہ برس تک آپﷺ نے ایسے افراد کو ایک نظم کے تحت پرویا۔ یہی تربیت یافتہ جماعت جب مدینہ پہنچی تو اس نے تاریخ ِ انسانی کا ایسا انقلاب برپا کیا جس کی مثال ملنا ممکن نہیں۔  
       بدقسمتی سے آج مسلمان قرآن مجید کو ثواب کی کتاب تو سمجھتے ہیں‘ مگر ہدایت کی کتاب کے طور پر اس سے اپنا تعلق کمزور کر چکے ہیں۔ ہماری اجتماعی زندگی بڑی حد تک قرآنی ہدایت سے خالی دکھائی دیتی ہے۔ معیشت سود کے سہارے چل رہی ہے‘ سیاست مفاد اور طاقت کے گرد گھوم رہی ہے‘ عدالتیں انسانی خواہشات سے متاثر ہیں‘ تعلیم بڑی حد تک مغربی فکر کے سانچے میں ڈھل چکی ہے اور معیشت سرمایہ دارانہ اصولوں کی اسیر ہے۔ جب اجتماعی زندگی کے شعبے اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے دور ہو جائیں تو محض انفرادی عبادات کسی قوم کو دنیا کی قیادت واپس نہیں دلا سکتیں۔ اُمّت ِمسلمہ کے بحران کا مستقل حل صرف سیاسی تبدیلیوں یا معاشی منصوبوں میں نہیں‘ بلکہ اس فکری بنیاد کی تجدید (تجدد نہیں) میں پوشیدہ ہے جس پر پہلی مرتبہ اسلامی تہذیب استوار ہوئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ زوال کی علامات اس سے بہت پہلے نمایاں ہو چکی تھیں‘ لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں پیش آنے والے چند واقعات نے اِس زوال کو ایک اندوہناک مستقل سیاسی اور تہذیبی حقیقت میں تبدیل کر دیا۔قرآن مجید نے اُمّت ِمسلمہ کی بنیاد ایمان کے رشتے پر قائم کی ہے۔ سورۃ الحجرات (آیت ۱۰)میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ  اِخْوَۃٌ} ’’بلاشبہ تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی ہیں۔‘‘
       یہ اخوت صرف ایک روحانی تصور نہیں تھی بلکہ ایک عملی اور سیاسی حقیقت بھی تھی‘ جس کا سب سے نمایاں مظہر ادارۂ خلافت تھا۔اس ادارے نے صدیوں تک عالمِ اسلام کی وحدت کو بڑی حد تک برقرار رکھا۔ مسلمان خواہ اندلس میں رہتا تھا یا ہندوستان میں‘ وسط ایشیا میں تھا یا شمالی افریقہ میں‘ وہ خود کو ایک ہی اُمّت کا حصّہ سمجھتا تھا۔
  ۱۹ویں صدی میں یورپی طاقتوں نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کی کوئی مرکزی وحدت باقی ہے‘ اُنہیں مکمل طور پر زیر ِنگیں بنانا آسان نہیں ہوگا۔ چنانچہ عسکری حملوں کے ساتھ ساتھ فکری‘ سیاسی اور معاشی محاذوں پر بھی منظم منصوبہ بندی کی گئی۔ خلافت ِعثمانیہ کو ’’یورپ کا مردِ بیمار‘‘ قرار دیا گیا‘ اُس کے داخلی اختلافات کو ہوا دی گئی‘ قوم پرستی کے رجحانات کو فروغ دیا گیا اور مختلف قومیتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا گیا۔پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد خلافت ِ عثمانیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور بالآخر۱۹۲۴ء میں اس کا باقاعدہ خاتمہ کر دیا گیا۔یہ مسلم دنیا کی اجتماعی وحدت پر ایسی کاری ضرب تھی جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
خلافت ِعثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا درجنوں قومی ریاستوں (نیشن اسٹیٹس) میں تقسیم ہو گئی۔ مسلمانوں کو یہ باور کرایا گیا کہ اب اُن کی پہلی شناخت اسلام نہیں بلکہ اُن کی قومیت ہے۔ یوں رفتہ رفتہ اُمّت کا ہمہ گیر تصور قومی ریاست کے محدود تصور کے پس منظر میں چلا گیا۔   استعماری طاقتوں نے فکری اور تہذیبی میدان میں بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ چنانچہ تعلیمی نظام تبدیل کیے گئے‘ قوانین مغربی طرز پر استوار کیے گئے‘ معیشت کو سودی نظام سے وابستہ کر دیا گیا اور نئی نسل کے ذہن میں یہ تصور راسخ کیا گیا کہ ترقی کا واحد راستہ مغربی تہذیب اور فکر کی تقلید ہے۔ نتیجتاً بیشتر مسلم ممالک سیاسی اعتبار سے تو’’آزاد‘‘ ہو گئے‘مگران کے آئین‘ عدالتی نظام‘ معاشی ڈھانچے‘ تعلیمی فلسفے اور خارجہ پالیسیاں بڑی حد تک مغربی فکر کے زیر ِاثر رہیں۔ یوں مسلم معاشرے اپنی تہذیبی شناخت کے بحران میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔
مسلم دنیا کے آپس کے تنازعات کی بڑی وجہ قومی مفادات‘ سرحدی تنازعات‘ لسانی تعصبات اورعلاقائی رقابتیں ہیں۔ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان ملک کے مقابل صف آرا ہو جاتا ہے‘ اور اس تقسیم کا سب سے زیادہ فائدہ وہی قوتیں اُٹھاتی ہیں جو ہمیشہ سے عالم ِ اسلام کو منتشر دیکھنا چاہتی رہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جاہلیت کی عصبیت سے اسی لیے سختی سے منع فرمایا تھا۔کوئی ایک مسئلہ اگر آج مسلم دنیا کی کمزوری‘ بے بسی اور انتشار کو پوری شدت کے ساتھ نمایاں کرتا ہے تو وہ فلسطین ہے۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے فلسطینی عوام مسلسل ظلم‘ محاصرے‘ بے دخلی اور قتل و غارت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صرف عسکری عدمِ توازن نہیں بلکہ اُمّت کا سیاسی انتشار‘ مشترکہ وژن کا فقدان اور اجتماعی ذِمّہ داری کے احساس کی کمزوری بھی ہے۔ اگر اُمّت اپنے اصل تصور پر قائم ہوتی تو یقیناً صورتِ حال مختلف ہو سکتی تھی۔ اُمّت کی نشا ٔۃِ ثانیہ کا پہلا زینہ قرآنِ مجید سے اپنے تعلق کی حقیقی تجدید ہے‘جس  کا مطلب صرف خوش الحانی سے تلاوت کرنا نہیں بلکہ قرآن کو زندگی کا رہنما‘ فیصل اور امام تسلیم کرنا ہے۔
        یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآن انسان اور معاشرے کی تعمیر کے لیے نازل ہوا ہے۔ صحابۂ کرام  رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین   کی عظمت کا راز بھی یہی تھا کہ وہ قرآن کو صرف یاد نہیں کرتے تھے بلکہ اِسے اپنی زندگی میں نافذ کرتے تھے۔ اِسی عملی وابستگی نے ایک ایسی نسل تیار کی جس نے دنیا کی تاریخ کا رُخ بدل دیا۔یہی فکری اور عملی تربیت آگے چل کر ایسے معاشرے کی بنیاد بنی جس میں عدل‘ دیانت‘ مساوات اور اللہ کی حاکمیت کو اجتماعی زندگی میں نافذ کیا گیا۔ اِس حقیقت کو سمجھے بغیر نہ خلافت کے تصور کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اُمّت کے احیاء کا راستہ متعین کیا جا سکتا ہے۔خلافت اسلام کا مقصودبالذات نہیں بلکہ اقامت ِ دین کا مؤثر اجتماعی ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی سطح پر نافذ کرنا اسلام کا تقاضا ہے‘ اور اِس کے لیے ایسا سیاسی نظم ناگزیر ہے جو حاکمیت ِالٰہی کو تسلیم کرے اور شریعت ِ اسلامی کو اپنی قانون سازی اور حکمرانی کی بنیاد بنائے۔ اِس اعتبار سے خلافت طاقت‘ توسیع اقتدار یا جغرافیائی غلبے کا نام نہیں بلکہ عدل‘ امانت‘ جواب دہی اور بندگی ٔ رب کا نظام ہے۔اسی تصور کی بہترین مثال خلافت ِراشدہ میں نظر آتی ہے۔یہاں حکمران خود کو عوام کا آقا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ایک امانت دار سمجھتا ہے‘ جبکہ اُمّت کو بھی خیر خواہی‘ احتساب اور اصلاح کی ذِمّہ داری سونپی جاتی ہے۔
اُمّت کے زوال کا تمام تر بوجھ عموماً حکمرانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگرچہ صالح اور دیانت دار قیادت کسی بھی معاشرے کے لیے ناگزیر ہے‘ لیکن قرآنِ مجید صرف حکمرانوں کو مخاطب نہیں کرتا بلکہ پوری اُمّت ِمسلمہ کو اِس کی ذِمّہ داری یاد دلاتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنی اجتماعی کیفیت کے مطابق قیادت پیدا کرتا ہے۔ جب عوام میں علم‘ دیانت‘ احساسِ ذِمّہ داری اور دینی شعور کمزور پڑ جائے تو صالح قیادت بھی نایاب ہو جاتی ہے۔
اِسی تناظر میں آج اُمّت ِمسلمہ کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے‘ وہ ہمہ گیر فکری بیداری ہے۔ ایسی بیداری جو مسلمان کو اُس کی اصل شناخت یاد دلائے‘ قرآنِ مجید کو اُس کی زندگی کا رہنما بنائے‘ رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اجتماعی زندگی کا نمونہ قرار دے اور اُمّت ِ واحدہ کے تصور کو دوبارہ زندہ کرے۔جب فکر بدلتی ہے تو افراد بدلتے ہیں‘ افراد بدلتے ہیں تو معاشرے بدلتے ہیں‘ اور جب معاشرے بدلتے ہیں تو تاریخ کا دھارا بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ تاہم اِس کے لیے مسلسل‘ منظم اور صبر آزما جدّوجُہد درکار ہوتی ہے۔ اگر اُمّت ِمسلمہ اپنی نشا ٔۃِ ثانیہ کی خواہاں ہے تو اُسے چند بنیادی ترجیحات پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔
سب سے پہلے ’’رجوع الی القرآن‘‘ کو انفرادی وظیفے کے بجائے ایک اجتماعی تحریک بنانا ہوگا۔ قرآن کو سمجھنا‘ اُس پر تدبر کرنا‘ اُس کی دعوت کو عام کرنا‘ زندگی کے ہر شعبے میں اُسے رہنما تسلیم کرنا اور اُس کے عطا کردہ نظام کو قائم و نافذ کرنا اُمّت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دوسرے‘ تعلیم و تربیت کے موجودہ نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔ایسی نسل تیار کرنا ہوگی جو جدید علوم و فنون میں مہارت بھی رکھتی ہو اور قرآن و سُنّت کی فکری و اخلاقی بنیادوں پر بھی استوار ہو۔ تیسرے‘ ایک ہمہ گیر اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے۔ جھوٹ‘ خیانت‘ رشوت‘ فحاشی و بے حیائی‘ سود‘ ناانصافی‘ عصبیت اور فرقہ واریت جیسے امراض کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اپنی اخلاقی کمزوریوں کی پیداوار ہیں۔ چوتھے‘ وحدتِ اُمّت کو عملی ترجیح دینا ہوگی۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ علمی یا فقہی اختلافات ختم ہو جائیں گے‘ بلکہ یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ جن امور پر اُمّت متفق ہے‘ اُن پر مشترکہ جدّوجُہد کی جائے‘ اور جن معاملات میں اختلاف موجود ہے‘ وہاں علم‘ تحمل‘ عدل اور اخوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔پانچویں ‘ دعوت و اقامت ِدین کی منظم جدّوجُہد کو پوری اُمّت کی اجتماعی ذِمّہ داری سمجھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں پہلے ایک ایسی جماعت تیار کی جس کا ایمان‘ کردار اور نظم مضبوط تھا‘ پھر اسی جماعت نے مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد رکھی۔
الغرض آج اُمّت ِ مسلمہ جس بحران سے گزر رہی ہے‘ وہ کسی ایک سال‘ ایک حکومت یا ایک جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط فکری‘ اخلاقی اور سیاسی انحراف کا حاصل ہے۔ اس لیے اس کا حل بھی کسی ایک سیاسی تبدیلی‘ معاشی منصوبے یا وقتی جذباتی لہر میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مرکز بنایا‘ دنیا کی قیادت اُن کے حصے میں آئی؛ اور جب بھی اُنہوں نے اس مرکز سے انحراف کیا‘ ان کی قوت منتشر ہوتی چلی گئی۔ آج بھی عزت‘ وقار اور سربلندی کا راستہ وہی ہے جو ساڑھے چودہ سوسال پہلے مکہ کی گلیوں سے شروع ہو کر مدینہ کی ریاست تک پہنچا تھا۔ حالات بدل گئے ہیں‘ زمانہ بدل گیا ہے‘ ذرائع بدل گئے ہیں‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ اصول آج بھی نہیں بدلا کہ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔ بقول مولانا ظفر علی خان: ؎   
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی 
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا