تصوّرِ اقامت ِ دین
محمد رضی الاسلام ندوی اور محمد اسعد فلاحی کی کتاب کا تجزیاتی مطالعہ
حافظ قاسم رضوان
اُمّت ِمسلمہ کا کوئی فرد ہو یا تحریک‘ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے نصب العین کی وضاحت قرآن مجید نے مختلف اصطلاحات اقامت ِدین‘ قیامِ عدل و قسط‘ دعوتِ دین‘ شہادتِ حق‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر وغیرہ سے کی ہے۔ اس دور میں یہ عظیم نصب العین طرح طرح کے مغالطوں اور افراط و تفریط پر مبنی مختلف نقطہ ہائے نظر کی زد میں ہے :
( ا) بعض مسلمان مفکرین اس کی مشروعیت ہی کے منکر ہیں۔
(ب) اسلام کے معترضین اس سوچ کو انتہا پسند سیاسی فکر قرار دیتے ہیں۔
(ج) بعض مسلمان گروہوں میں فکری شدت پسندی ہے ‘جو اس نصب العین کی غلط تعبیر و تشریح کر کے اس بارے میں غلط فہمیوں کا ذریعہ بنتی ہے۔
(د) عوام کی ایک کثیر تعداد کے نزدیک یہ مقصد محض ایک جذباتی نعرہ ہے۔ وہ نہ اس کے عملی تقاضوں کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی مختلف مراحل میں مطلوبہ جدّوجُہد کی حکمت عملی کا ان کو فہم ہے۔
زیر مطالعہ کتاب ان چاروں پہلوئوں سے اس عظیم الشان نصب العین پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ اس مقصد کی مشروعیت کو کتاب و سُنّت کے واضح دلائل سے ثابت کرتی ہے اور اس پر ہونے والے اعتراضات کے معقول جوابات بھی دیتی ہے ۔ نیز اس کے مطالعہ سے اقامت ِ دین کی مطلوبہ حکمت عملی‘ عملی تقاضے اور مرحلے بھی واضح ہوتے ہیں۔
کتاب کے تین ابواب ہیں۔
۱) اقامت ِدین کی فرضیت
’’اقامت ِدین کا حکم اور ذمہ داری‘‘ ازسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ۔اس کی بنیاد سورۃ الشوریٰ کی آیت۱۳ ہے :
{شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَـتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط}
’’اُس (اللہ) نے آپؐ کے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوحؑ کو دیا تھا ‘اور جسے (اے نبیﷺ!) اب آپ کی طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے‘ اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ‘ موسیٰ ؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں‘ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جائو۔‘‘
یہ آیت دین اور اس کے مقصود کو ذہن نشین کرنے کے لیے بڑی اہم ہے‘ اس لیے اس کو سمجھنا ضروری ہے۔
شَرَعَ لَـکُمْ(مقرر کیا تمہارے لیے) کے لغوی معنی راستہ بنانےکے ہیں اور اصطلاح میں اس کا مفہوم طریقہ‘ ضابطہ اور قاعدہ مقرر کرنا ہے۔ عربی میں اسی اصطلاحی معنی کے لحاظ سے تشریع کا لفظ قانون سازی کا‘ شرع اور شریعت کا لفظ قانون کا اور شارع کا لفظ واضع ِقانون کا ا ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا مالک‘ انسان کا حقیقی ولی اور اس روئے ارضی کا حاکم ہے‘ اس لیے اُسی کا حق بنتا ہے کہ وہ انسان کے لیے قانون وضابطہ بنائے۔
مِّنَ الدِّیْنِ (از قسم دین) اور شاہ ولی اللہؒ کے بقول ’’از قسم آئین‘‘۔ یعنی خدائی تشریع کی نوعیت آئین کی ہے۔ لفظ دین کا مفہوم کسی کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا ہے۔ ’’طریقے‘‘ کے معنی میں اس سے مراد وہ طریقہ ہوتا ہے جسے بندہ واجب الاتباع اور اس کے بنانے والے کو مطاع مانے۔ گویا اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا طریقہ اس کے بندوں کے لیے واجب الاطاعت قانون ہے اور اس کا انکار کرنا اللہ کی بندگی کا انکار کرنا ہے۔
اس سے آگے فرمانِ الٰہی ہے کہ یہ طریقۂ دین وہی ہے جس کی ہدایت حضرات نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دی گئی اور اب اسی کی ہدایت حضرت محمدﷺ کو دی گئی ہے۔ آیت کے اس حصے سے کئی نکات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس دین اور تشریع کو ہر انسان کے پاس نہیں بھیجا بلکہ اپنے وقت مقررہ کے مطابق کسی شخص کو اپنا نبی مقرر کر کے اس کی طرف یہ دین بھیجا۔دوسرے ‘ یہ دین اور تشریع شروع سے ہی یکساں رہے ہیں۔ تیسرے ‘ خدائے بزرگ و برتر کی حاکمیت اعلیٰ ماننے کے ساتھ ان لوگوں کی نبوت و رسالت کا ماننا بھی لازم ہے جن کے ذریعے یہ دین بھیجا گیا‘ اور اس وحی پر بھی یقین رکھنا ضروری ہے جس کے ذریعے یہ دین اور تشریع بیان کیے گئے۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ (کہ قائم رکھو دین کو)۔ اقامت کا معنی قائم کرنا بھی ہے اور قائم رکھنا بھی۔انبیاء و رُسل علیہم السلام کے ذمےیہ دونوں کام تھے۔ پہلا یہ کہ جہاں یہ دین قائم نہیں‘ اسے قائم کریں اور دوسرا یہ کہ جہاں یہ دین قائم ہو جائے یا پہلے سے قائم ہو‘ اسے قائم رکھیں۔اب دو اہم سوال ہیں :دین کو قائم کرنے سے کیا مراد ہے ؟ اس دین سے کیا مراد ہے جس کے قائم کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟
قائم کرنے کا لفظ جب کسی مادی یا جسمانی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد بیٹھے کو اٹھانا یا کھڑا کرنا وغیرہ ہوتا ہے۔ البتہ جو چیزیں مادی نہیں بلکہ معنوی ہوتی ہیں ‘ ان کے لیے قائم کرنے سے مراد محض تبلیغ کرنا نہیں بلکہ اس پر مکمل عمل کرنا‘ اسے پھیلانا اور اسے عملاً نافذ کرنا ہوتا ہے ۔ جب قرآن مجید میں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ نماز قائم کرو تو اس سے مراد نماز کی محض دعوت و تبلیغ نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کو نہ صرف خود ادا کیا جائے بلکہ ایسا نظام رائج ہو کہ تمام اہل ِایمان نماز پڑھیں۔ نبیوں اور رسولوں کو جب دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف یہ نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں‘ دوسروں کو بس اس کی تبلیغ کریں اور وہ دین کا برحق ہونا تسلیم کر لیں‘ بلکہ پوری ذمہ داری یہ تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو آگے بڑھ کر مکمل دین کا نفاذ کیا جائے۔
اب دوسرے سوال کو دیکھیں! کچھ لوگوں نے غور کیا کہ دین کو قائم کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے‘ وہ تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام کے درمیان مشترک ہے جبکہ شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں‘ جیسے کہ سورۃ المائدۃ میں ارشادِ ربانی ہے : { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط} (آیت۴۸) ’’ہم نے تم میں سے ہر اُمّت کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کر دی۔‘‘ اس سے وہ لوگ اس رائے پر قائم ہوئے کہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں‘ بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کایقین اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے‘ یا پھر زیادہ سے زیادہ وہ بڑے بڑے اخلاقی اصول اس میں شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے۔ یہ ایک بڑی سطحی سی لیکن خطرناک رائے ہے‘ کیونکہ جب شریعت دین سے الگ چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو‘ تو پھر اس رائے کے حامل مسلمان شریعت اور اس کی اقامت کو غیر مقصود سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور اہم اخلاقی اصولوں کو ہی مقصود بالذات سمجھ بیٹھیں گے۔جب کہ قرآن کریم کا حکم تو یہ ہے:
{وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ۵ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ(۵)} (البینۃ)
’’اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یک سُو ہو کر اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اُس کی عبادت کریں‘ اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں‘ اور یہی راست رو ملت کا دین ہے۔‘‘
ا س سے پتہ چلتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں‘ حالانکہ ان کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے۔ اختلاف ِشرائع کے باوجود اللہ کے ہاں ان دونوں کا شمار دین میں ہے ۔
{قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ} (التوبۃ:۲۹)
’’جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے‘ اسے حرام نہیں کرتے (سمجھتے) اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔‘‘
اس آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے کے ساتھ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے حلال و حرام کے احکامات کوماننااور ان پر عمل پیرا ہو نا بھی دین کا حصہ ہے ۔ دیگر شرعی احکامات جن کی خلاف ورزی پر اللہ کے عذاب اور جہنم میں داخلے کی وعید سنائی گئی ہے‘ ان کا شمار بھی لازمی طور پر دین میں ہی ہونا چاہیے ۔ اگر دین الٰہی نیک اعمال پر جنت کے داخلے اور برے اعمال پر نارِ جہنم اور عذاب خداوندی سے بچانے کے لیے نہیں آیا تو پھر آخر کس چیز اور کام کے لیے آیا ہے؟
یہ ساری غلط فہمی اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ آیت قرآنی { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط} کا غلط مطلب لے کر یہ معنی پہنا دیے گئے ہیں کہ شریعت چونکہ ہر اُمّت کے لیے الگ تھی اور حکم تو اس دین کے قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام کے درمیان مشترک تھا۔ اس کے نتیجے میں’’اقامت ِدین‘‘ کے حکم میں’ ’اقامت ِشریعت‘‘ شامل ہی نہیں ہے۔ اگر سورۃ المائدۃ میں اس آیت کے سیاق و سباق کو آیت۴۱ سے آیت۵۰ تک پوری یکسوئی سے پڑھا جائے توپتہ چلے گا کہ جس نبی یا رسول کی اُمّت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی‘ وہ اس اُمّت کے لیے دین تھی اور اُس دورمیں اسی کی اقامت مطلوب تھی۔ اب چونکہ حضور اقدسﷺ کا دورِ رسالت ہے‘ اس لیے اُمّت ِمحمدیہؐ کو جو شریعت دی گئی ہے‘ وہی اس دور کا دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی گویا دین کا قائم کرنا ہے۔ شریعتوں کے اختلاف کا بھی معنی یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی شریعتیں باہم متضاد تھیں‘ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی جزئیات میں متعلقہ حالات کے حوالے سے فرق اور اختلاف رہا ہے۔
اقامت ِدین کا مکمل کام غلبہ ٔ دین کے بغیر محال ہے اور یہ فریضہ بھی اُمّت ِمُسلمہ کے ذمے ہے۔ نزولِ قرآن کا ایک مقصد یہ بھی ہے : {اِنَّــآ اَنْزَلْـنَــآ اِلَـیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىکَ اللہُ ط }(النساء:۱۰۵) ’’ہم نے (اے نبیﷺ!) یہ کتاب حق کے ساتھ آپ کے اوپر نازل کی ہے‘ تاکہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں اس روشنی میں جو اللہ نے آپ کو دکھلائی ہے۔‘‘ دراصل قرآن مجید کے بہت سے احکامات اور دین اسلام کے ایک بڑے حصے پر اسی صورت عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے جبکہ اہل ایمان کی ریاست اور حکومت قائم ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اقامت دین کا حکم دینے کے بعد آخری بات متذکرہ بالا آیت میں فرمائی ہے : {وَلَا تَـتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دین میں اپنی طر ف سے کوئی ایسی جداگانہ اور نرالی بات نکال لے جس کی قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ یہ باتیں کئی طرح کی ہو سکتی ہیں۔ جیسے کہ دین میں جو بات تھی ہی نہیں‘ وہ اس میں شامل کر دی جائے ‘یا پھر جو بات دین میں شامل تھی‘ اسے باہر نکال دیا جائے۔ دین کی بنیادی باتوں میں باطل تاویلات کی جائیں۔
سورۃ الشوریٰ کی آیت۱۳ میں اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کا جو ٹکڑاآیا ہے‘ اس کے مستند تراجم کی روشنی میں ’’دین قائم کرو‘‘ کا ترجمہ بالکل درست ہو گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صرف دین قائم کردینا ہی فرض نہیں بلکہ اس کو قائم رکھنا بھی لازم ہے۔ یہ بات تو دائرئہ عقل سے باہر ہے کہ’ ’دین قائم کرو‘‘ کا حکم دیے بغیر ذاتِ خداوندی ’’دین قائم رکھو‘‘ کا حکم کیسے دے سکتی ہے!
کیا دِیْن سے مراد صرف ’’ایمانیات‘‘ ہیں؟ قدیم و جدید مفسرین نے اس لفظ کا اطلاق صرف ایمانیات پر کیا ہے‘ جن میں تمام شریعتوں کا اتحاد ہے‘ دیگر اختلافی چیزوں کو شامل نہیں کیاگیا۔اس سوال کے جواب میں مختلف مفسرین کے حوالے سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جمہور مفسرین نے دین کے مفہوم میں توحید اور ایمانیات کے ساتھ اطاعت ِ الٰہی کو بھی شامل کیا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام اعمال پر کیا ہے جس کی انجام دہی بطور مسلمان لازم ہے۔
کیا دین اور شریعت کے درمیان کوئی تعلق ہے ؟ کیا دین پر عمل ایک چیز ہے اور شریعت پر عمل کوئی دوسری چیز؟ کیا شریعت پر عمل دین پر عمل کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا؟ جواب یہ ہے کہ ہر اُمّت ان ’’فروعِ دین‘‘ پر عمل کی پابند ہے جس کا اسے مکلف کیا گیا ہے۔یعنی ہر اُمّت پر اپنی شریعت کی پابندی لازم ہے ۔ اگر وہ اپنی شریعت پر عمل کرتی ہے تو گویا وہ اپنے دین پر عمل کر رہی ہے۔ اسی بنا پر بعض مفسرین نے یہ وضاحت کی ہے کہ سورۃ الشوریٰ کی آیت۱۳ میں اقامت ِدین کے حکم کا مطلب دین اسلام کے سب اصول اور فروع پر عمل کرنا ہے۔
۲) اقامت ِ دین : تقاضے‘ طریق کار‘ حکمت ِعملی
اس باب سے ایک اہم مضمون ’’اقامت ِدین اور اس کے عملی تقاضے‘‘ از پروفیسر ڈاکٹر انیس احمدکا خلاصہ ملاحظہ کریں۔
اکثر ایک سوال سامنے آتا ہے کہ:اقامت ِدین کی اصطلاح کہاں سے آ گئی؟ یہی بنیادی انتشارِ فکر ہے جو آگے چل کر یہ سمجھانے پر تُل جاتا ہے کہ نہ صرف مذہب اور سیاسی سرگرمی دو علیحدہ چیزیں ہیں‘ بلکہ اس سے بڑھ کر روحانیت و للہیت اور معاشرتی و سیاسی تگ و دو اور کاوشیں دو بالکل مختلف بلکہ متضاد چیزیں ہیں۔ ایسے افراد کے نزدیک صحیح مذہبیت اور روحانیت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان ریاستی اور خاندانی جھمیلوں سے بچ کر ہی رہے اور تقویٰ کا دامن پکڑ کر اپنے ربّ سے لو لگائے رکھے۔ جب کہ اقامت دین کا حکم تو ہمیں قرآن مجید نے دیا ہے۔ اُمّت ِمسلمہ کو یہ ذمہ داری دیتے ہوئے سورۃ البقرۃ میں یہ وضاحت بھی کر دی گئی : { لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاط} (آیت۲۸۶) ’’اللہ تعالیٰ کسی جان کو اُس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ‘‘ اس سے ہمیں یہ راہنمائی بھی ملتی ہے کہ اگر مسلمان کسی ایسے ملک میں رہ رہے ہوں جہاں مذہبی آزادی کے اصول پر وہ دین کی دعوت تو پیش کر سکتے ہوں لیکن تبدیلی ٔاقتدار ان کے اختیار میں نہ ہو‘ تو پھر اقامت ِدین کے حوالے سے ان کی ذمہ داری اور اُخروی جواب دہی اس حد تک ہی ہو گی جس حد تک انہیں کوشش اور عمل کی آزادی ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوگا کہ وہ دین اسلام کو صرف انفرادی زندگی تک محدود کر کے اسے ایک روحانی مذہب بنا دیں۔
اقامت ِدین کا مفہوم ہی تمام جھوٹے خدائوں اور حاکموں کی جگہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی حاکمیت قائم کرنا ہے۔ سورۃ الحج میں اہل ِایمان کی تعریف یوں کی گئی ہے :
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ(۴۱) }
’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اگر زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے‘ اور زکوٰۃ دیں گے ‘اور نیکی کا حکم دیں گے‘ اور برائی سے روکیں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
سورۃ المائدۃ میں فرمایا گیا:
{وَمَنْ لَّــمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ(۴۴) ...... فَاُولٰۗئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (۴۵) ...... فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)}
’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ فرمان اور قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں‘ پس وہی کافر ہیں ......وہی ظالم ہیں ...... وہی فاسق ہیں۔‘‘
اقامت ِدین کے پہلے مرحلے میں شعوری طور پر اسلام لانا‘ توحید خالص کا ذہن میں بٹھانا ‘ نیز اپنے افکار و نظریات کی پاکیزگی اور صفائی شامل ہے۔ یہ مرحلہ طویل ہے‘ کچھ برسوں کی بات نہیں۔ ضرورت ا س بات کی ہے کہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تطہیر ِ ِافکار کافریضہ وہ لوگ سرانجام دیں جو نہ صرف پورے تحریکی ادب بلکہ قرآن و حدیث اور سیرتِ طیبہ سے براہِ راست واقف ہوں۔ اپنی دعوت کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں اور ان کی اپنی سیرت بھی ان کی دعوت کا پورا عکس ہو۔
دوسرے مرحلے میں اپنے خطے کے زمینی حقائق کے مطابق اقامت ِدین کے لیے تحریکی حکمت عملی بنانی پڑےگی۔ اصلاح کا آغاز جب تک اپنے آپ اور اپنے گھر سے نہیں شروع ہوگا‘ بات نہیں بنے گی۔ اسلامی گھرانہ اور اسلامی معاشرت کا آغاز ہمیں گھر سے کرنا پڑے گا اورپھر یہ آگے خاندان اور معاشرے تک پھیلتا چلا جائے گا۔ اس محنت کے نتیجے میں جو صالح افراد کا مجموعہ سامنے آئے گا ‘ اسے ترجیحات کے مطابق مختلف سرگرمیوںمثلاً حلقہ ہائے دروسِ قرآن‘ اسلامی مطالعہ مراکز‘ مختلف اسلامی عنوانات پر مذاکرے‘ دعوتی ملاقاتوں اور مختلف معاشرتی و فلاحی خدمات میں جوڑنے کا سلسلہ اور ساتھ ہی خود احتسابی کا نظم بھی قائم کرنا ہو گا۔ جہاں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں‘ وہاں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہ اتنی سعی و جُہد کے بہرحال مکلف ہیں‘ جتنی ان کے دائرئہ اختیار میں ہو۔
۳) اقامت ِ دین پر اعتراضات کا جائزہ
اس باب سے ایک اہم مضمون ’’اقامت و اعلائے دین کے تصور پر اعتراضات کا جائزہ‘‘از مولانا گوہر رحمٰن کا خلاصہ پیش خدمت ہے ۔
جاوید احمد غامدی کا اپنی کتاب ’’ برہان‘‘ میں یہ نقطہ نظر ہے کہ اقامت ِدین دینی فریضہ نہیں ہے اور اعلائے دین کی آیات کا تعلق بس سرزمین عرب کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اس کا حکم حضورِ اقدسﷺ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ ہی خاص ہے۔ اب قیامت تک کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان آیات کا تعلق اپنی جدّوجُہد کے ساتھ قائم کرے۔
اقامت ِدین کے مفہوم میں ’’دین کو قائم رکھو ‘‘کے علاوہ ’’دین کو قائم کرو ‘ دین کو نافذ کرو‘ دین کو جاری کرو ‘‘بھی آ سکتا ہے۔جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ’’ نافذ کرو ‘‘کے معنی نکل سکتے تھے لیکن مسئلہ یہ ہےکہ اوّلاً قواعد عربی کی رو سے عَلٰی فُلان یا عَلَی النَّاس کی صورت میں ایک متعلق کا موجود یا مقدر ہونا ضروری ہے‘ جو نہ آیت میں موجود ہے اور نہ مقدر ماننے کے لیے کوئی قرینہ پایا جاتا ہے۔ ثانیاً یہ معنی ’لَا تَـتَفَرَّقُوْا فِیْہِ‘ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔
’’اس میں اختلاف و تفرقہ نہ ڈالو‘‘کے ساتھ تو مناسبت دونوں ترجموں کی صورت میں نکل سکتی ہے۔ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘ بلکہ سب اس پر مجتمع ہوں یا دین کو قائم کرو‘ جاری کرو‘ اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘ بلکہ سب اس پر مجتمع و متحد رہو‘ دونوں صورتوں میں کوئی بھی بے ربطی اور عدم مناسبت محسوس نہیں ہوتی۔ نافذ کرنے کا تقاضا بھی یہ ہے کہ تفرقہ نہ ڈالا جائے اور قائم ودائم رکھنے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تفرقے میں نہ پڑا جائے ۔ متعلق کے موجود نہ ہونے کی دلیل اگرچہ بظاہر درست ہے‘ لیکن عین ممکن ہے کہ سیاق و سباق کے لحاظ سے یہاں عَلٰی اَنْفُسِکُمْ وَعَلٰی اُمَمِکُمْ مقدر ہو‘ یعنی اس دین کو اپنے اوپر بھی اور اپنی اُمتوں پر بھی نافذ اور جاری کرو۔
باقی رہا قرینہ کا سوال‘ تو سیاقِ کلام انبیائے کرام کے بارے میں ہے اور انبیاء کا تو کام ہی یہ ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کریںاور جن کی طرف بھیجے گئے ہیں‘ ان سے بھی عمل کروائیں۔ اس اعتبار سے ’’قائم کرو‘‘ کے معنی کی بھی گنجائش ہے ۔ قائم ودائم اور جاری رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دین پر ہمیشہ کے لیے تسلسل کے ساتھ عمل کرو۔ محفوظ اور برقرار رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو اپنی اصلی حالت میں برقراررکھو۔ نیز بدعتی‘ گمراہ اور کجی پن والے لوگوں کی بدعت و جدّت سے اس دین کی حفاظت کرو۔ ’’اختلاف نہ کرو اس میں‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اس کو مکمل طور پر ماننے اور اس کو اپنی زندگی کا پورا دستور العمل بنانے میں اختلاف میں نہ پڑجائو۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بھی’’ازالۃ الخفاء‘‘ میں خلافت ِاسلامیہ کا مقصد اقامت ِ دین (دین کو قائم کرو) قرار دیا ہے۔ پھر وہ کام بتائے ہیں جن کے ذریعے دین قائم ہوتا ہے اور ان کے بغیر خلافت کا مقصد (اقامت ِدین) پورا نہیں ہو سکتا۔ان کاموں میں علومِ دینیہ کا احیاء‘ ارکانِ اسلام کو قائم رکھنا‘ جہاد اور اس سے متعلق افواج کی تربیت و تنظیم‘ لڑنے والوں کے لیے گھوڑوں (ـاسلحہ وغیرہ) کا اہتمام‘ مالِ فے کی تقسیم‘ قضاء کا قیام‘ حدود (اسلامی) کا نفاذ‘ مظالم کا خاتمہ (امن و امان کا قیام)‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر شامل ہیں ۔ خلافت ِاسلامیہ یہ سارے کام اقامت ِدین کے لیے رسول اللہﷺ کی نیابت کرتے ہوئے انجام دے گی۔
اقامت ِدین آیا دینی فریضہ ہے یا نہیں؟ جاوید احمد غامدی نے ’’برہان‘‘ میں اقامت کے جو لغوی معنی بیان کیے ہیں اور ’اَقِیْمُوا الدِّیْنَ‘ کا جو مفہوم بتایا ہے‘ وہ تو مفسرین کی تحقیق کے مطابق ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس لغوی تحقیق اور’ ’قائم رکھنے‘‘ کا ترجمہ کرنے سے وہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ اقامت دین تو دینی فریضہ نہیں ہے اور اسے فریضہ قرار دینا اپنی طرف سے دین میں ایک فرض کا اضافہ ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو حکم دیا کہ پورے دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘ تو گویا پورے دین کو قائم رکھنا صرف ایک فریضہ ہی نہیں بلکہ فریضہ ٔجامعہ اور اُمّ الفرائض ہے۔ غامدی مکتب فکر کی دلیل یہ ہے کہ دین کے احکام’’الدِّین‘‘ میں شامل ہیں مگر ’’اَقِیْمُوْا‘‘ کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں‘ اس لیے اقامت ِدین فرض نہیں ہے۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ پورے دین کو قائم رکھو‘ تو پھر یہ ’’قائم رکھنا‘‘ کیوں فرض نہیں ہے!
فقہاء نے فرض کی تعریف یوں کی ہے کہ مَا ثَبَتَ بِدَلِیلٍ قَطعِیٍّ لَا شُبھَۃَ فِیْہِ ’’وہ حکم جو ایسی دلیل سے ثابت ہو جس میں کوئی شبہ نہ ہو۔‘‘ ’اَقِیْمُوْا‘ تو امر ِقرآنی ہے جس کا قطعی ٔ الثبوت ہونا شک و شبہ سے بالا ہے اور اس کی اپنےمفہوم پر دلالت بھی قطعی ہے۔ تو پھر خود فہم سلیم سے فیصلہ کیجیے کہ قطعی الدلالۃ امر قرآنی سے ثابت شدہ حکم اگر فرض نہیں تو پھر اور کیا ہے؟جاوید احمد غامدی کا اس کے جواب میں کہناہے کہ اقامت ِدین فرض نہیں بلکہ ہدایت ہے‘ جبکہ فرض بھی تو ہدایت ہوتی ہے۔ ہدایت کہنے سے اگر دینی ہدایت میں اضافہ نہیں ہوتا تو پھر فرض کہنے سے دینی فرائض میں اضافہ کیسے ہو گیا؟جاوید غامدی کی بات کا تو یہ مفہوم بنتا ہے کہ دین فرض ہے اس لیے کہ احکام و فرائض دین کے مفہوم میں شامل ہیں‘ مگر دین پر عمل کرنا فرض نہیں اس لیے کہ احکام و فرائض عمل کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں۔ ایسی بات کی معقولیت و معنویت کا سمجھنا عقل و فہم سے بالاتر کوئی اور ہی معاملہ ہے۔
اسی ذیل میں سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے مضمون ’’اقامت ِدین پر چند اعتراضات کا جائزہ‘‘ میں مولانا وحید الدین خاں کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں اقامت ِدین کے تصور پر اٹھائے گئے نکات کا علمی جواب دیا ہے۔ اس کتاب میں مولانا وحید الدین نے اقامت ِدین کے تصور پر جو اعتراضات کیے ہیں ‘ وہ مختصراً درج ذیل ہیں:
(ا) سورۃ الشوریٰ کی متعلقہ آیت ۱۳ میں دین کا مطلب‘ دراصل دین کا وہ حصہ ہے جو تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی دعوت میں مشترک ہے۔ یہ حصہ صرف اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید‘ رسالت اور آخرت تک محدود ہے۔ اب آیت میں اسی کے قیام یعنی اس کی پیروی اور دعوت کا حکم دیا گیا ہے۔
(ب)سورۃ الصف کی آیت ۹ میں (یہی مضمون سورۃ التوبہ کی آیت۳۳ اور سورۃ الفتح کی آیت۲۸ میں بھی آیا ہے) کوئی حکم یاہدایت نہیں دی گئی بلکہ یہ صرف خبر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے دین اسلام کو اپنے نبی او ر رسول کے ذریعے کلی غالب کرے گا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کا اظہار ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی حکم نہیں ہےکہ وہ اس جدّوجُہد میں عملاً شریک ہوں۔
(ج) بندے اور اللہ ربّ العزت کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہی دین کا بڑا مقصد ہے اور یہی ایک مسلمان کا نصب العین ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان کو دین پر عمل کرنا اور اسی کی دعوت پیش کرنی چاہیے ۔ حکومت یا نظام کی تبدیلی کے لیے جدّوجُہد اور محنت کرنا اس کا کام ہی نہیں ہے۔
مولانا وحید الدین یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ دین کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے‘ لیکن ان کا اصرار اس بات پر ہے کہ سورۃ الشوریٰ کی متعلقہ آیت میں جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘ اس کا مطلب صرف ایمانیات ہے اور مفسرین نے بھی اس کا یہی مفہوم لیا ہے۔ یہ مکمل صحیح بات نہیں ہے۔ جن مفسرین نے بھی اس حوالے سے ایمانیات اور بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے‘اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی اطاعت کو بھی دین کے مفہوم میں شامل کیا ہے۔ اس اطاعت خداوندی میں تو دین اسلام کے تمام احکامات آ جاتے ہیں۔
اس آیت میں {وَالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ} ’’اور جس کی ہم نے (اے نبیﷺ!) آپ کی طرف وحی کی ہے‘‘کا ٹکڑا بھی شامل ہے۔ اس میں خود بخود وہ سارے احکام آ جاتے ہیں جو حضورِ اقدسﷺ پر نازل ہوئے۔ گویا مسلمانوں پر شریعت ِمحمدی ﷺ کی پوری پیروی اور اقامت اس آیت کی رو سے لازم ہو گی جو انہیں آنحضرتﷺ کے ذریعے عطا کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس متعلقہ آیت میں دوسرے انبیاء کے ادیان کا ذکر اسم موصول عام کے ذریعے کیا گیا ہے لیکن حضورِ اکرمﷺ کے دین کا ذکر اسم موصول خاص (الَّذِیْ) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہاں دین ِاسلام اور قیامِ دین کے حکم کو صرف عقائد و ایمانیات تک محدود کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔
اس کے ساتھ یہ کہنا کہ مؤمن کا نصب العین رضائے الٰہی ہے اور قیامِ دین کی جدّوجُہد دین کا تقاضا تو ہو سکتا ہے‘ نصب العین نہیں ہو سکتا‘ یہ محض الفاظ اور طرزِ بیان کا فرق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل محرک اور حتمی ہدف تو رضائے الٰہی ہی ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ایک خاص قسم کی جدّوجُہد پر منحصر ہے‘ جس کا ہدف پھر اقامت ِدین ہی ہونا چاہیے۔ آپ اگر رضائے الٰہی کے حصول کو نصب العین قرار دیں اور اقامت ِدین کو اس کی ضرورت اور تقاضا سمجھیں‘ تو الفاظ کی اس تبدیلی سے کوئی عملی فرق واقع نہیں ہوتا۔دین کی اقامت اس صورت میں بھی بہرحال ایک فریضے کے طور پر باقی رہتی ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو صرف نحوی اور لغوی کتب سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اللہ کی کتاب نبی اکرمﷺ پر نازل ہوئی اور اس کی تشریح بھی آپﷺ کے فرائض میں شامل ہے۔ الفاظ ِقرآنی اور اوامر ِقرآنی کی جو وضاحت نبی کریمﷺ نے فرمائی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بتائی‘ وہی دین ہے۔ علمی تحقیق یا مزید وضاحت کی خاطر صرف و نحویاادب جاہلی سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن صرف و نحو پر ہی نظر رکھتے ہوئے حکم ثابت کرنا اور حضورِ اقدسﷺ کے ارشادات‘ آپؐ کی سیرت‘ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ارشادات اور سلف کے طرزِعمل سے صرفِ نظر کرنا علمی و دینی بددیانتی بھی ہے۔
’ ’اقامت ِدین‘‘ کی اصطلاح بالکل صاف اور واضح ہے کہ اس کا وہی مفہوم ہمارے لیے دینی حجت ہو گا جو کہ حضورِ اقدسﷺ اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت ہو اور سلف نے بعینہٖ ہمیں پہنچایا ہو۔ وہ یہی ہے کہ اپنی استطاعت اور دائرئہ کار کے اندر دین اسلام کو قائم کرنے کی لازمی کوشش کرنا۔ اب یہ نکتہ آفرینی کرنا کہ دینی احکامات الدِّین میں تو شامل ہیں‘ اَقِیمُوا میں نہیں‘ یا یہ کہ الدِّین سے مراد صرف ایمانیات ہیں جو سارے نبیوں میں مشترک ہیں‘ یا یہ کہ اقامت دین تو دین کا تقاضا ہے‘ سارے مسلمانوں پر فرض نہیں وغیرہ‘یہ صرف انا کا مسئلہ اور علمی کٹ حجتی ہے جبکہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔یہ بات گہری توجہ چاہتی ہے کہ ہم تک سارا دین نبی اکرم ﷺ ‘ حضراتِ صحابہؓ اور سلف صالحین کے ذریعے پہنچا ہے۔ اب اگر ہم صحابہ یا سلف کا انکار کرتے ہیں تو گویا دین کے ہی منکر ہیں اور ہمیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔
اس کتاب کا تعلق ایک اہم دینی فریضے سے ہے اور یہ بہت خوب صورت انداز سے اعلیٰ کاغذ پر چھپی ہے ۔ اسے نہ صرف ہر لائبریری بلکہ ہر گھر کی بھی زینت ہونا چاہیے۔اسے منشورات ‘ ملتان روڈ‘ لاہور نے شائع کیا ہے جبکہ قیمت۱۰۰۰ روپے ہے۔